Ayah 27:1(27:1) طس۔ حروف مقطعات ہیں۔
تلک : ای ھذہ۔ سورة ہذا کی طرف اشارہ ہے۔
ایت القران۔ مضاف مضاف الیہ ۔ قران : قرأت الشیء قرانا کے معنی ہیں جمعتہ وضممت بعضہ الی بعض۔ میں نے اس چیز کو اکٹھا کیا اور اس میں نظم پیدا کیا۔ اور ارأت الکتاب کے معنی ہیں میں نے کتاب کو پڑھا ۔ گویا قرآن کے معنی ہیں وہ کتاب جس میں تمام صداقتیں اکٹھی کردی گئی ہوں اور جس میں ہر ایک حصہ کو دوسرے حصہ کے ساتھ ایسا نظم و ربط ہو کہ وہ تمام ایک مجموعہ نظر آئے
وکتاب مبین میں واؤعاطف کی ہے۔ کتاب مبین موصوف و صفت مل کر آیات کا مضاف الیہ ہے کیونکہ کتاب مبین کا عطف القرآن پر ہے کعب احدی الصفتین علی الاخری جیسا کہ دو صفتوں میں سے ایک کا دوسرے پر عطف ہو مثلا ھذا فعل السخی والجواد الکریم۔ یہ قرآن اور ایک واضح کتاب کی آیات ہیں۔
یہاں قرآن کو معرفہ اور کتاب کو نکرہ لایا گیا ہے لیکن سورة الحجر میں قرآن کو نکرہ اور کتاب کو معرفہ کیا گیا ہے ارشاد ہے تلک ایت الکتاب وقران مبین (15:1) اس کی کیا وجہ ہے۔ اس کا جواب دیا گیا ہے کہ قرآن اور کتاب کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک یہ کہ دونوں اس کلام الٰہی کے علم (نام) ہیں جو حضور پر نور ﷺ پر نازل ہوا۔
دوسری یہ کہ یہ اس کلام کی صفتیں ہیں یعنی قرآن سے مراد مقرو (پڑھا جانے والا) اور کتاب سے مکتوب جو لکھا جاتا ہے جہاں انہیں معرفہ ذکر کیا جائے گا وہاں یہ بحیثیت علم (نام) مذکور ہیں اور جہاں نکرہ وہاں بحیثیت صفت (مظہری) ۔
بعض نے کتاب مبین سے لوح محفوظ مراد لی ہے اور اس کی تنکیر عظمت شان کے لئے ہے۔ (ضیاء القرآن)
Ayah 27:2(27:2) ھدی وبشری۔ آیت کا حال ہے۔
للمؤمنین : اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) اس کا تعلق ہر دو ھدی و بشری سے ہے یعنی مومن لوگ ہی ہدایت یاب ہوتے ہیں اور بشارت کے بھی وہی مستحق ہیں۔
(2) اس کا تعلق صرف بشری سے ہے یعنی ہدایت کا پیغام تو اس میں ہر ایک کے لئے یکساں ہے خواہ مومن ہو یا کافر ۔ لیکن بشارت صرف اسی کے لئے ہے جس نے ہدایت پائی۔
Ayah 27:3(27:3) الذین یقیمون الصلوۃ ویؤتون الزکوۃ۔ مؤمنین کی صفت ہے۔
وھم بالاخرۃ ہم یوقنون ۔ یا اس جملہ کا عطف جملہ اول پر ہے ۔ اس صورت میں یہ مؤمنین کی تیسری صفت (اقام الصلوٰۃ وایتاء الزکوۃ کے علاوہ) ہوگی۔ یا یہ ضمیر موصول سے حال ہے۔
یوقنون۔ مضارع جمع مذکر غائب ہے ایقان (افعال) مصدر۔ وہ یقین کرتے ہیں۔ یقین مادہ۔
Ayah 27:4(27:4) زینا۔ ماضی جمع متکلم ہم نے زینت دی۔ ہم نے خوبصورت بنادیا۔ ہم نے خوشنما کردیا۔ ہم نے سنوارا۔
یعمھون۔ مضارع جمع مذکر غائب عمہ مصدر۔ (باب فتح، سمع) وہ سرگرداں پھرتے ہیں۔
Ayah 27:5(27:5) سوء العذاب۔ مضاف مضاف الیہ۔ عذاب کی شدت۔ عذاب کی سختی ۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ( 26:156)
ہم الاخسرون ۔ : ہم تاکید کے لئے مکرر لایا گیا ہے الاخسرون افعل التفضیل کا صیغہ ہے زیادہ گھاٹا پانے والے۔
اس کی دو صورتیں ہیں :۔
(1) دنیا کی نسبت آخرت میں ان کا خسارہ زیادہ ہوگا : منجملہ دیگر پہلوؤں کے خسران دنیا منقطع ہے اور خسران آخرت غیر منقطع۔
(2) دوسرے لوگوں کی نسبت یہ زیادہ گھاٹے میں رہیں گے۔
Ayah 27:627:6) لتلقی۔ لام تاکید کا ہے۔ تلقی مضارع مجہول صیغہ اور مذکر حاضر۔ اصل میں تتلقی تھا ایک تاء حذف ہوگئی۔ تلقی (تفعل) مصدر۔ تجھے تلقین کیا جاتا ہے۔ تجھے سکھلایا جاتا ہے تجھے ملتا ہے۔
