27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 27:1–2

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

طس، یہ قرآن اور کتاب روشن کی آیتیں ہیں

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

مومنوں کے لئے ہدایت اور بشارت

(1۔ 2) طس، طاء سے طول اور سین سے خوبصورتی ونزاکت مراد ہے یا یہ کہ ایک قسم ہے یہ سورت قرآن کریم اور ایک ایسی کتاب کی آیتیں ہیں جو کہ حلال و حرام کو واضح کرنے والی ہیں یہ آیتیں ہیں ایمان والوں کے لیے گمراہی سے ہدایت کے لیے اور جنت کی خوشخبری سنانے والی ہیں۔
Ayah 27:3

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

وہ جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور وہ آخرت کا یقین رکھتے ہیں

(3) اب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے اوصاف بیان فرماتا ہے کہ جو پانچوں نمازوں کی کمال وضو، رکوع، اور سجود اور تمام آداب کی رعایت کے ساتھ پابندی کرتے ہیں اور اپنے اموال کی زکوٰۃ دیتے ہیں اور بعث بعد الموت اور جنت و دوزخ پر پورا یقین رکھتے ہیں۔
Ayah 27:4

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ہم نے انکے اعمال انکے لئے آراستہ کردیے ہیں تو وہ سرگرداں ہو رہے ہیں

(4) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کی نظر میں ان کے اعمال کفریہ مرغوب کر رکھے ہیں جیسا کہ ابوجہل اور ان کے ساتھی سو وہ بھٹکتے پھرتے ہیں اور ان کو کچھ نہیں سوجھتا۔
Ayah 27:5

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لئے برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہیں

(5) ایسے لوگوں کے لیے دوزخ میں سخت ترین عذاب ہوگا اور یہ لوگ قیامت کے دن جنت کے ہاتھ سے نکل جانے اور دوزخ میں داخلہ کی وجہ سے نقصان اٹھانے والوں میں ہوں گے۔
Ayah 27:6

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور تم کو قرآن (خدائے) حکیم وعلیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے

(6) اور اے محمد ﷺ آپ پر یہ قرآن حکیم بذریعہ جبریل امین ؑ یقین کے ساتھ ایک بڑی حکمت والے علم والے کی جانب سے نازل کیا جارہا ہے۔
Ayah 27:7

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے میں وہاں سے (راستہ کا) پتہ لاتا ہوں یا سلگتا ہوا انگارا تمہارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم تاپو

(7) اس وقت کا واقعہ بیان کیجیے جب کہ موسیٰ ؑ مدین سے واپسی پر راستہ بھول گئے تھے تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے راستہ کے بائیں جانب آگ دیکھی تم یہیں ٹھہرے رہو میں ابھی جا کر آگ کے پاس سے یا تو راستہ کی کوئی خبر لاتا ہوں یا تمہارے پاس آگ کا شعلہ کسی لکڑی وغیرہ میں لگا ہوا لاتا ہوں تاکہ تم سینک لو کیونکہ اس وقت سردی کی شدت تھی۔
Ayah 27:8

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ وہ جو آگ میں (بجلی دکھاتا) ہے بابرکت ہے اور وہ جو آگ کے اردگرد ہیں اور خدا جو تمام عالم کا پروردگار ہے

(8) چناچہ جب موسیٰ ؑ اس آگ کے پاس پہنچے تو ان کو اللہ کی طرف سے آواز دی گئی ہے کہ جو اس آگ میں یعنی فرشتے ہیں ان پر بھی برکت ہے اور جو اس آگ کے پاس ہے (یعنی موسیٰ علیہ السلام) اس پر بھی برکت ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ ذات بہت ہی بابرکت ہے کہ جس کے نور سے یہ نور ہے یا یہ کہ جو تلاش میں ہیں یعنی حضرت موسیٰ ؑ اور جو ان کے گرد فرشتے ہیں ان سب پر برکت ہو اور اللہ رب العزت کی ذات پاک ہے۔
Ayahs 27:9–10

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

پاک ہے اے موسیٰ میں ہی خدائے غالب و دانا ہوں

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور اپنی لاٹھی ڈالدو جب اسے دیکھا تو (اس طرح) ہل رہی تھی گویا سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا (حکم ہوا کہ) موسیٰ ڈرو مت ہمارے پاس پیغمبر ڈرا نہیں کرتے

