27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 27:1–5

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں قرآن اور کھلی کتاب کی

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

جو ایمانداروں کے لیے ہدایت اور بشارت بھی ہے۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

(اور) ان کے لیے جو نماز ادا کرتے اور زکوٰۃ دیا کرتے اور وہ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

البتہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال ان کے لیے بھلے کر دکھائے۔ پس وہ سرگردان پھرتے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کو بڑا عذاب ہونا ہے اور وہ آخرت میں بڑے ہی خسارہ میں ہوں گے

ترکیب : و کتاب معطوف ہے قرآن مجرورمضاف الیہ پر ھدی و بشری دونوں محل حال میں ہیں آیات یا کتاب سے اور مبتدا محذوف کی خبر بھی ہوسکتے ہیں الذین یقیمون صفت ہے المؤمنین کی وھم بالآخرۃ الخ تتمہ صلہ کا ہے و حال یا عطف کی صورت میں جملہ فعلیہ سے اسمیہ کی طرف تغیر کرنا ان کے ثبات اور ایمان پر استمرار ثابت کرنے کے لیے ہے۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے اس میں بھی توحید اور اثبات نبوت کے مباحث اور چند انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرے ہیں اور ان پر جو کچھ انعامات ہوئے وہ بھی بیان ہوئے ہیں جو ان کی خدا پرستی کا نتیجہ تھا۔ فرماتا ہے طس ان دو حرفوں سے کسی خاص بات کی طرف اشارہ ہے جس کو وہی خوب جانتا ہے۔ تلک یہ یعنی آیتیں جو اس سورة میں ہیں قرآن اور کتاب مبین کی آیات ہیں کسی شاعر کا کلام نہیں۔ کتاب مبین سے مراد بھی قرآن ہے مگر کتاب مبین کہنے سے یہ بات بتلانی مقصود ہے کہ قرآن مجید میں کوئی بات بعید از عقل نہیں سب باتیں اس کی صاف اور ظاہر ہیں جن کو ہر ایک صاحب عقل سلیم تسلیم کرنے میں ذرا بھی تردد نہیں کرسکتا مگر وہی کہ جس کے دل کی آنکھیں روشن ہیں ورنہ عقل کے اندھوں اور جنم کے کور باطنوں کج طبعوں کو اس میں ہزارہا قیل و قال ہیں۔ اس لیے فرماتا ہے ھدی و بشریٰ للمؤمنین کہ یہ قرآن ہدایت ہے سب کے لیے مگر نفع اس سے وہی اٹھاتے ہیں جن میں راستی کا مادہ رکھا ہوا ہے اس لیے بشرٰی کو مومنین کے ساتھ مخصوص کیا۔ پھر آگے یہ بھی کھول دیا کہ زبان سے مومن کہنا کافی نہیں جب تک کہ اس میں یہ اوصاف نہ پائے جائیں۔ (1) الذین یقیمون الصلوٰۃ کہ وہ جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی اہتمام سے اور اس کی ساری شرطوں اور قاعدوں سے نماز ادا کرتے ہیں معلوم ہوا کہ جو نماز نہ ادا کرے وہ پورا اور کامل مومن نہیں۔ حیف ہے ان لوگوں پر جو خدا پرستی اور دین کی حمایت کا تو دعویٰ کرتے ہیں مگر نماز سے بےفکر ہیں۔ (2) ویؤتون الزکوٰۃ اور جو زکوٰۃ دیا کرتے ہیں۔ زکوٰۃ شرع میں مال میں سے چالیسواں حصہ خدا کے نام دینا اور اس کے علاوہ ہر ایک قسم کی خیرات کو بھی زکوٰۃ کہتے ہیں مالی اور بدنی دونوں عبادتوں کو شامل کرلیا مگر سب کے ساتھ ایک بڑی قید بھی ہے وہ کیا ؟ وھم بالآخرۃ ھم یوقنون کہ وہ آخرت پر یقین بھی رکھتے ہوں۔ اس میں ایمان یعنی جملہ اعتقادیات کی طرف ایک اہم جز کے ذکر کرنے سے اشارہ کردیا کیونکہ مکہ کے لوگ برائے نام خدا تعالیٰ کے اور کچھ کچھ صفات باری تعالیٰ کے معتقد تھے مگر آخرت کے بالکل منکر تھے اور نہ صرف وہ بلکہ اس عہد میں استثناء بعض سب مذاہب آخرت کے منکر تھے اس لیے اس کی تصریح کی تاکہ قوت عملیہ اور نظریہ کی تکمیل ہوجائے اور اس کے بعد ان الذین لایؤمنون بالآخرۃ الخ میں آخرت کے منکروں کا بد نتیجہ بھی بیان فرما دیا کہ لہم سوء العذاب وھم فی الآخرۃ ھم الاخسرون کہ ان کو بہت ہی برا عذاب ہے اور آخرت میں وہی زیادہ نقصان اٹھائیں گے کیونکہ یہ جب اس کے منکر ہیں تو اس دن کے لیے کوئی توشہ کیوں جمع کرنے لگے ؟ یہی خسارہ ہے اور آخرت کے انکار کی وجہ بھی بیان کردی کہ زینالہم اعمالہم فہم یعمہون کہ وہ کام جو لذات و شہوات وفراہمی مال و زر اور دنیا کے استحکام کے لیے کرتے ہیں وہ ان کو بھلے معلوم ہوتے ہیں قضاء و قدر نے ان کی نظروں میں زیبا کردیے ہیں اس میں حیران و سرگردان ہیں ‘ آخرت اور مرنے کا تصور بھی برا جانتے ہیں۔ جو دنیا میں اس طرح غرق ہے گویا آخرت کا منکر ہے۔ یہاں تک قرآن کا مبین ہونا ثابت کر کے یعنی دعویٰ کی دلیل پیش فرما کر پھر اس دعویٰ کو بطور نتیجہ کے پیش کیا جاتا ہے۔ وانک لتلقی القرآن من لدن حکیم علیم یعنی اے نبی ! تم قرآن کو حکیم وعلیم کی طرف سے پار ہے ہو وہی حکیم وعلیم جس کی کوئی بات حکمت و علم سے خالی نہیں قرآن وہی وقتاً فوقتاً تم پر نازل کر رہا ہے اس لیے اس جملہ کو ان اور لام تاکید سے صادر کیا اور نیز یہ جملہ اگلے بیان کے لیے تمہید بھی ہے اس کی حکمت کا ثبوت احکام سے جن میں تکمیل قوت نظریہ و عملیہ (جس کو ہندی میں گیان و کرم کہتے ہیں (جس پر نجات ومکش کا مدار ہے جس میں کوئی بات نہیں چھوڑی بخوبی ثابت ہے اور علم کا ثبوت انبیاء (علیہم السلام) کے گزشتہ واقعات سے جو ابھی بیان ہوتے ہیں اچھی طرح ہوجائے گا۔ کس خوبی کے ساتھ توحید کے مسئلہ کو نبوت کے مسئلہ سے اور نبوت کے مسئلہ کو معاد کے مسئلہ سے اور پھر ان سب سے احکام کی پابندی نیک روی کو ثابت کیا ہے اور خلاف ورزی اور شہوات اور لذات کی پیروی کے قصص انبیاء سے کیا برے نتائج دکھائے ہیں یہ ہے وہ قرآن کا اعجاز جس کا معارضہ ناممکن ہے نہ صرف مقفّٰی و مسجع عبارت۔ اب قصص انبیاء (علیہم السلام) شروع ہوتے ہیں فقال۔
Ayah 27:6