لدن ظرف زمان ہے جو نہایت وقت کی ابتداء پر دلالت کرتا ہے مثلاً اقمت عندہ من لدن طلوع الشمس الی غروبھا میں اس کے پاس مقیم رہا طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک۔ ظرف مکان بھی ہے بمعنی طرف پاس جیسے ربنا اتنا من لدنک رحمۃ (18:10) اے ہمارے رب ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کر۔ قرآن مجید میں اکثر انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے من لدن۔ طرف سے
Ayah 27:7(27:7) اذقال موسیٰ : ای اذکر لہم وقت قول موسی۔ ان کو یاد کراؤ وہ وقت جب (حضرت) موسیٰ نے کہا۔
انست۔ ماضی واحد متکلم ایناس (افعال) مصدر میں نے محسوس کیا۔ میں نے دیکھا۔ اس کا مادہ انس ہے۔ الانس (کسرہ ہمزہ کے ساتھ) جن کی ضد ہے۔ اور انس (بضمۃ الہمزہ) نفور کی ضد ہے۔ انس (باب افعال) کے معنی کسی چیز سے انس پانا یا دیکھنا کے ہیں مثلاً حتی تستانسوا (24:27) جب تک تم ان سے (اجازت لے کر) انس پیدا نہ کرلو۔ اور فان انستم منھم رشدا (4:6) اور اگر تم ان میں عقل کی پختگی دیکھو یا محسوس کرو۔ یہاں بھی اس آیۃ میں انہی معنوں میں آیا ہے۔ میں نے دیکھی ہے۔
ساتیکم : سین مستقبل قریب کے لئے ہے۔ اتی اتیان سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ آنے والا۔ لیکن جب اس کا تعدیہ باء کے ساتھ ہو تو بمعنی لانے والا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ساتیکم میں ابھی تمہارے پاس خبر لاتا ہوں۔ اور خبر سے مراد راستے کے متعلق معلومات ہیں۔
والمراد بالخبر الذی یاتیہم من جھۃ النار الخبر عن ھال الطریق آگ کی جانب سے جو وہ خبر لائے گا اس سے مراد راستہ کے احوال کے متعلق معلومات ہیں (جو حضرت موسیٰ کی منزل مراد کی طرف ممدو معاون ہوسکیں) (بحوالہ روح المعانی) ۔ یعنی اگر یہ آگ کسی بستی میں ہے یا وہاں آگ جلانے والے موجود ہیں تو شاید وہ راستہ کی رہنمائی میں معلومات بہم پہنچا سکیں۔
او یا۔ (اگر وہ بھی کوئی چلتے پھرتے مسافر جن سے کوئی معلومات حاصل نہ ہو سکیں تو کم از کم کچھ انگارے ہی لے آؤں گا سینکنے کیلئے
شھاب قبس۔ شہاب۔ انگارا۔ فضا میں ٹوٹنے والا تارا۔ چمکدار شعلہ جو بھڑکتی ہوئی آگ میں ہوتا ہے اس کی جمع شھب ہے۔ جیسے کتب کی جمع کتب ہے۔ قبس آگ کا شعلہ ۔ آگ کی چنگاری جو شعلہ سے لی جائے۔
قبس واقتباس (افتعال) مصدر جس کے معنی بڑی آگ سے کچھ آگ لینے کے ہیں۔ مجازا علم و ہدایت کی طلب پر بھی بولا جاتا ہے جیسے انظرونا نقتبس من نورکم (57:13) ہماری طرف نظر کیجئے کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرسکیں۔ یہاں مراد ہے ٹھہرئیے۔ یہاں اگر قبس بمعنی مقبوس یعنی بڑی آگ سے لکڑی وغیرہ جلا کرلی ہوئی آگ، تو شہاب کی صفت ہے یا یا یہ شہاب کا بدل ہے یعنی آگ کا شعلہ کسی لکڑی وغیرہ میں لگا ہوا لاتا ہوں۔
تصطلون۔ مضارع جمع مذکر حاضر اصطلاء (افتعال) مصدر۔ تم تاپو۔ تم سینکو۔ صلی مادہ۔
Ayah 27:8(27:8) جاء ھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب النار کیلئے ہے جس کے متعلق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تھا انی انست نارا۔
نودی : نداء سے ماضی مجہول واحد مذکر غائب وہ پکارا گیا۔ اس کو پکارا گیا اس کا مفعول مالم یسم فاعلہ، ضمیر واحد مذکر غائب ہے جو موسیٰ کی طرف راجع ہے یعنی (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی گئی۔
ان مفسرہ ہے (کیونکہ نداء میں قول کے معنی پائے جاتے ہیں ان مفسرہ ہمیشہ اس دلالت لفظی ہو۔ جیسے فاوحینا الیہ ان اصنع الفلک (23:27) یا دلالت معنوی ہو جیسے وانطلق الملا منھم ان امشوا (38:6) اور ان میں سے کئی پنج چل کھڑے ہوئے کہ چلو۔ یعنی ان کے اٹھ کر چلنے کا مطلب گویا یہ کہنا ہے کہ تم بھی چلو ۔
بورک : بارک یبارک مبارکۃ (مفاعلۃ) سے ماضی مجہول مذکر غائب اس کو برکت دی گئی ، وہ برکت دیا گیا، یا برکت ہو وہ
