25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 25:1–3

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

اس کی بڑی بابرکت ذات کہ جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا تاکہ تمام جہان کو ڈر سنایا کرے

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

(وہ ذات) کہ جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے اور اس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا اور نہ کوئی اس کی سلطنت میں اس کا شریک رہا ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کر کے ایک اندازہ پر قائم کردیا

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور لوگوں نے تو اس کے سوا اور معبود مقرر کرلیے ہیں وہ کہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے حالانکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں اور وہ نہ خود اپنی ذات کے لیے ضرر کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ نفع کا اور نہ موت کا اور نہ زندگی کا اور نہ مر کر زندہ ہونے کا۔

ترکیب : لیکون کا اسم ضمیر جو عبد کی طرف راجع ہے یا فرقان کی طرف یا اللہ کی طرف پھرتی ہے لیکون کا لام نزل سے متعلق ہے الذین یا تو اول الذی سے بدل ہے یا خبر ہے مبتداء محذوف کی ولم یتخذ جملہ کلام سابق پر معطوف و واتخذوا جملہ مستانفہ۔ تفسیر : یہ سورة مکہ میں ہجرت سے پہلے اس وقت نازل ہوئی تھی جبکہ مشرکین مکہ کا آنحضرت ﷺ پر ہجوم تھا اور وہ حضرت کی رسالت اور قرآن کے کلام الٰہی ہونے پر طرح طرح کے شبہات کیا کرتے تھے اور بت پرستی کے دریا میں غرق تھے اور خدا تعالیٰ کو اور اس کی صفات کو غلط طور پر اپنے اوہام باطلہ کے موافق سمجھ رکھا تھا۔ اس سورة میں ان سب باتوں کا جواب ہے۔ سورة نور کے آخیر میں یہ جملہ تھا قدیعلم ما انتم علیہ الخ کہ اللہ کو معلوم ہے کہ جس حال میں تم ہو جس دن دنیا سے لوٹ کر تم اس کے پاس آؤ گے تو وہ تمہیں بتلائے گا کہ تم کیا کیا کرتے تھے۔ اس کلام میں اول تو عرب کے ان اعمال فاسدہ کی طرف تنبیہ تھی جن میں وہ شب و روز غرق تھے اور ظلمات میں مبتلا تھے۔ اس کا تدارک تو اس سورة کے آخر میں بیان فرمایا اور نیز سورة نور میں بھی حکمت عملیہ کے متعلق بہت کچھ ارشاد ہوچکا تھا مگر ان کاموں میں سے ہر ایک سے بدتربت پرستی تھی۔ دوم اس جملہ میں مر کر خدا کے پاس جانے اور نیک و بد کی جزاء و سزا پانے کا اشارہ تھا مگر یہ دو باتیں عرب کے مشرکوں کے بالکل خلاف تھیں پھر جو ان باتوں کو رد کرنے والی چیز تھی تو وہ نبوت تھی کہ دنیا میں ایک شخص دعویٰ کر کے یہ کہے کہ میں خدا کی طرف سے تمہیں ان باتوں سے منع کرنے کو آیا ہوں یہ اور بھی ان کے نزدیک حیرت انگیز بات تھی اس لیے ان تینوں مسائل کا جو اصول مذہب ہیں اس سورة کے اول میں ثابت کرنا ضروری ہوا۔ سب سے اول مسئلہ نبوت شروع کیا کس لیے کہ اسی پر زیادہ توحید و معاد کے مسئلہ کی بنیاد ہے مشرکین کے مسئلہ نبوت میں یہ شبہات تھے۔ اول شبہ ان کا یہ تھا کہ خدا تعالیٰ کو کیا غرض ہے جو اس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی ؟ دوم اگر نازل ہی کرنا تھا تو اپنے کسی اس بابرکت شخص پر نازل کرنا تھا جس کو اس نے اپنی سلطنت کے اختیارات دے رکھے ہیں جیسا کہ ہمارے معبودلات ‘ منات یا ملائکہ وغیرہ۔ سوم پھر اس قرآن سے کیا فائدہ ہے۔ پس ان سب باتوں کا جواب ان آیات میں کس لطف و خوبی کے ساتھ دیا جاتا ہے فقال تبارک الذی الخ یہ اول شبہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ بڑا برکت والا ہے (قال الزجاج تبارک تفاعل من البرکۃ والبرکۃ کثرۃ الخیر وزیادہ) بندوں کو خیر اور بھلائی پہنچانا اس کا کام ہے پس اس نے بندوں کو بھلائی پہنچانے اور سعادت دارین تک لے جانے کے لیے اپنے ایک بندے پر یعنی محمد ﷺ پر کتاب کیسی کتاب فرقان یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والی نازل کی اس میں ضرورت نزول قرآن کی طرف بھی اجمالی اشارہ کیا گیا کہ لوگوں کے عقائد اور افعال سلیمہ اور غیر سلیمہ میں تو ہمات باطلہ سے امتیاز نہیں رہا تھا یہی کتاب ہے جو ان میں فرق کرتی ہے۔ لیکون للعالمین نذیرا میں تیسرے شبہ کا تفصیلاً جواب ہے کہ اس سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ عالمین یعنی سب جہان کے لوگوں کو تنبیہ کر دے کہ تمہارے ان عقائد اور ان افعال پر دنیاء و آخرت میں یہ سب مصائب پیش آنے والے ہیں ان سے پر حذرہو اس عہد میں عرب ہند روم شام سب ملکوں میں کفروشرک و فسق کا دریا طغیانی پر تھا اس لیے سب کا نذیرآنحضرت ﷺ کو قرار دیا گیا۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ کل عالم کے نبی ہیں۔ انسانوں کے علاوہ جنوں کے بھی۔ الذی لہ ملک السموت الخ میں دوسرے شبہ کا جواب اور ان کے عقائدِ باطلہ کا رد ہے کہ اس کے قبضہ میں آسمان و زمین ہیں اس کا نہ کوئی بیٹا ہے نہ اس کی سلطنت میں کسی کو کچھ حصہ ہے بلکہ ہر ایک شے اس کے ایک خاص اندازہ سے پیدا ہوئی ہے سب مخلوق کو اس سے رشتہ عبودیت کے سوا اور کوئی رشتہ نہیں پھر کیا وجہ کہ وہ اپنے ایک بندہ پر اپنا کلام نازل نہ کرے۔ اس میں ضمناً مسئلہ توحید کی طرف بھی اشارہ ہے واتخذوا الخ یہاں سے مسئلہ توحید شروع ہوتا ہے کہ لوگوں نے غلط توہمات سے خدا کے سوا اور معبود بنائے ہیں کہ جو کچھ بھی نہیں پیدا کرسکتے بلکہ خود پیدا کئے گئے ہیں اور خدا کے لیے یہ بات ضرور ہے کہ وہ پیدا کرتا ہے اس کو کسی نے پیدا نہ کیا اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ خاص اپنے نفع و نقصان کا بھی تو انہیں اقتدار نہیں اور نہ کسی کو مار سکتے ہیں نہ جلا سکتے ہیں۔
Ayahs 25:4–10

