Explained with ayahs 62–67
کہاں ہیں تمہارے بت
مشرکوں کو قیامت کے دن پکار کر سامنے کھڑا کرکے اللہ تبارک وتعالیٰ فرمائے گا کہ دنیا میں جنہیں تم میرے سوا پوجتے رہے جن بتوں اور پتھروں کو مانتے رہے ہو وہ کہاں ہیں ؟ انہیں پکارو اور دیکھو کہ وہ تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ یا وہ خود اپنی کوئی مدد کرسکتے ہیں ؟ یہ صرف بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہوگا۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰي كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِكُمْ ۚ وَمَا نَرٰي مَعَكُمْ شُفَعَاۗءَكُمُ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِيْكُمْ شُرَكٰۗؤُا ۭ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ…
Read the full tafseer →سورة القصص 86
اس سے مراد وہ شیاطین جن و انس ہیں جن کو دنیا میں خدا کا شریک بنایا گیا تھا، جن کی بات کے مقابلے میں خدا اور اس کے رسولوں کی بات کو رد کیا تھا تھا، اور جن کے اعتماد پر صراط مستقیم کو چھوڑ کر زندگی کے غلط راستے اختیار کیے گئے تھے۔ ایسے لوگوں کو خواہ کسی نے الہ اور رب کہا ہو یا نہ کہا ہو، بہرحال جب ان کی اطاعت و پیروی اس طرح کی گئی جیسی خدا کی ہونی چاہیے تو لازما انہیں خدائی میں شریک کیا گیا (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، الکہف، حاشیہ 50)
سورة القصص 87
یعنی ہم نے زبردستی ان کو گمراہ نہیں کیا تھا، ہم نے نہ ان سے بینائی اور سماعت سلب کی تھہ، نہ ان سے سوچنے سمجھنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–67
خلاصہ تفسیر
بھلا وہ شخص جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے پھر وہ شخص اس (وعدہ کی چیز) کو پانے والا ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کر کے لائیں جائیں گے (مراد پہلے شخص سے مومن ہے جس سے جنت کا وعدہ ہے اور دوسرے سے مراد کافر جو مجرم ہو کر آوے گا اور چونکہ متاع دنیا ہی ان لوگوں کی بھول کا سبب ہے اس لئے اس کی تصریح فرما دی، ورنہ ان دونوں کا برابر نہ ہونا تو دراصل اس وجہ سے ہے کہ وہ گرفتار کر کے حاضر کئے جاویں گے یہ جنت کی نعمتوں سے سرفراز ہوں گے) اور (آگے اس تفاوت اور کیفیت احضار کی تفصیل ہے کہ…
Read the full tafseer →گمراہ لیڈروں اور ان کے پیروئوں کی جو قی پیزار
حق علیھم القول سے مراد مشرکین کے وہ لیڈر ہیں جن کے لئے خدا کا فیصلہ عذاب صادر ہوجائے گا فرمایا کہ گمراہ لوگ آخری عذر کے طور پر اپنے لیڈروں کی طرف اشارہ کریں گے کہ اے ہمارے رب ! دراصل یہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا، اگر یہ ہمیں گمراہ نہ کرتے تو ہم گمراہ نہ ہوتے۔ اغریتھم کما غوینا ان کے لیڈر جھٹ جواب دیں گے کہ ہم جو کچھ خود تھے وہی ہم نے ان کو بنایا۔ یہ خود شامت زدہ تھے کہ انہوں نے ہماری پیروی کی۔ تبرانا الیک یعنی ہم ان کے اعمال کی ذمہ داری سے تیرے حضور میں اپنی برأت کا اعلان کرتے ہیں۔ ماکانوآ ایانا یعبدون یہ لوگ ہماری پرستش نہیں کرتے رہے ہیں…
Read the full tafseer →۔63-1یعنی جو عذاب الٰہی کے مستحق قرار پاچکے ہوں گے، مثلاً سرکش شیاطین اور دعویٰ کفر و شرک وغیرہ وہ کہیں گے۔
-63-2یہ جاہل عوام کی طرف اشارہ ہے جن کو دعویٰ کفر نے اور شیاطین نے گمراہ کیا تھا۔
-63-3یعنی ہم تو تھے ہی گمراہ لیکن ان کو بھی اپنے ساتھ گمراہ کئے رکھا۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان پر کوئی جبر نہیں کیا تھا، بس ہمارے ادنی سے اشارے پر ہماری طرح ہی انہوں نے بھی گمراہی احتیار کرلی۔
-63-4یعنی ہم ان سے بیزار اور الگ ہیں، ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے، مطلب یہ ہے کہ وہاں یہ تابع اور متبوع، چیلے اور گرو ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔
-63-5بلکہ درحقیقت اپنی خواہشات کی پیروی کرتے تھے۔ یعنی وہ معبودین، جن کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
36: ان سے مراد بھی وہی شیاطین ہیں جن کو نفع نقصان کا مالک سمجھ کر کافر لوگ ان کی عبادت کرتے تھے۔ اور بات پوری ہونے سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ جو شیاطین دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں، انہیں آخر کار دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان کے فرمان کے مطابق ان شیاطین کے دوزخ میں جانے کا وقت آچکا ہوگا۔ اس وقت وہ یہ بات کہیں گے