(9۔ 10) ارشاد ہوا اے موسیٰ ؑ بات یہ ہے کہ میں اللہ ہوں اور جو میرے اوپر ایمان نہ لائے اس کو سزا دینے میں زبردست ہوں اور اپنے حکم اور فیصلہ میں حکمت والا ہوں۔ میں نے اس چیز کا حکم دیا ہے کہ میرے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کی جائے اور تم ہاتھ میں سے اپنا عصا زمین پر ڈال دو ، چناچہ انہوں نے ڈال دیا، سو جب حضرت موسیٰ ؑ نے اس کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا جیسے سانپ ہو تو وہ اس سے مڑ کر بھاگے اور اس کے ڈر کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ارشاد خداوندی ہوا اے موسیٰ ؑ ڈور نہیں اور ہمارے حضور میں پیغمبر نہیں ڈرا کرتے۔
Ayah 27:11

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا تو میں بخشنے والا مہربان ہوں

(11) ہاں مگر جس سے کوئی خطا ہوجائے اور پھر وہ اس خطا سے توبہ کرے تو اس کو بھی ڈرنا نہیں چاہیے کیونکہ میں تائب کی مغفرت کرنے والا اور جو توبہ کی حالت میں مرے اس پر رحم کرنے والا ہوں۔
Ayah 27:12

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو سفید نکلے گا بےعیب (ان دو معجزوں کے ساتھ جو) نو معجزوں میں (داخل ہیں) فرعون اور اسکی قوم کے پاس جاؤ کہ وہ بےحکم لوگ ہیں

(12) اور تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں لے جاؤ اور پھر نکالو تو وہ بلاکسی عیب یعنی برص کے روشن ہو کر نکلے گا اور دونوں معجزے ان نو معجزوں میں سے ہیں جن کو دے کر تمہیں فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے کیوں کہ وہ حد سے بڑھے ہوئے لوگ ہیں۔
Ayah 27:13

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں پہنچی کہنے لگے یہ صریح جادو ہے

(13) غرض کہ جب موسیٰ ؑ ان لوگوں کے پاس ہمارے دیے ہوئے معجزات لے کر پہنچے جو نہایت واضح تھے اور یکے بعد دیگرے وہ دکھائے تو وہ لوگ کہنے لگے کہ موسیٰ ؑ جو ہمارے پاس لے کر آئے ہیں یہ کھلا جادو ہے۔
Ayah 27:14

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور بےانصافی اور غرور سے ان سے انکار کیا کہ ان کے دل ان کو مان چکے تھے سو دیکھ لو کہ فسان کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا

(14) اور غضب یہ کہ ظلم وعناد اور تکبر کی وجہ سے ان معجزات کے منکر ہوگئے حالانکہ ان کے دلوں نے اس بات کا یقین کرلیا تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہیں تو آپ دیکھیے کہ ان مشرکین یعنی فرعون اور اس کی قوم کا کیسا برا انجام ہوا کہ ہم نے سب کو دریا میں غرق کردیا۔
Ayah 27:15

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم بخشا اور انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے اپنے مومن بندوں پر فضیلت دی

(15) اور ہم نے داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کو شریعت اور حکومت کا علم اور فہم عطا فرمائی اور ان دونوں نے شکر ادا کرنے کے لیے فرمایا کہ تمام تعریفوں کا اللہ تعالیٰ ہی حق دار ہے جس نے ہمیں علم اور فہم عطا فرمائی اور ان دونوں نے شکر ادا کرنے کے لیے فرمایا کہ تمام تعریفوں کا اللہ تعالیٰ ہی حق دار ہے جس نے ہمیں علم اور نبوت کے ذریعے اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی اور داؤد ؑ کے نو لڑکے تھے۔
Ayah 27:16

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور سلیمان داؤد کے قائم مقام ہوئے اور کہنے لگے کہ لوگو ! ہمیں (خدا کی طرف سے) جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز عطا فرمائی گئی ہے بیشک یہ اسکا صریح فضل ہے

(16) ان سب میں داؤد ؑ کی وفات کے بعد ان کی سلطنت کے جانشین سلیمان ؑ ہوئے اور سلیمان ؑ نے فرمایا اے لوگو ہمیں کو پرندوں کی بولی سمجھنے کی تعلیم دی گئی اور سامان سلطنت کے متعلق ہر قسم کی ضروری چیزوں کا علم دیا گیا، حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے اوپر بہت بڑا انعام ہے۔
Ayah 27:17

