Explained with ayahs 62–67
کہاں ہیں تمہارے بت
مشرکوں کو قیامت کے دن پکار کر سامنے کھڑا کرکے اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا کہ دنیا میں جنہیں تم میرے سوا پوجتے رہے جن بتوں اور پتھروں کو مانتے رہے ہو وہ کہاں ہیں ؟ انہیں پکارو اور دیکھو کہ وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا وہ خود اپنی کوئی مدد کرسکتے ہیں ؟ یہ صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہوگا۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِكُمْ ۚ وَمَا نَرٰي مَعَكُمْ شُفَعَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰۗؤُا ۭ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–67
سورة القصص 89
یعنی انہیں مدد کے لیے پکارو۔ دنیا میں تو تم نے ان پر بھروسا کر کے ہماری بات رد کی تھی۔ اب یہاں ان سے کہو کہ آئیں اور تمہاری مدد کریں اور تمہیں عذاب سے بچائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
خلاصہ تفسیر
بھلا وہ شخص جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے پھر وہ شخص اس (وعدہ کی چیز) کو پانے والا ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کر کے لائیں جائیں گے (مراد پہلے شخص سے مومن ہے جس سے جنت کا وعدہ ہے اور دوسرے سے مراد کافر جو مجرم ہو کر آوے گا اور چونکہ متاع دنیا ہی ان لوگوں کی بھول کا سبب ہے اس لئے اس کی تصریح فرما دی، ورنہ ان دونوں کا برابر نہ ہونا تو دراصل اس وجہ سے ہے کہ وہ گرفتار کر کے حاضر کئے جاویں گے یہ جنت کی نعمتوں سے سرفراز ہوں گے) اور (آگے اس تفاوت اور کیفیت احضار کی تفصیل ہے کہ…
Read the full tafseer →مشرکین کے معبودوں کی بےحقیقی
یعنی اپنے جن لیڈروں پر روہ اپنی گمراہی کی ذمہ داری ڈالنا چاہیں گے، جب وہ صاف صاف ان سے اعلان برأت کردیں گے تو ان سے پھر کہا جائے گا کہ اب بولو، تمہارے ان لیڈروں نے تو تم سے برأت کا اعلان کردیا تو تمہارے وہ معبود کہاں ہیں جن کی پرستش کرتے رہو ! اس وقت وہ گھبراہٹ میں اپنے ان شریکوں کو پکاریں گے جن کے وہ بت پوجتے رہے تھے۔ مثلاً لات، منات، عزیٰ اور نائلہ وغیرہ کو لیکن وہ ان کی کوئی فریاد سی نہیں کریں گے۔ اس لئے کہ ان کا سر سے کوئی وجود ہی نہیں ہوگا۔ وہ محض خیالی بستیاں تھیں۔ آخرت میں راز کھل جائے گا کہ انہوں نے محض گمان کی پرستش کی۔ یہ امر محلوظ رہے کہ یہاں ذکر…
Read the full tafseer →64-1یعنی ان سے مدد طلب کرو، جس طرح دنیا میں کرتے تھے کیا وہ تمہاری مدد کرتے ہیں ؟ پس وہ پکاریں گے، لیکن وہاں کس کو یہ جرت ہوگی کہ جو یہ کہے کہ ہاں ہم تمہاری مدد کرتے ہیں ؟
-64-2یعنی یقین کرلیں گے کہ ہم سب جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں۔
-64-3یعنی عذاب دیکھ لینے کے بعد آرزو کریں گے کہ کاش دنیا میں ہدایت کا راستہ اپنا لیتے تو آج وہ اس حشر سے بچ جاتے۔ (وَيَوْمَ يَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًا 52 وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
36: ان سے مراد بھی وہی شیاطین ہیں جن کو نفع نقصان کا مالک سمجھ کر کافر لوگ ان کی عبادت کرتے تھے۔ اور بات پوری ہونے سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شیاطین دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں، انہیں آخر کار دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان کے فرمان کے مطابق ان شیاطین کے دوزخ میں جانے کا وقت آچکا ہوگا۔ اس وقت وہ یہ بات کہیں گے
37: یعنی جس طرح ہم نے اپنے اختیار سے گمراہی اختیار کی، ان لوگوں نے بھی اپنے اختیار سے گمراہی اپنائی، ورنہ ہم نے ان پر کوئی زبردستی نہیں کی تھی کہ یہ ضرور ہماری بات مانیں۔
