Ayah 27:1طا ۔۔۔۔۔۔۔ سی ۔۔۔۔۔۔۔ ن ۔۔۔۔ دونوں حروف مقطعات میں سے ہیں :
1۔ حروف مقطعات کی بحث ہم مکمل طور پر سورة البقرہ کے شروع میں کرچکے ہیں اس لئے اس کے بیان کی بار بار ضرورت نہیں ضرورت ہو تو وہیں سے دیکھ لیا جائے ۔ زیر آیت میں قرآن کریم کا صفاتی نام (کتاب مبین) کا ذکر کیا ہے اس لئے کہ اس کی آیات بالکل واضح ہیں کہ انسانی ضرورت کی ہرچیز کو کھول کھول کر بیان کر رہی ہیں اور کسی ایک مسئلہ کو بھی ان میں مبہم پیش نہیں کیا گیا اور یہ بھی کہ حق و باطل کی مکمل وضاحت ان میں پیش کردی گئی ہے ایسا نہیں ہو سکتا کہ اگر کوئی شخص ان کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرے لیکن اس کے باوجود کسی معاملہ میں وہ حق اور باطل کو واضح نہ پائے ، ان آیات کریمات میں فی نفسہ جو مضمون پیش کیا گیا ہے اور اس کے پیش کرنے کا جو رنگ اختیار کیا گیا ہے وہ خود اس کی وضاحت کر رہا ہے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ ہے کسی انسان کی تخلیق نہیں اور نہ ہی خود محمد رسول اللہ ﷺ کی تصنیف و تالیف ہے بلاشبہ ہر لحاظ سے یہ کتاب کامل کتاب ہے لیکن کن لوگوں کے لئے ؟ ان کے لئے جن کو اللہ تعالیٰ نے عقل وفکر کا وافر حصہ عطا کیا ہے اور وہ اس سے کام بھی لیتے ہیں ان کو طوطے کی طرح تلاوت نہیں کرتے بلکہ سمجھ کر پڑھتے ہیں اور پڑھ کر اس کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔
Ayah 27:2ایمان لانے والوں کے لئے اس میں ہدایت اور بشارت ہے :
2۔ جو لوگ ان آیات بینات پر جو اس روشن کتاب میں بیان کی گئی ہیں ایمان لاتے ہیں اور انکے احکام پر عمل پیرا ہوتے ہیں جن باتوں کا ان آیات میں حکم دیا ہے انکو پابندی کے ساتھ بجا لاتے ہیں اور جن باتوں اور کاموں سے انکو روکا گیا ہے ان سے سختی کے ساتھ رک جاتے ہیں بلاشبہ انکے لئے وہ ہدایت دیتی ہے اور ایسے ہدایت یافتہ لوگوں کے لئے ان آیات کریمات میں بشارات بھی دی گئی ہیں کہ وہ اس دنیوی زندگی میں کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی ان کے نیک اعمال کے نتائج سے ان کو وافر حصہ ملے گا اور اس طرح گویا یہ کتاب مبین ان لوگوں کے لئے سراسر ہدایت اور بشارت ہے اور بلاشبہ ایسا ہی ہے ۔
Ayah 27:3مومن کون لوگ ہیں ؟ ان آیات نے اس کو پوری وضاحت بیان کردی :
3۔ وہ مومن کون ہیں جن کے لئے یہ کتاب ہدایت اور خوشخبری ثابت ہوتی ہے ؟ فرمایا وہ لوگ ہیں جو نمازیں قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر مکمل یقین رکھتے ہیں ۔ یہ بات قبل ازیں عرض کی جا چکی ہے کہ قرآن کریم نے ہر جگہ صلوۃ قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور قیام صلوۃ کے متعلق مختصر طور پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ عقائد سے آگے بڑھ کر اعمال کو عقائد کے مطابق ڈھالنے اور انجام دینے نام ہے گویا نماز خلاصہ ہے باطات بدنی کا اور زکوۃ خلاصہ ہے طاعات مال کا اور پھر طاعات بدنی ہوں یا طاعات مالی انکی درستگی اسی وقت ہو سکتی ہے جب آخر پر پختہ یقین ہو کہ اس طاعت مال اور طاعت بدنی کے نتیجہ سے یقینا ہم کو دوچار ہونا ہے اور اگر آخرت پر یقین نہ ہو تو دونوں کی صحیح ادائیگی نہیں ہوسکتی اس لئے کہ انکو آخر کوئی کیوں ادا کرے گا اور کیوں اپنا وقت ضائع کرے گا۔ مختصر یہ کہ عقیدہ آخرت ہی ایمان باللہ کی اصل روح ہے اور جسم بغیر روح کے جو کچھ ہے سب کو معلوم ہے ۔
Ayah 27:4جو لوگ عقیدہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے وہ راہ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں :
4۔ مختصر طور پر آپ یوں سمجھیں کہ دنیاکا صلہ نقد ہے اور آخرت کا سارا ادھار اور ظاہر ہے کہ جو شخص دنیا میں رہ رہا ہے اور اس کے حالات کا مشاہدہ کر رہا ہے اگر وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتا تو وہ جو کام کرے گا اس کا صلہ نقد بہ نقد چاہے گا اور وہ یقینا ایسا کام دلجمعی سے نہیں کرسکتا جس کا صلہ اس کو اسی وقت مل جانے کی امید نہ ہوگی اور آخرت پر یقین رکھنے والا گویا یہ ایمان رکھتا ہے کہ جو کچھ میں کرتا ہوں اس کا صلہ مجھے اس سے کئی گنا زیادہ کرکے پیش کیا جائے گا اس کا کچھ حصہ اگر اس دنیا میں بھی مل گیا تو خیر ہے ورنہ آخرت میں یقینا ملے گا لہذا وہ اس کام کو بھی ذوق وشوق کے ساتھ سرانجام دے گا جس کے متعلق اس کو یقین ہے کہ اگر آج نہیں آنے والے کل میں مجھے اس کا صلہ ضرور دیا جائے گا گویا اس طرح وہ اس ادھار کو کچھ زیادہ ہی اہمیت دے گا جس کے متعلق اس کا یقین پختہ ہوگا کہ میرا یہ ادھار بالکل محفوظ ہے اور میرے کام اس وقت آئے گا جب نقد بہ نقد کا معاملہ ختم ہوجائے گا اور اس وقت کسی کے پاس لینے دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہوگا کیونکہ وہ دارالعمل نہیں ہوگا بلکہ دارالجزاء میں پہنچ جائے گا اور جزاء کس کو ملے گی اسکو جو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے بنک میں کچھ داخل کرا چکا ہوگا جو اس کو کئی گنا اضافہ کے ساتھ اب واپس دیا جائے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس دنیا کو مقصود ومطلوب بنا کر اپنی تمام ذہانت و قابلیت اس کی طلب میں لگا دیتے ہیں وہ خالصتا دنیا کے اعمال ومشاغل کو اس طرح اپنے اوپر مسلط کرلیتے ہیں کہ وہ کبھی ان کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور وہ کوئی ایسا کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے جس کا صلہ وہ اس جگہ ملنے پر یقین نہیں رکھتے اور آخرت وآخرت ان کے نزدیک کوئی چیز ہی نہیں تو وہ اس کو کیا اہمیت دیں گے اور کیوں دیں گے ؟
Ayah 27:5آخرت پر ایمان رکھنے والے دنیا میں بھی عذاب دیئے جائیں گے اور آخرت میں بھی :
5۔ غور طلب بات یہ ہے کہ جن لوگوں کا ایمان آخرت پر نہیں ہے کیا وہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں ؟ اس کا جواب یقینا یہی ہے کہ ان کا رسول اللہ ﷺ پر مطلق ایمان نہیں ہے خواہ وہ اس کا دعوی بھی رکھتے ہوں ، کیوں ؟ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی تعلیمات پر ایمان لایا جائے اور جو کچھ آپ نے فرمایا ہے اس پر کامل یقین رکھا جائے ، جب رسول اللہ ﷺ کی تعلیم یہی ہے کہ ہمارے ہر نیک وبد عمل کا بدلہ ہم کو روز قیامت ملے گا لیکن اس کے باوجود ایک شخص اس پر کامل یقین نہیں رکھتا اس لئے کہ اس کا کوئی عمل ایسا نہیں ہے جس سے اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ وہ آخرت پر بھی یقین رکھتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس نے عقیدہ آخرت کو نہ تسلیم کرکے دراصل نبی اعظم وآخر ﷺ کی نبوت و رسالت کا انکار کردیا ہے اور نبوت و رسالت کے منکرین کے لئے اس دنیا میں بھی عذاب لازم ہے اور آخرت میں بھی ۔ اس جگہ دنیا کے عذاب کو (آیت) ” سوء ال عذاب “ کہا گیا ہے اور آخرت کے عذاب کو (اخسر) کہا گیا ہے یعنی بہت بڑا نقصان جس کے پورا ہونے کی کوئی صورت ہی نہ رہے کیونکہ وہ عذاب ابدالاد ہوگا جس سے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور دنیا کا عذاب تو زیادہ سے زیادہ اس دنیوی زندگی ہی تک ہو سکتا ہے اور دنیوی زندگی آخر کتنی ہے اور وہ بھی خصوصا آخر کے مقابلہ میں ؟
