Ayah 27:1طس تلک ایت القران و کتاب مبین . یہ آیات قرآن کی اور (حلال و حرام کے احکام کو) واضح کر
دینے والی کتاب کی آیات ہیں۔
تِلْکَ سے آیات سورت کی طرف اشارہ ہے۔
کتاب مبین سے مراد لوح محفوظ ہے جس کے اندر ہر ہونے والی چیز کا اندراج ہے اس کو مبین یعنی مظہر کل فرمایا ‘ لوح محفوظ تحریر کے لحاظ سے قرآن پر مقدم ہے لیکن ہمارے علم کا تعلق قرآن سے ہی ہے اسی تعلق کا لحاظ کر کے القرآن کو کتاب مبین سے پہلے ذکر کیا۔
یا کتاب مبین سے بھی قرآن ہی مراد ہے قرآن حلال و حرام احکام کو کھول کر بیان کرنے والا ہے اور چونکہ معجز ہے اس لئے اپنے لئے صحیح ہونے کو بھی واضح طور پر بیان کر رہا ہے۔
قرآن اور کتاب صفت کے صیغے بھی ہیں جو چیز پڑھی جائے وہ قرآن (مقروء) ہے اور جو چیز لکھی جائے وہ کتاب (مکتوب) ہے اور یہ دونوں اللہ کی کتاب کے علم (یعنی خصوصی نام) بھی ہیں علمیت کے لحاظ سے بعض جگہ ان کو الف لام کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے اور وصفی معنی کے لحاظ سے بغیر الف لام کے۔
Ayah 27:2ھدی وبشری للمومنین . یہ مجسم ہدایت بھی ہے اور مومنوں کیلئے (خاص 1 طور پر) بشارت بھی ہے۔ یعنی سب لوگوں کے لئے یہ راہنما ہے اگر کوئی ہدایت یاب نہیں ہوتا تو اس کی بتائی اور دکھائی ہوئی راہ پر چلنے کی وجہ سے اور (جو لوگ اس کی بتائی ہوئی راہ پر چلتے ہیں یعنی) مؤمنوں کے لئے (خصوصیت کے ساتھ) بشارت ہے۔
Ayah 27:3الذین یقیمون الصلوۃ . جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کے فرض ‘ ارکان ‘ نماز کی سنتیں اور نماز کے آداب کے پابند ہیں۔
ویوتون الزکوۃ وھم بالاخرۃ ھم یوقنون . اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر پورا پورا ایمان رکھتے
ہیں یعنی ایمان کے بعد ان کا اعمال صالحہ اختیار کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ ان کا آخرت پر یقین پختہ ہے۔
Ayah 27:4اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُوْنَ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان کے (برے) اعمال کو ان کی نظروں میں سجا دیا ہے (کہ ان پر نفس کو مسلط کردیا ہے اور ان کا نفس برے اعمال کو پسند کرنے لگا ہے) پس وہ سرگرداں ہیں یعنی نتائج اور انجام سے بیخبر رہ کر بداعمالی میں سرگرداں ہیں۔
Ayah 27:5اولئک الذین لھم سوء العذاب . یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے برا عذاب ہے یعنی دنیا میں قتل ‘ قید اور ذلت کا عذاب ہے۔ یہ بدر کے واقعہ کی پیشن گوئی ہے۔
وھم فی الاخرۃ ھم الاخسرون . اور یہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ پانے والے ہیں۔
اللہ نے ان کو عزت بخشی ‘ اپنا رسول ان کے اندر پیدا کیا اور رسول بھی ایسا جو ان کو گناہوں سے پاک صاف کرنا چاہتا ہے اور دنیا و آخرت میں کامیاب بنانے کا خواستگار ہے مگر انہوں نے رسول کا حکم نہیں مانا اور دنیا و آخرت کی کامرانی پر دنیا میں قتل اور ذلیل ہوجانے کو ترجیح دی اور آخرت میں دوامی دوزخ کو اختیار کیا پس ان سے زیادہ خاسر و نامراد کون ہوسکتا ہے۔
Ayah 27:6وانک لتلقی القران من لدن حکیم علیم . اور آپ کو بالیقین ایک بڑے حکمت والے ‘ علم والے کی
طرف سے قرآن دیا جا رہا ہے۔
حَکِیْمٍ اور عَلِیْمٍ میں تنوین مفید تعظیم ہے یعنی یہ قرآن ایک ایسے عظیم الشان علیم و حکیم کی طرف سے ہے جس کے علم و حکمت کی تہہ کو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔
علم حکمت کے اندر داخل ہے کیونکہ علم عام مفہوم پر دلالت کرتا ہے اور حکمت کا لفظ علم کے استحکام پر دلالت کرتا ہے لہٰذا دونوں اوصاف کو ظاہر کرنے کے لئے حکیم کے ساتھ علیم بھی فرما دیا ‘ پھر اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ کچھ علوم تو حکمت ہوتے ہیں جیسے علم العقائد علم شریعت وغیرہ اور بعض علوم حکمت نہیں ہوتے جیسے قصص اور آئندہ چیزوں کا بیان۔ گویا لفظ علیم سے اس طرف اشارہ ہے کہ اس قرآن میں گزشتہ واقعات کو بھی بیان کیا گیا ہے چناچہ اس سے آگے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے قصہ کی تفصیل ہے۔
Ayah 27:7اذ قال موسیٰ لا ھلہ انی انست نارًا . جب (موسیٰ مدین سے مصر کی طرف آ رہے تھے تو راستہ میں ایک
جگہ) موسیٰ نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے ایک آگ دکھائی دی ہے۔
اللہ نے وہ قول نقل کیا جو موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی بیوی سے کہا تھا اور ظاہر ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) نے عربی میں نہیں کہا ہوگا بلکہ اس مفہوم کو اپنی زبان میں ادا کیا ہو جس کو قرآن کے اندر عربی عبارت میں اللہ نے بیان کردیا۔ اس میں دلیل ہے اس امر کی کہ حدیث کے معنی کو دوسرے الفاظ میں نقل کرنا (اور یہ کہنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا فرمایا) جائز ہے اور نکاح بھی ایسے الفاظ سے جائز ہے جو تزویج و نکاح کے مفہوم کو ظاہر کر رہے ہوں۔
ساتیکم منھا بخبر . میں تمہارے پاس وہاں سے کوئی خبر ضرور لے کر آؤں گا یعنی تم یہیں ٹھہرو میں
جا کر کوئی خبر لاتا ہوں۔ اس جگہ سَاٰتِیْکُمْ (میں ضرور لے کر آؤں گا) فرمایا اور سورة قصص میں لَعَلِّیْ اٰتِیْکُمْ (امید ہے کہ میں کوئی خبر لے کر آؤں گا) فرمایا۔ ایک جگہ قطعیت اور یقین کا اظہار ہے دوسری جگہ محض امید کا۔ بات یہ ہے کہ امید جب قوی ہو تو اس کو قطعیت اور یقین کے رنگ میں بیان کی اجا سکتا ہے ‘ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو امید تھی اس لئے لَعَلِّیْ اٰتِیْکُمْ کہہ دیا اور یہ امید یقینی تھی کہ ضرور کوئی اطلاع مفید لے کر آؤں گا اس لئے سَاٰتِیْکُمْ کہہ دیا۔
بِخَبَرِ کوئی اطلاع یعنی صحیح راستہ کی اطلاع۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) راستہ بھٹک گئے تھے صحیح راستے کی بھی تلاش تھی۔
سَاٰتِیْکُمْ کا سین (اظہار یقین پر تو دلالت کر ہی رہا ہے اسی کے ساتھ یہ بھی) بتارہا ہے کہ مسافت لمبی تھی خبر لانے میں تاخیر ہوسکتی تھی۔
اواتیکم بشھاب قبس . یا تمہارے پاس کوئی بھڑکتی لکڑی لے کر آؤں گا۔
شِھَاب بھڑکتی آگ کا شعلہ۔ قَبَس بڑی آگ میں سے لیا ہوا ایک شعلہ۔ کذافی القاموس
بغوی نے لکھا ہے شِھَاب اور قَبَس دونوں قریب المعنی ہیں قَبَس اس لکڑی کو کہتے ہیں جس کے ایک سرے میں آگ لگی ہوئی ہو اور دوسرے سرے میں آگ نہ ہو۔
لعلکم تصطلون . تاکہ تم تاپ لو (اپنے آپ کو آگ سے سینک لو) اِصْطَلاَءً باب افتعال مادہ صَلٰی۔