من فی النار ومن حولہا۔ جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے آس پاس ہے مفسرین کے اس میں مختلف اقوال ہیں :۔
(1) من فی النار سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں اور من حولہا سے مراد فرشتے ہیں۔
(2) من فی النار سے مراد فرشتے ہیں اور من حولہا سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔
(3) من فی النار سے مراد بھی فرثتے اور من حولہا سے مراد بھی فرشتے ہیں۔ (حقانی)
(4) من فی النار سے مراد حضرت موسیٰ وفرشتگان جو وہاں اس وادی میں حاضر تھے۔ اور من حولہا سے مراد ارض شام کہ مبعث انبیاء و مہبط وحی رہی ہے۔ (کشاف و بیضاوی وغیرہ)
و سبحان اللہ رب العلمین ۔ اور (ہر تشبیہ و تمثیل سے) پاک ہے اللہ جو رب العالمین ہے واؤ عطف کی ہے اور جملہ سبحن اللہ رب العلمین معطوف ہے اور بورک معطوف علیہ ہے اور یہاں تک منادی کا کلام ہے۔
Ayah 27:9(27:9) یموسیٰ ۔۔ قیل معناہ ان موسیٰ قال من المنادی قال یموسیٰ ۔۔ جیسے موسیٰ نے کہا ہو کون ہے یہ پکارنے والا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہ انا للہ ۔۔
انہ میں ضمیر شان ہے انا مبتداء اللہ خبر۔ العزیز الحکیم خبر کی صفات ہیں اے موسیٰ یہ میں ہوں۔ اللہ۔ بڑے غلبہ والا۔ بڑی حکمت والا۔
Ayah 27:10(27:10) الق۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو ڈال دے۔ القاء (افعال) مصدر۔
راھا۔ اس نے اس کو دیکھا یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا کو دیکھا ھاضمیر مفعول واحد مؤنث غائب عضا کی طرف راجع ہے
تھتز۔ مضارع واحد مؤنث غائب اھتزاز (افتعال) مصدر۔ وہ بل کھاتی ہے۔ وہ پھنپھناتی ہے۔ وہ ہلتی ہے۔ یہ حال ہے مفعول ھا سے پھر جب اس نے اس کو (عصا کو) بل کھاتے دیکھا ۔ وھزی الیک بجذع النخلۃ (19:25) اور تو ہلا کھجور کے تنے کو اپنی طرف
کانھا۔ یہ بھی یا ھا کا حال ہے یا ضمیر تھتز کا حال ہے جیسے کہ وہ۔ گویا وہ ہے ۔ کان حرف مشابہ بفعل ہے اس کا اسم منصوب اور خبر مرفوع ہوتی ہے جیسے کان زیدا اسد۔ یہ اکثر اور خاص کر قرآن مجید میں تشبیہ کے لئے استعمال ہوا ہے !
جان : الجن سے مشتق ہے جن کی جمع ہے (باب نصر) اس کے اصل معنی کسی چیز کو حواس سے پوشیدہ کرنے کے ہیں چناچہ قرآن مجید میں ہے فلما حن علیہ الیل (6:77) جب رات نے ان کو (پردہ تاریکی سے) چھپا دیا۔ الجنان دل کہ وہ بھی حواس سے مستور ہوتا ہے۔ یا المجن والجنۃ ڈھال وجہ سے اس کی زمین نظر نہیں آتی یا الجن جن کہ وہ بھی پوشیدہ مخلوق ہے۔
لیکن آیت ہذا میں جان ایک قسم کا سانپ مراد ہے۔
ولی۔ ماضی واحد مذکر غائب ضمیر فاعل حضرت موسیٰ کی طرف راجع ہے۔ تولیۃ (تفعل) مصدر وہ منہ موڑ کر پیٹھ دے کر بھاگا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وان یقاتلوکم یوتوکم الادبار (3:111) اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائینگے ولی مادہ۔ اسی مادہ سے اور مشتقات ولی دوست۔ والی مددگار۔ حاکم۔
مدبرا۔ اسم فاعل واحد مذکر بحالت نصبی۔ پیٹھ موڑنے والا۔ دبر پیٹھ۔ پشت پائخانہ کا مقام ۔ ادبار پیٹھ پھیرنا۔ ثم ادبر واسکتبر (74:23) پھر پشت پھیر کر چلا اور (قبول حق سے) غرور کیا۔
لم یقعب مضارع مجزوم نفی جحد بلم تعقیب (تفعیل ( مصدر۔ اس نے پلٹ کر نہ دیکھا۔ وہ پیچھے نہ پھرا۔ پیچھے مڑکر بھی نہ دیکھا۔
لدی : لدی مضاف یاء واحد متکلم مضاف الیہ ۔ میرے پاس۔ لدی طرف مکان پاس۔ طرف۔ ضمیر کی طرف اضافت کے وقت لدی کی وہی حالت ہوتی ہے جو علی حرف جر کی ہوتی ہے جیسے علینا، لدینا، علیک ، لدیک وغیرہ۔
