Explained with ayahs 28–30
سب سے خراب عادت
لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے حضرت لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خلصت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے قتل و فساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے مجلسوں میں علی الاعلان بری باتیں اور لغو حرکتیں کرتے تھے۔ کوئی کسی کو نہیں روکتا تھا یہاں تک کہ بعض کا قول ہے کہ وہ لواطت بھی علی الاعلان کرتے تھے گویا سوسائٹی کا ایک مشغلہ یہ بھی تھا ہوائیں نکال کر ہنستے تھے مینڈھے لڑواتے اور بدترین برائیاں کرتے تھے اور علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
سورة العنکبوت 51
یعنی ان سے شہوت رانی کرتے ہو، جیسا کہ سورة اعراف میں ہے اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَاۗءِ۔ (آیت 81) " تم خواہش نفس پوری کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو "۔
سورة العنکبوت 52
یعنی یہ فحش کام چھپ کر بھی نہیں کرتے بلکہ علانیہ اپنی مجلسوں میں ایک دوسرے کے سامنے اس کا ارتکاب کرتے ہو۔ یہی بات سورة نمل میں فرمائی ہے اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ۔ (آیت 54) " کیا تم ایسے بگڑ گئے ہو کہ دیکھنے والی آنکھوں کے سامنے فحش کاری کرتے ہو "۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے لوط ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسی بےحیائی کا کام کرتے ہو کہ تم سے پہلے کسی نے دنیا جہان والوں میں نہیں کیا، کیا تم مردوں سے برا فعل کرتے ہو، (وہ بےحیائی کا کام یہی ہے) اور (اس کے علاوہ دوسری نامعقول حرکتیں بھی کرتے ہو، مثلاً یہ کہ) تم ڈاکہ ڈالتے ہو (کذا فی الدر عن ابن زید) اور (غضب یہ ہے کہ) اپنی بھری مجلس میں نامعقول حرکت کرتے ہو (اور معصیت کا اعلان یہ خود ایک معصیت وقبح عقلی ہے) سو ان کی قوم کا (آخری) جواب بس یہ تھا کہ ہم پر اللہ کا عذاب لے آؤ اگر تم (اس بات میں) سچے ہو (کہ یہ افعال موجب عذاب ہیں) لوط ؑ نے دعا کی کہ اے میرے رب مجھ…
Read the full tafseer →قال رب انصرنی علی القوم الفسدین (30)
جب قوم نے اپنی ضد سے حضرت لوط ؑ کو بالکل مایوس کردیا تب انہوں نے اپنے رب سے فریاد کی اے رب، میری تمام سعئی اصلاح بےسود ہوچکی ہے تو اب اس مفسد قوم کے مقابل میں میری مدد فرما۔
Read the full tafseer →30-1یعنی حضرت لوط ؑ قوم کی اصلاح سے ناامید ہوگئے تو اللہ سے مدد کی دعا فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
14: جو فرشتے حضرت ابراہیم ؑ کے پاس یہ خوشخبری لے کر آئے تھے کہ ان کے یہاں بیٹا پیدا ہوگا، انہی کو حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھی بھیجا گیا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ہود : 69 اور سورة حجر : 51
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ولوطا اذقال لقومہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی القوم المفسدین (28: 29 – 30) ” ۔ “۔ “۔
حضرت لوط کی اس تقریر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس برائی میں کانوں تک ڈوب گئے تھے۔ یہ لوگ ایک ایسی برائی میں مبتلا ہوگئے تھے جس کا ارتکاب ان سے قبل کسی انسان نے نہیں کیا تھا۔ یہ مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرتے تھے۔ یہ ایک انوکھا اور گندہ فعل تھا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی فطرت ہی بدل گئی تھی۔ جب بھی کوئی قوم اعتدالا کو چھوڑتی ہے اس کی فطرت بدل جاتی ہے کیونکہ پاکیزہ جنسی تعلق ایک عورت ہی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ لہٰذا اسے نہایت ہی گھناؤنا جرم قرار دیا گیا۔ عورت کے ساتھ جنسی تعلق بھی بعض اوقات حدود وقیود سے نکل…
