Explained with ayahs 53–55
موت کے بعد کفار کو عذاب اور مومنوں کو جنت
مشرکوں کا اپنی جہالت سے عذاب الٰہی طلب کرنا بیان ہو رہا ہے یہ اللہ کے نبی سے بھی یہی کہتے تھے اور خود اللہ تعالیٰ سے بھی یہی دعائیں کرتے تھے کی جناب باری اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہمیں اور کوئی دردناک عذاب کر۔ یہاں انہیں جواب ملتا ہے کہ رب العلمین یہ بات مقرر کرچکا ہے کہ ان کفار کو قیامت کے دن عذاب ہونگے اگر یہ نہ ہوتا تو انکے مانگتے ہی عذاب کے مہیب بادل ان پر برس پڑتے۔ اب بھی یہ یقین مانیں کہ یہ عذاب آئیں گے اور ضرورآئیں گے بلکہ انکی بیخبر ی میں اچانک اور یک بیک آپڑیں گے۔ یہ عذاب کی جلدی مچا رہے ہیں اور جہنم بھی انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
سورة العنکبوت 93
یعنی بار بار چیلنج کے انداز میں مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر تم رسول ہو اور ہم واقعی حق کو جھٹلا رہے ہیں تو ہم پر وہ عذاب کیوں نہیں لے آتے جس کے ڈراوے تم ہمیں دیا کرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–55
تفسیروں میں جو عام مفسرین نے اہل کتاب کی روایات نقل کی ہیں ان کا بھی یہی درجہ ہے اور نقل کرنے کا منشاء بھی صرف اس کی تاریخی حیثیت کو واضح کرنا ہے، احکام حلال و حرام کا ان سے استنباط نہیں کیا جاسکتا، مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُــطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ، یعنی نزول قرآن سے پہلے نہ آپ کوئی کتاب پڑھتے تھے، نہ کچھ لکھ سکتے تھے، بلکہ آپ امی تھے، اگر ایسا نہ ہوتا اور آپ لکھے پڑھے ہوتے تو اہل باطل کے لئے شک و شبہ کی گنجائش نکل آتی کہ یہ الزام لگاتے کہ آپ نے پچھلی کتابیں تورات و انجیل پڑھی ہیں یا نقل کی ہیں۔ آپ جو کچھ قرآن میں فرماتے ہیں وہ…
Read the full tafseer →ویستعجلوک بالعذاب ط ولولا احبل مسمی تجاھ ھم العذاب ط ولیا تینھم بغتۃ وھم لا یشعرون (53)
اوپر جن نشانیوں کے مطالبے کا ذکر ہے ان میں خاص طور پر عذاب کی نشانی کے لئے قریش بہت مستعجل تھے۔ آنحضرت ﷺ جب قرآن کی تکذیب کی صورت میں ان کو عذاب سے ڈراتے تو اس سے ان کے پندار کو بڑی چوٹ لگتی اور وہ جھنھلا کر آپ ﷺ کو زک کرنے کے لئے یہ مطالبہ کرتے کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو تو جس عذاب کی دھمکی سنا رہے ہو وہ لائو، ہم اس کو دیکھنے کے لئے بےچین ہیں۔ فرمایا کہ عذاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک مدت مقرر ہے، اس مدت سے پہلے عذاب نہیں آتا۔ اگر اللہ تعالیٰ یہ مقررہ سنت نہ ہوتی تو ان پر عذاب آدھمکتا۔ مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →53-1یعنی پیغمبر کی بات ماننے کی بجائے، کہتے ہیں کہ اگر تو سچا ہے تو ہم پر عذاب نازل کروا دے۔
53-2یعنی ان کے اعمال و اقوال تو یقینا اس لائق ہیں کہ انھیں فوراً صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا جائے لیکن ہماری سنت ہے کہ ہر قوم کو ایک وقت خاص تک مہلت دیتے ہیں جب وہ مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے تو ہمارا عذاب آجاتا ہے۔
53-3یعنی جب عذاب کا وقت مقرر آجائے گا تو اس طرح اچانک آئے گا کہ انھیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔ یہ وقت مقرر وہ ہے جو اس نے اہل مکہ کے لیے لکھ رکھا تھا یعنی جنگ بدر میں اسارت و قتل یا پھر قیامت کا وقوع ہے جس کے بعد کافروں کے لیے عذاب ہی عذاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