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کافروں نے کہہ دیا کہ یہ قرآن کچھ نہیں مگر جھوٹ کہ جس کو خود گھڑ لیا ہے اور دوسرے اس پر اس کی مدد کی ہے۔ پس وہ منکر تو بڑے ظلم اور جھوٹ پر اتر آئے

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ (قرآن) اگلوں کی کہانیاں ہیں کہ جن کو اس نے کسی سے لکھوالیا ہے۔ سو یہی اس پر صبح و شام پڑھی جاتی ہیں

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

(سو اے نبی ! آپ) کہہ دو کہ اس کو تو اس نے نازل کیا ہے کو جو آسمانوں اور زمین کی مخفی باتیں جانتا ہے بیشک وہ بخشنے والا ‘ مہربان ہے

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

(جو فوراً سزا نہیں دیتا) اور منکر یہ بھی کہتے ہیں اس رسول کو کیا ہوا جو کھانا کھاتا اور بازاروں میں پھرتا ہے۔ اس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیج دیا گیا کہ اس کے ساتھ وہ بھی ڈر سنایا کرتا

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کے پاس کوئی خزانہ آپڑتا یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا کہ جس میں سے وہ کھایا کرتا اور ظالموں نے (یہ بھی) کہہ دیا کہ تم تو بس ایک ایسے شخص کے تابع ہوگئے ہو کہ جس پر جادو کیا گیا ہے۔

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

(اے نبی ! ) دیکھو تو تمہارے لیے کیسی مثالیں بیان کرتے ہیں۔ پس وہ تو ایسے گمراہ ہوئے رستہ بھی نہیں پاسکتے

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

اس کی بڑی بابرکت ذات ہے اگر چاہے تو (دنیا میں) آپ کے لیے اس سے بھی بہتر ایسے باغ پیدا کر دے کہ جن میں پڑی نہریں بہا کریں اور آپ کے لیے محل بھی تیار کر دے۔