Ayah 27:11(27:11) الا۔ یہاں استثناء منقطع ہے کیونکہ یہاں مستثنے منہ سے نہیں ہے یہاں الا بمعنی لیکن ہے یعنی میرے رسول میرے حضور ڈرا نہیں کرتے۔ لیکن ان کو چھوڑ کر جو بھی ظلم کرے گا اسے ڈر ہے من تاب وبدل حسنا بعد سوء فانی غفور رحیم۔ اور وہ ظلم کرنے والا بھی اگر توبہ کرلے اور برائی کرنے کے بعد نیکی کرنے لگے (تو اسے بھی کوئی ڈر نہیں) کیونکہ میں غفور اور رحیم ہوں۔
یا یہاں الا بمعنی ولا ہے۔ ای لا یخاف لدی المرسلون ولا من ظلم ثم بدل حسنا بعد سوء فانی غفور رحیم۔ (میرے) رسول میرے حضور ڈرا نہیں کرتے اور نہ (اسے کوئی ڈر ہے) جس نے ظلم کیا۔ لیکن اس کے بعد بدی کو نیکی سے بدل دیا تو بیشک میں غفور رحیم ہوں۔
Ayah 27:12(27:12) جیبک مضاف مضاف الیہ تیرا گریبان۔
تخرج۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) واحد مؤنث غائب۔ ضمیر فاعل یدک کی طرف راجع ہے۔
بیضائ۔ سفید۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے واحد مؤنث ابیض واحد مذکر بیض جمع کا صیغہ ہر دو مذکر مؤنث کے لئے آتا ہے۔
من غیر سوئ۔ بلا کسی عیب کے بلا کسی مرض (ازقسم برص) کے۔ ملاحظہ ہو 26:156 ۔
فی تسع ایت ای ھما داخلتان فی جملۃ تسع ایات۔ یہ دو معجزات بھی جملہ نو معجزات میں شامل ہیں۔ اس سے قبل اذھبمحذوف ہے ای اذھب فی تسع ایت الی فرعون ان نو معجزات (جن میں یہ دو بھی شامل ہیں) کو لے کر فرعون کے پاس جاؤ
Ayah 27:13(27:13) مبصرۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث بحالت نصب، دوسری چیزوں کو واضح اور روشن کرنے والی۔ بصیرت افروز۔ آیات کا حال ہے
Ayahs 27:14–15(27:14) جحدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ جحد وجحود مصدر (باب فتح) انہوں نے انکار کیا۔ جحد وجحود کے معنی ہیں کہ جس چیز کا دل میں اثبات ہو اس کی نفی اور جس کی نفی ہو اس کا اثبات کرنا۔
واستیقنتھا۔ ماضی واحد مؤنث غائب ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ استیقان (استفعال) یقین کرنا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ جو آیات کی طرف راجع ہے۔ واو حالیہ ہے حالانکہ (ان کے دلوں نے) ان معجزات کا یقین کرلیا تھا۔ ای علمت انفسھم علما یقینا انھا ایات من عند اللہ تعالیٰ ۔ حالانکہ ان کے دلوں نے یقینی طور پر جان لیا تھا کہ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ استیقان : ایقان سے زیادہ بلیغ ہے۔
ظلما وعلوا۔ (محض ظلم اور تکبر کی بناء پر) دونوں ضمیر فاعل جحدوا سے حال ہیں۔ علو علا یعلوا کا مصدر ہے۔ جس کے معنی ہیں بلند ہونا۔ سرکشی کرنا۔ کسی پر غلبہ کرنا۔
Ayah 27:16(27:16) منطق الطیر۔ مضاف مضاف الیہ مل کر علمنا کا مفعول ثانی ہے نا ضمیر جمع متکلم مفعول اول کی ہے۔ پرندوں کی بولی۔
Ayah 27:17(27:17) حشر۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ اکٹھا کیا گیا ۔ جمع کیا گیا۔ حشر مصدر سے۔
یوزعون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب وزع (نصر) مصدر ہے۔ جس کے معنی روک لینا۔ باز رکھنا۔ لشکر کو ترتیب دینا۔ چناچہ وزع الحبش کے معنی ہیں اس نے لشکر کو صفوں اور گروہوں میں ترتیب دیا۔ یہاں یوزعون (وہ ترتیب دئیے گئے) میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ عساکر باوجود کثیر التعداد اور متفاوت ہونے کے غیر مرتب ومنتشر نہ تھے بلکہ نظم و ضبط میں تھے کہ کبھی سرکشی اختیار نہ کرتے تھے۔