30: جیسا کہ اس سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، یہ سورت اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب کفار مکہ نے مسلمانوں پر ظلم وستم کی انتہا کر رکھی تھی، اور بعض صحابہ کرام ؓ اس صورت حال سے پریشان تھے، اس سورت کے شروع میں تو انہیں صبر و استقامت کی تلقین فرمائی گئی ہے، اور اب اس آیت میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر مکہ مکرمہ میں دین پر عمل کرنا مشکل ہورہا ہے تو اللہ کی زمین بہت وسیع ہے، ہجرت کرکے کسی اور ایسی جگہ چلے جاؤ، جہاں امن و سکون کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرسکو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
قل کفی باللہ بینی ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (52)
وہ ذات جو جہانوں کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے اس کی شہادت سے بڑی شہادت کس کی ہوسکتی ہے اور اللہ اپنے علم سے شہادت دے رہا ہے کہ یہ لوگ باطل پر ہیں۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (29: 52) ” جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں “۔ یہ مطلقاًخسارے میں ہیں ۔ ہر چیز سے وہ محروم ہوگئے ہیں ۔ دنیاو آخرت دونوں ہار چکے ہیں ۔ اپنی ذلمت ، شخصیت ، ہدایت ، استقا مت ، اطمینان ، سچائی اور نور سب چیزوں سے محروم ہوچکے ہیں ۔
اللہ کی ذات پر ایمان لا نا بھی ایک عمل اور کمائی ہے ۔ یہ بذات خود اچھی کمائی ہے ۔ اس پر اللہ اپنے فضل وکرم سے…
Read the full tafseer →5 یعنی اگر باطل پر ہیں تو ہم پر دنیا میں کوئی آفت کیوں نہیں آتی۔
6 یعنی ہر چیز اپنے وقت معین پر آتی ہے، گھبراؤ نہیں، وہ آفت بھی آکر رہے گی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ اس امت کا عذاب یہ ہی تھا مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہونا اور پکڑے جانا۔ سو فتح مکہ کے لوگ بیخبر رہے کہ حضرت ﷺ کا لشکر سر پر آکھڑا ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
آیت 54 یَسْتَعْجِلُوْنَکَ بالْعَذَابِ ط ”
یہ جملہ پھر سے دہرایا گیا ہے ‘ یہ بہت لطیف انداز ہے۔
وَاِنَّ جَہَنَّمَ لَمُحِیْطَۃٌم بالْکٰفِرِیْنَ ”
جہنم کی آگ ایک غیر مرئی چیز ہے ‘ اس لیے انہیں یہ نظر نہیں آرہی ‘ لیکن حقیقت میں یہ انہیں چاروں طرف سے گھیر چکی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی مخالف فوج کسی شہر کی فصیل کے قریب پہنچ کر شہر کا محاصرہ بھی کرلے لیکن شہر کے باسیوں کو اس کی خبر ہی نہ ہو۔
Read the full tafseer →85 اس آیت میں جس عذاب کی جلدی کا مطالبہ کیا جارہا ہے وہ دنیا کا عذاب ہے۔ اور وہ اللہ کے ضابطہ کے مطابق فتح مکہ کے دن آیا تھا۔ جب کفار مکہ کو یک دم مسلمانوں کی یلغار کی خبر ہوئی اور ان میں مقابلہ کی سکت ہی نہ رہی۔
Read the full tafseer →69۔ (کہ اچھا اگر تم سچے ہو اور ہم نافرمان اہل باطل، تو ہم پر عذاب فورا کیوں نہیں لے آتے ہو ؟ )
70۔ یعنی نزول عذاب کی ساعت تو علم الہی میں مقرر ہے۔ اس کی تاخیر کو صحت دعوئے نبوت کی تغلیط وتردید سے مربوط کرنا عجب طرح کا جہل بلکہ خبط ہے۔ (آیت) ” لیاتینھم ...... لایشعرون “۔ عذاب موت کا ہو یا قیامت کا۔ بہرحال جب بھی آئے گا ان شامت زدوں کی غفلت میں یک بیک ہی آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
آیت نمبر 52 تا 63
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان میری سچائی پر گواہ کافی ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے سب باتوں کی خبر ہے اور انہیں میں میرا اور تمہارا حال بھی ہے اور جو لوگ باطل پر اور وہ اللہ کے علاوہ وہ چیزیں ہیں جن کی پوجا پاٹ کی جاتی ہے یقین رکھتے ہیں اور تم میں سے اللہ کے منکر ہیں یہی لوگ ہیں جو اپنے سودے میں نقصان اٹھانے والے ہیں اس طور پر کہ انہوں نے ایمان کے بدلے کفر اختیار کرلیا ہے اور یہ لوگ آپ سے عذاب کے بارے میں جلدی کرتے ہیں اور اگر عذاب کی مدت متعین نہ ہوتی تو ان پر فوری عذاب آچکا ہوتا اور ان پر وہ عذاب دفعۃً آپہنچے گا اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی…