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور سیلمان کے لئے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے اور قسم وار کئے جاتے تھے

(17) اور سلیمان ؑ کے لیے جو ان کا تمام لشکر جمع کیا گیا تو اس کو چلنے کے وقت روکا جایا کرتا تھا تاکہ سب جمع ہوجائیں اور متفرق نہ ہوں۔
Ayah 27:18

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہوجاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اسکے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو

(18) چناچہ ایک مرتبہ سرزمین شام میں ایک چیونٹیوں کے میدان پر سے گزر ہوا تو عرجاء یا منذرہ نامی ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا اے چیونٹیو اپنے سوراخوں میں جا گھسو کہیں تمہیں سلیمان اور ان کا لشکر بیخبر ی میں نہ کچل ڈالیں یا یہ کہ سلیمان ؑ کے لشکر نے چیونٹی کی یہ بات نہیں سمجھی۔
Ayah 27:19

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

تو وہ اس کی بات سن کر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے پروردگار ! مجھے توفیق عطا فرما کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کئے ہیں ان کا شکر کروں اور ایسے نیک کام کروں کہ تو ان سے خوش ہوجائے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما

(19) غرض کہ سلیمان ؑ نے اس کی بات سنی اور اس عقل مندی متعجب ہو کر مسکراتے ہوئے ہنس پڑے اور ان کا لشکر اس کی بات نہ سمجھ سکا اور کہنے لگے اے میرے رب مجھے اس بات کی توفیق دیجیے کہ میں آپ کی ان نعمتوں کا شکر ادا کیا کروں جو آپ نے توحید کے صلہ میں مجھ کو اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی ہیں اور یہ کہ میں ایسے نیک کام کروں جن کو آپ قبول فرمائیں اور مجھ کو اپنے خصوصی فضل سے جنت میں اپنے نیک بندوں یعنی انبیاء کرام میں شامل کر لیجیے۔
Ayah 27:20

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

اور انہوں نے جانوروں کا جائزہ لیا تو کہنے لگے کہ کیا سبب ہے کہ ہدہد نظر نہیں آتا ؟ کیا کہیں غائب ہوگیا ہے

(20) ایک بار یہ قصہ ہوا کہ سلیمان ؑ نے تمام پرندوں کی حاضری لی تو ہدہد کو نہ دیکھا تو فرمانے لگے کیا بات ہے کہ میں ہدہد کو اس کی جگہ پر نہیں پاتا اگر وہ پرندوں میں سے کہیں غائب ہوگیا ہے۔
Ayah 27:21

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا میرے سامنے (اپنی بےقصوری) کی دلیل صریح پیش کرے

(21) تو میں اس کے پر اکھاڑ دوں گا پرندوں کی یہی سزا تھی یا اس کو ذبح کر ڈالوں گا یا وہ اپنی غیر حاضری کا معقول عذر پیش کرے۔
Ayah 27:22

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ (ہد ہد آموجود ہو اور) کہنے لگا کہ مجھے ایک ایسی چیز معلوم ہوئی ہے جس کی آپ کو خبر نہیں اور میں آپ کے پاس (شہر) سبا سے ایک سچی خبر لے کر آیا ہوں

(22) تھوڑی ہی دیر میں وہ آگیا اور حضرت سلیمان ؑ سے کہنے لگا کہ میں ایسی جگہ ہو کر آیا ہوں جہاں ابھی تک آپ نہیں گئے اور ایسی بات معلوم کرکے آیا ہوں جو آپ کو معلوم نہیں ہوئی میں آپ کے پاس ملک سبا کی ایک تحقیقی خبر لایا ہوں۔
Ayah 27:23

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے اور ہر چیز اسے میسر ہے اور اس کا ایک بڑا تخت ہے

(23) وہ یہ کہ میں نے بلقیس نامی ایک عورت کو دیکھا ہے جو ان لوگوں پر بادشاہت کررہی ہے اور اس کو اپنے شہر میں ہر قسم کا سامان میسر ہے اور اس کے پاس ایک بڑا قیمتی خوب صورت تخت ہے جس پر جواہرات اور موتی جڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 27:24

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم خدا کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے انکے اعمال انھیں آراستہ کر دکھائے ہیں اور انکو راستے سے روک رکھا ہے پس وہ راستے پر نہیں آئے (اور نہیں سمجھتے)

