27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 27:41

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان نے کہا کہ ملکہ کے (امتحان عقل کے) لئے اس کے تخت کی صورت بدل دو دیکھیں کہ وہ سوجھ رکھتی ہے یا ان لوگوں میں ہے جو سوجھ نہیں رکھتے

(41) پھر حضرت سلیمان ؑ نے حکم دیا کہ بلقیس کے تخت کی شکل بدل دو یعنی اس میں کچھ کمی بیشی کر دو تاکہ ہم دیکھیں کہ ان کو اس کا پتا چلتا ہے یا نہیں۔
Ayah 27:42

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

جب وہ آپہنچی تو پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے ؟ اس نے کہا یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی (سلیمان کی عظمت و شان کا) علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں

(42) چناچہ جب بلقیس آئیں تو حضرت سلیمان ؑ نے ان کو تخت دکھا کر فرمایا کہ کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے وہ کہنے لگیں ہاں ہے تو ایسا ہی اور ہمیں تو اس واقعہ سے پہلے ہی آپ کی نبوت کی تحقیق ہوگئی۔
Ayah 27:43

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور وہ جو خدا کے سوا (اور کی) پرستش کرتی تھی (سلیمان نے) اسکو منع کیا (اس سے پہلے تو) وہ کافروں میں سے تھی

(43) اور ہم تو اسی وقت سے فرمانبردار ہوگئے تھے یا یہ کہ حضرت سلیمان ؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس تبدیلی کی سمجھ اور بلقیس کے آنے سے پہلے انکے تخت لانے کی قوت عطا فرمائی اور حضرت سلیمان ؑ نے ان کو یا اللہ تعالیٰ نے سورج کی پوجا سے بلقیس کو روک دیا کیوں کہ وہ پہلے مجوس قوم میں سے تھیں۔
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

(پھر) اس سے کہا گیا کہ محل میں چلئے جب اس نے اس (کے فرش) کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا اور (کپڑا اٹھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں (سلیمان نے کہا) یہ ایسا محل ہے جس میں (نیچے بھی) شیشے جڑے ہوئے ہیں وہ بول اٹھی کہ پروردگار میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی تھی اور (اب) میں سلیمان کے ہاتھ پر خدائے رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں

(44) اس کے بعد بلقیس سے کہا گیا کہ اس محل میں داخل ہو تو جب بلقیس نے اس کا صحن دیکھا تو پانی سے بھرا ہوا سمجھا اور اندر داخل ہونے کے لیے دامن اٹھائے۔ اس وقت حضرت سلیمان ؑ نے ان سے فرمایا یہ تو ایک محل ہے جو شیشوں سے بنایا گیا ہے اور یہ حوض بھی شیشہ سے پٹا ہوا ہے لہذا گھبرانے اور دامن اٹھانے کی ضرورت نہیں اندر چلی آؤ اس وقت بلقیس کے دل میں حضرت سلیمان ؑ کی دینی و دنیوی عظمت کمال کو پہنچ گئی اور کہہ اٹھیں کہ اے میرے پروردگار میں نے سورج کی پوجا کر کے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور اب میں حضرت سلیمان ؑ کے ہاتھ پر رب العالمین پر ایمان لے آئی۔
Ayah 27:45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا کہ خدا کی عبادت کرو تو دو فریق ہو کر آپس میں جھگڑنے لگے

(45) اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے نبی حضرت صالح ؑ کو یہ پیغام دے کر بھیجا کہ تم کفر وشرک سے توبہ کرو اور توحید خداوندی کا اقرار کرلو تو ان میں مومن و کافر کے دو گروہ ہوگئے جو دین کے بارے میں باہم جھگڑنے لگے۔
Ayah 27:46

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

(صالح نے) کہا کہ بھائیو تم بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی کرتے ہو ؟ (اور) خدا سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے ؟

(46) حضرت صالح ؑ نے کافر گروہ سے فرمایا ارے تم لوگ عافیت و رحمت سے پہلے عذاب کو کیوں جلدی مانگتے ہو تو لوگ کفر و شرک سے معافی کیوں نہیں مانگتے اور توحید کا اقرار کیوں نہیں کرتے جس سے توقع ہو کہ تم پر رحم کیا جائے اور عذاب نازل نہ ہو۔
Ayah 27:47