Read the full tafseer →ویستعجلونک بالعذاب ولولا اجل مسمیً لجاء ھم العذاب ولیاتینھم بغتۃً وھم لایشعرون
اور یہ آپ سے عذاب جلد آنے کی خواہش کرتے ہیں۔ اگر مدت معین نہ ہوتی تو عذاب ان پر آ چکتا۔ ان پر عذاب ضرور اچانک آئے گا اور ان کو پتہ بھی نہ ہوگا۔
نضر بن حارث نے کہا تھا : اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَآءِ اے خدا ! اگر تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر اوپر سے پتھروں کی بارش کر دے۔ اس کے جواب میں آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
اَجَلٌ مُّسَمّٰی کی تشریح میں حضرت ابن عباس نے فرمایا : مطلب یہ ہے کہ اگر آپ سے میرا وعدہ وہ وعدہ نہ ہوتا کہ آپ کی قوم کو عذاب نہیں دوں گا…
Read the full tafseer →اور یہ کفار آپ سے وقوع عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر اس کی میعاد مقرر نہ ہوتی تو وقت سے پہلے ہی ان پر عذاب آچکا ہوتا اور وہ عذاب ان پر اچانک آئے گا کہ ان کو اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ : یہ رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے اور آپ کا مذاق اڑانے کی ایک اور صورت ہے جو کفار نے اختیار کی کہ اگر ہم باطل پر ہیں تو ہم پر فوراً عذاب لے آؤ۔ جس عذاب سے تم ڈراتے ہو وہ کب آئے گا ؟ اس عذاب سے ان کی مراد دنیا میں عذاب تھی۔
وَلَوْلَآ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاۗءَهُمُ الْعَذَابُ : فرمایا، اگر دنیا میں ان پر آنے والے عذاب کا اللہ تعالیٰ نے ایک وقت مقرر نہ کردیا ہوتا، جو آگے پیچھے نہیں ہوسکتا، تو ان کے مطالبے کے وقت ہی عذاب آجاتا۔
وَلَيَاْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ : اس امت میں پہلی امتوں کی طرح آسمانی عذاب کے بجائے مسلمانوں کے ہاتھوں کفار کو عذاب دینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
جب اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے انکار کی زیادتی کے طور پر کہا : وہ عذاب ہم پر جلدی لے آئیے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ بات کہنے والا نضر بن حارث اور ابو جہل تھا۔ دونوں نے کہا : (الانفال 32) اور ان کا یہ کہنا (ص)
اللہ کا فرمان : اگر عذاب کے نازل ہونے میں معین وقت نہ ہوتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد ہے جو میں نے تم سے وعدہ کیا کہ میں تیری قوم کو عذاب نہ دوں گا اور قیامت تک انہیں مہلت دوں گا۔ اس کی وضاحت اس ارشاد میں ہے (القمر 46) ضحاک نے کہا : یہ دنیا میں ان کی عمروں کی مدت ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اجل مسمی سے مراد نفخہ اولیٰ ہے : یہ یحییٰ بن سلام کا قول ہے (1) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
1۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے آیت ویستعجلونک بالعذاب کے بارے میں فرمایا کہ اس امت کے کچھ جاہل لوگوں نے یہ کہا تھا اللہم ان کان ہذا ہوا لحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوائتنا بعذاب الیم (الانفال اے اللہ اگر یہ دین حق ہے آپ کی طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پترھ برسا ئیے یا ہمارے پاس دردناک عذاب لے آئیے )
2۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولیاتینہم بغتتۃ وہم لایشعرون اور ان پر عذاب اچانک آئے گا اور ان کو پتہ بھ نہ ہوگا اور یہ بدر کا دن ہوا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وان جہنم لمحیطۃ بالکفرین سے مراد ہے کہ جہنم میں بحر اخضر ہے جس میں ستارے گرتے ہیں…