بلاشبہ یہ بات مشاہدہ میں ہے کہ جن قوموں کے دل سے آخرت کا خیال مٹ جاتا ہے وہ اپنا سارا وقت ‘ ساری قوت اس دنیا کی دوڑ دھوپ ‘ اس کی ترقیوں کے لئے وقف کردیتی ہیں اور کر رہی ہیں لیکن افسوس کہ جن قوموں کا آخرت پر عقیدہ کا دعوی ہے وہ فقط دعوی ہی کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں اور ان کی عملی حیثیت بالکل ختم ہوچکی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ نہ دین کی رہیں اور نہ دنیا کی اس لئے ان کے لئے دوسری جگہ ارشاد الہی اس طرح ہے کہ (آیت) ” خسر الدنیا والاخرۃ “۔ ان کے لئے دنیا میں بھی خسارہ ہے اور آخرت میں بھی خسارہ ‘ وہ یقینا نہ ادھر کی رہی ہیں اور نہ ادھر کی رہی ہیں ، ان کا تفصیلی ذکر دیکھنا چاہیں تو سورة الحج کی آیت 11 کی تفسیر کا مطالعہ کریں اور سورة الحج عروۃ الوثقی کی اسی جلد میں موجود ہے ۔
Ayah 27:6نبی اعظم وآخر ﷺ کے لئے تسلی :
6۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ محمد رسول اللہ ﷺ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے اور آپ ﷺ کی مخالفت میں سرگرم عمل ہیں تو آپ ﷺ کی پرواہ نہ کریں بلکہ نہایت اطمینان قلب کے ساتھ اپنے موقف پر کام کرتے جائیں جس اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے یہ کلام آپ ﷺ پر اتارا گیا ہے وہ کوئی اندھا اور بہرہ نہیں وہ جانتا ہے ‘ دیکھ رہا ہے اور سن رہا ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے اس کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں ‘ وہ ہرچیز سے باخبر ہے اس لئے جو کچھ علم و حکمت کا تقاضا ہوگا اس سے اس کا صدور ہوگا اس کے اگر کچھ لوگوں کو باوجود اس کے کہ وہ آپ ﷺ کی مخالفت میں کمر بستہ ہیں اگر مہلت دے رکھی ہے تو اس میں بھی یقینا کوئی حکمت ہی کی بات ہوگی اس نے آپ ﷺ کو خود منتخب کیا ہے اور آپ ﷺ کی خواہش پر بھی منتخب نہیں کیا بلکہ اپنی مرضی سے کیا ہے وہ یقینا آپ ﷺ کی راہنمائی کرے گا اور اس کا وعدہ کبھی خطا نہیں ہوتا لیکن ہر کام کے لئے اس کے ہاں ایک وقت مقرر کیا گیا ہے اور جب تک وہ وقت آ نہیں جاتا دی گئی مہلت اس کی جاری رہتی ہے ۔ آپ ﷺ قرآن کریم سے ملاقات جاری رکھیں بلاشبہ آخری کامیابی آپ ﷺ ہی کے حصہ کے لئے رکھی گئی ہے ۔
Ayah 27:7موسیٰ (علیہ السلام) کی مدین سے واپسی اور آپ کو نبوت سے سرفراز کرنے کا بیان :
7۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت آپ پیچھے سورة میں پڑھ چکے اور اس سے قبل بھی کئی ایک مقامات پر اس کا ذکر کیا گیا ہے ، آپ کا پہلی بار مصر سے نکلنا جو نبوت سے پہلے کا واقع ہے اور مدین کی طرف جانا اور پھر وہاں شعیب (علیہ السلام) کے پاس بکریاں چرانے کی خدمت سرانجام دینا اور اسی کے صلہ میں شعیب (علیہ السلام) کا اپنی بیٹی کا نکاح کردینا ان سارے واقعات کو آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں اس جگہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے خسر کے یہاں مدت آجارہ پوری کرنیکے بعد مصر کی طرف واپس لوٹے اور اس وقت آپ کے اہل و عیال بھی ساتھ تھے ، آپ نے ذرا دور پہاڑ پر ایک آگ روشن دیکھی وہاں سے آگ حاصل کرنے اور راستہ معلوم کرنے کے لئے بیوی بچوں کو ایک جگہ بٹھا کر اس آگ کی طرف بڑھے ، تفصیل اس کی سورة طہ کی آیت 10 میں گزر چکی وہاں سے ملاحظہ کریں ۔
Ayah 27:8جب آپ وہاں پہنچے تو ایک عجیب آگ دیکھی اور ایک آواز آپ نے سنی :
8۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب وہاں پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ عجیب قسم کی آگ ہے جو درخت پر روشن نظر آتی ہے مگر درخت کو جلاتی نہیں اور نہ ہی گل ہوتی ہے اس طرح کچھ مزید آگے بڑھے لیکن جتنا جتنا آگے بڑھتے جاتے تھے آگ دور ہوتی جاتی تھی یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ڈر پیدا ہوا اور انہوں نے ارادہ کیا کہ واپس ہوجائیں تو اچانک آگ قریب آئی اور اس میں سے ایک آواز بھی آپ نے سنی جب آپ نے کان قریب کیا تو سنا کہ یہ آواز آرہی ہے ” اے موسیٰ ! میں ہوں اللہ پروردگار تمام جہانوں کا “ اور یہ کہ برکت دیا گیا ہے وہ شخص جو بیچ آگ کے ہے اور جو اس کے پاس ہے ۔ اور یہ ” کہ پاک ہے اللہ جو پروردگار عالم ہے “ یعنی پاک ہے وہ جہت ‘ رنگ ‘ مقدار ‘ وزن وغیرہ تمام تعینات سے اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ تنبیہہ معا اس لئے کردی گئی کہ کوئی اس تجلی کو جو بشکل نار محدود و مقید تھی کہیں ذات واجب الوجود نہ سمجھ بیٹھے ، اللہ کی پناہ کہیں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی سی ناقابل پیمائش وسعتیں رکھنے کی تعلیم ہے اور اگر کسی کو دلائل عقلیہ اور فطرت صالحہ سے پہلے ہی معلوم ہے تو بلاشبہ زیادت تفہیم ہے وہ موسیٰ (علیہ السلام) ہوں جو اللہ کے رسول اور نبی ہیں یا کوئی دوسرا انسان جو اس واقع کو پڑھے اور سنے گا جیسا کہ اس وقت ہم اس کو پڑھ اور سن رہے ہیں اور قیامت تک لوگ پڑھتے اور سنتے رہیں گے ۔
Ayah 27:9اے موسیٰ ! میں ہی اللہ ہوں ‘ زبردست حکمت والا :
9۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کیا دیکھا تھا ؟ آگ لیکن حقیقت اس آگ کی کیا تھی ؟ ایک روشنی تھی جو دراصل تجلی الہی کا نور تھا اور یہ ایک خالصتا خیالی چیز تھی جس کا وجود وہمی تھا وہ روشنی تھی اور وہ آواز جو پردہ نور سے سنی گئی تھی ۔ وہ کیا ہے ؟ کیا وہ براہ راست رب العزت کی آواز تھی ؟ حالانکہ معروف تو یہی ہے کہ ع
قول اور الحن نے آواز نے :
