26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 26:35–52

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 26:35 in the Quran reader

تم کو اپنے جادو کے زور سے تمہارے ملک سے نکال دینا چاہتا ہے پھر تم کو کیا رائے دیتے ہو ؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 26:36 in the Quran reader

وہ بولے اس کو اور اس کے بھائی کو مہلت دیجئے اور شہروں میں ہر کارے بھیج دیجئے

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِیْمٍ Open ayah 26:37 in the Quran reader

کہ آپ پاس بڑے بڑے ماہر جادوگروں کو حاضر کریں۔

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ Open ayah 26:38 in the Quran reader

پس سب جادوگر ایک دن معین پر جمع کئے گئے

وَّ قِیْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ Open ayah 26:39 in the Quran reader

اور لوگوں سے کہا گیا کہ کیا تم بھی اکٹھے ہوتے ہو۔

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:40 in the Quran reader

شاید کہ ہم جاودگروں کے متبع ہوجاویں اگر وہی غالب رہے۔

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَئِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 26:41 in the Quran reader

پھر جب جادوگر آئے تو فرعون سے کہا بھلا ہم کو کچھ انعام بھی ہے اگر ہم ہی غالب آجائیں۔

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 26:42 in the Quran reader

اس نے کہا ہاں بیشک جب تو تم مقربوں میں داخل ہوجائوگے۔

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 26:43 in the Quran reader

ان سے موسیٰ نے کہا کہ ڈالو کیا ڈالتے ہو۔

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَ عِصِیَّهُمْ وَ قَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 26:44 in the Quran reader

پھر انہوں نے اپنی رسیاں اور لکڑیاں ڈال دیں اور کہنے لگے فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے۔

فَاَلْقٰى مُوْسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚۖ Open ayah 26:45 in the Quran reader

پھر موسیٰ نے بھی اپنا عصا ڈال دیا پھر تو وہ فوراً (ان کے ان شعبدوں کو جو بنا رہے تھے) لقمہ کرنے لگا۔

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۙ Open ayah 26:46 in the Quran reader

پھر جاودگر سجدے میں گر پڑے۔

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:47 in the Quran reader

کہنے لگے ہم رب العالمین پر ایمان لائے

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 26:48 in the Quran reader

موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ؕ۬ لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُوصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:49 in the Quran reader

فرعون نے کہا کیا تم میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے ؟ بیشک یہ تمہارا استاد ہے کہ جس نے تم کو جادو سکھایا ہے سو تم کو ابھی معلوم ہوا جاتا ہے کہ میں تمہارا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پائوں کٹوائے ڈالتا ہوں اور تم سب کو سولی پر چڑھائے دیتا ہوں۔

قَالُوْا لَا ضَیْرَ١٘ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 26:50 in the Quran reader

وہ بولے کچھ مضائقہ نہیں ہم کو تو اپنے رب کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔

اِنَّا نَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطٰیٰنَاۤ اَنْ كُنَّاۤ اَوَّلَ الْمُؤْمِنِیْنَؕ۠ Open ayah 26:51 in the Quran reader

ہم کو امید ہے کہ ہمارا رب ہمارے گناہوں کو معاف کردے گا اس سبب سے کہ ہم سب سے پہلے ایمان لائے۔

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْۤ اِنَّكُمْ مُّتَّبَعُوْنَ Open ayah 26:52 in the Quran reader

اور موسیٰ کو ہم نے حکم بھیجا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے نکل جاؤ کیونکہ تمہارا تعاقب کیا جائے گا۔