ترکیب : افتریٰ کا فاعل ضمیر جو عبد کی طرف راجع ضمیر فرقان کی طرف راجع اعانہ کی عید کی طرف علیہ کی ضمیر افترا کی طرف قوم اخرون اعان کا فاعل ظلما و زورا مفعول جاؤ کا یا مصدر موضع حال میں ان شاء شرط جعل جو ابہ وھولکو نہ ماضیایجوزان یکون فی محل الرفع والجزم فما عطف علیہ یجوزان یکون مرفوعا اومجز و ماکما قرء الجمہور۔ تفسیر : ان آیات میں ان کے اور چند شبہات کا جواب ہے جو رسالت کی بابت تھے کہ محمد ﷺ نے قرآن کو ازخود بنا لیا ہے اور دیگر لوگ (جس سے ان کا اشارہ اہل کتاب کی طرف تھا) اس کے اس کام میں مددگار بن گئے ہیں۔ وہی لوگ انبیائِ سابقین کے حالات اور ان کی شریعتوں کے احکام اس کو بتاتے ہیں۔ یہ اپنی فصیح عبادت میں جمع کرلیتے ہیں۔ آج کل بھی متعصب لوگ یہی کیا کرتے ہیں اس شبہ کو قال الذین کفروا سے شروع کیا الذین کفروا میں اشارہ کردیا کہ ایسی بےہودہ باتیں کافر ہی بنایا کرتے ہیں۔ پہلے انبیاء کی نسبت بھی اس سے بڑھ بڑھ کر شبہات کیا کرتے تھے چونکہ یہ شبہ محض لچر، پوچ بدگمانی پر مبنی تھا اس لیے اس کے جواب میں یہی کہہ دینا کافی تھا کہ فقد جاؤظلماً و زورا کہ یہ بڑی بےانصافی اور مکر کی بات ہے کونسا اہل کتاب ہے جو آپ کو تعلیم کرتا ہے ؟ اور آپ قبل نبوت عرب بھر میں صداقت اور راستی سے موصوف تھے دنیا کے معاملہ میں کبھی جھوٹ نہ بولا ‘ بھلا خدا کے معاملہ میں جھوٹ بول کر دنیا کو دشمن بناتے۔ وقالوا اساطیر الاولین الخ یہ ایک دوسرا شبہ ہے جو فی الحقیقت پہلے شبہ کا تتمہ ہے کہ یہ قرآن پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ موسیٰ ( علیہ السلام) فرعون ‘ عاد وثمود وغیر ہم لوگوں کے تذکروں کی طرف ان کا ایماء ہے جو قرآن مجید میں نصیحت و عبرت کے لیے ذکر ہوئے ہیں۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ قل انزلہ الذی الخ کہ اس کو اس نے نازل کیا ہے کہ جو آسمانوں زمین کے اسرار اور مخفی باتوں سے واقف ہے یعنی جبکہ محمد ﷺ نہ پڑھے لکھے ہیں ‘ نہ کسی کے شاگرد ہیں ‘ نہ کہیں باہر کے ملکوں میں پھر کر آئے ہیں۔ پھر پہلے لوگوں کے حالات صحیح طور پر کہ جن کو اہل کتاب اور اہل تاریخ بھی اس کیفیت سے نہیں بیان کرسکتے کہاں سے معلوم ہوگئے اور تم کو معلوم نہ ہوئے۔ نہیں بلکہ اسی عالم الغیب نے حضرت ﷺ کو بتلائے ہیں وہ غفور الرحیم ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ غفور الرحیم ہے ورنہ اس انکار کا مزا دنیا ہی میں معلوم کرا دیتا (2) شبہ یہ تھا کہ رسول فرشتہ خصال ہونا چاہیے کہ جو نہ کھاوے نہ دنیا کے کاروبار کے لیے بازاروں میں آوے جاوے یا شاہ مرفہ الحال سا ہو کہ جو ہمارے جیسا کھانا نہ کھاوے بلکہ اس کے پاس کوئی آسمانی خزانہ ہونا چاہیے۔ اویلقی الیہ کنز الخ کہ جس کی وجہ سے عمدہ کھانا کھاوے اور اس کے نوکر چاکر بازاروں میں خریدو فروخت کیا کریں یا اس کے پاس کوئی ایسا باغ ہو کہ ہر طرح کے میوے وہاں سے کھایا کرے یہ شبہ و قالوا مال ہذا الرسول سے یا کل منہا تک ہے ولولا انزل الیہ ملک الخ اسی شبہ کی تائید میں ایک تیسرا شبہ تھا کہ اس کی تصدیق کے لیے کوئی فرشتہ کیوں نہ بھیجا گیا کہ اس کے ساتھ وہ بھی پیغام پہنچاتا لوگوں کو یقین آجاتا وقال الظالمون الخ یہ ان کا ایک اور طعن تھا کہ جب اس کے پاس نہ خزانہ غیبی ہے ‘ نہ باغ تو دیوانہ ہے اس پر کسی نے سحر کردیا۔ اس جادو کے مارے ہوئے دیوانہ کے لوگ تابع ہوگئے ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ حضرت کی تسلی کرتا ہے کہ انظرکیف ضربوا۔ دیکھو یہ بدبخت آپ کو کیا کیا کہتے ہیں گمراہ ہیں راہ راست نہیں پاسکتے۔ یعنی بیہودہ بکتے ہیں آپ کچھ خیال نہ کریں۔ تبارک الذی ان شاء الخ وہ بڑی برکت والا ہے اگر چاہو تو اے نبی ! دنیا میں تمہارے لیے اس سے بھی بہتر باغ بنا دے کہ جس کے نیچے نہریں چلا کریں اور آپ کے لیے عمدہ محل رہنے کے لیے تیار کردیں۔ مگر دنیا چند روزہ ہے۔
Ayahs 25:11–17

