Explained with ayahs 91–93
اللہ تعالیٰ کو حکم اعلان
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم ﷺ سے فرماتا ہے کہ آپ لوگوں میں اعلان کردیں کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی عبادت کا اور اس کی فرمانبرداری کا مامور ہوں۔ جیسے ارشاد ہے کہ اے لوگو ! اگر تمہیں میرے دین میں شک ہے تو ہوا کرے میں تو جن کی تم عبادت کررہے ہو ان کی عبادت ہرگز نہیں کرونگا۔ میں اسی اللہ کا عابد ہوں جو تمہاری زندگی موت کا مالک ہے۔ یہاں مکہ شریف کی طرف ربوبیت کی اضافت صرف بزرگی اور شرافت کے اظہار کے لئے ہے جیسے فرمایا آیت (فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ ۙ) 106۔ قریش :3) انہیں چاہیے کہ اس شہر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں اوروں کی بھوک کے وقت آسودہ اور اوروں کے خوف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
سورة النمل 110
یہ سورة چونکہ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جبکہ اسلام کی دعوت ابھی صرف مکہ معظمہ تک محدود تھی اور مخاطب صرف اس شہر کے لوگ تھے، اس لیے فرمایا " مجھے اس شہر کے رب کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے "۔ اس کے ساتھ اس رب کی خصوصیت یہ بیان کی گئی کہ اس نے ا سے حرم بنایا ہے۔ اس سے کفار مکہ مکہ کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ جس خدا کا تم پر یہ احسان عظیم ہے کہ اس نے عرب کی انتہائی بدامنی اور فساد و خونریزی سے لبریز سرزمین میں تمہارے اس شہر کو امن کا گہوارہ بنا رکھا ہے، اور جس کے فضل سے تمہارا یہ شہر پورے ملک عرب کا مرکز عقیدت بنا ہوا ہے تم اس کی ناشکری کرنا چاہو تو کرتے رہو، مگر مجھے تو یہی حکم دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
خلاصہ تفسیر
(اے پیغمبر ﷺ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ) مجھے تو یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر (مکہ) کے مالک (حقیقی) کی عبادت کیا کروں جس نے اس (شہر) کو محترم بنایا ہے (کہ حرم ہونا اسی احترام پر مرتب ہے مطلب یہ ہے کہ عبادت میں کسی کو شریک نہ کروں) اور (اس کی عبادت کیوں نہ کی جاوے جبکہ) سب چیزیں اسی کی (ملک) ہیں اور مجھ کو یہ (بھی) حکم ہوا ہے کہ میں (عقائد و اعمال سب میں) فرمانبردار رہوں (یہ تو توحید کا حکم ہوا) اور (مجھ کو) یہ (بھی حکم ملا ہے) کہ میں (تم کو) قرآن پڑھ پڑھ کر سناؤں (یعنی احکام الہیہ کی تبلیغ کروں جو نبوت کے لوازم میں سے ہے) سو (میری تبلیغ کے بعد) جو شخص راہ پر آوے گا تو اپنے ہی فائدہ کے…
Read the full tafseer →یعنی ان سے کہہ دو کہ اللہ ہی شکر کا سزا وار ہے جس نے مجھ پر قرآن کی یہ نعمت اتاری اور میں وہ تم کو سنارہا ہوں۔ اگر تم اس کی قدر نہیں کر رہے ہو اور مجھ سے نشانیوں کا مطالبہ کر رہے ہو تو وہ وقت بہت جلد آ رہا ہے جب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا اس وقت تمہیں پتہ چلے گا کہ میں نے تمہیں کتنی سچی باتیں بتانی تھیں لیکن تم نے اپنی بدبختی سے ان کی قدر نہیں کی۔ فتعرفونھا یعنی اس وقت تم جانو گے کہ کسی نے اس انجام سے تمہیں آگاہ کیا تھا لیکن تم نے اس کو جھٹلایا اور اپنی یہ شامت بلائی۔ مگر اس جاننے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