37: یعنی جس طرح ہم نے اپنے اختیار سے گمراہی اختیار کی، ان لوگوں نے بھی اپنے اختیار سے گمراہی اپنائی، ورنہ ہم نے ان پر کوئی زبردستی نہیں کی تھی کہ یہ ضرور ہماری بات مانیں۔
38: یعنی در حقیقت یہ لوگ ہماری عبادت کرنے کے بجائے اپنی نفسانی خواہشات کی عبادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
اب قیامت کے مناظر جس میں ان لوگوں سے یوں سوال و جواب ہوگا اور اس سے اندازہ ہوگا کہ وہاں ان کی حالت زار کیسی ہوگی ۔
ویوم ینادھم فیقول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکون من المفلحین (62 – 67)
پہلاسوال تو سرزنش کے لیے ہوگا اور اس سے محض ان کو شر مندہ کرنا مطلوب ہوگا۔
این شرکاءی الذین کنتم تزعمون (28: 62) ” کہاں ہیں وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے “۔ اللہ کو اچھی طرح معلوم ہوگا کہ اس دن اس قسم کے کسی شریک کا وجود نہ ہوگا ۔ اور اس دن ان کے متبعین کو بھی کچھ پتہ نہ ہوگا کہ ان شرکاء کا کوئی وجود ہے یا نہیں ۔ نہ یہ لوگ ان شرکاء تک پہنچ سکیں گے ۔ یہ سوال دراصل ان لوگوں کو مجمع عام میں شرمندہ کرنے اور سرزنش کرنے کے لیے…
Read the full tafseer →2 یعنی سوال تو مشرکین سے تھا، مگر بہکانے والے شرکاء سمجھ جائیں گے کہ فی الحقیقت ہمیں بھی ڈانٹ بتلائی گئی ہے۔ اس لیے سبقت کر کے جواب دیں گے کہ خداوندا ! بیشک ہم نے ان کو بہکایا اور یہ بہکانا ایسا ہی تھا جیسے ہم خود بہکے۔ یعنی جو ٹھوکر بہکنے کے وقت کھائی تھی اسی کی تکمیل بہکانے سے کی۔ کیونکہ بہکانا بھی بہکنے کی انتہائی منزل ہے۔ پس اس جرم اغواء کا تو ہمیں اعتراف ہے۔ لیکن ان مشرکین پر کوئی جبر واکراہ ہمارا نہ تھا کہ زبرستی اپنی بات منوا لیتے فی الحقیقت ان کی ہوا پرستی تھی جو ہمارے بہکانے میں آگئے۔ اس اعتبار سے یہ ہم کو نہیں پوجتے تھے بلکہ اپنے اہواء و ظنون کی پرستش کرتے تھے ہم ان کی عبادت سے آج…
Read the full tafseer →آیت 63 قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا ہٰٓؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا ج ”
وہ مشرکین جن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا فیصلہ صادر ہوجائے گا ‘ آخری عذر کے طور پر اپنے لیڈروں کی طرف اشارہ کریں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا۔ اگر یہ ہمیں گمراہ نہ کرتے تو ہم گمراہ نہ ہوتے ! ان لیڈروں میں ان کے معبودان باطل ‘ شیاطینِ جنّ و انس ‘ طاغوت اور گمراہ مذہبی و سیاسی راہنما شامل ہوں گے۔ یہ لیڈر جھٹ جواب دیں گے کہ جو کچھ ہم خود تھے وہی ہم نے ان کو بنایا۔
اَغْوَیْنٰہُمْ کَمَا غَوَیْنَا ج ”
یعنی ہم خود ہدایت پر ہوتے تو انہیں ہدایت کا رستہ دکھاتے۔ ہم چونکہ خود گمراہ…
Read the full tafseer →86 اس سے مراد وہ شیاطین جن و انس ہیں جن کی کسی نہ کسی رنگ میں دنیا میں عبادت کی جاتی رہی ہے۔ یہاں عبادت سے مراد محض پوجا پاٹ نہیں بلکہ بندگی اور غلامی ہے۔ یعنی وہ لوگ جو چاہتے تھے کہ اللہ کے احکام کے مقابلہ میں ان کے احکام کی اطاعت کی جائے۔ خواہ یہ دنیوی حکام ہوں یا پیرو مشائخ کی قسم کے لوگ ہوں۔
87 یعنی سوال تو اللہ مشرکوں سے کرے گا کہ تم نے جو میرے مقابل شریک بنا رکھے تھے وہ کہاں ہیں۔ لیکن وہ مشرک تو ابھی کچھ جواب نہ دینے پائیں گے کہ اس سے بیشتر یہ معبود حضرات خود ہی بول اٹھیں گے اور کہینگے کہ پروردگار ! واقعی ہم ان لوگوں کی گمراہی کا سبب ضرور بنے تھے۔ مگر ہم نے انھیں زبردستی اس بات پر مجبور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
81۔ یعنی فرمودۂ عذاب۔ اے حق علیہ مقتضاہ (کبیر) وھو قولہ تعالیٰ لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین وغیرہ من ایات الوعید (بیضاوی) (آیت) ” شرکآء ی ... تزعمون “۔ مراد ان شرکاء مستحق عذاب شیاطین ہیں۔
82۔ یعنی جس طرح ہم پر کسی نے جبر نہیں کیا تھا ہم اپنے ہی ارادہ سے بہکے، ہم نے بھی ان لوگوں پر جبر نہیں کیا، یہ لوگ بھی اپنے ہی ارادہ سے بہکے ہیں۔
83۔ (اپنے ان کے تعلقات سے) مقصود یہ ہے کہ آج جن کی شفاعت پر مشرکوں کو بھروسہ ہے، کل وہ خود ہی کانوں پر ہاتھ رکھ کر علیحدہ ہوجائیں گے۔
84۔ (بلکہ اپنے نفس و خواہش کے اشاروں پر چل رہے تھے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–75
آیت نمبر 61 تا 75
