Al-Ankaboot 29:52

Al-Ankaboot · from ayah 52

29:52

قُلْ كَفٰی بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَبَیْنَكُمْ شَهِیْدًا ۚ— یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ— وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوْا بِاللّٰهِ ۙ— اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۟قُلۡ كَفٰى بِاللّٰهِ بَيۡنِىۡ وَبَيۡنَكُمۡ شَهِيۡدًا ‌ۚ يَعۡلَمُ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ ؕ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوْا بِالۡبَاطِلِ وَكَفَرُوۡا بِاللّٰهِ ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ‏

کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے جو چیز آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب کو جانتا ہے۔ اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا سے انکار کیا وہی نقصان اُٹھانے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Sufficient is Allah between me and you as Witness. He knows what is in the heavens and earth. And they who have believed in falsehood and disbelieved in Allah - it is those who are the losers."

— Saheeh International

Juz 21 · Ruku 6 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ankaboot

All translations of 29:52

(اے نبیؐ) کہو کہ "میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہی کے لیے کافی ہے وہ آسمانوں اور زمین میں سب کچھ جانتا ہے جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے جو چیز آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب کو جانتا ہے۔ اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور خدا سے انکار کیا وہی نقصان اُٹھانے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجئے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ تعالیٰ گواه ہونا کافی ہے وه آسمان وزمین کی ہر چیز کا عالم ہے، جو لوگ باطل کے ماننے والے اور اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے والے ہیں وه زبردست نقصان اور گھاٹے میں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کے لیے اللہ کافی ہے، اسے ان تمام چیزوں کا علم ہے جو آسمانوں اور زمین میں موجود ہیں۔ اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے ہیں، اور اللہ کا انکار کیا ہے، وہی ہیں جو سخت نقصان اٹھانے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ اللہ بس ہے میرے اور تمہارے درمیان گواہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ جو باطل پر یقین لائے اور اللہ کے منکر ہوئے وہی گھاٹے میں ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

آپ فرما دیجئے: میرے اور تمہارے درمیان اﷲ ہی گواہ کافی ہے۔ وہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب کا حال) جانتا ہے، اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے اور اﷲ کا انکار کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے اللہ میرے درمیان اور تمہارے درمیان گواہ کافی ہے، وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ لوگ جو باطل پر ایمان لائے اور انھوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے اللہ کافی ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے وہ جانتا ہے اور جو لوگ باطل کو مانتے اور اللہ کا انکار کرتے ہیں وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لئے کافی ہے۔ وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے اور اللہ کا جنہوں نے انکار کیا وہی لوگ اصلی نامراد ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(ان سے) کہو کہ کافی ہے اللہ میرے درمیان اور تمہارے درمیان گواہی دینے کو وہ جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جو لوگ ایمان لائے باطل پر اور انہوں نے انکار کیا (حقیقتوں کی حقیقت یعنی) اللہ کا وہی ہیں سراسر خسارے والے

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کافی ہے میرے اور تمہارے درمیان بطور گواہ کے اسی ہر چیز کی خبر ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اور جو لوگ باطل پر ایمان لائے ہیں اور اللہ کے منکر ہیں وہی تو ہیں بڑے گھاٹے میں پڑے ہوئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) آپ کہہ دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کافی ہے بطور گواہ وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ لوگ جو باطل پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کا کفر کرتے ہیں یقیناً وہی خسارہ پانے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرمادیں کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے جو ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے سب کو جانتا ہے اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور اللہ سے انکار کیا وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say (O Prophet): “Allah suffices as a witness between me and you. He knows whatever is in the heavens and the earth. As for those who believe in falsehood and are engaged in infidelity with Allah, it is they who will be the losers.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Allah is enough as a witness between me and you. He knows what is in the heavens and the earth. And those who believe in falsity and do not believe in Allah,__those are the losers.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Allah is enough as a witness between me and you. He knows what is in the heavens and the earth. And those who believe in falsity and do not believe in Allah,__those are the losers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Sufficient is Allah for a witness between me and you. He knows what is in the heavens and on the earth." And those who believe in falsehood, and disbelieve in Allah, it is they who are the losers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say (unto them, O Muhammad): Allah sufficeth for witness between me and you. He knoweth whatsoever is in the heavens and the earth. And those who believe in vanity and disbelieve in Allah, they it is who are the losers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Sufficient is Allah between me and you as Witness. He knows what is in the heavens and earth. And they who have believed in falsehood and disbelieved in Allah - it is those who are the losers."

— Saheeh International

Say, "God is sufficient as a witness between me and you. He knows all that is in the heavens and the earth." Those who have faith in falsehood and disbelieve in God are certainly lost.