وماربک بغافلعما تعملون یعنی اس غلط فہمی میں نر ہو کہ تم جو شرارتیں کر رہے ہو خدا اس…
Read the full tafseer →93-1کہ جو کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک دلیل قائم نہیں کردیتا۔
93-2ہم انھیں آفاق وانفس میں اپنی نشانیاں دکھلائیں گے تاکہ ان پر حق واضح ہوجائے اگر زندگی میں یہ نشانیاں دیکھ کر ایمان نہیں لاتے تو موت کے وقت تو ان نشانیوں کو دیکھ کر ضرور پہچان لیتے ہیں۔ لیکن اس وقت کی معرفت کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی، اس لئے کہ اس وقت ایمان مقبول نہیں۔
93-2بلکہ ہر چیز کو وہ دیکھ رہا ہے۔ اس میں کافروں کے لئے ترہیب شدید اور تہدید عظیم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
39: اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کی حقانیت اور اپنی قدرت کی بہت سی نشانیاں دنیا میں دکھاتا رہا ہے، مثلا بہت سی پیشگی خبریں جو آپ نے وحی کی بیناد پر دی تھیں، وہ لوگوں نے کھلی آنکھوں پر پوری ہوتی ہوئی دیکھیں، جیسا کہ سورة روم کے شروع میں اس کی ایک مثال آنے والی ہے۔ یہاں اس قسم کی نشانیاں بھی مراد ہوسکتی ہیں، اور قیامت بھی مراد ہوسکتی ہے کہ اس وقت قیامت کے منکر بھی اسے پہچان لیں گے، لیکن اس وقت کا پہچاننا فائدہ مند نہیں ہوگا، کیونکہ ایمان لانے کا وقت گذر چکا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
اب سورت کے آخر میں آخری ضربات ہیں۔ یہاں یہاں رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی دعوت کا خلاصہ بیان کریں۔ اپنے منہاج کار کی وضاحت کردیں۔ طریقہ دعوت بتا دیں اور تبلیغ کردینے اور خدا کا پیغام پہنچا دینے کے بعد اب ان کو اس انجام کے حوالے کردیں۔ جو اللہ نے ان لوگوں کے لیے پسند فرمایا ہے اس لیے کہ انہوں نے خود اپنے لیے اسے چنا ہے۔ اور بات کا خاتمہ بھی اسی حمد و ثنا پر ہوتا ہے جس کے ساتھ آغاز ہوا تھا۔
انما امرت ان اعبد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما ربک بغافل عما تعملون (27: 91- 93)
” “۔
اہل عرب مکہ مکرمہ کو بیت الحرام اور حرم کو قابل احترام سمجھتے تھے اور مکہ مکرمہ اور حرم شریف کے اس احترام پر ان کی قیادت و…
Read the full tafseer →2 یعنی اللہ کا ہزاراں ہزار شکر جس نے مجھ کو ہادی و مہتدی بنایا۔ فی الحقیقت تعریف کے لائق اسی کی ذات ہے۔ جس کو خوبی یا کمال ملا وہیں سے ملا۔
3 یعنی آگے چل کر حق تعالیٰ تمہارے اندر یا تم سے باہر اپنی قدرت کے وہ نمونے اور میری صداقت کے ایسے نشان دکھلائے گا جنہیں دیکھ کر سمجھ لو گے کہ بیشک یہ اللہ کی وہ ہی آیات ہیں جن کی خبر پیغمبر نے دی تھی باقی اس وقت کا سمجھنا تم کو نافع ہو یا نہ ہو، جداگانہ چیز ہے۔ علامات قیامت وغیرہ سب اس کے تحت میں آگئیں۔
4 یعنی جو عمل اور معاملہ تم کرتے ہو، سب اس کی نظر میں ہے۔ اسی کے موافق آخرکار بدلہ ملے گا۔ اگر سزا وغیرہ میں تاخیر ہو تو نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ ہماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
آیت 92 وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ ج ”
