27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 27:1–6

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

طس، یہ قرآن اور کتاب روشن کی آیتیں ہیں

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

مومنوں کے لئے ہدایت اور بشارت

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

وہ جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور وہ آخرت کا یقین رکھتے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ہم نے انکے اعمال انکے لئے آراستہ کردیے ہیں تو وہ سرگرداں ہو رہے ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لئے برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہیں

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور تم کو قرآن (خدائے) حکیم وعلیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے

(طس، تلک ایت القرآن۔۔۔۔۔۔۔۔ ) طس تلک ایت القرآن و کتاب مبین سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں حروف مقطعات کے بارے میں گفتگوپہلے گزر چکی ہے۔ تلک یہ ھذہ کے معنی میں ہے یعنی یہ سورت قرآن کی آیات اور کتاب مبین کی آیات اور کتاب مبین کی آیات ہیں۔ لفظ قرآن معرفہ ذکر کیا اور کتاب مبین نکرہ کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا دونوں معرفہ کے حکم میں ہیں : جس طرح تو کہتا ہے : فلاں الرجل عاقل و فلاں الرجل العاقل۔ کتاب سے مراد قرآن ہے اس کی دو صفتیں جمع کی گئیں یعنی یہ قرآن ہے اور یہ کتاب ہے کیونکہ یہ کتابت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے اور قرأت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ سورة بقرہ میں ان کا اشتقاق گزر چکا ہ۔ سورة حجر میں فرمایا : الر تلک ایت الکتب و قرآن مبین۔ ( الحجر) کتاب کو معرفہ اور قرآن کو نکرہ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن اور کتاب دو اسم ہیں ان میں سے ہر ایک اس کی صلاحیت رکھتا ہے کہ اسے معرفہ بنایا جائے اور اسے صفت بنایا جائے اس کی صفت جو مبین کے ساتھ لگائی گئی ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنا امر، اپنی نہی، اپنا حلال، اپنا حرام، اپنا وعدہ اور اپنی وعید کو واضح کیا۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ ھدی وبشری اللمومنین، ھدی یہ الکتاب سے حال ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے تقدیرکلام یہ ہوگی تلک آیات الکتاب ھادیۃ و مبشرۃ، مبتداء ہونے کی حیثیت سے اس میں رفع بھی جائز ہے یعنی ھو ھدی۔ اگر تو چاہے صرف جاء مجرور کے حذف کی بناء پر اس پر رفع پڑھے جیسے فیہ ھدی۔ یہ بھی جائز ہے کہ خبر للمومنین ہو۔ پھر ان کی صفت بیان کی اور فرمایا :” الذین یقمون الصلٰوۃ ویوتون الزکوۃ وھم بالآخرۃ ھم یوقنون “ سورة بقرہ کے آغاز میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ ان الذین لا یومنون بالاخرۃ جو بعد الموت کی تصدیق نہیں کرتے۔ زینا لھم اعمالھم ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے اعمال سیہ کو مزین کیا یہاں تک کہ انہوں نے انہیں حسنہ خیال کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال حسنہ کو مزید کیا تو انہوں نے ان پر عمل نہ کیا۔ زجاج نے کہا : ہم نے ان کے کفر پر ان کی جزا بنائی کہ ہم نے ان کے لیے وہ مزین کیا جس میں وہ تھے۔ فھم یعمھون وہ اپنے اعمال خبیثہ میں متردد ہوتے ہیں اور اپنی گمراہی میں متردد ہوتے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ابو العالیہ نے کہا : وہ اس میں طوالت اختیار کرتے ہیں۔ قتادہ نے کہا : وہ کھیلتے ہیں۔ حضرت حسن بصری نے کہا : وہ حیران ہوتے ہیں۔ راجز نے کہا : اغی الھدی بالحائرین العتہ بے بصیرت حیران و ششدر لوگوں پر ہدایت ناپید ہوگئی۔ اولیک الذین لھم سوء العذاب اس سے مراد جہنم ہے۔ وھم فی الاخرۃ ھم الاخسرون، فی الاخرۃ وضاحت ہے یہ الاخسرون کے متعلق نہیں کیونکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو دنیا میں خسارے میں رہے اور آخرت میں نفع کمایا اور یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے کے باعث آخرت میں خسارے میں رہے یہ ہر خسارہ پانے والے سے خسارہ میں ہے۔ وانک لتلقی القرآن یعنی اسے آپ پر القاء کیا جاتا ہے تو آپ اسے پاتے ہیں، اسے سیکھتے ہیں اور اخذ کرتے ہیں من لدن حکیم علیم، لدن یہ عند کے معنی میں ہے مگر یہ مبنی ہے معرب نہیں کیونکہ یہ متمکن نہیں اس میں کئی بغات ہیں جن کو میں نے سورة کہف میں ذکر کیا ہے۔ یہ آیت ان قصوں کی تمہید ہے جن کو بیان کرنے کا قصد وارد کیا۔ اور اس میں حکمتوں کے لطائف اور علم کے دقائق ہیں جن کو بیان کرنے کا قصد کیا۔
Ayahs 27:7–14

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے میں وہاں سے (راستہ کا) پتہ لاتا ہوں یا سلگتا ہوا انگارا تمہارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم تاپو

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ وہ جو آگ میں (بجلی دکھاتا) ہے بابرکت ہے اور وہ جو آگ کے اردگرد ہیں اور خدا جو تمام عالم کا پروردگار ہے

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

پاک ہے اے موسیٰ میں ہی خدائے غالب و دانا ہوں

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور اپنی لاٹھی ڈالدو جب اسے دیکھا تو (اس طرح) ہل رہی تھی گویا سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا (حکم ہوا کہ) موسیٰ ڈرو مت ہمارے پاس پیغمبر ڈرا نہیں کرتے

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا تو میں بخشنے والا مہربان ہوں

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو سفید نکلے گا بےعیب (ان دو معجزوں کے ساتھ جو) نو معجزوں میں (داخل ہیں) فرعون اور اسکی قوم کے پاس جاؤ کہ وہ بےحکم لوگ ہیں

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں پہنچی کہنے لگے یہ صریح جادو ہے

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور بےانصافی اور غرور سے ان سے انکار کیا کہ ان کے دل ان کو مان چکے تھے سو دیکھ لو کہ فسان کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا

( اذ قال موسیٰ لا۔۔۔۔۔۔ ) اذا قال موسیٰ لا ھلہ اذ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے اور و فعل اذکر ہے گویا اسے اس ارشاد : وانک لتقی القرآن من لدن حکیم علیم۔ فرمایا : مراد ہے اے محمد ! ﷺ اس کی حکمت اور اس کے علم کے آثار میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ لیجئے جب انہوں نے اپنی بیوی سے کہا : انی انست نارا یعنی میں نے دور سے اسے دیکھا ہے۔ حرث بن حلذہ نے کہا : آنست نباۃ وافزعھا القناص عصرا وقدونا الامساء اس نے خفی آواز محسوس کی، عمر کے وقت شکاریوں نے اسے خوفزدہ کیا جب کہ شام قریب آچکی تھی۔ ساتیکم منھا بخبر اوتیکم بشھاب قبس لعلکم تصطلون عاصم، حمزہ اور کسائی نے بشھاب قمس قرأت کی ہے (1) 1 ؎۔ المحرر الوجز، جلد 4، صفحہ 249 شھاب تنوین کے ساتھ ہے۔ باقی قراء نے تنوین کے بغیر اضافت کی صورت میں پڑھا ہے۔ مراد آگ کا شعلہ ہے۔ ابو عبید اور ابو حاتم نے اسے پسند کیا ہے۔ فراء نے تنوین کو ترک کرنے کا گمان کیا ہے کہ یہ ان کے اس قول کے قائم مقام ہے ولدار الآخرۃ مسجد الجامع اور صلاۃ الاولی شے کو اپنی ہی ذات کی طرف مضاف کیا جب اسماء مختلف ہوئے۔ نحاس نے کہا : شی کو اپنی ہی ذات کی طرف منسوب کرنا بصریوں کے نزدیک محال ہے کیونکہ لغت میں اضافت کا معنی ایک شے کو دوسری شے کے ساتھ ملانا تو یہ محال ہے کہ ایک چیز کو اپنی ہی ذات کے ساتھ ملایا جائے۔ ایک چیز کو دوسری چیز کی طرف مضاف کیا جاتا ہے تاکہ ملک اور نوع کا معنی واضح ہوجائے تو یہ محال ہے کہ یہ واضح ہو کہ وہ اپنی ذات کا مالک ہے یا وہ اپنی نوع سے ہے۔ و شھاب قیس نوع اور جنس کی اضافت ہے جس طرح تو کہتا ہے : ھذا ثوب خز، خاتم حدید وغیرہ۔ شہاب ہر نور والی چیز کو کہتے ہیں جس طرح ستارہ اور جلائی گئی لکڑی، قس اسے کہتے ہیں جس کو اخذ کیا جائے، جیسے انگارہ وغیرہ۔ معنی ہے ر وشن جو انگارے میں سے ہو۔ یہ جملہ بولا جاتا : اقبست قبسا : اسم قیس ہے جس طرح تو کہتا ہے : قبضت قبضا، اسم قبض ہے۔ یہ جائز ہے کہ اسم ہو صفت نہ ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ وہ صفت ہو جہاں تک اس کے صفت نہ ہونے کی تعلق ہے تو کیونکہ وہ کہتے ہیں : قبستہ اقبسہ قبسا، قبس کا معنی مقبوس ہے۔ جب وہ صفت ہے تو زیادہ اچھا یہ ہے کہ وہ نعت ہو۔ اس میں اضافت احسن ہوگی جب صفت نہ ہو۔ یہ نوع کی اپنی جنس کی طرف اضافت ہے جس طرح خاتم فضۃ وغیرہ۔ اگر بیان اور حال کے طریقہ پر قبس کو منصوب پڑھا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ قرآن کے علاوہ میں اسے بشھاب قبسا پڑھنا بھی جائز ہے کیونکہ یہ مفعول مطلق ہو، بیان ہو یا حال ہو۔ لعلکم تصطلون، طاء کی اصل تاء ہے یہاں اس کو طاء سے بدل دیا گیا، کیونکہ طاء حروف مطبقہ میں سے ہے اور صاد بھی حروف مطبقہ میں سے ہے دونوں کو جمع کرنا اچھا ہے۔ اس کا معنی ہے وہ ٹھنڈک سے بچنے کے لیے گرمی حاصل کرتے ہیں۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : اصطلی یصطلی جب وہ گرمائش حاصل کرے۔ شاعر نے کہا : النار فاکھۃ الشتاء فمن یرد اکل الفوا کہ شاتنا فلیصطل آگ موسم سرما کا پھل ہے جو موسم سرما میں پھل کھانے کا ارادہ کرتے تو وہ آگ تاپے۔ زجا ج نے کہا : ہر سفید چیز جو نور والی ہو تو وہ شہاب ہوتا ہے۔ ابو عبید نے کہا : شہاب سے مراد آگ ہے۔ ابو نجم نے کہا : کانما کان شھابا واقدار اضاء ضواء ثم صار خامدا گویا وہ روشن شہاب تھا اس نے روشن کیا پھر وہ بجھ گیا۔ احمد بن یحییٰ نے کہا : شہاب سے مراد ایسی لکڑی ہے جس کی ایک جانب انگارہ ہو اور دوسری جانب آگ نہ ہو۔ نحاس کا قوس اس میں اچھا ہے : شہاب سے مراد روشن شعاع ہے اسی سے وہ ستارہ ہے جس کی روشنی آسمان میں پھیلتی ہے۔ شاعر نے کہا : فی کفہ صفدۃ مشفۃ فیھا سنان کشعلۃ القبس اس کی ہتھیلی میں سیدھا نیزہ ہے اس میں پھل ہے جس طرح قبس کا شعلہ ہوتا ہے۔ فلما جاء ھا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس جگہ آئے جہاں انہوں نے گمان کیا تھا کہ وہ آگ ہے تو وہ نور تھا، یہ وہب بن منبہ کا قول ہے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے آگ کو دیکھا تو اس کے قریب کھڑے ہوگئے اسے دیکھا کہ وہ درخت کی شاخ سے نکل رہی ہے وہ درخت انتہائی سر سبز ہے جسے علیق کہتے ہیں۔ آگ بڑھی ہی جاتی ہے اور درخت زیادہ سر سبز و شاداب اور حسین ہوتا جاتا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) متعجب ہوئے اور اس کی طرف اس مٹھے کو جھٹکایا جو ان کے ہاتھ میں تھا تاکہ اس سے اس کو روشن کریں وہ درخت ان کی طرف جکا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس سے خوفزدہ ہوگئے تو پیچھے ہٹ گئے پھر وہ لگا تار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا طمع کرتا رہا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کی طمع کرتے رہے یہاں تک کہ معاملہ واضح ہوگیا کہ یہ مامور ہے وہ اس کے امر کو نہیں جانتے یہاں تک کہ ندا کی گئی : نودی ان بورک من فی النار ومن حولھا یہ بحث سورة طہ میں گزر چکی ہے۔ نودی اللہ تعالیٰ نے اسے ندا کی جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ونادینہ من جانب الطورالایمن ( مریم : 52 ) ان بورک زجا ج نے کہا : ان محل نصب میں ہے اصل کلام اس طرح ہے بانہ۔ یہ جائز ہے کہ یہ محل رفع میں ہوا سے نائب فاعل بنا دیا جائے۔ ابو حاتم نے حکایت بیان کی ہے کہ حضرت ابی اور حضرت ابن عباس اور مجاہد کی قرأت میں ان بورکت النار ومن حولھا ہے (1) نحاس نے کہا : اس کی مثل اسناد صحیح میں نہیں پایا جاتا۔ اگر یہ صحیح ہو تو یہ قرأت تفسیر کی بناء پر ہوگی۔ برکت آگ اور جو اس کے ارد گرد فرشتے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تھے ان کی طرف لوٹ رہی ہے۔ کسائی نے عربوں سے روایت کیا ہے : بارک اللہ، بارک فیہ۔ ثعلبی نے کہا : عرب کہتے ہیں : بارک اللہ، بارک فیہ، بارک علیک، بارک لک۔ اس میں چار لغات ہیں۔ شاعر نے کہا : فبورکت مولودا و برورکت ناشنائ وبورکت عند الشیب اذ انت اشیب تو حالت ولادت میں با برکت تھا جوانی کے عالم میں با برکت تھا اور تو بڑھاپے کے وقت با برکت ہے جب تو سب سے بوڑھا ہے۔ طبری نے کہا : بورک من فی النار بورک فی من فی النار نہیں کہا یہ اس کی لغت کے مطابق ہے جو بارک اللہ کہتا ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : بار کہ اللہ، بارک لہ، بارک علیہ اور بارک فیہ، سب ایک معنی میں ہیں یعنی جو آگ پر تھا اس پر برکت ہے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تھے یا جو آگ کے قریب تھے نہ کہ یہ جو اس کے وسط میں تھے۔ سدی نے کہا : آگ میں ملائکہ تھے تو برکت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرشتوں کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی اے موسیٰ ! تجھ پر برکت ڈالی گئی اور ان فرشتوں میں برکت رکھی تھی جو اس کے ارد گرد تھے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے تحیہ اور تکریم تھی جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو فرشتوں کو زبانوں پر سلام کیا۔ فرمایا : رَحْمَتُ اللہ وَبَرَکٰتُہٗ عَلَیْکُمْ اَہْلَ الْبَیْتِ ط (ھود : 73) 1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 250 تیسرا قول وہ ہے جو حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری اور سعید بن جبیر کا ہے۔ جو آگ میں تھا وہ مقدس تھا وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس سے مراد اپنی ذات لی جو مقدس دعا کی ہے۔ حضرت ابن عباس اور محمد بن کعب نے کہا : آگ اللہ تعالیٰ کا نور ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ندا کی جب کہ وہ نور میں تھے۔ اس کی تاویل یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عظیم نوردیکھا تو اسے آگ گمان کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے آگ سے اپنی آیات اور کلام کے ساتھ ظہور فرمایا نہ کہ وہ کسی چیز میں تحیز فرمانے والا تھا ” وَ ھُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآئِ اِلٰـہٌ وَّفِی الْاَرْضِ اِلٰـہٌ ط “ (الزخرف : 84) نہ یہ کہ ان دونوں میں تحیز فرماتا لیکن وہ ہر فعل میں ظاہر ہوتا ہے تو اس کے ذریعے فاعل کا وجود ظاہر ہوتا ہے اس تعبیر کی بناء پر کہا گیا : یعنی جو آگ میں ہے اس کی سلطان اور قدرت میں برکت رکھی گئی۔ اسکی قول یہ کیا گیا ہے : آگ میں جو اللہ تعالیٰ کا امر ہے اس میں برکت رکھی گئی وہ امر جسے اللہ تعالیٰ نے علامت بنایا۔ میں کہتا ہوں : حضرت ابن عباس ؓ کے قول کی صحت پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں اور ابن ماجہ نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے۔ اس کے الفاظ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے مروی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور نہ ہی اس کی شان ہے کہ وہ سوئے وہ میزان کو پست کرتا ہے اور اسے بلند کرتا ہے اس کا حجاب نور ہے اگر وہ حجاب کو ہٹا دے تو اس کی ذات کے انوار ہر شے کو جلا دیں جہاں تک اس کی نظر پہنچے “۔ پھر ابو عبیدہ نے اس آیت کی تلاوت کی ” ان بورک من فی النار من حولھا وسبحن اللہ رب العٰلمین۔ “ اسے امام بیہقی نے بھی روایت کیا ہے۔ امام مسلم نے حضرت ابو موسیٰ سے جو روایت نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں رسول اللہ ﷺ پانچ باتیں فرمانے کے لیے ہمارے درمیان کھڑے ہوئے فرمایا :’ ’ اللہ تعالیٰ نہیں سوتا اور اس کو زیبا نہیں کہ وہ سوئے وہ میزان کو پست کرتا ہے اور اسے بلند کرتا ہے۔ اس کی بارگاہ میں رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے پیش کیا جاتا ہے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے پیش کیا جاتا ہے اس کا حجاب نور ہے “۔ (1) ابوبکر کی روایت میں نار کے الفاظ ہیں ” اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کی ذات کے انوار، ان تمام چیزوں کو جلادیں مخلوقات میں سے جہاں اس کی نظر پہنچے “ (2) ابو عبید نے کہا : سبحات سے مراد اس کی ذات کا جلال ہے اسی وجہ سے کہا جاتا ہے : سبحان اللہ سے مراد اس کی تعظیم اور تنزیہ ہے لو کشفھا فرمان کا مطلب ہے اگر حجاب ان کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹا دیا جائے اور اپنی رویت کے لیے ان کو ثابت نہ رکھے تو وہ سب جل جائیں اور وہ اس کے دیدار کی طاقت نہ رکھیں۔ ابن جریج نے کہا : آگ حجابوں میں سے ایک حجاب ہے یہ سات حجاب ہیں۔ حجاب العزۃ، حجاب الملک، حجاب السلطان، حجاب النار، حجاب النور، حجاب الغمام، حجاب الماء، اصل بات یہ ہے کہ مخلوق حجاب میں ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کو کوئی چیز حجاب میں نہیں رکھ سکتی۔ آگ نور ہی تھی اسے نار کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) 1 ؎۔ صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب اثبات رئویۃ المومنین الآخرۃ ربھم سبحانہ و تعالیٰ ، جلد 1، صفحہ 99 2 ؎۔ سنن ابن ماجہ باب فی الکرت الجھمیۃ، حدیث نمبر 191، ضیاء القرآن پبلی کیشنز۔ نے اسے آگ ہی گمان کیا تھا۔ عرب نور اور نارکو ایک دوسرے کی جگہ رکھتے رہتے ہیں۔ سعید بن جبیر نے کہا : آگ اپنی ذات کے اعتبار سے تھی اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام ایک طرف سے اسے سنایا اور اس کی جانب سے اپنی ربوبیت کو اس کے لیے ظاہر کیا یہ اسی طرح یہ ہے جس طرح تورات میں مکتوب ہے جاء اللہ من سیناء و اشرف من ساعیر واستعلی من جبال فاران، فمحیئہ من سیناء سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس سے مبعوث کرنا۔ اشرافہ من ساعیر سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس سے مبعوث کرنا اور استعلاوہ من فاران سے مراد حضرت محمد ﷺ کو مبعوث کرنا ہے۔ فاران سے مراد مکہ مکرمہ ہے سورة القصص میں اس بارے میں زیادہ وضاحت ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام درخت سے آپ کو سنایا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ وسبحن اللہ رب العٰلمین۔ اللہ رب العالمین کے لیے تنزیہ و تقدیس ہے۔ کئی مواقع پر یہ بحث پہلے گزر چکی ہے معنی ہے جو اس کے ارد گرد ہیں وہ کہتے ہیں : وسبحن اللہ تو اسے حذف کردیا گیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ کلام اس وقت کی جب وہ ندا کو سننے سے فارغ ہوئے مقصود اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا اور اس کی پاکی بیان کرنا تھا، یہ سدی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان میں سے ہے معنی ہے جس نے اللہ، جو رب العالمین ہے کی پاکی بیان کی اس میں برکت رکھ دی ہے، ابن شجرہ نے اس کی حکایت بیان کی ہے۔ یموسیٰ انہ انا اللہ العزالحکیم ہاء ضمیر بنیا دو سہارہ ہے کہ کو فیوں کے قول میں یہ کنایہ نہیں۔ صحیح یہ ہے کہ یہ امر شان سے کنایہ ہے۔ انا اللہ العزیز میں ایسا غالب ہوں کہ جس کی مثال کوئی شے نہیں۔ الحکیم وہ اپنے فعل اور امر میں حکیم ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے رب ! کس نے ندا کی ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انہ یعنی میں ہی تجھے ندا کرنے والا ہوں۔ میں اللہ ہوں۔ والق عصاک وہب بن منبہ نے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا کہ اس کو چھوڑدیں تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے اسے یہ اس لیے فرمایا تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو علم ہوجائے کہ ان سے کلام کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے رسول ہیں۔ ہر نبی کے لیے اس کی ذات میں آیت کا ہونا ضروری ہے جس کے ساتھ وہ نبوت کو جان لے۔ آیت میں حذف ہے یعنی اپنا عصا پھینک دے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا اپنے ہاتھ سے پھینک دیا تو وہ حرکت کرتا ہوا سانپ ہوگیا گویا وہ جان ہے، وہ ہلکے چھوٹے سے جسم والا سانپ ہوتا ہے۔ کلبی نے کہا : نہ وہ چھوٹا نہ بڑا ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : پہلے اسے چھوٹے سانپ کی شکل میں بدلا گیا جب آپ مانوس ہوگئے تو وہ بڑا ہوگیا۔ ایک قول یہ کیا گیا : ایک دفعہ وہ چھوٹا سانپ بنا اور ایک دفعہ وہ دوڑتا ہوا سانپ بنا جو مونث تھا ایک دفعہ وہ ثعبان بن گیا، یہ سانپوں میں سے بڑا سانپ ہوتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انقلبت ثعبانا تھتھز کا معنی ہے گویا وہ جان تھا اس کی جسامت ثعبان جیسی تھی اور پھرتی جان جیسی تھی اور اھتزازہ یعنی وہ دوڑتا ہوا سانپ ہے۔ جان کی جمع جنان ہوتی ہے اس معنی میں ایک حدیث ہے نھی عن قتل الجنان التی فی البیوت وہ بار کی سانپ جو گھروں میں ہوتے ہیں ان کے قتل سے منع کیا۔ ولی مدبراً انسان کی عادت کے مطابق خوفزدہ ہو کر پیٹھ پھیر کر مڑا (1) ولم یعقب نہ لوٹے۔ یہ مجاہد کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : متوجہ نہ ہوئے (2) یموسی لا تخفف اے موسیٰ ! سانپ اور اس کی تکلیف سے نہ ڈرو (3) انی لا یخاف لدی المرسلون گفتگو مکمل ہوگئی پھر استثناء منقطع کی صورت میں کلام کی، فرمایا الا من ظلم۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مخدوف سے مستثنیٰ ہے۔ معنی ہے میری بارگاہ میں مرسلین خوفزدہ نہیں ہوتے بلکہ ان کے علاوہ جو ظالم ہوتے ہیں وہ خوف کھاتے ہیں۔ الا من ظلم ثم بدل حسنا بعد سوء کیونکہ وہ نہیں ڈرتا۔ یہ فراء کا قول ہے۔ نحاس نے کہا : محذوف سے مستثنیٰ محال ہے کیونکہ یہ ایسی چیز سے مستثنیٰ ہے جو ذکر نہیں کی گئی اگر یہ جائز ہو تو یہ بھی جائز ہے انی لا ضرب القوم الا زیدا معنی یہ ہوا انی الا اضرب القوم وانما اضرب غیر ھم الا زیدا، یہ بیان کی ضد ہے آنے والا یاسا ہے جس کا معنی معروف نہیں۔ فراء نے بھی یہ گمان کیا ہے کہ بعض نحوی الا کو وائو کے معنی میں استعمال کرتے ہیں معنی ہوگا ولا من ظلم۔ شاعر نے کہا : وکل اخ مفارقہ اخرہٗ لعمر ابیک الا الفرقد ان ہر بھائی کو اس کا بھائی چھوڑنے والا ہے تیرے باپ کی قسم اور فرقدان بھی چھوڑنے والا ہے۔ محل استدلال الا الفرقدان ہے۔ نحاس نے کہا : الا کو وائو کے معنی میں لینے کی کوئی وجہ نہیں۔ اور کلام کسی صورت میں جائز نہیں الا کا معنی وائو کے خلاف ہے، کیونکہ جب تو نے کہا : جاءنی اخوتک الا زیدا تو نے زید کو اس سے نکال دیا جس میں بھائی داخل تھے۔ دونوں کے درمیان کوئی نسبت اور قربت نہیں۔ آیت میں ایک اور قول ہے وہ یہ کہ یہاں استثناء متصل ہو تقدیر کلام ہوگی الا من ظلم من المرسلین باتیان الصغائر التی لا یسلم منھا احد سوی ماروی عن یحییٰ بن زکریا (علیہ السلام) ۔ مگر مرسلین میں سے جو صغیرہ گناہ کا ارتکاب کرے ظلم کرے ایسا صغیرہ جس سے کوئی بھی محفوظ نہیں سوائے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے جن کے با رے یہ روایت کی گئی ہے اور جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی کریم ﷺ کے بارے میں ذکر کیا ہے : ” لِّیَغْفِرَ لَکَ اللہ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ “ (الفتح : 1) مہدوی نے اس کو ذکر کیا ہے۔ نحاس نے اسے پسند کیا ہے ان میں سے جو لغزش کرے گا اللہ تعالیٰ کو اس کا علم تھا تو اس کی اللہ تعالیٰ نے استثناء کردی۔ فرمایا : الا من ظلم ثم بدل حسنا بعدسوء “ کیونکہ وہ ڈرتا ہے اگرچہ میں نے اس کی خطا کو معاف کردیا۔ ضحاک نے کہا : مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت دائود (علیہ السلام) ہیں۔ زمحشری نے کہا : جس طرح کی فروگزاشت حضرت آدم (علیہ السلام) ، حضرت یونس (علیہ السلام) ، حضرت دائود (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) ، حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قبطی کو گھونسا رسید کر کے کی۔ اگر کوئی کہنے والا کہے : توبہ اور مغفرت کے بعد خوف کا کیا معنی ہے ؟ اس کو کہا جائے گا : اللہ تعالیٰ کی ذات کو جاننے والوں کا یہی طریقہ ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کے بارے میں ڈرتے ہی رہتے ہیں وہ اس سے امن میں نہیں ہوتے کہ توبہ کی شرطوں میں سے کوئی شرط ایسی بھی ہو جس کو وہ بجا نہ لاتے ہوں وہ اس کے بارے میں مطالبہ سے ڈرتے ہیں۔ 1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 251 2 ؎۔ ایضاً 3 ؎۔ ایضاً حضرت حسن بصری اور ابن جریج نے کہا : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : میں نے تجھے اپنے نفس کو قتل کرنے سے ڈرایا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : انبیاء سے لغزش ہوتی تھی تو ان کو عتاب بھی کیا جاتا تھا (1) ثعلبی، قشیری، ماوردی اور دوسرے علماء نے کہا : اس تعبیر کی بناء پر استثناء صحیح ہے یعنی مگر انبیاء اور نبیین میں سے جس نے نبوت سے قبل صغیرہ گناہ کا ارتکاب کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قبطی کو قتل کرنے کی وجہ سے ڈرے اور اس عمل سے توبہ کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ نبوت کے بعد صغائرہ اور کبائرہ سے معصوم تھے۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ میں کہتا ہوں : پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ وہ قیامت کے روز اس سے اپنے آپ کو خارج کریں گے جس طرح شفاعت والی حدیث میں ہے جب مقرب آدمی سے کوئی لغزش واقع ہوجاتی ہے اگرچہ اس کی وہ خطاء بخش دی جائے تب بھی اس کا اثر باقی رہ جاتا ہے۔ جب تک اثر اور تہمت قائم ہو تو خوف باقی ہوتا ہے یہ عفویت کا خوف نہیں ہوتا بلکہ عظمت کا خوف ہوتا ہے۔ سلطان کے نزدیک جس پر تہمت لگائی گئی ہو تو وہ تہمت کی وجہ سے دل میں اضطراب پاتا ہے جو اسے اس طرف لے جاتا ہے کہ اس پر اعتماد کی صفائی مقدر ہو رہی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس فرعون کے بارے میں امر وقوع پذیر ہوا تھا۔ پھر انہوں نے بخشش طلب کی اور اپنی جان پر ظلم کا اقرار کیا پھر آپ کو بخش دیا گیا پھر مغفرت کے بعد کہا : قَال رب بما انعمت علی فلن اکون ظھیرا للمجرمین۔ (القصص) پھر اگلے روز ایک اور فرعونی سے ان کو آزمایا گیا اور آپ نے ارادہ کیا کہ اسے بھی پکڑیں تو اس ارادہ کے ساتھ ایک اور امر وقوع پذیر ہوگیا۔ اگلے روز ان کو آزمائش میں ڈالا گیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قول کی یوں حکایت بیان کی ہے : فلن اکون ظھیرا اللمجرمین۔ ( القصص) اقتدار کا کلمہ لن افعل سے عیاں ہے تو ارادہ کی وجہ سے ان پر عتاب کیا گیا جب انہوں نے پکڑنے کا ارادہ کیا اور نہ پکڑا۔ اللہ تعالیٰ نے اسرائیل کو آپ پر مسلط کردیا یہاں تک کہ اس نے آپ کے راز کو ظاہر کردیا کیونکہ جب اسرائیلی نے آپ کو دیکھا کہ پکڑنے کے لیے آپ آستین چڑھا رہے ہیں تو اس نے گمان کیا کہ وہ اس کو پکڑ رہے ہیں، تو اس نے راز ظاہر کردیا : ” قَالَ یٰـمُوْسٰٓی اَ تُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ کَمَا قَتَلْتَ نَفْسًام بِالْاَمْسِ ق “ (القصص : 19) فرعونی بھاگ گیا اور اس نے فرعون کو اس امر کے بارے میں آگاہ کردیا جو اسرائیلی نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں راز ظاہر کردیا تھا۔ گزشتہ دن کے مقتول کا امر مخفی تھا یہ معلوم نہ تھا کہ کس نے اس کو قتل کیا ہے۔ جب فرعون کو اس کا علم ہوگیا تو اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تلاش میں آدمی بھیجے تاکہ ان سے قتل کا بدلہ لے۔ سخت تلاشی کی گئی اور تمام چوکوں پر پہرے دار لگا دیئے گئے تو ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا عرض کی :” قَالَ یٰـمُوْسٰٓی اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِکَ لِیَقْتُلُوْکَ “ ( القصص : 20) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نکلے جس طرح اللہ تعالیٰ نے خبر دی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خوف اس حادثہ کی وجہ سے تھا اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا قرب نصیب فرمایا، انہیں عزت دی اور کلام کے ساتھ چن لیا تو باقی ماندہ تہمت نے ان کو گرفت میں لیے رکھا اور پیچھا نہ چھوڑا۔ 1 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 251 وادخل یدک فی جیبک تخرج بیضا من غیر سو اس بارے میں گفتگو سورة طہٰ میں گزر چکی ہے۔ فی تسع ایت نحاس نے کہا : اس بارے میں جو گفتگو کی گئی ان میں سے سب سے بہترین یہ قول ہے کہ یہ معجزہ بھی ان نو معجزات میں داخل ہے۔ مہدوی نے کہا : معنی ہے الق عصاک اور وادخل یدک فی جیبک یہ دونوں ان نو معجزات میں سے دو معجزات ہیں۔ قشیری نے کہا : معنی ہے جس طرح تو کہتا ہے : خرجت فی عشرۃ نفر۔ تو تو بھی ان میں سے ایک ہوتا ہے یعنی تو دس میں سے دسواں نکلا۔ فی، من کے معنی میں ہے کیونکہ یہ اس کے قریب ہے جس طرح تو کہتا ہے : خذلی عشرا من الابل فیھا فحلان دونوں فحل ان دس میں ہوتے ہیں۔ اصمعی نے امرء القیس کے قول کے بارے میں کہا : وھل ینعسن من کان آخر عھدہ ثلاثین شھرا فی ثلاثۃ احوال محل استدلال فی ثلاثۃ احوال ہے اس میں فی امن کے معنی میں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فی مع کے معنی میں ہے معجزات دس ہیں ان میں سے ایک یہ بیضاء ہے نو نشانیاں یہ ہیں : سمندر کا پھٹنا، عصا، ٹڈی دل، جوئیں، طوفان، خون مینڈک، قحط سالی، شکل و صورت کا بدل جانا۔ تمام کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ الی فرعون وقومہ فراء نے کہا : کلام میں اضمار ہے کیونکہ کلام اس پر دلالت کرتا ہے یعنی آپ فرعون اور اس کی قوم کی طرف مبعوث کیے گئے۔ انھم کانو قوما فسقین اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے خارج ہونے والے ہیں۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ فلما جاء تھم ایتنا مبصرۃ واضح اور واشگاف۔ اخفش نے کہا : اسے مبصرۃ پڑھنا بھی جائز ہے یہ مصدر ہے جس طرح یہ جملہ کہا جاتا ہے : الولد مخینۃ قالوا ھذا سحر مبین وہ جھٹلانے میں سابقہ عادت پر قائم دوائم رہے اسی وجہ سے کہا : وجحدوبھا واستیقنتھا انفسھم ظلما ًوعلوا انہیں یقین تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور یہ جادو نہیں لیکن انہوں نے کفر کیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے سے تکبر کیا۔ یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ معاند تھے۔ ظلما ًوعلوا مصدر مخدوف کی صفت ہونے کی بناء پر منصوب ہیں یعنی انہوں نے انکار کیا ان کا انکار ظلم اور اپنے آپ کو بلند سمجھنے کی وجہ سے تھا۔ باء زائدہ ہے تقدیر کلام یہ ہوگی حجد ھا، یہ ابو عبیدہ کا قول ہے۔ فانظر اے محمد ! صلی علیہ علیک وسلم دیکھو کیف کان عاقبۃ المفسدین سرکش کافروں کا معاملہ کیسے ہوا اپنے دل کی نظر سے دیکھ اور اس میں تدبر کر۔ خطاب آپ کو ہے اور مراد غیر ہیں۔
Ayahs 27:15–16