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم اور تمہارے ساتھی ہمارے لئے شگون بد ہو (صالح نے) کہا کہ تمہاری بدشگونی خدا کی طرف سے ہے بلکہ تم ایسے لوگ ہو جن کی آزمائش کی جاتی ہے

(47) وہ لوگ بولے ہم تو تم کو اور تمہارے ساتھ جو مومن ہیں انہیں منحوس سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے ہم پر سختی ہو رہی ہے حضرت صالح ؑ نے فرمایا تمہاری سختی اور خوش حالی کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے بلکہ تم سختی اور خوشحالی کے ذریعے آزمائے جاؤ گے اور یہ کہ تم کفر کی بدولت عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔
Ayah 27:48

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور شہر میں نو شخص تھے جو ملک میں فساد کیا کرتے تھے اور اصلاح سے کام نہیں لیتے تھے

(48) اور اس بستی کے رؤساء کے بیٹوں میں نو آدمی نہایت فاسق تھے یعنی قدار بن سالف، مصد بن سالف، مصد بن رہو، اور اس کے ساتھی جو بہت گناہ کیا کرتے تھے اور بالکل اصلاح کا حکم نہیں دیا کرتے تھے اور نہ خود ہی اس پر عمل پیرا ہوا کرتے تھے۔
Ayah 27:49

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

کہنے لگے کہ خدا کی قسم کھاؤ کہ یم رات کو اس پر اور اسکے گھر والوں پر شب خون ماریں گے پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم صالح کے گھر والوں کے موقع ہلاکت پر گئے ہی نہیں اور ہم سچ کہتے ہیں

(49) انھوں نے آپس میں یہ گفتگو کی کہ سب مل کر اس چیز پر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاؤ کہ ہم رات کے وقت حضرت صالح ؑ اور ان کے ساتھیوں پر حملہ کریں گے اور نعوذ باللہ ان سب کو مار ڈالیں گے پھر ان کے وارثوں اور رشتہ داروں سے کہہ دیں گے ہم حضرت صالح ؑ اور ان کے ساتھیوں کے مارے جانے کے وقت موجود نہ تھے اور ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں اور پھر ہماری کوئی بھی تردید نہیں کرے گا۔
Ayah 27:50

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور وہ ایک چال چلے اور ہم بھی ایک چال چلے اور انکو کچھ خبر نہ ہوئی

(50) غرض کہ ان لوگوں نے حضرت صالح ؑ اور ان کے ماننے والوں کے قتل کرنے کی تدبیر کی تھی اور ہم نے بھی ان سب کے ختم کرنے کی تدبیر کی جس کی ان کو خبر بھی نہ ہوئی، کہا گیا ہے کہ ان سب کو حضرت صالح ؑ کے مکان پر فرشتوں نے مار ڈالا اور ان لوگوں کو فرشتوں کا پتا بھی نہیں چلا۔
Ayah 27:51

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

تو دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیسا ہوا ؟ ہم نے ان کو ان کی قوم سب کو ہلاک کر ڈالا

(51) سو دیکھیے ان کی اس شرارت کا کیا انجام ہوا ہم نے ان کو اس طریقے سے مذکور اور بقیہ انکی ساری قوم کو پتھروں کا عذاب نازل کر کے ہلاک کردیا۔
Ayah 27:52

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

اب یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں جو لوگ دانش رکھتے ہیں ان کے لئے ان میں نشانی ہے

(52) سو یہ ان کے ویران گھر پڑے ہوئے ہیں ان کے شرک کی وجہ سے ہم نے جو ان کو سزا دی، بیشک اس میں بڑی عبرت ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو ہماری سزا دینے کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 27:53

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی

(53) اور ہم نے حضرت صالح ؑ کو اور ان مومن بندوں کو جو کفر وشرک برائیوں اور اونٹنی کے قتل سے بچتے تھے نجات دی۔
Ayah 27:54

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوط کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بےحیائی (کے کام) کیوں کرتے ہو اور تم دیکھتے ہو