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور البتہ آپ کو قرآن خدائے دانا اور حکیم کی طرف سے دیا جاتا ہے۔ 1 ؎

1 ؎ یعنی اے نبی ! اگر یہ قرآن حکیم وعلیم کا دیا ہوا نہ ہوتا تو احکام اور اگلے انبیاء کے صحیح صحیح احوال تمہیں کیونکر معلوم ہوتے نہ آپ کے پاس کوئی تاریخ کی کتاب ہے نہ آپ نے فلسفہ اور حکمت پڑھی ہے۔ 12 منہ
Ayahs 27:7–14

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

(یاوکرو) جبکہ موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے، ابھی میں تمہارے پاس وہاں کی خبر لاتا ہوں یا کوئی انگارا سلگا کر لاتا ہوں تاکہ تم تاپو۔

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو آواز آئی کہ جو آگ میں اور اس کے پاس ہے، وہ بابرکت ہے اور پاک ہے، اللہ جو تمام جہان کا رب ہے،

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

اے موسیٰ میں جو ہوں تو اللہ زبردست (اور) حکمت والا ہوں

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور اپنی لاٹھی ڈال دو پھر جب اس کو دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح چل رہی ہے تو موسیٰ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ (ہم نے کہا) اے موسیٰ ! ڈرو مت کیونکہ میرے حضور میں رسول ڈرا نہیں کرتے

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

لیکن جس نے ظلم کیا ہو پھر برائی کے بعد اس نے نیکی سے بدل دیا ہو تو میں غفور و رحیم ہوں