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم بخشا اور انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں بہت سے اپنے مومن بندوں پر فضیلت دی

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور سلیمان داؤد کے قائم مقام ہوئے اور کہنے لگے کہ لوگو ! ہمیں (خدا کی طرف سے) جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر چیز عطا فرمائی گئی ہے بیشک یہ اسکا صریح فضل ہے

(ولقد اتینا دائود۔۔۔۔۔ ) ولقد اتینا دائود وسلیمن علما علم سے مراد فہم ہے، یہ قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دین، حکم وغیرہ کا علم، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وعلمنہ صنعۃ لبوس لکم “ ( الانبیائ : 80) ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیمیا گری کی صنعت : یہ قول شاذ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو نبوت اور زمین میں خلافت عطاء فرمائی اور زبور عطاء کی۔ وقالا الحمد للہ الذی فضلنا علی کثیر من عبادہ المومنین اس آیت میں علم کے شرف، مقام کی بلندی اور اہل علم کے تقدیم پر دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے علم کی نعمت سب سے عظیم نعمت ہے اور مومن بندوں میں سے جس کو علم عطا کیا گیا اسے خیر کثیر عطاء کیا گیا۔ ” یَرْفَعِ اللہ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْلا وَالَّذِیْنَ اُوْتُو الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ط “ (المجادلۃ : 11) یہ بحث کئی مواقع پر گزر چکی ہے۔ وَوَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَاُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْئٍ ط کلبی نے کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) کے انیس بچے تھے ان میں سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نبوت اور ملک میں ان کے وارث تھے، اگر مال کی وارثت ہوتی تو تمام اولاد اس میں برابر ہوتی، یہ ابن عربی کا قول ہے کہا : اگر مال کی وارثت ہوتی تو تعداد کے اعتبار سے منقسم ہوتی اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ان چیزوں کے لیے خاص کیا جو حضرت دائود (علیہ السلام) میں حکمت اور نبوت تھی۔ اور ایسے ملک کے ساتھ فضلیت عطاء کی گئی جو ان کے لیے مناسب نہیں۔ ابن عطیہ نے کہا : حضرت دائود (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے آپ بادشاہ تھے حضرت سلیمان (علیہ السلام) ان کے ملک اور نبوت میں ان کے مقام کے وارث بنے یعنی اپنے والد کے فوت ہوجانے کے بعد یہ چیزیں ان کی طرف منتقل ہوگئیں تو مجازاً انہیں میراث قرار دیا گیا۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح فرمایا : العلماء ورثۃ الانبیاء، علماء انبیاء کے وارث ہیں (1) نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : انامعشر النبیاء لا نورث سے مراد یہ ہو سکتا ہے کہ یہ انبیاء کا فعل اور ان کی سیرت ہے۔ اگرچہ ان میں ایسے افراد بھی ہوئے جو مال کے وارث ہوئے جس طرح حضرت زکریا، جس طرح مشہور قول ہے یہ اسی طرح ہے جس طرح تو کہتا ہے : ہم مسلمانوں کی جماعت ہیں ہمارا شغل عبادت ہے۔ مراد ہے یہ اکثرکا فعل ہے اسی معنی میں وہ قول ہے جو سیبویہ نے بیان کیا ہے : انا معشر العرب اقری الناس للصیف ہم عرب لوگ مہمان کے سب سے زیادہ ضیافت کرنے والے ہیں۔ میں کہتا ہوں : سورة ٔ مریم میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ صحیح قول پہلا ہے کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : انا معشر الانبیاء لا نواث یہ عام ہے کوئی چیز دلیل کے بغیر اس میں سے خارج نہ ہوگی۔ مقاتل نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) ، حضرت دائود (علیہ السلام) بڑے ملک والے اور زیادہ فیصلے کرنے والے تھے۔ حضرت دائود، حضرت سلیمان (علیہم السلام) سے زیادہ عبادت گزار تھے۔ دوسرے علماء نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) بادشاہت میں جس مقام پر پہنچے کوئی اور اس مقام پر نہ پہنچا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے انسانوں، جنوں، پرندوں اور وحشی جانوروں کو مسخر کردیا تھا۔ اور ان کو وہ شان عطاء فرمائی جو۔ 1 ؎۔ جامع ترمذی، باب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ جلد 2، صفحہ 93، وزارت تعلیم۔ کسی اور کو عطاء نہ فرمائی۔ وہ ملک و نبوت میں اپنے باپ کے وارث بنے اور ان کے بعد ان کی شریعت پر قائم رہے۔ ہر نبی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آیا جو ان میں سے تھا جسے مبعوث کیا گیا یا مبعوث نہیں کیا گیا وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت پر تھا یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مبعوث کیے گئے تو آپ نے ان کی شریعت کو منسوخ کردیا۔ ان کے درمیان اور ہجرت کے درمیان تقریباً اٹھارہ سو سال کا عرصہ حائل ہے۔ یہودی کہا کرتے تھے : ایک ہزار تین سو باسٹھ سال کا عرصہ حائل ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان کے وصال اور نبی کریم ﷺ کی ولادت کے درمیان ایک ہزار سات سو سال کا عرصہ حائل ہے۔ یہودی اس میں سے تین سو سال کی کمی کرتے وہ پچاس سال سے زائدہ عرصہ زندہ رہے۔ وقال یایھا الناس حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر بجا لانے کے انداز میں کہا : علمنا منطق الطیر اللہ تعالیٰ نے ہم پر فضل و احسان فرمایا کہ اس نے ہمیں حضرت دائود (علیہ السلام) کے علم، نبوت اور زمین میں خلافت کا وارث بنایا کہ ہمیں پرندوں کی آوازوں سے معافی کی تعلیم دی جو ان آوازوں میں معافی پنہاں تھے۔ مقاتل نے آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) ایک روز بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک پرندہ طواف کرتے ہوئے گزرا آپ نے اپنے ہم نشینوں سے فرمایا : کیا تم جانتے ہو یہ پرندہ کیا کہہ رہا ہے اس نے مجھے کہا : اے بادشاہ ! جسے غلبہ دیا گیا ہے اسے اسلام اور بنی اسرائیل کے نبی کو سلام، اللہ تعالیٰ نے تجھے کرامت عطاء کی، تجھے تیرے دشمن پر غلبہ دیا میں اپنے بچوں کی طرف جا رہا ہوں پھر میں دوبارہ حاضر ہوں گا۔ وہ عنقریب دوبارہ آئے گا۔ پھر وہ دوبارہ آیا، فرمایا : وہ کہتا ہے : اے غلبہ دیئے گئے بادشاہ ! تجھ پر سلام اگر آپ چاہیں تو میں اپنے بچوں کے لیے روزی تلاش کروں یہاں تک کہ وہ جوان ہوجائیں پھر میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں گا پھر تو میرے ساتھ جو چاہے سلوک کرے، اس نے جو کہا تھا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی خبر دی اور اسے اجازت دی اور وہ پرندہ چلا گیا۔ فرقدسنجی نے کہا : حضرت سلیمان (علیہ السلام) ایک بلبل کے پاس سے گزرے جو درخت پر بیٹھی ہوئی تھی جو اپنے سر کو حرکت دے رہی تھی اور اپنی دم کو جھکا رہی تھی آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : کیا تم جانتے ہوں یہ بلبل کیا کہتا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : نہیں اے اللہ کے نبی ! فرمایا : وہ کہہ رہا ہے میں نے نصف پھل کھایا ہے اور دنیا پر ہلاکت ہے۔ آپ ہد ہد کے پاس سے گزرے جو ایک درخت پر بیٹھا ہوا تھا اور اس کے سامنے اس کا کمزور بچہ کھڑا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ہد ہد سے فرمایا : اے ہد ہد ! ڈر اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! یہ بچہ ہے اس میں کوئی عقل نہیں میں اس کے ساتھ مذاق کر رہا ہوں۔ پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) لوٹے تو اسے پایا کہ وہ ایکبچے کے پھندہ میں ہے جو اس کے ہاتھ میں ہے پوچھا : ہد ہد ! یہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں نے اسے نہ دیکھا یہاں تک کہ میں اس جال میں گر پڑا۔ فرمایا : تجھ پر افسوس تو زمین کے نیچے پانی دیکھ لیتا ہے کیا تو اس پھندے کو نہیں دیکھ سکتا ؟ اے اللہ کے نبی ! جب قضا آجائے تو آنکھ اندھی ہوجاتی ہے۔ حضرت کعب نے کہا : قمری حضرت سلیمان بن دائود (علیہما السلام) کے سامنے چیخی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے پوچھا : کیا تم جانتے ہو وہ کیا کہتی ہے ؟ ساتھیوں نے عرض کی : نہیں۔ فرمایا : یہ کہتی ہے مرنے کے لیے جیو اور برباد ہونے کے لیے تعمیر کرو۔ فاحشہ چیخی پوجھا : ویا تم جانتے ہو کہ یہ کیا کہتی ہے ؟ ساتھیوں نے عرض کی : نہیں۔ فرمایا : یہ کہتی ہے کاش یہ مخلوق پیدا نہ کی جائے جب انہیں پیدا کیا گیا ہے تو کاش یہ جانتے یہ کس کے لیے پیدا کیے گئے ؟ ان کے پاس ایک مور نے چیخ ماری پوچھا کیا تم جانتے ہو یہ کیا کہتا ہے ؟ ساتھیوں نے عرض کی : نہیں۔ فرمایا : یہ کہتا ہے جس طرح کرو گے ویسا بھروگے۔ آپ کے پاس ہد ہد نے آواز نکالی۔ پوچھا : کیا تم جانتے ہو یہ کیا کہتا ہے ؟ ساتھیوں نے عرض کی : نہیں۔ فرمایا : یہ کہتا ہے جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ آپ کے پاس صرو ( ایک پرندہ) نے آواز لگائی پوچھا : کیا تم جانتے ہو یہ کیا کہتا ہے ؟ ساتھیوں نے عرض کی : نہیں۔ فرمایا : یہ کہتا ہے اے گناہ گار و ! اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو۔ اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل سے منع کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : صرد ہی وہ پرندہ تھا جس نے حضرت آدم (علیہ السلام) اسلام کو بیت اللہ شریف کی جگہ بتائی تھی۔ یہ وہ پہلا جاندار ہے جس نے روزہ رکھا۔ اسی وجہ سے صرد کو صوام ( روزہ رکھنے والا) کہتے ہیں : حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے۔ طیطوی آپ کے پاس چیخا پوچھا : کیا تم جانتے ہو یہ کیا کہتا ہے ؟ ساتھیوں نے عرض کی : نہیں۔ فرمایا : یہ کہتا ہے ہر زندہ مرنے والا ہے اور نبی چیز بوسیدہ ہونے والی ہے۔ خطافہ ( پرندہ) آپ کے پاس چیخی پوچھا : کیا تم جانتے ہو یہ کیا کہتی ہے ؟ ساتھیوں نے عرض کی : نہیں۔ فرمایا : یہ کہتی ہے بھلائی آگے بھیجو تم اسے پائو گے۔ اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے خطافہ کو قتل کرنے سے منع کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت آدم (علیہ السلام) جنت سے نکلے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وحشت کی شکایت کی، تو اللہ تعالیٰ نے خطاف کے ساتھ انس عطاء کیا اور انہیں گھروں میں رہنا لازم کردیا یہ بنی آدم سے انس کی وجہ سے جدا نہیں ہوتے فرمایا : اس کے پاس قرآن کی چار آیات ہوتی ہیں :” لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللہ ط وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ۔ ہُوَ اللہ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَج عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِج ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ۔ ہُوَ اللہ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَج اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُط سُبْحٰنَ اللہ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ ہُوَ اللہ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰیط یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِج وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ “ (الحشر) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس کبوتری بولی۔ پوچھا : کیا تم جانتے ہو یہ کیا کہتی ہے ؟ انہوں نے عرض کی نہیں۔ فرمایا : وہ کہتی ہے سبحان رب العظیم المھین۔ کعب نے کہا : سلیمان نے انہیں بیان کیا کو اکہتا ہے : اللہ عشار پر لعنت کر۔ چیل کہتی ہے :” کُلُّ شَیْئٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہٗ ط “ (القصص : 88) اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔ کو نج کہتی ہے : جو خاموش رہا سلامتی پا گیا۔ ببغاء کہتا ہے : دنیا جس کا مقصود ہے اس کے لیے ہلاکت ہے۔ مینڈک کہتا ہے : سبحان ربی القدوس۔ بازی کہتا ہے : سبحان ربی وبحمدہ ٗ سرطان کہتا ہے : سبحان المذکور بالکل لسان فی کل مکان سبحان جو ہر زبان سے ہر جگہ ذکر کی جاتی ہے۔ مکحول نے کہا : دراج حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس چیخا۔ پوچھا : کیا تم جانتے ہو وہ کیا کہتا ہے ؟ فرمایا : وہ کہتا ہے الرحمن علی العرش استوی۔ ( طہٰ :) حضرت حسن بصری نے کہا : نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” جب مرغ چیختا ہے تو وہ کہتا ہے : اے غافلو ! اللہ کا ذکر کرو “۔ حضرت حسن بن علی بن ابی طالب نے کہا : نبی کریم ﷺ نے فرمایا :” گدھ جب آواز نکالتی ہے تو وہ کہتی ہے : اے ابن آدم ! جتنا عرصہ چاہے زندہ رہ لے آخر کار تیری موت ہے جب عقاب آواز نکالے تو کہتا ہے : لوگوں سے دوری میں راحت ہے۔ جب قنبر آواز نکالے تو کہتا ہے : اے اللہ ! آل محمد سے بغض رکھنے والوں پر لعنت فرما۔ جب خطاف آواز نکالے ’ ’ الحمد للہ رب العٰلمین وہ ولا الضالین “ پڑھتا ہے تو اس کے ساتھ اپنے آواز کو لمبا کرتا ہے جس طرح قاری اپنی آواز کو لمبا کرتا ہے۔ ” قتادہ اور شعبی نے کا : یہ امر پرندوں میں خاص طور پر ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : علمنا منطق الطیر، چیونٹی پرندہ ہے کیونکہ اس کے پر پائے جاتے ہیں۔ امام شعبی نے کہا : یہ چیونٹی دو پروں والی تھی۔ ایک جماعت نے کہا : یہ تمام حیوانات میں ہوتا ہے۔ پرندوں کا ذکر اس لیے ہوا کیونکہ وہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکروں میں ایک لشکر تھا۔ سورج کی تپش سے بچنے کے لیے ان کی ضرورت ہوتی اور کچھ امور کے لیے انہیں بھیجا جاتا۔ ان کی کثرت مداخلت کی وجہ سے پرندوں کا خصوصاً ذکر کیا۔ باقی حیوانات کا امر نا در ہے اور پرندوں کے تردو کی طرح تردد نہیں۔ ابو جفعر نحاس نے کہا : منطق کا لفظ بعض اوقات ایسی چیز کے لیے بولا جاتا ہے جو کلام کے بغیر سمجھی جائے۔ اللہ تعالیٰ کا جو ارادہ فرمائے اسے خوب جانتا ہے۔ ابن عربی نے کہا : جو آدمی یہ کہے وہ پرندوں کی بولی کے سوا کچھ نہیں سمجھتا تو یہ عظیم نقصان ہے۔ لوگوں کے لیے ایسا اتفاق ہوا ہے کہ وہ ایسی چیزوں کا کلام سمجھ جائے جو تکلم نہیں کرتے تھے ان کے لیے نباتات کا قول پیدا کردیا جاتا۔ ہر جڑی بوٹی اسے کہتی : میں فلاں درخت ہوں میں فلاں چیز سے نفع دیتی ہوں اور فلاں چیز سے نقصان دیتی ہوں، تو تیرا حیوانات کے بارے میں کیا خیال ہے ؟
Ayah 27:17