صَلٰی آگ بھڑکانا۔ یعنی مجھے امید ہے کہ تم لوگ سردی دور کرنے کے لئے آگ سے تاپ سکو گے ‘ سردی کا موسم تھا اور سردی سخت تھی۔ اس لئے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے یہ بات کہی۔
Ayah 27:8فلما جاء ھا نودی ان بورک من فی النار ومن حولھا . پھر جب موسیٰ ( علیہ السلام) آگ کے قریب پہنچے تو ندا
دی گئی کہ جو اس آگ کے اندر ہے اس پر بھی برکت ہے اور جو آگ کے آس پاس ہے اس پر بھی برکت ہے۔ آگ پر پہنچنے سے مراد ہے آگ کے قریب پہنچنا جب کوئی شخص فرودگاہ کے قریب پہنچ جائے تو عرب کہتے ہیں بَلَغَ فَلانٌ المَنْزِلَ فلاں شخص منزل کے قریب پہنچ گیا۔
نُوْدِیَ ندا دی گئی۔ نداء کے اندر قول کا معنی ہے یعنی پکار کر کہا گیا بُوْرِکَ مَنْ فِیْ النَّار یعنی پاک ہے وہ جو آگ کے اندر جلوہ افروز ہے اس سے مراد ہے اللہ تعالیٰ ۔ حضرت ابن عباس ‘ سعید بن جبیر اور حسن نے بھی تفسیر کی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو ندا دی اور اپنا کلام سنایا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ وہ آگ نہ تھی اللہ تبارک و تعالیٰ کا نور جلوہ افروز تھا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے اس کو آگ خیال کیا تھا اسی لئے لفظ نار (آگ) کہا تھا۔
مسلم نے حضرت ابو موسیٰ کا قول نقل کیا ہے حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا ہمارے (جلسہ کے) اندر رسول نے کھڑے ہو کر پانچ باتیں فرمائیں فرمایا : اللہ سوتا نہیں نہ اس کے لئے سونا سزاوا رہے ‘ وہی ترازو کے پلڑے کو اونچا نیچا کرتا ہے (یعنی گھٹاتا بڑھتا اور ذلت و عزت دیتا ہے) اس کے سامنے رات کے اعمال دن کے اعمال سے پہلے اور دن کے اعمال رات کے اعمال سے پہلے پیش کئے جاتے ہیں ‘ اس کا حجاب نور ہے اگر کھل جائے تو اس کی ذات کے چمکارے وہاں تک مخلوق کو سوختہ کردیں جہاں تک اس کی نظر کی رسائی ہو (یعنی سارے جہان کو جلا ڈالے) ۔
سعید بن جبیر نے کہا وہ بعینہ آگ ہی تھی جو اللہ (کی ذات) کے لئے حجاب تھی جیسا کہ بعض روایات میں حِحَابُہ النُّور کی بجائے حِجَابُہ النَّار آیا ہے۔ اس تفسیر پر اس آیت کا شمار متشابہات میں ہوگا جیسا دوسری آیت میں آیا ہے ھَلْ یَنْظُرُوْنَ الاَّ اَنْ یَّاْتِیَھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وہ صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ غمام کے سائبانوں میں ان کے پاس آپہنچے۔
چونکہ آیت مذکورہ سے اس بات کا وہم پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کسی مکان اور کسی شکل کا محتاج ہے حالانکہ خدا ہر عیب و نقص سے پاک ہے (نہ اس کو کوئی مکان گھیر سکتا ہے ‘ نہ اس کی کوئی شکل ہے یہ دونوں چیزیں اس کے لئے باعث نقص ہیں۔ مترجم) اس لئے آئندہ آیت میں اللہ نے اپنی پاکی کی صراحت کی اور فرمایا۔
وسبحن اللہ رب العلمین . اور پاکی کا اقرار کرو اس اللہ کی جو سارے جہان کا رب ہے۔
مجاہد کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس نے بُوْرِکَتِ النَّار یعنی آگ کو برکت دی گئی۔ سعید بن جبیر روای ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا میں نے ابیّ کو پڑھتے سنا۔ اَنْ بُوْرِکَتِ النَّارُ وَمَنْ حَوْلَھَا اس روایت میں مَنْ حَوْلَھَا میں مَنْ زائد ہوگا (یعنی برکت نازل کی گئی آگ پر اور آگ کے گردا گرد) ۔
بُوْرِکَ النَّار اور بُوْرِکَ فِیْ النَّارِ (دونوں کا ایک ہی معنی ہے عرب کہتے ہیں بارک اللّٰہُ اور بارک اللّٰہُ فِیْہ اور بارک اللّٰہُ عَلَیہ سب کا ایک ہی معنی ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ جو آگ میں ہیں (یعنی ملاہ کہ) اور جو آگ کے گرد ہیں (یعنی موسیٰ ( علیہ السلام) سب کو برکت دی گئی نار کی صفت مبارکۃ آتی ہے جیسے بقعۃ کی صفت مبارکۃ آیت فِیْ الْبُقْعَۃِ الْمُبَارَکَۃِ (مبارک مقام) میں آئی ہے۔ بعض اہل علم نے کہا : بُوْرِکَ مِنْ فِیْ النَّار میں مضاف محذوف ہے یعنی بُوْرِکَ مِنْ فِیْ طَلَبِ النَّارِ (برکت دی گئی اس کو جو آگ کی طلب میں ہے) یا بُوْرِکَ مِنْ فِیْ مَکَان النَّارِ (مبارک ہے وہ جو آگ کے مقام پر ہے) بہرحال اس سے مراد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ہیں اور مَنْ حَوْلَھَا سے ملائکہ مراد ہیں جو آگ کے آس پاس موجود تھے اللہ کی طرف سے موسیٰ ( علیہ السلام) کے لئے اس لفظ میں پیام برکت تھا جیسے حضرت ابراہیم کو فرشتوں کی زبانی پیام برکت و رحمت دیا گیا تھا اور فرشتوں نے کہا تھا : رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ عَلَیْکُمْ اَھْلَ الْبَیْتِ ۔
بعض نے کہا : مِنْ فِیْ النَّارِ سے مراد ملائکہ ہیں اور مَنْ حَوْلَھَا سے مراد موسیٰ ( علیہ السلام) ۔ جو نور موسیٰ ( علیہ السلام) نے دیکھا تھا اس کے اندر ملائکہ تسبیح ‘ تحمید اور تقدیس میں مشغول تھے اور موسیٰ ( علیہ السلام) آگ کے قریب تھے۔
بعض عطماء نے کہا : مَنْ حَوْلَھَا کا لفظ عام ہے وادی کے اندر جو کوئی تھا سب کو یہ لفظ شامل تھا اور ارض شام (جس کا مخزن انبیاء ہونے کی وجہ سے برکات بھی کہا گیا ہے) بھی اس میں داخل ہے اور خطاب کا صیغہ ذکر کرنے سے پہلے مَنْ حَوْلَھَا کا ذکر کرنا موسیٰ ( علیہ السلام) کو ایک طرح کی بشارت اور اس امر کی پہلے سے خوشخبری ہے کہ تمہارا واقعہ بڑی عظمت والا ہوگا تمہاری برکتیں ارض شام میں پھلیں گی ان تمام تاویلات پر سبحان اللہ رب العالمین سے دو باتیں مستفاد ہوں گی ایک تو توہُّمِ تشبیہ کی نفی ہوجائے گی دوسری بات یہ کہ آئندہ واقعہ موسیٰ ( علیہ السلام) کی عظمت کا اظہار اور اس کا تعجب آفریں ہونا معلوم ہوجائے گا۔
Ayah 27:9یموسی انہ انا اللہ العزیز الحکیم . اے موسیٰ ( علیہ السلام) ! حقیقت یہی ہے کہ میں ہی اللہ ہوں غالب اور حکمت والا ہوں۔ لفظ عزیز و حکیم درحقیقت تمہید ہے آئندہ واقعہ کی ‘ یعنی میں ایسا قادر مطلق اور غالب کل اور حکمت و تدبیر کے ساتھ کام کرنے والا ہوں کہ کسی کے تصور کی رسائی بھی وہاں تک نہیں ہوسکتی مثلاً لاٹھی کو سانپ بنا دینا وغیرہ۔
Ayah 27:10والق عصاک . اور اپنی لاٹھی (ہاتھ سے زمین پر) پھینک دو ۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے لاٹھی زمین پر پھینک دی فوراً لاٹھی
سانپ بن گئی اور دوڑنے لگی۔
فلما راھا تھت کانھا جان ولی مدبرا ولم یعقب . جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے لاٹھی کو تیزی سے حرکت
کرتے دیکھا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ (تیزی سے اور دوڑ میں) ہلکا پھلکا سانپ ہے تو (ڈر کے مارے) پیٹھ پھیر کر بھاگ پڑے اور مڑ کر نہیں دیکھا۔ مقاتل نے کہا : عقب کا معنی ہے بھاگنے کے بعد پھر لوٹ پڑنا۔
