27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 27:41–43

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان نے حکم دیا کہ اس کے تخت کو متغیر کردو (اُس کے امتحان کے لیے) تاکہ ہم دیکھیں کہ وہ راہ پر آتی ہے یا ان میں سے ہوتی ہے جو راہ نہیں پاتے۔

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

پھر جب وہ آئی تو کہا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی ایسا ہی ہے ؟ ملکہ نے کہا گویا یہ (ہوبہو) وہی ہے اور ہم کو تو پہلے ہی معلوم ہوگیا تھا (کہ آپ برگزیدہ نبی ہیں) اور ہم تو فرمانبردار ہوچکے ہیں

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور اس نے کہا اللہ کے سوا جو وہ غیر معبودوں کو پوجا کرتی تھی، اس سے اس کو باز رکھا 1 ؎ کیونکہ وہ کافروں میں کی تھی

ترکیب : : ننظر بالجزم علی الجواب و بالرفع علی الاستیناف و صدھا۔ الفاعل اما الضمیر الراجع الی اللہ تعالیٰ او الی سلیمان ای و صدھا ما کانت الخ عباد تھا۔ الشمس عن التقدم الی الاسلام انہا بالکسر علی الاستیناف و بابفتح علی البدل من مایکون ما علی ھذا مصدریۃ الصرح القصر و قیل عرصۃ الدار۔ قال نکروا لہا الخ یہاں سے پھر اصل قصہ شروع ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس کے تحت میں کچھ ایسا تغیر و تبدل کردو کہ اس کی پہلی صورت بدل جاوے تاکہ میں جب بلقیس آوے اس کی عقل کا امتحان کروں کہ۔ تفسیر : : دُنیاوی چیزوں کی پہچان میں جب یہ حال ہو تو خدا کی ذات وصفات کے پہچاننے میں تم نے کتنی غلطی نہ کی ہوگی ؟ چناچہ وہ آئی اور اس سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کا ایسا ہی تخت ہے، اس کو پہچان نہ سکی، دھوکے میں آگئی، کہا ایسا ہی میرا تخت ہے، اس کو اس کے مشابہ بتلایا یہ نہیں کہا کہ یہ وہی ہے، مگر تھوڑی دیر بعد بلقیس کو معلوم کرایا گیا کہ یہ وہی تخت ہے، اس پر اس نے بطور معذرت کرکے کہا و اوتینا العلم الخ کہ حضور ہم کو کیا آزماتے ہیں، ہم کو تو اس حالت سے پہلے ہی معلوم ہوگیا تھا کہ آپ بڑے طاقتور 1 ؎ ہیں۔ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ ہیں، وکنا مسلمین اور ہم یہاں حاضر ہونے سے پہلے ہی آپ کے فرمانبردار ہوچکے ہیں جس لیے حاضر ہوئے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا کلام ہے کہ ہم کو پہلے ہی معلوم تھا کہ تو نہ بتلاسکے گی اور ہم ہمیشہ سے اللہ کے فرمانبردار ہیں اور بلقیس کو ایمان لانے سے آفتاب پرستی نے روک رکھا تھا اور یہ اس لیے کہ وہ بھی کافر قوم میں کی تھی، وصدہا الخ کے یہ معنی ہیں۔ یا یہ کہ سلیمان نے اس کو عبادت غیر اللہ سے روک دیا۔ پھر دوسرا امتحان اور کیا گیا، قیل لہا ادخلی الصرح 2 ؎ الخ صرح قصر کو بھی کہتے ہیں، یعنی محل اور اس کے صحن کو بھی کہتے ہیں۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے ایک ایسا محل بنایا تھا کہ جس کا صحن پانی کا حوض تھا جس میں رنگ برنگ کی مچھلیاں تھیں، مگر اس کو اوپر سے صاف بلور یا سفید شیشے سے پاٹ دیا تھا، اس کے اوپر سے آتے جاتے تھے، جب بلقیس کو دربار میں بلایا تو اس محل کے صدر میں تخت بچھواکر اس پر بیٹھے اور بلقیس کو آنے کا حکم دیا جس کا راستہ اسی حوض پر سے تھا، شیشہ و بلور میں پانی لہرانا اور مچھلیوں کا پھرنا دیکھ کر یہ سمجھی کہ حوض ہے، اس لیے پنڈلیوں سے کپڑا اٹھایا، وہ سمجھ گئی تھی کہ گھٹنے سے کم ہی کم پانی ہے، کپڑا اٹھانا تھا کہ سلیمان نے فرمایا انہ صرح ممرد من قواریر یہ حوض پانی کا شیشوں سے پٹا ہوا ہے، کپڑا اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ عورت تھی اور اس پر بادشاہ ملک کے عین دربار میں اس کی بےعقلی اور گنوار پن ثابت ہوجانے سے اس کو سخت ندامت ہوئی اور سمجھ گئی کہ میری عقل خاک بھی نہیں۔ سلیمان (علیہ السلام) کے روبرو صاف کہہ دیا۔ 1 ؎ کیونکہ تخت منگالیا اسی لیے ہم مطیع ہو کر آئے ہیں۔ 12 منہ 2 ؎ قال ابن قیبۃ الصرح بلاط اتخذ لھا من قواریر وجعل تحرتاء وسمکا واصلہ من التصریح وھو الکیف۔ کجۃ ہی معظم الماء قمروای مسقف مسطح الممرو المحکوک الملمس ومنہ الامر ولملا بسۃ وجہ والشجر المرد التی ل اورق لھا۔ 12 منہ
Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