Read the full tafseer →6 یہ ان کی طرف سے مایوس ہو کر فرمایا، شاید سمجھ گئے ہوں گے کہ ان کی آئندہ نسلیں بھی درست ہونے والی نہیں۔ وہ بھی انہی کے نقش قدم پر چلیں گی جیسے نوح (علیہ السلام) نے فرمایا تھا۔ (اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا) 71 ۔ نوح :27) کذا قال النیشا بوری فی تفسیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
آیت 31 وَلَمَّا جَآءَ تْ رُسُلُنَآ اِبْرٰہِیْمَ بالْبُشْرٰیلا ”
قوم لوط پر عذاب کی غرض سے جو فرشتے بھیجے گئے تھے وہ پہلے انسانی شکلوں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس گئے۔ ان فرشتوں نے پہلے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت دی اور پھر اس کے بعد :
Read the full tafseer →47 جب ان لوگوں کی سرکشی اور مخالفت اس حد تک پہنچ گئی اور حضرت لوط ان کے راہ راست پر آنے سے مایوس ہوگئے تو اس وقت آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ جس طریقے سے تو مناسب سمجھے میری مدد فرما اور مجھے ان لوگوں سے نجات دے۔
Read the full tafseer →34۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے اعداء دین پر بددعا کرنے کا جواز ثابت ہے۔ نیز یہ کہ ایسی بددعا حلم وکرم وغیرہ کمالات اخلاقی کے منافی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت نمبر 23 تا 30
ترجمہ : جو لوگ اللہ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کو بھولے ہوئے ہیں یعنی قرآن کو اور بعث بعد الموت کو یہ لوگ میری رحمت سے ناامید ہوں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا، اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا تو ان کی قوم کے پاس بجز اس کے کوئی جواب نہیں تھا کہ کہنے لگے ان کو یا تو قتل کر ڈالو یا ان کو جلا دو آخرش اللہ نے ان کو اس آگ سے بچالیا جس میں ان کو ڈالا تھا اس طریقہ سے کہ اس آگ کو ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈی اور سلامتی والی کردیا بلا شبہ اس میں یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ سے نجات دینے میں کئی نشانیاں ہیں ان نشانیوں میں ایک اس آگ کا باوجود اس کے…
Read the full tafseer →قال رب انصرنی علی القوم المفسدین . لوط نے کہا : اے میرے رب ! (عذاب نازل فرما کر) ان
تباہ کار لوگوں پر مجھے فتح عنایت کر۔
الْمُفْسِدِیْنَ یعنی یہ مفسد لوگ ہیں ‘ انہوں نے لواطت کی ایجاد کی اور آئندہ لوگوں کے لئے اس کی بنیاد ڈال دی۔ الْمُفْسِدِیْنَ کا لفظ ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ عذاب کے مستحق ہیں ‘ ان پر فوری عذاب نازل ہونا ضروری ہے۔ الْمُفْسِدِیْنَ کہنے سے نزول عذاب کی درخواست میں قوت پیدا ہوگئی۔
Read the full tafseer →(30) لوط ؑ نے دعا فرمائی اے میرے پروردگار ان مشرکین پر عذاب نازل کر کے میری مدد فرما۔
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ انْصُرْنِيْ۔۔ : لوط ؑ نے ان کے ایمان لانے سے مایوس ہو کر یہ دعا کی کہ اے میرے رب ! ان مفسد لوگوں کے خلاف میری مدد فرما۔ ”َلَي الْقَوْمِ الْمُفْسِدِيْنَ“ میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے ترجمہ ”ان مفسد لوگوں“ کیا گیا ہے۔ اللہ کے پیغمبر اپنی قوم پر بددعا اس وقت کرتے ہیں جب انھیں یقین ہوجائے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
کسائی نے کہا : معنی ہے ہم نے حضرت لوط علیہ لسلام کو نجات دی یا ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو بھیجا۔ کہا : یہ توجیہ میرے لئے زیادہ پسندیدہ ہے یہ بھی جائز ہے کہ معنی ہو لوط کو یاد کرو کیونکہ انہوں نے اپنی قوم کو شرمندہ کرتے ہوئے اور ڈراتے ہوئے کہا : ان میں قرأت اور اس کی وضاحت سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا تذکرہ سورة الاعراف اور سورة ھود میں گزر چکا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ڈاکو تھے، یہ ابن زید نے کہا : ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لئے راستوں سے لوگوں کو اٹھا لیتے تھے، ابن شجرہ نے اسے بیان کیا ہے : ایک قول یہ کیا گیا ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت وتقطعون السبیل کے بارے میں فرمایا کہ السبیل سے مراد وہ راستہ ہے جس پر مسافر گزرے مسافر ابن سبیل ہوتا ہے اس پر وہ ڈاکہ ڈالتے اور اس کے ساتھ برا کام کرتے۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتاتون فی نادیکم یعنی تم وہ اپنی مجلسوں میں۔