یموسی لا تخلف انی لا یخاف لدی المرسلون . (ہم نے کہا) موسیٰ ( علیہ السلام) ! (سانپ سے) خوف
نہ کرو میرے پاس پہنچ کر پیغمبر (کسی چیز سے) ڈرا نہیں کرتے۔ یعنی جب میرا قرب مل جاتا ہے اور میری بارگاہ میں پیغمبر آجاتے ہیں تو (حالت قرب میں) پھر کسی خوفناک چیز سے نہیں ڈرتے ‘ یہ آخری جملہ عدم خوف کی علت ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ جو پیغمبر میرا پیام مخلوق کو پہنچاتے ہیں وہ صرف مجھ سے ڈرتے ہیں اور میرے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : انا اخشاکم باللّٰہ بظاہر اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر سب سے زیادہ ڈرتے ہیں لیکن آیت کا جو مطلب ہم نے بیان کیا اس کی روشنی میں حدیث کا مطلب بھی واضح ہوگیا (کہ پیغمبروں کو بارگاہ الٰہی میں رسائی کے بعد مخلوق میں سے کسی کا خوف نہیں رہتا وہ صرف اللہ سے ڈرتے ہیں)
یا یہ مطلب ہے کہ پیغمبروں پر جس وقت وحی نازل ہوتی ہے تو اس وقت وہ اتنے مستغرف ہوجاتے ہیں کہ ان کو مطلقاً کوئی خوف نہیں رہتا۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان کو اپنا انجام برا ہونے کا اندیشہ نہیں رہتا کیونکہ ان کا انجام اور مآل کار برا ہوتا ہی نہیں۔
Ayah 27:11الا من ظلم ثم بدل حسنا بعد سوء فانی غفور رحیم . مگر ہاں جس سے کوئی قصور سرزد ہوجائے
پھر برائی ہوجانے کے بعد اس کے بجائے نیک کام کرلے تو میں بہت بخشنے والا مہربان ہوں۔
اِلاَّ بہرحال استثنائیہ ہے لیکن استثناء متصل ہے (یعنی پیغمبر بھی کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ ان سے بیجا حرکات کا صدور ہوجاتا ہے پھر وہ توبہ کرلیتے ہیں اور بجائے گناہ کے نیک اعطام کرتے ہیں) یا منفصل ہے کہ مستثنیٰ منہ مُرْسَلُوْنَ نہیں ہے بلکہ الاَّ استثنائیہ ہے لیکن کے معنی میں ہے) کچھ علماء استثناء کو متصل کہتے ہیں اس میں قبطی کو قتل کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ اللہ اپنے کسی نبی کے دل میں کسی کا خوف نہیں آنے دیتا مگر اس پیغمبر کے دل میں کسی مخلوق سے ڈر پیداہو جاتا ہے جس سے کوئی گناہ یعنی صغیرہ یا ترک اولی کا ہوگیا ہو اور پھر اس نے توبہ کرلی ہو اور اعمال کو درست کرلیا ہو تو اللہ اس کو معاف فرما دیتا ہے ہو غفور رحیم ہے۔ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا کی صراحت اس لئے کردی کہ انبیاء سے ایسا صغیرہ گناہ بھی سرزد نہیں ہوسکا اور نہ نبوت سے پہلے کوئی (ایسا کبیرہ) گناہ سرزد ہوسکتا ہے جس کے بعد انہوں نے توبہ نہ کرلی ہو۔
بعض علماء نے کہا : ثُمَّ بَدَّلَ کا عطف ایک محذوف لفظ پر ہے اور یہاں سے کلام ہی علیحدہ ہے ‘ پہلا کلام مَنْ ظَلَمَ پر ختم ہوگیا۔ پورا کلام اس طرح تھا : فَمَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ : اِلٰی آخرہ پس جس آدمی نے گناہ کیا پھر توبہ کرلی۔ اس وقت اس جملہ کا حکم تمام لوگوں کے لئے عام ہوگا ‘ انبیاء ہی سے اس کا خصوصی تعلق نہ ہوگا۔
بعض علماء کے نزدیک استثناء منقطع ہے کیونکہ پیغمبروں سے ظلم (گناہ) کا صدور ممکن نہیں (اللہ نے ان کو معصوم بنایا ہے) اس وقت الا کا معنی ہوگا لیکن (اور کلام بالکل علیحدہ ہوگا) مطلب اس طرح ہوگا۔ لیکن پیغمبروں کے علاوہ جس نے گناہ کیا ہو پھر توبہ کرلی ہو تو اللہ غفور رحیم ہے ‘ اس کو معاف کر دے گا لیکن ایسے شخص کو اللہ کے سوا دوسروں کا خوف ہوجاتا ہے۔ بعض نے کہا : یہ استدراک ہے۔ بظاہر معلوم کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ کیس پیغمبر سے کسی صغیرہ گناہ کا صدور بھی نہیں ہوتا باوجودیکہ ایسے پیغمبر بھی تھے جن سے صغیرہ گناہ کا صدور ہوا تھا (سب سے پہلے حضرت آدم سے ہی اجتہادی قصور ہوا یا بلاقصد گناہ کا صدور ہوگیا۔ مترجم) اس شبہ کو دور کرنے کے لئے فرما دیا لیکن پیغمبروں میں سے جس کسی سے کوئی صغیرہ گناہ صادر ہوگیا تو اس نے اس کے پیچھے فوراً توبہ کرلی اور اللہ نے اس کو معاف کردیا۔ پس ایسا پیغمبر بھی اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔
ان دونوں تاویلوں پر یہ کہنا پڑے گا کہ موسیٰ ( علیہ السلام) سانپ سے نہیں ڈرے حالانکہ یہ بات خلاف واقع ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَلَمَّا رَاٰھَا تَھْتَزُّ کَاَنَّھَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ ۔ دوسری آیت میں آیا ہے : فَلَوْجَسَ فِیْ نَفْسِہٖ خِیْفَۃً مُّوْسیٰ موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے دل میں ایک قسم کا خوف محسوس کیا۔ ہاں اگر نفی خوف سے مراد ہو بدانجامی کا خوف نہ کرنا تو کلام کا مطلب بن جائے گا جس طرح دوسری آیت میں آیا ہے : لاَ خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ یَحْزَنُوْنَ نہ ان کو عذاب کا خوف ہوگا نہ گزشتہ کا رنج۔ لیکن کلام کی رفتار اور سیاق کا تقاضا اس مطلب کے خلاف ہے کہ کیونکہ موسیٰ ( علیہ السلام) کو جس خوف کی ممانعت کی گئی تھی وہ تو سانپ ہی کا خوف تھا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) سانپ ہی سے ڈرتے تھے۔
بعض علماء کا خیال ہے کہ الاَّ اس جگہ ولاَ (اور نہیں) کے معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ میرے پاس پہنچ کر نہ تو پیغمبر خوف کرتے ہیں اور نہ وہ صلحاء مؤمنین جو پیغمبر نہیں اور ان سے کوئی گناہ ہوجاتا ہے اور وہ توبہ کرلیتے ہیں اور اپنے اعمال کو درست کرلیتے ہیں ‘ وہ بھی بےگناہ کی طرح سے ہوجاتے ہیں ان کو بھی کوئی خوف نہیں ہوتا۔ اس توجیہ پر مذکورہ سابق دونوں تاویلوں کی طرح مطلق خوف کی نفی ہوگی صرف مخلوق سے ڈرنے کی نفی نہیں ہوگی۔ اس جگہ محشی نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی (رح) کے حوالے سے ایک نفیس اطمینان بخش تنقیح نقل کی ہے جس کا ترجمہ ضروری ہے وہ یہ ہے۔ 1
Ayah 27:12وادخل یدک فی جیبک . اور اپنے ہاتھ کو اپنے (قمیص کے) گریبان میں ڈالو۔ جیب کرتہ کا گریبان
(قاموس) بعض نے کہا : جیب قمیص کو کہتے ہیں (جوب کا معنی ہے قطع کرنا) قمیص کو کاٹا جاتا ہے اس لئے اس کو جیب کہتے ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے : اہل تفسیر کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اس وقت ایک چھوٹا سا اونی کرتہ پہنے ہوئے تھے جس کی نہ آستینیں تھیں نہ بٹن۔