— Muhammad Sarwar

Say: Allah is sufficient as a witness between me and you; He knows what is in the heavens and the earth. And (as for) those who believe in the falsehood and disbelieve in Allah, these it is that are the losers.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: Allah sufficeth for witness between me and you: He knoweth whatsoever is in the heavens and the earth. And they who believe in falsehood and disbelieve in Allah, those: they shall be the losers.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Enough is Allah for a witness between me and you: He knows what is in the heavens and on earth. And it is those who believe in vanities and reject Allah, that will perish (in the end).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 29:52

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 50–52

محاسن کلام کا بےمثال جمال قرآن حکیم کافروں کی ضد، تکبر اور ہٹ دھرمی بیان ہو رہی ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ سے ایسی ہی نشانی طلب کی جیسی کہ حضرت صالح سے ان کی قوم نے مانگی تھی۔ پھر اپنے نبی کو حکم دیتا ہے انہیں جواب دیجئے کہ آیتیں معجزے اور نشانات دکھانا میرے بس کی بات نہیں۔ یہ اللہ کے ہاتھ ہے۔ اگر اس نے تمہاری نیک نیتیں معلوم کرلیں تو وہ معجزہ دکھائے گا اور اگر تم اپنی ضد اور انکار سے بڑھ بڑھ کر باتیں ہی بنا رہے ہو تو وہ اللہ تم سے دبا ہوا نہیں کہ اس کی چاہت تمہاری چاہت کے تابع ہوجائے تم جو مانگو وہ کر ہی دکھائے گا۔ جیسے ایک اور روایت میں ہے کہ آیتیں بھیجنے سے ہمیں کوئی مانع نہیں سوائے اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 51–52

سورة العنکبوت 91 یعنی امی ہونے کے باوجود تم پر قرآن جیسی کتاب کا نازل ہونا کیا یہ بجائے خود اتنا بڑا معجزہ نہیں ہے کہ تمہاری رسالت پر یقین لانے کے لیے یہ کافی ہو ؟ اس کے بعد بھی کسی اور معجزے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟ دوسرے معجزے تو جنہوں نے دیکھے ان کے لیے وہ معجزے تھے۔ مگر یہ معجزہ تو ہر وقت تمہارے سامنے ہے تمہیں آئے دن پڑھ کر سنایا جاتا ہے، تم ہر وقت اسے دیکھ سکتے ہو۔ قرآن مجید کے اس بیان و استدلال کے بعد ان لوگوں کی جسارت حیرت انگیز ہے جو نبی ﷺ کو خواندہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ یہاں قرآن صاف الفاظ میں حضور کے ناخواندہ ہونے کو آپ کی نبوت کے حق میں ایک طاقت ور ثبوت کے طور پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 48–55

تفسیروں میں جو عام مفسرین نے اہل کتاب کی روایات نقل کی ہیں ان کا بھی یہی درجہ ہے اور نقل کرنے کا منشاء بھی صرف اس کی تاریخی حیثیت کو واضح کرنا ہے، احکام حلال و حرام کا ان سے استنباط نہیں کیا جاسکتا، مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُــطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ ، یعنی نزول قرآن سے پہلے نہ آپ کوئی کتاب پڑھتے تھے، نہ کچھ لکھ سکتے تھے، بلکہ آپ امی تھے، اگر ایسا نہ ہوتا اور آپ لکھے پڑھے ہوتے تو اہل باطل کے لئے شک و شبہ کی گنجائش نکل آتی کہ یہ الزام لگاتے کہ آپ نے پچھلی کتابیں تورات و انجیل پڑھی ہیں یا نقل کی ہیں۔ آپ جو کچھ قرآن میں فرماتے ہیں وہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قل کفی باللہ بینی و بینکم شھیدا ج یعلم ما فی السموت والارض ط والذین امنوا بالباطل و کفروا باللہ اولئک ھم الخسرون (52) مطب یہ ہے کہ ان لوگوں کی طرف سے یہ شبہات و اعتراضات جواُٹھائے جارہے ہیں یہ تو محض اوپری باتیں ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کے دل گواہی دے رہے ہیں کہ تم اللہ کے رسول ہو اور جو کچھ تم ان کو بتا رہے ہو حرف حرف ٹھیک ہے تو ایسے لوگوں سے زیادہ بحث و حجت کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو اور ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہی کے لئے کافی ہے کہ فی الحقیقت تم پر میری صداقت واضح نہیں ہوئی اس وجہ سے تم نے انکار کیا یا سب کچھ جان بوجھ کر محض اپنی مشخیت کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

52-1اس بات پر کہ میں اللہ کا نبی ہوں اور جو کتاب مجھ پر نازل ہوئی ہے یقینا منجانب اللہ ہے۔ 52-2یعنی غیر اللہ کی عبادت کا مستحق ٹھہراتے ہیں اور جو فی الواقع مستحق عبادت ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ، اس کا انکار کرتے ہیں۔ 52-3کیونکہ یہی لوگ فساد عقلی اور سوء فہم میں مبتلا ہیں، اسی لئے انہوں نے سودا کیا ہے کہ ایمان والوں کے بدل کفر اور ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی ہے، اس میں یہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 51–56