3۔ الفریابی واحمد وعبد بن حمید والترمذی وحسنہ وابن ابی الدنیا فی کتاب الصمت ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والفاشی فی سندہ والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان وابن عساکر نے ام ہانی بنت ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول…
Read the full tafseer →قَالَ [(لوط (علیہ السلام) نے) کہا ] رَبِّ [اے میرے رب ] انْصُرْنِيْ [تو مدد کر میری ] عَلَي الْقَوْمِ الْمُفْسِدِيْنَ [نظم بگاڑنے والی قوم کے خلاف ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–35
آخر میں فرمایا (وَ لَقَدْ تَّرَکْنَا مِنْھَآ اٰیَۃً بَیِّنَۃً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ) (اور ہم نے لوط (علیہ السلام) کی بستی کے بعض نشان چھوڑ دئیے ہیں جو ظاہر ہیں جنہیں دیکھ کر گزرنے والے عبرت حاصل کرسکتے ہیں جو فہم اور تدبر سے کام لیں) یعنی لوط (علیہ السلام) کی قوم کی بستیوں کے نشانات اب تک موجود ہیں۔ چلو پھرو دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔ سورة صافات میں فرمایا (وَاِنَّکُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَیْھِمْ مُّصْبِحِیْنَ وَبِالَّیْلِ ) (اور بلاشبہ تم ان پر صبح کے وقت گزرتے ہو کیا تم سمجھ نہیں رکھتے) اہل مکہ جب تجارت کے لیے ملک شام جایا کرتے تھے تو حضرت لوط (علیہ السلام) کی ہلاک شدہ بستیوں پر گزرتے تھے۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
قصہء سوم لوط (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ ولوطا اذ قال لقومہ۔۔۔ الی۔۔۔ ولقد ترکنا منھا ایۃ بینۃ لقوم یعقلون۔
یہ تیسرا قصہ لوط (علیہ السلام) کے ابتلا کا ہے۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے اور اپنے چچا کے ساتھ بابل سے ہجرت کر کے آئے تھے اللہ تعالیٰ نے دونوں کو علیحدہ علیحدہ مقامات پر مبعوث فرمایا تاکہ دونوں علاقے کے لوگ ہدایت پا ویں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو ہجرت کر کے شام چلے آئے اور لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی ہی میں شہر سدوم اور اس کے اطراف و جوانب کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے یہاں کے لوگ اول درجہ کے بدمعاش اور اوباش اور رہزن اور قزاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
26:۔ البشریٰ سے یا تو بیٹے کے تول کی بشارت مراد ہے یا قوم لوط کی ہلاکت اور لوط (علیہ السلام) کی نجات کی بشارت مراد ہے بالبشری ای بالبشارۃ بالولد والنافلۃ (روح ج 20 ص 154) استنصر لوط (علیہ السلام) ربہ فبعث علیہم ملائکۃ لعذابہم فجاء وا ابراہیم اولا مبشرین بنصرۃ لوط علی قومہ (قرطبی ج 13 ص 343) ۔ جب ہمارے فرشتے خوشخبری لے کر ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو ان سے کہنے لگے ہم لوط کی بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے آئے ہیں کیونکہ یہ لوگ حد سے تجاوز کرچکے ہیں اور بڑے بےانصاف ہیں۔ قال ان فیہا لوطاً الخ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اس میں تو لوط بھی موجود ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا لوط (علیہ السلام) اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