بلاشبہ یہ براہ راست ندائے الہی تھی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو کسی واسطہ سے بھی نہیں سنا تھا یعنی نہ یہ فرشتہ تھا اور نہ ہی کوئی مرئی چیز بلکہ یہ وہ ملکہ نبوت و رسالت تھا جو نبوت و رسالت ہی کے ساتھ خاص ہے کوئی غیر نبی ورسول اس کی حقیقت کو حاصل نہیں کرسکتا کیونکہ اس طرح رسالت ونبوت کا یہ وصف خاص دوسرے انسانوں میں بھی لازم آتا ہے اور یہ کہ نبوت و رسالت ایک کسبی اور اختراعی چیز قرار پا جاتی ہے حالانکہ نہ تو یہ وصف سارے انسانوں میں پایا جاتا ہے اور نہ ہی نبوت و رسالت کوئی کسبی چیز ہے اور یہی وہ چیز ہے جو عام انسانوں سے خاص انسانوں کو جو نبوت و رسالت کے لئے چنے جاتے تھے الگ کردیتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح عقل وفکر انسانوں کو عام حیوانوں سے الگ کردیتی ہے حالانکہ ہر انسان بھی حیوان ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود ہر حیوان انسان نہیں ہو سکتا اور نہ ہی انسانیت کوئی کسبی اور اختراعی چیز ہے کہ ہر حیوان اس کو حاصل کرسکے ، ایک سیکھے اور سدھے ہوئے حیوان میں بھی یہ فرق بدستور اسی طرح قائم رہتا ہے جو بلاشبہ مشاہدہ کی چیز ہے ، یہی وہ مقام ہے جہاں پہنچ کر بڑے بڑے ٹھوکر کھا جاتے ہیں اس لئے بعض تو نبیوں اور رسولوں کی بشریت و انسانیت سے انکار کردیتے ہیں اور بعض دوسرے رسول اور غیر رسول میں کوئی فرق ہی نہیں پہچانتے اور وہ اس طرح دھوکا کھا جاتے ہیں ، اللہ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے ۔
Ayah 27:10آواز آئی موسیٰ عصا پھینک دے لیکن پھنکا گیا عصا حرکت میں دیکھ کر موسیٰ خوف کھاگئے :
10۔ مقام غور وفکر ہے کہ اب وہ موسیٰ نہیں بلکہ اب تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ایک پیغمبر اور جلیل القدر نبی ورسول ہیں اللہ رب العزت نے ان کو انبیاء کے سچے دین کی تلقین اور فرعون کی غلامی سے بنی اسرائیل کی رہائی کی اہم خدمات کے لئے چن لیا ہے وہ اب وادی مقدس میں حق تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل کر رہے ہیں وہ موسیٰ جو مدین کی راہ سے بھٹکے ہوئے تھے آج مصر جیسے متمدن ومہذب ملک اور اس کے سرکش ومغرور بادشاہ کی رہنمائی کرنے کے لئے منتخب کئے گئے ہیں اور جو کل تک اونٹوں اور بکریوں کی گلہ بانی کر رہے تھے آج اچانک انسانوں کی قیادت کے فرض کو انجام دینے کے لئے منتخب کر لئے گئے ہیں اور جو نصاب زندگی کل بکریوں کے گلہ کی چرائی سے شروع ہوا تھا وہ آج وادی مقدس میں اللہ کی بہترین مخلوق حضرت انسان کی گلہ بانی پر تکمیل کو پہنچ رہا ہے اور کل کا گلہ بان آج کا جہاں بان بن رہا ہے ۔
وہ دل گرفتہ صدا ایک بار پھر بلند ہوتی ہے کہ اے موسیٰ ! اپنا عصا پھینک دے والہانہ عصار کو پھینک دیا لیکن نظر پڑی تو وہ حرکت میں ہے ایسا جیسا کہ وہ ایک پتلا سا سانپ ہے ، کیونکہ اوسان خطا نہ ہوں ابھی نبوت و رسالت کا نو وارد مسافر اس راہ کی جدت طرازیوں واقف ہی کب تھا ‘ قوت متخلیہ جواب دے رہی تھی اور بھاگنے کے لئے حرکت کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا کہ آواز نے ایک نیا روپ دھارا ‘ اے موسیٰ ! مت ڈر ! غور کر کہ اب تو صرف موسیٰ (علیہ السلام) ہی نہیں بلکہ اللہ کا ایک برگزیدہ نبی ورسول بھی ہے اور نبی ورسول اللہ کے ہاں کبھی ڈرا نہیں کرتے ۔ پاؤں رک گئے لیکن دل ابھی دھک دھک کر رہا ہے اور ظاہر ہے کہ شنیدہ اور دیدہ میں بہت فرق ہوتا ہے اسی لئے مثل ہے کہ ” شنیدہ کے بود مانند دیدہ “ یقینا موسیٰ (علیہ السلام) خیال کی دنیا میں کھو گئے اور اغیار وہاں تھے ہی کہاں جو سارا حال معلوم کر جاتے ۔ کیونکہ یہ وہ مقام ہے جہاں کسی غیر کا گزر ہی نہیں ۔
Ayah 27:11ہاں ! جس سے قصور ہوجائے اور وہ نیکی سے برائی کو بدل دے تو اللہ غفور ورحیم ہے :
11۔ یہ راز ونیاز اللہ اور اس کے رسول حضرت موسیٰ کے درمیان تھا ۔ حضرت موسیٰ نے آواز سنی اور نبوت و رسالت کے ڈالے جانے والے بار کو محسوس کیا اور خیالات کی دنیا نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ۔ آج دنیا بہت ترقی کرچکی ہے لیکن اس کے باوجود حال اور مستقبل کے چکر میں ہے اور باوجود ساری چالاکیوں کے ماضی اس کے قبضہ میں نہیں آیا حالانکہ فطرت انسانی یہ ہے کہ وہ حال ومستقبل کی بنسبت ماضی کی طرف زیادہ سفر کرتی ہے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خیال بھی ماضی ومستقبل کا کوئی چکر نہیں بلکہ سب حال ہی حال ہے اس نے بات کو جاری رکھتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) کے خیالات کو فورا روک دیا کہ دیکھو موسیٰ (علیہ السلام) جس شخص سے بھی کوئی قصور ہوجائے اور وہ اپنی زبان پر بھول سے کوئی زیادتی کر بیٹھے یا عدم علم پر کی بنا پر اس سے کوئی ایسی بھول سرزد ہوجائے تو اسے فورا اس برائی کو نیکی سے بدل دینا چاہئے ، یہ سمجھتے ہوئے کہ میرا پروردگار تو نہایت شفقت کرنے والا اور پیار کرنے والا ہے ، اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تو نے تو کیا بھی نہیں تھا بلکہ تجھ سے تو ہوگیا تھا اور کرنے اور ہونے میں جو فرق ہے وہ تو انسان بھی سمجھتے ہیں اور میں جس کے سامنے تو کھڑا ہے تیرا پروردگار ہوں ‘ تو کسی خیال میں گم ہو چلا ہے ، ہم جانتے ہیں کہ اس قبطی کو تو نے قتل کیا نہیں تھا بلکہ وہ تو تجھ سے قتل ہوگیا تھا اور میری مشیت کے فیصلے کبھی کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتے ،
Ayah 27:12اے موسیٰ (علیہ السلام) اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال اور اس کا معجزانہ رنگ دیکھ اور فرعون کو دکھا :
12۔ اے موسیٰ ! ہم تیرے خیال کو روکنا نہیں چاہتے بلکہ اس کا رخ پھیرنا چاہتے ہیں ذرا اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر واپس لا اور اب دیکھ کہ اس کی حالت کیا ہے ؟ وہ پہلے کیا تھا اور اب کیا ہوگیا ؟ اس طرح ہم نے تیرے اپنے ہی دل کے اندر کی آواز کا رخ پھیردیا ہے اور تیرا داہنا ہاتھ ایک اتنا بڑا نشان ہے جس سے یہ بات ثابت کردی جائے گی کہ حکومت کا اہل فرعون ہے یا بنی اسرائیل ؟ گویا موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ع
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی :
تیرا وہ خیال جو ماضی کی طرف نکلا ہے اس کو مستقبل کی طرف پھیر دے اور اپنے ماضی سے مستقبل کو تیار کر کے فرعون کو دکھا دے یہ اتنے بڑے دونشانات ہیں جن کا جواب فرعون جیسے متکبر کے پاس یقینا نہیں ۔ اے موسیٰ ! یہ ہماری جانب سے تمہاری نبوت و رسالت کے دو بڑے نشان ہیں ” عصا “ اور ” یدبیضا “ یہ تمہاری پیغام صداقت اور دلائل وبراہین حق کی زبردست تائید کریں گے پس جس طرح ہم نے تجھ کو نبوت و رسالت سے نوازا اسی طرح تم کو یہ دو عظیم الشان نشان بھی عطا کئے ، بلاشبہ یہ دونوں نشانات بہت بڑے نشانات کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے اور فرعون اور اس کے اعوان وانصار کو اسی طرح مبہوت کردیں گے کہ ان کے لئے پائے رفتن نہ جائے ماندن کی حالت پیدا ہوجائے گی ، اب جاؤ اور فرعون اور اس کی قوم کو راہ ہدایت دکھاؤ کہ انہوں نے بہت ہی سرکشی اور نافرمانی اختیار کر رکھی ہے اور اپنے غرور وتکبر اور انتہائی ظلم کے ساتھ انہوں نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے سو ان کو غلامی سے راستگاری دلاؤ ، تفصیلات اس کی پیچھے کئی مقامات پر اور خصوصا سورة طہ میں گزر چکی ہیں وہیں سے ملاحظہ کریں ۔