مجھے تیسرا حکم یہ ملا ہے کہ میں قرآن پڑھوں ‘ پڑھ کر لوگوں کو سناتا رہوں اور اس کی تبلیغ کرتا رہوں۔ سورة المائدۃ کی آیت 67 میں بھی آپ ﷺ کو ایسا ہی حکم دیا گیا ہے : یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَط وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسٰلَتَہٗ ط کہ اے نبی ﷺ ! جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے آپ وہ لوگوں تک پہنچادیجیے اور اگر بالفرض آپ نے ایسانہ کیا تو یہ گویا رسالت کے فرائض میں کوتاہی شمار ہوگی۔
فَمَنِ اہْتَدٰی فَاِنَّمَا یَہْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ ج ”
اس ہدایت کے بدلے میں اگر وہ آخرت میں کامیاب قرار پاتا…
Read the full tafseer →103 یعنی ایسی نشانیاں جن سے تمہیں بخوبی معلوم ہوجائے گا کہ جو باتیں میں کہتا تھا وہی حق اور درست تھیں۔ یعنی تمہیں اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ذلیل و خوار کرے گا اور مسلمانوں کا ہر آڑے وقت میں ساتھ دے گا اور ان کی مدد فرمائے گا۔ اور تمہاری سر توڑ معاندانہ کوششوں کے باوجود اسلام سربلند ہو کے رہے گا۔ اس وقت تم ٹھیک طرح پہچان لو گے کہ تم سے کئے گئے وعدے بھی درست تھے، یہ قرآن بھی درست اور حق تھا اور میں بھی فی الواقع اللہ کا پیغمبر ہوں۔ اور یہ سب کچھ مانے بغیر تمہارے لئے دوسرا کوئی چارہ کار نہ رہے گا۔ چناچہ فتح مکہ اور پھر اس کے بعد اعلان برات پر سب کفار اور مشرکین پر یہ حقائق منکشف ہوگئے اور ایمان…
Read the full tafseer →105۔ (اور قدرت، ملک، علم، حکمت، سارے صفات کمال اسی کے لیے ثابت ہیں، سو اس کے علم کے موافق جب حکمت کا مقتضا ہوگا وہ اپنی قدرت سے اپنی مخلوق میں قیامت واقع کردے گا) اہل اشارات نے کہا کہ سورة کے خاتمہ پر (آیت) ” الحمد “ لانے میں تعلیم یہ ہے کہ مسلمان کو بھی اپنے سارے احوال ومور کا خاتمہ اللہ کی حمد وثنا ہی پر کرنا چاہیے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ واجب ہے کہ قبول کو منسوب اللہ تعالیٰ کی جانب کرے، اپنے مجاہدہ وعمل کی جانب نہ کرے۔
106۔ (اور اب انکار کررہے ہو) (آیت) ” ایتہ “۔ سے مراد واقعات واہوال قیامت ہیں۔ بعض نے مراد فتوحات بدر وغیرہ بھی لی ہیں۔ ایاتہ القاھرۃ فی الدنیا او فی الاخرۃ (بیضاوی)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیت نمبر 83 تا 93
ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے اور وہ ان کے رؤساء مقتدیٰ ہوں گے ان کو روکا جائے گا یعنی آگے پیچھے سے روکا جائے گا پھر ان کو ہانکا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ مقام حساب میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کیا تم نے میرے انبیاء کو میری آیتوں کے ساتھ جھٹلایا تھا حال یہ ہے کہ تم نے ان کی تکذیب کی جہت کا علمی احاطہ نہیں کیا أمَّا میں اَمْ کو ما استفہامیہ میں ادغام کردیا ذَا موصول ہے ای ما الذی اور جن کاموں کا تم کو حکم دیا گیا تھا ان میں سے تم نے کیا کیا کام کئے ؟ اور ان کے ظلم یعنی…
Read the full tafseer →وقل الحمد اللہ . اور اللہ نے جو نعمت نبوت سے مجھے سرفراز کیا اور جو تبلیغ و دعوت مجھ پر واجب تھی اس کو پورا کرنے
کی مجھے توفیق عنایت کی اس پر اس کا شکر ہے۔ وہ مستحق ستائش و ثنا ہے۔
سیریکم ایتہ . عنقریب تم کو اللہ اپنی نشانیاں دکھا دے گا۔ نشانیوں سے مراد ہیں دنیا میں نمودار ہونے والی آیات