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

بلکہ انہوں نے تو قیامت کو جھوٹ سمجھ لیا ہے اور ہم نے بھی قیامت کے جھٹلانے والوں کے لیے دوزخ ہی تیار کر رکھی ہے۔

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

جب وہ ان منکروں کو دور سے دیکھے گی (تو جوش میں آئے گی) یہ اس کے جوش و خروش کی آواز سنیں گے

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جبکہ وہ اس کے کسی تنگ مکان میں (ہاتھ پائوں) جکڑ کر ڈال دیے جائیں گے تو وہاں موت ہی موت پکاریں گے۔

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

(کہا جاوے گا) ایک موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں کو پکارو۔

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

(اے نبی ! ان سے) پوچھو کیا یہ بہتر ہے یا وہ جنت کہ جس کا پرہیز گاروں کے لیے وعدہ کیا گیا ہے جو ان کا بدلہ اور ٹھکانا ہوگی ؟

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

وہاں ان کو جو چاہیں گے ملے گا وہ اس میں سدا رہیں گے۔ (اے نبی ! ) اس کا تمہارے رب نے ایسا وعدہ کرلیا ہے کہ جو پوچھا جاسکتا ہے

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِیْ هٰۤؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 25:17 in the Quran reader

اور جس دن کہ اللہ ان کو اور ان کے ان معبودوں کو جمع کرے گا کہ جن کو وہ اللہ کے سوا پوجا کرتے تھے تو ان سے فرمائے گا کہ کیا تمہیں نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا وہ خود راہ بھول گئے تھے ؟

مصنف میں ابن ابی شبیہ نے اور جریروابن ابی حاتم نے حلیمہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ سے کہا گیا تھا اگر آپ کی خوشی ہو تو آپکے ہاتھ میں زمین بھر کے خزانوں کی کنجیاں دی جاویں اور اس سے آخرت میں آپ کا کچھ بھی نقصان نہ ہو اور مرضی ہو تو یہ سب کچھ آخرت میں دیا جاوے۔ آپ نے فرمایا آخرت ہی میں چاہتا ہوں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور بہت جگہ اسی قسم کا مضمون احادیث صحیحہ میں آیا ہے چونکہ آپ کی نظر آخرت پر تھی اور ہونی بھی چاہیے اور کفار آخرت کے منکر تھے ان کے نزدیک جو کچھ انعام و افضال ہوں یہیں ہوں تو ہوں نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بل کذبوا بالساعۃ کہ وہ آخرت کے منکر ہیں۔ پھر واعتدنالمن کذب بالساعۃ سعیرا سے لے کر عذابا کبیرا تک مسلہ معاد اور وہاں کی سزاء و جزا کا بیان ہے اور ان کے معبودوں کا ان بت پرستوں سے الگ ہونا بھی ظاہر کرتا ہے کہ جن کو وہاں کا ذریعہ سمجھ کر ان کی عبادت کیا کرتے ہیں وما ارسلنا قبلک من المرسلین یہاں سے ان کے شبہ کا جواب شافی دیتا ہے کہ اے محمد ﷺ ! آپ سے پیشتر جس قدر دنیا میں رسول آئے ابراہیم و اسحاق و موسیٰ و عیسیٰ (علیہم السلام) کسی کے پاس بھی نہ خزانہ تھا نہ ایسا باغ نہ ان کی تصدیق کے لیے ان کے ہمراہ فرشتہ رہتا تھا وہ دنیا میں کھانا بھی کھاتے تھے بازاروں میں خریدو فروخت کے لیے بھی جاتے تھے یعنی بشر اور غریب لوگ تھے۔ رہے دنیا کے تجملات اور امارت ‘ سو یہ ایک فتنہ ہے یعنی آزمائش کہ دیکھیں امیردولتمند شکر کرتا ہے یا کفران نعمت اور غریب مفلس دنیا کی مصائب پر برداشت کرتا ہے کہ نہیں لہذا کسی کو کچھ دیا کسی کو کچھ عطا کیا۔ اس لیے مسلمانوں سے فرماتا ہے اتصبرون کیا صبر کرتے ہو یعنی صبر کرنا چاہیے اور تمہارا رب دیکھ رہا ہے اور آخرت میں جزا دے گا۔
Ayahs 25:18–20