ترجمہ : بھلا وہ شخص کہ جس سے ہم نے ایک پسندیدہ وعدہ کر رکھا ہے جسے وہ قطعاً پانے والا ہے یعنی اس وعدۂ (موعودبہٖ ) کو پہنچنے والا ہے اور وہ جنت ہے کیا اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا چند روزہ فائدہ دے رکھا ہے، جو عنقریب زائل ہوجائے گا پھر وہ قیامت کے روز ان لوگوں میں ہوگا جو گرفتار کرکے دوزخ میں حاضر کئے جائیں گے اول شخص مومن ہوگا اور دوسرا کافر یعنی دونوں میں کوئی مساوات نہ ہوگی اور اس دن کو یاد کرو کہ جس دن خدا تعالیٰ ان کافروں کو پکار کر کہے گا میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم سمجھتے تھے وہ میرے شریک ہیں جن پر خدا کا دخول نار کا حکم ثابت ہوچکا ہوگا وہ کہیں…
Read the full tafseer →قال الذین حق علیھم القول ربنا ھولاء الذین اغوینا اغوینھم کما غوینا تبرانآ الیک ما کانوا
ایانا یعبدون . جن لوگوں پر (خدا کی) بات پوری ہوچکی ہوگی وہ کہیں گے : بیشک یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکا دیا تھا جیسا ہم بہکے تھے ویسا ہی ہم نے ان کو بہکا دیا (آج) ہم تیرے سامنے ان سے دست برادر ہوتے ہیں (کیونکہ) یہ لوگ ہماری پوجا نہیں کرتے تھے۔
قَالَ الَّذِیْنَ یعنی کافروں کے سردار اور لیڈر کہیں گے۔ اَلْقَوْلَ یعنی اللہ کی یہ بات واجب ہوچکی ہوگی کہ میں دوزخ کو جنات سے اور آدمیوں سے سب سے بھر دوں گا اور اس کے علاوہ دوسری آیات وعید عذاب کا وقوع بھی واجب ہوچکا ہوگا۔ اَغْوَیْنَا مفعول کی ضمیر محذوف ہے یعنی یہ…
Read the full tafseer →(63) یہ سن کر وہ شرکاء اور شیاطین جن پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اور اس کی ناراضگی ثابت ہوچکی ہوگی کہہ اٹھیں گے اے ہمارے پروردگار یہ ہمارے پیروکار وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا ہے ہم نے حق و ہدایت سے ان کو ایسا ہی گمراہ کیا جیسا کہ ہم خود گمراہ تھے اور ہم ان سے دست بردار ہوتے ہیں یہ لوگ ہمارے حکم سے ہمیں نہیں پوجتے تھے۔
Read the full tafseer →قَالَ الَّذِيْنَ حَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ :”بات ثابت ہوچکی“ سے مراد ہے ”عذاب کی بات ثابت ہوچکی“ جیسا کہ فرمایا : (وَلٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّيْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ) [ السجدۃ : 13 ] ”اور لیکن میری طرف سے بات پکی ہوچکی کہ یقیناً میں جہنم کو جنوں اور انسانوں، سب سے ضرور بھروں گا۔“ اور ”جن پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی“ سے مراد شیاطین یا وہ بڑے بڑے پیشوا، سردار، لیڈر اور پیرفقیر قسم کے لوگ ہیں جن کو لوگوں نے دنیا میں ”اربابا من دون اللہ“ بنا لیا تھا اور جن کی بات کے مقابلے میں وہ اللہ اور اس کے رسولوں کی بات کو رد کردیا کرتے تھے۔ وہ کسی چیز کو حلال کہہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
ویوم ینادیھم قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کو ندا کرے گا۔ فیقول این شرک آئی میرے شریک کہاں ہیں جنہیں تم گمان کرتے تھے کہ وہ تمہیں مدد کریں گے اور تمہاری سفارش کریں گے ؟
قال الذین حق علیھم القول ان پر عذاب کا حکم ثابت ہوچکا وہ سروار ہیں، یہ کلبی کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد شیاطین ہیں ربنا ھولاء الذین اغوینا ہم نے انہیں گمراہی کی طرف دعوت دی انہیں کہا جائے گا : کیا تم نے ان کو گمراہ کیا ؟ انہوں نے کہا : اغوینھم کما غوینا وہ مراد یتے ہیں ہم نے انہیں گمراہ کیا جس طرح ہم گمراہ تھے۔ تبرانا الیک ہم میں سے بعض نے بعض سے برأت کا اظہار کیا۔ شیاطین ان سے برأت کا اظہار کردیتے ہیں جو ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ویوم ینادیہم فیقول این شرکاء ی الذین کنتم تزعمون ان سے آدم (علیہ السلام) کی اولاد مراد ہے۔ کہ جس دن ان کو آواز دیں گے اور کہیں گے کہ کہاں ہیں میں میرے شریک جن کو تم اللہ کے شریک گمان کرتے تھے۔ آیت قال الذین حق علیہم القول یعنی وہ جانت کہ جس پر بات ثابت ہوگی عذاب کی آیت ربنا ہوء لاء الذین اغوینا اغوینہم وہ جنات کہیں گے اے ہمارے رب یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکادیا تھا جیسا ہم بہکے تھے اور آدم کی اولاد سے کہا جائے گا آیت ادعوا شرکاء کم فدعوہم فلم یستجیبوا لہم یعنی ان کو کوئی خیر کی بات کے ساتھ جواب نہیں دیں گے جب ان سے…