وحشر ۔۔ فھم یوزعون اور (ایک موقعہ پر حضرت سلیمان کے حکم پر) اس کے لشکر مشتمل برجن و انس والطیر اکٹھے کئے گئے اور وہ گروہوں اور صفوں پر ترتیب دئیے گئے ہوئے تھے۔ یعنی منظم اور مترتب طریقہ پر جن و انس اور پرندوں پر مشتمل لشکر جمع کیا گیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ویوم یحشر اعداء اللہ الی النار فھم یوزعون (41:19) جس دن خدا کے دشمن اکٹھے کرکے دوزخ کی طرف چلائے جائیں گے۔ تو ترتیب وار کر دئیے جائیں گے۔
Ayah 27:18(27:18) لا یحطمنکم مضارع منفی تاکید بانون ثقیلہ واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ حطم مصدر (باب ضرب) وہ تمہیں روند نہ ڈالے۔ وہ تمہارا چورا نہ کر دے۔ الحطم کے اصل معنی کسی چیز کو توڑنے کے ہیں پھر کسی چیز کو ریزہ ریزہ کردینے اور روندنے پر حطم کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے ثم یجعلہ حطاما (39:21) پھر اسے چورا چورا کردیتا ہے۔
Ayah 27:19(27:19) فتبسم ضاحکا وہ مسکرا کر ہنس پڑا۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ تبسم تو آپ نے اپنی عادت کے معمول کے مطابق کیا پھر وہ تبسم اضطرار اضحک کے درجہ تک پہنچ گیا۔
اوزعنی امر واحد مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم اوزع وایزاع سے جس کے معنی کسی چیز پر جما دینے کے ہیں اور الہام کرنے کے ہیں مجھے جما دے۔ مجھے توفیق دے۔ میری قسمت میں کر اوزع اللہ فلانا اللہ تعالیٰ نے فلاں کو شکر گزاری کا الہام کیا۔
Ayahs 27:20–21(27:20) تفقد الطیر : تفقد ماضی واحد مذکر غائب نفقد (تفعیل) مصدر۔ جس کے معنی گم شدہ چیز کی تلاش کرنے کے ہیں فقد مادہ۔ اس سے فقد یفقد (ضرب) فقد بمعنی گم کرنا یا کھودینا کے ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں ہے ماذا تفقدون (12:71) تمہاری کیا چیز گم ہوئی ہے۔ الطیر۔ اسم جمع ہے اس کا واحد طائر ہے۔ تفقد الطیر اس نے پرندوں کی حاضری لی۔ اس نے پرندوں کا جائز ہ لیا۔
بسلطن : سلطن حجت ۔ سند۔ برہان۔ قوت۔ حکومت۔ سلطن مبین۔ واضح سند۔ معقول عذر۔
Ayah 27:22(27:22) مکث ماضی واحد مذکر غائب۔ مکث مصدر (باب نصر و کرم) انتظار میں ٹھہرا۔ ضمیر فاعل ھد ھد کی طرف راجع ہے۔
غیر بعید : ای زمانا غیر مدید۔ غیر طویل مدت۔ تھوڑا وقت۔
مکث غیر بعید۔ ہد ہد تھوڑا ہی عرصہ ٹھہرا (کہ آگیا) یعنی تھوڑی ہی دیر ہد ہد آگیا۔ غیر بعید کے بعد فجاء محذود ہے (وہ آگیا) ۔
احطت ماضی واحد متکلم۔ احاطۃ (افعال) مصدر۔ میں نے احاطہ کیا۔ میں نے خبر معلوم کی ہے ما لم تحط بہ مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ واحد مذکر حاضر۔ جس کا تجھے احاطہ نہیں ہے یعنی جو آپ کو معلوم نہیں ہے۔ ما موصولہ ہے۔
نبا۔ خبر۔ (ثقہ خبر)
Ayahs 27:23–24(27:23) تملکھم : تعلک مضارع واحد مؤنث غائب ملک مصدر (باب ضرب) سے وہ مالک ہوتی ہے وہ بادشاہی کرتی ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ ان پر بادشاہی کرتی ہے ۔ حکومت کرتی ہے۔
اوتیت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب اس (عورت) کو دیا گیا۔ ایتاء (افعال) مصدر۔
فصدھم : صد یصد (نصر) سے ماضی واحد مذکر غائب ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اس نے ان کو روک دیا۔ اس نے ان کو روک رکھا ہے۔ صد وصدور مصدر۔
Ayahs 27:25–27(27:25) الا یسجدوا : ای لئلا یسجدوا لام تعلیل محذوف ۔ تاکہ نہ سجدہ کریں۔ بدیں وجہ وہ سجدہ نہیں کرتے ہیں۔ اور یا تو زین لہم سے متعلق ہے۔ یا فصدھم سے۔ یعنی شیطان نے ان کے اعمال (گمراہی و شرک) کو ان کی نظروں میں مزین کر رکھا ہے اس لئے وہ اللہ کو سجدہ نہیں کرتے۔ یا شیطان نے ان کو راہ راست سے روک رکھا ہے اور ہدیں وجہ وہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ نہیں کرتے۔