تفسیر : واوحینا الی موسیٰ باقی تمام قصہ کو حذف کر کے جو موسیٰ کی سرگزشت مصر سے تعلق رکھتا تھا صرف بنی اسرائیل کے مصر سے جانے کا تذکرہ شروع فرمایا کیونکہ نشانی قدرت کاملہ اور ان کے کفرو انکار کا نتیجہ ظاہر کرنا مقصود مقام تھا۔ موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میرے بندوں کو یعنی بنی اسرائیل کو رات میں لے نکل۔ چناچہ موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو مع زن و فرزند کسی عید کے بہانہ سے باجازت فرعون لے نکلے اور اسرائیلیوں نے فرعونیوں سے عید کے بہانہ سے زیورات بھی مستعار لیے تھے جب یہ سب نکل گئے تو فرعون کو خبر ملی کہ وہ نکل کر ملک شام میں جاتے ہیں۔ فرعون نے جابجا ہر کارے بھیج دیے کہ لوگ کمک کو آویں اور کچھ خوف نہ کریں کیونکہ ان ھؤلاء لشرذمۃ قلیلون یہ تھوڑے لوگ ہیں اور انہوں نے ہم کو ناخوش کیا ہے ایک تو ہماری حکومت سے نکلے جاتے ہیں دوسرے ہمارے زیورات لے گئے۔ محض بنظر احتیاط تم کو کہلا بھیجا ہے کہ مدد کو آؤ وانالجمیع حذرون کہ ہم کو ان سے خطرہ ہے۔ پس فرعون اور اس کے ساتھ بہت سے لوگ ان کے تعاقب میں نکلے اور صبح دن نکلتے ہوئے اسرائیلیوں کو دریائے قلزم کے قریب آلیا۔ بنی اسرائیل ان کو دیکھ کر ڈر گئے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے تسلی دی کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ خدا نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو حکم دیا کہ دریا پر اپنا عصا مار اس کے مارنے سے دریا پھٹ گیا اور پانی کی باڑ پھاڑ کی طرح سے دونوں طرف کھڑی ہوگئی۔ بنی اسرائیل خشک زمین پر سلامت نکل گئے۔ ان کے پیچھے پیچھے اسی راستہ سے جب وہ یہاں آئے تو دریا باہم مل گیا وہ سب ڈوب کر مرگئے۔ یہ ایک اللہ کی طرف کی بڑی نشانی ہے لیکن وہ اکثر نہیں مانتے۔ کذلک واورثناھا بنی اسرائیل اس مقام پر اکثر لوگوں کو دھوکا ہوگیا ہے کہ اور ثناھا بنی اسرائیل ہا کی ضمیر کو فرعونیوں کے خاص جنات وعیون و کنوزومقام کریم کی طرف پھر ایا ہے اور اس کی تفسیر میں کہہ دیا ہے کہ فرعونیوں کے غرق ہونے کے بعد ان کے باغوں اور عمدہ مقامات کے بنی اسرائیل پھر لوٹ کر آکر مالک ہوگئے تھے۔ حالانکہ یہ بات نہیں ہوئی کس لیے کہ تمام اہل تاریخ اس پر متفق ہیں کہ دریائے قلزم کو عبور کر کے بنی اسرائیل چالیس برس تک تیہ میں ٹکراتے پھرے ‘ مصر میں واپس نہ آئے اور نیز اس فرعون کے بعد دوسرا فرعون تخت مصر پر بیٹھا ہے۔ ان کی سلطنت کا خاتمہ بابل کے بادشاہ کے ہاتھ سے سینکڑوں برس بعد ہوا۔ صحیح توجیہ جیسا کہ بیضاوی فرماتے ہیں یہ ہے اومثل ولک المقام الذی کان لھم علی انہ صفتہ مقام اس تقدیر پر معنی صاف ہوگئے کہ ایسے مقامات کا ہم نے بنی اسرائیل کو وارث یعنی مالک کردیا یعنی ملک شام اور فلسطین میں ان کو بھی ہم نے ویسے ہی عمدہ مقامات اور باغ اور چشمے اور خزانے عطا کئے جیسا کہ فرعونیوں کے پاس تھے اور ان سے نکال کر ہم نے ان کو دریائے قلزم میں غرق کیا۔ خلاصہ یہ کہ ان عمدہ مقامات سے ان کو نکالا اور ایسے عمدہ مقامات بنی اسرائیل کو عطا کئے اور سورة دخان میں بھی ایسا ہی آیا ہے کم ترکوا من جنات وعیون وزروع و مقام کریم و نعمۃ کانوا فیہا فاکہین کذلک و اور ثناھا قومًا آخرین۔
Ayahs 26:53–59

فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۚ Open ayah 26:53 in the Quran reader

سو وہ نکلے پھر فرعون نے بھی شہروں میں ہر کارے دوڑا دئیے۔

اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَشِرْذِمَةٌ قَلِیْلُوْنَۙ Open ayah 26:54 in the Quran reader

کہ یہ ایک تھوڑی سی جماعت ہے

وَ اِنَّهُمْ لَنَا لَغَآئِظُوْنَۙ Open ayah 26:55 in the Quran reader

اور یہ ہمارے بڑے دشمن ہیں

وَ اِنَّا لَجَمِیْعٌ حٰذِرُوْنَؕ Open ayah 26:56 in the Quran reader

اور ہم سب ان سے خطرہ رکھتے ہیں۔

فَاَخْرَجْنٰهُمْ مِّنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ Open ayah 26:57 in the Quran reader

پس ہم نے فرعونیوں کو باغوں اور چشموں

وَّ كُنُوْزٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 26:58 in the Quran reader