ابراہیم (علیہ السلام) کو زندہ جلانے کی کوشش
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم آپ کے درس توحید کا کوئی مدلل جواب دینے کی بجائے تشدد پر اتر آنی ہے ، اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا فما کان جواب قومہ الا ان قالوا اقتلوہ وحرقوہ آپ کی قوم کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہیں تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو قتل کر ڈالو یا زندہ جلا دو ۔ یہاں پر تو تفصیلات نہیں ہیں ، البتہ سورة الانبیاء اور بعض دیگر سورتوں میں بیان ہوچکا ہے کہ کس طرح آپ نے اپنے باپ اور پھر قوم اور خود نمرود کے ساتھ مناظرہ کیا ، دلائل توحید بیان کیے مگر وہ کوئی مدلل جواب دینے سے عاجز آگئے ، اور انہوں نے یہی فیصلہ کیا کہ یہ…
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ انْصُرْنِيْ عَلَي الْقَوْمِ الْمُفْسِدِيْنَ 30 ۧ
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
ترکیب : ولوطا معطوف علی نوح و ابراہیم۔ المنکر مفعول تاتون، منجوک و اھلک الکاف فی الموضع خبر عند سیبویہ۔ من الغابرین الباقین فی العذاب اومن الماضین ذکر ہم اومن مضی زمانہ و یفنی، سیء بہم حزن بسببہم وضاق بہم ذرعًا صدرا۔ اوضاق بشانہم و تدبیرا مرھم ذرعہ ای طاقۃ ان جات ان صلتہ لتاکید الفعلین۔
تفسیر : یہ تیسرا قصہ حضرت لوط ( علیہ السلام) کا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حقیقی بھتیجے تھے جو ان کے ساتھ بابل سے ہجرت کرکے آئے تھے۔ شام میں پہنچ کر یہ قرار پایا کہ دونوں صاحب جدا جدا رہیں، کیونکہ دونوں کے چار پائے اور مویشی بکثرت تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) تو کنعان میں رہے اور لوط ( علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَی الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ ۔ (العنکبوت : 30)
(حضرت لوط نے کہا اے میرے رب اس مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ )
حضرت لوط (علیہ السلام) کی فریاد بارگاہِ ایزدی میں
یعنی جب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ ان کے لیے حضرت لوط (علیہ السلام) کی تبلیغ و دعوت اور برائیوں پر تنقید ناقابلِ برداشت ہوگئی۔ وہ ان سے عذاب کا مطالبہ کرنے لگے یا انھیں اپنے شہر سے نکالنے کا عزم کرنے لگے، تب حضرت لوط (علیہ السلام) نے یہ محسوس کرلیا کہ اب فیصلے کا وقت آگیا ہے۔ چناچہ آپ ( علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے سامنے دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیے کہ الٰہی ! میں نے اپنی قوم کی اصلاح میں کوئی دقیقہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قوم کے مجبور کرنے پر حضرت لوط کی اللہ کے حضور فریاد۔ اے میرے رب اس مفسد قوم کے مقابلے میں میری مدد فرما۔
حضرت لوط کی بددعا قبول ہوئی جس کے نتیجے میں قوم لوط پر عذاب نازل کرنے والے فرشتے پہلے حضرت ابراہیم کے پاس حاضر ہوئے انہوں نے حضرت ابراہیم کو بیٹے اور پوتے کی خوشخبری دی، جس پر ان کی بیوی نے تعجب کا اظہار کیا، لیکن ملائکہ نے ان کو تسلی دی کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ رحمت فرما دی ہے، اس لیے اس میں کسی قسم کا تعجب نہیں کرنا چاہیے، خوشخبری دینے کے بعد ملائکہ نے حضرت ابراہیم سے ذکر کیا کہ ہم قوم لوط پر عذاب نازل کرنے والے ہیں۔ حضرت ابراہیم ملائکہ سے اصرار کرنے لگے کہ ایسا…
Read the full tafseer →30: قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ (کہا اے میرے رب تو میری انزال عذاب میں مدد فرما) ۔ عَلَی الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ (اس مفسد قوم کے خلاف) جو کہ لوگوں کو معاصی و فواحش پر برانگیختہ کر کے فساد کا ارتکاب کرنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