الذی : ای اللہ تعالیٰ ۔
الحب کسی چیز کے پوشیدہ اور مخفی ذخیرہ کو خبا کہتے ہیں یہاں مصدر بمعنی مفعول مخبوء مستعمل ہے یخرج الخب جو پوشیدہ چیزوں کو باہر نکالتا ہے۔
ما تخفون وما تعلنون جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو ۔ اس کی دوسری قرات ما یخفون وما یعلنون ہے (بیضاوی) اس سے ظاہر ہے کہ یہاں خطاب عام و لوگوں سے ہے کوئی خاص گروہ مخاطب نہیں ہے۔
Ayah 27:28(27:28) القہ : الق امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب تو اس کو ڈال دے۔
الیہم۔ ان کے پاس۔ ان کے سامنے۔
تول عنھم تول امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تولی مصدر۔ تولی کا تعدیہ جب بلاواسطہ ہو تو اس کے درج ذیل معنی ہوسکتے ہیں
(1) کسی سے دوستی رکھنے۔ (2) کسی کام کو اٹھانے۔ (3) والی اور حاکم ہونے کے ہوتے ہیں۔ جیسے (1) ومن یتولہم منکم فانہ منھم (5:51) جو کوئی تم میں سے ان سے دوستی کرے وہ ان ہی میں سے ہے۔ (2) والذی تولی کبرہ منھم (24:11) اور جس نے کہ اٹھایا اس بڑی بات کو۔ (3) فہل عسیتم ان تولیہم ۔۔ (47:22) پھر کیا تم سے یہ توقع ہے کہ اگر تم والی ہو ۔۔
اور جب عن کے ساتھ متعدی ہو خواہ عن لفظوں میں مذکور ہو۔ یا پوشیدہ منہ پھیرنے اور نزدیکی چھوڑنے کے معنی ہوتے ہیں۔
پھر منہ پھیرنے کی بھی دو صورتیں ہیں۔ ایک وہاں سے ٹل جانا۔ دوسرے توجہ نہ کرنا اور حکم نہ ماننا۔
تولی عنہم : تو ان سے ایک طرف ہٹ جا۔
فانظر۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو دیکھ۔ یا انتظار کر جیسے انظرونا نقتبس من نورکم (57:13) ہمارا انتظار کرلو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ حاصل کرلیں ۔
ماذا یرجعون : ما ذا کلمہ استفہامیہ ہے۔ کیا (چیز ، بات) ہے ترجعون مضارع جمع مذکر غائب رجع ورجوع مصدر (باب ضرب) وہ رجوع کرتے ہیں۔ وہ جواب دیتے ہیں۔ یا ماذا یرد بعضھم علی بعض من القول وہ ایک دوسرے سے کیا بات چیت کرتے ہیں۔
Ayah 27:29(27:29) کتب کریم۔ موصوف صفت۔ کریم صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ اس کی جمع کرام ہے۔ عزت والا۔ عمدہ۔ بڑا۔ کتب کریم معزز خط۔ مکتوب کا معزز ہونا تین وجہ سے ہوتا ہے۔ (1) مضمون کی عظمت کے لحاظ سے ۔ (2) بھیجنے والے کے اعلیٰ مرتبہ کے لحاظ سے۔ (3) خط کے مختوم ہونے کے لحاظ سے۔
حدیث میں ہے کرم الکتب ختمہ کتاب کی عظمت اس کی مہریں ہیں۔ اور ابن المقنع کا قول ہے من کتب الی اخیہ کتابا ولم یختمہ فقد استخف بہ جس نے اپنے بھائی کو خط لکھا اور اس پر مہر ثبت نہ کی تو اس نے اس کو حقیر جانا۔
بعض کے نزدیک کریم بوجہ اس کی عجیب و غریب نوعیت کے لئے۔ کریم لغرابۃ شانہ کہ بجائے کسی قاصد یا سفیر سلطنت کے اسے بذریعہ ایک پرندہ کے پہنچایا گیا۔
Ayah 27:30(27:30) انہ من سلیمان۔ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب کتب کے لئے ہے۔ وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میں ہ ضمیر مضمون کتاب کے لئے ہے اور اس انہ تک کلام ملکہ کی زبان سے ہے۔
Ayah 27:31(27:31) الا تعلوا میں ان یا مفسرہ ہے یا مصدر یہ ہے اور ناصب فعل ہے لا تعلوا فعل نہی جمع مذکر مخاطب تم سرکشی مت کرو۔ علو مصدر (باب نصر) تم بڑائی مت کرع۔ تم تکبر مت کرو۔
علی۔ میرے مقابلہ میں (لفظا مجھ پر۔ علی حرف جار ی ضمیر واحد متکلم مجرور)
واتونی مسلمین۔ اور چلے آؤ میرے پاس مطیع ہوکر۔ فرمانبردار بن کر ، اس میں جسمانی حاضری مراد نہیں۔ محض دعوت اسلام و اطاعت مقصود ہے۔