30: جیسا کہ اس سورت کے تعارف میں عرض کیا گیا، یہ سورت اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جب کفار مکہ نے مسلمانوں پر ظلم وستم کی انتہا کر رکھی تھی، اور بعض صحابہ کرام ؓ اس صورت حال سے پریشان تھے، اس سورت کے شروع میں تو انہیں صبر و استقامت کی تلقین فرمائی گئی ہے، اور اب اس آیت میں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر مکہ مکرمہ میں دین پر عمل کرنا مشکل ہورہا ہے تو اللہ کی زمین بہت وسیع ہے، ہجرت کرکے کسی اور ایسی جگہ چلے جاؤ، جہاں امن و سکون کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرسکو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 52–55

قل کفی باللہ بینی ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (52) وہ ذات جو جہانوں کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے اس کی شہادت سے بڑی شہادت کس کی ہوسکتی ہے اور اللہ اپنے علم سے شہادت دے رہا ہے کہ یہ لوگ باطل پر ہیں۔ والذین امنوا ۔۔۔۔۔ ھم الخسرون (29: 52) ” جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں “۔ یہ مطلقاًخسارے میں ہیں ۔ ہر چیز سے وہ محروم ہوگئے ہیں ۔ دنیاو آخرت دونوں ہار چکے ہیں ۔ اپنی ذلمت ، شخصیت ، ہدایت ، استقا مت ، اطمینان ، سچائی اور نور سب چیزوں سے محروم ہوچکے ہیں ۔ اللہ کی ذات پر ایمان لا نا بھی ایک عمل اور کمائی ہے ۔ یہ بذات خود اچھی کمائی ہے ۔ اس پر اللہ اپنے فضل وکرم سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی خدا کی زمین پر اس کے آسمان کے نیچے میں اعلانیہ دعویٰ رسالت کر رہا ہوں جسے وہ سنتا اور دیکھتا ہے پھر روز بروز مجھے اور میرے ساتھیوں کو غیر معمولی طریقہ سے بڑھا رہا ہے۔ برابر میرے دعوے کی فعلی تصدیق کرتا ہے۔ میری زبان پر اور ہاتھوں پر قدرت کے وہ خارق عادت نشان ظاہر کئے جاتے ہیں جن کی نظیر پیش کرنے سے تمام جن و انس عاجز ہیں۔ کیا میری صداقت پر اللہ کی گواہی کافی نہیں۔ 4 آدمی کی بڑی شقاوت اور خسران یہ ہے کہ جھوٹی بات کو خواہ کتنی ہی بدیہی البطلان ہو فوراً قبول کرلے اور سچی بات سے گو کتنی ہی صاف روشن ہو انکار کرتا رہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 52 قُلْ کَفٰی باللّٰہِ بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ شَہِیْدًا ج ” وہ خوب جانتا ہے کہ اس نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے ‘ اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس نے قرآن جیسا بصیرت افروز معجزہ مجھے عطا فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

84 کفار مکہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے خالق ومالک ہونے کی صفات کے قائل تھے۔ لہذا ان سے یہ کہا گیا کہ آپ ان سے کہیئے اگر میں رسالت کا دعویٰ کرکے اس پر جھوٹ باندھنے کا ارتکاب کر رہا ہوں تو چاہئے تو یہ تھا کہ وہ مجھے ہلاک کردیتا مگر عملاً یہ ہو رہا ہے کہ وہ روز بروز مجھے اور میرے ساتھیوں کو بڑھا رہا ہے۔ پھر مجھے معجزہ بھی دیا ہے۔ جس کا جواب پیش کرنے سے تم عاجز ہو تو کیا میری رسالت پر اللہ کی یہ گواہی کافی نہیں ؟ ہاں کوئی شخص اگر یہ تہیہ کرلے کہ وہ حق بات کبھی نہ مانے گا تو وہ اور بات ہے اور یہی انسان کی سب سے بڑی بدبختی اور اس کے حق میں نقصان دہ بات ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

67۔ (میرے دل میں ذرہ بھر بھی کھوٹ ہوگا تو اس سے نہیں چھپ سکتا) مطلب یہ ہے کہ کسی کے ماننے نہ ماننے سے کیا ہوتا ہے۔ میری رسالت تو عنداللہ ثابت ہے۔ ایک حقیقی مذہبی شخص کے پاس اس سے بڑا واسطہ اور ہے ہی کیا کہ وہ خدا کو درمیان ڈال کر کسی بات کا اقرار کرے۔ 68۔ جنہوں نے اللہ اور اس کی شریعت سے کفر کرکے باطل کو اپنا سہارا قرار دے لیا، تو انہوں نے تو ایک تمامتر غلط نقشہ زندگی ہی تیار کرلیا۔ اب انہیں فوز و فلاح نصیب ہی کہاں سے ہوسکتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 52–63