قدرت جو رسول اللہ کی نبوت کی آیات صداقت ہیں جیسے بدر کی لڑائی میں کافروں کا مارا جانا ‘ قید ہونا ‘ فرشتوں کا نازل ہو کر مسلمانوں کی مدد کرنا اور کافروں کے چہروں کو زخمی کرنا اور پشت پر ضربیں لگانا ‘ چاند کا پھٹنا ‘ کنکریوں کا تسبیح پڑھنا اور آخر زمانہ میں دابۃ الارض کا برآمد ہونا انہی آیات کی طرف اشارہ ہے۔…
Read the full tafseer →(93) چناچہ ارشاد ہوا کہ آپ ان سے فرما دیجیے سب خوبیاں اور وحدانیت خاص اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے وہ عنقریب بدر کے دن تم پر عذاب نازل کرکے اپنی وحدانیت اور قدرت کی نشانیاں تمہیں دکھادے گا سو تم اس وقت پہچان لو گے کہ محمد ﷺ جو کچھ تم سے فرماتے تھے وہ حق اور سچ تھا اور یہ جو کفر وشرک کر رہے ہیں آپ کا پروردگار ان سے غافل نہیں کفار کو اللہ کی جانب سے کفر وشرک پر وعید ہے یا یہ کہ جو تم لوگ مکر و خیانت اور فساد کے کام کر رہے ہو اللہ تعالیٰ ان کی سزا دینے سے چوک فرمانے والا نہیں۔
Read the full tafseer →وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ : اور کہہ دے کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام صفات کمال کا جامع ہے۔ کسی کے ہدایت قبول کرنے یا نہ کرنے سے اس کی حمد میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ اگر تمام جنّ و انس اور پہلے اور پچھلے سب سے متقی شخص کے دل والے ہوجائیں تو اس سے اس کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا اور اگر تمام جنّ و انس اور اول و آخر سب سے فاجر شخص کے دل والے ہوجائیں تو اس سے اس کی بادشاہت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔
سَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا : عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا، تو تم انھیں پہچان لو گے کہ ہاں یہ وہی نشانیاں ہیں جن کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے کیا تھا، مگر اس وقت…
Read the full tafseer →وقل الحمد اللہ اس نے جو نعمتیں کی ہیں اور اس نے جو ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنائ ہے۔ سیریکم ایتہ تمہاری ذاتوں میں اور تمہارے علاوہ دوسری چیزوں میں اپنی آیات دکھائے گا جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : سنریھم ایتنا فی الافاق و فی انفسھم (فصل : 53) فتعرفونھا تم اپنی ذاتوں، آسمانوں اور زمین میں اس کی قدرت اور وحدانیت کے دلائل پہچان لو گے۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وفی الارض ایت للمومنین، (الذاریات) وفی انفسکم افلا تبصرون، (الذاریات) وما ربک بغافل عما تعملون اہل مدینہ، اہل شام اور حفص نے عاصم سے تاء کے ساتھ خطاب کا صیغہ پڑھا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان اعبد رب ہذہ البلدۃ میں البلدۃ سے مراد ہے مکہ۔
2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
3۔ ابن المنذر نے ابن جریرج (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں کو یہ گمان ہے کہ البلدۃ سے مراد مکہ ہے۔
4۔ ابن ابی حاتم نے ابو لاعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ البلدۃ سے منی مراد ہے۔