38: یعنی در حقیقت یہ لوگ ہماری عبادت کرنے کے بجائے اپنی نفسانی خواہشات کی عبادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
اب قیامت کے مناظر جس میں ان لوگوں سے یوں سوال و جواب ہوگا اور اس سے اندازہ ہوگا کہ وہاں ان کی حالت زار کیسی ہوگی ۔
ویوم ینادھم فیقول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکون من المفلحین (62 – 67)
پہلاسوال تو سرزنش کے لیے ہوگا اور اس سے محض ان کو شر مندہ کرنا مطلوب ہوگا۔
این شرکاءی الذین کنتم تزعمون (28: 62) ” کہاں ہیں وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے “۔ اللہ کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ اس دن اس قسم کے کسی شریک کا وجود نہ ہوگا ۔ اور اس دن ان کے متبعین کو بھی کچھ پتہ نہ ہوگا کہ ان شرکاء کا کوئی وجود ہے یا نہیں ۔ نہ یہ لوگ ان شرکاء تک پہنچ سکیں گے ۔ یہ سوال دراصل ان لوگوں کو مجمع عام میں شرمندہ کرنے اور سرزنش کرنے کے لیے…
Read the full tafseer →3 یعنی کہا جائے گا کہ اب مدد کو بلاؤ، مگر وہ کیا مدد کرسکتے خود اپنی مصیبت میں گرفتار ہوں گے۔ کذا قال المفسرون۔ اور حضرت شاہ صاحب کی تحریر کا حاصل یہ ہے کہ شیاطین جب نیکوں کا نام لیں گے تو مشرکین سے کہا جائے گا کہ ان نیکوں کو پکارو ! وہ کچھ جواب نہ دیں گے۔ کیونکہ وہ ان مشرکانہ حرکات سے راضی نہ تھے یا خبر نہ رکھتے تھے۔
4 یعنی اس وقت عذاب کو دیکھ کر یہ آرزو کریں گے کہ کاش دنیا میں سیدھی راہ چلتے تو یہ مصیبت کیوں دیکھنی پڑتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
آیت 66 فَعَمِیَتْ عَلَیْہِمُ الْاَنْبَآءُ یَوْمَءِذٍ فَہُمْ لَا یَتَسَآءَ لُوْنَ ”
م حق اس طرح واضح ہو کر ان کے سامنے آجائے گا کہ اس کے جواب میں وہ کچھ بھی نہیں بول سکیں گے۔ ظاہر ہے زندگی بھر وہ اللہ کی نا فرمانیاں اور انبیاء و رسل کے ساتھ استہزاء و تمسخر کرتے رہے تھے۔ چناچہ جب ان سے پوچھا جائے گا کہ جو رسول تمہاری طرف بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا تو اس وقت ان کو کوئی جواب نہیں سوجھے گا۔
Read the full tafseer →88 ان معبود حضرات کی اس معذرت کے بعد اللہ تعالیٰ پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ آج بھی اپنے معبودوں کو اپنی مدد کے لئے پکارو تو سہی۔ لیکن وہ معبود جو پہلے ہی ان سے بیزاری کا اعلان کرچکے تھے۔ وہ انھیں کچھ جواب نہ دے سکیں گے اور اس کی اصل وجہ یہ ہوگی کہ کیا عابد اور کیا معبود سب کو ہی اپنا انجام نظر آرہا ہوگا۔ اس وقت یہ سب حضرات نہایت حسرت کے ساتھ بول اٹھیں گے۔ کاش ! ہم نے دنیا میں ہدایت کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔
Read the full tafseer →85۔ (اس وقت اپنی آنکھ سے) منکرین کے سامنے ان کے حشر کی یہ تفصیلات لے آنے سے مقصود ان کے دلوں میں ان کے انجام کی ہیبت اور ہول کا اتارنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–75
آیت نمبر 61 تا 75
ترجمہ : بھلا وہ شخص کہ جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے جسے وہ قطعاً پانے والا ہے یعنی اس وعدۂ (موعودبہٖ ) کو پہنچنے والا ہے اور وہ جنت ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے، جو عنقریب زائل ہوجائے گا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کرکے دوزخ میں حاضر کئے جائیں گے اول شخص مومن ہوگا اور دوسرا کافر یعنی دونوں میں کوئی مساوات نہ ہوگی اور اس دن کو یاد کرو کہ جس دن خدا تعالیٰ ان کافروں کو پکار کر کہے گا میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم سمجھتے تھے وہ میرے شریک ہیں جن پر خدا کا دخول نار کا حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں…
