26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 26:70–94

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 26:70 in the Quran reader

جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کو پوجا کرتے ہو۔

قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِیْنَ Open ayah 26:71 in the Quran reader

انہوں نے یہ کہا بتوں کو پوجتے ہیں۔ سو انہیں کے گرد رہا کرتے ہیں۔

قَالَ هَلْ یَسْمَعُوْنَكُمْ اِذْ تَدْعُوْنَۙ Open ayah 26:72 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کیا وہ تمہاری بات سنتے ہیں جبکہ تم پکارتے ہو

اَوْ یَنْفَعُوْنَكُمْ اَوْ یَضُرُّوْنَ Open ayah 26:73 in the Quran reader

یا تم کو کچھ نفع یا نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 26:74 in the Quran reader

انہوں نے کہا (کچھ نہیں) بلکہ ہم نے اپنے باپ داد کو ایسا ہی کرتے پایا ہے

قَالَ اَفَرَءَیْتُمْ مَّا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:75 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا تم کو خبر کچھ بھی ہے

اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمُ الْاَقْدَمُوْنَ٘ۖ Open ayah 26:76 in the Quran reader

کہ تم اور تمہارے اگلے باپ دادا جس کو تم پوجتے تھے

فَاِنَّهُمْ عَدُوٌّ لِّیْۤ اِلَّا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 26:77 in the Quran reader

وہ تو سب میرے دشمن ہیں مگر رب العالمین (کہ وہ بڑا زبردست ہے)

الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَهُوَ یَهْدِیْنِۙ Open ayah 26:78 in the Quran reader

وہ کہ جس نے مجھ کو پیدا کیا پھر مجھ کو رہنمائی کیا کرتا ہے

وَ الَّذِیْ هُوَ یُطْعِمُنِیْ وَ یَسْقِیْنِۙ Open ayah 26:79 in the Quran reader

اور وہ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے

وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ یَشْفِیْنِ۪ۙ Open ayah 26:80 in the Quran reader

اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو مجھے شفا دیتا ہے

وَ الَّذِیْ یُمِیْتُنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِۙ Open ayah 26:81 in the Quran reader

اور وہ جو مجھے موت دے گا پھر زندہ کرلے گا۔

وَ الَّذِیْۤ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 26:82 in the Quran reader

اور وہ کہ جس سے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے گناہ معاف کرے گا۔

رَبِّ هَبْ لِیْ حُكْمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 26:83 in the Quran reader

اے رب ! مجھے حکمت عطا کر اور مجھے شائستہ لوگوں میں ملا دے

وَ اجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 26:84 in the Quran reader

اور آیندہ آنے والی نسلوں میں میرا ذکر خیر باقی رکھیو۔

وَ اجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِیْمِۙ Open ayah 26:85 in the Quran reader

اور مجھ کو جنت النعیم کے وارثوں میں سے کر دے ا

وَ اغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 26:86 in the Quran reader

ور میرے باپ کو بھی بخش دے کیونکہ وہ گمراہوں میں سے تھا

وَ لَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَۙ Open ayah 26:87 in the Quran reader

اور مجھ کو جی اٹھنے کے دن رسوا نہ کرنا ‘

یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ Open ayah 26:88 in the Quran reader

جس دن کہ نہ مال کام آئے گا نہ اولاد

اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ Open ayah 26:89 in the Quran reader

مگر اس کو کہ جو اللہ کے پاس پاک دل لے کر آیا

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 26:90 in the Quran reader

اور اس دن پرہیز گاروں کے لیے جنت قریب لائی جائے گی

وَ بُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَۙ Open ayah 26:91 in the Quran reader

اور جہنم سرکشوں کے لیے ظاہر کی جائے گی

وَ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَمَا كُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَۙ Open ayah 26:92 in the Quran reader

اور ان سے کہا جائے گا کہ وہ کہاں ہیں جن کو تم اللہ کے سوا پوجا کرتے تھے۔

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ هَلْ یَنْصُرُوْنَكُمْ اَوْ یَنْتَصِرُوْنَؕ Open ayah 26:93 in the Quran reader

(اب) کیا وہ تمہاری کچھ مدد کرسکتے ہیں یا بدلہ لے سکتے ہیں۔

فَكُبْكِبُوْا فِیْهَا هُمْ وَ الْغَاوٗنَۙ Open ayah 26:94 in the Quran reader

پھر وہ بھی 1 ؎ اور گمراہ لوگ بھی

1 ؎۔ یعنی معبود اور ان کے پوجنے والے گمراہ لوگ اور ان کو بہکانے والے شیاطین سب کے سب جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔ 12 منہ
Ayahs 26:95–105

وَ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَؕ Open ayah 26:95 in the Quran reader

اور سب شیطانی لشکر جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے

قَالُوْا وَ هُمْ فِیْهَا یَخْتَصِمُوْنَۙ Open ayah 26:96 in the Quran reader

وہ وہاں باہم جھگڑتے ہوئے کہیں گے

تَاللّٰهِ اِنْ كُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 26:97 in the Quran reader

کہ اللہ کی قسم ! ضرور ہم صریح گمراہی میں تھے

اِذْ نُسَوِّیْكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 26:98 in the Quran reader

جبکہ (اے جھوٹے معبودو ! ) تم کو ہم رب العالمین کے برابر کیا کرتے تھے

وَ مَاۤ اَضَلَّنَاۤ اِلَّا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 26:99 in the Quran reader