Read the full tafseer →قَالَ الَّذِيْنَ [وہ لوگ کہیں گے ] حَقَّ [ثابت ہوئی ] عَلَيْهِمُ [جن پر ] الْقَوْلُ [وہ بات (الزام)] رَبَّنَا [اے ہمارے رب ] هٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ [یہ ہیں وہ لوگ جن کو ] اَغْوَيْنَا ۚ [ہم نے گمراہ کیا ] اَغْوَيْنٰهُمْ [ہم نے گمراہ کیا ان کو ] كَمَا [اس طرح جیسے ] غَوَيْنَا ۚ [ہم گمراہ ہوئے ] تَبَرَّاْنَآ [ہم نے اظہار بیزاری کیا (ان سے)] اِلَيْكَ ۡ [تیری طرف ] مَا كَانُوْٓا اِيَّانَا يَعْبُدُوْنَ [وہ لوگ صرف ہماری ہی بندگی نہیں کرتے تھے ] ۔
نوٹ۔ 2: آیت۔ 63 ۔ میں یہ لطیف نکتہ قابل توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سوال تو کرے گا شریک ٹھہرانے والوں سے مگر ان کے بولنے سے پہلے ہی جواب دینے لگیں گے وہ جن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
(وَ یَوْمَ یُنَادِیْھِمْ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ ) (اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکار کر سوال کیا جائے گا کہ جب تمہیں رسولوں نے حق کی دعوت پہنچائی تو تم نے کیا جواب دیا ؟ ) (فَعَمِیَتْ عَلَیْھِمُ الْاَنْبَآءُ یَوْمَءِذٍ ) (سو ساری خبریں یعنی ہر طرح کے مضامین جن کے ذریعہ جواب دیں سب غائب ہوجائیں گے) اور انہیں کچھ سمجھ نہ آئے گا کہ کیا جواب دیں۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) سے یہ سوال ہوگا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا (کما فی سورة المائدۃ) (یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
ظہور ثمرات ایمان وہدایت ونتائج کفر وضلالت در روز قیامت
قال اللہ تعالیٰ افمن وعدنہ وحدا حسنا۔۔۔ الی۔۔۔ الہ الحکم والیہ ترجعون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں ایمان وہدایت کی ترغیب اور کفر وضلالت سے ترہیب کا ذکر تھا۔ اب آئندہ آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ ایمان اور ہدایت کے ثمرات اور کفر وضلالت کے نتائج کا ظہور قیامت کے دن ہوگا۔ اول۔ افمن وعدنہ وعدا حسنا کی آیت میں اجمالی طور پر اہل دنیا اور اہل آخرت کے تفاوت کو بیان کیا بعد ازاں اس تفاوت کی تفصیل فرمائی کہ قیامت کے دن اہل ضلالت سے قیامت کے دن بطور زجر و توبیخ تین سوال ہوں گے۔
پہلا سوال : این شرکای الذین کنتم تزعمون۔ یعنی بتلاؤ کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم نے…
Read the full tafseer →60:۔ موصول سے کفر و شرک کے امام اور پیشوا مراد ہیں یعنی مشرک پیر جو دوسروں کو کفر و شرک اور باطل کی راہ پر چلاتے ہیں اور ھؤلاء سے ان کے مشرک پیرو اور متبع مراد ہیں۔ کما اغوینا ما قبل کے لیے بمنزلہ علت ہے الذین حق علیہم القول ای الشیاطین وائمۃ الکفر و ؤسہ (بحر) ۔ یعنی ہم چونکہ خود گمراہ تھے اس لیے ہم نے ان کو بھی گمراہ کردیا۔ انہیں معلوم تھا کہ ہم گمراہ ہیں اس لیے یہ ہمارے پیچھے کیوں چلے۔ لہذا اے ہمارے پروردگار ہم ان سے بری الذمہ ہیں۔ ماکانوا ایانا یعبدون، یہ لوگ ہماری پیروی اور اطاعت کر کے گمراہ نہیں ہوئے بلکہ یہ تو انی ہی خواہشات نفسانیہ کے بندے تھے اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگ کر گمراہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بیان کیا تھا اور پھر ان کے برے انجام کا ذکر کیا تھا۔ اللہ نے ان کی گرفت کا ذکر کیا کہ وہ ظلم وتعدی کرنے والوں کو ہی پکڑتا ہے ۔ پھر اللہ نے دنیا کے سازو سامان کی نا پانیداری کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اللہ کے ہاں جو نعمتیں ہیں وہ ہمیشہ رہنے والی ہیں اللہ نے انسان کو ترغیب دلائی کہ عقل سے کام لیں اور پائیدار چیزوں کو اختیار کریں اور عارضی چیزوں میں دل نہ لگائیں ۔ اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان اور نیکی والوں کا تقابل کفر ، شرک اور برائی والوں سے کیا ہے ۔ اس کے بعد رسالت کا ذکر ہے اور پھر توحید خدا ندی کی تائید او شرک کی تردید فرمائی…
Read the full tafseer →قَالَ الَّذِيْنَ حَقَّ عَلَيْہِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا ہٰٓؤُلَاۗءِ الَّذِيْنَ اَغْوَيْنَا 0ۚ اَغْوَيْنٰہُمْ كَـمَا غَوَيْنَا 0ۚ تَبَرَّاْنَآ اِلَيْكَ 0ۡمَا كَانُوْٓا اِيَّانَا يَعْبُدُوْنَ 63
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
حقَ
أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة .
والحقّ يقال علی أوجه :
الأول :
يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–69
ترکیب : ھولاء مبتداء، موصوف الذی صلہ موصول صفت اغوینہم خبر کما غوینا صفت ویمکن ھولاء مبتداء الذین الخ خبر اغوینہم جملہ مستانفہ لو انہم کلمہ تسحر۔ اگر شرط ہو تو بارا دہ جواب محذوف۔
تفسیر : پھر دنیا کی نعمت اور آخرت کی مصیبت والے کا اس سے مقابلہ کرکے دکھاتا ہے کہ جس کے لیے حیات جاودانی اور سرور ابدی تیار رکھا ہے، اس کے جانے ہی کی دیر ہے، بقولہ افمن وعدًنہ وعد احسنا فہولا قیہ الخ کہ کیا دونوں شخص برابر ہوگئے ؟ ہرگز نہیں، بھلا کہاں وہ کہ اس کے لیے اس عالم میں بیشمار نعمتیں تیار کر رکھی ہوں اور وہ اس کو ملنے والی ہیں، اس کے برابر ہے کہ جس کو دنیا کی زندگانی کا اسباب عطا ہوا، لیکن قیامت کے روز اس…
Read the full tafseer →قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْھِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا ھٰٓـؤُلَآئِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا ج اَغْوَیْنٰـھُمْ کَمَا غَوَیْنَا ج تَبَرَّاْنَـآ اِلَیْکَ ز مَا کَانُوْٓا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ ۔ (القصص : 63)
(تو کہیں گے وہ لوگ جن پر عذاب کا فرمان ثابت ہوچکا، اے ہمارے رب ! یہ ہیں وہ لوگ جنھیں ہم نے گمراہ کیا، ہم نے ان کو اسی طرح گمراہ کیا جس طرح ہم گمراہ ہوئے، ہم تیرے حضور ان سے اعلانِ براءت کرتے ہیں، وہ ہماری پوجا نہیں کیا کرتے تھے۔ )
گمراہ لیڈروں اور ان کے پیروئوں میں تکرار
قیامت کے دن ہر طرح کے مشرکین عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے، ان میں وہ بھی ہوں گے جنھوں نے دوسروں کو گمراہ کرنے اور حق کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
فہم القرآن
ربط کلام : آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دینے والوں کا انجام۔
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مشرکوں کے سامنے شرک کی حیثیت واضح کرنے اور انھیں ایک دوسرے کے سامنے ذلیل کرنے کے لیے حکم صادر فرمائے گا کہ میری ذات اور صفات میں شریک کرنے والو ! وہ لوگ کہاں ہیں جن کو تم سفارشی اور حاجت روا، مشکل کشا سمجھ کر میرے شریک بنایا کرتے تھے ؟ اس وقت حقیقت واضح ہوچکی ہوگی کہ آج ہم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرسکتے۔ اس لیے مریدوں سے پہلے پیر، عابد سے پہلے معبود پکار اٹھیں گے اے ہمارے رب ! بیشک یہی لوگ ہیں جنہیں ہم نے گمراہ کیا۔ یہ اسی طرح گمراہ ہوئے جس طرح ہم گمراہ تھے۔ پھر مریدوں کو موقعہ دیا جائے گا کہ…
Read the full tafseer →63: قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْہِمُ الْقَوْلُ (اور وہ لوگ کہیں گے جن پر اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہوچکی ہوگی) ۔ نمبر 1۔ شیاطین نمبر 2۔ کافروں کے لیڈر۔ حق علیہم القول کا مطلب یہ ہے کہ قول کا مقتضی ان پر لازم ہوجائے گا اور وہ اس ارشاد میں ہے۔ لأملان جہنم من الجنۃ والناس اجمعین ] السجدہ۔ 13[
رَبَّنَا ہٰٓؤُلَآئِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا (اے ہمارے رب یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکا دیا تھا) ۔ یعنی ان کو شرک کی طرف بلایا۔ اور گمراہی کو ان کے لئے مزین کیا۔
نحو : الذین اغوینا۔ یہ مبتدأ ہے۔ موصول کی طرف لوٹنے والی ضمیر محذوف ہے اور اس کی خبراغْوَیْنٰہُمْ ہے۔ کَمَا غَوَیْنَا کاف مصدر محذوف کی صفت ہے۔…
Read the full tafseer →63۔ قال الذین حق علیھم القول، ، ان پر عذاب واجب ہوچکا اور وہ گمراہوں کے سردار ہیں۔ ربناھوالاء الذین اغوینا، یعنی ان کو ہم غنی کی طرف بلائیں گے۔ اور وہ ان کے تابع داروں میں سے ہوں گے۔ اغویناھم کماغوینا، ، یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے بہکادیا تھا، کماغوینا جس طرح ہم بہک گئے تھے خو د اپنے اختیار سے گمراہی میں پڑگئے تھے۔ تبراناالیک ، وہ ان میں سے ، ماکانوا ایانا یعبدون، ، وہ اس وقت بعض بعض سے برات اختیار کریں گے اور وہ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے ، الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدو، ،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