Read the full tafseer →وقیل ادعوا شرکاء کم فدعوھم فلم یستجیبوا لھم وراوا العذاب لو انھم کانوا یھتدون
اور (کافروں سے کہا) جائے گا کہ اپنے شریکوں کو پکارو (وہ آج آکر تم کو عذاب سے رہا کرائیں) وہ پکاریں گے لیکن وہ جواب نہیں دیں گے اور کافر (اپنے لئے اور اپنے باطل معبودوں کے لئے) عذاب دیکھ لیں گے۔ اگر وہ (دنیا میں) ہدایت یاب ہوچکے ہوتے (تو عذاب ان کے سامنے نہ آتا) ۔
شُرَکَآءَ کُمْ اس جگہ شرکاء سے مراد ہیں بت اور دوسرے باطل معبود۔ فَدَعَوْھُمْ وہ معبودوں کو پکاریں گے۔ یا تو اس کا سبب یہ ہوگا کہ وہ بدحواس ہوچکے ہوں گے ‘ دہشت زدہ ہو کر پکریں گے یا اس لئے پکاریں گے کہ ان کا عقیدہ ہی یہ تھا کہ یہ معبود خدا سے ہماری سفارش…
Read the full tafseer →(64) اور اس وقت ان مشرکین سے کہا جائے گا کہ اپنے معبودوں کو بلاؤ تاکہ وہ تم سے عذاب خداوندی دور کریں تو یہ مشرکین حیرت زدہ ہو کر اس مقصد کے لیے ان کو پکاریں گے سو وہ جواب بھی نہ دیں گے اس وقت یہ پیرو کار اور ان کے پیشوا اپنی آنکھوں سے عذاب کو دیکھ لیں گے اور تمنا کریں گے کہ کاش دنیا میں حق و ہدایت پر ہوتے۔
Read the full tafseer →وَقِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ۔۔ : یعنی پہلے ان سے کہا جائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جو تم گمان کرتے تھے ؟ ابھی وہ اس کا کوئی جواب نہیں دے پائے ہوں گے کہ ان سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو مدد کے لیے بلاؤ۔ وہ انھیں پکاریں گے تو وہ انھیں جواب نہیں دیں گے۔ اس وقت مایوس ہو کر تمنا کریں گے، کاش ! وہ دنیا میں ہدایت قبول کرتے ہوتے۔ بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان فرمایا کہ شیاطین اور مشرکین جب اپنے شریکوں کے طور پر اللہ کے نیک بندوں کا نام لیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو پکارو، وہ کچھ جواب نہ دیں گے، کیونکہ وہ ان کی مشرکانہ حرکتوں سے واقف تھے نہ ہی ان پر خوش تھے۔ عین اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
ویوم ینادیھم قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کو ندا کرے گا۔ فیقول این شرک آئی میرے شریک کہاں ہیں جنہیں تم گمان کرتے تھے کہ وہ تمہیں مدد کریں گے اور تمہاری سفارش کریں گے ؟
قال الذین حق علیھم القول ان پر عذاب کا حکم ثابت ہوچکا وہ سروار ہیں، یہ کلبی کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد شیاطین ہیں ربنا ھولاء الذین اغوینا ہم نے انہیں گمراہی کی طرف دعوت دی انہیں کہا جائے گا : کیا تم نے ان کو گمراہ کیا ؟ انہوں نے کہا : اغوینھم کما غوینا وہ مراد یتے ہیں ہم نے انہیں گمراہ کیا جس طرح ہم گمراہ تھے۔ تبرانا الیک ہم میں سے بعض نے بعض سے برأت کا اظہار کیا۔ شیاطین ان سے برأت کا اظہار کردیتے ہیں جو ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویوم ینادیہم فیقول این شرکاء ی الذین کنتم تزعمون ان سے آدم (علیہ السلام) کی اولاد مراد ہے۔ کہ جس دن ان کو آواز دیں گے اور کہیں گے کہ کہاں ہیں میں میرے شریک جن کو تم اللہ کے شریک گمان کرتے تھے۔ آیت قال الذین حق علیہم القول یعنی وہ جانت کہ جس پر بات ثابت ہوگی عذاب کی آیت ربنا ہوء لاء الذین اغوینا اغوینہم وہ جنات کہیں گے اے ہمارے رب یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکادیا تھا جیسا ہم بہکے تھے اور آدم کی اولاد سے کہا جائے گا آیت ادعوا شرکاء کم فدعوہم فلم یستجیبوا لہم یعنی ان کو کوئی خیر کی بات کے ساتھ جواب نہیں دیں گے جب ان سے…