ملکہ سے کہا گیا کہ محل میں چلئے، پھر جب اس نے اس کو دیکھا تو اس کے صحن بلوری کو پانی سمجھی اور اپنی دونوں پنڈلیوں سے کپڑا اٹھادیا۔ سلیمان نے کہا کہ یہ تو ایک حوض ہے شیشوں سے پٹا ہوا وہ بولی کہ اے میرے رب میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا اور میں سلیمان کے ساتھ اللہ کی حکم بردار ہوئی ہوں جو جہان کا رب ہے۔

رب انی ظلمت نفسی الخ کہ اے رب ! اس وقت تک میں بڑی خطا وار تھی اب سلیمان ( علیہ السلام) کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لائی۔ سلیمان ( علیہ السلام) کے ساتھ سے یہ مراد کہ سلیمان کی ہدایت اور رہنمائی سے یا یہ کہ جس طرح سلیمان ( علیہ السلام) لائے ہیں، اس طرح میں بھی ‘ کیونکہ رب العالمین کے پہچاننے میں پہلے سے قاصر تھی۔ قصہ تمام ہوا، اب قرآن میں اس بات کا کچھ ذکر نہیں کہ سلیمان ( علیہ السلام) کے ساتھ اس نے شادی کی اور وہیں رہ گئی یا پھر یمن میں چلی گئی۔ نہ یہ کہ اس وقت تک اس کی شادی ہوچکی تھی کہ نہیں اور پھر شادی یمن میں کس کے ساتھ ہوئی ؟ ان باتوں کا ثبوت تواریخ سے ہوگا، ہم کو ان سے کچھ سروکار نہیں۔ نہ یہ بات قرآن سے ثابت ہے کہ بلقیس پر سلیمان ( علیہ السلام) غائبانہ عاشق تھے اور بلقیس کسی پری یا جنیہ کے پیٹ سے پیدا ہوئی تھی، اس لیے مشہور تھا کہ اس کی پنڈلیوں پر بال ہیں، اس بات کے دریافت کرنے کو سلیمان ( علیہ السلام) نے یہ تدبیر کی تھی، یہ سب افسانے ہیں جو اپنے خیالات کے مطابق لوگوں نے قرآن و احادیث میں شامل کردیے ہیں۔ واللہ اعلم۔ فوائد : (1) قرآن مجید سے صرف یہ ثابت ہوا کہ ہد ہد نے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) سے بلقیس کی مفصل کیفیت بیان کی اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے ہدہد کو نامہ دے کر بھیجا جس میں ظاہر کیا گیا تھا کہ بلقیس مطیع ہو کر یہاں آوے، بلقیس کے آنے سے پیشتر سلیمان ( علیہ السلام) نے اس کا تخت منگالیا جس کے لانے کی بابت عفریت جن نے یہ کہا تھا کہ میں آپ کے اٹھنے سے پیشتر اس کو لاسکتا ہوں، مگر ایک شخص نے کہ اس کو کتاب کا علم تھا (نہ اس کا قرآن میں نام بتلایا ہے، نہ یہ کہ کون سی کتاب کا اس کو علم تھا نہ یہ کہ کتاب کے علم سے کیا مراد ہے ؟ ہاں مفسروں نے اس کا نام آصف بن برخیا بتلایا ہے اور اس کو سلیمان ( علیہ السلام) کا وزیر کہا ہے اور علم کتاب سے مراد اسم اعظم کا علم بتلایا ہے) اس کو لا موجود کیا۔ بلقیس آئی اور اسلام لائی منکروں کے اعتراضات : (2) ان باتوں پر عقلی قاعدہ سے کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا، مگر تاہم مخالفوں نے دو قسم کے اعتراضات کئے ہیں، اول اہل کتاب نے کہ یہ قصہ ہماری کتابوں میں نہیں اس لیے غلط ہے۔ اس کا جواب ہم بارہا دے چکے ہیں کہ بہت سی کتابوں کے بائبل میں حوالے ہیں اور اب وہ کتابیں مفقود ہیں تو پھر اہل کتاب کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ یہ واقعہ ان میں نہ ہوگا، ملاحظہ ہوا اول سلاطین کا باب 22 پھر سلیمان ( علیہ السلام) کے جملہ حالات کا حصر صرف کتاب السلاطین وغیرہ کتب بائبل پر کیونکر سمجھ لیا ؟ دوسرا اعتراض فلسفیانہ خیالات کا ہے۔ (1) یہ کہ اگر ہد ہد جانور ہے تو اول اس کی رفتار میں ایسی سرعت کہاں کہ تھوڑی سی دیر میں شام کے ملک سے اڑ کر یمن میں پہنچ جائے اور وہاں سے لوٹ کر آجائے۔ دوم اس جانور کو خدا پرستی اور آفتاب پرستی میں کیا فرق اور پھر اس نے اس قدر لمبی چوڑی گفتگو سلیمان ( علیہ السلام) سے کیونکر کی ؟ یہ باتیں بعیدازقیاس ہیں۔ (2) سلیمان شام کے بادشاہ تھے کیا ان کو بلقیس کا حال معلوم نہ ہوگا جو وہ بھی ایک بڑی سلطنت کی مالک تھی، باوجودیکہ تم کہتے ہو جن شیاطین ان کے تابع تھے، پھر صرف ہد ہد وغیرہ نے خبردی ؟ (3) سینکڑوں کوسوں کے فاصلہ سے بلقیس کا تخت پلک جھپکنے سے پہلے سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس کیونکر آگیا اور علم الکتاب سے یہ قدرت کب حاصل ہوسکتی ہے، کیا اب ایسے لوگ نہیں کہ ایک کتاب تو کیا سینکڑوں کتابوں کو دھوئے بیٹھے ہیں، وہ تو دو کوس سے بھی اتنی جلدی تخت تو کیا کوئی تختہ ہی نہیں لاسکتے۔ یہ باتیں پرانے افسانے ہیں۔ جواب : ان کے جواب معتزلہ اور ان کے پیروان مریدان نے بذریعہ تاویل کے یوں دیے ہیں کہ الطیر جمع طائر پرند کو بھی کہتے ہیں اور تیز گھوڑے کے سوار کو بھی جیسا کہ کسی 1 ؎ حدیث میں آیا ہے کہ بہتر وہ شخص ہے کہ جو گھوڑے کی لگام کو اللہ کی راہ میں تھامے ہوئے تیار ہو، یہ طیر جہاں کھٹکا پائے اڑ جائے الغرض کلام عرب میں طائر تیز گھوڑے کے سوار کو بھی کہتے ہیں۔ تفقد الطیر جمع طائر، یعنی سواروں کی فوج کو دیکھا، ان میں ہد ہد کو نہ پایا، جو ان کا سپہ سالار تھا اور ہدہد کا سپہ سالار ہونا کتاب السلاطین 2 ؎ سے ثابت ہے، وہ نمک حلال سلطنت تھا، بغیر اطلاع یمن کی طرف بلقیس کے حالات دریافت کرنے چلا گیا اور سلیمان ( علیہ السلام) کو آ کر خبر دی۔ فمکث غیر بعید کے یہ معنی نہیں کہ اسی وقت آموجود ہوا بلکہ بہت زمانہ نہیں گزرا معمولی زمانہ سفر سے بہت جلد آگیا، لوگوں نے ہد ہد کو سچ مچ کا ہدہد جانور سمجھ لیا اور تفصیلی خبر سلیمان 1 ؎ قال قال رسول اللہ ﷺ من خیر معاش الناس لھم رجل ممسک عنان فرسہ فی سبیل اللہ یطیر علی تمنہ کلما سمع ہیعۃً او فرعۃً طار علیہ الخ رواہ مسلم۔ 12 منہ 2 ؎ اول کتاب السلاطین کے دسویں باب میں اور 2 کتاب التواریخ کی 9 باب میں سلیمان کے پاس سبا کی ملکہ کا حاضر ہونا لکھا ہے اول کتاب التواریخ کے خاتمہ میں داؤد کی دیگر ہالات کا حوالہ سموئیل غیب بین کی تاریخ اور ناتن نبی اور جاو غیب بین کی تاریخ کا دیا ہے جو آج مفقود ہیں۔ 12 منہ u کو معلوم نہ تھی اور یہ ممکن ہے کیونکہ اس عہد میں تار اور پل نہ ہونے کی وجہ سے غیر مملکتوں کے حال تفصیل سے بمشکل معلوم ہوتے تھے، اب رہا تخت کا طرفۃ العین میں، حاضر ہونا سو یہ قرآن مجید سے ثابت نہیں جو ثابت ہے کہ جب سلیمان ( علیہ السلام) نے اس کو اپنے روبرو دیکھا تو شکر کیا کہ ایک بادشاہ کا تخت میرے روبرو خدا کی عنایت سے موجود ہے، ہاں ایک عفریت بمعنی قومی جن یعنی عمالیقی آدمی نے یہ کہا تھا اور قوی اور سخت آدمیوں کو جن سے تعبیر کیا کرتے ہیں جس طرح نیک کو فرشتہ سے اور خوبصورت کو پری سے اور ایک اہل علم نے بھی کہا تھا کہ میں طرفۃ العین میں لاحاضر کرتا ہوں، اب یا تو وہ ان کی زیادہ گوئی تھی یا ایک محاورہ کی بات ہے جلدی کام کرنے کو کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ کام طرفتہ العین میں یا پلک جھپکنے میں ہوگیا یا کردوں گا، لیکن خدا تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ پلک جھپکنے میں تخت آگیا۔ یہاں تک کہ اس کے لانے والے کا نام بھی نہیں بتلایا بلکہ یہ کہا ہے فلما راہ مستقر عندہ ممکن ہے کہ یہ اہل علم کسی حکمت عملیہ سے تخت کو لایا ہو اور جلد لایا ہو۔ صحیح جواب یہ ہے کہ جانوروں کا خط لے جانا کچھ مشکل بات نہیں، طوطے اور مینا کی گفتگو اور مالک کو باتوں پر مطلع کردینا بارہا مشاہدہ میں آیا ہے، پھر ہد ہد نے ایسا کیا ہو تو کیا محال بات ہے ؟ اور جب ہم یہ بات ثابت کرچکے ہیں کہ جن ایک جداگانہ مخلوق ہے، اس کے افعال و قویٰ انسانی افعال و قویٰ سے کہیں زیادہ قوی ہیں تو پھر اس سے ایسی بات کیا بعید ہے اسی طرح اسماء الٰہی اور روحانیات کی طاقتیں حد سے باہر ہیں جو اس زمانہ میں مفقود ہیں پھر سلیمان (علیہ السلام) کے پاس اگر کوئی ایسا شخص ہو تو کیا بعید ہے، انسان کی عادت ہے جس بات کو آنکھ سے نہیں دیکھتا اور وہ اس کے نزدیک محال معلوم ہوتی ہے تو انکار کردیتا ہے، تار برقی اور ریل کے جاری ہونے سے پیشتر جو کوئی ان کے حالات بیان کرتا تو مجنون شمار کیا جاتا، تمام عالم خدا کے عجائبِ اسرار کا مجموعہ ہے، اس وقت کے تعلیم یافتوں نے سمجھ لیا کہ ہم نے سب کا احاطہ کرلیا حالانکہ اسرار و روحانیات اور ان کی تاثیرات اور نفوس قدسیہ کی قوتیں جو کرامت یا معجزہ کہلاتی ہیں، ابھی تک ان کے ذہن بلید تک بھی نہیں، ان فنون سے نا آشنا محض ہیں، اس لیے انکار کرتے ہیں تمسخر سے پیش آتے ہیں، واللہ اعلم۔
Ayahs 27:45–58