(54) اور ہم نے لوط ؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا جس وقت انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا تم جان بوجھ کر بےحیائی کا کام کرتے ہو۔
Ayah 27:55

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذت (حاصل کرنے) کے لئے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ احمق لوگ ہو

(55) کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو تم حکم الہی کے بارے میں جہالت کر رہے ہو۔
Ayah 27:56

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے لوگ (بولے تو) یہ بولے اور اسکے سوا ان کا کچھ جواب نہ تھا کہ لوط کے گھر والوں کو شہر سے نکال دو یہ لوگ پاک رہنا چاہتے ہیں

(56) ان کی قوم کو سوائے اس کے اور کوئی جواب نہ بن پڑا کہ تم لوط ؑ اور ان کی دونوں صاحبزادیوں یعنی زعوراء اور ریثاء کو اس بستی سدوم سے نکال دو ، کیوں کہ یہ لوگ مردوں سے شہوت رانی کے بارے میں بڑے پاک صاف بنتے ہیں۔
Ayah 27:57

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

تو ہم نے انکو انکے گھر والوں کو نجات دی

(57) چناچہ ہم نے حضرت لوط ؑ اور ان کی دونوں صاحبزادیوں کو اس عذاب سے بچا لیا سوائے ان کی منافقہ بیوی کے کہ ہم نے اس کو ان ہی لوگوں میں تجویز کر رکھا تھا جو عذاب میں رہ گئے تھے۔
Ayah 27:58

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

مگر ان کی بیوی کہ اسکی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا ہے (کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی) اور ہم نے ان پر مینہ برسایا سو (جو) مینہ ان لوگوں پر برسا جن کو متنبہ کردیا گیا تھا برا تھا

(58) چناچہ ہم نے ان سب پر خواہ مسافر ہوں یا مقیم پتھروں کا مینہ برسا دیا سو ان لوگوں کا کیا برا حال تھا جن کو حضرت لوط ؑ نے عذاب الہی سے ڈرایا تھا پھر بھی وہ ایمان نہیں لائے تھے۔
Ayah 27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

کہہ دو کہ سب تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے اور اسکے بندوں پر سلام ہے جن کو اس نے منتخب فرمایا بھلا خدا بہتر ہے یا وہ جن کو یہ اسکا شریک ٹھہراتے ہیں

(59) اے محمد ﷺ آپ ان منکرین کی ہلاکت پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کیجیے اور اس کا شکر کیجیے اور اس کے بندوں پر جن کو اس نے نبوت کے ذریعے منتخب فرمایا ہے یا یہ کہ ان بندوں پر جن کو اس نے اسلام کی دولت سے سرفراز فرمایا ہے اور وہ امت محمدیہ ﷺ ہے۔
Ayah 27:60

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور (کس نے) تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا ؟ (ہم نے) پھر ہم ہی نے اس سے سرسبز باغ اگائے تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم ان کے درختوں کو اگاتے تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) بلکہ یہ لوگ راستے سے الگ ہو رہے ہیں

(60) آپ ان کفار مکہ سے فرمائیے کہ اچھا بتاؤ کیا ان بتوں کی جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو پرستش بہتر ہے یا اس ذات کی عبادت وفرمانبرداری بہتر ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا اور پھر اس پانی سے پھل دار باغ اگائے، جن کی باڑ کھجور کے درختوں اور دوسرے درختوں سے ہو رہی ہے تمہاری قدرت سے تو یہ چیز باہر ہے کہ تم ان باغوں کے درخت اگا سکو اب سوچ کر ذرا بتاؤ تو سہی کہ کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور معبود نے یہ چیزیں اگائی ہیں ؟ بلکہ ایسے بدتمیز ہیں کہ بتوں کو عبادت میں اللہ تعالیٰ کے برابر ٹھہراتے ہیں۔
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اسکے بیچ میں نہریں بنائیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور (کس نے) دو دریاؤں کے بیچ اوٹ بنائی ؟ (یہ سب کچھ خدا نے بنایا) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) بلکہ ان میں اکثر دانش نہیں رکھتے

