Explained with ayahs 31–35
فرشتوں کی آمد
حضرت لوط ؑ کی جب نہ مانی گئی بلکہ سنی بھی نہ گئی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی جس پر فرشتے بھیجے گئے۔ یہ فرشتے بشکل انسان پہلے بطور مہمان کے حضرت ابراہیم ؑ کے گھر آئے۔ آپ نے ضیافت کا سامان تیار کیا اور سامنے لارکھا۔ جب دیکھا کہ انہوں نے اس کی رغبت نہ کی تو دل ہی دل میں خوفزدہ ہوگئے تو فرشتوں نے ان کی دلجوئی شروع کی اور خبردی کہ ایک نیک بچہ ان کے ہاں پیدا ہوگا۔ حضرت سارہ جو وہاں موجود تھیں یہ سن کر تعجب کرنے لگیں جیسے سورة ہود اور سورة حجر میں مفصل تفسیر گذر چکی ہے۔ اب فرشتوں نے اپنا اصلی ارادہ ظاہر کیا۔ جسے سن کر خلیل الرحمن کو خیال آیا کہ اگر وہ لوگ کچھ اور ڈھیل دے دئیے…
Read the full tafseer →سورة العنکبوت 53
سورة ہود اور سورة حجر میں اس کی تفصیل یہ بیان ہوئی ہے کہ جو فرشتے قوم لوط پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے وہ پہلے حجرت ابراہیم کے پاس حاضر ہوئے اور انہوں نے آنجناب کو حضرت اسحاق اور ان کے بعد حضرت یعقوب کی پیدائش کی بشارت دی، پھر یہ بتایا کہ ہمیں قوم لوط کو تباہ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔
سورة العنکبوت 54
" اس بستی " کا اشارہ قوم لوط کے علاقے کی طرف ہے۔ حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین کے شہر حبرون (موجودہ الخلیل) میں رہتے تھے۔ اس شہر کے جنوب مشرق میں چند میل کے فاصلے پر بحیرہ مردار (Dead Sea) کا وہ حصہ واقع ہے جہاں پہلے قوم لوط آباد تھی اور اب جس پر بحیرہ کا پانی پھیلا ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے لوط ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں نہیں کیا، کیا تم مردوں سے برا فعل کرتے ہو، (وہ بےحیائی کا کام یہی ہے) اور (اس کے علاوہ دوسری نامعقول حرکتیں بھی کرتے ہو، مثلاً یہ کہ) تم ڈاکہ ڈالتے ہو (کذا فی الدر عن ابن زید) اور (غضب یہ ہے کہ) اپنی بھری مجلس میں نامعقول حرکت کرتے ہو (اور معصیت کا اعلان یہ خود ایک معصیت وقبح عقلی ہے) سو ان کی قوم کا (آخری) جواب بس یہ تھا کہ ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ اگر تم (اس بات میں) سچے ہو (کہ یہ افعال موجب عذاب ہیں) لوط ؑ نے دعا کی کہ اے میرے رب مجھ…
Read the full tafseer →ولما جاءت رسلنا ابراہیم بالبسری لا قالوا انا مھلکوا اھل ھذہ القریۃ ج ان اھلھا کانواظلمین (31)
’ بشری ‘ سے مراد وہ بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو دی۔ اس کا ذکر اوپر آیت 27 میں گزر چکا ہے۔ فرمایا کہ جو فرشتے حضرت ابراہیم ؑ کے لئے بیٹے اور پوتے کی بشارت لے کر آئے وہی فرشتے قوم لوط کے لئے عذاب کا تازیانہ لے کر آئے۔ انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کو بشارت کے ساتھ قوم لوط کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے اس فیصلہ کی بھی خبر دی کہ اب ہم اس بستی والوں کو (اشارہ قوم لوط کی بستی کی طرف ہے) ہلاک کردینے والے ہیں۔ اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک ہی ہاتھ میں رحمت و نقمت دونوں ہیں۔ جس…
Read the full tafseer →31-1یعنی حضرت لوط ؑ کی دعا قبول فرمائی گئی اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ہلاک کرنے کے لئے بھیج دیا۔ وہ فرشتے پہلے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس گئے اور انھیں اسحاق ؑ و یعقوب ؑ کی خوشخبری دی اور ساتھ ہی بتلایا کہ ہم لوط ؑ کی بستی ہلاک کرنے آئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
14: جو فرشتے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس یہ خوشخبری لے کر آئے تھے کہ ان کے یہاں بیٹا پیدا ہوگا، انہی کو حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھی بھیجا گیا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ہود : 69 اور سورة حجر : 51
