26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 26:1–3

تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ Open ayah 26:2 in the Quran reader

یہ آیتیں روشن کتاب کی۔

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:3 in the Quran reader

نبی شاید (اے نبی ! ) آپ اپنی جان کو گھونٹ کر مار دیں گے اس پر کہ وہ کیوں ایمان نہیں لاتے

ترکیب : ان لایکون مفعول لہ اے لئلا خاضعین و القیاس خاضعات انما جاء جمع المذکر لان المراد اصحاب الاعناق ولیس المراد الرقاب کم انبتنافی موضع نصب بانبتنا من ذکر ای قرآن من الرحمن صفۃ ذکر محدث صفۃ اخری۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں اسی وقت نازل ہوئی ہے جبکہ کافروں کا حضرت ﷺ پر اور مسلمانوں پر ہر طرف سے سخت ہجوم تھا اور اسلام کی روح افزا باتیں ان کو عجیب و غریب معلوم ہوتی تھیں۔ حضرت ﷺ کی نبوت پر وہ طرح طرح سے لغو شبہات وارد کیا کرتے تھے اور جب جواب سے عاجز آجاتے تھے تو اپنی خواہش کے موافق ہر شخص ایک عجیب و غریب معجزے کا طالب ہوتا تھا۔ کوئی کہتا تھا اس پہاڑ کو یہاں سے ہٹا دو تو جانوں ‘ کوئی کہتا تھا کہ اس خشک اور پہاڑی جگہ میں نہر جاری کر دو تو مانوں ‘ علی ہذا القیاس حضرت ﷺ کے دل میں قوم کی خراب حالت کی اصلاح کا جوش تھا دردمندی حد سے بڑھی ہوئی تھی ان کے نہ ماننے اور کج بحثیاں کرنے سے نہایت رنج ہوتا تھا اس سورة میں آپ کو تسلی دی گئی کہ اگر یہ ایمان نہ لائیں گے تو کیا آپ غم میں گھٹ کر اپنے آپ کو ہلاک کردیں گے۔ اور پھر اس کے بعد چند انبیائِ اولوالعزم اور ان کی سرکش امتوں کا تذکرہ کرکے یہ بتلا دیا کہ پہلے لوگ بھی اپنے انبیاء کے ساتھ ایسا ہی کرتے آئے ہیں اور چونکہ عرب میں شاعری کا بڑا زور شور تھا اور عاجز ہو کر قرآن کو شعر کہہ دیا کرتے تھے اس لیے اخیر سورة میں شعراء کی حقیقت بھی بیان کردی کہ وہ واہی تباہی باتیں اشعار میں جمع کیا کرتے ہیں ہر وادی سخن میں حیران و پریشان پھرا کرتے ہیں برخلاف قرآن مجید کے کہ جس میں سراسر راستی اور مکارم اخلاق اور توحید وغیرہ کے مضامین عالیہ ہیں۔ اس مناسبت سے اس سورة کا نام سورة شعراء ہوا اور نیز ان کو روحانی بلاغت کا اس میں ایک جداگانہ لطف دکھا کر ان پر کوڑا سا مار دیا۔ سورة فرقان کے اخیر میں یہ جملہ تھا کہ تم جھٹلا چکے اب دیکھو کیسی سزا ملتی ہے چند ان کی تکذیب کے مقابلہ میں بہت سے مواقع پر شہادتیں پیش کی گئیں تھیں کہ ان میں غور کرنے کے بعد عاقل کو تکذیب کی گنجائش نہیں رہتی مگر اس کے بعد دلائلِ اثبات نبوت بیان کرنا اور ساتھ ہی گزشتہ انبیاء اور ان کی نافرمان اور سرکش قوموں کے واقعات بیان کرنا اتمام حجت اور اپنے محبوب رسول کے دل کی تشفی اور دفع ملال مقصود تھا جو آپ کو اس بدنصیب قوم کی بےنصیبی اور آنے والی مصیبت سے تھا۔ اس لیے سورة فرقان کے بعد اس سورة کا آنا مناسب ہوا۔ طسم الم کی تفسیر میں حروف مقطعات کی بابت ہم بہت کچھ کہہ آئے ہیں۔ یہاں ط سے مراد طرب اور س سے سرور دائمی اور میم سے محمد ﷺ ہیں یعنی محمد ﷺ کو طرب و سرور ابدی مبارک ہو یہ غم چند روزہ ہے۔ واللہ اعلم تلک ایات الکتاب المبین یہ آیتیں جو اے لوگو ! تم کو سنائی جاتی ہیں روشن اور کھلی ہوئی کتاب یعنی قرآن کی ہیں جن میں عقل سلیم کو کچھ بھی تردد نہیں ہاں جو کورازلی اور بدنصیب اصلی ہیں ان کو ان پر طرح طرح کے شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ یہ مضمون الہامی ان کے دل میں نہیں اترتا اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے پھر جب وہ ایسے کو رباطن ہیں تو اے نبی ! آپ کو ان کے ایمان نہ لانے سے کچھ رنج نہ کرنا چاہیے۔ پھر آپ کیوں جی میں گھٹتے ہیں۔ لعلک باخع نفسک الخ اب رہا ان کا یہ عذر کہ ہمارے سوال کے مطابق حضرت کیوں کوئی نشانی نہیں دکھاتے سو یہ بھی غلط ہے ان کو اس سے بھی کوئی فائدہ نہ ہوگا ورنہ ہم قادر ہیں ان نشاء ننزل علیہم من السماء و آیتہ الخ کہ آسمان سے ان پر کوئی ایسی نشانی اتاریں جس کے آگے ان کی گردنیں جھک جاویں مگر ان کا تو یہ حال ہے کہ ومایاتہم من ذکر من الرحمن الخ کہ جب کوئی نئی بات نصیحت کی ان کے پاس خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے تو اس سے انکار ہی کرتے ہیں فقد کذبوا الخ یہ جھٹلا چکے نہ مانے ہیں نہ مانیں گے۔ اب عنقریب اس کی حقیقت ان کو معلوم ہوجائے گی۔ اور نشانی دیکھتے ہیں تو ہر وقت دیکھ سکتے ہیں۔ زمین کی جڑی بوٹیوں کو دیکھیں کہ کس صناع نے کس حکمت سے پیدا کیں ہیں ؟ اس جڑی بوٹیوں کے اگانے میں چند نمونہ قدرت ہیں اول یہ کہ جس طرح ہر سال جڑی بوٹیاں برسات میں پیدا ہوجاتی ہیں اور موسم خزاں میں ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا۔ دوسرے سال پھر وہی اسی طرح سے برآمد ہوتی ہیں اس میں حشر اور قیامت اور انسانی بقاء کا پورا نمونہ ہے۔ دوم جب عالم حسی میں اس کا ایک بار نہیں بلکہ باربار یہ فضل ہے کہ وہ آسمانی پانی سے حیوانات بالخصوص انسان کے لیے کیا کیا مفید چیزیں پیدا کرتا ہے تو پھر وہ رحیم و کریم اس کی دوسری حیات کے لیے ابر رحمت یعنی نبوت کے فیض سے کیوں محروم کرتا مگر اکثر جاہل ان باتوں پر ایمان نہیں لانے والے۔
Ayahs 26:4–10

اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِیْنَ Open ayah 26:4 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان پر ایک ایسی نشانی نازل کردیں کہ اس کے آگے ان کی گردنیں جھک پڑیں

وَ مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِیْنَ Open ayah 26:5 in the Quran reader

اور ان کے پاس رحمان کی طرف سے کوئی نئی بات نصیحت کی ایسی نہیں آئی کہ وہ اس سے منہ نہ موڑ لیتے ہوں۔

فَقَدْ كَذَّبُوْا فَسَیَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 26:6 in the Quran reader

سو یہ تو جھٹلا چکے اب ان کو اس حقیقت معلوم ہوئے جائے گی کہ جس سے وہ ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلَى الْاَرْضِ كَمْ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ Open ayah 26:7 in the Quran reader

بھلا کیا انہوں نے زمین کو نہیں دیکھا کہ اس میں کس قدر ہم نے قسم قسم کی عمدہ چیزیں اگائی ہیں

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:8 in the Quran reader

البتہ اس میں ایک بڑی نشانی ہے اور ان میں سے بہت تو مانتے ہی نہیں۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:9 in the Quran reader

اور البتہ آپ کا رب زبردست (اور) رحم کرنے والا ہے (جو ان کے کفر پر جلد سزا نہیں دیتا) ۔

وَ اِذْ نَادٰى رَبُّكَ مُوْسٰۤى اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 26:10 in the Quran reader

اور جبکہ آپ کے رب نے موسیٰ کو پکارا کہ تم ظالم قوم کے پاس جائو۔

واذا نادی ربک موسیٰ الخ اب یہاں سے انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرہ عبرت انگیز شروع ہوتے ہیں (1) یہ قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے جس میں ان کا فرعون کے پاس جانا اور خدا کا پیغام پہنچانا اور طرح طرح کے معجزات دکھانا اور اس کا نہ ماننا اور انجام کار دریائِ قلزم میں مع لشکر غرق ہونا مذکور ہے۔ ولانیطق لسانی فرعون کے گھر جب موسیٰ ( علیہ السلام) تھے اور ان کے فرزندوں کی طرح پرورش پاتے تھے ایک بار فرعون کی ڈاڑھی پکڑ لی۔ جس پر خفا ہو کر اس نے قتل کا حکم دیا اس کی بیوی نے سفارش کی کہ نادان بچہ ہے اس کے نزدیک آگ اور جواہرات برابر ہیں دونوں لا کر سامنے رکھے گئے تو آگ مونہہ میں ڈال لی تھی جب سے لکنت زبان پر تھی۔ بعض کہتے ہیں یوں ہی قدرتی طور پر لکنت تھی۔ بعض کہتے ہیں اس جملہ سے لکنت ثابت کرنا بےفائدہ ہے کس لیے کہ مراد یہ ہے کہ میں گویا نہیں ہوں مزاج میں غصہ زیادہ تھا عذر کردیا کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے میرا سینہ تنگ ہوگا زبان نہ چلے گی۔ ولہم علی ذنب یہ گناہ قبطی کو مکا مار کر مار ڈالنا ہے۔ الم نربک فینا کیا تو ہم میں لڑکپن سے ایک عمر تک نہیں پلا رہا۔ وفعلت فعلتک اور تو نے وہ کام کیا جو کیا یعنی قبطی کو جو ہماری قوم کا تھا مار ڈالا۔ یہ فرعون نے بطور طعن کے کہا تھا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے اقرار کرلیا کہ بیشک ایسا کام نادانستگی سے سرزد ہوگیا وانا من الضالین کے یہی معنی کہ مجھے طریقہ فہمایش اس وقت نہ معلوم تھا نہ یہ کہ میں دراصل گمراہ بت پرست تھا موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرعون سے کہا تھا انا رسول رب العالمین کہ ہم دونوں بھائی رب العالمین کے رسول ہیں مصر کے لوگ اور فرعون بھی بت پرست تھے ستاروں اور دیگر علویات کے بت بنا کر پوجا کرتے تھے اور نیز وہ بادشاہ ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو رب یعنی لوگوں کا پرورش کرنے والا سمجھتا تھا جیسا کہ ہندوراجہ کو ان داتا یعنی رزق دہندہ کہا کرتے ہیں۔ اس لفظ سے چونکا جیسا کہ مشرکین کہ رحمان کے لفظ سے چونکے تھے۔ اس لیے پوچھا ما رب العالمین کہ کیا ہے رب العالمین ؟ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر جو کچھ ہے سب کا رب فرعون نے تعجب سے درباریوں سے کہا سنتے ہو یہ کیا کہتا ہے یعنی ایک شخص ایسا ہوسکتا ہے کہ ان سب چیزوں کا رب ہو وہ اللہ تعالیٰ کا منکر تھا موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا بلکہ تمہارے اگلے باپ دادا کا بھی رب۔ اس پر اس کو تاب نہ رہی کہہ دیا یہ دیوانہ ہے۔ اس پر موسیٰ ( علیہ السلام) نے اور ترقی کی کہ مشرق اور مغرب کے لوگوں کا رب تمہارے باپ دادا کی کیا خصوصیت ہے اگر تمہیں عقل ہے سمجھو یعنی میں دیوانہ نہیں ہوں ‘ تم احمق ہو۔ اس پر فرعون نے کہہ دیا کہ اگر تو نے میرے سوا کسی اور کو رب بنایاتو مقرر تجھے قید خانہ میں ڈال دوں گا۔ فرعون کا قید خانہ بھی معاذاللہ براقیدخانہ تھا کسی کنوئیں میں قیدیوں کو ڈال دیا کرتے تھے اوپر سے منہ بند کردیتے تھے جیسا کہ ہندو راجائوں کے عہد میں دستور تھا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اگر میں تجھے کوئی نشانی اپنی صداقت کی دکھائوں تب بھی تو مجھے قید میں ڈالے گا۔ اس نے کہا وہ نشانی دکھا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے ہاتھ کو بغل میں سے نکالا تو آفتاب کی طرح چمکتا ہوا نکلا۔ یدِبیضا پھر عصا یعنی اپنے ہاتھ کی لکڑی کو ڈالا تو اس کے دربار میں سانپ بن کر لہرانے لگا۔ فرعون اور درباری ڈر کے مارے بھاگ اٹھے اس کی خدائی کی قلعی تو وہیں کھل گئی۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے اس کو پکڑ لیا پھر وہی لکڑی ہوگئی۔
Ayahs 26:11–34