آیت نمبر 52 تا 63 ترجمہ : آپ کہہ دیجئے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان میری سچائی پر گواہ کافی ہے آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اسے سب باتوں کی خبر ہے اور انہیں میں میرا اور تمہارا حال بھی ہے اور جو لوگ باطل پر اور وہ اللہ کے علاوہ وہ چیزیں ہیں جن کی پوجا پاٹ کی جاتی ہے یقین رکھتے ہیں اور تم میں سے اللہ کے منکر ہیں یہی لوگ ہیں جو اپنے سودے میں نقصان اٹھانے والے ہیں اس طور پر کہ انہوں نے ایمان کے بدلے کفر اختیار کرلیا ہے اور یہ لوگ آپ سے عذاب کے بارے میں جلدی کرتے ہیں اور اگر عذاب کی مدت متعین نہ ہوتی تو ان پر فوری عذاب آچکا ہوتا اور ان پر وہ عذاب دفعۃً آپہنچے گا اور ان کو اس کے آنے کی خبر بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل کفی باللہ بینی وبینکم شھیدًا یعلم ما فی السمٰوٰت والارض . آپ کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کے لئے اللہ کافی ہے۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ‘ سب سے وہ واقف ہے۔ یعنی اس سے کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے۔ والذین اٰمنوا بالباطل وکفروا باللہ اولئک ھم الخسرون اور جن لوگوں نے باطل کو مانا اور اللہ کا انکار کیا ‘ وہی لوگ تجارت میں گھاٹا اٹھانے والے ہیں۔ کہ انہوں نے حق کو چھوڑا ‘ باطل کو پسند کیا ‘ دوزخ کو جنت کے عوض خریدا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اَلْبَاطِلِ (سے مراد ہے) غیر اللہ یعنی وہ اللہ کے سوا دوسروں پر ایمان لائے۔ مقاتل نے کہا : یعنی شیطان کی پوجا کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میری رسالت کا بس اللہ تعالیٰ گواہ ہے اس کو تمام مخلوق کی خبر ہے اور جو لوگ یعنی ابو جہل وغیرہ شیطانی باتوں پر یقین رکھتے ہیں وہ لوگ بڑے ہی خسارے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ كَفٰي باللّٰهِ بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ شَهِيْدًا : کفار کے آپ ﷺ کو جھٹلانے کا یہ ایک اور جواب ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا ۭ قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۙ وَمَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ) [ الرعد : 43 ] ”اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کہتے ہیں تو کسی طرح رسول نہیں ہے۔ کہہ دے میرے درمیان اور تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے اور وہ شخص بھی جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔“ یعنی اگر تم مجھے جھٹلاتے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور اس کی گواہی کافی ہے۔ وہ تمہاری تکذیب اور سرکشی کو اور میری سچائی اور خیر خواہی کو بخوبی جانتا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 50–52

یہ مشرکوں کا رسول اللہ ﷺ سے قول ہے : اس کا معنی ہے ان پر ایسی آیت کیوں نازل نہیں ہوئی جیسی آیات انبیاء پر نازل ہوئیں ؟ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مردے زندہ کرنے کا معجزہ دیا گیا۔ قل اے محمد ﷺ آپ انہیں کہہ دیجیئے۔ معجزات تو اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے ان کو لاتا ہے، جب چاہتا ہے انہیں بھیج دیتا ہے یہ میرے قبضہ میں تو نہیں۔ ابن کثیر، حمزہ اور کسائی نے آیۃ پڑھا (1) ۔ باقی قراء نے جمع کا صیغہ پڑھا ہے۔ یہ ابو عبید کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یہ ان کے قول کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–52

1۔ الدارمی وابوداوٗد فی مراسیلہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے یحییٰ بن جعدہ ؓ سے روایت کیا کہ کچھ لوگ مسلمانوں میں سے کتابیں لاتے کہ جس میں اپنوں نے بعض وہ باتیں لکھی تھی جو انہوں نے یہودیوں سے سنی تھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک قوم کی حماقت اور گمراہی کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ اس چیز سے اعراض کریں جو ان کے نبی ان کے لیے لائے اور اس چیز میں رغبت کا اظہار کریں جو ان کے پاس ان کا غیر لایا تو یہ آیت نازل ہوئی آیت اولم یکفہم انا انزلنا علیک الکتب یتلی علیہم یعنی کیا ان کے لیے یہ کافی ہے کہ ہم نے آپ پر ایک کتاب اتاری ہے جو ان پر پڑھی جاتی ہے۔ 2۔ الاسمعیلی نے اپنی معجم میں وابن مردویہ نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [آپ ﷺ کہیے ] كَفٰي [کافی ہوا ] بِاللّٰهِ [اللہ ] بَيْنِيْ [میرے درمیان ] وَبَيْنَكُمْ [اور تم لوگوں کے درمیان ] شَهِيْدًا ۚ [بطور گواہ کے ] يَعْلَمُ [وہ جانتا ہے ] مَا [اس کو جو ] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [آسمانوں اور زمین میں ہے ] وَالَّذِيْنَ [اور جو لوگ ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] بِالْبَاطِلِ [ناحق پر ] وَكَفَرُوْا [اور جنہوں نے انکار کیا ] بِاللّٰهِ ۙ [اللہ کا ] اُولٰۗىِٕكَ [وہ لوگ ] هُمُ الْخٰسِرُوْنَ [ہی خسارہ پانے والے ہیں ] ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اہل باطل کی تکذیب اور تکذیب پر تعذیب رسول اللہ ﷺ کی باتوں پر منکرین کو یقین نہیں تھا، حالانکہ آپ کے معجزات ظاہر ہوتے رہتے تھے، اور سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ان سے فرما دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ کافی ہے، تم مانو یا نہ مانو وہ میری رسالت کا گواہ ہے، آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ ان سب کو جانتا ہے، میں جو تم پر حق پیش کرتا ہوں اسے اس کا بھی علم ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو یعنی انکار اور تکذیب کے ساتھ پیش آتے ہو اسے اس کا بھی علم ہے، تمہیں حرکتوں کی سزا ضرور ملے گی اور تم بہت بڑے خسارہ میں پڑو گے۔ اسی کو فرمایا : (وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–55