اور خزانوں اور عمدہ مقام سے نکال باہر کردیا۔

كَذٰلِكَ١ؕ وَ اَوْرَثْنٰهَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 26:59 in the Quran reader

یوں کیا اور ان چیزوں کا بنی اسرائیل کو وارث 1 ؎ کردیا۔

1 ؎ ان چیزوں کا یعنی باغوں اور چشموں اور خزانوں اور عمدہ مکانوں کا شام میں لاکر بنی اسرائیل کو مالک کردیا ان چیزوں کے مالک کرنے سے یہ مراد نہیں کہ انہیں فرعونیوں کے باغوں کا مالک بنا دیا کس لیے کہ بنی اسرائیل کے بعد بھی فرعونیوں کی سلطنت ملک مصر پر قائم رہی ہے۔ کوئی بنی اسرائیل مصر کا بادشاہ نہیں ہوا خصوصاً وہ اسرائیل جو موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ تھے وہ تو برسوں تیہ میں ٹکراتے پھرے ہیں جہاں من وسلوی اترا اور کیا کیا احکام فرض ہوئے اور کیا کیا واقعات گزرے جس نے خاص وہی فرعونی باغ سمجھ کر قرآن پر دروغ بیانی اور تاریخی واقعات کے خلاف ہونے کا الزام لگایا ہے یہ اس کی غلط فہمی ہے اور جو کوئی ہمارا مفسر اس طرف گیا ہے تو یہ اس کی ناواقفیت۔ حقانی
Ayahs 26:60–68

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ Open ayah 26:60 in the Quran reader

پھر فرعونیوں نے ان کو دن نکلتے ہی آلیا۔

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ Open ayah 26:61 in the Quran reader

پھر جب دنوں جماعتیں مقابل ہوئیں تو موسیٰ کے لوگ کہنے لگے ہم تو پکڑے گئے۔

قَالَ كَلَّا١ۚ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ Open ayah 26:62 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے۔ وہ مجھے ابھی راہ بتلائے دیتا ہے۔

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ١ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 26:63 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ کو حکم دیا کہ اپنے عصا کو دریا پر مار (موسیٰ نے عصا مارا) سو دریا پھٹ گیا۔ اور پانی کا ہر ایک ٹکڑا ایسا ہوگیا جیسا کہ اونچا ٹیلا

وَ اَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَۚ Open ayah 26:64 in the Quran reader

اور اس مقام پر ہم دوسروں (فرعونیوں) کو لے آئے (اور لاکر ڈبو دیا)

وَ اَنْجَیْنَا مُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗۤ اَجْمَعِیْنَۚ Open ayah 26:65 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے سب ساتھیوں کو بچالیا۔

ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَؕ Open ayah 26:66 in the Quran reader

اور ان دوسروں کو غرق کردیا۔

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:67 in the Quran reader

البتہ اس میں ایک (بڑی) نشانی ہے اور ان میں سے اکثر تو مانتے بھی نہ تھے۔

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:68 in the Quran reader

اور البتہ آپ کا رب تو زبردست 1 ؎ رحم کرنے والا ہے۔

1 ؎ زبردست ایسا کہ فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کردیا رحیم ایسا کہ بیچارے بنی اسرائیل کو بچا لیا یا یہ کہ زبردست ہے سزا دینے پر آئے تو کوئی بچ نہیں سکتا مگر رحیم بھی ہے کہ فی الفور سزا نہیں دیتا درگزر کرجاتا ہے۔ 12 منہ
Ayah 26:69

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِیْمَۘ Open ayah 26:69 in the Quran reader