Read the full tafseer →وَقِيْلَ [اور کہا جائے گا ] ادْعُوْا [تم لوگ پکارو ] شُرَكَاۗءَكُمْ [اپنے شریکوں کو ] فَدَعَوْهُمْ [پھر وہ پکاریں گے ان کو ] فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا [تو وہ جواب نہیں دیں گے ] لَهُمْ [ان کو ] وَرَاَوُا [اور وہ دیکھیں گے ] الْعَذَابَ ۚ [عذاب کو ] لَوْ اَنَّهُمْ [کاش کہ وہ لوگ ] كَانُوْا يَهْتَدُوْنَ [ہدایت پاتے ہوتے ] ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
(وَ یَوْمَ یُنَادِیْھِمْ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ ) (اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکار کر سوال کیا جائے گا کہ جب تمہیں رسولوں نے حق کی دعوت پہنچائی تو تم نے کیا جواب دیا ؟ ) (فَعَمِیَتْ عَلَیْھِمُ الْاَنْبَآءُ یَوْمَءِذٍ ) (سو ساری خبریں یعنی ہر طرح کے مضامین جن کے ذریعہ جواب دیں سب غائب ہوجائیں گے) اور انہیں کچھ سمجھ نہ آئے گا کہ کیا جواب دیں۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) سے یہ سوال ہوگا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا (کما فی سورة المائدۃ) (یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
ظہور ثمرات ایمان وہدایت ونتائج کفر وضلالت در روز قیامت
قال اللہ تعالیٰ افمن وعدنہ وحدا حسنا۔۔۔ الی۔۔۔ الہ الحکم والیہ ترجعون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ایمان وہدایت کی ترغیب اور کفر وضلالت سے ترہیب کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ ایمان اور ہدایت کے ثمرات اور کفر وضلالت کے نتائج کا ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ اول۔ افمن وعدنہ وعدا حسنا کی آیت میں اجمالی طور پر اہل دنیا اور اہل آخرت کے تفاوت کو بیان کیا بعد ازاں اس تفاوت کی تفصیل فرمائی کہ قیامت کے دن اہل ضلالت سے قیامت کے دن بطور زجر و توبیخ تین سوال ہوں گے۔
پہلا سوال : این شرکای الذین کنتم تزعمون۔ یعنی بتلاؤ کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم نے…
Read the full tafseer →ٖ 61:۔ انہیں پھر کہا جاوے گا جن معبودوں کو کارساز اور سفارشی سمجھتے تھے آج انہیں مدد کے لیے پکارو۔ چناچہ وہ پکاریں گے مگر کہیں سے کوئی جواب نہیں آئے گا۔ اب عذاب جہنم ان کے سامنے ہوگا اور حسرت و تاسف سے کہیں گے کاش ! وہ دنیا میں ہدایت قبول کرلیتے تو آج اس حسرت وندامت اور اس المناک عذاب سے دوچار نہ ہونا پڑتا۔ لَوْ شرطیہ ہے اور اس کا جواب لما راوا العذاب محذوف ہے (روح) یا لَوْ تمنی کیلئے ہے اس صورت میں جواب کی ضرورت نہیں اور لَوْ سے پہلے فعل تمنا مقدر ہوگا ای تمنوا لو انہم کانوا مہتدین فلا یحتاج الی الجواب (روح ج 20 ص 102) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا تھا اور پھر ان کے برے انجام کا ذکر کیا تھا۔ اللہ نے ان کی گرفت کا ذکر کیا کہ وہ ظلم وتعدی کرنے والوں کو ہی پکڑتا ہے ۔ پھر اللہ نے دنیا کے سازو سامان کی نا پانیداری کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اللہ کے ہاں جو نعمتیں ہیں وہ ہمیشہ رہنے والی ہیں اللہ نے انسان کو ترغیب دلائی کہ عقل سے کام لیں اور پائیدار چیزوں کو اختیار کریں اور عارضی چیزوں میں دل نہ لگائیں ۔ اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور نیکی والوں کا تقابل کفر ، شرک اور برائی والوں سے کیا ہے ۔ اس کے بعد رسالت کا ذکر ہے اور پھر توحید خدا ندی کی تائید او شرک کی تردید فرمائی…