اثبات رسالت محمدیہ وازالہ شکوک و شبہات منکرین نبوت قال اللہ تعالیٰ اتل ما اوحی الیک من الکتب واقم الصلوٰہ۔۔۔ الی۔۔۔ ذوقوا ما کنتم تعملون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں توحید کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ انبیاء کرام (علیہم السلام) نے لوگوں کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے منع کیا بالآخر وہ منکرین ہلاک ہوئے اب ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی رسالت کا مضمون ذکر کرتے ہیں اور منکرین رسالت کے بعض شبہات کا جواب دیتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ ان کے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کیجئے جو توحید کے مضامین پر اور گذشتہ امتوں کے حال اور مال پر مشتمل ہے اور آپ ﷺ کی رسالت کا عظیم معجزہ ہے عجب نہیں کہ آیات خداوندی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

45:۔حضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ اگر اتنے دلائل وبراہین کے باوجود بھی نہیں مانتے تو آپ فرما دیں میرے اور تمہارے درمیان میری سچائی پر اللہ سب سے بڑا گواہ ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اس سے پوشیدہ نہیں۔ وہ تمہیں اس کی سخت سزا دے گا۔ والذین امنوا بالباطل، باطل سے معبودانِ غیر اللہ مراد ہیں وھو ما یعبد من دون اللہ تعالیٰ (ابو السعود ج 6 ص 700) قال ابن عباس ؓ ای بغیر اللہ عز و جل وھو شامل لنحو عیسیٰ والملائکۃ (علیہم السلام) والباطل فی الھقیقۃ عبادتہم الخ (روح ج 21 ص 8) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 52–59

ربطہ آیات گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور مشرکین کا شکوہ کیا تھا جو ایمان لانے کی بجائے طرح طرح کی نشانیاں طلب کرتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ آپ صاف صاف کہہ دیں کہ میرا کام تو کھول کر ڈر سنانا ہے۔ نشانیاں پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے وہ جب چاہے کوئی نشانی ظاہر کردیتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس سے بڑی نشانی اور معجزہ کیا ہوگا کہ ایک امی آدمی ایسی عظیم الشان کتاب پڑھ کر سناتا ہے جس نے نہ کوئی کتاب پڑھی ہے اور نہ لکھنا سیکھا ہے۔ یہ کتاب ایسے علوم و معارف پر مشتمل ہے جس کا کوئی انسان احاطہ نہیں کرسکتا۔ رسالت پر شہادت خداوندی اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رکوع نمبر 2 قُلْ كَفٰي بِاللہِ بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ شَہِيْدًا۝ 0ۚ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ 0ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَكَفَرُوْا بِاللہِ۝ 0ۙ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ۝ 52 كفى الكِفَايَةُ : ما فيه سدّ الخلّة وبلوغ المراد في الأمر . قال تعالی: وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتالَ [ الأحزاب/ 25] ، إِنَّا كَفَيْناكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ [ الحجر/ 95] . وقوله : وَكَفى بِاللَّهِ شَهِيداً [ النساء/ 79] قيل : معناه : كفى اللہ شهيدا، والباء زائدة . وقیل : معناه : اكْتَفِ بالله شهيدا «1» ، والکُفْيَةُ من القوت : ما فيه كِفَايَةٌ ، والجمع : كُفًى، ويقال : كَافِيكَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 51–55