Read the full tafseer →وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ [اور جلدی مانگتے ہیں آپ ﷺ سے ] بِالْعَذَابِ ۭ [عذاب کو ] وَلَوْلَآ اَجَلٌ مُّسَمًّى [اور اگر نہ ہوتا ایک معین وقت ] لَّجَاۗءَهُمُ [تو ضرور آتا ان کے پاس ] الْعَذَابُ ۭ [عذاب ] وَلَيَاْتِيَنَّهُمْ [اور وہ لازما پہنچے گا ان کے پاس ] بَغْتَةً [اچانک ] وَّ [اس حال میں کہ ] هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ [وہ لوگ شعور نہ رکھتے ہوں گے ] ۔
Read the full tafseer →منکرین اپنے کفر کو جرم نہیں سمجھتے تھے اور عذاب آجانے کی بات سنتے تھے تو اس کا یقین نہیں کرتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ عذاب آنا ہے تو جلد آجائے، اور ان کی مانگ کے مطابق فوراً عذاب نہ آنے کی وجہ سے آنحضرت سرور عالم ﷺ کی رسالت میں شک کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَ لَوْ لَآ اَجَلٌ مُّسَمًّی لَّجَآءَ ھُمُ الْعَذَابُ ) (اگر اللہ کے علم میں عذاب آنے کی میعاد مقرر نہ ہوتی تو ان پر عذاب آجاتا) جب اجل مقررہ کا وقت آجائے گا ان پر عذاب دفعۃً آجائے گا جس کی انہیں خبر بھی نہ ہوگی۔ یہ عذاب دنیا میں بھی آسکتا ہے اور کافر کی موت کے وقت سے ہی عذاب شروع ہوجاتا ہے، موت کے وقت بھی عذاب، موت کے بعد برزخ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
اثبات رسالت محمدیہ وازالہ شکوک و شبہات منکرین نبوت
قال اللہ تعالیٰ اتل ما اوحی الیک من الکتب واقم الصلوٰہ۔۔۔ الی۔۔۔ ذوقوا ما کنتم تعملون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) نے لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے منع کیا بالآخر وہ منکرین ہلاک ہوئے اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی رسالت کا مضمون ذکر کرتے ہیں اور منکرین رسالت کے بعض شبہات کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کیجئے جو توحید کے مضامین پر اور گذشتہ امتوں کے حال اور مال پر مشتمل ہے اور آپ ﷺ کی رسالت کا عظیم معجزہ ہے عجب نہیں کہ آیات خداوندی…
Read the full tafseer →46:۔ یہ زجر مع تخویف دنیوی و اخروی ہے یہ معاندین عذاب کے جلدی آنے کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن عذاب کا وقت مقرر ہے اگر اس کا وقت مقرر و معین نہ ہوتا تو اب تک وہ عذاب سے ہلاک ہوچکے ہوتے۔ عذاب کا وقت ہمارے علم میں معین ہے لیکن انہیں اس کا علم نہیں اس لیے وہ اچانک ہی اپنے وقت پر انہیں آ لے گا۔ اس سے قیامت یا جنگ بدر کا عذاب مراد ہے۔ وھو یوم القیمۃ او یوم بدر (مدارک) یستعجلونک الخ۔ یہ زجر مذکور کا اعادہ ہے۔ وہ عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ آپ فرما دیں عذاب آئے گا یہ تمام مشرکین و کفار جہنم میں ڈالے جائیں اور جہنم کی آگ ہر طرف سے انہیں گھیرے میں لے لیگی اور اس وقت ان سے کہا جائے گا آج اپنے مشرکانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–59
ربطہ آیات
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور مشرکین کا شکوہ کیا تھا جو ایمان لانے کی بجائے طرح طرح کی نشانیاں طلب کرتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ آپ صاف صاف کہہ دیں کہ میرا کام تو کھول کر ڈر سنانا ہے۔ نشانیاں پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے وہ جب چاہے کوئی نشانی ظاہر کردیتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس سے بڑی نشانی اور معجزہ کیا ہوگا کہ ایک امی آدمی ایسی عظیم الشان کتاب پڑھ کر سناتا ہے جس نے نہ کوئی کتاب پڑھی ہے اور نہ لکھنا سیکھا ہے۔ یہ کتاب ایسے علوم و معارف پر مشتمل ہے جس کا کوئی انسان احاطہ نہیں کرسکتا۔
رسالت پر شہادت خداوندی
اللہ نے…