اور ان کو ابراہیم کا حال بھی پڑھ سنائو

ترکیب : کذالک منصوب بہ یفعلون فانہم عدولی انما افردوالقیاس اعداء لانا العد و جنس یطلق علی الواحد والکثیر، المراد ذوعداوۃ الا رب العلمین استثناجنس اور غیر جنس دونوں سے ہوسکتا ہے الذی مبتداء فھو مبتداء ثان یہدین اس کی خبر اور جملہ الذی کی خبر اور بعد کے الذی پہلے کی صفات ہیں اور صفات میں و کا داخل کرنا جائز ہے یوم لاینفع بدل ہے اول یوم سے الامن استثناء متصل اور غیر متصل بھی ہوسکتا ہے۔ تفسیر : واتل علیہم نباء ابراھیم الخ (2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت ﷺ کو کامل تسلی دی گئی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ اور ان کی تمام قوم بھی گمراہی میں مبتلا تھی بت پرست تھے پھر ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کے جہنمی ہونے کا کیا کچھ کم غم نہ تھا مگر بجز دعا کرنے کے اور کچھ نہ کرسکے۔ پھر آپ کیوں اے نبی ! اس قدر غم کرتے ہیں ؟ اور جب ابراہیم کے ساتھ ان بت پرستوں نے نہ صرف مقابلہ ہی کیا بلکہ آگ میں ڈالا اور وہاں سے سلامت آنے پر بھی دیس چھوڑنا پڑا۔ پس آپ پر یہ مصائب کوئی نئی بات نہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں جنت النعیم میں جانا اور قیامت کی رسوائی سے پناہ میں رہنا ذکر کیا تھا جس سے معلوم ہوا کہ جنت اور دوزخ اور مرنے کے بعد دوسری زندگانی کے اے قریش مکہ تمہارے جدِا مجد ابراہیم (علیہ السلام) بھی معتقد تھے اس میں میں نے کوئی نیا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ اس کے بعد اس مناسبت سے مسئلہ معاد یعنی حشر کی کیفیت بھی بیان فرمائی کہ اس روز جہنم بدکاروں کے جنت ابرار کے سامنے لائی جائے گی اس دن مال اور زر ‘ اولاد کام نہ آئے گی مگر ان کے کہ جو خدا کے پاس کفر و معصیت ‘ حبِّ شہوات سے پاک دل لے کر آیا ہوگا اس کی اولاد نیک کے اعمال صالحہ جو اس کی ہدایت کا نتیجہ ہیں اور اس طرح جو مال اس نے اللہ کی راہ میں صرف کیا ہے اس کے کام آئے گا اور اس روز بت پرستوں سے پوچھا جائے گا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کیا کرتے تھے۔ پھر کیا آج وہ تمہارے معبود کچھ تم کو نفع یا نقصان دے سکتے ہیں۔ اس کے بعد وہ بھی اور ان کے وہ معبود خبیث یہی ارواح خبیثہ و شیاطین سب کے سب جن ہم میں ڈال دیے جائیں گے۔ اور جہنم میں آپس میں لڑیں گے اور مشرکین کہیں گے ہم بڑے سخت گمراہ تھے جو تم کو رب العالمین کا شریک ٹھہرایا کرتے تھے۔ ہائے آج ہمارا نہ کوئی سفارشی ہے نہ حمایتی ‘ کاش دوبارہ دنیا میں جانے کی اجازت ملے تو ہم بھی ایمان لائیں۔ ایمان کے نتائج کا مشاہدہ ہوگیا۔ اوقال لابیہ وقومہ ما تعبدون گو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جانتے تھے کہ یہ بتوں کو پوجتے ہیں لیکن سوال اس غرض سے کیا تھا کہ ان کے بتوں کی کمزوری ثابت کریں تاکہ ان کو شرمندگی حاصل ہو اور پھر یہ ان کی پرستش چھوڑ دیں مگر وہ تو ایسے پختہ تھے کہ نعبد اصناما کہنے پر بس نہ کیا بلکہ فنظل لہا عاکفین بھی کہہ دیا کہ ہم نہ صرف ان کی پرستش ہی کیا کرتے ہیں بلکہ ہم دن بھر ان کے گردرہا کرتے ہیں (والعکوف الاقامۃ علی الشیء وانما قالو انظل لانہم کانو ایعبدونہا بالنہار دون اللیل۔ کبیر) ان کو بت پرستی پر تفاخر تھا اور اس کی وہ مسرت ظاہر کرنا چاہتے تھے (اللہ رے گمراہی) ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل اور اس کے اطراف میں تھی وہ لوگ مذہب صابی رکھتے تھے جو ستاروں اور دیگر نورانی اور آسمانی چیزوں کی پرستش کیا کرتے تھے پھر ان معبودوں کے نام سے طرح طرح کی مورتیں بنا رکھیں تھیں۔ تخمیناً پچاس سال ہوئے ہوں گے کہ شہر نینوی کے بعض تودوں کو فرانس کی ایک جماعت نے بحکم حضرت سلطان عجائبِ قدیمہ دریافت کرنے کی غرض سے کھدوایا تو بہت نیچے سے سنگ مر مر کا ایک عجیب و غریب مکان برآمد ہوا جس کی دیواروں پر ہر طرف عجائب مورتیں ترشی ہوئی تھیں اور پھر اس کے صدر مقام میں ایک بہت بلند بیل سنگ مر مر کا تھا جس کے پائوں ہاتھی کے اور بازؤوں پر عقاب کے سے پر اور اس کی صورت انسان کی تھی دو قد آدم اونچا تھا جس کو اکھاڑ کر فرانس کے عجائب خانہ میں رکھا گیا اور دیواروں پر کچھ کتبہ بھی تھا جو آج تک کسی سے پڑھا نہیں گیا۔ غالباً یہ ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کا بت تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پھر ان سے دریافت کیا ہل یسمعونکم اذ تدعون او ینفعونکم او یضرون کہ بھلا جب تم ان کو پکارتے ہو کچھ تمہاری بات بھی سنتے ہیں یا تم کو کچھ نفع و نقصان بھی دیتے ہیں ؟ اس کا وہ کیا جواب دیتے بجز اس کہنے کے کہ بل وجدنا اباء ناکذلک یفعلون ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے ان کی تقلید ہم کرتے ہیں ایسی تقلید حرام ہے۔ اس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ أفرایتم ماکنتم تعبدون انتم و آباء کم الاقدمون۔ اب تم کو معلوم ہوگیا کہ تم اور تمہاے باپ دادا کس بےحقیقت چیز کی عبادت کیا کرتے تھے۔ فانہم عدولی الا رب العالمین یہ سب میرے دشمن ہیں یعنی مجھے ان سے نفرت اور عداوت ہے مگر رب العالمین سے نہیں۔ اس کے بعد رب العالمین کے چند اوصاف ذکر کرتے ہیں جن سے ان کو اس کی طرف رغبت پیدا ہو۔ پس فرمایا الذی خلقنی فہویہدین وہ کہ جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی مجھ کو راہ راست کی طرف رہنمائی کیا کرتا ہے والذی ھو یطعمنی ویسقین واذا مرضت فہو یشفین کہ صرف یہی نہیں کہ پیدا کر کے ہی اس نے چھوڑ دیا پھر اس سے کچھ کام نہیں پڑتا بلکہ جس طرح ابتداء میں اس کی طرف حاجت تھی حال میں بھی ادنیٰ اور اعلی حاجت اسی سے وابستہ ہے یطعمنی ویسقین سے چھوٹی باتوں کی طرف واذا مرضت فہو یشفین سے امور عظام کی طرف ایماء گیا۔ والذین یمتینی ثم یحیین والذی اطمع ان یغفرلی خطیئتی یوم الدین زندگی دنیا کے بعد بھی اس سے تعلق ہے وہی موت دے گا پھر قیامت کو دوبارہ وہی زندہ کرے گا۔ اسی سے مجھے گناہوں کی معافی کی امید ہے (ہر چند حضرت ابراہیم (علیہ السلام) گنہگار نہ تھے مگر خاصان خدا بمقام عبدیت اپنی ذرا ذرا سی فروگذاشت کو بھی بہت بڑا گناہ سمجھا کرتے ہیں) یعنی تمہارے بت بیکار اور میرا معبود یہ یہ کیا کرتا ہے اب دیکھو کون قابل پرستش ہے یہ سب ان پر تعریض ہے اس کے بعد جو دارآخرت اور دنیا کی بہبودی کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی اس کو نقل کرتا ہے رب ھب لی حکما والحقنی بالصالحین حکم سے مراد کمال قوت مدرکہ کا کہ جس سے ادراک حق حاصل ہو والحقنی بالصالحین سے مراد کمال قوت عملیہ کا کہ جس سے خیر کو عمل میں لاوے۔ واجعل لی لسان صدق فی الاخرین اور مرنے کے بعد دنیا میں میرا سچائی اور ذکر خیر کے ساتھ تذکرہ باقی رہے یعنی توحید کا طریقہ جو مجھے نصیب ہوا ہے میرے بعد میں یہی رہے کہ وہ اس سبب سے مجھے ذکر خیر سے یاد کیا کریں جو اوروں کے لیے توحید کی طرف رغبت کا باعث ہو واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم اور مجھ کو جنت نعیم کا وارث کیجیو یہ سعادتِ آخرت کی دعا تھی جب سعادت دنیا و آخرت کے سوال سے فارغ ہوئے تو 1 ؎ باپ کے لیے بھی دعا کی کیونکہ وعدہ کرچکے تھے اور نیز اپنے حقداروں کو نعمت میں شریک کرنا عالی حوصلوں کا کام ہے 1 ؎ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سب دعائیں قبول ہوئیں مگر باپ کے حق میں نہ قبول ہوئی۔ عبرت کا مقام ہے خدا کی بےنیازی سے ڈرنا چاہئے۔ 12 منہ ولاتخزنی یوم یبعثون کہ قیامت کے روز مجھ سے کوئی باز پرس بھی نہ کرنا پھر اس کے بعد قیامت کا حال شروع کردیا کہ اس روز نہ مال کام آئے گا نہ اولاد نفع دے گی مگر قلب سلیم کہ جس میں توحید و اخلاص ہو۔