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ولام جآءت رسلنا ابراھیم ۔۔۔۔۔ کانت من الغبرین (31 – 32)
یہ منظر ، ابراہیم (علیہ السلام) اور فرشتوں کا منظر ، یہ منظر یہاں چونک مقصود بالذات نہ تھا ، اس لیے اسے نہایت اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے میں دوسری جگہ یہ بات آگئی ہے کہ انہیں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب کی بشارت دی گئی۔ اور حضرت اسحاق کی ولادت تو خوشخبری کا موضوع تھا۔ اس لیے ان باتوں کو ہاں مفصل نہیں دیا گیا کیونکہ مقصود اتمام قصہ لوط تھا۔ یہاں صرف یہ کہہ دیا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے فرشتے اس لیے ہو کر آئے کہ انہیں خوشخبری دے دیں اور یہ بتا دیں کہ وہ کس مہم پر آئے ہیں۔
انا مھلکوآ اھل ۔۔۔۔۔۔۔…
Read the full tafseer →7 لوط (علیہ السلام) کی دعا پر فرشتوں کو اس بستی کے تباہ کرنے کا حکم ہوا۔ فرشتے اول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچے، ان کو بڑھاپے میں بیٹے کی بشارت سنائی اور اطلاع دی کہ ہم اس بستی (سُدُوم) کو تباہ و برباد کرنے کے لیے جا رہے ہیں۔ کیونکہ وہاں کے لوگ کسی طرح اپنی حرکات شنیعہ سے باز نہیں آتے۔ ان واقعات کی تفصیل سورة اعراف، ہود اور حجر وغیرہ میں گزر چکی ہے۔ (تنبیہ) شاید ہلاکت کی خبر کے ساتھ بیٹے کی بشارت دینے کا مطلب یہ ہو کہ ایک قوم سے اگر خدا کی زمین خالی کی جانے والی ہے تو دوسری طرف حق تعالیٰ ایک عظیم الشان قوم " بنی اسرائیل " کی بنیاد ڈالنے والا ہے۔ نبہ علیہ العلامۃ النیشابوری فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
آیت 31 وَلَمَّا جَآءَ تْ رُسُلُنَآ اِبْرٰہِیْمَ بالْبُشْرٰیلا ”
قوم لوط پر عذاب کی غرض سے جو فرشتے بھیجے گئے تھے وہ پہلے انسانی شکلوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس گئے۔ ان فرشتوں نے پہلے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت دی اور پھر اس کے بعد :
Read the full tafseer →48 حضرت لوط کی دعا کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا۔ اور اس بدکار قوم کی بستی کو ہلاک کرنے اور حضرت لوط کو نجات دینے کے لئے اپنے فرشتے بھیج دیئے۔ پہلے یہ فرشتے انسانوں کی شکل میں حضرت ابراہیم کے پاس آئے۔ حضرت ابراہیم ان کی مہمانی کے لئے بچھڑا بھون کرلے آئے۔ مگر جب ان نووارد مسافروں نے کھانے کی طرف ہاتھ تک نہ بڑھایا جو حضرت ابراہیم دل میں ڈر گئے۔ پھر جب فرشتوں نے بتلایا کہ ہم فرشتے ہیں اور آپ کو ایک بیٹے کی بشارت دینے آئے ہیں۔ تو حضرت ابراہیم کا ڈر جاتا رہا۔ اور یہ واقعہ کئی مقامات پر تفصیل سے گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →35۔ یہ قاصد انسانی شکل میں اللہ کے فرشتہ تھے۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ان کے صاحبزادہ اسحاق کی ولادت کی بشارت لے کر آئے تھے۔ ملاحظہ ہوں سورة الاعراف (پ 8) اور سورة ہود (پ 12) کے حاشیے۔ (آیت) ” رسلنا۔ رسول “۔ یہاں پیغمبر کے اصطلاحی معنی میں نہیں۔ قاصد کے عام لغوی معنی میں ہے۔ (آیت) ” البشری “۔ بشارت سے حضرت اسحاق کی ولادت کی بشارت مراد ہے۔
36۔ مراد وہ بستیاں ہیں جن میں قوم لوط آباد تھی، یعنی شہر سدوم اور اس کے مضافات۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیت نمبر 31 تا 44
ترجمہ : ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابرہیم (علیہ السلام) کے پاس اسحٰق کی اور ان کے بعد (اسحٰق کے بیٹے) یعقوب کی خوشخبری لے کر آئے تو کہنے لگے کہ ہم اس بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں یعنی لوط (علیہ السلام) کی بستی والوں کو بلاشبہ اس بستی والے ظالم یعنی کافر ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہنے لگے اس میں تو لوط (بھی) ہیں فرشتوں نے کہا جو وہاں ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں، ہم لوط (علیہ السلام) کو اور ان کے اہل خانہ کو سوائے ان کی بیوی کے بچالیں گے اس لئے کہ وہ تو عذاب میں رہ جانے والوں میں ہوگی اور جب ہمارے فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو ان کی وجہ سے لوط مغموم ہوئے اور ان…