تخرج بیضآ من غیر سوء . (اگر گریبان کے اندر ہاتھ ڈال کر باہر نکالو گے تو وہ) گورے رنگ کا ہو کر نکلے گا (جو سورج کی طرح روشن اور چمکدار ہوگا) بغیر کسی خرابی کے (یعنی برص وغیرہ کی بیماری کی وجہ سے اس کا گوراپن نہ ہوگا) ۔
فی تسع اٰیٰت . (یہ دونوں معجزات) منجملہ نو معجزات کے ہیں۔ یا یہ دونوں مع نو معجزات کے ہیں۔
نو آیات حسب ذیل ہیں۔ ا۔ لاٹھی سے سمندر کو پھاڑ دینا۔ 2۔ طوفان ہوائی۔ 3۔ ٹڈی دل۔ 4۔ جوئیں۔ 5۔ مینڈکیاں۔ 6۔ خون۔ 7۔ صورت کا بگاڑ۔ 8۔ دیہات میں خشک سالی۔ 9۔ مویشیوں کا دودھ خشک ہوجانا۔ جس نے عصا اور یدبیضاء کو بھی نو معجزات میں شامل کیا ہے ‘ اس نے خشک سالی اور دودھ خشک ہوجانے کو ایک معجزہ قرار دیا ہے اور سمندر کے پھٹنے کو تسع آیات میں شمار نہیں کیا کیونکہ فرعون کے پاس جانے کا حکم جس وقت دیا گیا تھا اس وقت یہ معجزہ عطا نہیں ہوا تھا۔
یا فِیْ تِسْعِ آیَاتٍ الگ جملہ ہے گویا اِذْھَبْ فِیْ تِسْعِ آیٰتٍ پورا کلام تھا۔
الی فرعون وقومہ . (ان معجزات کے ساتھ) فرعون اور اس کی قوم والوں کی طرف (جاؤ) ۔
انھم کانوا قوما فسقین . (کیونکہ) وہ بدکار لوگ تھے۔ یہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو فرعون کے پاس بھیجنے کی علت ہے۔
Ayah 27:13فلما جآتھم ایتنا مبصرۃ قالو ھذا سحر مبین . جب ان کے پاس (ہمارے احکام واضح طور پر پہنچ گئے یا)
ہماری نشانیاں (یعنی معجزات) کھلم کھلا پہنچ گئے تو فرعون اور اس کی قوم والوں نے کہا یہ کھلا جادو ہے۔
خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کو حکم ملا اپنی لاٹھی زمین پر پھینک دو ‘ موسیٰ ( علیہ السلام) نے لاٹھی پھینک دی وہ سانپ بن گئی اور تیزی کے ساتھ دوڑنے لگی اور حکم ملا اپنا ہاتھ گریبان کے اندر کر کے نکالو وہ سفید بےداغ نکلے گا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے اس حکم کی بھی تعمیل کی اور ہاتھ اندر سے گورا چمکیلا بےداغ نکلا اور حکم ملا یہ دونوں نشانیاں لے کر مع نو نشانیوں کے فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ ‘ وہ بدکار لوگ ہیں۔ موسیٰ ( علیہ السلام) گئے اور معجزات پیش کئے۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے کہا یہ کھلا جادو ہے۔
Ayah 27:14وجحدوا بھا . اور انہوں نے ان آیات کا انکار کیا۔ یعنی اللہ کی طرف سے نازل ہونے کا انکار کیا۔
واستیقنتھا انفسھم . اور انکے دلوں کو ان آیات کا پکا یقین ہوگیا تھا۔ 1 استیقان کے معنی میں ایقان سے زیادہ زور ہے۔
ظلما وعلموا . ظلم اور تکبر کی وجہ سے (انہوں نے انکار کیا تھا) ظلم سے مراد ہے کہ انہوں نے اپنی جانوں
پر کیا تھا کہ دوامی دوزخ کے مستحق ہوگئے تھے اور تکبر یہ تھا کہ انہوں نے موسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان لانے سے سرتابی کی تھی۔
فانظر . پس (اے مخاطب ! بصیرت نظر سے) دیکھ۔
کیف کان عاقبۃ المفسدین . تباہ کاروں کا انجام کیسا ہوا (کہ دنیا میں ان کو پانی میں غرق کردیا گیا اور مرنے کے بعد دوزخ میں پہنچا دیا گیا۔
Ayah 27:15ولقد اتینا داود و سلیمن علما . اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ یعنی طاقت بشریہ کے مطابق اللہ کی ذات ‘ صفات ‘ احکام اور مبدء و معاد کے احوال اور پرندوں اور چوپایوں کی بولی اور پہاڑوں کی تسبیح اور لوہے کو نرم کرنے کا علم ہم نے عطا کیا۔
وقالا الحمد اللہ الذی فضلنا علی کثیر من عبادہ المؤمنین . اور (ا اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے
ہوئے) دونوں نے کہا : تعریف ہے اس اللہ کی جس نے اپنے کثیر مؤمن بندوں پر ہم کو برتری عنایت فرمائی۔
قَالاَ سے پہلےنہ ہونا اور واؤ ہونا بتارہا ہے کہ اس سے پہلے کچھ کلام محذوف ہے۔ پوری عبارت اس طرح تھی پس دونوں نے علم کے مطابق عمل کیا اور نعمت کے حق کو پہچان کر یہ جملہ کہا۔ اگر کلام کو محذوف نہ قرار دیا جائے تو پھر بجائے واؤ کےہونا چاہئے۔ عرب کہتے ہیں : اعطیتہ فشکر۔
آیت بتارہی ہے کہ علم بڑی فضیلت ہے باعث شرف ہے اور علماء کو دوسروں پر فضیلت حاصل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : عابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسے چودھویں کے چاند کو باقی ستاروں پر فضیلت ہے۔ علماء انبیاء کے جانشین ہیں اور انبیاء نے کوئی دینار و درہم اپنی میراث میں نہیں چھوڑا بلکہ علم کی میراث چھوڑی ہے پس جس نے اس میراث کو لیا (وہ بڑا خوش نصیب ہے) اس نے بڑی میراث پائی۔ راوہ احمد والترمذی و ابو داؤد و ابن ماجہ من حدیث کثیر بن قیس ترمذی نے قیس بن کثیر لکھا ہے۔
یہ بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عابد پر عالم کی برتری ایسی ہے جیسے تم میں سے ادنیٰ آدمی پر میری برتری۔ راوہ الترمذی عن ابی امامتہ الباہلی۔
آیت میں نعمت علم کا شکر ادا کرنے کی ترغیب ہے اور اس بات کی تعلیم ہے کہ آدمی کو خواہ بہت لوگوں پر فضیلت حاصل ہو پھر بھی اس کو تواضع کرنا چاہئے اور یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس پر بھی بہت لوگوں کو برتری حاصل ہے۔ وَفَوْقَ کُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٍ ہر عالم سے اونچا عالم ہے۔
Ayah 27:16وورث سلیمن دادو . اور سلیمان داؤد کے وارث ہوئے۔ یعنی نبوت کے ‘ حکومت کے اور علم کے
وارث ہوئے۔ قتادہ نے یہی تفسیر کی اخرجہ عبد بن حمید و ابن المنذر و ابن ابی حاتم۔ شیعہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ انبیاء بھی دوسروں کو اپنا وارث بناتے ہیں۔ لیکن شیعہ فرقہ کا یہ استدلال بجائے فائدہ کے ان کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر سلیمان داؤد کے مال کے وارث ہوئے یہ صحیح مانا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت داؤد کے جو دوسرے اٹھارہ بیٹے تھے ان کو باپ کے مال میں سے کچھ نہیں ملا سب کے وارث سلیمان ہوگئے۔ وراثت کا معنی یہ ہے کہ ایک شئ دوسرے کی طرف بغیر کسی بیع شراء اور ہبہ اور عاریت وغیرہ کے منتقل ہوجائے خواہ وہ دونوں آپس میں قرابتدار ہوں یا نہ ہوں۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَاَوْرَثْنَا ھَابَنِی اِسْرَاء آیْلَ ہم نے اس سرزمین کا بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا (یعنی اس کی ملکیت بغیر کسی عقد کے بنی اسرائیل کی طرف منتقل کردی) دوسری آیت میں آیا ہے : وَاَرْرَثَکُمْ اَرْضَھُمْ وَدِیَارَھُمْ (اور تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں کا وارث یعنی قابض ومالک بنا دیا۔ ظاہر ہے کہ دونوں آیتوں میں مورث اور وارث میں قرابت نہیں تھی اس لئے شرعی میراث تو مراد نہیں ہے صرف تملیک اور قبضہ مراد ہے۔ مترجم)
رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں جو لاَ نُورِّثُ کا لفظ آیا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی آدمی (خواہ کتنا ہی عزیز اور قرابتدار ہو) سی نبی کے مال کا وارث نہیں ہوتا بلکہ نبی کی وفات کے بعد اس کا مال وقف قرار پائے گا اور اللہ براہ راست اس کا مالک ہوگا۔
بغوی نے لکھا ہے : داؤد کو اللہ نے جو نعمتیں عطا فرمائی تھیں وہ نعمتیں سب حضرت سلیمان کو عطا فرما دیں بلکہ تسخیر ہوا اور تسخیر شیاطین یہ دونوں چیزیں زیادہ عنایت فرمائیں۔
مقاتل نے کہا : سلیمان کا ملک بڑا تھا اور دؤد میں سلیمان کی نسبت سے قوت فیصلہ بڑی تھی اور آپ عبادت گزار زیادہ تھے اور حضرت سلیمان اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار (بہت تھے) میں کہتا ہوں حضرت داؤد بھی ایسے ہی تھے۔
وقال یایھا الناس علمنا منطق الطیر . اور سلیمان نے کہا : اے لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولی سکھا دی گئی ہے۔
اس کلام میں حضرت سلیمان کی طرف سے اللہ کی نعمت کے شکر کا اظہار ہے اور معجزہ کا ذکر کر کے لوگوں کو اس کی تصدیق کی دعوت ہے۔
نلق اور منطق وہ بولی جو دل کی بات کو ظاہر کرتی ہے خواہ مفرد ہو یا مرکب۔ قاموس میں ہے : نَطَقَ یَنْطِقُ (باب ضرب) نُطقًا ومَنطِقًا ونُطُوقًا (تینوں مصدر) آواز کے ساتھ اور ایسے حروف کے ساتھ تلفظ کیا جس سے معنی سمجھ میں آسکیں۔
اور چونکہ انسانوں کے لئے معنی کا سمجھنا انہی الفاظ پر موقوف ہے جو انسان بولتے ہیں اس لئے نطق کو انسان کے کلام کے لئے مخصوص سمجھ لیا گیا مگر حضرت سلیمان تو پرندوں کی آواز سے بھی ان کا دلی مدعا سمجھ جاتے تھے اس لئے پرندوں کی بولی کو بھی حضرت سلیمان نے اپنے لئے منطق کہا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت کعب نے فرمایا : حضرت سلیمان کے پاس جنگلی کبوتر نے آواز نکالی تو آپ نے پوچھا : کیا تم کو معلوم ہے کہ یہ کیا کہہ رہا ہے ؟ حاضرین نے کہا : نہیں۔ فرمایا : یہ کہہ رہا ہے مرنے کے لئے جنو اور ویران ہونے کے لئے عمارتیں بناؤ۔ فاختہ چیخی تو آپ نے فرمایا : جانتے ہو یہ کیا کہہ رہی ہے ؟ حاضرین نے کہا : نہیں۔ فرمایا : یہ کہہ رہی ہے : کاش ! یہ مخلوق پیدا نہ کی جاتی۔ مور چیخا تو آپ نے پوچھا : جانتے ہو یہ کیا کہہ رہا ہے ؟ حاضرین نے کہا : نہیں۔ فرمایا : یہ کہہ رہے : جیسا دوسروں سے معاملہ کرو گے ویسا ہی تم سے کیا جائے گا۔ ہدہد بولا تو پوچھا : کیا کہہ رہا ہے ‘ تمہیں معلوم ہے ؟ حاضرین نے کہا : نہیں۔ فرمایا : یہ کہہ رہا ہے جو رحم نہیں کرے گا اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔ ترمتی نے آواز دی تو پوچھا : تم جانتے ہو یہ کیا کہہ رہی ہے ؟ حاضرین نے کہا : نہیں۔ فرمایا : یہ کہہ رہی ہے گناہگارو ! اللہ سے معافی کی درخواست کرو۔ تیہو چیخا تو پوچھا : تم کو معلوم ہے یہ کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا : نہیں۔ فرمایا : یہ کہہ رہا ہے : ہر زندہ مرے گا اور ہر نیا پرانا فرسودہ ہوگا۔ خطاف چیخا تو پوچھا : کیا جانتے ہو یہ کیا کہہ رہا ہے ؟ حاضری نے کہا : نہیں۔ فرمایا : یہ کہہ رہا ہے : پہلے سے نیکی بھیجو (وہاں) تم کو مل جائے گی۔ کبوتری نے آواز دی تو فرمایا : یہ کیا کہہ رہی ہے ‘ تم کو معلوم ہے ؟ حاضرین نے کہا : نہیں۔ فرمایا : یہ کہہ رہی ہے : پاکی بیان کرو میرے رب برتری کی اتنی کہ آسمانوں اور زمین کو بھر دے۔ قمری چیخی تو پوچھا : جانتے ہو یہ کیا کہہ رہی ہے ؟ لوگوں نے کہا : نہیں۔ فرمایا : یہ کہہ رہی ہے : میرے رب اعلی کی پاکی بیان کرو۔ فرمایا : کّوا عشر وصول کرنے والے (کل مال کا دسواں حصہ بطور ٹیکس وصول کرنے والے) کو بددعا دیتا ہے اور چیل کہتی ہے : سوائے اللہ کے ہر چیز کو فنا ہے۔ اور قسطاۃ کہتی ہے : جو خاموش رہا محفوظ رہا۔ اور طوطا کہتا ہے : تباہی ہے اس کے لئے جس کا مقصد دنیا ہی ہے اور مینڈک کہتا ہے : میرے رب قدوس کی پاکی بیان کرو اور باز کہتا ہے : میرے رب کی پاکی بیان کرو اور ثناء کرو اور مینڈکی کہتی ہے : پاکی بیان کرو اس کی جس کا ذکر ہر زبان پر ہے۔
مکحول نے کہا : سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس ایک تیتر چیخا تو آپ نے پوچھا : جانتے ہو یہ کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا : نہیں۔ فرمایا : یہ کہہ رہا ہے : اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی (رحمن عرش پر متمکن ہے) فرقد سجی کا بیان ہے : ایک بلبل درخت پر بیٹھا سر ہلا رہا تھا اور دم نیچے کو جھکا رہا تھا (اور بول رہا تھا) حضرت سلیمان کا ادھر سے گزر ہوا۔ فرمایا : جانتے ہو یہ بلبل کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کا نبی ہی خوب واقف ہے۔ فرمایا : یہ کہہ رہا ہے : میں نے آدھا چھوارا کھالیا پس دنیا پر لازم ہے کہ اس کو بڑھا کر پورا کر دے۔
روایت میں آیا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا : ہم سات چیزوں کے متعلق آپ سے دریافت کرتے ہیں۔ اگر آپ بتادیں گے تو ہم مسلمان ہوجائیں گے اور آپ کی تصدیق کریں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : سمجھنے کے لئے پوچھ سکتے ہو ضد کے لئے نہیں پوچھ سکتے۔ یہودیوں نے پوچھا : بتائیے چنڈول اپنے گانے میں کیا کہتا ہے اور مینڈک اپنی ٹرٹر میں کیا کہتا ہے اور مرغ اپنی بانگ میں کیا کہتا ہے اور گدھا اپنے رینگنے میں کیا کہتا ہے اور گھوڑا اپنی ہنہناہٹ میں کیا کہتا ہے اور زرزور اور تیتر کیا کہتے ہیں ؟ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : چنڈول کہتا ہے : اے اللہ ! محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ سے بغض رکھنے والوں پر لعنت کر اور مرغ کہتا ہے : غافلو ! اللہ کی یاد کرو اور مینڈک کہتا ہے : پاک ہے وہ معبود جس کی عبادت سمندروں کے کنڈوں میں بھی کی جاتی ہے اور گدھا کہتا ہے : اے اللہ ! عشر وصول کرنے والے پر لعنت کر۔ گھوڑا جب معرکہ میں صفوں کے مقابلہ پر ہوتا ہے تو کہتا ہے : پاک اور مقدس ہے ملائکہ اور جبرئیل کا رب۔ زرزور کہتا ہے : اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ ہر روز کی روزی اسی روز عطا فرما اور تیتر کہتا ہے : اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی۔ یہودی یہ جواب سن کر مسلمان ہوگئے اور ان کا اسلام اچھا رہا۔