Read the full tafseer →وَقِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ فَدَعَوْہُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَہُمْ وَرَاَوُا الْعَذَابَ 0ۚ لَوْ اَنَّہُمْ كَانُوْا يَہْتَدُوْنَ 64
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–69
ترکیب : ھولاء مبتداء، موصوف الذی صلہ موصول صفت اغوینہم خبر کما غوینا صفت ویمکن ھولاء مبتداء الذین الخ خبر اغوینہم جملہ مستانفہ لو انہم کلمہ تسحر۔ اگر شرط ہو تو بارا دہ جواب محذوف۔
تفسیر : پھر دنیا کی نعمت اور آخرت کی مصیبت والے کا اس سے مقابلہ کرکے دکھاتا ہے کہ جس کے لیے حیات جاودانی اور سرور ابدی تیار رکھا ہے، اس کے جانے ہی کی دیر ہے، بقولہ افمن وعدًنہ وعد احسنا فہولا قیہ الخ کہ کیا دونوں شخص برابر ہوگئے ؟ ہرگز نہیں، بھلا کہاں وہ کہ اس کے لیے اس عالم میں بیشمار نعمتیں تیار کر رکھی ہوں اور وہ اس کو ملنے والی ہیں، اس کے برابر ہے کہ جس کو دنیا کی زندگانی کا اسباب عطا ہوا، لیکن قیامت کے روز اس…
Read the full tafseer →وَقِیْلَ ادْعُوْا شُرَکَآئَ کُمْ فَدَعَوْھُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَھُمْ وَرَاَوُا الْعَذَابَ ج لَوْ اَنَّھُمْ کَانُوْا یَھْتَدُوْنَ ۔ (القصص : 64)
(اور انھیں کہا جائے گا، اب پکارو اپنے شریکوں کو، تو وہ انھیں پکاریں گے لیکن وہ انھیں کوئی جواب نہیں دیں گے اور وہ عذاب سے دوچار ہوں گے، کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ ہدایت یافتہ ہوتے۔ )
مشرکین کی بےبسی
جن لیڈروں کے بارے میں مشرکین کا خیال تھا کہ وہ ان کو گمراہ کرنے والے تھے، جب وہ ان سے اظہارِ براءت کردیں گے تو اللہ تعالیٰ مشرکین سے فرمائے گا کہ تمہارے لیڈر تو تم سے اظہارِ براءت کرچکے، اب تمہارے پاس آخری سہارا ایک ہی ہے کہ تم جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
فہم القرآن
ربط کلام : آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دینے والوں کا انجام۔
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مشرکوں کے سامنے شرک کی حیثیت واضح کرنے اور انھیں ایک دوسرے کے سامنے ذلیل کرنے کے لیے حکم صادر فرمائے گا کہ میری ذات اور صفات میں شریک کرنے والو ! وہ لوگ کہاں ہیں جن کو تم سفارشی اور حاجت روا، مشکل کشا سمجھ کر میرے شریک بنایا کرتے تھے ؟ اس وقت حقیقت واضح ہوچکی ہوگی کہ آج ہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکتے۔ اس لیے مریدوں سے پہلے پیر، عابد سے پہلے معبود پکار اٹھیں گے اے ہمارے رب ! بیشک یہی لوگ ہیں جنہیں ہم نے گمراہ کیا۔ یہ اسی طرح گمراہ ہوئے جس طرح ہم گمراہ تھے۔ پھر مریدوں کو موقعہ دیا جائے گا کہ…
Read the full tafseer →64: وَقِیْلَ (مشرکین کو کہا جائے گا) ۔ ادْعُوْا شُرَکَآئَ کُمْ (تم اپنے شرکاء کو پکارو ! ) اپنے اصنام کو پکارو تاکہ وہ تمہیں عذاب سے چھوڑائیں۔ فَدَعَوْہُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَہُمْ (پس وہ ان کو پکاریں گے مگر وہ جواب نہ دیں گے) ۔ لم یستجیبوا بمعنی لم یجیبوا ہے۔ وَرَاَوُا الْعَذَابَ لَوْ اَنَّہُمْ کَانُوْا یَہْتَدُوْنَ (اور وہ عذاب کو دیکھیں گے اگر وہ ہدایت یاب ہوچکے ہوتے) ۔ لو کا جواب محذوف ہے۔ ای لما راوا العذاب۔ (اگر وہ ہدایت یافتہ ہوتے تو آج عذاب کو سامنے نہ دیکھتے) ۔
Read the full tafseer →64۔ وقیل ، کفار کے لیے کہا، ادعوکم شرکاء کم ، وہ بتوں کو پکاریں گے تاکہ ان کو عذاب سے چھٹکارا حاصل کرائیں، فدعوھم فلم یستجیبوالھم، وہ ان کو جواب نہیں دیں گے۔ وراوالعذاب ، لوانھم کانوایھتدون، ، جواب، لومحذوف ہے۔ تقدیری عبارت یوں ہوگی، لوانھم کانوایھتدون، ، فی الدنیا ماراو العذاب، ، یعنی اگر یہ لوگ آپ کا دنیا میں ہدایت دے سکتے تو اس وقت وہ عذب کونہ دیکھتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–74
