26. Surah Ash-Shu'araa

الشعراءThe Poets · 227 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 26:211–219

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ Open ayah 26:211 in the Quran reader

اور نہ یہ ان کا کام ہے اور نہ وہ اس کو کرسکتے ہیں۔

اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ Open ayah 26:212 in the Quran reader

وہ تو سننے کی جگہ سے بھی دور کردیے گئے ہیں۔

فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ Open ayah 26:213 in the Quran reader

پس (اے نبی ! ) اللہ کے ساتھ اور کسی معبود کو نہ پکارنا ورنہ آپ بھی عذاب میں مبتلا ہوجائوگے۔

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ Open ayah 26:214 in the Quran reader

اور اپنے نزدیکی قرابت داروں کو بھی ڈراؤ

وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 26:215 in the Quran reader

اور جو ایمان والے آپ کے تابع ہیں ان کے لیے اپنا بازو جھکائے رکھو (یعنی بتواضع پیش آیا کرو)

فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 26:216 in the Quran reader

پھر مشرک نافرمانی کریں تو کہہ دو کہ میں تمہارے افعال سے بری الذمہ ہوں

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 26:217 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) خدائے زبردست ‘ مہربان پر بھروسہ رکھو

الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 26:218 in the Quran reader

جو آپ کو نماز کے وقت اٹھے دیکھا کرتا ہے

وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ Open ayah 26:219 in the Quran reader

اور آپ کا نمازیوں کی صف میں پھرنا بھی دیکھتا ہے۔

تقلب فی الساجدین کے معنی : تقلب اٹھنا بیٹھنا بھی ہے کبھی رکوع کرتے ہو ‘ کبھی قیام ‘ کبھی سجود ‘ سب کو خدا دیکھتا ہے مقاتل ؓ کہتے ہیں کہ حین تقوم سے مراد تنہا نماز کے لیے اٹھنا اور تقلب سے مراد جماعت میں نماز پڑھنا ہے ابن عباس ؓ کہتے ہیں ساجدین سے مراد مصلین ہے، مجاہد کہتے ہیں تقلبک سے مراد آنحضرت ﷺ کا نماز میں پیچھے سے نمازیوں کو دیکھنا ای تقلب بصرک فی المصلین کیونکہ موطا میں امام مالک نے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں پیچھے سے بھی دیکھا کرتا ہوں مجھ پر تمہارا رکوع اور خشوع مخفی نہیں۔ امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ شیعہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے آباء مومنین تھے کیونکہ تقلبک فی الساجدین سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے حضرت کی روح پاک کو ایک ساجد سے دوسرے ساجد کی طرف نقل کیا۔ اس بات کو امام صاحب نے رد کردیا ہے۔ مراد یہ ہے کہ آپ کے ان افعال حمیدہ کو وہ دیکھتا ہے جو تم پر مہربانی اور مخافظتِ الٰہی کا سبب ہیں یعنی آپ نیکو کار ہیں اور نیکوں کی حفاظت ہم ہمیشہ سے کرتے چلے آئے ہیں واللہ اعلم۔ پھر ان کے شبہ کا رد کرتا ہے بقولہ ھل انبئکم علی من تنزل الشیاطین کفار کہتے تھے کیا عجب ہے کہ محمد پر شیاطین نازل ہو کر اس کو قرآن کی تعلیم کرتے ہیں جیسا کہ کاہنوں کو غیب کی باتیں بتایا کرتے ہیں اور شاعروں کو شعر کا مضمون القاء کرتے ہیں پس خدا تعالیٰ دونوں میں فرق بتلاتا ہے کہ کاہنوں اور شاعروں کی اور حالت ہے پیغمبر کی اور۔ پہلے کاہنوں کا حال بیان کرتا ہے۔ بقولہ تعالیٰ تنزل علی کل افاک اثیم کہ شیاطین تو بڑے جھوٹے بدکاروں پر نازل ہوا کرتے ہیں اور وہ کاہن ہیں جو یلقون السمع جن پر شیاطین کوئی بات لا ڈالتے ہیں۔
Ayahs 26:220–223

اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 26:220 in the Quran reader

بیشک وہی سنتا ‘ جانتا ہے۔

هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلٰى مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیٰطِیْنُؕ Open ayah 26:221 in the Quran reader

میں (کہہ دو ) تم کو بتلائوں کہ کس پر شیاطین اترا کرتے ہیں۔

تَنَزَّلُ عَلٰى كُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ Open ayah 26:222 in the Quran reader