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور البتہ قوم ثمود کی طرف بھی ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا (یہ حکم دے کر) کہ اللہ کی بندگی کیا کرو، پھر تو وہ دو فریق ہو کر باہم جھگڑنے لگے۔

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

صالح نے کہا کہ اے قوم ! تم کس لیے نیکی سے پہلے برائی کے لیے جلدی کرتے ہو۔ تم اللہ سے معافی کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جاوے۔

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا ہم کو تو تجھ سے اور تیرے ساتھ والوں سے نحوست معلوم ہوئی، صالح نے کہا تمہاری نحوست خدا کی طرف سے ہے بلکہ تم ایک ایسی قوم ہو کہ جو آزمائش میں ڈالی گئی ہے

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور وہ اس شہر میں نو شخص ایسے تھے کہ جو زمین پر فساد مچاتے پھرتے تھے اور اصلاح نہ کرتے تھے۔

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا باہم اللہ کی قسم کھاؤ کہ صالح اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں، پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم تو اس کے کنبہ کی ہلاکت کے وقت موجود ہی نہ تھے اور ہم بیشک سچے ہیں

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور انہوں نے ایک داؤ کیا تھا اور ہم نے بھی ایسا داؤ کیا کہ ان کو خبر بھی نہ ہوئی،

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

پھر دیکھو ان کے مکر کا کیسا انجام ہوا کہ ہم نے ان کو اور ان کی تمام قوم کو غارت کردیا،

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

پھر یہ ان کے گھر ہیں کہ خالی پڑے ہوئے ہیں، ان کے ظلم سے۔ البتہ اس میں ایک بڑی نشانی ہے،

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

ان کے لیے جو جانتے ہیں اور جو ایمان لائے اور پرہیز گاری کیا کرتے تھے، ان کو بچالیا

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو بھی بھیجا تھا، دیکھ (بھال) کر یہی بےحیائی کے کام کرتے ہو،