64 تا 73۔ اوپر کی آیتوں میں جس طرح اللہ تعالیٰ نے قریش کو طرح طرح کی فہمائش کی ہے اسی طرح کی فہمایش ان آیتوں میں ہے حاصل اس فہمایش کا یہ ہے کہ اللہ کی عبادت چھوڑ کر جو یہ لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں ان کو اتنی سمجھ نہیں کہ اللہ کی پیدا کی ہوئی ہزارہا نعمتوں میں سے مثلا ایک دن رات ہے ایک رات اگر اللہ کے حکم سے آفتاب نہ نکلے اور زمین کے اندر روکا ہی رہ جاوے یا جس طرح ہر روز شام کو اللہ کے حکم سے سورج غروب ہوتا ہے اسی طرح ایک رات کو غروب نہ ہو اور بجائے رات کے دن اور بجائے دن کے رات ہوجاوے اور ان لوگوں کے دن اور رات کے عادتی اور مقررہ کاموں میں ہرج پڑجاوے تو بھلا ان کے بتوں میں قدرت ہے کہ ان کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
آیت 61
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دنیا میں زہد کی ترغیب دی ہے نیز انہیں خبردار کیا ہے کہ وہ دنیا کے دھوکے میں نہ آئیں اور یہ کہ وہ آخرت میں رغبت رکھیں، نیز اس نے آخرت کو بندے کا مطلوب و مقصود قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سب کچھ جو مخلوق کو عطا کیا گیا ہے، مثلاً سونا چاندی، حیوانات، مال و متاع، عورتیں، بیٹے، ماکولات، مشروبات اور لذات صرف دنیا کی متاع اور اس کی زینت ہیں۔ بندہ جن سے بہت تھوڑے وقت کے لئے متمتع ہوتا ہے وہ بہت ہی تھوڑی سی متاع ہے جو تکدر سے گھری ہوئی اور غم واندوہ سے لبریز ہے۔ بندہ نہایت قلیل مدت کے لئے فخر وریا کے طور پر اس دنیا سے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →91 مشرکوں کی تعجیز و تذلیل کا ایک اور منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہا جائے گا کہ اب پکارو تم لوگ ان اپنے خودساختہ شریکوں کو جن کا تم کو بڑا گھمنڈ اور زعم تھا کہ یہ بڑی پہنچیں ہوئی سرکاریں ہیں۔ ہماری بگڑی بنادیں گی اور مشکل وقت میں ہمیں کام آئیں گی۔ سو اب ان کو پکار دیکھو۔ اس طرح مشرکوں کی مزید تذلیل ہوگی۔ سو یہاں سے اندازہ کیجئے کہ اس کتاب حکیم قرآن مجید کا دنیا پر کس قدر احسان ہے کہ اس نے عالم آخرت اور غیب کی یہ باتیں اس قدر صراحت اور وضاحت کے ساتھ اس دنیا میں بتادیں تاکہ لوگ اس انجام بد سے بچ سکیں جسکے جاننے کا اور کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں۔ مگر دنیا ہے کہ پھر بھی خواب غفلت میں پڑی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–64
ہجرت، مدین میں قیام، فرعون کی طرف واپسی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے سرفرازی
نبی کو بھیجنے کا مقصد ‘ نیک و بد کا فرق اور مشرکین کا انجام
تشریح : کفار و مشرکین کی خصلتیں ہر زمانے اور ہر دور میں ایک سی ہی رہی ہیں۔ آج کا دور باوجود ترقی کرنے کے اور علم و فضل میں کافی ترقی کر جانے کے کفار وہی ہٹ دھرمی اور ضد رکھتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں رکھتے تھے۔ کبھی کہتے موسیٰ جیسے معجزے دکھائو کبھی کہتے موسیٰ (علیہ السلام) جیسی کتاب لائو۔ حالانکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اہل عرب کیسے ایمان لاسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور حکیم ہے اس لیے وہ نبی بھیجتا رہا تاکہ قیامت کے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–75
آیات 61 تا 75
اسرارو معارف