Read the full tafseer →ولما جآءت رسلنا ابراھیم بالبشری . اور جب ہمارے فرستادے (ملائکہ) ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے۔ یعنی اسحاق اور اسحاق کے بعد یعقوب کی پیدائش کی بشارت لے کر پہنچے۔
قالوا انا مھلکوا اھل ھذہ القریۃ . تو انہوں نے (ابراہیم سے) کہا کہ ہم اس بستی والوں کو ضرور ہلاک کرنے والے ہیں۔ یعنی سدوم کی بستی کو ضرور تباہ کریں گے ‘ کیونکہ
ان اھلھا کانوا الظلمین . اس کے باشندے بلاشبہ ظالم ہیں۔ یعنی کفر و معاصی پر اڑے ہوئے ہیں ‘ ایک طویل مدت سے کفر اور بیجا حرکتوں پر جمے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →(31) اور جب حضرت جبریل ؑ اور ان کے ساتھ دوسرے فرشتے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس حضرت اسحاق ؑ بیٹے کی خوشخبری لے کر آئے تو انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ سے کہا کہ ہم قوم لوط کی بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں کیوں کہ وہاں کے باشندے مشرک ہیں اور انہوں نے بےحیائی کے کام کر کے اپنے اوپر عذاب کو اجب کرلیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
ۧوَلَمَّا جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰهِيْمَ بالْبُشْرٰى۔۔ : ان آیات کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورة ہود (69 تا 82) اور سورة حجر (51 تا 79)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
کسائی نے کہا : معنی ہے ہم نے حضرت لوط علیہ لسلام کو نجات دی یا ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھیجا۔ کہا : یہ توجیہ میرے لئے زیادہ پسندیدہ ہے یہ بھی جائز ہے کہ معنی ہو لوط کو یاد کرو کیونکہ انہوں نے اپنی قوم کو شرمندہ کرتے ہوئے اور ڈراتے ہوئے کہا : ان میں قرأت اور اس کی وضاحت سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا تذکرہ سورة الاعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ڈاکو تھے، یہ ابن زید نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لئے راستوں سے لوگوں کو اٹھا لیتے تھے، ابن شجرہ نے اسے بیان کیا ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت وتقطعون السبیل کے بارے میں فرمایا کہ السبیل سے مراد وہ راستہ ہے جس پر مسافر گزرے مسافر ابن سبیل ہوتا ہے اس پر وہ ڈاکہ ڈالتے اور اس کے ساتھ برا کام کرتے۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتاتون فی نادیکم یعنی تم وہ اپنی مجلسوں میں۔
3۔ الفریابی واحمد وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ وابن ابی الدنیا فی کتاب الصمت ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والفاشی فی سندہ والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر نے ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول…
Read the full tafseer →وَلَمَّا جَاۗءَتْ [اور جب آئے ] رُسُلُنَآ [ہمارے رسول (فرشتے)] اِبْرٰهِيْمَ [ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ] بِالْبُشْرٰى ۙ [خوشخبری کے ساتھ ] قَالُوْٓا [تو انہوں نے کہا ] اِنَّا [کہ ہم ] مُهْلِكُوْٓا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ ۚ [اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہیں ] اِنَّ اَهْلَهَا [بیشک اس کے لوگ ] كَانُوْا ظٰلِمِيْنَ [ظلم کرنے والے ہیں ] ۔