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور سیلمان کے لئے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے اور قسم وار کئے جاتے تھے

(وحشر لسلیمین جنودہٗ ۔۔۔۔۔ ) مسئلہ نمبر 1 :۔ وحشر لسلیمین حشر جمع کیے گئے حشر کا معنی جمع کرنا ہے۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فلم تغادر منھم احد۔ ( الکہف) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکروں کی مقدار میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : آپ کے لشکروں کی چھائونی سو فرسخ ضرب سو فرسخ تھی پچیس فرسخ جنوں کے لیے، پچیس فرسخ انسانوں کے لیے، پچیس فرسخ پرندوں کے لیے اور پچیس فرسخ وحشی جانوروں کے لیے تھی آپ کے ایک ہزار کمرے تھے جو شیشے کے بنے ہوئے تھے جو شیشہ لکڑی پر لگایا گیا تھا ان میں تین سو منکوحہ بیویاں اور سات سو لونڈیاں تھیں۔ ابن عطیہ نے کہا : ان کی چھائونی میں اختلاف کیا گیا ہے اور لشکر کی مقدار میں شدید اختلاف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ان کا ملک عظیم تھا جو روئے زمین کے برابر تھا تمام آبادی ان کی اطاعت گزار تھی۔ فھم یوزعون اس کا معنی ہے ان کے اول کو ان کے آخر کی طرف لوٹا جاتا ہے اور انہیں روکا جاتا ہے۔ قتادہ نے کہا : ہر صنف کے لیے ان کے رتبہ اور مقام کے اعتبار سے کرسی یا زمین میں سے جگہ مختص تھی جب وہ اس میں چلتے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : وزعتہ اوزعہ وزعا۔ یعنی میں نے اس کو روک لیا۔ جنگ میں وازع اسے کہتے ہیں جو صفوں کو منضبط کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے جو ان صفوں میں آگے نکلتا ہے اس کو روکتا ہے۔ محمد بن اسحاق نے حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ ذی طویٰ کے مقام پر ٹھہرے مراد فتح مکہ ہے تو ابو قحافہ نے اپنی بیٹی سے کہا جب کہ ان کی نظر جاتی رہی تھی : مجھے جبل ابی قبیس پر لے چلو۔ حضرت اسماء نے کہا : میں انہیں جبل ابی قبیس پر لے گئی پوچھا : کیا دیکھتی ہو ؟ میں نے کہا : میں ایک مجتمع لشکر دیکھتی ہوں کہا : وہ گھوڑے ہوں گے۔ بیٹی نے کہا : میں لشکر میں ایک آدمی دیکھتی ہوں جو کبھی آگے جاتا ہے اور کبھی پیچھے جاتا ہے۔ کا : وہ ناظم ہوگا جو لشکر کو منتشر ہونے سے روکے گا۔ تمام واقعہ ذکر کیا۔ اسی معنی میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے :” شیطان کو یوم عرفہ سے بڑھ کر کسی روز زیادہ بےحیثیت، لا چار، حقیر اور غصے میں نہیں دیکھا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس روز اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بڑے بڑے گناہوں سے اللہ تعالیٰ کے در گزر کرنے کو دیکھتا ہے مگر جو اس نے یوم بدر کو دیکھا ( تو وہ اس روز زیادہ دلیل و رسوا ہوا) “ عرض کی گئی۔ یا رسول اللہ ﷺ ! اس نے کیا دیکھا ؟ فرمایا :” اس نے جبریل امین کو دیکھا کہ وہ فرشتوں کو منظم کر رہے ہیں “۔ امام مالک نے موطا میں اس ذکر کیا ہے (1) اسی معنی میں نابغہ کا قول ہے : علی حین عاقبت المشیب علی الصبا وقلت الما اصح واشیب وازع (2) جب میں نے بچنے میں ہی بڑھاپے کو عتاب کیا اور میں نے کہا : جب میں بچنے کو چھوڑ رہا ہوں جب کہ بڑھاپا منظم کر رہا ہے ؟ ایک شاعر نے کہا : ولما تلا قینا جرت من جفوتا دموع وزعنا غربھا بالاصابع جب ہم ملے تو ہماری پلکوں سے آنسو بہہ پڑے ہم نے آنسو بہنے کی جگہ کو انگلیوں سے درست کیا۔ ایک اور شاعر نے کہا : ولا یزع الفنس اللجوج عن الھوی من الناس الا وافر العقل کاملہ لوگوں میں سے کامل عقل والا ہی جھگڑا تو نفس کو محبت سے روکتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ توزیع سے مشتق ہے جس کا معنی تفریق ہے۔ القوم اوزاع قوم کئی طائفوں میں بٹی ہوئی ہے۔ قصہ میں ہے شیاطین نے آپ کے لیے ایک قالین بنایا جو ایک فرسخ لمبا اور ایک فرسخ چوڑا تھا ریشم میں سونے کی تاریں تھیں۔ اس پر سونے کی کرسی رکھی جاتی۔ اس کے ارد گرد سونے اور چاندی کی دو ہزار کرسیاں رکھی جاتیں۔ انبیاء سونے کی کرسیوں پر بیٹھتے اور علماء چاندیوں کی کرسیوں پر بیٹھتے۔ مسئلہ نمبر 2 :۔ اس آیت میں یہ دلیل موجود ہے کہ امام اور حاکم ضابطہ بنائیں جو لوگوں کو رکیں اور ان کو ایک دوسرے 1 ؎۔ موطا امام مالک، کتاب فی الحج، باب جامع الحج، صفحہ 457، وزارت تعلیم۔ 2 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 253 سے آگے بڑھنے سے روکیں کیونکہ حکام کے لیے بذات خود یہ فریضہ سر انجام دینا ممکن نہیں ہوتا۔ ابن عون نے کہا : میں نے حضرت حسن کو یہ کہتے ہوئے سنا جب کہ وہ اپنی مجلس قضاء میں موجود تھے جب آپ نے لوگوں کو دیکھا جو کچھ وہ کررہے ہیں، فرمایا : اللہ کی قسم ! ان لوگوں کو ضابطہ ہی درست کرسکتے ہیں۔ حضرت حسن نے یہ بھی کہا : لوگوں کے لیے ایک منتظم کا ہونا ضروری ہے یعنی ایسے سلطان کا ہونا ضروری ہے جو انہیں روکے۔ ابن قاسم نے ذکر کیا ہے ہمیں مالک نے روایت کیا ہے کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کہا کرتے تھے : امام لوگوں کو اتنا منتظم نہیں کرتا جتنا قرآن منظم کرتا ہے۔ ابن قاسم نے کہا : میں نے مالک سے پوچھا : یہ یرع کیا ہے ؟ فرمایا : وہ روکتا ہے۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : قوم اس کلام کی مراد سے جاہل ہے انہوں نے گمان کیا اس کا معنی ہے کہ سلطان کی قدرت و قوت لوگوں کو اس سے زیادہ روکتی ہے جس قدر قرآن کی حدود روکتی ہے یہ اللہ تعالیٰ اور اس کی حکمت سے نا واقفیت ہے۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حدود کو مصلحت عامہ کافہ کے لیے وضع کیا جو مخلوق کے امور کو درست رکھتی ہیں نہ ان پر کوئی زیادتی ہو سکتی ہے اور نہ ہی کمی ہو سکتی ہے اس کے سوا کوئی درست نہیں لیکن ظالم ان کی وجہ سے ذلیل ہوئے اور ان سے کوتاہی کی اور جو کچھ کیا نیت کے بغیر کیا۔ فیصلہ کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد نہ کیا اور مخلوق ان کی وجہ سے نہ رکی۔ اگر وہ عدل کے ساتھ فیصلہ کرتے، نیت کو خالص رکھتے تو امور درست ہوجاتے اور جمہور لوگ درست ہوجاتے۔