ترکیب : انا انزلنا جملہ یکفہم کا فاعل یتلی علیہم کتاب کی صفت کفی کا فاعل اللہ اور ب زائد ہے شہیدا مفعول لہ کفی سے باتمیز اور ممکن ہے کہ حال بھی ہوجائے یوم یغشہم ظرف ہے اس کا عامل محیط ای سیحیط بھم یوم کذا۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ کَفٰی بِاللّٰہِ بَیْنِیْ وَبَیْنَـکُمْ شَہِیْدًا ج یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَکَفَرُوْا بِاللّٰہِ لا اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ۔ (العنکبوت : 52) (کہہ دیجیے ! میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہی کے لیے کافی ہے، وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، جو لوگ باطل پر ایمان لائے اور جنھوں نے اللہ کا انکار کیا وہی خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اور مخالفین کو تنبیہ قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی نبوت پر ایسے واضح دلائل کے بعد جیسے کہ قریبی آیات میں پیش کیے گئے ہیں مشرکینِ مکہ اگر ایمان لانے کی بجائے نشانیوں کا مطالبہ کرتے اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : منکرین نبوت کو ایک اور جواب۔ منکرین نبوت کے پے در پے مطالبات پورے کر دئیے گئے اور ان کے ہر سوال کا مُدّلل جواب دیا گیا اور وہ اس کے مقابلے میں لا جواب ہوئے مگر اس کے باوجود مطالبہ کرتے کہ اے نبی ﷺ آپ کی نبّوت کی تائید میں فلاں قسم کا معجزہ نازل کیوں نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کو بالآخر یہ جواب دیا گیا کہ تمہارے پاس دیگر معجزات کے ساتھ قرآن مجید جیسا عظیم اور زندہ جاوید معجزہ آچکا ہے۔ لیکن پھر بھی تم ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہو۔ اب میرے اور تمہارے درمیان ” اللہ “ ہی گواہ ہے اور وہ ٹھیک، ٹھیک فیصلہ کرنے والا ہے جو نہ صرف تمہاری نیتوں کو جانتا ہے بلکہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

52: قُلْ کَفٰی بِاللّٰہِ بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ شَہِیْدًا (کہہ دیجئے۔ کہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی دینے کے لئے اللہ کافی ہے) ۔ میرے دعوی رسالت کی سچائی کی گواہی اور مجھ پر قرآن مجید کے اتارنے اور تمہارے جھٹلانے پر اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے۔ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (وہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس سب کو جانتا ہے) ۔ اس کو میرے اور تمہارے معاملے کی اطلاع ہے۔ وہ میری حقانیت اور تمہاری باطل پرستی کو جاننے والا ہے۔ باطل پر ایمان لانے والے : وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا بِالْبَاطِلِ (اور وہ لوگ جو باطل پر ایمان لانے والے ہیں) ۔ باطل سے مراد یہودیت۔ نمبر 2۔ شرک۔ نمبر 3۔ ابلیس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

52۔ قل کفی باللہ بینی وبینکم شھیدا، ، کہ یہ رسول خدا ہیں اور قرآن ان کی کتاب ہے یعلم مافی السموات والارض والذین آمنوا بالباطل ، ابن عباس نے فرمایا کہ باطل سے مراد اللہ کے علاوہ پر ایمان لانا ہے۔ قتادہ کا بیان ہے کہ شیطان کی عبادت کرنا، وکفروبااللہ اولئک ھم الخاسرون، ،،۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–59

50 تا 59۔ مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سچے رسول ہیں تو کچھ نشانیاں کیوں نہیں دکھاتے اللہ فرماتا ہے تو کہہ دے نشانیاں اللہ کے اختیار میں ہیں اگر اللہ جانتا نشانیاں دیکھ کر تم راہ پر آجاؤ گے تو وہ تم کو نشانیاں بھی دکھا دیتا اس پر کچھ مشکل نہ تھا مگر وہ جانتا ہے کہ تمہارا ارادہ مسخرا پن کا ہے اس لیے وہ تم کو نہیں دکھاتا اور میں تو فقط ڈرانے والا ہوں پھر اللہ تعالیٰ مشرکوں کی وہ جہالت بیان کرتا ہے جس کے سبب سے وہ جو پیغمبر صلعم کی سچائی پر نشانیاں مانگتے تھے حالانکہ قرآن شریف ایسا بڑا معجزہ ہے کہ جس کے مقابلہ سے بڑے بڑے فصیح بلیغ عاجز آگئے اس کا مانند دس سورت کیا بلکہ ایک سورت بھی نہ بناسکے پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 50–52

آیت نمبر : 52-51-50 جب رسول اللہ ﷺ یہ کتاب عظیم لے کر آئے تو ان ظالموں نے اعتراض کیا اور معینہ معجزات کے نزول کا مطالبہ کیا جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وقالوا لن نؤمن لک حتی تفجر لنا من الارض ینبوعا) (بنی اسرائیل : 71/09) ” اور انہوں نے کہا ہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تو زمین کو پھاڑ کر ہمارے لیے پانی کا ایک چشمہ جاری نہ کردے۔ “ معجزات و آیات کا تعین ان کے بس کی بات ہے نہ رسول ﷺ کے اختیار میں ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کی تدابیر ہیں اور کسی کے اختیار میں کچھ نہیں ‘ اس لیے فرمایا : (قل انما الایت عنداللہ) ” کہہ دیجیے ! معجزات تو اللہ ہی کے پاس ہیں۔ “ لہٰذا اگر وہ چاہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–69