Read the full tafseer →وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ 0ۭ وَلَوْلَآ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاۗءَہُمُ الْعَذَابُ 0ۭ وَلَيَاْتِيَنَّہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ 53
عجل
العَجَلَةُ : طلب الشیء وتحرّيه قبل أوانه، وهو من مقتضی الشّهوة، فلذلک صارت مذمومة في عامّة القرآن حتی قيل : «العَجَلَةُ من الشّيطان» «2» . قال تعالی: سَأُرِيكُمْ آياتِي فَلا تَسْتَعْجِلُونِ [ الأنبیاء/ 37] ،
( ع ج ل ) العجلۃ
کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے ہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا اس کا تعلق چونکہ خواہش نفسانی سے ہوتا ہے اس لئے عام طور پر قرآن میں اس کی مذمت کی گئی ہے حتی کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا العجلۃ من الشیطان ( کہ جلد بازی شیطان سے ہے قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
ترکیب : انا انزلنا جملہ یکفہم کا فاعل یتلی علیہم کتاب کی صفت کفی کا فاعل اللہ اور ب زائد ہے شہیدا مفعول لہ کفی سے باتمیز اور ممکن ہے کہ حال بھی ہوجائے یوم یغشہم ظرف ہے اس کا عامل محیط ای سیحیط بھم یوم کذا۔
Read the full tafseer →وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِط وَلَوْلَآ اَجَلٌ مُّسَمًّی لَّجَآئَ ھُمُ الْعَذَابُ ط وَلَیَاْتِیَنَّھُمْ بَغْتَۃً وَّھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ (العنکبوت : 53)
(اور یہ لوگ آپ سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اگر اس کے لیے ایک مدت مقرر نہ کردی گئی ہوتی تو ان پر عذاب آچکا ہوتا، وہ یقینا ان کے اوپر اچانک آئے گا اور ان کو اس کی خبر بھی نہ ہوگی۔ )
کافروں کی طرف سے استعجال بالعذاب کا مطالبہ اور اللہ تعالیٰ کا قانونِ عذاب
آنحضرت ﷺ جب قریش کے سامنے اللہ تعالیٰ کا دین پیش کرتے اور انھیں ایمان لانے کی دعوت دیتے تو وہ پہلے سے بھی بڑھ چڑھ کر آپ ﷺ کی تکذیب کرتے اور آپ کی بات سننے سے بھی انکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
فہم القرآن
ربط کلام : نبی معظم ﷺ سے دیگر معجزات مانگنے کے ساتھ کفار یہ بھی مطالبہ کرتے تھے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے اور دھمکاتے رہتے ہو وہ آتا کیوں نہیں ؟
جواباً فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں لیکن انہیں بتلائیں کہ عذاب کا ایک وقت مقرر ہے۔ وہ کسی کے جلدی کرنے سے اپنے وقت سے پہلے نازل نہیں ہوتا۔ البتہ جب نازل ہوتا ہے تو اس قدر اچانک نازل ہوتا ہے کہ کوئی بھاگنا چاہے تو بھاگ نہ سکے اور کوئی بچنا چاہے تو اس سے بچ نہیں سکتا۔
جس عذاب کا یہ لوگ بار بار مطالبہ کرتے ہیں۔ انہیں بتلائیں کہ ” اللہ “ چاہے گا تو وہ تمہیں دنیا میں ہی…
Read the full tafseer →53: وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بِالْعَذَابِ (کہ تم سے جلد عذاب مانگتے ہیں) ۔ اس طرح کہتے ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا۔ فامطر علینا حجارۃ من السماء۔ ] الانفال۔ 32[
اجل مقررہ کیا ہے ؟
وَلَوْلَآ اَجَلٌ مُّسَمًّی (اور اگر وقت مقررہ نہ ہوتا) ۔ اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔ نمبر 2۔ یوم بدر۔ نمبر 3۔ موت کے اوقات۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ وقت مقررہ نہ ہوتا جو اللہ تعالیٰ نے طے فرما دیا ہے۔ اور ان کے عذاب دینے کے لئے لوح محفوظ میں مقرر کردیا ہے۔ اور حکمت کا تقاضا بھی یہ ہے کہ اس کو ایک مقررہ مدت تک مؤخر کردیا جائے۔ لَجَآئَ ہُمُ الْعَذَابُ (تو ان پر جلد آجاتا) ۔ وَلَیَاْتِیَنَّہُمْ (اور ضرور ان پر عذاب اترے…