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں پر خواہش کرکے آتے ہو۔ (کچھ نہیں) بلکہ تم جاہل قوم ہو،

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

پھر اس کی قوم کا اور کوئی جواب نہ تھا۔ بجز اس کے کہ یہ کہہ دیا لوط کے گھرانے کو اپنی بستی سے نکال دو ، کیونکہ یہ لوگ بڑے ستھرے ہیں،

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

پھر ہم نے لوط اور اس کے گھرانے کو تو بچالیا مگر اس کی بیوی کو (کیونکہ) ہم اس کو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ٹھہرا چکے تھے

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور (باقی) سب پر (پتھروں) کا مینہ برسادیا، پھر ڈرائی ہوئی قوم کا کیا ہی برا مینہ تھا۔

ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صالحًا یہ تیسرا قصہ حضرت صالح (علیہ السلام) کا ہے، اس کی شرح ہوچکی مگر اس جگہ عبارت کا حمل کرنا ضروری ہے۔ فاذا ھم الخ جب صالح (علیہ السلام) نے وعظ و دعوت اسلام شروع کی تو دو فریق ہوگئے، ایک اہل توحید کا دوسرا وہی گمراہوں کا اور باہم جھگڑنے لگے لم تستعجلون حضرت صالح نے فرمایا تھا کہ اگر تم نہ مانو گے تو عذاب الٰہی نازل ہوگا، وہ کہنے لگے عذاب کیوں نہیں آتا۔ اس پر صالح نے فرمایا، خدا سے بدی کیوں مانگتے ہو، بھلائی ‘ خیروبرکت مانگو، ایمان لاؤ استغفار کرو، قالوا طیرنا حضرت صالح ( علیہ السلام) کی دعوت کے بعد ان پر کچھ خشک سالی نمودار ہوئی تھی، اس پر وہ صالح سے کہنے لگے۔ یہ تو تجھ سے اور تیرے ساتھ والوں سے نحوست آئی ہے، صالح ( علیہ السلام) نے فرمایا، یہ تمہارے اعمال کی نحوست خدا کے ہاں مقدر تھی اور تم کو اس سے آزمایا جاتا ہے۔ بل انتم قوم تفتنون، شہر میں نو شخص بڑے بدمعاش تھے، باہم قسم کھائی کہ رات کو گھر میں گھس کر صالح ( علیہ السلام) اور اس کے کنبے کو قتل کرڈالو اور پھر اس کے وارثوں سے کہہ دینا کہ وہاں ہم موجود نہ تھے۔ آخر خدا نے صالح (علیہ السلام) کو محفوظ رکھا اور وہ تمام قوم آسمانی بلا سے ہلاک ہوئی اور ان کے گھر خالی ہوگئے، ان کا داؤ غلط ہوا، خدا کی تدبیر صادق ہوئی، ان کے مکر اور فریب کی پاداش کو مکروفریب سے تعبیر کرنا ایک محاورہ۔ عبدی رابدی سہل باشد جزا، حالانکہ بدی کی جزا بد نہیں مگر چونکہ دونوں فعل ایک قسم کے ہوتے ہیں، اس لیے علی سبیل المشاکلہ اس پر بھی وہی لفظ بولا جاتا ہے جو لوگ ایسے محاورات نہیں سمجھتے وہ قرآن پر الزام لگاتے ہیں کہ اس میں خدائے قدوس کو برے صفات سے متصف بنایا ہے، ولوطاً الخ یہ چوتھا قصہ حضرت لوط ( علیہ السلام) کا ہے، وانتم تبصرون یعنی تم جانتے ہو کہ یہ بےحیائی کا کام ہے، پھر اس کو کئے جاتے ہو، اس بات کا ان کی طرف سے یہی جواب تھا کہ لوط ( علیہ السلام) کو اپنے شہر سے نکال دو ، یہ بڑی پاکیزگی ظاہر کرتے ہیں۔ واتاکم لتاتون استفہام انکار میں ہے یعنی تم کو ایسا نہ کرنا چاہیے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے یعنی لڑکوں سے شہوت رانی کرو۔ قدرناھا من الغابرین حضرت لوط ( علیہ السلام) کو حکم ہوا تھا کہ بڑی رات سے شہر چھوڑ کر چلے جانا جو پیچھے رہے گا ہلاک ہوگا۔ بیوی پیچھے رہ گئی تو وہ ہلاک ہوئی، فرماتا ہے کہ ازل میں ٹھہر گیا تھا کہ وہ پیچھے رہے گی۔
Ayah 27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

کہو سب تعریف اللہ کو ہے اور سلام اس کے برگزیدہ بندوں پر ہے۔ بھلا اللہ بہتر ہے یا وہ کہ جن کو وہ شریک بناتے ہیں