30۔ قال “ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو کہا، رب انصرنی علی القوم المفسدین، ، ان پر عذاب کا آنا یہ اس کے مستحق ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–37
25 تا 36۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے یہ کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو مار ڈالو یا آگ میں جلادو تو سب نے مل کر بہت ساری لکڑیاں ایک جگہ اکٹھی کیں اور ان لکڑیوں کے گرد میں ایک احاطہ کھینچا پھر ایسی آگ جلائی کہ جس کے شعلے آسمان تک پہنچے ایسی بڑی آگ کبھی نہیں جلی پھر انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ننگا کیا اور ڈھنیکلی میں بٹھا کر اس آگ میں پھینک دیا خدا تعالیٰ نے اس آگ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے سرد کردیا ایسی ہی جان نثاری کے سبب خدا تعالیٰ نے ان کو لوگوں کا امام بنا دیا کس واسطے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی جان کو خدا کی رضامندی میں جان نہیں گنا اور اپنے جسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
آیت 28
گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) پر ایمان لا کر ہدایت یافتہ لوگوں میں شامل ہوئے۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت لوط ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی ذریت میں سے نہیں بلکہ وہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے بھتیجے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : ( وجعلنا فی ذریتہ النبوۃ والکتب) گرچہ عام ہے مگر حضرت لوط ( علیہ السلام) کا نبی ہونا حالانکہ وہ آپ کی اولاد میں سے نہ تھے اس آیت کے حلاف نہیں ہے کیونکہ آیت کریمہ حضرت خلیل ( علیہ السلام) کی مدح و ثنا کے سیاق میں آئی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے لوط ( علیہ السلام) ابراہیم (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–44
سورة العنکبوت
مشرک والدین سے بھی حسن سلوک ہو
قول باری ہے : (ووصینا الانسان بوالدیہ حسنا۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ) ابوعبیدہ نے حضرت عبداللہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا نمازوں کو ان کے اوقات میں ادا کرتا۔ “ میں نے عرض کیا۔ ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ “ میں نے عرض کیا : ” پھر کون سا ؟ “ آپ نے فرمایا : ” والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ “ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : (لا یدخل الجنۃ عاق ولا مدمن خمر۔ والدین کا نافرمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
34 قطع سبیل سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت لوط نے ان سے مزید فرمایا کہ " تم لوگ راستے کاٹتے ہو "۔ یعنی ڈاکہ زنی کرتے ہو کہ یہ مرض بھی اس خبیث قوم کے اندر موجود تھا۔ اور دوسرا مطلب قطع سبیل ۔ راستہ کاٹنے ۔ کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم لوگ قضائے شہوت کے جائز اور فطری طریقے کو چھوڑ کر اس غیر فطری فعل کو اپناتے ہو۔ اور اس طرح تم لوگ قطع نسل کا ارتکاب کرتے ہو۔ (ابن کثیر، مراغی، خازن، فتح، معارف وغیرہ) ۔ سو امرد پرستی دراصل فطرت کا راستہ کاٹنا ہے کہ اس فعلِ بد کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ایسے انسان کی عورتوں سے رغبت ختم ہوجاتی ہے۔ اور اس طرح ایسی قوم اہلاک نسل کی راہ پر چل پڑتی ہے جو خالق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