Read the full tafseer →53۔ ویستعجلونک بالعذاب، ، اس آیت کا نزول نضر بن حارث کے متعلق ہوا۔ جب اس نے کہا تھا، اللھم ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السمائ، ، اے خدا، اگر یہ تیری طرف سے حق ہے توہم پر اوپر سے پتھروں کی بارش کردے۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔
” ولولااجل مسمی، ، حضرت ابن عباس ؓ عنہمانے فرمایا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ سے میراوعدہ نہ ہوتا کہ آپ کی قوم کو عذاب نہیں دوں گا اور اس کی اجڑ نہیں اکھاڑوں گا بل کہ قیامت تک کے لیے انکے عذاب کو ملتوی رکھوں گا تو، عذاب آچکتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، بل الساعۃ موعدھم، بلکہ قیامت کی گھڑی ان کے عذاب کے لیے مقررر ہے۔
یعنی جب وہ مرجائیں گے تو عذاب میں مبتلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–59
50 تا 59۔ مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سچے رسول ہیں تو کچھ نشانیاں کیوں نہیں دکھاتے اللہ فرماتا ہے تو کہہ دے نشانیاں اللہ کے اختیار میں ہیں اگر اللہ جانتا نشانیاں دیکھ کر تم راہ پر آجاؤ گے تو وہ تم کو نشانیاں بھی دکھا دیتا اس پر کچھ مشکل نہ تھا مگر وہ جانتا ہے کہ تمہارا ارادہ مسخرا پن کا ہے اس لیے وہ تم کو نہیں دکھاتا اور میں تو فقط ڈرانے والا ہوں پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کی وہ جہالت بیان کرتا ہے جس کے سبب سے وہ جو پیغمبر صلعم کی سچائی پر نشانیاں مانگتے تھے حالانکہ قرآن شریف ایسا بڑا معجزہ ہے کہ جس کے مقابلہ سے بڑے بڑے فصیح بلیغ عاجز آگئے اس کا مانند دس سورت کیا بلکہ ایک سورت بھی نہ بناسکے پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
آیت نمبر : 55-54-53
اللہ تبارک و تعالیٰ رسول ﷺ اور قرآن کی تکذیب کرنے والے جہلا کی جہالت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ نیز یہ کہ وہ عذاب کے لیے جلدی مچاتے اور تکذیب میں اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : (متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین) (الملک : 76/52) ” یہ وعدہ کب ہے اگر تم سچے ہو۔ “ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (ولولا اجل مسمی) اگر اس عذاب کے لیے ایک مدت مقرر نہ کردی گئی ہوتی (لجآء ھم العذاب) ” تو ان پر عذاب آچکا ہوتا۔ “ یعنی ان پر ہمیں عاجز اور بےبس سمجھنے اور حق کی تکذیب کرنے کی بنا پر عذاب نازل ہوجاتا۔ اگر ہم ان کو ان کی جہالت کی بنا پر پکڑتے تو ان کی باتیں انہیں فوراً عذاب میں مبتلا کرنے کا باعث بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–69
قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔
قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–69
58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–55
کفار کے لیے عذاب کی خبر
تشریح : جیسا کہ پہلے قرآن کے آسمانی کتاب ہونے کے ثبوت دیے جا چکے ہیں تو ایک ثبوت اور دیا جا رہا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال آپ نے اہل مکہ کے ساتھ گزارے تھے۔ سب آپ کو اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ بڑے ایماندار تاجر ہیں انتہائی نیک فطرت ‘ نرم مزاج ‘ بےحد ذہین مگر آپ پڑھے لکھے نہ تھے لوگ جانتے تھے کہ آج تک نہ انہوں نے کوئی کتاب پڑھی ہے نہ کبھی کچھ لکھا ہے۔ تو پھر یکدم وہ اس قدر حکمت سے بھری باتیں، گزشتہ تاریخی واقعات اور مستقبل کے حالات، حقیقت پر مبنی باتیں، آسمانوں زمین کے پھیلائو، ملکی انتظامات ‘ عسکری (فوجی) مہارت کے اصول و ضوابط ‘ جنگی چالیں اور سب سے بڑھ کر انسانی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–63
آیات 52 تا 63
اسرارومعارف