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ یَنْۢبَغِیْ لَنَاۤ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى نَسُوا الذِّكْرَ١ۚ وَ كَانُوْا قَوْمًۢا بُوْرًا Open ayah 25:18 in the Quran reader

(تو ان کے معبود) کہیں گے تو پاک ذات ہے ہمیں یہ کب لایق تھا کہ تیرے سوا کسی اور کو کارساز بناتے 1 ؎ لیکن تو نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو دنیا میں یہاں تک آسودگی دی تھی کہ وہ تجھے یاد کرنا بھول گئے تھے اور وہ تھی بھی غارت ہونے والی قوم۔

فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ١ۙ فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّ لَا نَصْرًا١ۚ وَ مَنْ یَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِیْرًا Open ayah 25:19 in the Quran reader

(اللہ فرمائے گا) سو تمہارے معبودوں نے تمہیں جھٹلا دیا پس (اب تم پر سزا ثابت ہوچکی) جس کو نہ تم ٹال سکتے ہو اور نہ کسی سے مدد لے سکتے ہو اور جس نے تم میں سے ایسا ظلم کیا ہوگا اس کو ہم بڑا عذاب چکھائیں گے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّاۤ اِنَّهُمْ لَیَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَ یَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ وَ جَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً١ؕ اَتَصْبِرُوْنَ١ۚ وَ كَانَ رَبُّكَ بَصِیْرًا۠ Open ayah 25:20 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) تم سے پہلے ہم نے ایسا کوئی بھی رسول نہیں بھیجا کہ جو کھانا نہ کھاتے ہوں اور بازروں میں نہ پھرتے ہوں اور ہم نے تم میں سے ایک کو دوسرے کے لیے آزمائش بنا دیا ہے مسلمانو ! کیا اب بھی صبر کرتے ہو اور آپ کا رب تو دیکھ ہی رہا ہے۔

1 ؎ جب ہم نے تیرے سوا اور کسی کو کارسار نہ بنایا تو ہم اوروں کے کیونکر کارساز بنتے۔ 12 منہ
Ayahs 25:21–22

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰى رَبَّنَا١ؕ لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 25:21 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے جو ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے کہہ دیا (یہ ہی) کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہ بھیجے گئے یا ہم اپنے رب کو دیکھ لیتے (تب یقین آتا) البتہ انہوں نے تو اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھ لیا اور بہت ہی بڑی سرکشی کی ہے

یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰى یَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِیْنَ وَ یَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:22 in the Quran reader

جس دن فرشتوں کو دیکھیں گے تو اس دن مجرموں کے لیے کوئی خوشی نہ ہوگی اور کہیں گے دور دور