اور ہم کو کسی نے گمراہ نہیں کیا تھا مگر ان بدکاروں نے

فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَۙ Open ayah 26:100 in the Quran reader

پھر نہ ہمارا کوئی شفاعت کرنے والا ہے

وَ لَا صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ Open ayah 26:101 in the Quran reader

اور نہ کوئی دوست و غمگسار ہے۔

فَلَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:102 in the Quran reader

کاش ایک بار پھر ہمیں دنیا میں جانا ملے۔ تو ہم ضرور ایمان والوں میں شامل ہوجائیں

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً١ؕ وَ مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 26:103 in the Quran reader

البتہ اس میں ایک بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 26:104 in the Quran reader

اور بیشک آپ کا رب زبردست اور رحم کرنے والا ہے۔

كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ اِ۟لْمُرْسَلِیْنَۚۖ Open ayah 26:105 in the Quran reader

نوح کی قوم نے بھی رسولوں کو جھٹلایا تھا

ترکیب : اتبعک جملہ حال ہے ضمیر نؤمن سے ارذلون جمع ارذل بمعنی ذلیل ماعلمی ظاہر میں ما استفہامیہ سے محل رفع میں بسبب مبتدا ہونے کے وعلمی اس کی خبر اور ممکن ہے کہ نافیہ ہو بما کی ب دونوں تقدیر پر علمی سے متعلق ہے دوسری تقدیر پر خبر کو مضمر ماننا پڑے گا بعد ای بعد انجائہ۔ تفسیر : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) کا عبرتناک قصہ بیان فرماتا ہے۔ اگرچہ سورة اعراف و سورة ہود میں یہ قصہ مشرحاً بیان ہوچکا ہے لیکن چونکہ اسلوب قرآن مؤرخانہ نہیں کہ جن کے نزدیک مکرر بیان کرنا عیب ہے بلکہ واعظانہ کہ جن کے نزدیک عبرتناک قصوں کو بمقتضائے مقام و حالات قوم مکرر بیان فرمانا عین حکمت ہے۔ خصوصاً نئے نئے اسلوب سے اس لیے اس کا پھر یہاں اعادہ کیا۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کا ساڑھے نو برس تک ان میں وعظ و پند فرمانا اور پھر ان کا ہدایت پر نہ آنا آنحضرت ﷺ کے لیے کامل تسلی اور ان کے اخیر نتیجہ غرق ہونے سے حضرت ﷺ کے ہم وطنوں سرکش قریش کو کامل تحدید ہے۔ کذبت قوم نوح المرسلین اگرچہ قوم نوح کے صرف نوح ( علیہ السلام) رسول تھے مگر جبکہ ان کو جھٹلایا تو سب نبیوں کو جھٹلایا کیونکہ دین کی باتوں میں سب ایک زبان تھے ایک کی تکذیب سب کی تکذیب۔ اس لیے المرسلین جمع کا صیغہ آیا کہ ان کے فعلِ بد کی پوری شناعت اور کامل قباحت ظاہر ہوجائے اور اس لیے بعد کے قصوں میں یہی صیغہ استعمال ہوا ہے اخوھم نوح نوح ان کے بھائی تھے کیونکہ ایک قوم کے تھے۔ نوح ( علیہ السلام) نے اولاً یہی فرمایا الا تتقون کہ کیوں نہیں خدا سے ڈرتے جو بت پرستی کرتے ہو قوم نوح میں بھی بت پرستی کا رواج تھا۔ یہ تو ان کا وصف تھا اب اپنی حالت ذکر کرتا ہے انی لکم رسول کہ میں تمہارے لیے خدا کی طرف سے پیغام لے کر آیا ہوں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا اور میں امانت دار بھی ہوں یعنی اس پیغام رسانی میں کچھ کمی زیادتی نہیں کرتا ہوں جب یہ ہے تو فاتقوا اللہ واطیعون اللہ سے ڈرو کہ اس کے احکام کی مخالفت کرنا اور میرا کہا مانو وما اسئلکم علیہ من اجر میں تم سے اس پر کچھ مانگتا نہیں یعنی بےغرض ہوں کیونکہ غرض مند کی بات میں دغدغہ ہوتا ہے۔ البتہ مزدوری تو میری ہے مگر تم پر نہیں ‘ رب العالمین پر ہے۔ پھر اسی کلمہ کا اعادہ کیا تاکید کے لیے۔ فاتقوا اللہ واطیعون ان سب باتوں کے بعد ان بدبختوں نے یہ عذر کیا انؤمن لک الخ کہ ہم تجھ پر کیونکر ایمان لائیں تجھ پر تو پاجی لوگ ایمان لائے ہیں جو احمق اور بدعقل ہوتے ہیں اور کوئی دنیاوی لالچ ان کا مقصود ہوتا ہے یعنی دل سے نہیں۔ نوح (علیہ السلام) پر غریب غربا لوگ ایمان لے آئے تھے اور ہمیشہ ہر کار میں یہی پیشقدمی کیا کرتے ہیں کیونکہ راہ حق میں مانع جاہ و حشم دنیاوی ہے۔ سو یہ ان کے ہاں نہیں ہوتا اس لیے نوح نے فرمایا وما علمی الخ کہ ان کی حقیقت حال سے اللہ آگاہ ہے مجھے ان کے باطن سے کیا کام بظاہر مومن ہیں مومنوں کو دور نہ کروں گا آخر کار نہ مانا غرق ہوئے۔