قول باری ہے : (ولا تجادلوا اھل الکتاب الا بالتیھی احسن۔ اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے) قتادہ کا قول ہے کہ یہ آیت قول باری (وقاتلوا المشرکین اور مشرکین سے قتال کرو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ کوئی بحث تلوار کے استعمال سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ کی مراد یہ ہے کہ آیت، زیر بحث کا حکم قتال کے حکم سے پہلے کا ہے۔ قول باری ہے : (الا الذین ظلموا منھم ۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں) ۔ یعنی۔ واللہ اعلم۔ سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے بحث وجدال وغیرہ میں تمہارے ساتھ ظلم کیا ہو جو اس امر کا مقتضی ہو کہ تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 42–69

58 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان اس کے احاطہ علم کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب چیزوں کو جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں اللہ کے سوا "۔ تعمیم ملاحظہ ہو کہ اول تو { شیئ } خود نکرہ ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ پھر اس پر { من } استغراقیہ سے مزید تاکید۔ یعنی کوئی بھی چیز خواہ کوئی فرشتہ ہو یا انسان، شجر ہو یا حجر، بت ہو یا جن وغیرہ وغیرہ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مافوق الاسباب کسی کو بھی پکارنا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اب وہ لوگ دیکھ لیں جو اس وحدہ لاشریک کو چھوڑ کر اس کی عاجز مخلوق کو پکارتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے " یا رسول…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 47–55

کفار کے لیے عذاب کی خبر تشریح : جیسا کہ پہلے قرآن کے آسمانی کتاب ہونے کے ثبوت دیے جا چکے ہیں تو ایک ثبوت اور دیا جا رہا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال آپ نے اہل مکہ کے ساتھ گزارے تھے۔ سب آپ کو اچھی طرح جانتے تھے کہ آپ بڑے ایماندار تاجر ہیں انتہائی نیک فطرت ‘ نرم مزاج ‘ بےحد ذہین مگر آپ پڑھے لکھے نہ تھے لوگ جانتے تھے کہ آج تک نہ انہوں نے کوئی کتاب پڑھی ہے نہ کبھی کچھ لکھا ہے۔ تو پھر یکدم وہ اس قدر حکمت سے بھری باتیں، گزشتہ تاریخی واقعات اور مستقبل کے حالات، حقیقت پر مبنی باتیں، آسمانوں زمین کے پھیلائو، ملکی انتظامات ‘ عسکری (فوجی) مہارت کے اصول و ضوابط ‘ جنگی چالیں اور سب سے بڑھ کر انسانی زندگی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 52–63

آیات 52 تا 63 اسرارومعارف آپ ان سے کہ دیجیے کہ اس قدر دلائل کے بعد بھی اگر تم شبہات میں گرفتار ہو تو پھر میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے جو زمین و آسمان کے سب رازوں سے اقف ہے مومن و کافر کے دلوں کو جانتا ہے۔ اور یہ ظاہر ہوجائے گا جو لوگ باطل پر ہیں اور اللہ کے ارشادات کا انکار کرتے ہیں انجام کار وہی نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ یہ عذاب مانگنے میں بڑی جلدی دکھاتے ہیں۔ اگر سب معاملات کے اوقات اللہ کریم نے طے نہ فرما دیے ہوتے تو انہیں مانگنے پہ بھی عذاب مل جاتا۔ بحر حال اللہ کی گرفت انہیں اچانک پکڑے گی جبکہ یہ سمجھ ہی نہ پائیں گے کہ سب کچھ کیسے ہوگیا دنیا میں بھی شکست کھا کر پھر موت کے منہ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 52–53

2 ۔ یعنی آپ ﷺ کو جھٹلاتے اور آپ کا مذاق اڑاتے ہوئے بار بار مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو ہم پر عذاب کیوں نہیں لے آتے۔ (انفال :32، سورة صٓ:16) اور مطالبہ کرتے : امطر علینا حجارۃ اوئتنا بعذاب کہ ہم پر پتھر برسائو یا کوئی دوسری قسم کا عذاب لے آئو۔ (دیکھئے سورة انفال :32 و سورة ص :16) 3 ۔ مراد ہے دنیا کا کوئی عذاب، جیسا کہ کفار پر بدر کے روز آیا۔ کیونکہ وہ اپنے غرور کے سبب مسلمانوں کے غلبہ سے بالکل بیخوف تھے اور ان کے دل میں خیال تک نہ تھا کہ اس طرح ذلت کے ساتھ قتل اور قید و بند کے عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے۔ یا قبر اور پھر آخرت کا جس کا سلسلہ مرنے بعد فوراً شروع ہوجائے گا اور موت کے متعلق کسی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(29:52) کفی باللہ شھیدا میں کفی کا فاعل اللہ ہے ب زائدہ ہے۔ شھیدا کفی کا مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے اور تمیز بھی۔ کفی یکفی (ضرب) کفایۃ مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے وہ (ضرورت پوری کرنے کے لئے) کافی ہے (اس کے بعد کسی کی حاجت نہیں ہے) شہیدا۔ بطور گواہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 48–55