Ayah 27:13فرعونیوں نے بصیرت افروز نشانیاں دیکھ کر بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر ہی قرار دیا :
13۔ فرعون نے اپنی مغرورانہ سرشت کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے رسول اللہ ہونے کا استخفاف کیا اور مذاق وتحقیر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت سے بحث شروع کردی اپنے گھرانے کے احسان جتائے اور مصری کے قتل والا معاملہ یاد دلایا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خوف زدہ کرنے کی پوری پوری کوشش کی مگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چونکہ ان سب مراحل کے متعلق اللہ رب العزت سے ہر قسم کا اطمینان کرچکے تھے اس لئے ان پر مطلق نہ خوف کا کوئی اثر ہوا اور نہ ہی ان کو کوئی غصہ آیا بلکہ انہوں نے فرعون کے گھرانے کی تربیت کا اعتراف بھی کیا اور مصری کے قتل کی غلطی کو بھی تسلیم کیا مگر ساتھ ہی ایک ایسی مسکت برہان اور خاموش کن دلیل بھی پیش کردی کہ فرعون واقعی لاجواب ہوگیا اور اس نے ناراضگی اور غصہ کے اظہار کی بجائے گفتگو کا پہلو فورا بدل دیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے رب العالمین کے متعلق بات چیت شروع کردی اور آپ کی دلیل وحجت یہی تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تو نے جو کچھ کہا میری شخصیت اور ذات سے متعلق ہے لیکن کیا یہ باتیں اس کے لئے جواز کا باعث بن سکتی ہیں کہ بنی اسرائیل کی پوری قوم کو تو غلام بنائے رہے یہ تو صریح ظلم ہے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس طرح دلائل کی بھرمار کردی کہ فرعون کے پاس سوائے خاموش کے کوئی چارہ کار نہ تھا ۔
فرعون کو درباریوں اور عام قبطیوں پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ میں اپنی شکست صاف نظر آنے لگی تاہم اس نے اپنی شکست کو چھپانے کے لئے مسطورہ بالا طریقہ اختیار کیا اور اپنے احسانات کا بار جتلایا مگر وہ خود سمجھتا تھا کہ یہ ایک دھوکا ہے اور بس اس سے دلوں کو تسلی نہیں ہو سکتی اور بہت ممکن ہے کہ بہت سے مصری بھی اس کو سمجھتے ہوں تاہم اس نے درباریوں اور خواص وعوام میں ایک بار اس کو سنبھالا دینے کی مزید کوشش کی حالانکہ اس کو حق و باطل کی اس کشمکش میں اپنے لئے سخت خطرہ نظر آرہا تھا اسی لئے اس نے معاملہ کو صرف یہی ختم نہیں کردیا بلکہ ضروری سمجھا کہ اپنی سطوت وجبروت اور قہر مانیت کا اثر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر بھی ڈالے اور اس طرح اس کو مرعوب کرکے پیغام حق کے فرض سے اس کو باز رکھے چناچہ وہ کہنے لگا اسے موسیٰ ! اگر تو نے میرے سوا اور کسی کو معبود قرار دیا تو میں تجھ کو قید میں ڈال دوں گا ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اگرچہ میں تیرے پاس اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ کی جانب سے واضح نشان لے کر آیا ہوں تب بھی تیرے غلط راستے کو اختیار کرلوں ؟ فرعون نے کہا اگر واقعی تو اس بارہ میں سچا ہے تو کوئی نشان دکھا ۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آگے بڑھے اور بھرے دربار میں فرعون کے سامنے اپنی لاٹھی کو زمین پر ڈالا تو اسی وقت اس نے ایک اژدھا کی شکل اختیار کرلی اور یہ حقیقت بھی تھی کوئی نظر کا دھوکا نہیں تھا پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا دوسرا نشان پیش کرنے کے لئے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالا اور پھر وہاں سے باہر کو لائے تو وہ ایک روشن ستارہ کی مانند چمک رہا تھا اور یہ دونوں نشانات اس بات پر دال تھے کہ اس ملک میں حکومت کا حق بنی اسرائیل کو ہے فرعون کو نہیں اور اصل حاکم رب العالمین ہی ہے فرعون کوئی اوتار وغیرہ بھی نہیں ہے ، فرعون کے درباریوں نے جب اس طرح ایک اسرائیلی کے ہاتھوں اپنی قوم اور اپنے بادشاہ کی شکست کو دیکھا تو تلملا اٹھے اور کہنے لگے کہ بلاشبہ یہ تو بہت بڑا ماہر جادوگر ہے اور اس نے یہ سارا ڈھونگ اس لئے رچایا ہے کہ تم پر غالب آکر تم کو تمہاری سرزمین مصر سے باہر نکال دے ۔
Ayah 27:14فرعون نے اپنے ظلم کا اعتراف کرنے کے باوجود ظلم کو ترک نہ کیا :
14۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تفصیلی سرگزشت چونکہ پیچھے گزر چکی ہے جیسا کہ آپ پیچھے سے پڑھتے چلے آ رہے ہیں اور خصوصا سورة طہ میں وضاحت گزر چکی ہے اس لئے اس کا اختصار سے یہاں ذکر کیا گیا اور آخر میں اصل مدعا سامنے رکھ دیا گیا جس کے لئے یہ سرگزشت بار بار وقفہ وقفہ سے سنائی جا رہی ہے ، اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ﷺ کو مخاطب کرکے بتایا جا رہا ہے کہ اے رسول ﷺ جو لوگ دعوت حق کو قبول نہ کرنا چاہتے ہوں وہ ایک دو نہیں بیسیوں نشانیاں دیکھ لینے کے بعد اپنے انکار کے لئے کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لیتے ہیں باوجود اس کے کہ ان کے دل بھی اقرار کرتے ہیں کہ داعی الی اللہ کی بات بالکل صاف اور سچ ہے لیکن اس کے باوجود برابر تکذیب ہی کرتے رہتے ہیں اور ان کے انکار کی اصل وجہ یہ نہیں ہوتی کہ حق ان پر اچھی طرح واضح نہیں ہوتا بلکہ اس کا اصل سبب ان کا ظلم اور تکبر ہوتا ہے وہ اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق تلف کرنے کے عادی مجرم ہوتے ہیں اور حق کو حق سمجھنے کے باوجود حق سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور اپنی خواہش کے بندے بن کر خواہش کے خلاف حق کو ٹھکرا دیتے ہیں اور سب کچھ دیکھ سن لینے کے بعد بھی فرعون نے یہی کچھ کیا اور انجام کار سنت اللہ نے اپنے مقررہ وقت پر اس کا کام تمام کردیا ۔
Ayah 27:15داؤد اور سلیمان کو بھی علم دیا گیا اور وہ دونوں اللہ کے شکرگزار بندے تھے :