61 تا 63۔ ان آیتوں میں یہ ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مشرکوں سے کہا جاوے گا کہاں ہیں وہ اللہ کے شریک جن کا تم کو دنیا میں بڑا گھمنڈ تھا کیا وہ عذاب سے بچلانے میں تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں پھر فرمایا کہ بہکانے والے کہیں گے اس رب ہمارے یہ لوگ ہیں جن کا بہکا یا ہم نے جس طرح ہم بہکے پھر پوجا کرنے والوں سے بیزاری ظاہر کریں گے اور کہیں گے کہ وہ ہم کو نہیں پوجتے تھے بہکانے والوں سے مطلب وہی شیاطین الانس والجن ہیں جن ذکر سورة الانعام کی آیت وان الشیطین لیوحون الی اولیائھم میں گزر چکا ہے اور قل اعوذ برب الناس کی تفسری میں بھی یہ ذکر آوے گا پھر قائل کرنے کے لیے مشرکوں سے دوبارہ کہا جائے گا کہ بلاؤ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
آیت 61
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کو دنیا میں زہد کی ترغیب دی ہے نیز انہیں خبردار کیا ہے کہ وہ دنیا کے دھوکے میں نہ آئیں اور یہ کہ وہ آخرت میں رغبت رکھیں، نیز اس نے آخرت کو بندے کا مطلوب و مقصود قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سب کچھ جو مخلوق کو عطا کیا گیا ہے، مثلاً سونا چاندی، حیوانات، مال و متاع، عورتیں، بیٹے، ماکولات، مشروبات اور لذات صرف دنیا کی متاع اور اس کی زینت ہیں۔ بندہ جن سے بہت تھوڑے وقت کے لئے متمتع ہوتا ہے وہ بہت ہی تھوڑی سی متاع ہے جو تکدر سے گھری ہوئی اور غم واندوہ سے لبریز ہے۔ بندہ نہایت قلیل مدت کے لئے فخر وریا کے طور پر اس دنیا سے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–88
سلامِ تحیت اور اسلامِ متارکت
قول باری ہے : (واذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ ۔ اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو ان سے کنارہ کش ہوگئے) تاآخر آیت۔ مجاہد کا قول ہے کہ کچھ اہل کتاب ایمان لے آئے، مشرکین نے انہیں ستانا شروع کردیا انہوں نے ان سے یہ کہہ کر کنارہ کشی اختیار کرلی کہ تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ سلام تحیت نہیں ہے بلکہ سلام متارکت ہے جس کے ذریعے ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کرلی جاتی ہے۔
اس کی مثال یہ قول باری ہے : (واذا خا طبھم الجاھلون قالوا سلاما۔ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام) نیز قول باری ہے…
Read the full tafseer →88 مشرکوں اور ان کے لیڈروں کے درمیان جوتا بازی کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تب بول اٹھیں گے وہ لوگ جن پر پکی ہوچکی ہوگی ہماری بات "۔ یعنی ہماری یہ بات کہ ہم نے جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھرنا ہے ۔ { لاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمْ مِنَ الْجِنَّۃِ و النَّاسِ اَجْمَعِیْنِ } ۔ یہاں پر اس سے مراد ہیں وہ مشرک لوگ جن پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ عذاب صادر ہوچکا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کے روز یہ مشرک لوگ اپنے آخری عذاب کے طور پر اپنے گمراہ کن لیڈروں کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ اگر یہ لوگ ہمیں گمراہ نہ کرتے تو ہم گمراہ نہ ہوتے۔ تو اس کے جواب میں ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–64
ہجرت، مدین میں قیام، فرعون کی طرف واپسی موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت سے سرفرازی
نبی کو بھیجنے کا مقصد ‘ نیک و بد کا فرق اور مشرکین کا انجام
تشریح : کفار و مشرکین کی خصلتیں ہر زمانے اور ہر دور میں ایک سی ہی رہی ہیں۔ آج کا دور باوجود ترقی کرنے کے اور علم و فضل میں کافی ترقی کر جانے کے کفار وہی ہٹ دھرمی اور ضد رکھتے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں رکھتے تھے۔ کبھی کہتے موسیٰ جیسے معجزے دکھائو کبھی کہتے موسیٰ (علیہ السلام) جیسی کتاب لائو۔ حالانکہ یہ سب کچھ دیکھ کر بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے تو اہل عرب کیسے ایمان لاسکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور حکیم ہے اس لیے وہ نبی بھیجتا رہا تاکہ قیامت کے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–75
آیات 61 تا 75
اسرارو معارف