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو (پھر نکالو تو) وہ سفید نکلے گا، بےعیب یہ ایک نشانی ہے۔ منجملہ نو نشانیوں کے جو فرعون اور اس کی قوم کے پاس بھیجی جاتی ہیں، کیونکہ وہ ایک بدکار قوم ہے۔

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس آنکھیں کھول دینے والی نشانیاں آئیں تو کہنے لگے کہ یہ تو صاف جادو ہے

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور ان نشانیوں کا ظلم وتکبر سے انکار کردیا، حالانکہ دل میں مان چکے تھے پھر دیکھو مفسدوں کا کیا برا انجام ہوا۔

ترکیب : اذ کا عامل اذکر محذوف اور میم سے بھی متعلق ہوسکتا ہے نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ یا تو ضمیر ہے جو موسیٰ کی طرف راجع ہے یا ان بورک علی الاول ان بمعنی ای تفسیر کے لیے من مرفوع ہے، بورک سے انہ ضمیر شان انا مبتدا اللہ خبر تھتز حال ہے راھا مفعول سے کانھا حال ہی ضمیر تہتز ہے، الامن ظلم استثناء منقطع موضع نصب میں اور ممکن ہو کہ محل رفع میں ہو فاعل سے بدل ہو کر بیضا، من غیر سوء فی تسع تینوں حال ہیں، الی محذوف سے متعلق تقدیرہ مرسلاً الی فرعون، مبصرۃ حال ہے، مبصرۃً بھی پڑھا ہے تب یہ مفعول لہ ہے ظلمًا و علوًا حال ہیں ضمیر جحدوا سے مفعول بھی ہوسکتے ہیں۔ تفسیر : اذقال موسیٰ الخ یہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ ہے کہ جب وہ اپنے خسر حضرت شعیب (علیہ السلام) کے گھر میں سے دس برس کے بعد اپنی بیوی کو لے کر پھر مصر میں جارہے ہیں سردی کا موسم تھا رات کو رستہ میں دور سے آگ کی چمک نظر آئی، بیوی سے کہا تم ٹھہرو میں جاکر تمہارے تاپنے کے لیے آگ لاتا ہوں، ورنہ وہاں جو کوئی ہوگا اس سے رستہ کی خبر پوچھوں گا، کیونکہ رستہ بھی بھول گئے تھے پھر جب وہاں آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک سبز درخت آگ کا شعلہ ہورہا ہے، یعنی منور ہے۔ وہ تجلیِ حق کی روشنی تھی جس کو حکیمانہ خیال کے لوگ گی اس کہتے ہیں کہ وہ ایک ماوہ ہے جو رات کو چمکتا ہوا نظر آیا کرتا ہے، وہ گھاس میں بھی ہوتا ہے، جانوروں میں بھی ہوتا ہے، کرم شب تاج جس کو جگنو یا پٹ بیچنا کہتے ہیں، اسی مادہ سے چمکتا ہے، سمندر میں بھی رات کو آگ کی چنگاریاں نظر آیا کرتی ہیں، یہ کیا ضرور ہے کہ ہر جگہ وہی مادہ مان لیا جایا کرے، بغیر اس کے تجلیِ حق کی روشنی کیا محال بات ہے ؟ الغرض اس کو دیکھ کر حیرت میں رہ گئے، تب وہاں سے آواز آئی کہ حیرت نہ کر کہ اس آگ میں جو ہیں یعنی فرشتے اور جو اس کے اردگرد ہیں (وہ بھی فرشتے) بابرکت الٰہی کا یہ نور ہے اور اس کو ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا سبحان اللہ رب العالمین کہ اللہ جو رب العالمین ہے جس کے تربیت یافتوں میں سے یہ نورانی ملائکہ بھی ہیں، وہ آگ میں نظر آنے سے پاک ہے، یعنی اس آگ یا روشنی کو اور اس کے آس پاس والوں کو اللہ نہ سمجھ لینا بلکہ یہ مقام اللہ کی تجلی گاہ ہے اور یہ ملائک اس کے جلو میں ہیں، خدا نہیں۔ یا موسیٰ انہ انا اللہ خدا جو ہوں تو میں زبردست حکمت والا ہوں۔ پھر موسیٰ سے خدا تعالیٰ کا کلام شروع ہوا، یہ آواز کچھ معمولی آواز نہ تھی جس کے لیے حروف اور جہت تجویز کرنی پڑے بلکہ ایک روحانی ندا تھی جس کی حقیقت ہم نہیں جان سکتے اور وہی اس کی ذات پاک کے لائق ہے۔ واللہ اعلم پھر خدا نے فرمایا، اپنا عصا زمین پر ڈال دو ۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے ڈال دیا تو وہ سانپ بن کر لہرانے لگا، موسیٰ ( علیہ السلام) ڈر کر بھاگے فرمایا ڈرو مت میرے حضور میں انبیاء ڈرا نہیں کرتے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دل میں ان کے ہاتھ سے قبطی کے مارے جانے سے گناہ کا کھٹکا بھی تھا، اس کی صفائی کے لیے یہ بھی اطمینان دلایا کہ الامن ظلم الخ لیکن جو کوئی گناہ کے بعد نیکو کاری کرتا ہے میں اس کے لیے غفور و رحیم بھی ہوں، یہ ایک معجزہ دیا دوسرے کے لیے فرمایا، وادخل یدک کہ اپنی بغل میں ہاتھ دباکر باہر نکالو وہ بغیر اس کے کہ اس میں کوئی برص کی سفیدی پیدا ہو، چمکتا ہوا نکلے گا، چناچہ ایسا ہی ہوا، پھر فرمایا کہ منجملہ نو نشانیوں یعنی معجزات کے یہ دو نشانیاں ہیں، ان کو لے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف جاؤ وہ بدکردار لوگ ہیں، حسب الحکم حضرت موسیٰ ان کے پاس گئے ‘ معجزات دکھائے ‘ وہ دل میں تو قائل ہوگئے مگر اپنی سرکشی اور غرور سے انکار کیا۔ پھر دیکھو ان کا کیا انجام ہوا غرق ہوئے قصہ کو یہاں مختصر کردیا، یہاں اسی قدر کافی تھا۔
Ayahs 27:15–19