(61) اور یہ بتاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات جس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان نہریں جاری کیں اور زمین کے ٹھہرانے کے لیے میخوں کی طرح مضبوط پہاڑ بنائے اور شیریں اور تلخ دو دریاؤں کے درمیان ایک حد بنائی جس کی بنا پر ایک دوسرے کا پانی ایک دوسرے سے نہیں ملتا اب بتاؤ کہ کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور معبود کی یہ کارگزاریاں ہیں بلکہ ان میں اکثر تو اس چیز کی تصدیق ہی نہیں کرتے اچھا اور سن کر بتاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں۔
Ayah 27:62

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا کون بےقرار کی التجا قبول کرتا ہے جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اسکی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) مگر تم غور بہت کم کرتے ہو

(62) یا وہ ذات جو بےقرار آدمی کی سنتا ہے جب وہ اپنی تکلیف دور کرانے کے لیے اس کو پکارتا ہے اور وہ اس کی مصیبت دور کردیتا ہے اور ایک قوم کی ہلاکت کے بعد پھر تمہیں کو زمین میں جانشین بناتا ہے، کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود یہ کام کرسکتا ہے ؟ مگر تم لوگ اس سے نصیحت نہیں حاصل کرتے۔
Ayah 27:63

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں راستہ بتاتا ہے اور (کون) ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے ؟ (یہ سب کچھ خدا ہی کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہر گز نہیں) یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں خدا (کی شان) اس سے بلند ہے

(63) اور پھر یہ بتاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات جو تمہیں حالت سفر میں خشکی اور دریا کی تاریکیوں میں رستہ دکھاتا ہے اور جو ہواؤں کو بارش سے پہلے بھیجتا ہے جو بارش کی امید دلا کر دلوں کو خوش کردیتی ہیں کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی ایسا کرسکتا ہے ہرگز نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی شرکیہ باتوں سے برتر ومنزہ ہے۔
Ayah 27:64

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے اور (کون) تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے (یہ سب کچھ خدا ہی کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے ؟ (ہر گز نہیں) کہہ دو کہ (مشرکو) اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو

(64) اور بتاؤ کہ یہ بت بہتر ہیں یا وہ ذات جو نطفہ سے مخلوقات کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر اس کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا اور جو کہ آسمان سے تمہارے لیے پانی برساتا اور زمین سے نباتات اگاتا ہے کیا اللہ جل شانہ کے علاوہ اور کسی کی جرأت ہے کہ ایسا کرسکے (اور اگر اب بھی نہ مانیں) تو آپ فرما دیجیے کہ اپنی دلیل پیش کرو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو کہ اللہ کے علاوہ اور بھی معبود اور مشکل کشا ہیں۔
Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کر کے) اٹھائے جائیں گے

(65) آپ فرما دیجیے کہ فرشتے ہوں یا انسان سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی بھی غییب کی بات نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہوگی اور ان کفار پر عذاب کس وقت نازل ہوگا اور ان مخلوقات کو تو یہ بھی خبر نہیں کہ وہ قبروں سے کس وقت دوبارہ زندہ کیے جائیں گے۔
Ayah 27:66

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ آخرت (کے بارے) میں ان کا علم منتہی ہوچکا ہے بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں بلکہ اس سے اندھے ہو رہے ہیں

(66) بلکہ آخرت کے بارے میں تو ان کا علم کالعدم ہوگیا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی بلکہ یہ لوگ قیامت کے قائم ہونے کے بارے میں شک میں ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ یہ اس سے اندھے بنے ہوئے ہیں کہ ان کو ہدایت کا راستہ نظر ہی نہیں آتا۔
Ayah 27:67

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں کہتے ہیں کہ جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر قبروں سے نکالے جائیں گے ؟

(67) یہ کفار یوں کہتے ہیں کہ ہم لوگ جب مر کر خاک ہوگئے اور اسی طرح ہمارے آباؤ اجداد بھی تو کیا پھر ہمیں زندہ کر کے قبروں سے نکالا جائے گا۔
Ayah 27:68

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

یہ وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے پہلے ہوتا چلا آیا ہے (کہاں کا اٹھنا اور کیسی قیامت ؟) یہ صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہے

(68) جس کا محمد ﷺ آپ ہم سے وعدہ کر رہے ہیں اس چیز کا تو ہمارے آباؤ و اجداد سے آپ کے وعدہ سے پہلے وعدہ ہوتا چلا آیا ہے یہ تو محض بےسند باتیں ہیں جو اگلے لوگوں سے روایت ہوتی چلی آئی ہیں۔
Ayahs 27:69–70

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو دیکھو کہ گنہگاروں کا کیا انجام ہوا ہے ؟

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور ان (کے حال) پر غم نہ کرنا اور نہ ان چالوں سے جو یہ کر رہے ہیں دل تنگ ہونا

(69۔ 70) اے محمد ﷺ آپ ان کفار مکہ سے فرما دیجیے کہ تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیا ہوا اور اگر یہ ایمان نہیں لاتے یا یہ کہ یہ لوگ ہلاک ہوجائیں تو ان پر غم نہ کیجیے اور جو کچھ یہ شرارتیں اور بکواس کر رہے ہیں آپ اس سے تنگ نہ ہوں۔
Ayah 27:71

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا

(71) اور یہ لوگ کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو بتاؤ کہ جس نزول عذاب کا آپ ہم سے وعدہ کرتے ہیں وہ وعدہ کب ہوگا۔
Ayah 27:72

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس (عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو شاید اس میں سے کچھ تمہارے نزدیک آپہنچا ہو

(72) آپ ان سے فرما دیجیے کہ عجب نہیں جس عذاب کے بارے میں تم جلدی مچا رہے ہو وہ تمہارے قریب ہی آگیا ہو۔ یعنی بدر کا دن۔
Ayah 27:73

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے

(73) اور آپ کا رب لوگوں پر بڑا فضل رکھتا ہے اس کی وجہ سے قدرے عذاب کو مؤخر کر رکھا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے کہ تاخیر عذاب کو غنیمت سمجھیں۔
Ayah 27:74

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور جو باتیں ان کے سینوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں اور جو کام وہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار ان (سب) کو جانتا ہے

(74) اور آپ کے پروردگار کو سب خبر ہے جو کچھ ان کے دلوں میں بغض و عداوت بھرا ہوا ہے۔
Ayah 27:75

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں کوئی پوشیدہ چیز نہیں ہے مگر (وہ) کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے

(75) اور یہ جو کفر وشرک قتل و غارت گری کرتے ہیں اور آسمان والوں اور زمین والوں میں ایسی کوئی پوشیدہ چیز نہیں جو لوح محفوظ میں لکھی ہوئی نہ ہو۔
Ayah 27:76

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر باتیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں بیان کردیتا ہے

(76) اور یہ قرآن کریم جو آپ ان کو پڑھ کر سناتے ہیں یہ بنی اسرائیل یعنی یہود و نصاری پر اکثر ان باتوں کی حقیقت ظاہر کرتا ہے جن دینی باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔
Ayah 27:77

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بیشک یہ مومنوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے

(77) اور یہ قرآن کریم ایمان داروں کے لیے گمراہی سے ہدایت اور عذاب سے خاص رحمت ہے۔
Ayah 27:78

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

تمہارا پروردگار (قیامت کے روز) ان میں اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا اور وہ غالب (اور) علم والا ہے

(78) اور آپ کا پروردگار یہود و نصاری کے درمیان قیامت کے دن اپنے حکم سے فیصلہ فرما دے گا اور زبردست ہے ان کو اور ان کی سزا کو بھی جاننے والا ہے۔
Ayah 27:79

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

تو خدا پر بھروسہ رکھو تم تو حق صریح پر ہو

(79) اور آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسا کیجیے یقینا آپ صریح دین حق یعنی دین اسلام پر ہیں۔
Ayah 27:80

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جبکہ وہ پیٹھ پھیر کر پھرجائیں آواز سنا سکتے ہو

(80) اور آپ حق و ہدایت کی آواز ایسے لوگوں کو جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں یا یہ کہ وہ مردوں کی طرح ہیں اور اسی طرح بہروں کو نہیں سنا سکتے خصوصا جب کہ وہ راہ حق و ہدایت سے منہ پھیر کر چل دیں۔