15۔ فرعون کی سرگزشت نے یہ بات ثابت کردی کہ فرعونیت اختیار کرنے والے اس لئے نہیں اختیار کرتے کہ ان کو حق وصداقت کا علم نہیں ہوتا بلکہ وہ اس لئے اس کو اختیار کرتے ہیں کہ ان کے پاس مال و دولت کے ڈھیر ہوتے ہیں اور اس ورطہ پر انکو ایسے اعوان انصار اور مشیر وزیر مل جاتے ہیں جو ان کی ہاں میں ہاں ملا کر ان کو غلط راستے پر گامزن کردیتے ہیں اور ایک بار جب وہ قدم اٹھا لیتے ہیں تو پھر ہر قدم اسی سمت اٹھانے پر وہ مجبور ہوجاتے ہیں اور ان کا ظلم وستم روز بروز ترقی ہی کرتا چلا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نعمت و خوشحالی بھی ان کے لئے فتنہ وآزمائش بن کر رہ جاتی ہے اور اس طرح وہ دن رات اپنے ظلم وستم میں آگے سے آگے ہی بڑھتے چلے جاتے ہیں ، لیکن کیا سب کی حالت ایسی ہی ہوتی ہے ؟ فرمایا نہیں ان کے مقابلہ میں اللہ کے ایسے نیک بندے بھی ہوتے ہیں کہ وہ اس طرح کی خوشحالی کی نعمت کو دیکھ کر بارگاہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام میں سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اگر ان کی مثال دیکھنا چاہتے ہو تو سیدنا داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر اور ان دونوں رسولوں کی سرگزشت کا مطالعہ کرو ان دونوں رسولوں کو اللہ رسالت ونبوت کے ساتھ ساتھ حکومت وفرمانروائی سے بھی نوازا تھا اور جو عظمت و شوکت اللہ نے ان کو عطا کی تھی ان کے ہم عصر بادشاہوں میں سے کسی کو بھی نہیں کی تھی اور جن اسباب ووسائل پر اللہ نے ان کو تصرف بخشا لیکن یہ سب کچھ پاکر وہ کسی ظلم وستکبار میں مبتلا نہ ہوئے بلکہ انہوں نے ہر نعمت کو اللہ تعالیٰ کا ایک امتحان سمجھا اور اس کا پورا پورا حق ادا کرنے کی کوشش کی فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کو علم سے نوازا تھا اس علم سے مراد وہ سارے علوم ہیں جن کی ضرورت نبوت و رسالت کو ہے اور وہ بھی جن کی ضرورت حکمرانی اور حکومت کو ہوتی ہے جس میں وہ سارے علوم داخل ہیں خواہ وہ دینی ہوں یا دنیاوی ‘ سائنسی ہوں یا مذہبی اسی طرح دونوں اللہ کے نبیوں اور رسولوں کو ان ساری چیزوں میں سے کسی چیز پر بھی فخر اور تکبر کرنا نہیں آیا بلکہ وہ اپنے زمانے کے سب سے زیادہ طاقتور ہونے کے باوجود اپنے زمانے سب سے زیادہ شکرگزار بندے ثابت ہوئے اور ان کے دل میں ایک ذرہ برابر بھی گھمنڈ پیدا نہیں ہوا بلکہ وہ ہمیشہ یہ سمجھتے رہے کہ یہ سب کچھ انکا ذاتی کارنامہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے جس نے ہم کو دوسرے انسانوں کے مقابلہ میں عزت وفضیلت عطا فرمائی اور وہ دونوں بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز رہتے تھے اور اس کی حمد و ستائش کے گیت گایا کرتے تھے اور اس طرح ایک طرف تم نے فرعون کی سرگزشت پڑھی ‘ سنی اور دوسری طرف اللہ کے ان نیک اور صالح بندوں کی سرگزشت پر بھی نظر ڈالتے جاؤ اور پھر دونوں سرگزشتوں سے جو سبق حاصل ہوتا ہے اس پر نگاہ رکھو۔
Ayah 27:16سلیمان کو داؤد کا وارث بنایا گیا اور اس نے دوسروں کو بھی حصہ دار بنایا :
16۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو دادؤ کا وارث بنایا گیا ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کون تھے ؟ اللہ کے رسول اور داؤد (علیہ السلام) کون تھے ؟ اللہ کے رسول ‘ پھر کیا رسالت بھی کسی کی وراثت ہوتی ہے ؟ اس جگہ رسالت کی وارثت کا بیان نہیں ہے بلکہ بیٹے کو مالی وراثت جو ملی اس کا ذکر کیا گیا ہے ، کیا رسول کسی کا وارث قرار پاتا تھا ؟ کیوں نہیں جس طرح سارے انسانوں کا اپنے آباؤواجداد کی جائیداد میں حق ہے انبیاء کرام (علیہ السلام) کا بھی تھا اور یقینا وہ اپنا حق وصول کرتے رہے اس میں نہ کوئی قباحت ہے اور نہ ممانعت اور ہمارے نبی اعظم وآخر ﷺ نے بھی اپنے آباء اجداد کی میراث سے حصہ وصول کیا اور کبھی اسکی نفی نہیں کی ۔ آپ ﷺ تو بےباپ تھے اس لئے کہ باپ کی وفات کے بعد آپ ﷺ پیدا ہوئے لیکن پھر بھی آپ ﷺ نے والد عبداللہ کی جائیداد کا مکمل حصہ وصول کیا اور مکہ میں آپ ﷺ کا پہلا گھر جہاں آپ ﷺ ہجرت سے پہلے رہے بلاشبہ آپ ﷺ کے باپ عبداللہ ہی کا حصہ تھا اور وہ آپ ﷺ نے وصول پا کر اس میں رہائش اختیار کی اور ہجرت تک اسی میں آباد رہے ہاں ! سیدہ خدیجہ ؓ کے ساتھ نکاح ہونے کے بعد آپ ﷺ نے خدیجہ ؓ کے گھر رہائش اختیار کرلی پھر سیدہ خدیجہرضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات کے بعد انکا ترکہ تقسیم ہوا تو آپ ﷺ کو خدیجہ ؓ کے اموال سے مال اور خدیجہ ؓ کے مکانوں میں سے ایک مکان بھی بطور وراثت ملا جیسے کہ دستور ہے اس کا ذکر اس جگہ اس لئے کرنا ضروری ٹھہرا کہ ہمارے ہاں یہ معروف ہے کہ حدیث میں ہے کہ انبیاء کرام نہ تو اپنی وراثت وصول کرتے ہیں اور نہ ہی اپنا مال اپنے وارثوں میں تقسیم کرنے کی اجازت دیتے ہیں اور وہ حدیث اس طرح بیان کی جاتی ہے کہ :
نحن معاشر الانبیاء لا نرث ولا نورث ماترکنا صدقۃ :
اس حدیث کو اس قدر استعمال کیا گیا کہ ہمارے ہاں کی کوئی کتاب تفسیر ‘ سیر اور تاریخ کی ایسی کتاب نہیں جس میں یہ بیان نہ کیا گیا ہوں اور پھر جس نے اس کو نقل کیا اس نے بخاری ‘ مسلم ‘ ترمذی ‘ ابو داؤد ‘ سنن نسائی ‘ اور ابن ماجہ میں سے کسی کا ضرور حوالہ دیا ‘ کسی نے صحاح کہہ کر پیش کردی اور کسی نے متفق علیہ کہا اور کسی نے صحاح میں سے کسی ایک کا حوالہ دیا تفصیل اس کی بہت لمبی ہے لیکن تحدی اور چیلنج کے طور پر ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ ” نحن معاشر الانبیاء لانرث “ کے الفاظ بخاری ومسلم تو کجا صحاح کی کسی کتاب میں موجود نہیں بلکہ صحاح کے علاوہ بھی جو کتب احادیث متداول ہیں ان میں سے کسی کے اندر بھی یہ الفاظ موجود نہیں۔
ہاں ! شارحین کتب صحاح نے اس کو شروح میں بیان کیا ہے تو اس طرح شارحین کا مقولہ تو اس کو قرار دیا جاسکتا ہے لیکن حدیث کا مقام کسی شارح کی شرح سے بہت اونچا ہے جس کی وضاحت کی ضرورت نہیں اگرچہ اس کو بیان کرتے وقت احناف ‘ موالک ‘ شوافع ‘ حنابلہ اور اہلحدیث سب ہی نے اس کو درج کیا ہے اور لاریب اس کے درج کرنے والے بڑے بڑے متبحر علمائے گرامی قدر ہیں جن کی قدوقامت اسلام میں بہت اونچی ہے لیکن اسلام میں خواہ کوئی شخص کتنا ہی بلند مقام کیوں نہ رکھتا ہو کسی نبی ورسول کے برابر اس کو نہیں بٹھایا جاسکتا اور یہ مسئلہ بھی پورے عالم اسلام کا ہے جس میں کسی کو بھی اختلاف نہیں ۔ ہم افسوس سے صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ یہ نہایت ہی خطرناک مثال پیش کی گئی کیونکہ اس کو بیان کرتے وقت میرے جیسے روسیاہ کو بھی اپنے سینے پر ہاتھ رکھنا پڑا اور دانتوں میں انگلی دبانا پڑی کیوں ؟ اس لئے کہ احادیث میں جہاں اس طرح کے الفاظ درج کئے گئے وہ مقامات نہایت ہی قبیح اور خطرناک تھے مثلا یہ کہ :
1۔ ملاعن اور ملاعنہ کا ولد العان اپنی والدہ کا وارث اور مورث بنے گا ملاعن کا وارث نہیں اور نہ ہی موروث ہے چناچہ اس کی وضاحت صحیح بخاری میں 263 ص 264 پارہ 18 اور صحیح مسلم ص 489 جلد اول میں بیان ہوا ہے ۔
2۔ یہی بات جو اوپر ذکر کی گئی منتقی الاخبار 244 بحوالہ مسند احمد مرفوعا مروی ہے ۔