5۔ ابو عبید وابن المنذر نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود کی قراءت یہ ہے کہ آیت وان اتلوا القرٰن ہے، یعنی اتل امر کا صیغہ ہے۔ اور ابی بن کعب کی قرءت میں ہے آیت وان اتلوا القرآن، (یعنی ان پر قرآن کی تلوت کیجیے۔
6۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وا بن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →وَقُلِ [ اور آپ ﷺ کہیے ] الْحَمْدُ [ تمام شکروسپاس ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لئے ہے ] سَيُرِيْكُمْ [ وہ دکھائے گا تم کو ] اٰيٰتِهٖ [ اپنی نشانیاں ] فَتَعْرِفُوْنَهَا ۭ [ تم لوگ پہچانو گے ان کو ] وَمَا رَبُّكَ [ اور نہی ہے آپ ﷺ کا رب ] بِغَافِلٍ [ غافل ] عَمَّا [ اس سے جو ] تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ کرتے ہو ]
Read the full tafseer →(وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ سَیُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ فَتَعْرِفُوْنَھَا) اور آپ فرما دیجیے کہ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں وہ علم والا بھی ہے اور قدرت والا بھی ہے اور حکیم بھی، تم مجھ سے کہتے ہو کہ قیامت کب ہوگی میرے اختیار میں اس کا واقع کرنا نہیں ہے اللہ تعالیٰ جب چاہے گا تمہیں اس کی نشانیاں دکھا دے گا یعنی قیامت کے آثار ظاہر فرما دے گا جنہیں تم دیکھ لو گے جب اس کی حکمت ہوگی قیامت ظاہر ہوجائے گی (وَ مَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ) (اور آپ کا رب ان کاموں سے غافل نہیں ہے جو تم کرتے ہو) کوئی شخص کیسا ہی اچھا عمل کرے یا برا عمل اللہ تعالیٰ کو سب کا علم ہے وہ اپنے علم اور حکمت کے مطابق جزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
خاتمہء سورت برحکم عبادت وتلاوت قرآن
قال اللہ تعالیٰ انما امرت ان اعبدرت ھذہ البلدۃ۔۔۔ الی۔۔۔۔ وما ربک بغافل عما تعملون۔
(ربط) جب اللہ تعالیٰ مبدا اور معاد اور قیامت اور علامات قیامت اور قانون جزا اور سزا کو بیان کرچکے تو اب اس سورت کو تین احکام کے بیان پر ختم کرتے ہیں جن پر آخرت کی کامیابی کا دارومدار ہے۔
(1) ایک تو خدا کی عبادت۔ یعنی توحید خالص۔
(2) دوم دین اسلام پر استقامت۔
(3) سوم قرآن مجید کی تلاوت جو تبلیغ احکام اور دعوت اسلام کا اولین ذریعہ ہے۔
اور بتلا دیا کہ راہ راست پر چلنے سے بندہ ہی کا فائدہ ہے۔ اور نہ چلنے سے بندہ ہی کا نقصان ہے اور اللہ بندوں کے اعمال سے غافل نہیں۔ لہٰذا اعمال…
Read the full tafseer →80:۔ یہ پچھلے دونوں قصوں پر متفرع ہے بطور لفط و نشر مرتب۔ یعنی صفات کارسازی اللہ کے لیے ہیں پیغمبروں کے لیے نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی مصائب و شدائد سے ان کو بچاتا اور ان کے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے۔ سیریکم ایتہ الخ، آپ مشرکین سے فرما دیں آگے چل کر اللہ تعالیٰ تمہیں میری صداقت کے نشانات دکھائے گا جن کو دیکھ کر تم یقین کرلو گے کہ واقعی یہ وہی نشانات ہیں جن کی ہم کو خبر دی گئی لیکن یہ الگ بات ہے کہ اس وقت تمہیں اس معرفت اور اقرار کا کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو۔ مراد دنیا وآخرت کے عذاب کی نشانیاں ہیں۔ سیریہم اللہ من ایاتہ فی الاخرۃ فیستیقنون بھا وقیل ھو انشقاق القمر والدخان وما حل بھم من نقمات اللہ فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا رد کیا ۔ پھر توحید کے دلائل بیان کئے ، اللہ کی صفات کا ذکر ہوا ، انسانوں کو نصیحت کی باتیں سمجھائی گئیں اور پھر جزئے عمل کی منزل کا ذکر ہوا ۔ آج تو لوگ اکڑ دکھاتے ہیں اور انبیاء کی بات کو تسلیم نہیں کرتے مگر جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب گھبرا جائیں گے سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ محفوظ رکھے گا ۔ اس دن پہاڑ بادلوں کی طرح اڑیں گے اور پھر جزائے عمل کی منزل آئے گی۔
وحی کا بدلہ
اب اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے من جاء بالحسنہ فلہ خیر منھا جو شخص نیکی لے کر آیا اس کے لیے اس نیکی سے بہتر بدلہ ہوگا کیونکہ اللہ کے ہاں ہر نیکی کا اجر کم از…
Read the full tafseer →وَقُلِ الْحَمْدُ لِلہِ سَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِہٖ فَتَعْرِفُوْنَہَا 0 ۭ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ 93 ۧ
حمد
الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون الأول، والشّكر لا يقال إلا في مقابلة نعمة، فكلّ شکر حمد، ولیس کل حمد شکرا، وکل حمد مدح ولیس کل مدح حمدا، ويقال : فلان محمود :
إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
ان ما امرت ان اعبد رب ھذہ البلدۃ الخ مبدء و معاو و نبوت میں کلام کرکے سورة کو کس عمدہ خاتمہ پر تمام کرتا ہے جو تمام اگلے مضمون کا خلاصہ ہے۔ اول یہ کہ لوگوں کو کہہ دو کہ مجھ کو صرف اس شہر کے رب کی عبادت کا حکم ہوا ہے۔ یعنی مکہ کے رب کی، صرف اللہ کی عبادت پر مامور ہوں توحید خالص میرا وظیفہ ہے۔ اگرچہ خدا تعالیٰ صرف مکہ کا رب ہے، بلکہ تمام شہروں کا اور کل مخلوقات کا لیکن ھذہ البلدۃ کہنے سے قریش کو انفعال دلانا مقصود تھا کہ وہ رب کہ جس نے تمہارے اس شہر کو متبرک کیا ‘ حرمت دی ‘ جس کی بدولت تم عرب کی مار دھاڑ سے امن میں ہو اور اسی پر کیا منحصر ہے ولہ کل شیء اس کی اور بہت خوبیاں ہیں اور ہر شے اس کے…
Read the full tafseer →وَقُلِ الْحَمْدُلِلّٰہِ سَیُرِیْکُمْ اٰیٰـتِہٖ فَتَعْرِفُوْنَھَا ط وَمَا رَبُّـکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔
(النمل : 93)
(اور اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، وہ ابھی تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم ان کو پہچان جاؤ گے، اور جو کچھ تم لوگ کررہے ہو اس سے تمہارا رب بیخبر نہیں ہے۔ )
اے پیغمبر ان لوگوں کے سامنے اس بات کو بھی واشگاف کردیجیے کہ ہم نے آپ پر جو بےپایاں عنایات کی ہیں اور رحمۃ للعالمینی کی جو خلعت فاخرہ آپ کو ارزانی فرمائی ہے اور سیرت و کردار کی جو گوناگوں صفات عطا کی ہیں اور ختم المرسلینی کا جو درخشاں تاج آپ کے سرِنیاز پر رکھا ہے اور قرآن کریم جیسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کا پہلا حکم اور پیغام یہ ہے کہ ایک ہی رب کی عبادت کی جائے مکہ والوں کو اس سے سخت اختلاف تھا جس بنا پر ان کا مطالبہ تھا کہ یہ قرآن نہ پڑھا جائے۔
