An-Naml 27:92

An-Naml · from ayah 92

27:92

وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ ۚ— فَمَنِ اهْتَدٰی فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ ۚ— وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ۟وَاَنۡ اَتۡلُوَا الۡقُرۡاٰنَ‌ۚ فَمَنِ اهۡتَدٰى فَاِنَّمَا يَهۡتَدِىۡ لِنَفۡسِهٖ‌ۚ وَمَنۡ ضَلَّ فَقُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُنۡذِرِيۡنَ

اور یہ بھی کہ قرآن پڑھا کروں۔ تو جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے اختیار کرتا ہے۔ اور جو گمراہ رہتا ہے تو کہہ دو کہ میں تو صرف نصیحت کرنے والا ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And to recite the Qur'an." And whoever is guided is only guided for [the benefit of] himself; and whoever strays - say, "I am only [one] of the warners."

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 7 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:92

اور یہ قرآن پڑھ کر سناؤں" اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو اُس سے کہہ دو کہ میں تو بس خبردار کر دینے والا ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ بھی کہ قرآن پڑھا کروں۔ تو جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے اختیار کرتا ہے۔ اور جو گمراہ رہتا ہے تو کہہ دو کہ میں تو صرف نصیحت کرنے والا ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور میں قرآن کی تلاوت کرتا رہوں، جو راه راست پر آجائے وه اپنے نفع کے لیے راه راست پر آئے گا۔ اور جو بہک جائے تو کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف ہوشیار کرنے والوں میں سے ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یہ کہ میں قرآن کی تلاوت کروں۔ اب جو شخص ہدایت کے راستے پر آئے، وہ اپنے ہی فائدے کے لیے راستے پر آئے گا، اور جو گمراہی اختیار کرے، تو کہہ دینا کہ : میں تو بس ان لوگوں میں سے ہوں جو خبردار کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یہ کہ قرآن کی تلاوت کروں تو جس نے راہ پائی اس نے اپنے بھلے کو راہ پائی اور جو بہکے تو فرمادو کہ میں تو یہی ڈر سنانے والا ہوں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

نیز یہ کہ میں قرآن پڑھ کر سناتا رہوں سو جس شخص نے ہدایت قبول کی تو اس نے اپنے ہی فائدہ کے لئے راہِ راست اختیار کی، اور جو بہکا رہا تو آپ فرما دیں کہ میں تو صِرف ڈر سنانے والوں میں سے ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور یہ کہ میں قرآن پڑھوں، پھر جو سیدھے راستے پر آجائے تو وہ اپنے ہی لیے راستے پر آتا ہے اور جو گمراہ ہو تو کہہ دے کہ میں تو بس ڈرانے والوں میں سے ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور یہ قرآن پڑھ کر سناؤں۔ اب جو شخص راہ راست پر آتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدہ کے لیے آتا ہے اور جو گمراہ ہوا تو اس سے آپ کہہ دیجئے کہ میں تو صرف ایک ڈرانے والا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور قرآن کو سناؤں تو جو ہدایت کی راہ اختیار کرے گا وہ اپنے ہی فائدے کے لیے اختیار کرے گا اور جو گمراہی اختیار کرے گا تو تم کہہ دو کہ میں تو بس ایک آگاہ کردینے والا ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یہ کہ میں پڑھ کر سناتا رہوں یہ قرآن پھر جو کوئی راہ پر آگیا تو وہ اپنے ہی بھلے کے لئے راہ پر آئے گا اور جو کوئی گمراہ ہوا تو یقینا اس میں میرا کوئی نقصان نہیں کہ میں تو صرف خبردار کرنے والوں میں سے ہوں اور بس

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ بھی کہ میں قرآن پڑھ کر سناؤں سو جو کوئی راہ پر آئے گا وہ اپنے ہی لئے راہ پر آئے گا۔ اور جو کوئی گمراہ رہے گا تو آپ کہہ دیجیے کہ میں تو بس ڈرانے والوں میں سے ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یہ کہ میں تلاوت کروں قرآن کی تو جو کوئی ہدایت پائے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت پائے گا اور جو کوئی گمراہی کی روش اختیار کرے تو آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ میں تو صرف خبردار کرنے والا ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یہ بھی کہ قرآن پڑھا کروں تو جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو اپنے ہی فائدہ کے لیے اختیار کرتا ہے۔ اور جو گمراہ رہتا ہے تو فرمادیں کہ میں تو صرف نصیحت کرنے والا ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and to recite the Qur'an." So, whosoever is guided, his guidance will be to his own good. As for those who stray, tell them: "I am none but a warner."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and to recite the Qur‘an; so whoever takes the right path, takes it for his own benefit. As for the one who goes astray, say (to him), :I am only one of the warners.

— Muhammad Taqi Usmani

and to recite the Qur‘an; so whoever takes the right path, takes it for his own benefit. As for the one who goes astray, say (to him), :I am only one of the warners.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And that I should recite the Qur'an, then whosoever receives guidance, receives it for the good of himself; and whosoever goes astray, say (to him): "I am only one of the warners."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And to recite the Qur'an. And whoso goeth right, goeth right only for (the good of) his own soul; and as for him who goeth astray - (Unto him) say: Lo! I am only a warner.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And to recite the Qur'an." And whoever is guided is only guided for [the benefit of] himself; and whoever strays - say, "I am only [one] of the warners."