3۔ پھر اس طرح کا بیان مسند دارمی ص 406 میں عمر بن شعیب عن ابیہ عن جدہ سے مروی ہے ۔
4۔ یہی مسئلہ دارمی ص 395 میں سیدنا علی ؓ سے مروی ہے ۔
5۔ اسی طرح ولد الحرام بھی نہ وارث ہے اور نہ موروث جیسے مستدرک حاکم ص 342 جلد 4 میں مرفوعا مروی ہے ۔
6۔ سنن ابی داؤد ص 247 جلد دوم اور سنن کبری بیہقی ص 260 ج 6 میں مرفوعا مروی ہے ۔
7۔ اور یہی بات جامع ترمذی ص 33 ج 6 میں مرفوعا بیان کی گئی ہے ۔
8۔ پھر یہی کچھ سنن ابن ماجہ ص 203 ج 2 میں بھی مرفوعا مروی ہے ۔
9۔ اور یہی بات کنزالعمال ج 6 ص 5 بحوالہ تاریخ حاکم مرفوعا بیان ہوا ہے ۔
10۔ بحوالہ عبدالرزاق بھی مرفوعا بیان ہوا ہے اور جامع ترمذی میں سقط بےجان کی بابت بھی اسی طرح بیان کیا گیا ہے ۔
چونکہ ان سب حوالوں میں حرمان وارثت کے لئے نبی اعظم وآخر ﷺ کا فرمان جرائم واثام کی صاف صاف تصریح ہے جو کہ ایک عیب ونقص ہے اور اس کی وضاحت بھی صاف صاف واضح ہے ، انبیاء کرام (علیہ السلام) کی شان گرامی اور نبی اعظم وآخر ﷺ کی شان گرامی خصوصا بہت بلند ہے کہ ایسے مواضع پر ان کا ذکر کیا جائے ، اس لئے اس بیان کی طرف اشارہ کرنے سے بھی ہمارے لئے پرہیز ہزار بار لازم ہے۔ ہاں ! کسی کا وراثت میں کچھ نہ چھوڑ جانا اور بات ہے ورثہ کو تقسیم نہ کرنا یا کسی کو ورثہ میں سے کچھ نہ ملنا امر دیگر ہے ، اس معاملہ میں اگر بحث چھیڑی جائے تو وہ سینکڑوں صفحات میں سمائے گی اور اس جگہ ہمارے پاس اتنی گنجائش کہاں ہم صرف نمونہ کیلئے چند چیزوں کا ذکر کریں گے جو نبی اعظم وآخر ﷺ نے اپنے والد ماجد حضرت عبداللہ سے وراثت میں حاصل کیں اور اس بات میں کسی کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہوا نہ ہی اعتراض کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی اس بات کا کوئی ثبوت مہیا کیا جاسکتا ہے کہ کسی ہونے والے نبی ورسول نے اپنی نبوت و رسالت سے پہلے بھی کوئی ناجائز و حرام ہونے کام میں حصہ لیا ہو جو پہلے تو حرام نہ ہو لیکن بعد میں وہ حرام ہوگیا ہو اس کے لئے ہمارا چیلنج ہے اور ہم پورے وثوق سے یہ چیلنج کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (آیت) ” ھاتو برھانکم ان کنتم صدقین “۔
1۔ ام ایمن رسول اللہ ﷺ کی ملک یمین تھیں جو آپ ﷺ کو حضرت عبداللہ ‘ اپنے والد کی طرف سے ورثہ میں دی گئیں تھیں اور آپ ﷺ نے ان کو نبوت ملنے سے بھی بہت بعد آزاد کیا تھا اور ظاہر ہے کہ وہ وراثت میں آپ کو ملیں آپ ﷺ نے انکو ملک یمین بنایا ‘ انہوں نے اپنے آپ کو نبی کریم ﷺ کی ملک یمین سمجھا اور آزادی کے بعد انہوں نے زید بن حارثہ سے نکاح کیا جس میں سے زید کے ہاں اسامہ پیدا ہوئے اور یہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد تک زندہ رہیں۔ صحیح بخاری ص 551 پارہ 10 ‘ صحیح مسلم ص 96 جلد دوم ‘ مجمع الزوائد ص 259 ‘ جلد 9 بحوالہ طبرانی فتح الباری ص 317 پارہ 27 ‘ اسد الغایہ 567 جلد 5 ‘ تالیف امام ابن الاثیر جزری نوری شرح مسلم ص 291 ج 2 ‘ عمدہ القاری ص 234 ج 16 ‘ تلقیح مفہوم الاثر 159 ‘ فتح الباری ص 394 پارہ 14 عمدہ القاری 234 ج 16 زاد المعاد ص 20 ‘ حاشیہ مشکوۃ ص 548 ‘ ابن ماجہ ص 119 اور خلاصہ ان تمام حوالوں کا اس طرح ہے کہ ام ایمن رسول اللہ ﷺ کی جدی وپدری مملوکہ تھی جو کہ وراثتا آپ ﷺ کو ملک یمین کے طور پر ملی تھی لیکن آپ ﷺ نے اسے بعد میں آزاد کرکے زید بن حارثہ سے نکاح کردیا جس کے ہاں زید کا لڑکا اسامہ پیدا ہوا۔ “ مظاہر حق ترجمہ مشکوۃ ص 634 ج 4 میں ہے کہ ” بعد وفات عبداللہ والد حضرت ﷺ کے بسبب میراث کے ہاتھ لگی تھیں اور بعد میں آپ ﷺ نے انکو آزاد کردیا تھا ۔ “ شمامہ عنبریہ میں نواب صدیق حسن خاں نے تحریر کیا ہے کہ ” ام ایمن برکت حبشیہ نے آپ ﷺ کو پالا بہ طرف سے باپ کے حضرت کے ارث میں آئی تھیں “ (ص 14) نشرالطیب میں حکیم الامۃ تھانوی (رح) نے فرمایا ہے کہ ” ام ایمن حبشیہ جن کا نام برکت ہے یہ آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے والد سے میراث میں ملی تھیں “ (ص 61) ” نبی کریم ﷺ کو جو ترکہ والد کا ملا تھا اس میں ایک حبشیہ کنیز بھی تھیں جن کا نام ’ ام ایمن تھا نبی کریم ﷺ کی اصل انا یا دایہ وہی ہیں آپ ﷺ کی وفات تک زندہ رہیں نبی کریم ﷺ ان کو ماں کہہ کر پکارتے تھے اور جب ان کو دیکھتے تو فرمایا کرتے کہ اب یہی میرے خاندان کی یادگار رہ گئی ہیں “ (سیرۃ النبی ص 193 ج 2 شبلی نعمانی) ” آنحضرت ﷺ کے والد حضرت عبداللہ کی کنیزوں میں سے تھیں ‘ انہوں نے وفات پائی تو یہ حضرت آمنہ کے پاس رہنے لگیں ۔ رسول اللہ ﷺ کی حضانت وتربیت بہت زیادہ انہیں سے متعلق تھی جب رسول اللہ ﷺ سن شعور کو پہنچے تو پھر وراثتا یہ بھی آپ ﷺ کے حصہ میں آئیں ۔ “ (صحابیات نیاز فتح پوری ص 176)
2۔ ام ایمن مولاۃ رسول اللہ ﷺ وحاضنتہ واسمعا برکۃ کان رسول اللہ ﷺ ورثھا خمسۃ اجمال وقطعۃ غنم فعتق رسول اللہ ﷺ ام ایمن حین تزوج خدیجۃ (المستدرک حاکم ص 63 ج 4 عن محمد بن عمر)
” ام ایمن رسول اللہ ﷺ کی مملوکہ تھیں اور پرورش کرنے والی بھی ‘ ان کا اصل نام برکت تھا جو رسول اللہ ﷺ کو والد کے ورثہ سے ملی تھیں اور اس ورثہ میں پانچ اونٹ اور ایک قطعہ بکریاں بھی تھیں بعد میں نبی کریم ﷺ نے جب خدیجہ ؓ سے نکاح کیا تو ان کو یعنی ام ایمن کو آزاد کردیا “ اگرچہ آزاد ہونے کے بعد بھی وہ آپ ہی کے پاس رہیں ۔ اس میں پانچ اونٹ اور ایک قطعہ بکریوں کا بھی ذکر ہے اور قطعہ کا لفظ دس سے تیس یا چالیس تک بولا جاتا ہے یعنی دس سے زائد اور چالیس سے کم تھیں ، اس مضمون کو جن لوگوں نے ذکر کیا ہے ان کے اسمائے گرامی مع حوالہ حاضر ہیں : (امام ابو نعیم دلائل النبوۃ ص 50 ‘ ج 1) سیرۃ محمد بن سعد ص 62 ‘ ج اول ‘ انسان العیون حلبیہ ص 52 ج اول ۔ امام ابن الجوزی تلقیح فھوم ص 7 ‘ مجمع البحار ص 525 ‘ ج 3۔ سیرۃ النبی اول ص 158۔ سیرۃ النبی کی عبارت اس طرح ہے کہ ” عبداللہ نے ترکہ میں اونٹ ‘ بکریاں اور ایک لونڈی چھوڑی جس کا نام ’ ام ایمن تھا یہ سب چیزیں رسول اللہ کو ترکہ میں ملیں ۔ ’ ام ایمن کا اصل نام برکت تھا۔ “ مولانا اکبر شاہ صاحب نے تاریخ اسلام ج اول ص 82 میں تحریر فرمایا کہ ” عبداللہ نے اپنے بعد چند اونٹ ‘ چند بکریاں اور ایک لونڈی ’ ام ایمن کو چھوڑا تھا ۔ “۔