ترکیب : لولاانزل الخ مقولہ ہے قال الذین کا مستقرا تمیز خیر الحق الملک کی صفت۔ یوم کا نصب اذکر محذوف ہے۔ تفسیر : : منکروں کا یہ ایک اور بھی شبہ تھا جس کو وقال الذین لا یرجون لقاء نا سے شروع کرتا ہے کہ جن کو ہم سے ملنے کی امید نہیں یہ نہیں سمجھتے کہ مر کر اللہ کے سامنے جانا ہے وہ کہتے ہیں (کیونکہ ایسی باتیں وہی کہا کرتے ہیں ایمانداروں کی تو کیا مجال) کہ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہ آئے محمد ﷺ کے پاس کیوں آتے ہیں یا ایسا ہوتا کہ ہم خدا کو دیکھ لیتے پھر اس سے آپ پوچھ لیتے کہ یہ تیرا بھیجا ہوا نبی ہے کہ نہیں ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے لقد استکبروا فی انفسہم الخ کہ انہوں نے اپنے آپ کو اس لایق سمجھ لیا ہے کہ ان کے پاس فرشتے آویں یا دنیا میں خدا تعالیٰ کو دیکھیں یعنی یہ بڑی تکبر اور سرکشی کی بات ہے۔ ملائکہ مخصوص لوگوں کے پاس آتے ہیں جن کی روحانیت ان کے قریب قریب ہی پہنچی ہوتی ہے سو وہ انبیاء ہیں اسی طرح خدا تعالیٰ لطیف الخبیر کو دنیا میں ہر ایک کب دیکھ سکتا ہے۔ ع خفاش کو تاب ہے کہ آفتاب کو دیکھے ہاں قیامت میں سب لوگ ملائکہ کو دیکھیں گے پھر اس روز کہ وہ ملائکہ کو دیکھیں گے ان کے لیے کوئی خوشی نہ ہوگی ‘ عذاب کے فرشتہ سامنے آئیں گے جن کو دیکھ کر الخدر مانگیں گے۔
Ayahs 25:23–24

وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا Open ayah 25:23 in the Quran reader

اور جو کچھ عمل انہوں نے کیا ہوگا ہم اس کی طرف توجہ کریں گے تو اس کو خاک دھول کر ڈالیں گے۔

اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّ اَحْسَنُ مَقِیْلًا Open ayah 25:24 in the Quran reader

جنت والوں ہی کا اس روز ٹھکانا بہتر ہوگا اور خواب گاہ بھی عمدہ ہوگی۔

وقدمنا الی ما عملوا من عمل سے اخیر تک اسی مناسبت کے سبب قیامت کا حال اور ان منکروں کا وبال و نکال بیان شروع کردیا جو ملائکہ کے دیکھنے کی خواہش کرتے ہیں اور وہ بھی تکبر کی راہ سے کہ رسول کا کہنا ہم نہیں مانتے ہمارے پاس خود فرشتے آنے چاہییں قدمنا الی ماعملوا یعنی وہ جو دنیا میں بارادہ ثواب یہ کفار کچھ عمل بھی کرتے ہیں ایمان و اعتقاد صحیح نہ ہونے کی وجہ سے اس دن ھباء منثورا یعنی نیست و نابود ہوجائیں گے کچھ کام نہ آویں گے ہاں ایماندار نیکو کار اس روز اچھے مقام میں ہوں گے۔ اس کے بعد اس دن کے چند اور حالات ہیبتناک بیان فرماتا ہے : (1) یوم تشقق السماء بالغمام ایک جگہ اور آیا ہے ھل ینظرون الاان یاتیہم اللہ فی ظلل من الغمام ابرسفید اس ابر سے کیا مراد ہے ؟ غالباً ملائکہ اور دیگر روحانیات کے انوار ہوں جو بصورت ابر سفید دکھائی دیں گے آسمان کھل کر اس ابر میں سے قیامت کو ملائکہ نمودار ہوں گے (2) الملک الخ اس روز حقیقی بادشاہت اللہ کی ہوگی اگرچہ آج بھی اس کی حقیقی بادشاہت ہے مگر دنیا میں مجازی بادشاہتیں بھی ہیں اور اس روز کسی کی نہ ہوگی اس لیے ظہور کامل اس روز ہوگا۔
Ayahs 25:25–26

وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِیْلًا Open ayah 25:25 in the Quran reader

اور جس روز کہ بادلوں سے آسمان کھل 1 ؎ جاویں گے اور جوق در جوق فرشتے اترنے لگیں

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

تو اس دن (حقیقی) سلطنت رحمن ہی کی ہوگی اور وہ دن کافروں پر بڑا ہی سخت ہوگا

1 ؎ یہ قیامت برپا ہونے کے بعد حشر کے دربار عدالت کی کیفیت بیان ہو رہی ہے اس کے بعد کی آیتیں یہی کہہ رہی ہیں تو اس وقت آسمان نہ پھٹے گا بلکہ اس سے پہلے پھٹ چکے گا اور نیا آسمان ‘ نئی زمین قائم ہوگی لیکن ہنوز اس پہلے حادثہ کے اتار میں سے دھواں اور بادل محیط ہوں گے یوم تشق السماء بالغمام اب وہ بادل اور بخارات آسمان سے دور کئے جائیں گے اور ملائکہ جوق در جوق اترنے شروع ہوں گے کیونکہ حساب و کتاب کے لیے درباری اور کارکن جماعت آنے لگے گی تشق بمعنی باعدادبمعنی انکشف بالغمام ای عن الضمام۔ واللہ علم۔ 12 منہ
Ayahs 25:27–30