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے دائود اور سلیمان کو علم دیا تھا اور ان دونوں نے (خوش ہوکر) کہا سب تعریف، اس اللہ ہی کو ہے کہ جس نے ہم کو اپنے بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطاء کی

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور سلیمان دائود کے وارث ہوئے اور کہنے لگے کہ لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولی بھی سکھائی گئی اور ہم کو ہر ایک قسم کے سازوسامان عطاء کئے گئے ہیں۔ بیشک یہ اس کا صریح فضل ہے

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور سلیمان کے لیے اس کا شکر (ملاحظہ کے لیے) جمع کیا گیا جن اور آدمیوں اور پرندوں کے لشکر صف بستہ (بالترتیب) کھڑے کئے جاتے تھے۔

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ لشکر چیونٹیوں کے جنگل میں آئے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ اے چیونٹیو ! اپنے بلوں میں گھس جائو، ایسا نہ ہو کہ تم کو سلیمان اور اس کا لشکر روند ڈالے اور ان کو خبر بھی نہ ہو،

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

پھر سلیمان چیونٹی کی بات سے مسکراکر ہنس پڑے اور کہنے لگے کہ اے رب ! مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر کیا کروں کہ جو تو نے مجھے اور میرے باپ کو عطا کی تھیں اور ایسا اچھا کام کروں کہ جس کو تو پسند کرے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے نیک بندوں میں داخل کر دے