اور بھلا جس شخص کو بہت حسین وعدہ دیا اگیا ہو یعنی آخرت کی کامیابی کا اور وہ اسے پانے والا بھی ہو اس کی برابری وہ شخص تو نہیں کرسکتا جس کے پاس چند روز مال و دولت دنیا تو ہو مگر قیامت کے روز اسے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہو وہ ایسا دن ہوگا کہ جب ان کفار و مشرکین پر سوال ہوگا کہ جن لوگوں کو تم نے میرا شریک مان رکھا تھا وہ کہاں ہیں تو وہ لوگ جو یہاں دنیا میں ان کے پیشوا بنے ہوئے ہیں اپنے اوپر جرم ثابت ہوچکنے کے بعد یہ عذر کریں گے کہ اے اللہ خود گمراہ تھے لہذا انہیں بھی وہی کچھ بتایا جس پر خود عمل کرتے تھے لیکن انہوں نے ہماری بات اپنے اختیار سے مانی ہم نے ان پر کوئی…
Read the full tafseer →5 ۔ ان سے مراد شیاطین یا وہ بڑے بڑے پیشوا، سردار لیڈر اور پیر فقیر قسم کے لوگ ہیں جن کو دنیا میں لوگوں نے ادبابا من دون اللہ بنا لیا تھا اور ان کی بات کے مقابلے میں اللہ اور اس کے رسولوں کی بات کو رد کردیا کرتے تھے۔ (شوکانی) 6 ۔ یعنی ہم نے ان پر کوئی زبردستی نہیں کی تھی اور نہ ان سے سوچنے سمجھنے کی قوتیں سلب کرلی تھیں بلکہ جس طرح ہم خود اپنی مرضی سے گمراہ ہوئے تھے۔ اسی طرح ہم نے ان کے سامنے بھی گمراہی پیش کی اور انہوں نے اپنی مرضی سے اسے قبول کرلیا۔ (وحیدی بتصرف)
7 ۔ یعنی یہ ہماری نہیں بلکہ اپنے ہی نفس کی بندگی کرتے تھے۔ خود ان کے دل میں یہ سمایا کہ ہماری بندگی کریں اس لئے ہماری بندگی کرنے…
Read the full tafseer →(28:63) حق علیہم القول جن پر (اللہ کا) قول ثابت ہوچکا۔ القول سے مراد یہاں کفروشرک پر عذاب کے متعلق آیات وعید ہیں مطلب یہ کہ جن پر ان آیات وعید کے مطابق اللہ کا فرمان عذاب ثابت ہوچکا ہوگا۔ الذین حق علیہم القول سے مراد وہ معبودان باطل ہیں جن کو مشرک لوگ شریک خداوندی خیال کرتے تھے۔: ربنا سے لے کر اخیر آیت تک ان معبودان باطل کا قول ہے۔
ھؤلائ۔ اسم اشارہ۔ جمع کا صیغہ، یہ سب۔
الذین اغوینا۔ جن کو ہم نے بہکایا۔ صیغہ جمع متکلم ۔ ماضی معروف اغواء (افعال) مصدر۔
اغوینھم۔ ہم نے ان کو گمراہ کیا۔ کما غوینا (ایسے ہی جیسے ہم خود گمراہ ہوئے یعنی نہ ہم کو کسی نے جبرا گمراہ کیا تھا بلکہ ہم خود اپنی مرضی سے راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–67
لغات القرآن آیت نمبر 62 تا 67) ۔
ینا دی (وہ آواز دیتا ہے ) ۔ این (کہاں ) ۔ شرکاء ی (میرے شریک ) ۔ تزعمون (تم گھمنڈ کرتے ہو۔ تم گمان کرتے ہو ) ۔ حق علیھم (جن پا ثابت ہوگیا ) ۔ اغوینا (ہم نے بہکایا ) ۔ تبرءنا (ہم نے بیزاری کا اظہار کیا ) ۔ عمیت علیھم ( ان پر اندھی ہوگئی۔ ان کو نہ سوجھی ) ۔
تشریح : آیت نمبر (62 تا 67 ) ۔ ” ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کی بےچارگی اور حسرت و افسوس کی تفصیل بیان کی ہے جو قیامت کے ہولناک دن بری طرح ذلیل و خوار ہوجائیں گے اور مجرم کی حیثیت سے اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ آج کے دن اپنے ان معبودوں کو پکارو جنہیں تم میر شریک بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
توحید کابیان
(ف 1) ان آیتوں میں ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مشرکوں سے کہا جائے گا کہاں ہیں وہ اللہ کے شریک جن کا تم کو دنیا میں بڑاگھمڈ تھا کیا وہ عذاب سے بچانے میں تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں پھر فرمایا کہ بہکانے والے کہیں گے اے رب ہمارے یہ لوگ ہیں جن کو بہکایا ہم نے جس طرح ہم بہکے پھر اپنے پوجا کرنے والوں سے بےزاری ظاہرکریں گے پھر مشرکوں سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو تو بلاؤ کہ وہ تم کو اس عذاب سے بچاویں ، یہ مشرک ان کو پکاریں گے لیکن کچھ مشرکوں سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو تو بلاؤ کہ وہ تم کو اس عذاب سے بچاویں، یہ مشرک ان کو پکاریں گے لیکن کچھ جواب نہ دیں گے اور جب دیکھیں گے کہ عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
[38] مراد ان سے وہ شیاطین جن و انس ہیں جن کو دنیا میں اللہ کا شریک بنایا گیا تھا اور جن کے مقابلے میں اللہ اور رسول کی باتوں کو رد کیا گیا تھا۔ ان کو خواہ کسی نے اِلٰہ کہا ہو یا نہ کہا ہو بہرحال جب ان کی اطاعت اس طرح کی گئی جس طرح اللہ کی ہونی چاہئے۔ تو لازماً انھیں شریک کیا گیا۔
[39] سوال تو مشرکین سے ہے مگر بہکانے والے شرکاء سمجھ جائیں گے کہ فی الحقیقت ہمیں بھی ڈانٹ پلائی گئی
ہے اس لئے سبقت کر کے جواب دیں گے کہ اے اللہ ! بیشک ہم نے انھیں بہکایا، اس کا ہمیں اعتراف ہے لیکن ان مشرکین پر کوئی جبر واکراہ نہ تھا کہ زبردستی اپنی بات منوا لیتے۔ فی الحقیقت ان کی ہوا پرستی تھی جو ہمارے بہکانے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–63