نوٹ۔ 1: بشری سے مراد وہ بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دی، جس کا ذکر آیت میں گزر چکا ہے۔ جو فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بیٹے اور پوتے کی بشارت لے کر آئے وہی فرشتے قوم لوط (علیہ السلام) کے لئے عذاب کا تازیانہ لے کر آئے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آخر میں فرمایا (وَ لَقَدْ تَّرَکْنَا مِنْھَآ اٰیَۃً بَیِّنَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) (اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کی بستی کے بعض نشان چھوڑ دئیے ہیں جو ظاہر ہیں جنہیں دیکھ کر گزرنے والے عبرت حاصل کرسکتے ہیں جو فہم اور تدبر سے کام لیں) یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کے نشانات اب تک موجود ہیں۔ چلو پھرو دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔ سورة صافات میں فرمایا (وَاِنَّکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْھِمْ مُّصْبِحِیْنَ وَبِالَّیْلِ ) (اور بلاشبہ تم ان پر صبح کے وقت گزرتے ہو کیا تم سمجھ نہیں رکھتے) اہل مکہ جب تجارت کے لیے ملک شام جایا کرتے تھے تو حضرت لوط (علیہ السلام) کی ہلاک شدہ بستیوں پر گزرتے تھے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
قصہء سوم لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ ولقد ترکنا منھا ایۃ بینۃ لقوم یعقلون۔
یہ تیسرا قصہ لوط (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور اپنے چچا کے ساتھ بابل سے ہجرت کر کے آئے تھے اللہ تعالیٰ نے دونوں کو علیحدہ علیحدہ مقامات پر مبعوث فرمایا تاکہ دونوں علاقے کے لوگ ہدایت پا ویں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو ہجرت کر کے شام چلے آئے اور لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی ہی میں شہر سدوم اور اس کے اطراف و جوانب کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے یہاں کے لوگ اول درجہ کے بدمعاش اور اوباش اور رہزن اور قزاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
26:۔ البشریٰ سے یا تو بیٹے کے تول کی بشارت مراد ہے یا قوم لوط کی ہلاکت اور لوط (علیہ السلام) کی نجات کی بشارت مراد ہے بالبشری ای بالبشارۃ بالولد والنافلۃ (روح ج 20 ص 154) استنصر لوط (علیہ السلام) ربہ فبعث علیہم ملائکۃ لعذابہم فجاء وا ابراہیم اولا مبشرین بنصرۃ لوط علی قومہ (قرطبی ج 13 ص 343) ۔ جب ہمارے فرشتے خوشخبری لے کر ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو ان سے کہنے لگے ہم لوط کی بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے آئے ہیں کیونکہ یہ لوگ حد سے تجاوز کرچکے ہیں اور بڑے بےانصاف ہیں۔ قال ان فیہا لوطاً الخ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اس میں تو لوط بھی موجود ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا لوط (علیہ السلام) اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
ربط آیات :
جیسا کہ گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے۔ سورة العنکبوت کا مرکزی مضمون ایمان اور آزمائش ہے۔ اللہ تعالیٰ پہلے بھی اہل ایمان کی آزمائش کرتا رہا ہے اور آج بھی اللہ امتحان میں ڈالتا ہے۔ اس سلسلہ میں ابراہیم (علیہ السلام) ، نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی ابتلاء کا ذکر ہوچکا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے شرق اردن کے لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ نے ان کی مرکزی بستی سدوم اور دیگر بستیوں کے لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا۔ انہیں توحید کی دعوت دی اور کفر ، شرک ، فحاشی ، بداخلاقی اور ہم جنسی جیسی قبیح بیماریوں سے منع فرمایا۔ یہ لوگ فطرت سے باہر نکل چکے تھے اور غیر فطری کام انجام دینے لگے…