ترکیب : غیر بعید ای مکانا غیر بعید رو وقت خیر بعید او مکشا الا یسجد والا لیست زائدۃ وموضعالکلام نصب بدلامن اعمالھم والتحقیق وفل حرف التنبیہ علی الفعل من غیر تقدیر حذف۔ الخباء مصدر بمعنی المخبور من المفرو النبات انہ من سلیمان بالکسر علی الاستیناف وابلفتح بدلا من کتاب ومرفوع بکریم الی تعلوا موضعہ رفع بدلا من کباب۔ ترکیب : ضاحکا حال موکدۃ وقیل مقدرۃ لان التبسم مبداء الضحک ویقرء ضحکا علی انہ مصدر و العامل فیہ تبسم لانہ بمعنی ضحک حشر کا مفعول مالم یسم فاعلہ جنودہ۔ تفسیر … سلیمان ( علیہ السلام) کا قصہ : یہ دوسرا قصہ حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا ہے جو اس تفصیل سے یہود و نصاریٰ کو بھی معلوم نہ تھا، اسی حکیم وعلیم نے حضرت ﷺ کو بتلایا ہے، فرماتا ہے ہم نے دائود اور سلیمان ( علیہ السلام) کو علم دیا، ان کا علم اور دانش مشہور اور ضرب المثل ہے جس کے شکریہ میں وہ الحمد للہ الذی فضلنا علی کثیر من عبادہ المومنین کہتے تھے۔ یہ مجمل تھا، پھر اس علم کی آگے تفصیل فرماتا ہے، بقولہ ورث سلیمان داؤد اس وراثت میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، کوئی علم و دانش و نبوت کی وراثت کہتا ہے۔ یہ چیزیں ورثہ میں نہیں آتیں، مبدائِ غیب سے عطا ہوا کرتی ہیں۔ پھر سلیمان ( علیہ السلام) کے وارث ہونے کے یہ معنی کہ جو کمالات ان کے باپ کو عطا ہوئے تھے وہی اس فرزند رشید کو بھی یعنی سلیمان کے کمالات نئے نہیں کہ انہی کو عطا ہوئے ہوں بلکہ خاندانی ہیں، خاندانی اہل کمال کی نسبت ان کے کمالات کا اپنے بزرگوں سے ورثہ پانا محاورہ میں آتا ہے اور بھی قول جمہور پسند ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ملک و سلطنت کا ورثہ ہے۔ وفیہ مافیہ وقال ای سلیمان یہ اس علم اور ورثہ کی تفصیل شروع ہوتی ہے کہ سلیمان ( علیہ السلام) نے کہا کہ ہم کو جانوروں کی بولی بھی خدا تعالیٰ نے سکھائی اور ہم کو ہر نعمت عطا کی ہے پھر ہر ایک نعمت کے مجموعہ میں سے بعض بعض خاص نعمتوں کا خدا تعالیٰ ذکر کرتا ہے۔ (1) وحشر سلیمان الخ کہ سلیمان کے پاس تین قسم کا لشکر جمع تھا جنوں کا ‘ آدمیوں کا ‘ پرندوں کا جو تخت سلیمان کے اوپر سایہ کرتے تھے، یہ کبوتر وغیرہ ہوں گے جو خطوط اور فرامین پہنچانے کا کام دیتے ہوں گے، جیسا کہ آگے ہد ہد کا ذکر آتا ہے کہ وہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا خط لے کر بلقیس شاہزادی کے پاس گیا تھا۔ (2) حتیٰ اذا الخ ایک بار سلیمان ( علیہ السلام) کا لشکر کسی ایسے مقام پر سے گزرا کہ جہاں چیونٹیوں کے بل تھے اور وہ زمین پر چل رہی تھیں، ان میں سے ایک چیونٹی نے کہا کہ اپنے بلوں میں گھس جائو، کہیں بیخبر ی میں ان کے پائوں کی روندن میں نہ آجائو۔ یہ بات حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو معلوم ہوگئی، کیونکہ خدا نے ان کو بہت سے علوم عطاء کئے تھے، اس پر آپ ہنسے اس لیے کہ چیونٹی سلیمان ( علیہ السلام) کو بیخبر ی کا الزام لگاتی ہے، دوم اس لیے کہ اس کو یہ معلوم نہیں کہ حضرت ( علیہ السلام) کو کیا کیا علم دیے گئے ہیں۔ سوم خدا تعالیٰ کی عنایت اور رحمت پر خیال کرکے کہ اس نے مجھے ایسا بلند مرتبہ کیا، اس لیے اس کے بعد سلیمان ( علیہ السلام) نے خدا سے دعا کی کہ مجھے شکر گزاری کی توفیق دے اور اس جاہ و حشم پر مغرور و متکبر نہ کرنا بلکہ اس بلند اقبالی پر اچھے کام کیا کروں اور جماعت صالحین سے باہر نہ ہوں، یہ قصہ گو بائبل میں نہیں مگر اس کی تصدیق کرنے والی باتیں اول کتاب السلاطین کے چوتھے باب میں بہت کچھ ہیں جن میں سے بعض جملے یہ ہیں۔ 29۔ اور خدا نے سلیمان ( علیہ السلام) کو دانش اور خرد نہایت دی تھی اور دل کی وسعت بھی عنایت کی، ایسی جیسے سمندر کے کنارے کی ریت اور سلیمان کی دانش اہل مشرق اور اہل مصر کی دانش سے کہیں زیادہ تھی اور اس نے درختوں کی کیفیت بیان کی، سرو کے درخت سے لے کر جو لبنان میں تھا اس زوفہ تک جو دیواروں پر اگتا ہے اور چارپایوں اور پرندوں اور رنگنے 1 ؎ والوں اور مچھلیوں کا حال بیان کیا۔ 1 ؎ جیسا کہ چیونٹی وغیرہ جو زمین پر چلتے ہیں۔ 12 منہ منطق الطیر کے معنی : منطق الطیر بیضاوی کہتے ہیں نطق کے معنی عرف میں ان الفاظ کا استعمال کرنا جو دل کی بات کو ظاہر کردیں، خواہ وہ مفرد ہوں، خواہ مرکب اور نطق کا مجازاً اطلاق کبھی اس حالت پر بھی ہوتا ہے کہ جس سے کوئی بات ظاہر کی جاوے حیوانات کا نطق اسی طرح کا ہے کہ ان کی آوازیں ان کے تخیلات کے تابع ہیں جو بمنزلہ عبارات کے ہوتی ہیں اور شاید سلیمان (علیہ السلام) قوت قدسیہ سے ہر حیوان کا وہ خیال دریافت کرلیتے تھے کہ جس خیال سے اس نے وہ آواز نکالی ہے، انتہٰی ملخصًا۔ اب حکیمانہ خیال کو بھی کوئی توجیہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ بات ان کے نزدیک ناممکن نہیں ہے۔ اسی طرح حضرت کو چیونٹی کا خیال معلوم ہوگیا ہوگا جو وہ اپنی جماعت کے آگے ظاہر کررہی تھی۔ خدا نے حیوانات کو بھی علم اور ادراک دیا ہے، ان کے باہم ہمکلامی اور اطلاع دینے کے ذریعے پیدا کئے ہیں، یہ اور بات ہے کہ ہم نہیں جانتے اس تقدیر پر کیا ضرورت ہے کہ نملہ کسی قبیلہ کا نام رکھا جائے اور جن سے قوم عمالیق مراد لی جائے۔ ایسی توجیہیں دور ازکار ہیں
Ayahs 27:20–28