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور اس دن ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا اے کاش میں بھی رسول کے ساتھ راہ چلا ہوتا۔

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے میری خرابی کاش میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اس نے تو نصیحت کے آئے بعد ہی مجھے بہکا دیا۔ اور شیطان تو انسان کو رسوا کرنے والا ہی تھا

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور رسول کہے گا اے میرے رب ! البتہ میری قوم نے تو اس قرآن کو زٹل سمجھ رکھا تھا۔

(3) یوم یعض الظالم قرینہ عبارت تعمیم پر دلالت کرتا ہے یعنی ہر ظالم اس روز ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا ‘ افسوس کرے گا کہ اے کاش میں فلاں شخص کو دوست نہ بناتا۔ اس سے مراد اس کی وہ شخص ہوگا کہ جس نے اس کو دنیا میں ہدایت پانے کے بعد ہدایت سے دوستی کے پیرایہ میں باز رکھا تھا اور ایسا بہت ہوتا ہے۔
Ayah 25:31

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور ہم یونہی مجرموں کو ہر ایک نبی کا دشمن بناتے رہے ہیں۔ اور (لوگوں کی) رہنمائی کرنے کو (انبیاء) مدد کرنے کو آپ کا رب کافی ہے

ترکیب : جملۃ واحدۃ حال من القرآن اے مجتمعاً ۔ کذلک اے انزل کذلک فالکاف فی موضع نصب علی الحال لنثبت اللام تتعلق بالفعل المحذوف۔ لیکن بعض مفسرین کہتے ہیں ان عام الفاظ میں کسی شخص خاص کی طرف بھی اشارہ ہے اور یہ ہوسکتا ہے پھر اس شخص خاص سے مراد وہ کہتے ہیں عقبہ ابن ابی معیط ہے کہ جب وہ سفر سے آتا تھا تو دعوت دیا کرتا تھا۔ چناچہ ایک بار اس نے آنحضرت ﷺ کو بلایا آپ نے اس کے کفر کی وجہ سے انکار کیا۔ اس نے کلمہ شہادت پڑھ لیا تب آپ تشریف لے گئے۔ اس کی خبر ابی بن خلف کو بھی ہوئی وہ اس کا بڑا دوست تھا اس نے اس کو بڑی ملامت کر کے اسلام سے برگشتہ کرا دیا اور حضرت ﷺ کی گستاخی پر آمادہ کیا (اس قصہ کو معالم التنزیل وجلالین وغیرہ کتابوں میں نقل کیا ہے اور ابن جریر نے بھی ابن عباس ؓ سے ایسا ہی نقل کیا ہے) اس تقدیر پر ظالم سے مراد عقبہ اور فلاں سے مراد ابی بن خلف کافر ہے۔ وقال الرسول الخ جب کفار نے آنحضرت ﷺ کو طرح طرح سے ستایا تو آپ نے بددعا تو نہ کی کیونکہ رحمۃ للعالمین تھے مگر خدا تعالیٰ سے شکایت کی جس کو ان آیات میں اللہ تعالیٰ نقل کرتا ہے ابو مسلم اصفہانی کہتے ہیں یہاں قال بمعنی یقول ہے یعنی قیامت میں آنحضرت ﷺ ان لوگوں کی یوں شکایت کریں گے جیسا کہ آیا ہے فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشہید جئنا بک علی ھؤلاء شہیدا مہجورا بمعنی متروک اور ہجر بمعنی ہذیان بھی ہوسکتا ہے کہ اس قرآن کی بابت انہوں نے بےہودہ اور لغو باتیں بنائیں کبھی وہ اس کو سحر کہتے تھے ‘ کبھی ازخود بنایا ہوا ‘ کبھی اگلے لوگوں کی کہانیاں۔ وکذالک جعلنا الخ اس آیت میں اللہ تعالیٰ حضرت کو آپ کی شکایت پر تسلی دیتا ہے اور صبر اور برداشت پر آمادہ کرتا ہے کہ یہ کچھ نئی بات نہیں ہمیشہ سے ہر ایک نبی کے کافر سخت دشمن ہوتے آئے ہیں آپ اطمینان رکھیں اللہ آپ کی مدد کرنے کے لیے اور آپ کی قوم کو ہدایت کرنے کو کافی ہے وکفی بربک ھادیا ونصیرا۔ قرآن دفعۃً نازل نہ ہونے کے اسباب : وقال الذین کفروا الخ یہ ان کا قرآن مجید پر ایک اور شبہ تھا کہ یہ تھوڑا تھوڑا وقتاً فوقتاً کیوں نازل ہوتا ہے ایک ہی بار مجتمع ہو کر کیوں نہ نازل ہوا ؟ پس معلوم ہوا کہ محمد ﷺ ازخود سوچ سوچ کر تصنیف کرتے ہیں۔ اس کا جواب دیتا ہے کذالک لنثبت بہ فؤادک ورتلناہ ترتیلا کہ اس کے اس طرح نازل کرنے میں چند حکمتیں ہیں جن کی طرف اجمالاً اس جملہ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ (1) آنحضرت ﷺ اور اکثر صحابہ لکھے پڑھے نہ تھے اگر یک بارگی اتنی بڑی کتاب نازل ہوتی تو حفظ نہ رہتی اس لکھے پر اعتماد رہتا۔ سو اگلی کتابوں کی طرح سے اس میں بھی تحریف و تبدیل ہوتی یا کسی حادثہ میں معدوم ہوجاتی پھر جب تھوڑا تھوڑا نازل ہوا تو دلوں میں جمتا گیا لوح حافظہ پر ثابت ہوتا گیا۔ لنثبت بہ فؤادک کے یہی معنی ہیں۔ اس لیے اس میں ایک نقطہ کا بھی فرق نہ آیا۔ (2) یہ کہ تمام احکام جو یکبارگی نازل ہوتے قوم کو ان پر ثابت و قایم رہنا شاق ہوجاتا۔ (3) وقتاً فوقتاً نئے نئے حوادث پیش آتے تھے اور جاہل قوم کی تربیت وتعلیم میں ایسی باتیں پیش آیا بھی کرتی ہیں پس ہر حادثہ میں جبرئیل کا کلام الٰہی لے کر آنا آپ کے لیے تقویت قلبی کا باعث تھا۔ (4) یکبارگی قرآن نازل ہوتا تو کفار مقابلہ میں کہہ سکتے تھے کہ اتنی بڑی کتاب ہم کیونکر لاسکتے ہیں لیکن جب تھوڑا تھوڑا نازل ہوا اور کسی ٹکڑے کا بھی جواب نہ بن سکا تو حضرت کا دل قوی ہوگیا ان کا عذر جاتا رہا۔ (5) حالت الہامی ایک عجیب حالت ہے تھوڑے نازل ہونے میں اخیر عمر تک حضرت ﷺ کو حاصل رہی جو قلبی تقویت کا باعث ہوا۔ ولا یاتونک بمثل سب اعتراضات کے جواب کے بعد خاتمہ کے طور پر فرماتا ہے کہ آپ کے پاس وہ جو کوئی مثل لاتے ہیں یعنی اعتراض کرتے ہیں تو ہم اس کے جواب میں آپ کو حق بات کھلی ہوئی بتلا دیتے ہیں الذین یحشرون فرماتا ہے ایسے لوگ اوند ہے منہ ہنکا کر جہنم میں ڈالے جائیں گے یہ لوگ بڑے شریر و گمراہ ہیں یہ ان کے اوندھے اعتراضات کا نتیجہ ہے جس کی سزا جہنم میں اوندھا گرنا ہے۔
Ayahs 25:32–34

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کافروں نے (یہ بھی) کہہ دیا کہ اس پر یک بارگی 1 ؎۔ قرآن کیوں نہ نازل کیا گیا۔ یوں ہی نازل ہونا چاہیے تھا تاکہ اس سے تمہارے دل کو ہم تسکین دیتے ہیں اس لیے ہم نے ٹھہر ٹھہر کر پڑھ سنایا۔

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) جو سوال یہ لوگ آپ پر پیش کریں گے ہم بھی تم کو اس کا بہت ٹھیک جواب اور بہت عمدہ توجیہ بتا دیں گے۔

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو منہ کے بل گھسٹوا کر جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔ یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کا بہت ہی برا مقام ہے اور وہ بہت ہی بڑے گمراہ ہیں۔

1 ؎ یعنی رسول پر۔ 12 منہ