فائدہ : یہ ضروری نہیں کہ خط کی عبارت بجنسہٖ یہی ہو بلکہ ممکن ہے عبارت کچھ اور ہو۔ یہاں صرف اس کا خلاصہ بیان کیا گیا ہو۔ یہ مکتوب ملکہ کے نام تھا لیکن مخاطبین ملکہ کے علاوہ اس کے رؤسا اور دیگر اہل سباء بھی تھے اسی لئے مکتوب میں صیغہ جمع استعمال کیا گیا ہے۔
Ayah 27:32(27:32) افتونی : افتوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم ۔ افتاء (افعال) مصدر۔ فتی مادہ۔ کسی مشکل مسئلہ کے جواب کو فیتا و فتوی کہا جاتا ہے۔ استفتاء (استفعال) کے معنی فتویٰ طلب کرنے اور افتاء کے معنی فتویٰ دینے کے ہیں۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے یستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیہم (4:127) اے پیغمبر ! لوگ تم سے (یتیم) عورتوں کے بارے میں فتویٰ طلب کرتے ہیں کہہ دو کہ خدا تم کو ان کے معاملہ میں فتوی دیتا ہے۔ افتونی فی امری میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو ۔
قاطعۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث۔ ما کنت کی خبر ہے قطع کے لفظی معنی کاٹنے کے ہیں۔ خواہ محسوس طور ہو یا عقلی طور پر ہو اول کی مثال والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما جزاء بما کسبا (5:38) چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت دونوں کے ہاتھ کاٹ ڈالو ان کی کرتوتوں کے عوض۔ دوسرے کی مثال آیت ہذا ہے۔ ہر رائے اور امر کو چھوڑ کر ایک رائے مقرر کرلینا اور ہر عمل کو چھوڑ کر صرف ایک ہی آخری حکم نافذ کرنا یہ قطع امر ہے۔
ما کنت قاطعۃ امرا میں کسی معاملہ کا آخری فیصلہ نہیں کرتی۔
حتی تشھدون۔ مضارع جمع مذکر حاضر جب تک تم شاہد نہ ہو۔ تم حاضر نہ ہو شھود حاضر ہونا۔ موجود ہونا۔ شھادۃ (گواہی دینا) مصدر۔ یہاں مطلب ہے کہ جب تک کہ تم شریک (مشورہ) نہ ہو۔
Ayah 27:33(27:33) اولوا۔ والے۔ جمع ہے اس کا واحد نہیں آتا۔ اولوا بحالت رفع اولی بحالت نصب وجر۔ اولوا قوۃ طاقت والے۔ صاحب قوت۔ اولوا باس : باس بمعنی لڑائی۔ جنگ کی شدت۔ سختی۔ بڑے بڑے لڑنے والے۔ بڑے جنگ جو۔ بڑے شجاع۔ بہادر۔
الامر الیک فیصلہ امر تمہارے اختیار میں ہے۔
انظری امر واحدمؤنث حاضر۔ تو دیکھ۔ تو دیکھ لے۔ تو غور کر۔ تو غور کرلے ۔ تو سوچ لے۔
Ayah 27:34(27:34) وکذلک یفعلون۔ اس کی دو صورتیں ہیں (1) جملہ معترضہ ہے اور اللہ کی طرف سے ملکہ کے کلام کی تصدیق ہے کہ جعلوا اعزۃ اہلہا اذلۃ۔ (2) یہ ملکہ کا کلام ہی ہے اور اس کے پہلے کلام کی تاکید میں آیا ہے۔
Ayah 27:35(27:35) ھدیۃ۔ تحفۃ، ہدیہ۔ صفت مشبہ بمعنی مھدیۃ (اسم مفعول)
فنظرۃ۔عطف کی ہے نظرۃ معطوف اور مرسلۃ معطوف علیہ ۔
بم۔ باء حرف جر ہے اور ما استفہامیہ ہے حرف جر کے آنے کی وجہ سے اس کے آخر سے الف حذف ہوگیا ہے۔ بم کسی چیز کے ساتھ۔ بم یرجع المرسلون ۔ قاصد کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں۔
Ayah 27:36(27:36) اتمدونن۔ ہمزہ استفہام کا ہے۔ تمدونن امداد (افعال) سے مضارع جمع مذکر حاضر ہے۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم (محذوف) کیا تم میری مدد کرتے ہو ؟
بمال یہاں مال سے مراد مال حقیر ہے۔
فما اتنے اللہ۔ میں ما موصولہ ہے بمعنی الذی۔ اتی ماضی واحد مذکر غائب (ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع ہے) ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم ۔ جو عطا فرما رکھا ہے مجھے اللہ نے (نبوت ، مال و متاع، جاہ وحشم)
بل۔ حرف اضراب ہے بل سے ماقبل کی تصحیح اور مابعد کا ابطال مقصود ہے کہ اللہ نے جو نعمتیں مجھے عطا کر رکھی ہیں وہ ان نعمتوں سے بہتر ہیں جو اس نے تمہیں عطا کی ہیں لیکن تم ان حقیر تحفوں پر اترا رہے ہو جو سراسر اوچھا پن ہے !