— Saheeh International

and recite the Quran. Whoever seeks guidance will find it for his own soul. Say to whoever goes astray, "I am only a warner".

— Muhammad Sarwar

And that I should recite the Quran. Therefore whoever goes aright, he goes aright for his own soul, and whoever goes ' astray, then say: I am only one of the warners.

— Muhammad Habib Shakir

And that I should recite the Qur'an. And whosoever receiveth guidance, receiveth guidance for his own soul, and as for him who strayeth say thou: I am only of the warners.

— Abdul Majid Daryabadi

And to rehearse the Qur'an: and if any accept guidance, they do it for the good of their own souls, and if any stray, say: "I am only a Warner".

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:92

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 91–93

اللہ تعالیٰ کو حکم اعلان اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم ﷺ سے فرماتا ہے کہ آپ لوگوں میں اعلان کردیں کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی عبادت کا اور اس کی فرمانبرداری کا مامور ہوں۔ جیسے ارشاد ہے کہ اے لوگو ! اگر تمہیں میرے دین میں شک ہے تو ہوا کرے میں تو جن کی تم عبادت کررہے ہو ان کی عبادت ہرگز نہیں کرونگا۔ میں اسی اللہ کا عابد ہوں جو تمہاری زندگی موت کا مالک ہے۔ یہاں مکہ شریف کی طرف ربوبیت کی اضافت صرف بزرگی اور شرافت کے اظہار کے لئے ہے جیسے فرمایا آیت (فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ ۙ) 106۔ قریش :3) انہیں چاہیے کہ اس شہر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں اوروں کی بھوک کے وقت آسودہ اور اوروں کے خوف…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 91–93

سورة النمل 110 یہ سورة چونکہ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جبکہ اسلام کی دعوت ابھی صرف مکہ معظمہ تک محدود تھی اور مخاطب صرف اس شہر کے لوگ تھے، اس لیے فرمایا " مجھے اس شہر کے رب کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے "۔ اس کے ساتھ اس رب کی خصوصیت یہ بیان کی گئی کہ اس نے ا سے حرم بنایا ہے۔ اس سے کفار مکہ مکہ کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ جس خدا کا تم پر یہ احسان عظیم ہے کہ اس نے عرب کی انتہائی بدامنی اور فساد و خونریزی سے لبریز سرزمین میں تمہارے اس شہر کو امن کا گہوارہ بنا رکھا ہے، اور جس کے فضل سے تمہارا یہ شہر پورے ملک عرب کا مرکز عقیدت بنا ہوا ہے تم اس کی ناشکری کرنا چاہو تو کرتے رہو، مگر مجھے تو یہی حکم دیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 91–93

خلاصہ تفسیر (اے پیغمبر ﷺ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ) مجھے تو یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر (مکہ) کے مالک (حقیقی) کی عبادت کیا کروں جس نے اس (شہر) کو محترم بنایا ہے (کہ حرم ہونا اسی احترام پر مرتب ہے مطلب یہ ہے کہ عبادت میں کسی کو شریک نہ کروں) اور (اس کی عبادت کیوں نہ کی جاوے جبکہ) سب چیزیں اسی کی (ملک) ہیں اور مجھ کو یہ (بھی) حکم ہوا ہے کہ میں (عقائد و اعمال سب میں) فرمانبردار رہوں (یہ تو توحید کا حکم ہوا) اور (مجھ کو) یہ (بھی حکم ملا ہے) کہ میں (تم کو) قرآن پڑھ پڑھ کر سناؤں (یعنی احکام الہیہ کی تبلیغ کروں جو نبوت کے لوازم میں سے ہے) سو (میری تبلیغ کے بعد) جو شخص راہ پر آوے گا تو اپنے ہی فائدہ کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 91–92

آیت 92-91 آنحضرت ﷺ کے مشن کی وضاحت یہ آخر میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی زبان سے آپ ﷺ کے مشن اور مقصد دعوت کی بالکل فیصلہ کن انداز میں وضاحت کرا دی تاکہ قریش اگر سنبھلنا چاہیں تو سنبھل جانیں ورنہ نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہوجائیں ہمارے نزدیک یہاں انما امرت سے پہلے لفظ قل برنبانے قرینہ محذوف ہے۔ بعد میں اس کی وضاحت ہوگئی ہے چناچہ فرمایا ہے۔ فقل انما انا الٓیۃ اور قل الحمد للہ فرمایا کہ ان لوگوں کو صاف صاف سنا دو کہ مجھے تو یہ ہدایت ہوئی ہے کہ میں اس سرزمین کے اس رب کی بندگی کروں جس نے اس کو محترم ٹھہرایا اور جس کے اختیار ہی میں سب کچھ ہے اور یہ کہ میں اسی کی اطاعت کرنے والوں میں سے بنوں۔ یہ اجمالی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