سیدنا لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : اس بستی کا اشارہ قوم لوط کی اس بستی کی طرف ہے جو اب بحیرہ مردار کا حصہ بن چکی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس وقت فلسطین کے شہر جرون میں رہتے تھے اس شہر کے جنوب مشرق میں چند میل کے فاصلے پر بحیرہ مردار (Leand Seq) کا وہ حصہ واقع ہے جہاں پہلے قوم لوط آباد تھی۔ موجودہ زمانے میں یہ بات تسلیم کی جا چکی ہے کہ بحیرہ مردار کا جنوبی حصہ ایک شدید زلزلہ کی وجہ سے زمین میں دھنس جانے کی وجہ سے وجود میں آیا اور یہ کھلی نشانی شاہراہ عام پر موجود ہے۔ جس کے بارے میں قرآن پاک میں آتا ہے کہ قوم لوط کی یہ تباہ شدہ بستی ‘ جو ان کے اعمال بد کی وجہ سے عذاب کا نشانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیات 23 تا 30
اسرارومعارف
کفار جو اللہ پر ایمان لانے اور اس کی اطاعت کرنے سے انکار کرتے تو اس کا سبب یہ ہے کہ انہیں قیامت کے دن اور دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کا یقین نہیں ہے۔ یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے ہی محروم ہوجاتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے بہت دردناک عذاب ہے۔
کفار دلائل میں تو ابراہیم سے عاجز آگئے مگر کہنے لگے کہ انہیں قتل کردیا جائے اور وہ بھی ایسے دردناک طریقے سے کہ زندہ آگ میں پھینک کر جلا دیا جائے غرض وہ ایسا کر گزرے لیکن اللہ نے اس آگ سے محفوظ رکھا۔ اہل ایمان کے لیے تو اس واقعہ میں بہت بڑے دلائل ہیں کہ کفار کی ایذا پر استقامت اختیار کی جانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
7 ۔ سورة ہود اور حجر میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے کہ جو فرشتے قوم لوط کو تباہ کرنے بھیجے گئے۔ وہ پہلے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے ہاں حاضر ہوئے اور انہوں نے حضرت سارہ ( علیہ السلام) کو حضرت اسحاق ( علیہ السلام) اور ان کے بعد حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کی خوشخبری دی اور پھر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے دریافت کرنے پر بتایا کہ ہمیں قوم لوط ( علیہ السلام) پر عذاب نازل کرنے بھیجا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(29:30) رب ای یا ربی۔ انصرنی فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم ۔ تو میری مدد کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–35
لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 35 :
لتاتون ( البتہ تم لاتے ہو) ماسبق (پہلے نہیں کیا) تقطعون ( تم کاٹتے ہو) ‘ نادی (محفلیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 28 تا 35 :
اللہ تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ جب کبھی کسی شہر ‘ علاقے یا ملک کے کچھ لوگ کچھ گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کی حرکتوں پر ان کو سزا دے دی جاتی ہے لیکن جب پوری قوم کفر و شرک ‘ بےحیائی ‘ بےشرمی ‘ بےغیرتی ‘ زنا اور بدکاریوں میں اس طرح لگ جاتی ہے کہ شرم وحیا کے بجائے کھلم کھلا نجی اور عام محفلوں میں گناہ کرنے کو فیشن بنا لیاجاتا ہے اور خیر و شر کا ہر تصور مٹ کر رہ جاتا ہے تو پھر اس قوم کی طرف اللہ کا عذاب متوجہ ہوجاتا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) سدوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–35
بدفعلی کا انجام۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا تو ہم نے انکو اسحاق اور یعقوب دیے اور ہر ایک کو نبی کیا، حضرت اسحاق ، ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے اور یعقوب (علیہ السلام) پوتے تھے اللہ تعال کا یہ ارشاد ہے کہ ہم نے حضرت ابراہیم کی اولاد میں نبوت اور کتاب کے سلسلے کو قائم رکھا یہ ایک اللہ کا بہت بڑا انعام ہے بنی اسرائیل کے کل انبیاء حضرت یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم کے خاندان میں سے ہوئے ہیں سب سے آخر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں انہوں نے سب لوگوں میں کھڑے ہوکر رسول اللہ ﷺ کے نبی ہونے کی بشارت دی۔ جو اسماعیل (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں ۔ اسماعیل (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–31