تفرحون مضارع جمع مذکر حاضر ۔ تم خوش ہوتے ہو۔ تم ریجھتے ہو۔ فرح (باب سمع) سے مصدر۔
Ayah 27:37(27:37) ارجع امر۔ واحد مذکر حاضر۔ جا واپس چلا جا۔ جا لوٹ جا۔ رجوع مصدر باب ضرب یہاں خطاب قاصد سے ہے جس کے لئے آیت 36 میں فلما جاء واحد کا صیغہ ہی استعمال ہوا ہے۔ اور جہاں اس وفد کے لئے جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے وہاں قاصد کے ہمراہ جو تحائف بردار تھے ان کو بھی خطاب میں شامل کرلیا گیا ہے۔
الیہم یعنی ان کی طرف جو تمہارے بھیجنے والے ہیں۔ یعنی ملکہ اور اس کے رؤسائے سلطنت۔ ای الیٰ بلقیس وقومھا۔
فلناتینھم۔ لام تاکید کا ہے ناتین مضارع بانون ثقیلہ صیغہ جمع متکلم۔ تعدیہ یہ باء (بجنود) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہم ضرور ان پر (چڑھا) لائیں گے (فوج) ۔
صاحب روح المعانی رقم طراز ہیں :۔ فلناتینھم ای فو اللہ لناتینھم (بجنود) خدا کی قسم ہم ضرور (چڑھا) لائیں گے ان پر (فوج) ۔ اسی بناء پر لنأتینھم جواب قسم اور ولنخرجنھم کا عطف اس جواب قسم پر بیان کرتے ہیں۔
ارجع الیہم اور فلناتینہم کے درمیان ایک خلاء ہے جس کو صاحب تفسیر ماجدی یوں بیان کرتے ہیں :۔
سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا :۔ میں نے دعوت تو اطاعت و اسلام کی دی تھی یہ بلا اطاعت و قبول دعوت محض اظہار دوستی کیسا ؟ یہ تو ایک صورت رشوت کی ہوئی۔ مال و قوت دونوں کے لحاظ سے تو میری سلطنت اللہ کے فضل و کرم سے بلقیس کے ملک سے کہیں بڑھی ہوئی ہے میں ان تحائف و ہدایا کو واپس کرتا ہوں اور عنقریب فوج کشی کرکے ان بےدینوں کو کچل ڈالوں گا : یا دونوں کے درمیان شرط محذوف ہے ای ارجع الیہم فلتاتونی مسلمین والا فلنا نینہم الخ۔
لاقبل لہم بھا۔ قبل یقدیم کے لئے استعمال ہوتا ہے خواہ یہ تقدم زمانی ہو یا تقدم مکانی یو یا مرتبہ میں تقدم ہو یا ترتیب فنی میں تقدم ہو۔ اور استعارہ کے طور پر قوت اور مقابلہ کرنے کی قوت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے لاقبل لی بکذا میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ آیۃ ہذا میں لاقبل لہم بھا کا معنی بھی اس طرح ہے :۔ جس کے مقابلہ کی ان کو طاقت نہ ہوگی !
ولنخرجنھم واؤ عطف کا ہے اور لنخرجنہم کا عطف جواب قسم پر ہے (ملاحظہ ہو اوپر فلنأتینھم) لام تاکید کا ہے نخرجن مضارع بانون تاکید تقیلہ جمع متکلم ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب (یعنی ملکہ بلقیس کی قوم) ہم ضرور ان کو نکال باہر کریں گے۔
منھا : ای من سبا۔
اذلۃ : ذلیل کی جمع قلت ہے۔ متواضع اور نرم دل کے لئے بھی مستعمل ہے حال ہے ضمیر مفعول سے۔
وہم صغرون ۔ یہ بھی حال ہے صغرون، صغر واحد صغار سے اسم فاعل جمع مذکر کا صیغہ ہے بمعنی ذلیل و خوار۔ الصغر الکبر کی ضد ہے۔ صغر۔ یصغر (سمع) صغر کے معنی چھوٹا ہونے کے بھی ہیں اور صغر یصغر (کرم) صغر و صغار کے معنی ذلیل ہونے اور ذلت پر قانع ہونے کے ہیں اور اسی سے ہے صغر کے معنی ذلیل اور کم مرتبہ آدمی جو اپنی ذلت پر قانع ہو۔
Ayah 27:38(27:38) قال : ای قال سلیمن۔
Ayah 27:39(27:39) عفریت۔ دیو۔ قوی ہیکل ۔ بڑے بڑے ڈول والا۔
قوی۔ اس لئے کہ تخت خواہ کتنا ہی بڑا اور وزنی ہو میں اسے لے آنے کی قوت رکھتا ہوں۔
امین۔ اس لئے کہ خواہ وہ کتبا ہی قیمتی اور مرصع ہو میں خیانت نہ کروں گا۔ امین۔ امانت دار۔ معتبر۔
Ayah 27:40(27:40) ان یرتد : ان مصدریہ ہے۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب۔ ارتداد (افتعال) مصدر۔ لوٹے ۔ یا لوٹ کر آئے۔
طرفک : مضاف مضاف الیہ۔ تیری نظر۔ تیری نگاہ۔ طرف العین۔ آنکھ کی پلک۔ طوف پلک جھپکنا۔
مستقرا۔ اسم فاعل واحد مذکر منصوب۔ استقرار (استفعال) مصدر۔ ای ساکنا عندہ قارا علی حالۃ التی علیہا۔ اپنی پہلی حالت میں اپنے سامنے رکھا پایا۔ لفظی معنی قرار پکڑنے والا۔ ٹھہرنے والا۔
لیبلونی۔ لام تعلیل کا ہے یبلوا مضارع منصوب بوجہ ان مقدرہ ۔ صیغہ واحد مذکر غائب ن وقایہ۔ ی متکلم۔ تاکہ وہ میری آزمائش کرے۔ بلاء یبلو بلاء (نصر) آزمائش کرنا۔
غنی صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ بےنیاز۔ غیرمحتاج۔ کوئی شکر اس کا اس کی نعمتوں کا کرے یا نہ کرے وہ بےنیاز ہے شکر کا محتاج نہیں
کریم صفت مشبہ واحد۔ عزت والا۔ کرام جمع جیسے کراما کاتبین (82:11) معزز لکھنے والے۔ یہاں بمعنی ناشکری کرنے والوں پر بھی فضل و کرم کرنے والا۔