وہ ہر جھوٹے بدکردار پر اترا کرتے ہیں۔

یُّلْقُوْنَ السَّمْعَ وَ اَكْثَرُهُمْ كٰذِبُوْنَؕ Open ayah 26:223 in the Quran reader

جن پر کہ شیاطین بےاصل باتیں لا کر ڈالا کرتے ہیں اور بہت تو ان میں سے سرے سے جھوٹے ہی ہوا کرتے ہیں۔

واکثرہم کاذبون اور اکثر جھوٹے ہی ہوتے ہیں۔ سفلی عملیات کے عامل اکثر ناپاک اور گندے رہا کرتے ہیں تاکہ شیاطین ان کے پاس خوشی خوشی آویں۔ اب رہے شاعر ان کا یہ حال ہے والشعراء الخ کہ ان کے پیچھے تو بدراہوں کی جماعت ہوا کرتی ہے یہ کوئی مضمون نظم کرتے وہ اس کو نقل کرتے پھرتے ہیں مگر اس سے مراد وہ شاعر ہیں کہ جو آنحضرت ﷺ کی ہجو کیا کرتے تھے جیسا کہ ہبیرہ بن وہب وامیۃ بن ابی الصلت اور لوگوں کو جمع کر کے سناتے تھے اور وہ لوگوں سے بیان کرتے پھرتے تھے۔ الم تر الخ یہ ان کی بدراہی کی دلیل ہے کہ ہر میدان سخن میں ٹکراتے پھرتے ہیں کیا کیا جھوٹی اور مبالغہ آمیز بندشیں باندھتے ہیں وانہم یقولون منہ سے کہتے ہیں کرتے نہیں ہجر و وصال معشوق سب فرضی جھگڑے ہوتے ہیں۔ مطلب یہ کہ مضامین قرآن اور شاعری میں (ہونا چاہیے) زمین و آسمان کا فرق ہے الا الذین آمنوا وعملوا الصالحات مگر جو ان میں دیندار ایماندار ہیں و ذکرو اللہ کثیرًا۔ اور اللہ کو اپنے اشعار میں یا خارجاً بہت یاد کرتے ہیں وانتصروا من بعد ماظلموا اور جو کسی کی ہجو بھی کرتے ہیں تو ان پر ظلم ہو چکنے کے بعد کرتے ہیں وہ ایسے نہیں ان جملوں میں حسان بن ثابت ؓ کی طرف اشارہ ہے کہ کفار کی ہجو جب کی کہ وہ پہلے آنحضرت ﷺ اور مومنین کی ہجو کرچکے تھے مگر یہ بھی سچی ہجو خلاصۃ یہ کہ جو شعر برا وہ برا ہے اور اچھا مضمون ہے خدا اور رسول کی مدح میں قوم و ملک کی اصلاح میں تو اچھا ہے وسیعلم الخ ظالموں کو ابھی معلوم ہوجائے گا کہ وہ مر کر کہاں جاتے ہیں اور کس کروٹ پر پڑتے ہیں۔
Ayahs 26:224–227

وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُهُمُ الْغَاوٗنَؕ Open ayah 26:224 in the Quran reader

اور شاعروں کی بات پر تو بد راہ لوگ چلا کرتے ہیں۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّهُمْ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَۙ Open ayah 26:225 in the Quran reader

(اے مخاطب ! ) کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ ہر میدان (سخن) میں بھٹکتے پھرا کرتے ہیں

وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 26:226 in the Quran reader

اور وہ ایسی (باتیں) کہا کرتے ہیں جو کرتے نہیں

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠ Open ayah 26:227 in the Quran reader

مگر وہ شاعر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام بھی کئے اور (اپنے کلام میں) انہوں نے اللہ کا بہت ذکر کیا اور اپنے اوپر زیادتی ہونے کے بدلہ لیا کرتے 1 ؎ ہیں (تو وہ مستثنیٰ ہیں) اور ظالموں کو تو ابھی معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس کروٹ پر پڑتے 2 ؎ ہیں۔

1 ؎ یعنی جب ان کی کسی نے ہجو کر کے ستایا تب وہ کسی کو ستاتے ہجو کرتے بدلہ لیتے ہیں ابتداء نہیں کرتے جیسا کہ حسان بن ثابت انصاری۔ 12 منہ۔ 2 ؎ یعنی ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔ 12 منہ