3۔ وذکر الواقدی انہ ﷺ ورثا من ابیہ ’ ام ایمن وخمسۃ اجمال وقطعۃ من غنم ومولاۃ شقران واسمہ صالح وقد شھد بدرا ومن امہ دارھا بالشعب ومن زوجتہ خدیجہ دارھا بمکۃ بین الصفا والمروہ واموالا (مواہب لدنیہ کی شرح زرقانی ص 378 ج 3) ” واقدی نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو باپ کے ورثہ میں سے ’ ام ایمن ‘ پانچ اونٹ اور ایک قطعہ بکریاں اور ایک غلام جس کا نام شقران تھا اور اس کا اصل نام صالح تھا جو بدر میں حاضر تھا اور آپ ﷺ کو والدہ ماجدہ سے ایک گھر جو شعب میں تھا اور ایک گھر جو سیدۃ خدیجۃ الکبری کا صفا اور مروہ کے درمیان واقع تھا اور بہت سا مال نقد وصول ہوا تھا ۔ “۔ گویا ایک گھر اور نقد مال آپ ﷺ کی بیوی خدیجۃ الکبری کے ورثہ سے اور ایک گھر والدہ ماجدہ کی ورثہ سے ملا تھا اور اس ایک غلام شقران کا بھی ذکر ہے اور ایک تلوار کا بھی جو باپ ہی کے ورثہ سے ملی تھیں ان چیزوں کو جن حضرات نے نقل کیا ہے ان کے اسمائے گرامی ہیں ۔ الاستیعاب ج 2 ص 166 ‘ تہذیب التہذیب ص 361 ‘ ج 14 صابہ ‘ قاموس اور تاج العروس میں بھی ان چیزوں کا ذکر ہے ۔ تاریخ کامل ابن الاثیر جزری ج اول ص 129 ‘ نور العیون ص 29 ‘ امام ابن قتیبہ معارف ص 64 ‘ امام ابو جعفر طحاوی مشکل الاثار ج اول ص 430 ‘ سیرۃ حلبیہ ج 3 ص 329 ‘ زادالمعارج اول ص 23 ‘ مدارج النبوۃ ج 2 ص 689 ۔ مواہب لدنیہ ج 2 ص 378 اجمال کے طور پر اس جگہ ہم نے جو کچھ نبی اعظم وآخر ﷺ کو والد ماجد کے ترکہ میں سے ملا اس کا بیان اور جو کچھ والدہ ماجدہ سے ترکہ میں وصول ہوا اس کا ذکر اور جو کچھ ام المومنین خدیجہ ؓ کی وفات کے بعد انکی بکریاں ‘ تین مکان اور کچھ نقد مال کا ذکر کیا گیا ہے اور تفصیل کے لئے ہم معذرت کر رہے ہیں اور علمائے کرام سے یہ باتیں پوشیدہ نہیں تاہم وہ آج تک یہ لکھتے آئے ہیں لکھ رہے ہیں اور لکھتے رہیں گے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے کوئی ترکہ نہیں پایا اب یہ ان ہی سے پوچھ لیا جائے کہ اس کی صداقت کہاں تک ہے جب کہ کسی حدیث میں یہ بات موجود نہیں اور قرآن کریم میں نبی کا ورثہ پانے کا ذکر ہو ہی رہا ہے جہاں ہم نے یہ بیان کیا ہے اور اس لئے کیا ہے کہ آپ معلوم ہوجائے کہ علماء کرام کا جو دل چاہے جائز اور جو نہ چاہے وہ ناجائز ہے یا کم ازکم ہو سکتا ہے قرآن وسنت خواہ کچھ کہتے رہیں اور اس طرح یہ بھی کہ وہ چاہیں تو قرآن کو حدیث کے برابر بھی نہ رہنے دیں اور چاہیں تو حدیث موجود نہ بھی ہو تو حدیث قرار دے کر اس کا درجہ قرآن کریم سے بھی کہیں اوپر کر دکھائیں ۔ علماء کرام پر کشادہ ہیں راہیں ۔ بہرحال ایسے علمائے کرام بھی موجود نہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی وراث کو تسلیم کیا ہے ان علمائے کرام کے نام یہاں پیش کئے جا رہے ہیں اس کو ملاحظہ فرما لیں ، نام مندرجہ ذیل ہیں :
1۔ امام ابوبکر محمد بن عبداللہ بن شہاب زہری (رح) ‘ ولادت ؟ ‘ وفات 124 ھ ۔
2۔ قاضی ابو عبداللہ محمد بن عمر واقدی (رح) ولادت 141 ‘ وفات 207۔
3۔ امام ابو عبدالرحمن عبداللہ بن داؤد حزیبی (رح) ‘ ولادت 133 ‘ وفات 213 ھ ۔
4۔ امام ابو الولید محمد بن عبدالکریم ازرقی (رح) ولادت ؟ ‘ وفات 223 ھ ۔
5۔ امام ابو عبداللہ حافظ محمد بن سعد (رح) ولادت 168 ‘ وفات 230 ھ۔
6۔ امام ابو عبداللہ محمد بن اسمعیل بخاری (رح) ولادت 194 ‘ وفات 256 ھ ۔
7۔ قاضی ابو عبداللہ زبیر بن بکار مدنی (رح) ‘ ولادت ؟ ‘ وفات 256 ھ ۔
8۔ علامہ ابو طالب زید بن اخزم طائی (رح) ولادت ؟ وفات 257 ھ ۔
9۔ امام ابو الحسین مسلم بن حجاج قشیری (رح) ‘ ولادت 206 ھ ‘ وفات 261 ھ۔
10۔ امام ابو عبداللہ محمد بن یزید ابن ماجہ (رح) ‘ ولادت 209 ھ ‘ وفات 273 ھ۔
11۔ امام ابو محمد عبداللہ بن مسلم بن قتیبہ دینوریرحمۃ اللہ علیہ ولادت 213 ھ ‘ وفات 276 ھ۔
12۔ امام ابوبکر احمد بن یحییٰ بن جابر بلاذری (رح) ولادت ؟ وفات 279 ھ ۔
13۔ امام ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید طبری (رح) ‘ ولادت 224 ھ ‘ وفات 310 ھ ۔
14۔ امام ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامہ طحاویرحمۃ اللہ علیہ ‘ ولادت 229 ھ ‘ وفات 321 ھ۔
15۔ امام ابو عبداللہ محمد بن اسحاق بن عباس فاکہی (رح) ۔
16۔ امام ابو الحسن علی بن الحسین مسعودی (رح) ولادت ؟ وفات 346 ھ ۔
17۔ اما ابو الحسن علی بن عمر دارقطنی (رح) ولادت 306 ھ ‘ وفات 385 ھ۔
18۔ امام حاکم ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ (رح) ‘ ولادت 321 ھ ‘ وفات 405 ھ۔
19۔ حافظ ابو نعیم احمد بن عبداللہ اصبہانی (رح) ولادت 330 ھ ‘ وفات 430 ھ۔
20۔ امام ابوبکر احمد بن حسین بن علی بیہقی (رح) ولادت 384 ھ ‘ وفات 458 ھ۔
21۔ امام ابو عمر یوسف بن عبداللہ بن عبدالبررحمۃ اللہ علیہ ولادت 368 ھ۔ وفات 463 ھ۔
22۔ امام محی السنہ ابو محمد حسین بن مسعود بغوی ‘ ولادت ؟ وفات 516 ھ۔
23۔ قاضی ابوالفضل عیاض بن موسیٰ یحصبی (رح) ‘ ولادت 476 ھ۔ وفات 544 ھ۔
24۔ امام ابو القاسم عبدالرحمن بن عبداللہ بن احمد سہلی (رح) ولادت 508 ھ۔ وفات 581 ھ۔
25۔ علامہ جار اللہ ابو القاسم محمود بن عمر زمخشری (رح) ولادت 467 ھ۔ وفات 599 ھ۔
26۔ امام جمال الدین ابو الفرح عبدالرحمن بن علی جو زی (رح) ولادت 508 ھ ‘ وفات 597 ھ۔
27۔ امام فخرالدین محمد بن عمر رازی (رح) ولادت 554 ھ ‘ وفات 606 ھ۔
28۔ شیخ شہاب الدین ابو عبداللہ یاقوت بن عبداللہ حموی (رح) ولادت 575 ھ۔ وفات 627 ھ۔
29۔ شیخ عزالدین ابو الحسن علی بن محمد جزری ابن اثیر (رح) 555 ھ ‘ وفات 630 ھ۔
30۔ امام ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی (رح) ولادت 631 ھ۔ وفات 676 ھ۔
31۔ قاضی ابو سعید عبداللہ بنعمر بیضاوی (رح) ولادت ؟ وفات 685 ھ۔
32۔ شیخ الاسلام تقی الدین ابو العباس احمد بن عبدالحلیم ابن تیمیہ (رح) ولادت ؟ وفات 728 ھ۔
33۔ امام ابو الفتح محمد بن محمد بن سید الناس یعمری (رح) ولادت 671 ‘ وفات 732۔
34۔ حافظ شمس الدین ابو عبداللہ محد بن احمد ذھبی (رح) 673 ھ۔ ‘ 748 ھ۔
35۔ علامہ عبداللہ بن عبدالملک قرشی برمکی (رح) ولادت ؟ وفات 748 ھ۔
36۔ حافظ شم الدین ابو عبداللہ محمد بن ابی بکر ابن القیم الجوزی (رح) ولادت 691 ھ۔ وفات 751 ھ۔
37۔ حافظ جمال الدین عبداللہ بن یوسف زیلعی (رح) ولادت ؟ وفات 762 ھ۔
38۔ حافظ علاؤ الدین بن قلیج بن عبداللہ مغطائی (رح) ‘ ولادت 689 ھ۔ وفات 762 ھ۔
39۔ حافظ عماد الدین ابو الفداء اسمعیل بن کثیر (رح) ‘ ولادت 700 ھ۔ وفات 774 ھ۔
40۔ حافظ ابو الفضل احمد بن علی حجررحمۃ اللہ علیہ ولادت 773 ھ ‘ وفات 852 ھ۔
41۔ علامہ بدرالدین ابو محمد محمود بن احمد عینی ولادت 762 ھ ‘ وفات 855 ھ۔
42۔ امام جلال الدین عبد الرحمن بن ابی بکر سیوطی (رح) ولادت 849 ھ۔ وفات 911 ھ۔
43۔ علامہ شہاب الدین احمد بن محمد قسطلانی (رح) ولادت ؟ وفات 923 ھ۔
44۔ شیخ محمد بن طاہر بن علی فتنی (رح) ولادت 914 ھ ‘ وفات 987 ھ ۔
45۔ شیخ نورالدین ابو الحسن ملا علی قاری (رح) ولادت ؟ وفات 1010 ھ ۔