لغات القرآن آیت نمبر (48 تا 55) ۔ لا تخط (نہیں لکھتا ہے) ۔ یمین (داہنا ہاتھ) ۔ ارتاب (شک کیا) ۔ المبطلون (ناحق چلنے والے) ۔ لم یکف (کافی نہیں ہے) ۔ یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ۔ مسمی (مقرر۔ متعین) ۔ بغتتہ (اچانک) ۔ تشریح : آیت نمبر (48 تا 55) ۔ ” اللہ تعالیٰ کا نظام یہ ہے کہ اس نے انسانوں کو پیدا کر کے ان کی رہنمائی کے اسباب بھی مہیا کئے ہیں چناچہ ہر دور میں اللہ نے اپنے رسولوں کو بھیجا اور ان کو وہ کتاب ہدایت بھی دی جس میں دنیا میں زندگی گذار کر آخرت کی کامیابیاں حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو اس وقت تو ریت، زبور اور انجیل کتابیں موجود تھیں جس میں انسانی ہاتھوں نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 52–55

(ف 1) تم کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے جو سب کچھ جانتا ہے اگر میں جھوٹ کہتا ہوں تو وہ مجھ سے بدلہ لے گا لیکن وہ تو دن بدن اسلام کو ترقی دے رہا ہے جس سے اسلام کا حق ہونا صاف ظاہر ہے اب اللہ تعالیٰ مشرکوں کی دوسری جہالت بیان کرتا ہے کہ وہ خدا کا عذاب جلد طلب کرتے ہیں ان سے کہہ دیاجائے گا کہ اگر عذاب کے لیے وقت مقرر نہ ہوچکا ہوتا تو بہت جلد ان پر عذاب آچکا ہوتا، اور وہ عذاب ان پر یکایک بیخبر ی میں آجائے گا۔ اور دوزخ ان کی تاک میں ہے قیامت کے دن جب ان کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا تو اس وقت اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ اب عذاب کی جلدی کرنے اور اپنی بداعمالی کا مزہ چکھو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[24] اور اگر میرے دل میں ذرہ بھر بھی کھوٹ ہوگا تو وہ اس سے چھپ نہیں سکتا۔ ایک سچے انسان کے پاس اس سے بڑا واسطہ اور ہے ہی کیا کہ وہ اللہ کو درمیان میں ڈال کر کسی بات کا اقرار کرے۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

52۔ آگے ایک اور جواب دیا جاتا ہے اے پیغمبر آپ فرما دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان با اعتبار گواہ کے اللہ تعالیٰ کافی اور بس ہے وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو لوگ جھوٹی باتوں کا یقین کرتے اور جھوٹی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے منکر اور اس کی توحید کا انکار کرتے ہیں تو وہی لوگ سخت نقصان اٹھانے والے ہیں اور وہی لوگ زیاں کار ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب میری رسالت کا گواہ ہے اور اس کا علم تمام امور پر محیط ہے اور تم جو کچھ کر رہے ہو وہ اس کو معلوم ہے تو وہ تم کو تمہارے اعمال پر سزا دے گا اور اس کی سزا دینا یہی نقصان اور زیاں ہے۔ حضرت شاہ صاحب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 52–54

ف 1۔ یعنی جب اللہ کے ارشاد سے میری رسالت ثابت تو اس کا انکار کفر باللہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کا علم محیط ہے، تو اس کو اس انکار و کفر کی بھی خبر ہے، اور اللہ تعالیٰ کفر پر سزائے خسارہ دیتے ہیں، پس لا محالہ ایسے لوگ خاسر ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان ہٹ دھرموں سے کہہ دو کہ تمہارے اور میرے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے : 52۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ﷺ آپ ان منکرین ومعاندین سے برملا کہہ دیں کہ مجھے اپنی صداقت کے لئے اس سے بڑھ کر کسی دلیل کی کوئی ضرورت نہیں جو دلیل میں نے تمہارے سامنے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے پیش کردی ، میرے لئے یہی دلیل کافی ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کفایت کرتی ہے جس پر آسمان و زمین کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے جن لوگوں کی عادت ثانیہ میں داخل ہے کہ انہوں نے باطل پر ایمان لانا ہے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا انکار کرنا ہے ان کو وہی کرنا ہے جو ان کی سرشت میں داخل ہے ان کے کھائے کا علاج میں نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–56

Commentary From the very beginning of this Surah until now the enmity of the infidels toward Muslims, their rejection of the Oneness of God and prophethood of the Holy Prophet ﷺ ، and putting hurdles in the way of truth and believers were described. In the above verses a way out of this entanglement is suggested in order to come out of the turmoil and spread and propagate the truth, and establish justice - the common name for this action is hijrah (migration).It means to leave the hometown and land where one is forced to speak and act against the truth. Command in connection with hijrah and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–53

93 That is,"They are challenging you again and again that If you are a true messenger and they are really denying the Truth, then you should not delay the torment with which you threaten them. "

Read the full tafseer →