اور بھلا جس شخص کو بہت حسین وعدہ دیا اگیا ہو یعنی آخرت کی کامیابی کا اور وہ اسے پانے والا بھی ہو اس کی برابری وہ شخص تو نہیں کرسکتا جس کے پاس چند روز مال و دولت دنیا تو ہو مگر قیامت کے روز اسے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہو وہ ایسا دن ہوگا کہ جب ان کفار و مشرکین پر سوال ہوگا کہ جن لوگوں کو تم نے میرا شریک مان رکھا تھا وہ کہاں ہیں تو وہ لوگ جو یہاں دنیا میں ان کے پیشوا بنے ہوئے ہیں اپنے اوپر جرم ثابت ہوچکنے کے بعد یہ عذر کریں گے کہ اے اللہ خود گمراہ تھے لہذا انہیں بھی وہی کچھ بتایا جس پر خود عمل کرتے تھے لیکن انہوں نے ہماری بات اپنے اختیار سے مانی ہم نے ان پر کوئی…
Read the full tafseer →8 ۔ یعنی خالص توحید کا راستہ اختیار کرتے تو آج اس انجام بد سے دوچار نہ ہوتے۔
Read the full tafseer →(28:64) ادعوا فعل امر جمع مذکر غائب ۔ دعوۃ مصدر (باب نصر) تم پکارو۔ تم بلاؤ۔ خطاب شریک ٹھہرانے والوں سے ہے۔
شرکاء کم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہمارے شرکاء یعنی تمہارے وہ معبودان باطل جب کو تم نے اللہ کا شریک ٹھہرایا تھا۔
فدعوھم۔ پس وہ ان کو پکاریں گے۔
لم یستجیبوا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ وہ جواب نہیں دیں گے ! ضمیر فاعل معبود ان باطل کی طرف راجع ہے
عاوا العذاب۔ رأوا ماضی جمع مذکر غائب ۔ (یہاں ماضی بمعنی مستقبل ہے) وہ دیکھ لیں گے۔ ضمیر فاعل شریک ٹھہرانے والوں کی طرف راجع ہے۔
لو انھم کانوا یھتدون ۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) لو حرف تمنا ہے اور جملہ کا مطلب ہے تمنوا لو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
لغات القرآن آیت نمبر 62 تا 67) ۔
ینا دی (وہ آواز دیتا ہے ) ۔ این (کہاں ) ۔ شرکاء ی (میرے شریک ) ۔ تزعمون (تم گھمنڈ کرتے ہو۔ تم گمان کرتے ہو ) ۔ حق علیھم (جن پا ثابت ہوگیا ) ۔ اغوینا (ہم نے بہکایا ) ۔ تبرءنا (ہم نے بیزاری کا اظہار کیا ) ۔ عمیت علیھم ( ان پر اندھی ہوگئی۔ ان کو نہ سوجھی ) ۔
تشریح : آیت نمبر (62 تا 67 ) ۔ ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کی بےچارگی اور حسرت و افسوس کی تفصیل بیان کی ہے جو قیامت کے ہولناک دن بری طرح ذلیل و خوار ہوجائیں گے اور مجرم کی حیثیت سے اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ آج کے دن اپنے ان معبودوں کو پکارو جنہیں تم میر شریک بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
توحید کابیان
(ف 1) ان آیتوں میں ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مشرکوں سے کہا جائے گا کہاں ہیں وہ اللہ کے شریک جن کا تم کو دنیا میں بڑاگھمڈ تھا کیا وہ عذاب سے بچانے میں تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں پھر فرمایا کہ بہکانے والے کہیں گے اے رب ہمارے یہ لوگ ہیں جن کو بہکایا ہم نے جس طرح ہم بہکے پھر اپنے پوجا کرنے والوں سے بےزاری ظاہرکریں گے پھر مشرکوں سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو تو بلاؤ کہ وہ تم کو اس عذاب سے بچاویں ، یہ مشرک ان کو پکاریں گے لیکن کچھ مشرکوں سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو تو بلاؤ کہ وہ تم کو اس عذاب سے بچاویں، یہ مشرک ان کو پکاریں گے لیکن کچھ جواب نہ دیں گے اور جب دیکھیں گے کہ عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
[40] کفار مکہ نبی ﷺ پر ایک اعتراض یہ بھی کرتے تھے کہ دولت اور جتھے کے اعتبار سے دوسرے لوگ رسالت کے زیادہ اہل ہیں۔ یہ اس کا جواب ہے کہ اللہ نے انتخاب اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور اس معاملے میں دخل دینا ایک طرح کا شرک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