حضرت انبیاء (علیہم السلام) کے قصے بیان فرما کر اور مخالفوں پر ہلاکت کا آنا ظاہر کرکے آنحضرت ﷺ کی طرف خطاب کرتا ہے کہ قل الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفٰی کہہ دو کہ سب تعریف اللہ کو ہے کہ جس نے اپنے پاک باز بندوں کو بچالیا اور سرکشوں کو ہلاک کیا اور ان تمام برگزیدوں پر سلام و صلوٰۃ کہ جنہوں نے خدا کی راہ میں مخالفوں کے کیسے کیسے جورو جفا اٹھائے ؟ یہ کلام گویا قصص سابقہ کا خاتمہ ہے، پر کس خوبی کا خاتمہ کہ جس کا بیان نہیں اور نیز یہ کلام آیندہ باتوں کے لیے تمہید بھی ہے کہ اللہ کی تعریف اور برگزیدوں پر سلام کرکے کوئی نصیحت یا عمدہ کام شروع کرنا چاہیے۔ دلائل توحید : اس کے بعد مشرکین کو اپنے عجائبِ قدرت ملاحظہ کراتا جاتا ہے اور پوچھتا جاتا ہے کہ بتلاؤ اللہ کے سوا یہ کس کے کام ہیں ؟ اول تو مجملاً یہ فرمادیا کہ تمہارے معبود بہتر ہیں، یا اللہ۔
Ayahs 27:60–62

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا کس نے آسمان و زمین بنائے اور (کس نے) تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا ہے ؟ پھر ہم نے ہی اس سے تروتازہ باغ اگائے، تمہیں کیا مقدور تھا کہ تم ان کے درخت اگاتے کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے ؟ بلکہ یہ وہ ہی لوگ کجروی کررہے ہیں،

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے کہ جس نے زمین کو پھرنے کی جگہ بنایا اور اس میں ندیاں جاری کیں اور زمین کے لیے (پہاڑ) لنگر بنائے اور دو دریائوں میں پردہ رکھا، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے ؟ بلکہ وہ اکثر بےعلم ہیں۔

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا کون ہے جو بےقرار کی دعا قبول کیا کرتا ہے اور برائی کو دور کردیتا ہے اور تم کو زمین کا خلیفہ بناتا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی خدا ہے ؟ تم بہت ہی کم سمجھتے ہو،

پھر اس کے بعد یہ چند دلائل اللہ کے بہتر اور قادر مطلق وحدہ لاشریک لہ ہونے پر بیان فرماتا ہے۔ (1) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا پھر اوپر سے پانی برساکر اس سے عمدہ عمدہ اور کار آمد باغ اور درخت اگانا یعنی اس نے تمہارے لیے آسمان و زمین کا گھر بنایا اور اس میں تمہارے لیے روزی بھی پیدا کی۔ (2) زمین کو ٹھہرنے کے لیے بنایا اور اس میں پہاڑ اور نہریں بنائیں۔ جو انسان کی راحت کے سامان ہیں، دو دریائوں میں پردہ رکھا۔ (3) بےقراری کے وقت انسان کی فریاد رسی وہی کرتا ہے نہ کہ اور۔ تم کو زمین کا خلیفہ بناتا ہے ایک کے بعد دوسرا وارث ومالک ہوتا آتا ہے یعنی اس کا احسان تم پر پشت در پشت ہے۔ (4) تم کو جنگل اور دریا کی اندھیریوں میں رستہ وہی بتاتا ہے جنگل میں درختوں کی اندھیری پھر رات کی ‘ پھر ابر کی ‘ اسی طرح سمندر کے سفر میں جب راستہ بھول جاتے ہیں وہاں وہی رہنمائی کرتا ہے۔ (5) بارش کے آنے سے پیشتر خوش آیند ہوائیں وہی چلاتا ہے۔ (6) وہی ابتداً پیدا کرتا ہے وہی مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرے گا۔ مبدء و معاد کی طرف بھی معاش کے بعد اشارہ کردیا۔ (7) آسمان سے پانی کے ذریعہ سے اور زمین سے نباتات کے واسطے سے ہم ہی تم کو روزی دیا کرتے ہیں۔ یہ سب کام اللہ تعالیٰ کرتا ہے یا کوئی اور یعنی اور کوئی معبود نہیں تمہارے بتوں کے معبود ہونے پر کیا دلیل ہے ؟ آسمانوں اور زمین کی مخفی بات اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا، پھر وہ خدا کے شریک کس بات سے ہوگئے ؟ بلکہ ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ مر کر کب زندہ ہوں گے۔ بل ادرک علمھم اے انتہٰی و تکامل یعنی باوجودیکہ مشرکین کو معلوم کرادیا گیا کہ آخرت برحق ہے مگر پھر اس سے شک میں ہیں یا یہ معنی کہ ادرک بمعنی انتہٰی وفنی من قولک ادرکت الثمرۃ لان تلک غایتہا التی عند باتعدم (ک) کہ ان کا علم آخرت کے بارے میں نیست ہوگیا، جس لیے وہ شک میں ہیں، بلکہ اس سے اندھے ہیں، ان تین باتوں کے لیے تین اضراب ہوئے کہ ان کو حشر کا وقت معلوم نہیں۔ 1 ؎ بلکہ اس کو جان بھی نہیں سکتے بلکہ اس سے شک میں ہیں بلکہ اس سے اندھے ہیں۔ واللہ اعلم۔ 1 ؎ یہاں سے اضرابات کا مضمون شروع ہوتا ہے۔
Ayahs 27:63–66