92-1یعنی میرا کام صرف تبلیغ ہے۔ میری دعوت و تبلیغ سے مسلمان ہوجائے گا، اس میں اسی کا فائدہ ہے کہ اللہ کے عذاب سے بچ جائے گا، اور جو میری دعوت کو نہیں مانے گا، تو میرا کیا ؟ اللہ تعالیٰ خود ہی اس سے حساب لے لے گا اور اسے جہنم کے عذاب کا مزہ چکھائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 90–93

39: اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کی حقانیت اور اپنی قدرت کی بہت سی نشانیاں دنیا میں دکھاتا رہا ہے، مثلا بہت سی پیشگی خبریں جو آپ نے وحی کی بیناد پر دی تھیں، وہ لوگوں نے کھلی آنکھوں پر پوری ہوتی ہوئی دیکھیں، جیسا کہ سورة روم کے شروع میں اس کی ایک مثال آنے والی ہے۔ یہاں اس قسم کی نشانیاں بھی مراد ہوسکتی ہیں، اور قیامت بھی مراد ہوسکتی ہے کہ اس وقت قیامت کے منکر بھی اسے پہچان لیں گے، لیکن اس وقت کا پہچاننا فائدہ مند نہیں ہوگا، کیونکہ ایمان لانے کا وقت گذر چکا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 91–93

اب سورت کے آخر میں آخری ضربات ہیں۔ یہاں یہاں رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی دعوت کا خلاصہ بیان کریں۔ اپنے منہاج کار کی وضاحت کردیں۔ طریقہ دعوت بتا دیں اور تبلیغ کردینے اور خدا کا پیغام پہنچا دینے کے بعد اب ان کو اس انجام کے حوالے کردیں۔ جو اللہ نے ان لوگوں کے لیے پسند فرمایا ہے اس لیے کہ انہوں نے خود اپنے لیے اسے چنا ہے۔ اور بات کا خاتمہ بھی اسی حمد و ثنا پر ہوتا ہے جس کے ساتھ آغاز ہوا تھا۔ انما امرت ان اعبد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما ربک بغافل عما تعملون (27: 91- 93) ” “۔ اہل عرب مکہ مکرمہ کو بیت الحرام اور حرم کو قابل احترام سمجھتے تھے اور مکہ مکرمہ اور حرم شریف کے اس احترام پر ان کی قیادت و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

14 یعنی بذات خود اللہ کی بندگی اور فرمانبرداری کرتا رہوں اور دوسروں کو قرآن سنا کر اللہ کا راستہ بتلاتا رہوں۔ 1 یعنی میں نصیحت کر کے فارغ الذمہ ہوچکا، نہ سمجھو تو تمہارا ہی نقصان ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 92–93

آیت 92 وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ ج ” مجھے تیسرا حکم یہ ملا ہے کہ میں قرآن پڑھوں ‘ پڑھ کر لوگوں کو سناتا رہوں اور اس کی تبلیغ کرتا رہوں۔ سورة المائدۃ کی آیت 67 میں بھی آپ ﷺ کو ایسا ہی حکم دیا گیا ہے : یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَط وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسٰلَتَہٗ ط کہ اے نبی ﷺ ! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے آپ وہ لوگوں تک پہنچادیجیے اور اگر بالفرض آپ نے ایسانہ کیا تو یہ گویا رسالت کے فرائض میں کوتاہی شمار ہوگی۔ فَمَنِ اہْتَدٰی فَاِنَّمَا یَہْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ ج ” اس ہدایت کے بدلے میں اگر وہ آخرت میں کامیاب قرار پاتا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

102 اور یہ حکم ہوا ہے کہ جس قدر قرآن نازل ہوتا جاوے۔ ساتھ کے ساتھ تم لوگوں کو سناتا جاؤں۔ رہی یہ بات کہ تم ان قرآنی آیات کا طرف توجہ دیتے ہو یا نہیں۔ یا سیدھی راہ کی طرف آتے ہو یا نہیں۔ یہ میری ذمہ داری نہیں، میری ذمہ داری صرف قرآن سنا دینا ہے۔ پھر اگر ہدایت قبول کرلو گے تو اس میں تمہارا ہی بھلا ہے۔ دنیا میں اللہ عزت اور اقتدار بخشے گا اور آخرت میں جہنم کے عذاب سے بچ جاؤ گے اور گمراہ ہی رہنا چاہتے ہو تو تمہاری مرضی میں اپنا کام سرانجام دے چکا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

104۔ یعنی میرا کام تو صرف حکم پہنچا دینا، تبلیغ احکام کردینا ہے، باقی جو کوئی مانے گا وہ خود اپنے اجر وثواب ونجات کے لیے اور جو نہ مانے گا وہ بھی خود ہی بھگتے گا، میرا نہ اس سے کوئی نفع نہ اس سے کوئی ضرر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–93