آپ ان سے کہ دیجیے کہ اس قدر دلائل کے بعد بھی اگر تم شبہات میں گرفتار ہو تو پھر میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے جو زمین و آسمان کے سب رازوں سے اقف ہے مومن و کافر کے دلوں کو جانتا ہے۔ اور یہ ظاہر ہوجائے گا جو لوگ باطل پر ہیں اور اللہ کے ارشادات کا انکار کرتے ہیں انجام کار وہی نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ یہ عذاب مانگنے میں بڑی جلدی دکھاتے ہیں۔ اگر سب معاملات کے اوقات اللہ کریم نے طے نہ فرما دیے ہوتے تو انہیں مانگنے پہ بھی عذاب مل جاتا۔ بحر حال اللہ کی گرفت انہیں اچانک پکڑے گی جبکہ یہ سمجھ ہی نہ پائیں گے کہ سب کچھ کیسے ہوگیا دنیا میں بھی شکست کھا کر پھر موت کے منہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
2 ۔ یعنی آپ ﷺ کو جھٹلاتے اور آپ کا مذاق اڑاتے ہوئے بار بار مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو ہم پر عذاب کیوں نہیں لے آتے۔ (انفال :32، سورة صٓ:16) اور مطالبہ کرتے : امطر علینا حجارۃ اوئتنا بعذاب کہ ہم پر پتھر برسائو یا کوئی دوسری قسم کا عذاب لے آئو۔ (دیکھئے سورة انفال :32 و سورة ص :16)
3 ۔ مراد ہے دنیا کا کوئی عذاب، جیسا کہ کفار پر بدر کے روز آیا۔ کیونکہ وہ اپنے غرور کے سبب مسلمانوں کے غلبہ سے بالکل بیخوف تھے اور ان کے دل میں خیال تک نہ تھا کہ اس طرح ذلت کے ساتھ قتل اور قید و بند کے عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے۔ یا قبر اور پھر آخرت کا جس کا سلسلہ مرنے بعد فوراً شروع ہوجائے گا اور موت کے متعلق کسی…
Read the full tafseer →(29:53) یستعجلونک۔ یستعجلون مضارع جمع مذکر غائب استعجال (استفعال) مصدر وہ جلدی مانگتے ہیں ۔ وہ تعجیل چاہتے ہیں (ضمیر فاعل قریش کے لئے ہے۔ عجلت مادہی۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ تجھ سے۔ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے۔
اجل مسمی۔ موصوف وصفت اجل مدت مقررہ۔ مسمی اسم مفعول واحد مذکر تسمیۃ مصدر (باب تفعیل) بمعنی نام رکھنا۔ نام لینا۔ (اس سے کسی چیز کی تعین ہوجاتی ہے۔ اجل مسمی مدت مقررہ۔ تعیین شدہ ۔ میعاد۔ یہاں اجل مسمی سے مراد قیامت ہے۔ یا یوم بدر۔
لجاء ہم العذاب۔ (تو) ان پر عذاب ضرور آچکا ہوتا۔ جملہ جواب شرط میں ہے لام لو کے جواب میں جملہ جزائیہ پر آیا ہے۔
ولیأتینھم۔ یہ جملہ مستانفہ ہے ۔ لام تاکید کا ہے۔ یاتین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–55
لغات القرآن آیت نمبر (48 تا 55) ۔
لا تخط (نہیں لکھتا ہے) ۔ یمین (داہنا ہاتھ) ۔ ارتاب (شک کیا) ۔ المبطلون (ناحق چلنے والے) ۔ لم یکف (کافی نہیں ہے) ۔ یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ۔ مسمی (مقرر۔ متعین) ۔ بغتتہ (اچانک) ۔
تشریح : آیت نمبر (48 تا 55) ۔ ” اللہ تعالیٰ کا نظام یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو پیدا کر کے ان کی رہنمائی کے اسباب بھی مہیا کئے ہیں چناچہ ہر دور میں اللہ نے اپنے رسولوں کو بھیجا اور ان کو وہ کتاب ہدایت بھی دی جس میں دنیا میں زندگی گذار کر آخرت کی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو اس وقت تو ریت، زبور اور انجیل کتابیں موجود تھیں جس میں انسانی ہاتھوں
نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
(ف 1) تم کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے جو سب کچھ جانتا ہے اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو وہ مجھ سے بدلہ لے گا لیکن وہ تو دن بدن اسلام کو ترقی دے رہا ہے جس سے اسلام کا حق ہونا صاف ظاہر ہے اب اللہ تعالیٰ مشرکوں کی دوسری جہالت بیان کرتا ہے کہ وہ خدا کا عذاب جلد طلب کرتے ہیں ان سے کہہ دیاجائے گا کہ اگر عذاب کے لیے وقت مقرر نہ ہوچکا ہوتا تو بہت جلد ان پر عذاب آچکا ہوتا، اور وہ عذاب ان پر یکایک بیخبر ی میں آجائے گا۔ اور دوزخ ان کی تاک میں ہے قیامت کے دن جب ان کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا تو اس وقت اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ اب عذاب کی جلدی کرنے اور اپنی بداعمالی کا مزہ چکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