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

وہ کون ہے جو تم کو جنگل اور دریا کی اندھیریوں میں رستہ بتلایا کرتا ہے اور کون خوش خبری کی ہوائیں چلایا کرتا ہے۔ اپنی رحمت 1 ؎ سے آگے کیا کوئی اور بھی معبود اللہ کے ساتھ ہے، اللہ ان کے شرک کرنے سے بالاتر ہے،

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے جو ازسر نو خلقت کو پیدا کرتا ہے، پھر اس کو دوبارہ بنادے گا اور کون ہے جو آسمان اور زمین سے روزی دیا کرتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے ؟ کہو اپنی سند تو لاؤ اگر تم سچے ہو،

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

کہو اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین کا کوئی بھی رہنے والا غیب کی بات نہیں جانتا اور اس کی بھی ان کو کیا خبر کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ آخرت کے باب میں تو ان کی سمجھ گئی گزری ہے بلکہ وہ تو اس سے شک ہی میں ہیں بلکہ وہ تو اندھے ہی ہیں۔

1 ؎ بارش۔ 12 منہ
Ayahs 27:67–75

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور منکروں نے کہہ دیا کہ کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مر کر مٹی ہوگئے تو کیا ہم پھر زمین سے نکالے جائیں گے،

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

اس کا تو ہم سے اور ہم سے پہلے باپ دادا سے بھی وعدہ ہوتا چلا آیا ہے، یہ تو صرف پہلوں کی کہانیاں ہیں۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

(سو اے رسول ! ) کہو تم زمین میں پھر چل کر دیکھو کہ کیا انجام ہوا، گنہگاروں کا

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) تم نہ ان پر کچھ غم کھاؤ اور نہ ان کے مکر کرنے سے دل تنگ ہوا کرو

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور وہ (یہ بھی) کہتے ہیں، اگر تم سچے ہو تو بتلاؤ وہ وعدہ کب پورا ہوگا۔

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

کہہ دو شاید بعض وہ چیزیں کہ جن کی تم جلدی مچا رہے ہو، تمہاری پیٹھ کے پیچھے آلگی ہوں

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور البتہ آپ کا رب تو لوگوں پر فضل کرتا ہے، لیکن ان میں سے اکثر شکر بھی نہیں کرتے

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور البتہ آپ کا رب جانتا ہے جو کچھ کہ ان کے دلوں میں مخفی ہے اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمان و زمین میں ایسی کوئی بھی مخفی بات نہیں کہ جو کتاب مبین میں درج نہ ہو۔