46۔ علامہ نور الدین علی بن برہان الدی حلبی ولادت 975 ھ ‘ وفات 1044 ھ۔
47۔ مولانا شیخ عبدالحق صاحب محدث دہلوی (رح) ولادت ؟ وفات 1052 ھ۔
48۔ شیخ محمد بن عبدالباقی بن یوسف زرقانی (رح) ‘ ولادت 1020 ھ ‘ وفات 1122 ھ۔
49۔ صاحب اسعاف (رح) ‘ ولادت ؟ وفات 1185 ھ ۔
50۔ سید ابو الفیض محمد مرتضی بلگرامی (رح) ولادت 1145 ھ ۔ وفات 1205 ھ ۔
51۔ مولانا شاہ عبدالقادر صاحب محدث دہلوی (رح) ولادت ؟ وفات 1230 ھ۔
52۔ مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) ولادت 1159 ھ۔ وفات 1239 ھ۔
53۔ مولانا قطب الدین صاحب شاہ جہاں آبادی (رح) ولادت ؟ وفات 1254 ھ ۔
54۔ شیخ مومن بن حسن شیلخی (رح) ولادت 1255 ھ۔
55۔ شیخ عبدالغنی صاحب مجددی مہاجر مدنی بن شیخ ابو سعید صاحب (رح) ولادت ؟ وفات 1297 ھ۔
56۔ مولانا ابو الطیب نواب صدیق حسن خاں صاحب بھوپال (رح) ولادت ؟ وفات 1307 ھ۔
57۔ شمس العلماء علامہ محمد شبلی نعمانی اعظم گڑھی ‘ ولادت 1274 ھ۔ وفات 1332 ھ۔
58۔ مولانا ابو نعیم عبدالحکیم صاحب شرر لکھنوی (رح) ولادت ؟ وفات 1345 ھ۔
59۔ مولانا اشرف علی صاحب تھانوی (رح) ولادت 1280 ھ۔ وفات 1362 ھ ۔
60۔ مولانا اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی (رح) ولادت ؟ وفات ؟
61۔ مولانا ابو تمیم محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی (رح) ولادت 1292 ھ وفات 1376 ھ۔
62۔ مولانا نیاز محمد خان صاحب نیاز فتح پوری ‘ ولادت ؟ وفات ؟ ۔
63۔ ابو الاثر حفیظ جالندھری (رح) ولادت ؟ وفات ؟
64۔ مولانا عبدالشکور صاحب لکھنؤی ۔
زیر نظر آیت میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ داؤد (علیہ السلام) کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) انکے وارث ہوئے اور جیسا نامور باپ تھا ویسا ہی بیٹا بھی تھا کہ اپنے والد ماجد کی وفات کے بعد جب دنیوی وراثت بھی آپ کے سپرد کردی گئی اور اللہ تعالیٰ نے نبوت سے پہلے ہی سرفراز فرما دیا ہوا تھا تو آپ نے اپنے والد بزرگوار کے بنائے ہوئے پروگراموں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اور اپنے زمانہ کے نامور بادشاہ ٹھہرے آپ نے بری اور بحری قوت میں بےپناہ اضافہ کیا اپنی فوج کو مختلف محکموں میں تقسیم کیا بری اور بحری فوج میں تو بےپناہ ترقی کی لیکن ساتھ ہی ساتھ فضائی اور ہوائی فوج کا بھی بندوبست کیا اور تینوں افواج کو ایک ہی کمان کے اندر رکھا اور اس طرح آپ کے زمانہ میں وہ ترقی ہوئی کہ اس سے پہلے وہ یقینا نہیں ہوئی تھی اور بہت سے نئے کام شروع کروائے گئے جن میں تانیہ پگھلانے کے کارخانے ‘ غوطہ زنی کا محکمہ ‘ مختلف صنعتیں اور اسلحہ فیکٹریاں لگوائی گئیں اور فتوحات کا وہ دور دورہ ہوا کہ آپ کے بعد بھی مدت تک کسی کو ایسی فتوحات نصیب نہ ہوئیں ، خصوصا آپ کے دور میں پرندوں کی بولیاں اور ان سے مختلف کام لینے کی صلاحتیں جو اللہ نے ودیعت کی ہیں ان سے بہت حد تک کام لیا گیا اور اس طرح نئی نئی زبانیں بھی ایجاد کیں اور ان میں خاصہ مقام حاصل کیا پھر نہ صرف یہ کہ فقط آپ کی ذات ہی ان ساری چیزوں میں سکھائے گئے کہ وہ پرندوں سے وہ کام لے لیتے تھے جو عام حکومتوں میں انسانوں سے بھی ابھی نہیں لیا جاتا تھا ، اختصار کے ساتھ چند ایک حوالے میں نے تازہ کرا دیئے ورنہ اس کی تفصیل پیچھے سورة الانبیاء میں گزر چکی ہے اور خصوصا سلیمان (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت میں بہت کچھ بیان کردیا ہے اگرچہ اختصار کے ساتھ ہے کیونکہ زیادہ تفصیل تو تاریخ کا کام ہے تفسیر اس سے زیادہ اس کی متحمل نہیں ہو سکتی بہرحال آپ عروۃ الوثقی ‘ جلد پانچ میں اسی مختصر سرگزشت کی طرف مراجعت کریں ۔ منطق الطیر کی حقیقت بھی ہم نے وہاں بیان کردی ہے ۔
Ayah 27:17سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے تینوں قسم کے لشکروں کو حاضر کیا جاتا تھا تاکہ وہ خود ان کا جائزہ لیں :
17۔ یہ تینوں قسم کے لشکر کون کون سے ہیں ؟ ؛ ہم نے اوپر بری ‘ بحری اور فضائی لشکروں کا ذکر کیا ہے قرآن کریم نے ان تینوں لشکرون کو جن وانس اور طیر کے لشکر قرار دیا ہے جو قرآن کریم نے ان کے نام قرار دئیے ہیں وہ بلاریب صحیح اور درست ہیں ہم نے ان کے ناموں کو محض موجودہ نام کی ترتیب کے لحاظ سے کہا ہے اور ایک ہی چیز کے مختلف ادوار میں مختلف نام ہو سکتے ہیں اس کی صورت اس وقت کے لحاظ سے کچھ بھی ہو ہمیں اس سے کوئی بحث نہیں غور طلب بات صرف اتنی ہے کہ افواج کے رکھنے کی ضرورت کیا ہوتی ہے ؟ یہی کہ دوسرے ممالک کے ساتھ نہیں غور طلب بات صرف اتنی ہے کہ افواج کے رکھنے کی ضرورت کیا ہوتی ہے ؟ یہی کہ دوسرے ممالک کے ساتھ کوئی ناگہانی صورت پیش آجائے یا کوئی ملک دوسرے پر حملہ آور ہو تو اس کا دفاع کیا جاسکے یا کہ اگر کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنا ناگزیر ہو تو حملہ کیا جاسکے اور یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ دنیا میں کوئی ملک بھی اسی طرح کی افواج واسلحہ تیار کرتا ہے جس طرز سے اس کے آس پاس تشکیل چکا ہو اور زیادہ سے زیادہ ترقی کرکے جدید ایجادات تیار کی جائیں بہرحال جو کچھ سلیمان (علیہ السلام) نے وہاں تیار کر کا حکم دیا وہ وہی ہو سکتا تھا جو آپ کے اردگرد کی حکومتوں میں تشکیل پا چکا تھا یقینا آپ نے ان سب سے زیادہ ترقی کر کے ان سب کو پیچھے چھوڑ دیا تھا جس سے ہم کو یہی سبق ملتا ہے کہ مسلمان جس ماحول میں رہ رہے ہوں ان کو اپنے دفاع کے لئے وہ کچھ تیار کرلینا بہت ضروری ہے جو دنیا کی دوسری قومیں استعمال کرتی ہیں بلکہ ان سے ایک قدم مزید آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے لیکن افسوس کہ ہم نے سمجھنے کی بات کو کبھی نہ سمجھا اور فضول بحثوں میں اپنا وقت ضائع کردیا اس وقت کے لحاظ سے جن وانس اور طیر کے الفاظ انہی لشکروں کے لئے بولے گئے ہیں جن کی اس وقت کے حالات کے مطابق ضرورت تھی اب ہم ناموں پر کیوں جھگڑتے رہیں ہم کو اصولی بات تسلیم کرلینا چاہئے کہ جو اسلحہ دنیا میں استعمال ہوتا ہے اس میں اولیت حاصل کرنا اور اسی ضرورت کے مطابق اسلامی لشکروں کو تیار کرنا حکومت وقت کے فرائض میں سے ایک فریضہ ہے جو اسلام کی نظر میں بہت ضروری ہے اور انفرادی کاموں سے بہرحال اجتماعی کاموں کی اہمیت کا خیال رکھنا اسلام کی ہدایت ہے ‘ اپنا نقصان کرکے قوم کی بھلائی چاہنا یہ اسلام کا مطح نظر ہے چونکہ تفصیل ہم پیچھے سورة الانبیاء میں بیان کرچکے ہیں اس لئے ہم دوبارہ اسی کی طرف مراجعت کی دعوت دیتے ہیں اور یہی کہتے ہیں کہ سرگزشت سلیمان (علیہ السلام) کا عروۃ الوثقی جلد پانچ سے مطالعہ کریں۔