آیت نمبر 83 تا 93 ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے اور وہ ان کے رؤساء مقتدیٰ ہوں گے ان کو روکا جائے گا یعنی آگے پیچھے سے روکا جائے گا پھر ان کو ہانکا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ مقام حساب میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کیا تم نے میرے انبیاء کو میری آیتوں کے ساتھ جھٹلایا تھا حال یہ ہے کہ تم نے ان کی تکذیب کی جہت کا علمی احاطہ نہیں کیا أمَّا میں اَمْ کو ما استفہامیہ میں ادغام کردیا ذَا موصول ہے ای ما الذی اور جن کاموں کا تم کو حکم دیا گیا تھا ان میں سے تم نے کیا کیا کام کئے ؟ اور ان کے ظلم یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان اتلوا القرآن . اور (مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ) میں قرآن پڑھ کر سناؤں۔ اَتْلُوْاتلاوت سے ہے یعنی تبلیغ و دعوت کی غرض سے پڑھ کر سناؤ یا تِلْوٌسے مشتق ہے اور تِلْوٌ کا معنی (پیچھے پیچھے چلنا) اتباع کرنا یعنی اس قرآن کی پیروی کروں (اس کے راستہ پر چلوں) بیضاوی نے لکھا ہے کہ اللہ نے اول مبدء و معاد و قیامت کے احوال لوگوں کے لئے بیان فرما دئیے ‘ اس کے بعد اپنے رسول کو حکم دیا کہ آپ ان کو یہی بات سنا دیجئے۔ اب رسول اللہ کے ذمہ تبلیغ و دعوت کا فریضہ تو باقی نہیں صرف یہی کام رہ گیا کہ اپنے رب کی عبادت میں مستغرق ہوجائیں اور ہر وقت اسی کی یاد میں لگے رہیں۔ اِنَّمَا أُمِرْتُ سے پہلے قُلْ محذوف ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(92) اور مجھے یہ بھی حکم ہوا ہے کہ تمہیں قرآن کریم پڑھ پڑھ کر سناؤں سو جو شخص قرآن کریم پر ایمان لائے گا وہ اپنے فائدے کے لیے ایمان لائے گا اور جو شخص قرآن کریم کا انکار کرے گا تو آپ فرما دیجیے میں صرف قرآن کریم کے ذریعے دوزخ سے ڈرانے والا ہوں پھر اس کے بعد جہاد کا حکم ہوا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى۔۔ : یعنی مجھے یہ حکم ہے کہ میں خود بھی مطیع اور فرماں بردار رہوں اور تمہیں بھی قرآن پڑھ کر سناتا رہوں۔ پھر جو شخص میری دعوت سے راہ راست پر آجائے تو اس کا فائدہ اسی کو ہے اور جو بھٹکا رہے تو کہہ دے کہ میرا کام اللہ کے عذاب سے ڈرانا ہے، کسی کو راہ حق پر لے آنا میرا کام نہیں، نہ ہی مجھ پر اس کی ذمہ داری ہے، جیسا کہ فرمایا : (فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ) [ الرعد : 40 ] ”تو تیرے ذمے صرف پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمے حساب لینا ہے۔“ اور فرمایا : (اِنَّمَآ اَنْتَ نَذِيْرٌ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ) [ ھود : 12 ]”تُو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 91–92

انما امرت ان اعبدرب ھذہ البلدۃ الذی حرمھا مراد مکہ مکرمہ ہے اللہ تعالیٰ نے جس کی حرمت کو عظمت والا بنایا ہے یعنی اسے امن والا حرم بنایا ہے اس میں خون نہیں بہایا جاتا اور اس میں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا، کسی شکار کو شکار نہیں کیا جاتا، اس میں درخت کو نہیں کاٹا جاتا جس کی وضاحت کئی مواقع پر گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس نے التی حرمھا، بلدہ کی صفت پڑھی ہے۔ جماعت کی قرأت الذی ہے یہ محل نصب میں ہے اور رب کی صفت ہے اگر لفظ رب معرف باللام ہوتا تو تو کہتا : المحرمھا اگر یہ بلدہ کی صفت ہوتا تو تو کہتا : المحرمھا ھوا گر تو کہتا : الذی حرمھا تو تو استدلال نہ کرسکتا کہ تو کہتا ہو۔ ولہ کل شیء پیدائش اور ملک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 91–93

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان اعبد رب ہذہ البلدۃ میں البلدۃ سے مراد ہے مکہ۔ 2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ ابن المنذر نے ابن جریرج (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں کو یہ گمان ہے کہ البلدۃ سے مراد مکہ ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو لاعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ البلدۃ سے منی مراد ہے۔ 5۔ ابو عبید وابن المنذر نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود کی قراءت یہ ہے کہ آیت وان اتلوا القرٰن ہے، یعنی اتل امر کا صیغہ ہے۔ اور ابی بن کعب کی قرءت میں ہے آیت وان اتلوا القرآن، (یعنی ان پر قرآن کی تلوت کیجیے۔ 6۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وا بن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَنْ [ اور (حکم دیا گیا) کہ ] اَتْلُوَا [ میں تلاوت کروں ] الْقُرْاٰنَ ۚ [ قرآن میں ] فَمَنِ [ پھر جس نے ] اهْتَدٰى [ ہدایت پائی ] فَاِنَّمَا [ تو کچھ سوائے اس کے کہ ] يَهْتَدِيْ [ وہ ہدایت پاتا ہے ] لِنَفْسِهٖ ۚ [ اپنے (ہی) نفس کے لئے ] وَمَنْ ضَلَّ [ اور جو بھٹکا ] فَقُلْ [ تو آپ ﷺ کہہ دیجئے ] اِنَّمَآ [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اَنَا [ میں ] مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ [ خبردار کرنے والوں میں سے ہوں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(فَمَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ ) (سو جو شخص ہدایت پر آجائے وہ اپنی ہی جان کے لیے اور اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت پر آئے گا اور دنیا اور آخرت کی نعمتوں سے مالا مال ہوگا اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوگی آخرت کے عذاب سے محفوظ رہے گا) (وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ) (اور جو شخص گمراہی کو اختیار کرے تو فرما دیجیے کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں) آپ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور اس میں آپ کا کوئی ضرر بھی نہیں۔ آپ فرما دیجیے کہ میری ذمہ داری صرف بات پہنچانے کی ہے نہ مانو گے تو تم پر اس کا وبال پڑے گا۔ سورة یونس میں فرمایا (یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ قَدْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 91–93