حضرت امام جعفر صادق نے اپنے والد کی وساطت سے اپنے دادا حضرت امام حسین ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ جب گدھ چلاتا ہے تو کہتا ہے : اے آدم کے بیٹے ! جی لے جب تک چاہے آخر موت ہے۔ عقاب چیختا ہے تو کہتا ہے : لوگوں سے دور رہنے میں سلامتی ہے اور چنڈول چیختا ہے تو کہتا ہے : اے اللہ : آل محمد ﷺ سے بغض رکھنے والوں پر لعنت بھیج اور خطاف چلاتا ہے تو کہتا ہے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ اور الضَّآلِیْنَ کو ایسا کھینچتا ہے جیسے قاری کھینچتا ہے۔
میں کہتا ہوں کہ جانروں کی آوازوں کی جو تشریح حضرت کعب سے منقول ہے اور جو تفصیل مکحول اور فرقد کے اقوال میں آئی ہے اس سب کا تعلق ممکن ہے کہ کسی ہنگامی آواز سے ہو (حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے سامنے کسی وقت جانور اس طرح بولے ہوں) اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ جانور جب بھی بولتے ہیں تو یہی کلمات کہتے ہیں۔ اللہ نے اس سورت میں جو ہدہد اور چیونٹی کا کلام نقل کیا ہے اس کا تعلق تو پیش آمدہ واقعہ کے ساتھ تھا ہی البتہ یہودیوں کے سوال کے جواب میں جو کچھ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا وہ بیشک بتارہا ہے کہ یہ جانور ہمیشہ ہی یہ الفاظ کہتے ہیں۔ اگر یہ روایت پایۂ ثبوت کو پہنچ جائے تو اس کی تاویل کرنا ضروری ہوگی۔
واوتینا من کل شیء . اور ہم کو ہر چیز دی گئی ہے۔ اس سے مراد کثرت انعامات کا اظہار ہے (کل استغراقی
نہیں) عرب کہتے ہیں : فلاں شخص کے پاس ہر شخص آتا ہے یعنی آدمی بہت آتے ہیں۔ فلاں شخص ہر بات جانتا ہے یعنی اس کو معلومات بہت ہیں۔
عُلِّمْنَا اور اُوْتِیْنَا جمع متکلم کے صیغے ہیں۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے اپنے ساتھ حضرت داؤد ( علیہ السلام) کو شامل کر کے جمع متکلم کے صیغے استعمال کئے ‘ یا حضرت سلیمان نے اپنے متبعین کو شامل کر کے یہ لفظ کہے کیونکہ آپ کے متبعین کو آپ کی وساطت سے وہ علم اور وہ انعام ملا جو اللہ نے آپ کو عطا فرمایا تھا ‘ یا اصول سیاست کو پیش نظر رکھ کر حضرت سلیمان نے شاہانہ الفاظ استعمال کئے بادشاہ اپنے کو ہم کہتے ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کُلِّ شَیْیءٍ سے دنیا اور آخرت سے تعلق رکھنے والی ہر چیز مراد ہے۔ مقاتل نے کہا : نبوت حکومت اور شیاطین و ہوا کی تسخیر مراد ہے۔
ان ھذا الھوا الفضل المبین . کوئی شبہ ہیں کہ یہ (عطاء خداوندی) کھلا ہوا (اللہ کا) فضل ہے۔ یعنی ہم کو اس کا
کوئی ذاتی استحقاق نہیں۔ یعنی ہم کو اس کا کوئی ذاتی استحقاق نہیں نہ یہ ہمارے اعمال کا بدلہ ہے بلکہ محض اللہ کی مہربانی اور کرم ہے یا فَضْلِ مُبِیْن سے مراد ہے کھلی ہوئی فضیلت۔ یعنی یہ دوسروں پر ہماری واضح برتری ہے۔ حضرت سلیمان نے یہ بات اداء شکر کے طور پر کہی (اظہار فخر کے لئے نہیں کہی) جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور (یہ بات) فخر (کے طور پر) نہیں ہے اور قیامت کے دن آدم کے سوا سب لوگ میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کی جو بات فرمائی وہ اس حکم کی تعمیل کے طور پر تھی جو آیت وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ میں دیا گیا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے : روایت میں آیا ہے کہ حضرت سلیمان نے ساری روئے زمین پر سات سو برس اور چھ ماہ تمام جن و انس اور پرندوں اور چرندوں اور درندوں پر حکومت کی اور ہر چیز کی بولی اللہ نے انکو سکھا دی تھی اور انہی کے زمانہ میں عجیب عجیب صنعتوں کی ایجاد ہوئی۔ 1
Ayah 27:17وحشر لسلمین جنودہ من الجن والانس والطیر فھم یوزعون . اور سلیمان ( علیہ السلام) کے لئے جن و انس
اور پرندوں کی فوجیں جمع کردی گئی تھیں اور (ان کی اتنی کثرت تھی کہ) ان کو روکا جاتا تھا۔
یُوْزَعُوْنَ وہ روکے جاتے تھے یعنی اول حصہ کو دوسرے حصہ کے ساتھ روک کر ملا دیا جاتا تھا۔ اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ باوجودیکہ لشکر کی تعداد بہت زیادہ تھی پھر بھی کسی کو دور نہیں رکھا جاتا تھا۔
قاموس میں ہے : وَزَعتُہ میں نے اس کو روک دیا ‘ اسی سے ہے : وَازِع کی جمع وَزَعَۃٌ روکنے والے حرم سے ‘ اور کتا اور جھڑکنے والا (سب کو وازع کہا جاتا ہے) تَوزِیع ایزَاع توزُّع (تفعیل افعال تفعل) سب ہم معنی ہیں ‘ تقسیم کرنا ‘ بانٹنا ‘ جدا جدا کردینا۔ مقاتل نے یُوْزَعُوْنَ کا ترجمہ کیا ہے یُسَاقُونَ ان کو چلایا جاتا تھا۔ محمد بن کعب نے کہا : سلیمان ( علیہ السلام) کی لشکر گاہ سو فرسخ تھی 25/ فرسخ جنات کے لئے 25/ فرسخ آدمیوں کے لئے 25/فرسخ پرندوں کے لئے اور 25/فرسخ جنگلی جانوروں کے لئے۔ سلیمان ( علیہ السلام) کے ایک ہزار کمرے تھے جو لکڑی کے تختوں کے فرش پر قائم تھے۔ تین سو منکوحہ بیبیاں تین سو گھروں میں رہتی تھیں اور سات سو باندیاں سات سو گھروں میں۔ سلیمان ( علیہ السلام) کے حکم سے تند ہوا اس تخت کو اٹھا کر اوپر کو لے جاتی تھی پھر بحکم سلیمان ( علیہ السلام) نرم نرم ہوا اس کو لے کر چلتی تھی۔ (ایک روز) جو آپ کہیں جا رہے تھے اور آسمان و زمین کے درمیان تھے کہ اللہ نے وحی بھیجی : میں نے تمہاری حکومت میں اضافہ کردیا ہے۔ اب کوئی مخلوق جہاں بھی کوئی بات کرے گی ہوا وہ بات لا کر تم کو پہنچا دے گی۔
Ayah 27:18حتی اذا اتوا علی وادالنمل . یہاں تک کہ یہ سب جب چیونٹیوں کی وادی پر پہنچے۔
عَلٰی وَادٍ میں لفظ عَلٰی بتارہا ہے کہ وہ اوپر سے آئے تھے اور بات بھی معلوم ہو رہی ہے کہ اس وادی کو طے کر کے آکر کنارہ پر پہنچ گئے تھے (اور وہیں چیونٹیوں کے بل تھے) اتی علی الشئی کا معنی ہے کسی چیز کو ختم کردیا اور اس کے آخری حصہ پر پہنچ گئے۔ وہب بن منبہ نے بحوالۂ کعب بیان کیا ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) جب تخت پر سوار ہوتے تو اہل و عیال کو نوکروں چاکروں کو اور لاؤ لشکر کو بھی سوار کرلیتے تھے۔ سالن پکانے کے برتن اور روٹیاں پکانے کے آہنی تنور بھی ساتھ ہوتے تھے۔ اتنی بڑی بری نو دیگیں بھی ہوتی تھیں کہ ایک دیگ میں دس اونٹوں کا گوشت آجائے۔ چوپایوں کے لئے میدان بھی اپنے سامنے بنواتے تھے۔ اثنائے سیر میں آسمان و زمین کے درمیان چوپائے اپنے میدانوں میں دوڑتے تھے اور باورچی کھانا اور روٹیاں پکانے میں مشغول رہتے تھے۔ ہوا ان سب کو لے کر چلتی تھی۔ ایک بار اصطخر سے یمن کو جاتے میں مدینہ شریف کے اوپر سے بھی گزرے اور فرمایا : یہ نبی آخر الزمان کی ہجرت گاہ ہے۔ خوش خبری ہے ان کے لئے جو ان کے اوپر ایمان لائے اور خوشی ہے اس کے لئے جس نے ان کا اتباع کیا۔ کعبہ کے اوپر سے گزرے تو کعبہ کے گرداگرد بت نظر آئے جن کی پوجا کی جاتی تھی۔ جب سلیمان ( علیہ السلام) کعبہ سے آے بڑھ گئے تو کعبہ رونے لگا۔ اللہ نے کعبہ کے پاس وحی بھیجی (اور دریافت فرمایا) تیرے رونے کا کیا سبب ہے ؟ کعبہ نے کہا : اے میرے رب ! مجھے اس بات نے رلایا کہ یہ تیرا نبی تھا اور تیرے دوستوں کی جماعت تھی۔ یہ لوگ میری طرف سے گزرے اور میرے پاس نماز نہیں پڑھی حالانکہ میرے آس پاس تجھے چھوڑ کر بتوں کی پوجا کی جاتی ہے۔ اللہ نے وحی بھیجی : تو نہ رو۔ کچھ مدت کے بعد میں تجھے سجدہ کرنے والے چہروں سے بھر دوں گا اور تیرے اندر جدید قرآن نازل کروں گا اور تیرے اندر سے آخر زمانہ میں ایک نبی پیدا کروں گا۔ میں اپنے انبیاء سے محبت رکھتا ہوں تیرے اندر اپنی مخلوق سے ایسے لوگوں کو آباد کروں گا جو میری عبادت کریں گے اور میں اپنے بندوں پر ایک فرض (یعنی فریضۂ حج) مقرر کر دوں گا (جس کو ادا کرنے کے لئے) وہ اتنی تیزی سے تیرے قریب پہنچیں گے جتنی تیزی سے گدھ اپنے آشیانوں کی طرف جاتے ہیں۔ وہ تیرے ایسے مشتاق ہوں گے جیسے اونٹنی کو اپنے بچہ کی طرف اور کبوتری کو اپنے انڈوں کی طرف اشتیاق ہوتا ہے (اونٹنی اپنے بچہ کے پاس اور کبوتری اپنے انڈوں کے پاس بڑی بےتابی سے پہنچنا چاہتی ہے) میں تجھے بتوں اور شیطانوں کے پجاریوں سے پاک کر دوں گا۔ پھر سلیمان ( علیہ السلام) چلتے چلتے وادئ سدیر کی طرف سے گزرے۔ وادئ سدیر وادئ طائف کا حصہ ہے وہاں آپ کا مرور وادئ نمل پر ہوا۔ کعب کا یہی قول ہے کہ وادئ نمل طائف میں تھی۔ مقاتل اور قتادہ نے کہا : وہ شام میں ایک زمین تھی۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وادی میں جن رہتے تھے اور وہاں کی چیونٹیاں ان کی سواریاں تھیں۔ فرق حمیدی نے کہا : اس وادی کی چونٹیاں مکھیوں کی طرح تھیں۔ بعض نے کہا : نجاتی اونٹ کے برابر تھی۔ مشہور یہ ہے کہ یہ بات کہنے والی ایک چھوٹی چیونٹی تھی۔
قالت نملۃ . ایک چیونٹی نے کہا۔ شعبی نے کہا (وہ چیونٹی پر دار تھی) اس کے دو بازو تھے۔ بعض نے کہا : وہ
لنگڑی تھی۔ ضحاک نے اس کا نام طاحیہ اور مقاتل نے حذمی بتایا۔
یایھا النمل ادخلو مسکنکم . اے چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ۔ اُدْخُلُوْا جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے۔
ضابطہ نحوی کے لحاظ سے اَدْخُلْن بصیغہ جمع مونث حاضر ہونا چاہئے۔ جمع مذکر کا خطابی صیغہ استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انسان جب کلام کرتا ہے اور حیوانات کے متعلق بات کرتا ہے تو حیوانات کے بےعقل ہونے کی وجہ سے ان کے لئے وہ ضمیریں استعمال کرتا ہے جو جمادات کے لئے مستعمل ہیں۔ عورتوں کے لئے بھی ان کے ضعیف العقل ہونے کی وجہ سے جمادات کی ضمیریں استعمال کرلی جاتی ہیں۔ گویا ان کو بھی بےعقل مان کر جمادات کے ساتھ شامل کردیا جاتا ہے لیکن حیوانات جب دوسرے حیوانوں سے کلام کرتے ہیں تو وہ اپنی نظر میں اپنے کو ذیعقل سمجھتے ہیں اور دوسرے کو اہل عقل کی طرح خطاب کرتے ہیں۔ اس جگہ اللہ نے وہ کلام نقل کیا ہے جو ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں کو اہل عقل قرار دے کر کہا تھا اس لئے وہ صیغہ اختیار کیا جس کے مخاطب اہل عقل ہوتے ہیں۔
لا یحطمنکم سلیمن و جنودہ . تم کو سلیمان اور ان کی فوجیں کہیں پیس نہ ڈالیں۔ اس کلام میں (بظاہر)
پیس ڈالنے کی ممانعت ہے (لیکن ایک چیونٹی حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اور ان کی فوج کو پیسنے کی ممانعت کیسے کرسکتی تھی پھر چیونٹی کا روئے خطاب تو دوسری چیونٹیوں کی طرف تھا ‘ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اور ان کی فوج کی جانب نہیں تھا) لیکن فی الحقیقت چیونٹیوں کو باہر نکلنے اور باہر رہنے کی ممانعت ہے تاکہ پامال ہونے سے بچ جاؤ جیسے عرب کہتے ہیں : لاَ اَراکَ ھٰھُنا میں تجھے یہاں نہ دیکھو یعنی یہاں نہ ٹھہرنا (یا پھر نہ آنا) ۔
وھم لا یشعرون . ایسی حالت میں کہ ان کو پتہ بھی نہ ہو۔ کیونکہ اگر ان کو معلوم ہوگا تو وہ خود ہی
تم کو نہیں روندیں گے۔ گویا یہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کی طرف سے ممکن الواقع فعل کی معذرت کا اظہار ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دانستہ یہ قصور تو ان سے سرزد نہ ہوگا۔
افسوس شیعہ کو چیونٹی کو برابر بھی سمجھ نہیں کہ وہ صحابہ کرام کی جانب سے قصداً اہل بیت کو ایذاء پہنچانے کے قائل ہیں۔
ایک شبہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا تخت تو ہوا پر رواں تھا پھر پیس ڈالنے کا احتمال ہی کیا تھا۔
ایک ازالہ ممکن ہے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی کچھ پیادہ اور سوار فوج زمین پر چل رہی ہو جس کی طرف سے چیونٹی کو اندیشہ ہوا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ واقعہ تسخیر ہوا سے پہلے کا ہو ‘ اس وقت حضرت سلیمان اور آپ کا لشکر زمین پر ہی چل رہا ہو۔ بعض اہل عرفان نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا : ایسا نہ ہو کہ تم حضرت سلیمان کے لشکر اور ان کے ساز و سامان اور شان و شوکت کی سیر کرنے میں اتنی مشغول ہوجاؤ کہ اللہ کے ذکر سے بھی غافل ہو اور ذکر خدا سے غفلت تمہاری ہلاکت کا ذریعہ ہوجائے۔ یہ بات سلیمان نے تین میل سے سن پائی۔ کذا قال مقاتل کیونکہ جہاں کہیں جو مخلوق بات کرتی تھی ہوا وہ بات حضرت سلیمان کے گوش گزار کردیتی تھی۔
Ayah 27:19فتبسم ضاحکا . پس سلیمان ( علیہ السلام) مسکراتے ہوئے ہنس پڑے۔ یہاں کچھ کلام محذوف ہے اور اس
پر عطف ہے۔ پورا کلام اس طرح تھا : سلیمان ( علیہ السلام) نے چیونٹی کی بات سن لی ‘ اس کا مطلب سمجھ لیا ‘ مطلب سمجھ کر خوش ہوئے اور اس بات سے بھی ان کو مسرت ہوئی کہ چیونٹی نے آپ کو اور آپ کی فوج کو عادل سمجھا۔ یہ تمام باتیں سمجھ کر آپ خوش ہوئے اور مسکرا دئیے۔ یا یوں کہا جائے کہ آپ کو چیونٹی کی دانش مندی اور احتیاط سے تعجب ہوا اور اس بات پر بھی اچنبھا ہوا کہ ایک حقیقی چیونٹی اپنی اور اپنی قوم کے بچاؤ کے راستے کیسے جانتی ہے۔ ان باتوں پر آپکو تعجب ہوا اور آپ مسکرا دئیے۔
ضَاحِکًا یعنی حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا تبسم ضحک کی حد تک پہنچ گیا (گویا ہنس دئیے) زجاج نے کہا : انبیاء کی ہنسی اکثر بصورت تبسم ہی ہوتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شروع میں مسکرائے ہوں پھر ہنس دئیے ہوں۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی بھرپور ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا کوا نظر آگیا ہو۔ آپ صرف مسکرا دیا کرتے تھے۔ راوہ البخاری۔