ترکیب : اذا کا عامل لمخرجون کا مدلول وھو نخرج نہ خود لمخرجون کس لیے کہ ہمزہ واِنّ ولام اس کے عمل کرنے سے مانع ہیں، ہمزہ کا مکرر آنا انکار کی تاکید کے لیے ردف لکم تبعکم ولحقکم لام تاکید کے لیے زیادہ کیا گیا، بعض الذی ردف کا فاعل غائبۃ صفات غالبہ سے ہے ت مبالغہ کے لیے جیسا کہ راوی کو مبالغۃ راویہ کہتے ہیں یا اسم ہے ت ایسی ہے جیسے کہ عاقبۃ میں۔ تفسیر : اب ان کے قصور علم اور اندھے ہونے کا بیان کیا جاتا ہے اور اس مناسبت سے مبدء میں کلام کرکے معاد میں کلام واقع ہوتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ قیامت میں شک دو ہی بات پر مبنی ہے، ایک یہ کہ خدائے تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہ سمجھا جائے دوسرے یہ کہ ممکنات اور ان کے حالات کے علم اور یادداشت میں اس کو عاری سمجھا جاوے کہ مرنے کے بعد ہر ایک جاندار کے اجزاء کو اسی کے بدن میں جمع کرنا دشوار سمجھا جاوے، انہیں بنیادوں پر وہ حشر کے برپا ہونے میں کلام کرتے تھے۔ اپنا کمال قدرت تو آیات گزشتہ میں ثابت کردیا تھا کہ ہم نے آسمان و زمین اور سب چیزیں بنائیں اور تمہارے رزق کے کیسے کیسے سامان کئے، اس کے بعد اس کی قدرت میں شک کرنا کمال حماقت تھا، اس لیے ان کے احمقانہ شبہ کو اس کے بعد نقل کرتا ہے، وقال الذین کفروا الخ یہ شبہ انہیں دونوں باتوں پر مبنی ہے کہ آیا جب ہم مرگئے اور ریزہ ریزہ ہوگئے، پھر ان کو کیونکر جمع کیا جائے گا ؟ گویا اس کی قدرت کا بھی انکار کیا اور علم کا بھی کہ ہر ایک بدن کے اجزاء اس کو کیونکر معلوم ہوں گے ؟ یہ تو اصلی شبہ تھا۔ ولقد وعدنا ھذا اس پر ان کی فضول گفتگو تھی کہ یہ ناممکن اور غلط بات ہے نہ صرف ہم سے بلکہ ہمارے باپ دادا سے بھی پہلے انبیاء اور ان کے نائب ایسی باتیں کہتے چلے آئے ہیں، یہ کہانیاں اور افسانے ہیں۔ اس کے بعد قل سیروا سے اس انکار کا دنیاوی بدنتیجہ بتلاتا ہے کہ ملک میں پھر کر دیکھو ایسے منکروں کا کیا انجام ہوا، الٹی ہوئی بستیاں ‘ اوندھے گرے ہوئے قصور عالیہ ان کے حال زار پر کیا کیا اشک حسرت بہا رہے ہیں۔ اس آنے والی مصیبت پر آنحضرت ﷺ کو قوم کا رنج و ملال ہونا ضروری تھا۔ آپ سراسر رحمت الٰہی تھے، اس پر آپ کو تسلی دی جاتی ہے۔ ولاتحزن علیہم کہ آپ ان ازلی بدنصیبوں پر کچھ رنج نہ کیجئے۔ ولا تکن فی ضیق مما یمکرون اور نہ ان کے مکروفریب سے جو آپ کے ساتھ کرتے ہیں۔ تنگدل ہوں، اس چشمہ الٰہی کو اپنی تدابیر کی ریتلی مٹی سے یہ بند نہ کرسکیں گے بلکہ اس سے تو وہ اور بھی چاروں طرف پھوٹ نکلے گا، چناچہ ایسا ہی ہوا، اس کے بعد وہ بےنصیب بجائے خوف کرنے اور ایمان لانے کے دلیرانہ یہ پوچھا کرتے تھے۔ ھذا الوعد الخ اگر سچے ہو تو بتاؤ وہ قیامت یا عذاب ہم پر کب آئے گا اس کا جواب دیتا ہے، قل عسٰی الخ کہ ان سے کہہ دو جس کی تم بہت جلدی کررہے ہو، شاید تمہارے بہت ہی قریب آلگا ہو، چناچہ قحط اور بدر کا واقعہ بہت جلد پیش آیا اور یوں موت تو سر پر ہی کھڑی ہے، جو قیامت کا دروازہ ہے، مگر خدا کا فضل و کرم ہے جو جلد ہی سزائیں نہیں دیتا۔ اس پر شکر کرنا چاہیے نہ کہ دلیر ہونا مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ قدرت کی بابت تو پہلے کلام ہوچکا، گو وہاں سے علم کامل بھی سمجھا جاتا تھا، لیکن وہ لوگ بلید الذہن تھے، اس لیے علم کا اثبات صراحۃً کرنا پڑا، بقولہ وان ربک لیعلم ماتکن صدورھم ومایعلنون کہ خدا ہی ان کے دل کی باتوں کو جانتا ہے، یعنی جن کا وجود ذہنی ہے وہ باتیں بھی تو اس سے مخفی نہیں، چہ جائیکہ جن کا وجود خارج میں ہو اور ان کے جمیع افعال و حرکات و حالات سے واقف ہے، یعنی اعراض کہ جو غیر قار ہیں ادھر موجود ہوئے۔ ادھر مٹ گئے چہ جائیکہ وہ چیزیں جو عرصہ تک قائم رہتی ہیں۔ پھر تعمیم کرتا ہے۔ وما من غائبۃ فی السماء والارض الا فی کتاب مبین کہ ان پر کیا موقوف ہے جو چیزیں 1 ؎ آسمان و زمین میں مخفی ہیں، ابھی تک میدان ظہور میں نہیں آئی ہیں، وہ سب کتاب مبین یعنی علم الٰہی میں ہیں، جس کو کسی خاص اعتبار سے کتاب مبین اور کبھی لوح محفوظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس میں ان کے مکر اور مخفی تدابیر پر بھی تہدید ہے۔ 1 ؎ اگرچہ یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ ان چیزوں کو جانتا ہے مگر جبکہ اس کا خالق ہونا تسلیم کرلیا گیا ہے تو خالق کو مخلوق کا علم ہونا ضروری ہے۔ 12 منہ