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

اور سلیمان نے پرندوں کی حاضری لی تو کہا کہ کیا بات ہے جو میں ہدہد کو نہیں دیکھتا ہوں، کیا وہ غیر حاضر ہے ؟

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

(اگر ایسا ہے تو) میں اس کو سخت سزا دوں گا یا اس کو ذبح کر ڈالوں گا یا وہ میرے پاس کوئی صاف وجہ (غیر حاضری کی) بیان کرے

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

پھر تھوڑی دیر کے بعد ہدہد حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ حضور کے پاس وہ خبر لایا ہوں جو حضور کو معلوم نہیں اور سبا سے آپ کے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

(یعنی) ایک عورت کو دیکھا کہ ان پر حکمرانی کررہی ہے اور اس کو ہر قسم سے سازوسامان بھی دیے گئے ہیں اور اس کے پاس ایک بڑا تخت بھی ہے۔

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

میں نے اس کو اور اس کی قوم کو اللہ کے سوا آفتاب کو سجدہ کرتے ہوئے پایا اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے آراستہ کر دکھایا ہے اور ان کو راہ راست سے روک دیا ہے۔ پھر ان کو یہ بھی نہیں سوجھتا

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

کہ اللہ ہی کو کیوں نہ سجدہ کریں کہ جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو آشکارا کیا کرتا ہے اور جو کچھ تم مخفی رکھتے ہو اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو سب کو جانتا ہے،

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

اس اللہ کو کہ جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ بڑے تخت کا مالک ہے۔

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

سلیمان نے کہا ہم ابھی دیکھتے ہیں تو سچ کہتا ہے یا تو جھوٹا ہے۔

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

(جا) میرے اس خط کو لے جاکر ان پر ڈال دے، پھر ان سے الگ ہٹ جا پھر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں

و تفقد الطیر کہ پرندوں کی حاضری لی تو ان میں ہدہد کو نہ پایا، فرمایا کہ اس کو سزا دوں گا ورنہ کوئی عذر معقول بیان کرے، تھوڑی دیر کے بعد ہدہد بھی آحاضر ہوا اور اس نے سبا 1 ؎ کی شہزادی بلقیس کا حال بیان کیا کہ اس کے پاس سب سازوسامان سلطنت حاصل ہیں اور ایک بڑا عمدہ تخت بھی ہے کہ جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ مگر با ایں ہمہ آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ لوگ آفتاب پرست تھے یا تو صابی ہوں گے یا کوئی اور مذہب مروج ہوگا جو شیطانی مذہب تھا اور اللہ کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے، آسمان کی چھپی ہوئی ستارے آفتاب ماہتاب چھپ جاتے ہیں، پھر ان کو اللہ ہی ظاہر کرتا ہے، پھر ان کو کیا سجدہ کرنا چاہیے اور زمین کی چھپی ہوئی چیزیں طرح طرح کی جڑی بوٹیاں اور اناج وغیرہ۔ اس میں ہد ہد نے اپنی خواہش بھی ظاہر کردی اور وہ اللہ جو دل کی مخفی اور ظاہر باتوں کو جانتا ہے، وہ اللہ جو بڑے تخت کا مالک ہے، یعنی اس کے تخت کے آگے ان کے تخت کی کیا حقیقت ہے ؟ یہاں تک ہدہد کی گفتگو تھی جو تمام ہوئی، اب سلیمان (علیہ السلام) اس کے جواب میں فرماتے ہیں، سسنظر اصدقت الخ کہ ہم دیکھتے ہیں تو جھوٹا ہے کہ سچا ہے ؟ جا تو میرا یہ نامہ لے جا اور جاکر اوپر سے ڈال دینا، پھر چھپ کر دیکھنا کہ وہ آپس میں کیا کہتے ہیں۔ قصہ بلقیس : سلیمان (علیہ السلام) نے نامہ لکھا جس کا یہ عنوان تھا۔ بسم اللہ الرحمن الا تعلوا علی و اْتونی مسلمین۔ اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے۔ اس کے بعد واضح ہو کہ تم میرے پاس مطیع ہو کر حاضر ہوجاؤ اور تکبر نہ کرو اب یہ کچھ ضرور نہیں کہ سلیمان ( علیہ السلام) نے بعینہٖ یہی لکھا ہو بلکہ ممکن ہے کچھ اور ہو جس کا خلاصہ خدا تعالیٰ نے یہ بیان کردیا، لیکن سرنامہ پر بسم اللہ لکھی تھی، یہ نامہ عبرانی زبان میں تھا۔ ہدہد نامہ لے کر گیا اور ان پر جاکر ڈال دیا، یعنی بلقیس کے تخت پر اس نے پڑھا اور اپنے ارکان دولت سے ذکر کیا کہ تمہاری کیا رائے ہے ؟ سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس جائوں یا نہ جائوں۔ سبا 1 ؎ یشجب کا بیٹا اور وہ یعرب کا اور وہ قحطان کا جو تمام قبائلِ یمن کا باپ تھا، پھر سبا کی بہت سی اولاد تھی، پھر اسی کے نام سے یمن میں ایک شہر سبا بسا جو صنعا سے تین دن کے فاصلہ پر ہے، سباء سے مراد اگر قبیلہ ہے تو غیر منصرف ہے، ورنہ منصرف (ک) بلقیس الہدہاد کی بیٹی وہ شرجیل کا بیٹا وہ ذوی الاذغار کا وہ افریقن کا وہ ذوی المنار کا جس کو ابرہہ بھی کہتے تھے، وہ صعب کا جس کو ذوالقرنین کہتے تھے وہ حارث الرائش کا جس کو تبع اول کہتے تھے۔ کئی پشت آگے چل کر اس کا نسب نامہ حمیر سے ملتا ہے جو سباء مذکور کا بیٹا تھا، اسی سباء نے مآ رب کی زمین پر ایک پختہ بند بندھواکر تالاب کے طور پر پانی جمع کیا تھا، جس سے چھوٹی چھوٹی نہروں کے ذریعہ سے ملک میں بڑی سرسبزی تھی۔ آخر لوگوں کی ناشکری سے وہ بند ٹوٹا اور ملک برباد ہوا، جیسا کہ سورة سباء میں مذکور ہے۔ شداد بن عاد بن الماطاط بن سباء بھی سباء کی نسل میں سے تھا۔ بلقیس ان ہی کے تخت پر بیٹھی تھی، اس قوم کی بڑی شان و شوکت کی سلطنت ہوچکی ہے، ان کے آثار اب تک ملک یمن میں پائے جاتے ہیں۔ ازتاریخ ابو الفداء ناقلاً عن ابی سعید المغربی۔ 12 منہ
Ayahs 27:29–40

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

(اس کو پڑھ کر) بلقیس نے کہا کہ اے دربار والو یہ میری طرف ایک فرمان محترم ڈالا گیا ہے

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

اور وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

میرے سامنے تکبر نہ کرو اور میرے پاس مطیع ہو کر چلی آئو۔

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

بلقیس کہنے لگی کہ اے سردارو میرے معاملہ میں رائے دو میں کوئی بات تمہارے حاضر ہوئے بغیر طے نہیں کرتی،

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم لوگ زور آور اور بڑے سخت لڑنے والے ہیں اور آگے سرکار کو اختیار ہے۔ جو کچھ حکم دیں اس کو غور کرلیں۔

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

بلقیس نے کہا جب کسی شہر میں بادشاہ (بزور) داخل ہوا کرتے ہیں تو اس کو اجاڑ کردیتے ہیں اور وہاں کے عزت داروں کو ذلیل کر ڈالتے ہیں اور وہ یوں ہی کیا بھی کرتے ہیں

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور میں (اول) ان کے پاس کوئی تحفہ بھیجتی ہوں، پھر دیکھتی ہوں کہ ایلچی کیا جواب لے کر آتے ہیں۔