(24) میں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کی پوجا کر رہے ہیں اور شیطان نے اس سورج کی پوجا کو ان کی نظر میں پسندیدہ بنا کر رکھا ہے اور ان کو شیطان نے راہ حق اور ہدایت سے روک رکھا ہے سو وہ راہ حق پر نہیں چلتے۔
Ayahs 27:25–26

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

کہ خدا کو جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کردیتا اور تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اعمال کو جانتا ہے کیوں نہ سجدہ کریں

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی عرش عظیم کا مالک ہے

(25۔ 26) اور میں نے ان سے کہا کہ اس اللہ کو کیوں سجدہ نہیں کرتے جو آسمان و زمین کی پوشیدہ چیزوں کو باہر لاتا ہے جن میں سے بارش اور نباتات بھی ہیں۔ یا یہ کہ یہ حضرت سلیمان ؑ کا قول ہو کہ ہدہد سے سن کر انہوں نے ایسا فرمایا ہو اور تم لوگ جو کچھ نیکی و برائی دل میں چھپا کر رکھتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو وہ سب کو جانتا ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔
Ayah 27:27

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

(سلیمان نے) کہا (اچھا) ہم دیکھیں گے تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے

(27) یہ سن کر حضرت سلیمان ؑ نے ہدہد سے فرمایا ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تو سچا ہے یا جھوٹا۔
Ayah 27:28

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

یہ میرا خط لے جا اور اسے انکی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں

(28) میرا یہ خط لے جا اور ان کے پاس ڈال دینا پھر ذرا وہاں سے ہٹ جانا کہ وہ دیکھ نہ سکیں پھر دیکھنا کہ میرے خط کے بارے میں وہ آپس میں کیا گفتگو اور سوال و جواب کرتے ہیں۔
Ayahs 27:29–32

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

(ملکہ نے) کہا دربار والو ! میری طرف ایک نامہ گرامی ڈالا گیا ہے

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

(بعد اس کے یہ) کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور مطیع و منقاد ہو کر میرے پاس چلے آؤ

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

(خط سنا کر) کہنے لگی کہ اہل دربار میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو جب تک تم حاضر نہ ہو (اور اصلاح نہ دو) میں کسی کام کو فیصل کرنے والی نہیں

(29 تا 32) غرض کہ ہدہد نے حضرت سلیمان ؑ کے حکم کے مطابق ایسا ہی کیا اور اس خط کو حضرت بلقیس نے اٹھا لیا اور پڑھ کر اپنے سرداروں کو مشورہ کے لیے جمع کیا اور ان سے کہا کہ میرے پاس ایک مہر شدہ باوقعت خط ڈالا گیا ہے اور وہ حضرت سلیمان ؑ کی طرف سے ہے۔ اور اس میں یہ مضمون ہے کہ اول ،”۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم“۔ پھر یہ کہ تم لوگ میرے مقابلہ میں تکبر مت کرو اور میرے پاس مطیع وفرمانبردار ہو کر چلے آؤ۔ اس کے بعد حضرت بلقیس نے درباریوں سے فرمایا کہ تم مجھے اس معاملہ میں اپنی رائے اور مشورہ دو اور میں کبھی کسی معاملہ میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک کہ تم میرے پاس موجود نہ ہو اور مجھے مشورہ نہ دو۔
Ayah 27:33

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم بڑے زور آور سخت جنگجو ہیں اور حکم آپ کے اختیار میں ہے تو جو حکم کیجیے گا (اس کے مآل پر) نظر کرلیجئے گا

(33) وہ لوگ کہن لگے ہم ہتھیاروں کے اعتبار سے بڑے طاقتور ہیں اور لڑنے والے بھی ہیں باقی جیسی آپ کی رائے ہو آپ جیسا ہمیں حکم دیں ہم اس کی بجا آوری کے لیے تیار ہیں۔
Ayah 27:34

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اسکو تباہ کردیتے ہیں اور وہاں عزت والوں کو ذلیل کردیا کرتے ہیں اور اسی طرح یہ بھی کریں گے

(34) یہ سن کر حضرت بلقیس نے حکمت آمیز گفتگو کی وہ یہ کہ والیان ملک جب کسی بستی میں غلبہ اور لڑائی کے ذریعے سے داخل ہوتے ہیں تو اس کو تہہ وبالا کردیتے ہیں اور جو عزت والے ہوتے ہیں ان کو قتل کے ذریعے ورسوا کردیتے ہیں چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ والیان ملک بڑائی میں ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔
Ayah 27:35