ف 2 یعنی آج تو مریدان باعقیدت اپنے مرشدوں پر بیحد بھروسہ رکھتے ہیں اور انہیں خدا کا ہم مرتبہ سمجھتے ہیں مگر قیامت کے دن معاملہ بالکل برعکس ہوگا ۔ یہ عقیدت کی شان ازلی تو رہبر اکامل کے پیچھے دوڑیں گے ! اور پیران طریقت آگے آگے ان سے بیزاری کا اظہار کرینگے مرید یہ کہیں گے کہ ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا ۔ اور وہ جواب دینگے غلط ہے جس طرح ہم گمراہ ہوئے ۔ اسی طرح یہ لوگ بھی بہک گئے اور حقیقت میں یہ محض ہوائے نفس کے تابع تھے ۔ انہوں نے ہماری بالکل عبادت نہیں کی
Read the full tafseer →63۔ وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا فرمان ثابت ہوچکا ہے کہیں گے اے ہمارے پروردگار یہ وہی لوگ ہیں جن کو ہم نے ویسا ہی گمراہ کیا ہے جیسے ہم خود گمراہ ہوئے تھے ہم آپ کے روبرو اور آپ کے سامنے ان سے اپنی بیزاری اور بےتعلقی کا اظہار کرتے ہیں اور ان سے دست بردار ہوتے ہیں یہ لوگ ہماری پرستش نہیں کیا کرتے اور ہم کو نہیں پوجتے تھے۔ یعنی یہ سوال مشرکین سے ہوگا کہ جن کو تم میرا شریک سمجھتے تھے وہ کہاں ہیں وہ شرکاء سمجھیں گے کہ مشرکین ہمارا نام لیں گے تو وہ پہلے ہی اپنی صفائی کے طور پر کہیں گے یہ شرکاء خواہ جنات میں سے ہوں یا انسانوں میں سے ہوں ۔ بہرحال ! یہ مفروضہ شرکاء وہ ہوں گے جن پر عتاب کا حکم…
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی جب یہ اپنے اختیار سے بہکے ہیں نہ کہ مجرد ہمارے بہکانے سے تو اس اعتبار سے یہ خواہش پرست تھے نہ صرف شیطان پرست، مطلب یہ کہ یہ خود اپنی خواہش سے خراب ہوئے، اس درجہ میں ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں، البتہ جس قدر ہماری خطاء ہے کہ ہم نے ان کو اغا کیا اس کے ہم مقر ہیں، مقصود اس سب حکایت سے یہ ہے کہ جن کے بھروسے پر بیٹھے ہیں وہ ان سے کانوں پر ہاتھ رکھیں گے۔
Read the full tafseer →اے ہمارے رب ! ان لوگوں کو ہم نے گمراہ کیا تھا اور اس لئے کیا تھا کہ ہم خود گمراہ تھے :
63۔ مشرکوں کے مزہبی پیشوا ہوں یا سیاسی لیڈر جب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ اب معاملہ تھوڑی ہی دیر میں خود بخود کھلنے والا ہے اور ابھی معلوم ہوجائے گا کہ وہ لوگ ہم ہی تھے جو ان مشرکوں کو مشرک بنا کر مطمئن کئے ہوئے تھے تو وہ بڑی چالاکی سے خود ہی کھڑے ہوجائیں گے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے سامنے پیش ہو کر کہیں گے اے ہمارے رب یہ لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا اور ہم نے ان کو اس لئے گمراہ کیا تھا کہ ہم خود گمراہ ہوچکے تھے یا ہم کو بھی گمراہ کردیا گیا تھا اس لئے ہم نے ان کو بھی گمراہ کردیا گیا تھا اس لئے ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–68
Commentary
وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ (And your Lord creates what He wills and chooses - 28:68). According to one interpretation of this verse, the choice referred to here is Allah's choice with regard to the divine commands, and the sense is that as Allah Ta` ala is unique in the creation of universe and no one is His partner, so is He in the issuance of His commands. He can give out any command to His creatures. But Imam Baghawi, in his commentary, and ` Allamah Ibn Al-Qayyim (رح) in the preface of Zad al-Ma` ad have adopted another interpretation according to which the…
Read the full tafseer →86 This implies those satans from among jinns and men, who had been set up as associates, of God in the world, whose teachings had been followed in preference to Divine Commandments, and dependence on whom had made the people give up the Right Way and adopt the wrong ways of life. Such persons may not have been called gods and lords as such, but since they were worshipped and obeyed as one should worship and obey only God, they were inevitably made partners in Godhead.
87 That is, "We did not lead them astray forcibly. We neither deprived them of their powers of seeing and hearing nor of…
Read the full tafseer →