Read the full tafseer →وَلَمَّا جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰہِيْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْٓا اِنَّا مُہْلِكُوْٓا اَہْلِ ہٰذِہِ الْقَرْيَۃِ اِنَّ اَہْلَہَا كَانُوْا ظٰلِمِيْنَ 31ۚۖ
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض )
جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
ترکیب : ولوطا معطوف علی نوح و ابراہیم۔ المنکر مفعول تاتون، منجوک و اھلک الکاف فی الموضع خبر عند سیبویہ۔ من الغابرین الباقین فی العذاب اومن الماضین ذکر ہم اومن مضی زمانہ و یفنی، سیء بہم حزن بسببہم وضاق بہم ذرعًا صدرا۔ اوضاق بشانہم و تدبیرا مرھم ذرعہ ای طاقۃ ان جات ان صلتہ لتاکید الفعلین۔
تفسیر : یہ تیسرا قصہ حضرت لوط ( علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے جو ان کے ساتھ بابل سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ شام میں پہنچ کر یہ قرار پایا کہ دونوں صاحب جدا جدا رہیں، کیونکہ دونوں کے چار پائے اور مویشی بکثرت تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) تو کنعان میں رہے اور لوط ( علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →وَلَمَّا جَآئَ تْ رُسُلُنَآ اِبْرٰھِیْمَ بِالْـبُشْرٰی لا قَالُوْٓا اِنَّا مُھْلِکُوْٓا اَھْلِ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ ج اِنَّ اَھْلَھَا کَانُوْا ظٰلِمِیْنَ ۔ (العنکبوت : 31)
(جب ہمارے فرستادے ابراہیم کے پاس بشارت لے کر آئے، انھوں نے کہا ہم اس بستی والوں کو ہلاک کردینے والے ہیں، اس بستی کے رہنے والے سخت ظالم ہوچکے ہیں۔ )
فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے بشارت اور قوم لوط کے لیے عذاب لے کر آئے
حضرت لوط (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوئی، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ان کی قوم پر عذاب لانے کے لیے بھیج دیا، لیکن وہ آپ ( علیہ السلام) کے پاس جانے سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت لے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
فہم القرآن
ربط کلام : قوم لوط کو تباہ کرنے والے ملائکہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تکرار۔
قوم لوط کو تباہ کرنے سے پہلے یہی ملائکہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس گئے۔ جس کا تذکرہ سورة ھود، آیت : 69 تا 73 میں اس طرح ہوا ہے۔ ملائکہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دے کر رخصت ہونے لگے تو انھوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بتایا کہ ہم قوم لوط کو تباہ کرنے کے لیے بھی بھیجے گئے، اس لیے اب ہم اس بستی کی طرف جا رہے ہیں تاکہ اسے نیست و نابود کردیا جائے کیونکہ اس میں رہنے والے بڑے ظالم لوگ ہیں۔…
Read the full tafseer →31: وَلَمَّا جَآئَ تْ رُسُلُنَآ اِبْرٰہِیْمَ بِالْبُشْرٰی (جب ہمارے قاصد ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لائے) ۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق کی خوشخبری اور پوتے یعقوب کی بشارت دینے آئے۔ قَالُوْا اِنَّا مُہْلِکُوْا اَہْلِ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ (انہوں نے کہا بلاشبہ ہم ان بستی والوں کو ہلاک کرنے والے ہیں) ۔
نحو : مہلکوا کی اضافت سے تعریف کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ مضارع کے معنی میں ہے۔ القریۃ سے مراد سدوم ہے۔ جس کے بارے میں کہا گیا۔ اَجْوَرُ مِنْ قَاضِی سدوم۔ (سدوم کے قاضی سے بڑھ کر ظالم) ۔ ہذہ القریہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے قریبی علاقہ میں یہ بستیاں تھیں۔
اِنَّ…
Read the full tafseer →31۔ ولماجاء ت رلناابراہیم بالبشری، ، جب اللہ کی طرف سے ان کو خوش خبری دینے والے فرشتے آئے اور ان کو اسحاق اور یعقوب کی خوش خبری دی ، قالوا انامھلکوا اھل ھذہ القریہ، ، اور قریہ سدوم کو ہلاک کرنے کے لیے آئے ہیں۔ ان اھلھا کانواظالمین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