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور میں انکی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں

(35) اور سردست میں حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں کچھ تحائف بھیجتی ہوں پھر دیکھوں گی کہ قاصد وہاں سے کیا جواب لاتے ہیں۔
Ayah 27:36

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

جب (قاصد) سلیمان کے پاس پہنچا تو سلیمان نے کہا کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو جو کچھ خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ تم ہی اپنے تحفے سے خوش ہوتے ہو گے

(36) چانچہ جب قاصد نے حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں پہنچ کر تحائف پیش کیے تو حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا کیا تم لوگ ان تحائف سے میری مدد کرنا چاہتے ہو سو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھے بادشاہت اور نبوت دے رکھی ہے وہ اس مال سے کہیں بہتر ہے جو تمہیں دے رکھا ہے اگر میں تمہارے تحفہ کو واپس کردوں تو تم ہی اس پر اتراؤگے۔
Ayah 27:37

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

اس کے پاس واپس جاؤ ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس کے مقابلے کی انکو طاقت نہ ہوگی اور انکو وہاں سے بےعزت کر کے نکال دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے

(37) اپنے تحائف لے کر ان لوگوں کے پاس لوٹ جاؤ ہم ان پر ایسی فوجیں بھیجتے ہیں کہ ان لوگوں سے ان کا ذرا بھی مقابلہ نہیں ہو سکے گا اور ہم ان کو ملک سبا سے اطاعت کا طوق ان کی گردنوں میں ڈال کر نکال دیں گے اور وہ ذلت کے ساتھ ہمیشہ ہمارے ماتحت ہوجائیں گے۔
Ayah 27:38

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

(سلیمان) نے کہا کہ اے دربار والو ! کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اسکے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر ہمارے پاس آئیں ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے

(38) اس کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے درباریوں سے کہا کہ تم میں کوئی ایسا شخص ہے کہ بلقیس کا تخت اس سے پہلے کہ وہ لوگ میرے پاس مطیع ہو کر آئیں حاضر کر دے
Ayah 27:39

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اسکے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اسکو پاس لا حاضر کرتا ہوں اور میں اس (کے اٹھانے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں

(39) یہ سن کر ایک عمر و نامی قوی ہیکل جن نے کہا کہ میں اس کو لا کر آپ کی خدمت میں حاضر کر دوں گا اس سے پہلے کہ آپ اپنے اجلاس سے اٹھیں اور حضرت سلیمان ؑ کا اجلاس قضا آدھی رات تک ہوتا تھا۔ اور میں اس کے اٹھانے پر طاقت رکھتا ہوں اور اس میں جو جواہرات اور موتی اور سونا و چاندی لگا ہوا ہے اس پر امانت دار بھی ہوں۔ حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا میں اس سے جلدی منگوانا چاہتا ہوں۔
Ayah 27:40

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

ایک شخص جس کو کتاب الہی کا علم تھا کہنے لگا کہ میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا (اور) کرم کرنے والا ہے

(40) اس کے بعد آصف بن برخیانامی ایک شخص نے جو اسم اعظم یعنی ”یاحی یا قیوم“ جانتا تھا عرض کیا کہ میں اس کو آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے یعنی جیسا کہ آپ کو کوئی چیز فاصلہ سے نظر آئی، اس چیز کے آپ تک پہنچنے سے پہلے آپ کے سامنے لا کر حاضر کرتا ہوں۔ غرض کہ جب حضرت سلیمان ؑ نے اس تخت کو اپنے تخت کے پاس رکھا ہوا دیکھا تو خوش ہو کر آصف سے فرمانے لگے کہ یہ میرا پروردگار کا فضل ہے تاکہ وہ میری آزمائش کرے کہ میں اس کی نعمتوں کا شکر کرتا ہوں یا خدا نخواستہ ناشکری کرتا ہوں۔ اور جو اس کی نعمتوں کا شکر کرتا ہے وہ اپنے ہی نفع اور ثواب حاصل کرنے کے لیے شکر کرتا ہے اور اسی طرح جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب اس کے شکر سے غنی ہے اور تائب کو معاف فرمانے والا ہے اور ایسے ہی سزا دینے میں جلدی نہیں فرماتا۔