قَوْمَ فِرْعَوْنَ١ؕ اَلَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 26:11 in the Quran reader

فرعون کی قوم پاس ڈرتے وہ کیوں نہیں۔

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِؕ Open ayah 26:12 in the Quran reader

موسیٰ نے عرض کیا اے رب میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے جھٹلائیں

وَ یَضِیْقُ صَدْرِیْ وَ لَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ Open ayah 26:13 in the Quran reader

اور میرا سینہ تنگ ہوجائے اور میری زبان نہ چلے پس ہارون کو پیغام دے

وَ لَهُمْ عَلَیَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِۚ Open ayah 26:14 in the Quran reader

اور مجھ پر ان کا ایک گناہ بھی ہے سو مجھے ڈر ہے کہ مار نہ ڈالیں۔

قَالَ كَلَّا١ۚ فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:15 in the Quran reader

فرمایا ایسا ہرگز نہ ہوگا۔ پس تم دونوں میری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں۔

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:16 in the Quran reader

تم دونوں فرعون کے پاس جا کر کہو کہ ہم رب العالمین کے رسول ہیں

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:17 in the Quran reader

کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَۙ Open ayah 26:18 in the Quran reader

فرعون نے کہا کیا تجھ کو ہم نے اپنے گھر میں بچہ سے نہیں پالا اور تو نے ہم میں اپنی عمر برسوں یہی گزاری ہے۔

وَ فَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَ اَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 26:19 in the Quran reader

اور تو اپنی وہ حرکت کہ جو تو نے کی تھی کرچکا ہے۔ حالانکہ تو انکاروں میں سے ہے۔

قَالَ فَعَلْتُهَاۤ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَؕ Open ayah 26:20 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا جبکہ میں نے وہ کام کیا تھا تو میں بیخبر تھا

فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِیْ رَبِّیْ حُكْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 26:21 in the Quran reader

پس میں تم سے تمہارے ڈر کے مارے بھاگ نکلا۔ تب مجھ کو میرے رب نے دانائی عطا کی اور مجھ کو رسول بنایا۔

وَ تِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:22 in the Quran reader

اور کیا یہ بھی کوئی احسان ہے کہ جس کو تو مجھ پر جتلاتا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔

قَالَ فِرْعَوْنُ وَ مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَؕ Open ayah 26:23 in the Quran reader

فرعون نے کہا رب العالمین کیا چیز ہے ؟

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ Open ayah 26:24 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا وہ آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر کی سب چیزوں کا رب ہے۔ اگر تم کو یقین آئے۔

قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗۤ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ Open ayah 26:25 in the Quran reader

فرعون نے ان (درباریوں) سے جو اس کے اردگرد تھے کہا کہ تم موسیٰ کی باتیں سنتے ہو۔

قَالَ رَبُّكُمْ وَ رَبُّ اٰبَآئِكُمُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 26:26 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا وہ تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادا کا بھی رب ہے۔

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ Open ayah 26:27 in the Quran reader

فرعون نے کہا بیشک تمہارا یہ رسول جو تمہارے پاس بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے۔

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ؕ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 26:28 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا مشرق و مغرب کا رب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے اگر تم عقل رکھتے ہو۔

قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰهًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ Open ayah 26:29 in the Quran reader

فرعون نے کہا اگر تو نے میرے سوا اور کوئی معبود قرار دیا تو تجھے قید ہی میں تو ڈال دوں گا۔

قَالَ اَوَ لَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍۚ Open ayah 26:30 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا اور جو تیرے پاس کھلی ہوئی بات لایا ہوں۔

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 26:31 in the Quran reader

(تو بھی) فرعون نے کہا اگر تو سچا ہے تو اس کو پیش کر۔

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 26:32 in the Quran reader

پس موسیٰ نے اپنا عصا ڈال دیا تو وہ فوراً ایک بڑا اژدہا بن کر ظاہر ہوگیا

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 26:33 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ نکالا تو فوراً وہ ناظرین کو چمکتا ہوا دکھائی دینے لگا۔

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 26:34 in the Quran reader

فرعون نے اپنے درباریوں سے جو اس کے پاس تھے کہا کہ بیشک یہ بڑا ماہر جادوگر ہے

بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے امراء اور عام لوگ جمع ہوئے۔ وہاں موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) بھی تشریف لائے مقابلہ کی ٹھیری۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا ڈالو کیا ڈالتے ہو یعنی پہلے تم کچھ دکھاؤ انہوں نے اپنی رسیاں اور لکڑیاں زمین پر ڈالیں۔ لوگوں کو سانپ بن کر پھرتی ہوئیں نظر آنے لگیں۔ پھر موسیٰ ( علیہ السلام) نے عصا ڈالا وہ اژدہا بن گیا ‘ سب کو کھا گیا۔ فرعون کے جادوگروں کو معلوم ہوگیا کہ یہ کام سحر کی طاقت سے باہر ہے یہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا نشان ہے فوراً ایمان لائے اور وہیں سجدے میں گر پڑے۔ فرعون بڑا خفا ہوا اور کہا میرے حکم سے پیشتر تم کیوں ایمان لائے۔ یہ موسیٰ تمہارا استاد معلوم ہوتا ہے تمہاری باہم سازش پائی جاتی ہے تم کو اب سزا دیتا ہوں کہ ایک طرف کا ہاتھ دوسری طرف کا پائوں کٹوا کر دار پر چڑھاتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ مضائقہ نہیں دنیا کی تکلیف چند ساعت کی ہے گزرجاوے گی آخر ہم اپنے اللہ کے پاس جائیں گے ہم کو امید ہے کہ وہ ہمیں بخش دے گا کس لیے کہ سب سے پہلے ہم موسیٰ پر اور اس کے رب پر ایمان لائے۔ چناچہ فرعون نے ایسا ہی کیا۔ رب العالمین کے بعد رب موسیٰ و ہارون اس لیے کہا کہ فرعون بھی اپنے آپ کو رب سمجھتا تھا لعلنا نتبع السحرۃ اس وقت تک فرعونی جادوگروں کو بھی مذہبی امور میں قابل اتباع نہ جانتے تھے اگر وہ غالب آگئے تو ہمیشہ ان کے کہنے پر چلا کریں گے سحرہ سے موسیٰ اور ہارون مراد نہیں ہوسکتے اول تو سحرہ جمع ساحر ہے جس سے مراد بہت سے دوم لفظ لعل یہ آرزو کرتا ان کی حالت کے خلاف ہے۔