25 تا 36۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے یہ کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو مار ڈالو یا آگ میں جلادو تو سب نے مل کر بہت ساری لکڑیاں ایک جگہ اکٹھی کیں اور ان لکڑیوں کے گرد میں ایک احاطہ کھینچا پھر ایسی آگ جلائی کہ جس کے شعلے آسمان تک پہنچے ایسی بڑی آگ کبھی نہیں جلی پھر انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کیا اور ڈھنیکلی میں بٹھا کر اس آگ میں پھینک دیا خدا تعالیٰ نے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے سرد کردیا ایسی ہی جان نثاری کے سبب خدا تعالیٰ نے ان کو لوگوں کا امام بنا دیا کس واسطے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی جان کو خدا کی رضامندی میں جان نہیں گنا اور اپنے جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
آیت 28
گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) پر ایمان لا کر ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل ہوئے۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی ذریت میں سے نہیں بلکہ وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : ( وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ والکتب) گرچہ عام ہے مگر حضرت لوط ( علیہ السلام) کا نبی ہونا حالانکہ وہ آپ کی اولاد میں سے نہ تھے اس آیت کے حلاف نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ حضرت خلیل ( علیہ السلام) کی مدح و ثنا کے سیاق میں آئی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے لوط ( علیہ السلام) ابراہیم (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →37 رحمت اور نقمت دونوں اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر پہنچے "۔ یعنی { البشریٰ } میں الف لام عہد کا ہے۔ مراد ہے عطائے فرزند کی خوشخبری۔ جیسا کہ دوسری جگہ اس کی تصریح فرمائی گئی ہے کہ یہ بچہ آپ کو بڑھاپے میں اور بڑی تمناؤں اور دعاؤں و التجاؤں کے بعد ملا تھا۔ بہرکیف یہاں سے یہ حقیقت بھی پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ رحمت اور نقمت دونوں اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں کہ وہی فرشتے جو قوم لوط کیلئے عذاب کا تازیانہ لیکر آتے ہیں وہی حضرت ابراہیم کیلئے حضرت اسحاق جیسے بیٹے اور یعقوب جیسے پوتے کی خوشخبری لاتے ہیں۔ سو اللہ ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
سیدنا لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : اس بستی کا اشارہ قوم لوط کی اس بستی کی طرف ہے جو اب بحیرہ مردار کا حصہ بن چکی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس وقت فلسطین کے شہر جرون میں رہتے تھے اس شہر کے جنوب مشرق میں چند میل کے فاصلے پر بحیرہ مردار (Leand Seq) کا وہ حصہ واقع ہے جہاں پہلے قوم لوط آباد تھی۔ موجودہ زمانے میں یہ بات تسلیم کی جا چکی ہے کہ بحیرہ مردار کا جنوبی حصہ ایک شدید زلزلہ کی وجہ سے زمین میں دھنس جانے کی وجہ سے وجود میں آیا اور یہ کھلی نشانی شاہراہ عام پر موجود ہے۔ جس کے بارے میں قرآن پاک میں آتا ہے کہ قوم لوط کی یہ تباہ شدہ بستی ‘ جو ان کے اعمال بد کی وجہ سے عذاب کا نشانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–44
آیات 31 تا 44
اسرارومعارف
ایک وقت میں ایک کا بھلا دوسرے کا نقصان ایمان و عمل کے باعث :
اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کو ولادت اسمعیل (علیہ السلام) کی خوشخبری دینے کے لیے آئے تو انہیں بتایا کہ قوم لوط کی بستیوں کو اجاڑنا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے یعنی وہی فرستادہ جو ایک ہستی کو اس کے ایمان و عمل کے باعث نوید مسرت سنانے آئے تھے دوسروں کے کفر اور بد اعمالی کے باعث ان کی تباہی بھی لائے تھے کہ وہ بہت حد سے بڑھ چکے تھے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فوراکہا اس بستی میں تو لوط (علیہ السلام) بھی ہیں تو فرشتے کہنے لگے سب معلوم ہے کہ وہاں کون کون ہے۔ لوط (علیہ السلام) اور ان کے پیروکار اس آفت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
7 ۔ سورة ہود اور حجر میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے کہ جو فرشتے قوم لوط کو تباہ کرنے بھیجے گئے۔ وہ پہلے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے ہاں حاضر ہوئے اور انہوں نے حضرت سارہ ( علیہ السلام) کو حضرت اسحاق ( علیہ السلام) اور ان کے بعد حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی خوشخبری دی اور پھر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے دریافت کرنے پر بتایا کہ ہمیں قوم لوط ( علیہ السلام) پر عذاب نازل کرنے بھیجا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(29:31) انا مہلکوا اہل ھذہ القریۃ۔ انا۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور نا ضمیر جمع متکلم سے مرکب ہے۔ مھلکوا اسم فاعل جمع مذکر اصل میں مھلکون تھا۔ اضافت کی وجہ سے نون ساقط ہوگیا۔
ھذہ اشارہ القریۃ مشار الیہ دونوں مل کر مضاف الیہ اہل مضاف مضاف الیہ اور مضاف مل کر مضاف الیہ مہلکوا اسم فاعل جمع مذکر اصل میں مھلکون تھا۔ اجافت کی وجہ سے نون ساقط ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 35 :
لتاتون ( البتہ تم لاتے ہو) ماسبق (پہلے نہیں کیا) تقطعون ( تم کاٹتے ہو) ‘ نادی (محفلیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 28 تا 35 :
اللہ تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ جب کبھی کسی شہر ‘ علاقے یا ملک کے کچھ لوگ کچھ گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی حرکتوں پر ان کو سزا دے دی جاتی ہے لیکن جب پوری قوم کفر و شرک ‘ بےحیائی ‘ بےشرمی ‘ بےغیرتی ‘ زنا اور بدکاریوں میں اس طرح لگ جاتی ہے کہ شرم وحیا کے بجائے کھلم کھلا نجی اور عام محفلوں میں گناہ کرنے کو فیشن بنا لیاجاتا ہے اور خیر و شر کا ہر تصور مٹ کر رہ جاتا ہے تو پھر اس قوم کی طرف اللہ کا عذاب متوجہ ہوجاتا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) سدوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–35
بدفعلی کا انجام۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا تو ہم نے انکو اسحاق اور یعقوب دیے اور ہر ایک کو نبی کیا، حضرت اسحاق ، ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے اور یعقوب (علیہ السلام) پوتے تھے اللہ تعال کا یہ ارشاد ہے کہ ہم نے حضرت ابراہیم کی اولاد میں نبوت اور کتاب کے سلسلے کو قائم رکھا یہ ایک اللہ کا بہت بڑا انعام ہے بنی اسرائیل کے کل انبیاء حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم کے خاندان میں سے ہوئے ہیں سب سے آخر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں انہوں نے سب لوگوں میں کھڑے ہوکر رسول اللہ ﷺ کے نبی ہونے کی بشارت دی۔ جو اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں ۔ اسماعیل (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
[11] یعنی اسحاق اور یعقوب (علیہما السلام) کی ولادت کی خوشخبری۔
Read the full tafseer →لواطت کے نقصانات
1: حضرت لوط کا پیغام خصوصی یہی تھا ۔ کہ وہ سدومیوں کو اس لعنت سے بچائیں ۔ اور ان کو بتائیں کہ تمہاری یہ حرکات نوع انسانی کے لئے نہایت شرمناک اور مضر ہیں ۔ چناچہ ارشاد ہے کہ تم عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں سے جذبات شہوت کی تسکین کا سامان بہم پہنچاتے ہو ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ نسل انسانی منقطع ہوجائے گی ۔ وتقطعون السبیل سے یہی مقصود ہے ۔ کہ تمہارے ان افعال سے افزائش نسل کی راہیں مسدور ہوجائیں گی سوال یہ ہے کہ یہ فعل عنداللہ اس درجہ مبغوض کیوں ہے ۔ کہ اللہ نے اس کے انسداد کے لئے حضرت لوط کو رسول بنا کر بھیجا ۔ اور آخر میں انکار کی وجہ سے ان کو ہلاک کردیا گیا ۔ بعض یونانی اخلاقیئن…