حضرت عبداللہ بن حارث بن جزء کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کسی کو مسکراتے نہیں دیکھا۔ راوہ الترمذی۔
من قولھا . اس کے قول کے سبب سے۔ پس آپ نے لشکر کو روک دیا کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں گھس گئیں۔
وقال . اور کہا۔ یعنی اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے اور اداء شکر سے بھی اپنے آپ کو قاصر سمجھتے ہوئے اور
اداء شکر کے لئے اللہ ہی سے مدد طلب کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔
رب اوزعنی ان اشکر نعمتک التی انعمت علی وعلی والدی وان اعمل صالحا ترضہ
اے میرے رب ! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائی ہے اور نیک اعمال کروں جو تجھے پسند ہوں۔
اَوْزِعْنِیْ بعض علماء نے کہا کہ اس جگہ اس لفظ کا حقیقی معنی مراد ہے ایزاع کا معنی ہے روک دینا ‘ وقت کردینا (قاموس) بیضاوی نے لکھا ہے : اس کا معنی یہ ہے کہ میں تیری نعمت کے شکر کو اپنے پاس روکے رکھوں ‘ سمیٹے رہوں کہ مجھ سے چھوٹ کر نہ جانے پائے۔ بعض اہل تحقیق نے لکھا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اے میرے رب ! تو مجھے ایسا کر دے کہ میں کفر سے اپنے نفس کو روکے رکھوں۔ بعض نے کہا : یہ مطلب ہے کہ اپنے سوا ہر چیز سے میرے نفس کو روک دے۔
عَلٰی وَالِدَیَّ ماں باپ پر اللہ کا انعام اور ان کا صالح ہونا ماں باپ پر تو اللہ کا احسان ہے ہی لیکن یہ انعام حقیقت میں اولاد پر بھی انعام ہوتا ہے جو اولاد کے لئے موجب شکر ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے۔
وادخلنی برحمتک فی عبادک الصلحین . اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے صالح بندوں (کے گروہ)
میں شامل کر دے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : صالح بندوں سے مراد ہیں : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ‘ حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) ‘ حضرت اسحاق ( علیہ السلام) ‘ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) اور ان کے بعد والے انبیاء۔
Ayah 27:20وتفقد الطیر . اور پرندوں کو طلب کیا۔
یعنی پرندوں کے متعلق تفتیش کی اور ان کو طلب کیا۔ تَفَقَّد کا معنی ہے گم شدہ چیز کا ڈھونڈنا۔ غرض پرندوں کی تفتیش کرنے کے بعد ہدہد کو غیرحاضر پایا۔ ہدہد کو تلاش کرنے کی وجہ یہ تھی کہ جب حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کسی منزل پر اترتے تھے تو دھوپ سے بچانے کے لئے پرندے پورے لشکر پر سایہ کرلیتے تھے اور ہدہد اوپر چڑھ کر زمین کو دیکھتا تھا اور زمین کے اندر پانی کی تلاش کرتا تھا اور پانی کا دور یا قریب ہونا معلوم کرتا تھا کیونکہ اس کو زمین کے اندر کی چیزیں اسی طرح نظر آتی تھیں جیسے شیشہ کے اندر چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔ پانی جہاں نظر آجاتا وہاں جا کر چونچ سے زمین کو کریدتا تھا پھر جنات پہنچ کر زمین کو کھود کر پانی برآمد کرلیا کرتے تھے۔ کذا اخرج ابن ابی شبیتہ وعبد بن حمید و ابن المنذر و ابن ابی حاتم و الحاکم۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : جب حضرت ابن عباس ؓ نے یہ فرمایا تو نافع بن ازرق نے کہا : اے بیان کرنے والے ! دیکھ کیا کہہ رہا ہے (سمجھ کے بات کر) ایک بچہ جب جال بچھا کر اس پر مٹی ڈال دیتا ہے (اور اس پر دانہ بکھیر دیتا ہے) تو ہدہد کو جال نظر نہیں آتا اور آکر پھند جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : تیرا برا ہو جب تقدیری حکم ہوجاتا ہے تو کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں : جب قضا و قدر آجاتی ہے تو نظر جاتی رہتی ہے اور نابینا ہوجاتی ہے۔
غرض حضرت سلیمان ( علیہ السلام) ایک منزل پر اترے۔ لوگوں نے پانی تلاش کیا ‘ کہیں نہیں ملا پانی کی ضرورت سخت تھی۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے ہدہد کو تلاش کرایا ‘ آپ کا خیال تھا کہ وہ حاضر ہوگا لیکن وہ نہیں ملا۔
فقال ما لی لا اری الھدھد امکان من الغائبین . پس کہا : مجھے کیا ہوگیا ہے مجھے ہدہد دکھائی نہیں دیتا یا
(واقعی) وہ غیرحاضر ہے۔ اس جملہ کا عطف تَفَقَّدَ الطَّیْرَ پر ہے یعنی سلیمان نے پرندوں کو سایہ فگن ہونے کا حکم دیا لیکن دھوپ آپ کے تخت پر دکھائی دی اور پرندوں کی طرف تفتیشی نظر سے دکھا تو ہدہد کو نہ پایا اور فرمایا۔
یا یوں کہا جائے کہ سلیمان ( علیہ السلام) کے لئے تمام لسکر فوجیں جتھے جمع کر دئیے گئے اور وہ ایک منزل پر اترے۔ پانی کی ضرورت ہوئی اور پانی نہ ملا تو ہدہد کو بلوایا ‘ ہدہد نہ ملا تو فرمایا۔ مَالِیَ میں استفہام تعجبی ہے۔
جب تلاش کے بعد بھی ہدہد نہ ملا اور ظاہر ہوگیا کہ وہ غیرحاضر ہے تو اس بات سے اعراض کیا اور دریافت کیا کہ مجھے جو ہدہد دکھائی نہیں دے رہا ہے ‘ کیا واقعی وہ غائب ہے ؟ پھر جب ثابت ہوگیا کہ ہدہد غائب ہے تو فرمایا۔
Ayah 27:21لا عذبنہ عذابا شدید اولاد اذبحنہ اولیاتینی بسلطن مبین . میں اس کو سخت عذاب (کی سزا)
دوں گا یا اس کو ذبح کر ڈالوں گا یا وہ (اپنی غیرحاضری کی) کوئی واضح وجہ پیش کرے گا۔
لَاُعَذِّبَنَّہٗ شَدِیْدًا یعنی میں اس کو سخت عذاب دوں گا تاکہ دوسرے ہدہدوں کو عبرت ہو۔ عذاب شدید دینے سے کیا مراد تھی ‘ اس کے تعین کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض نے کہا : مراد یہ تھی کہ میں اس کے سارے پر و بال اور دم نوچ کر لوتھڑا بنا کر دھوپ میں ڈالو دوں گا کہ کیڑے مکوڑے اور چیونٹیاں اس کو کھا لیں۔ مقاتل نے کہا : میں لوتھڑا بنا کر تارکول ملوا کر دھوپ میں پھنکوا دوں گا۔ بعض نے کہا : پنجرہ میں بند کردینا مراد تھا۔ کسی نے کہا : مادہ سے ہمیشہ کے لئے جدا کرنا مقصد تھا یا یہ مطلب تھا کہ میں اس کے مخالف کے ساتھ اس کو قید کر دوں گا۔ یا یہ معنی تھا کہ میں اس کو ساتھیوں کا خدمت گار بنا دوں گا کہ وہ اپنے ساتھ والوں کی خدمت کرتا رہے۔
حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے لئے (ہدہد کو) عذاب دینا جائز تھا۔
اَوْلَیَاتِیَنِّیْ میں اَوْ بمعنی الاَّ کے بھی ہوسکتا ہے مگر یہ کہ وہ غیرحاضری کی کوئی کھلی ہوئی وجہ بیان کرے (تو سزا نہیں دوں گا) عرب کہتے ہیں : لَاَلْزِمَنَّکَ اَوْتُعْطِیَنِیْ حَقِّیْ میں تیرا پیچھا نہیں چھوڑوں گا مگر یہ کہ تو مجھے میرا حق ادا کر دے۔