[25] یعنی یہ نہیں کہ جہنم کہیں آگے چل کر انھیں گھیرے گی بلکہ اس وقت ہی گھیرے ہوئے ہے۔ یہ کفر اور برے کام جہنم نہیں تو اور کیا ہیں۔ موت کے بعد حقیقت کھل جائے گی جب یہی اعمال آگ اور سانپ بچھو بن کر لپٹیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
حل لغات : بغتۃ ۔ خلاف توقع ۔ ناگہاں
Read the full tafseer →53۔ اور اے پیغمبریہ دن حق کے منکر آپ سے عذاب واقع ہونے میں جلدی کرتے ہیں اور اگر عذاب کے آنے کی میعاد اور عذاب کا ایک وقت مقرر نہ ہوتا تو ان پر کبھی کا عذاب آچکا ہوتا اور یقینا وہ عذاب ان پر ضرور دفعتہ اور اچانک آجائے گا اور ان کو اس عذاب کے آنے کی خبر بھی نہ ہوگی۔ یعنی عذاب طلب کرنے میں جلدی کرتے ہیں عذاب کا ایک وقت مقرر ہے اگر عذاب کا وق مقرر نہ ہوتا تو ان کے طلب کرنے پر عذاب آچکا ہوتا ہاں وہ آئے گا ضرور آئے گا بھی اچانک کہ ان کو اس کے آنے کی خبر بھی نہ ہوگی کہ کب آئے گا اور کدھر سے آئے گا ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس امت کا عذاب یہی تھا مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہونا پکڑے جانا سو فتح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
ف 1۔ یعنی جب اللہ کے ارشاد سے میری رسالت ثابت تو اس کا انکار کفر باللہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کا علم محیط ہے، تو اس کو اس انکار و کفر کی بھی خبر ہے، اور اللہ تعالیٰ کفر پر سزائے خسارہ دیتے ہیں، پس لا محالہ ایسے لوگ خاسر ہوں گے۔
Read the full tafseer →عذاب وہ طلب کرتے ہیں تو وہ وقت مقرر سے پہلے ممکن نہیں ‘ بس آنے ہی والا ہے :
53۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ﷺ یہ آپ ہی کی قوم کا مطالبہ نہیں کہ وہ عذاب تم لے کیوں نہیں آتے ساری گمراہ قوموں کی یہی حالت رہی ہے کہ جب وہ دلائل کے میدان میں شکست کھا گئیں تو اپنا دل بہلانے کے لئے جھٹ یہ مطالبہ کردیا کہ تم وہ عذاب لے کیوں نہیں آتے جس کا بار بار وعدہ دیئے چلے جاتے ہو سب قوموں کو یہی جواب دیا گیا اور یہی جواب آپ کی قوم کے لئے بھی کفایت کرے گا کہ تم اتنی جلدی نہ کرو اس لئے کہ عذاب آنے کا ایک وقت مقرر ہے اور جب تک وہ مقررہ وقت آ نہیں جاتا ہم موم کی ناک نہیں کہ تمہاری چڑ چڑھانے سے جلدی کردیں گے نہیں ایسا نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–56
Commentary
From the very beginning of this Surah until now the enmity of the infidels toward Muslims, their rejection of the Oneness of God and prophethood of the Holy Prophet ﷺ ، and putting hurdles in the way of truth and believers were described. In the above verses a way out of this entanglement is suggested in order to come out of the turmoil and spread and propagate the truth, and establish justice - the common name for this action is hijrah (migration).It means to leave the hometown and land where one is forced to speak and act against the truth.
Command in connection with hijrah and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
93 That is,"They are challenging you again and again that If you are a true messenger and they are really denying the Truth, then you should not delay the torment with which you threaten them. "
Read the full tafseer →