خاتمہء سورت برحکم عبادت وتلاوت قرآن قال اللہ تعالیٰ انما امرت ان اعبدرت ھذہ البلدۃ۔۔۔ الی۔۔۔۔ وما ربک بغافل عما تعملون۔ (ربط) جب اللہ تعالیٰ مبدا اور معاد اور قیامت اور علامات قیامت اور قانون جزا اور سزا کو بیان کرچکے تو اب اس سورت کو تین احکام کے بیان پر ختم کرتے ہیں جن پر آخرت کی کامیابی کا دارومدار ہے۔ (1) ایک تو خدا کی عبادت۔ یعنی توحید خالص۔ (2) دوم دین اسلام پر استقامت۔ (3) سوم قرآن مجید کی تلاوت جو تبلیغ احکام اور دعوت اسلام کا اولین ذریعہ ہے۔ اور بتلا دیا کہ راہ راست پر چلنے سے بندہ ہی کا فائدہ ہے۔ اور نہ چلنے سے بندہ ہی کا نقصان ہے اور اللہ بندوں کے اعمال سے غافل نہیں۔ لہٰذا اعمال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

79:۔ میرا کام تو تبلیغ ہے۔ جو مان لے گا وہ اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو نہ مانے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا میرا فرض یہ ہے کہ میں نہ ماننے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤں اور تکذیب و انکار کے انجام بد سے انہیں خبردار کروں باقی اس چیز کا مجھے علم نہیں کہ وہ عذاب کب آئے گا کیونکہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں، میں غیب داں نہیں ہوں، عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ پہلے دونوں قصوں پر متفرع ہے۔ بطور لف و نشر مرتب۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 89–93

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا رد کیا ۔ پھر توحید کے دلائل بیان کئے ، اللہ کی صفات کا ذکر ہوا ، انسانوں کو نصیحت کی باتیں سمجھائی گئیں اور پھر جزئے عمل کی منزل کا ذکر ہوا ۔ آج تو لوگ اکڑ دکھاتے ہیں اور انبیاء کی بات کو تسلیم نہیں کرتے مگر جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب گھبرا جائیں گے سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ محفوظ رکھے گا ۔ اس دن پہاڑ بادلوں کی طرح اڑیں گے اور پھر جزائے عمل کی منزل آئے گی۔ وحی کا بدلہ اب اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے من جاء بالحسنہ فلہ خیر منھا جو شخص نیکی لے کر آیا اس کے لیے اس نیکی سے بہتر بدلہ ہوگا کیونکہ اللہ کے ہاں ہر نیکی کا اجر کم از…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ۝ 0 ۚ فَمَنِ اہْتَدٰى فَاِنَّمَا يَہْتَدِيْ لِنَفْسِہٖ۝ 0 ۚ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ۝ 92 تلو تَلَاهُ : تبعه متابعة ليس بينهم ما ليس منها، وذلک يكون تارة بالجسم وتارة بالاقتداء في الحکم، ومصدره : تُلُوٌّ وتُلْوٌ ، وتارة بالقراءة وتدبّر المعنی، ومصدره : تِلَاوَة وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2] ( ت ل و ) تلاہ ( ن ) کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنا کے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی اجنبی کو چیز حائل نہ ہو یہ کہیں تو جسمانی طور ہوتا ہے اور کہیں اس کے احکام کا اتباع کرنے سے اس معنی میں اس کا مصدر تلو اور تلو آتا ہے اور کبھی یہ متا بعت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 91–93

ان ما امرت ان اعبد رب ھذہ البلدۃ الخ مبدء و معاو و نبوت میں کلام کرکے سورة کو کس عمدہ خاتمہ پر تمام کرتا ہے جو تمام اگلے مضمون کا خلاصہ ہے۔ اول یہ کہ لوگوں کو کہہ دو کہ مجھ کو صرف اس شہر کے رب کی عبادت کا حکم ہوا ہے۔ یعنی مکہ کے رب کی، صرف اللہ کی عبادت پر مامور ہوں توحید خالص میرا وظیفہ ہے۔ اگرچہ خدا تعالیٰ صرف مکہ کا رب ہے، بلکہ تمام شہروں کا اور کل مخلوقات کا لیکن ھذہ البلدۃ کہنے سے قریش کو انفعال دلانا مقصود تھا کہ وہ رب کہ جس نے تمہارے اس شہر کو متبرک کیا ‘ حرمت دی ‘ جس کی بدولت تم عرب کی مار دھاڑ سے امن میں ہو اور اسی پر کیا منحصر ہے ولہ کل شیء اس کی اور بہت خوبیاں ہیں اور ہر شے اس کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 90–92

اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ ھٰذِہِ الْبَلْدَۃِ الَّذِیْ حَرَّمَھَا وَلَـہٗ کُلُّ شَیْ ئٍ زوَّاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ جفَمَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ جوَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ۔ (النمل : 91، 92) (مجھے تو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اس گھر کو عزت و حرمت والا بنایا ہے اور ہر چیز اسی کے اختیار میں ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداری کرنے والوں میں سے بنوں ۔ نیز یہ بھی کہ میں قرآن پڑھ کر سنائوں، تو جو ہدایت کی راہ اختیار کرے گا وہ اپنے ہی فائدے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 92–93

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کا پہلا حکم اور پیغام یہ ہے کہ ایک ہی رب کی عبادت کی جائے مکہ والوں کو اس سے سخت اختلاف تھا جس بنا پر ان کا مطالبہ تھا کہ یہ قرآن نہ پڑھا جائے۔ مکہ والوں کی آپ کے ساتھ دشمنی کی بنیاد محض قرآن مجید تھا۔ قرآن مجید میں بھی ان کو بالخصوص ان آیات کے ساتھ شدید اختلاف تھا جن میں مکہ والوں کے کفر و شرک کی مذمت کرتے ہوئے انہیں توحید خالص کی دعوت دی گئی ہے۔ نبوت کے ابتدائی سالوں میں اہل مکہ کلی طور پر قرآن مجید کے خلاف تھے لیکن جوں جوں نبی اکرم ﷺ کی دعوت پھیلنے لگی آپ اور آپ کے ساتھیوں نے اس دعوت پر پوری طرح استقامت کا مظاہرہ کیا تو مکہ والوں نے فکری پسپائی اختیار کرتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

92: وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْ ٰانَ (اور یہ حکم ملا کہ میں قرآن کی تلاوت کروں) ۔ اتلوا کو اگر تلاوت مصدر سے بنائیں تو قرآن کی تلاوت کروں اور اگر اس کو التُّلُوُّسے لیا جائے جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے۔ واتبع ما یوحٰی الیک من ربک۔ (الاحزاب) ۔ 2۔ رسول اللہ ﷺ کو حکم ملا کہ آپ کہیں امرت ان اخص اللہ وحدہٗ بالعبادۃ مجھے حکم ملا ہے کہ اللہ تعالیٰ اکیلے کو عبادت کے ساتھ خاص کروں۔ اور قریش کی طرح اس کا شریک نہ بنائوں۔ اور میں ہوجائوں اسلام پر ثابت قدم رہنے والوں میں سے اور ہوجائوں ان میں سے جو ملت اسلام پر جمنے والے ہیں اور قرآن مجید کی تلاوت کروں تاکہ حلال و حرام کا امتیاز کرسکوں۔ جن کا اسلام تقاضا کرتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

92۔ وان اتلوا القرآن، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں قرآن کی تلاوت کروں۔ فمن اھتدی فانما یھتدی لنفسہ، اگر کسی کو ہدایت کے ذریعے نفع عطا کرو گے تاس کا فائدہ تمہیں ہی پہنچے گا۔ ومن ضل، اور جس نے کسی کو ایمان سے ہدایت کے طریقے سے گمراہ کیا۔ فقل انما انا من المنذرین، آپ انہیں کہہ دیں کہ میں تو صرف ڈرانے والاہوں اور میرے اوپرصرف پہنچادینا ہے یہ آیت قتال والی آیت سے منسوخ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 91–93

91 تا 93۔ اوپر کی آیتوں میں مشرکین مکہ کو حشر سے ڈرا کر ان آیتوں میں پیغمبر ﷺ کو فرمایا ہے کہ اے رسول اللہ ﷺ کو فرمایا ہے کہ اے رسول اللہ کے کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو مجھ کو تو اللہ کا یہی حکم ہے کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی بندگی کروں جس کو اس نے ادب والا بنایا اور انسان اور اس کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس نے اپنی قدرت سے اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے شرع میں شہر مکہ کی بڑی تعظیم اور بڑا ادب ہے چناچہ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 4 ؎ ہے کہ پیغمبر ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا آسمان و زمین کی پیدائش کے وقت سے اللہ تعالیٰ نے شہر مکہ کو ادب والا بنایا ہے پھر فرمایا ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 91–93

(آیت 91 اے محمد ﷺ ان سے کہہ دیجئے : (انما امرت ان اعبد رب ھذہ البلدۃ) ” مجھے یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں۔ “ یعنی مکہ مکرمہ (الذی حرمھا) ” جس نے اس کو محترم بنایا۔ “ اور اس کے رہنے والوں کو نعمتوں سے بہرہ ور کیا۔ پس اس لئے ان پر واجب ہے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ (الہ کل شیء) عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام اشیاء کا وہی مالک ہے اور یہ فقرہ اس وہم کے ازالے کے لئے استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت صرف بیت حرام سے مختص ہے (وامرت ان اکون من المسلمین) (1) (1۔ یہاں مصنف نے سبقت قلم سے (وامرت ان اکون اول المسلمین) لکھ دیا ہے اور اسی کے مطابق تفسیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 91–92