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

پس جب ایلچی سلیمان کے پاس پہنچا تو سلیمان نے کہا کہ کیا تم میری مدد مال سے کرنا چاہتے ہو۔ سو جو کچھ مجھ کو اللہ نے دے رکھا ہے بلکہ ان سے بہت بہتر ہے جو تم کو دے رکھا ہے، بلکہ تم ہی کچھ اپنے تحفہ سے خوش ہوتے ہوگے،

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

ان کی طرف واپس جائو، ہم ان پر ایک ایسا لشکر بھیجتے ہیں کہ جس کا وہ مقابلہ نہ کرسکیں گے اور ہم ان کو وہاں سے ذلیل و خوار کرکے نکال دیں گے۔

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

سلیمان نے کہا۔ اے سردارو تم میں ایسا کوئی ہے کہ اس کے حاضر ہونے سے پہلے میرے پاس اس کا تخت لاحاضر کرے۔

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

ایک زور آور جن بول اٹھا کہ آپ کے دربار سے اٹھنے سے پہلے ہی میں اس کو لاحاضر کرتا ہوں اور میں اس پر قوی بھی ہوں (اور) امانت دار بھی۔

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

اور اس شخص نے کہ جس کے پاس کتاب کا علم تھا (یہ) عرض کیا کہ میں اس کو حضور کی آنکھ جھپکنے سے پہلے لاحاضر کرتا ہوں۔ پھر جب اس تخت کو سلیمان نے اپنے پاس دھرا پایا تو کہنے لگے کہ (یہ) میرے رب کی عنایت سے ہے تاکہ مجھے آزماوے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو اپنے بھلے کو اور جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بھی بےپروا ‘ عزت والا ہے۔

انہوں نے کہا ہم بڑے قوی اور بڑے لڑنے والے لوگ ہیں، سلیمان ( علیہ السلام) سے کچھ خوف نہیں مگر تاہم جو آپ کی رائے ہو وہی ٹھیک بلقیس بڑی عقلمند عورت تھی، اس نے سوچا کہ لڑائی کا انجام برا ہے۔ اگر غالب آگیا تو آکر الٹ پلٹ دے گا، عزت داروں کو ذلیل کردے گا اور بادشاہوں کا یہی دستور ہے، صلح کرلینی بہتر ہے۔ اول مرتبہ اس کے پاس جانا تو مصلحت نہیں تحفہ تحائف دے کر ایلچیوں کو بھیجنا چاہئے، اس سے سلیمان ( علیہ السلام) کی پوری کیفیت معلوم ہوجاوے گی۔ یہ بات سب کو پسند آئی، بڑے بڑے بیش قیمت ہدیے دے کر ایلچیوں کو بھیجا تاکہ سلیمان اس مال کو دیکھ کر نرم ہوجاویں مگر سلیمان (علیہ السلام) کا مقصد اس بت پرست بادشاہزادی کو اسلام میں لانا اور برائی سے بچانا تھا، اس لیے ان تحفوں کو کچھ بھی خاطر میں نہ لاکر یہ فرمایا کہ اللہ کا دیا میرے پاس بہت کچھ ہے، ایسے ہدیوں سے تمہیں خوش ہو۔ جاؤ جاکر کہہ دو کہ حاضر ہوں ورنہ میں ایسا بھاری لشکر بھیجتا ہوں کہ جس کا کوئی مقابلہ نہ کرسکے گا اور میں ان کو وہاں سے ذلیل و خوار کرکے نکال دوں گا۔ ایلچی تو ادھر روانہ ہوئے، ادھر حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے اپنے درباریوں سے کہا کوئی ہے کہ اس کے آنے سے پیشتر میرے پاس اس کا تخت اٹھا لاوے ؟ ایک بڑے قوی جن نے کہا میں اس کو حضور کے پاس آپ کے دربار کے رخصت ہونے سے پہلے لے آتا ہوں، میں قوی بھی ہوں امانت دار بھی ہوں اس میں کچھ خیانت نہ کروں گا، مگر اس شخص نے کہ جس کو کتاب الٰہی کا علم تھا، اسم اعظم جانتا تھا، یہ کہا کہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آتا ہوں، چناچہ اس نے لاکر سلیمان ( علیہ السلام) کے سامنے اس کو کھڑا کردیا۔ سلیمان نے اس پر خدا کی عنایت کا بڑا شکر ادا کیا۔ ومن شکر فانما الخ بھی کہہ دیا کہ جو کوئی خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتا ہے تو اپنے لیے یعنی اللہ کو اس کا کچھ فائدہ نہیں پہنچتا بلکہ بندے کو کہ وہ اور بھی نعمتیں اس کو عطا کرتا ہے اور جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو اللہ کو کچھ بھی پروا نہیں۔ (یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کو دولت و حکومت کا کچھ بھی نشہ نہیں چڑھتا)