[11] یعنی اسحاق اور یعقوب (علیہما السلام) کی ولادت کی خوشخبری۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
حل لغات :۔ نادیکم ۔ مجلس نادی کے معنے اصل میں اس بزم کے ہیں ۔ جو رات کو منعقد کی جائے ۔
Read the full tafseer →30۔ لوط (علیہ السلام) نے بارگاہ رب العزت میں دعا کی کہ اے میرے پروردگار ان شریروں اور شرارت پسند لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما اور مجھ کو ان پر غالب فرما ، آگے اس عذاب کی مختصر تفصیل ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) ان آیات کے تحت فرماتے ہیں ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) بھیجتے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قوم میں کسی نے نہ مانا ان کے سوائے ان کا وطن شہر بابل تھا پھر نکلے خدا کے توکل پر اللہ نے ملک شام میں پہنچا کر بسایا۔ 12 پھر فرماتے ہیں دنیا میں حق تعالیٰ نے ما ل اور عزت اور ہمیشہ کا نام نیک دیا ۔ اور ملک شام ہمیشہ کو ان کی اولادکو دیا ۔ 12
پھر فرماتے ہیں راہ مارنا بھی ان میں دستور تھا یا اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
ف 5۔ اور ان کی دعا قبول ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے عذاب کی خبر دینے کے لئے فرشتے معین فرمادیئے، اور دورسا کام ان فرشتوں کو یہ بتلایا گیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) کے تولد کی بشارت دیں۔
Read the full tafseer →لوط (علیہ السلام) نے مفسرین کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی :
30۔ لوط (علیہ السلام) قوم کی زیادتیوں کو برداشت کرتے کرتے تھک گئے اور قوم نے آپ کی ایک نہ مانی ‘ انجام کار لوط نے اللہ سے مدد طلب کی اور یہ وہی مدد تھی جس کا اللہ نے ہر نبی ورسول سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ اپنے فرائض کو ادا کرو اگر قوم نے تمہاری بات نہ مانی تو انجام کار میں تمہاری مدد کروں گا ، اسی مدد کے نتیجہ میں قوم کو عذاب الہی نے اچانک آدبایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–38
Commentary
The stories of the earlier people, that are mentioned in these verses briefly, have been related in detail in the previous Surahs. For instance, the story of Shu'aib and those of ` Ad and Thamud have been related in Surahs Al-A` raf and Hud, and the incidents of Qarun, Haman, and the Pharaoh have just passed in Surah Al- Qasas.
وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِينَ (They were people of insight - 29:38). This word is derived from Istibsar, which means sight; and Mustabsir is used for observer. The meaning of this sentence is that those who insisted on infidelity and shirk (associating partner…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
53 According to the details given of this in Surah Hud and A1-Hijr, the angels who had been sent to bring the torment on the people of the Prophet Lot, first came to the Prophet Abraham and gave him the good news of the birth of the Prophet Isaac and after him of the Prophet Jacob. Then they told him that they had been sent to destroy the people of Lot.
54 "This habitation" refers to the territory of the people of Lot. The Prophet Abraham at that time resided in the Palestinian city of Hebron, now called AI-Khalil. A few miles to the south-east of this city lies that part of the Dead Sea,…
Read the full tafseer →