100 پیغمبر کا کام انذار و تبلیغ اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کی زبان پر ارشاد فرمایا گیا کہ میرا کام تو بہرحال یہی ہے کہ میں اس شہر کے اس رب کی ہی عبادت و بندگی کرتا رہوں جس نے اس کو حرمت والا بنایا ہے اور یہ کہ میں فرماں برداروں میں سے رہوں اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں قرآن سناتا جاؤں۔ سو اس کے بعد جس نے راہ حق و ہدایت کو اپنایا اس کا اپنا ہی بھلا اور جو بھٹک گیا اس کی ذمہ داری خود اسی پر۔ میرا کام تو صرف خبردار کردینا ہے اور بس۔ اور وہ میں اپنے بس کی حد تک کرچکا۔ اس سے آگے میری کوئی ذمہ داری نہیں۔ حق کو منوانا اور تمہارے دلوں میں اس کو اتار دینا نہ میرے بس میں ہے اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 82–93

قیامت قریب ہے ‘ نیکو کاروں کو خوشخبری اور بد کا روں کے لیے وعید تشریح : ان آیات میں قرب قیامت کا ذکر کرتے ہوئے دابۃ الارض کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک جانور زمین میں سے نکلے گا اور انسانوں سے باتیں کرے گا۔ مسند احمد میں سیدنا حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ (1) آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا۔ (2) دخان۔ (3) دابہ۔ (4) خروج یاجوج ماجوج۔ (5) نزول عیسیٰ علیہ السلام۔ (6) دجال۔ (7) تین خسوف ‘ ایک مغرب میں دوسرا مشرق میں تیسرا جزیرۃ العرب میں ہوگا۔ (8) ایک آگ جو قصرعدن سے نکلے گی۔ سیدقطب شہید صاحب (رح) ظلال القرآن میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 83–93

آیات 83 تا 93 اسرار و معارف ایک روز ہم ان سب کو میدن حشر میں جمع فرمائیں گے اور ہر امت سے اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والوں کو الگ کرلیا جائے گا اور یوں جب حاضر کیے جائیں گے تو سوال ہوگا کہ تم نے ہماری آیتوں کا انکار کردیا یا بغیر سوچ بچار کے ہی کردیا تھا یا تم نے کوشش تو کی مگر حقیقت کو نہ پا سکے تو چونکہ ان کا جرم ثابت ہوگا لہذا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی بات کرسکیں گے۔ بھلا انہیں دوبارہ زندہ کیے جانے کی سمجھ نیند سے کیوں نہیں آتی کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات کو آرام کے لیے بنایا ہے اور انسان سو کر آرام حاصل کرتا ہے اور نیند میں بھی تو روح کا تعلق بدن سے ایک گونہ کمزور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:92) اتلوا مضارع منصوب بوجہ عمل ان واحد متکلم تلاوۃ مصدر۔ تلو مادہ۔ میں تلاوت کروں۔ میں پڑھوں۔ اھتدی۔ ماضی واحد مذکر غائب اھتداء (افتعال) مصدر۔ اس نے ہدایت اختیار کی ۔ وہ راہ پر آیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 87–93

لغات القرآن : آیت نمبر 87 : 93 : ینفخ (پھونک ماری جائے گی) فزع (گھبرا گیا) داخرین (عاجزی کرنے والے) تحسب (تو گمان کرتا ہے) ‘ جامدۃ (جمع ہوجانے والی) تمر (وہ چلے گی) السحاب (بادل) صنع اللہ (اللہ کی کاری گری) کبت (اوندھا پھینک دیا گیا) ‘ ھل تجزون ( کیا تم بدلہ دیئے جائو گے) امرت ( میں حکم دیا گیا ہوں) البلدۃ (شہر) حرم ( قابل احترام بنایا) ان اتلو (یہ کہ میں تلاوت کروں گا) سیری (وہ بہت جلد دکھائے گا) ‘ تعرفون (تم پہچانتے ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر 87 تا 93 : قرآن کریم میں متعدد مقامات پر قیامت اور اس دن کی ہولناکی کو بیان کیا گیا ہے۔ یہاں پر ایک اصولی بات ارشاد فرمائی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس دن…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 91–93

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محبوب تم فرماؤ کہ مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی عبادت کروں، جس نے اس شہر کو امن والا کیا کہ وہاں آدمی جانور قتل وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے واسطے ہر چیز ہے اور مجھ کو حکم ہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہون اور اللہ کو ایک جانوں اور تمہارے سامنے قرآن کو پڑھوں تاکہ تم ایمان لاؤ تو جو راہ پر آئے گا تو اپنے بھلے کے آوے گا اور جو کوئی بہکار ہے تو تم فرمادو کہ میں تو ڈرانے والے پیغمبروں میں سے ہوں اور میرے ذمہ تو پہنچادینا ہے اور سب خوبیاں اللہ کے لیے ہیں تم کو عنقریب اپنی نشانیاں شق القمر وغیرہ معجزات اور بدر کے واقعات کہ قتل کا ہونا قید ہونا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 88–92