ف 1 : اس سے قبل کی آیتوں میں تو مشرکین سے توحید کے متعلق پوچھا گیا تھا اس آیت میں بتایا گیا ۔ کہ نبوت کے سلسلہ میں بھی سوال کیا جائے گا ۔ کہ تمہارے پاس ہمارے پیغمبر آئے ۔ انہوں نے تم تک ہمارا پیغام پہنچایا اور تمہاری راہنمائی کی ۔ بتاؤ تم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اس سے ان کی کیفیت یہ ہوگی کہ مارے خوف اور ندامت کے ان سے کوئی جواب نہ پڑیگا ۔ خاموش رہیں گے اور اتنا بھی نہ ہوسکے گا ۔ کہ کسی ساتھی سے پوچھ لیں اور بتادیں ارشاد ہے کہ یہ احتساب کی گھڑیاں بہت شدید اور سخت ہونگی ۔ وہی لوگ ان سے عہدہ برآء ہوسکیں گے اور فوزوتطح سے اپنا دامن بھر سکیں گے ۔ جو گناہوں سے اس دنیاہی میں دست بردار ہوگئے ۔ اور…
Read the full tafseer →64۔ اور کہا جائیگا تم لوگ اپنے شرکاء کو پکارو چناچہ یہ مشرک ان کو پکاریں گے سو وہ ان پکارنے والوں کو جواب ہی نہ دیں گے۔ اور مشرک اپنی آنکھوں سے عذاب کو دیکھیں گے کاش وہ لوگ دنیا میں صحیح راستے پر ہوتے اور ان مشرکوں سے کہا جائیگا یہ کہنا یا تو حق تعالیٰ کی طرف سے ہوگا یا فرشتے کہیں گے کہ اپنے ان شرکاء کو اپنی مدد کیلئے پکارو چناچہ یہ اپنی امداد وغایت کے لئے ان کو پکاریں گے مگر وہ ان کو جواب ہی نہ دیں گے اور عذاب ان کے سامنے آجائے گا اور یہ اس عذاب کو دیکھ رہے ہوں گے کاش وہ لوگ راہ یافتہ ہوتے اور دنیا میں صحیح راستہ اختیار کرلیتے ، یعنی وہ معبود ان باطلہ جب ان کی کوئی مدد نہ کرسکیں گے تو انکو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
ف 7۔ اوپر توبیخ علی الشرک کی حکایت میں شرک کی مذمت مذکور ہوئی ہے، آگے توحید کا اور اس کے ضمن میں انعامات و احسانات کا اثبات ہے۔
Read the full tafseer →مشرکین سے کیا جائے گا کہ بلاؤ اپنے معبودوں کو لیکن ان کو کوئی جواب نہیں دیا جائے گا :
64۔ گزشتہ آیت میں ان کھلنڈرے معبودوں کا ذکر گزر چکا جنہوں نے خود اعلان کیا تھا کجہ ہم نے ان لوگوں کو گمراہ کیا تھا اور پھر اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ ہم نے ایسا کیوں کیا ؟ پھر وہ اس بات سے انکار بھی کریں گے کہ ہم نے ان کو نہ تو ورغلایا تھا اور نہ بزور ان کو مجبور کیا تھا ہاں ! ہم نے ایک بات کی تھی جو انہوں نے اپنی خوشی اور مرضی سے مان لی تھی ، انہوں نے بڑی چالاکی دکھائی تھی لیکن ان کی یہ چالاکی ان کے کچھ کام نہ آئی اور جو ہونا تھا وہ ہوگیا ۔ زیر نظر آیت میں ان لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے جو غیر اللہ کی پرستش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–68
Commentary
وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ (And your Lord creates what He wills and chooses - 28:68). According to one interpretation of this verse, the choice referred to here is Allah's choice with regard to the divine commands, and the sense is that as Allah Ta` ala is unique in the creation of universe and no one is His partner, so is He in the issuance of His commands. He can give out any command to His creatures. But Imam Baghawi, in his commentary, and ` Allamah Ibn Al-Qayyim (رح) in the preface of Zad al-Ma` ad have adopted another interpretation according to which the…
Read the full tafseer →89 That is, "Invoke them for help. In the world you had relied on them and rejected Our Commandments. So invoke them to come to your rescue here also and save you from the punishment."
Read the full tafseer →