Read the full tafseer →31۔ اور جب ہمارے فرستادہ یعنی فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کیلئے بشارت اور خوش خبری لیکر آئے تو ان فرشتوں نے کہا ہم اس بستی یعنی سدوم کے رہنے والوں کو ہلاک کرنے والے کیونکہ یہاں کے رہنے والے بڑے ظالم اور شریر ہیں ۔ یعنی جیسا کہ سورة ہود میں گزر چکا ہے کہ فرشتے حضرت ابراہیم کو حضرت اسحاق کی بشارت دینے آئے تھے بشارت کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دریافت کیا اب کیا مہم ہے جیسا کہ پارہ اور پارہ 27 میں مذکور ہے۔ انہوں نے کہا اب یہ سدوم اور اس کی متعلقہ بستیاں جن میں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم آباد ہے ان کو ہلاک کریں گے کیونکہ یہ بڑے شریر لوگ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
ف 5۔ اور ان کی دعا قبول ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے عذاب کی خبر دینے کے لئے فرشتے معین فرمادیئے، اور دورسا کام ان فرشتوں کو یہ بتلایا گیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کے تولد کی بشارت دیں۔
Read the full tafseer →لوط (علیہ السلام) نے ایک مدت تک قوم کو سمجھایا لیکن انجام کار اللہ سے ملتجی ہوئے :
31۔ لوط (علیہ السلام) ایک مدت تک قوم کے لوگوں کو سمجھاتے رہے لیکن قوم سے ایمان لانے والوں کی تعداد چند گنتی کے لوگ تھے باقی پوری کی پوری قوم ایک ہی ڈگر پر جا رہی تھی انہوں نے لوط (علیہ السلام) کی ایک نہ سنی بلکہ اکثر اوقات وہ لوط (علیہ السلام) کو دھمکیاں ہی دیتے رہے کہ ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دینا چاہئے کہ یہ لوگ بڑے پاکباز بنے بیٹھے ہیں اور بالآخر انہوں نے کھلے الفاظ میں عذاب کا مطالبہ بھی شروع کردیا تو لوط (علیہ السلام) نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اے میرے رب ! ان مفسدوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–38
Commentary
The stories of the earlier people, that are mentioned in these verses briefly, have been related in detail in the previous Surahs. For instance, the story of Shu'aib and those of ` Ad and Thamud have been related in Surahs Al-A` raf and Hud, and the incidents of Qarun, Haman, and the Pharaoh have just passed in Surah Al- Qasas.
وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِينَ (They were people of insight - 29:38). This word is derived from Istibsar, which means sight; and Mustabsir is used for observer. The meaning of this sentence is that those who insisted on infidelity and shirk (associating partner…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
53 According to the details given of this in Surah Hud and A1-Hijr, the angels who had been sent to bring the torment on the people of the Prophet Lot, first came to the Prophet Abraham and gave him the good news of the birth of the Prophet Isaac and after him of the Prophet Jacob. Then they told him that they had been sent to destroy the people of Lot.
54 "This habitation" refers to the territory of the people of Lot. The Prophet Abraham at that time resided in the Palestinian city of Hebron, now called AI-Khalil. A few miles to the south-east of this city lies that part of the Dead Sea,…
Read the full tafseer →