[32] یعنی یہ اللہ کی صناعی ہے کہ ایک مضبوط اور مستحکم چیز ایک ذرا سی کل مروڑ دینے سے بادلوں کی طرح اڑنے لگے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 92–93

اسلام دین صداقت ہے 1: سورة نمل میں مکہ والوں کے تمام اعتراضات اور شکوک کو دور کیا گیا ہے ! اور ان تمام چیزوں کی تفصیل بیان کردی ہے ۔ جن کی ان کو رشدوہدایت کے سلسلہ میں ضرورت تھی ! اب ان آیات میں یہ بتلایا ہے کہ ان حقائق کو وضاحت کے بعد بھی اگر تم لوگوں کو توفیق سعادت نصیب نہ ہو ۔ تو میں اس بات کا ذمہ دار نہیں ۔ میں تمہارے اعتقادات اور خواہشات کی پیروی نہیں کرسکتا میں تو مجبور ہوں ۔ کہ رب کعبہ کی پرستش کروں ۔ جس نے کعبہ کو حرمت بخشی اور اس کو ساری کائنات کیلئے مرکزبنایا میں مجبور ہوں ۔ کہ صرف اسلام کو حق وصداقت سے تعبیر کروں ۔ کیونکہ یہی ایک مسلک ہے جو انسانیت کے لئے مفید ہے ۔ جو دل کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 92–93

92۔ اور آپ کہہ دیجئے سب خوبیاں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ثابت ہیں وہ تم کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے گا سو اس وقت تم ان نشانیوں کو پہچان لو گے اور آپ کا پروردگار ان کاموں سے بیخبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہو ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور کہو سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے سزا وار ہیں وہ تم کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے گا جن کو تم پہچان لو گے۔ یعنی قرآن کریم کی صداقت اور اسلام کی حقانیت اور وقوع قیامت کے ایسے ایسے نشان دکھائے گا جن کو تم بھی جان لو گے اب ان نشانیات کو دیکھ کر ایمان لائو یا نہ لائو یہ تمہاری مرضی ہے یا ایسے وقت ایمان لانے پر آمادہ ہو جب ایمان لانا مفید نہ ہو اور آپ کا پروردگار ان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 92–93

ف 1۔ یعنی اس کو اجر وثواب و نجات ہوگی، میں اس سے کسی مالی یا جاہی نفع کا خواہاں نہیں ہوں۔ 2۔ یعنی میرا کام صرف حکم پہنچانا ہے، سو پہنچا کر سبکدوش ہوجاوں گا، آگے نہ ماننے کا وبال تم کو بھگتنا پڑے گا، مطلب یہ کہ میں پیغمبر ہوں اور تم سے کوئی غرض نہیں رکھتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میرا کام تم کو قرآن کریم سنانا ہے ہدایت دینا نہیں اور جو یندہ ہی یا بندہ ہوتا ہے : 92۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اپنی قوم کے لوگوں کو مخاطب کرکے فرما رہے ہیں کہ میرا کام یہ ہے کہ میں تم کو قرآن کریم کی تلاوت سناؤں کیونکہ وہ تمہاری اپنی ہی زبان میں نازل ہوا ہے اور اس نے براہ راست تم کو مخاطب کیا ہے ہدایت دینا میرے اختیار میں نہیں ہاں ! تم میں سے جو شخص ہدایت حاصل کرے گا اس کا اپنا فائدہ ہے اور جس نے اس سے ہدایت حاصل کرنے کی کوشش نہ کی اور اپنی گمراہی پر جما رہا تو اس کا نقصان اس کو پہنچے گا میرا کام تو بس ڈرانا ہے اور میں اپنا کام کر رہا ہوں اور جب تک ہوں کرتا رہوں گا ۔ سبحان اللہ ! کس طرح نبی اعظم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 91–93

Commentary رَ‌بَّ هَـٰذِهِ الْبَلْدَةِ (the Lord of this city - 27:91). Majority of the commentators have taken the word o=ff "Baldah" (the city) for Makkah. Allah Ta’ ala is the Lord of all the worlds and the Lord of heavens and earth. Therefore, the particular mention of Makkah here is to show its revered splendor, and its respect and honour in the sight of Allah Ta a1a. Word Haram is derived from Tahrim, which means "to prohibit" and also means "complete respect and veneration", and because of this respect and veneration whatever special religious prohibitions are applicable to Makkah and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 91–93

110 As this Surah was sent down at a stage when the message of Islam was confined to Makkah and its addressees were the people of that City only, it was said, "I have been commanded that I should worship the Lord of this City." And the characteristic of the Lord was stated to be that He had made that City sacred. This was meant to warn the disbelievers of Makkah, as if to say, " You may if you so like prove thankless to that God Who has done you the great favour of making this City of yours a haven of peace in the strife-ridden land of Arabia, and Who by His grace has made it the centre of…

Read the full tafseer →