مکہ والوں کی آپ کے ساتھ دشمنی کی بنیاد محض قرآن مجید تھا۔ قرآن مجید میں بھی ان کو بالخصوص ان آیات کے ساتھ شدید اختلاف تھا جن میں مکہ والوں کے کفر و شرک کی مذمت کرتے ہوئے انہیں توحید خالص کی دعوت دی گئی ہے۔ نبوت کے ابتدائی سالوں میں اہل مکہ کلی طور پر قرآن مجید کے خلاف تھے لیکن جوں جوں نبی اکرم ﷺ کی دعوت پھیلنے لگی آپ اور آپ کے ساتھیوں نے اس دعوت پر پوری طرح استقامت کا مظاہرہ کیا تو مکہ والوں نے فکری پسپائی اختیار کرتے…
Read the full tafseer →93: وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ سَیُرِیْکُمْ ٰایٰتِہٖ (اور کہہ دیں (الحمدللہ) تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں عنقریبفَتَعْرِفُوْنَہَا وہ اپنی آیات دکھلائیں گے اس وقت تم ان کو پہچان لو گے) ۔ پھر آپ کو حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کی اس نعمت نبوت پر شکریہ ادا کریں جس کے برابر کوئی نعمت نہیں اور یہ بھی حکم دیا کہ اپنے دشمن کو دھمکائیں۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو آخرت میں اپنی آیات دکھائیں گے اس وقت ان کو یقین آجائے گا۔
ایک قول یہ ہے :
کہ اس سے مراد چاند کا پھٹنا ٗ دھواں کا ظاہر ہونا۔ اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کی جو سزائیں ان پر اتریں۔
وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (اور آپ کا رب ان کاموں…
Read the full tafseer →93۔ وقل الحمدللہ ، انکی نعمتوں پر مارنے کی نشانیاں اس کی نظیر اللہ رب العزت کے اس فرمان میں ہے ، ساریکم آیاتی فلاتستعجلون، مجاہد کا قول ہے کہ ہم تمہیں آسمان اور زمین میں اور تمہارے اندر ہی ایسی نشانیاں پیدا کردیں گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، سنریھم آیاتنا فی الافاق وفی انفسھم، ،۔
” فتعرفونھا، ، تم نشانیاں اور دلائل کو پہچان لو گے۔ وماربک بغافل عماتعملون، ، ان کے لیے وعید ہے کہ ان کے اعمال کے مطابق ان کو بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
91 تا 93۔ اوپر کی آیتوں میں مشرکین مکہ کو حشر سے ڈرا کر ان آیتوں میں پیغمبر ﷺ کو فرمایا ہے کہ اے رسول اللہ ﷺ کو فرمایا ہے کہ اے رسول اللہ کے کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو مجھ کو تو اللہ کا یہی حکم ہے کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی بندگی کروں جس کو اس نے ادب والا بنایا اور انسان اور اس کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس نے اپنی قدرت سے اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے شرع میں شہر مکہ کی بڑی تعظیم اور بڑا ادب ہے چناچہ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 4 ؎ ہے کہ پیغمبر ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا آسمان و زمین کی پیدائش کے وقت سے اللہ تعالیٰ نے شہر مکہ کو ادب والا بنایا ہے پھر فرمایا ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
(آیت 91
اے محمد ﷺ ان سے کہہ دیجئے : (انما امرت ان اعبد رب ھذہ البلدۃ) ” مجھے یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں۔ “ یعنی مکہ مکرمہ (الذی حرمھا) ” جس نے اس کو محترم بنایا۔ “ اور اس کے رہنے والوں کو نعمتوں سے بہرہ ور کیا۔ پس اس لئے ان پر واجب ہے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ (الہ کل شیء) عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام اشیاء کا وہی مالک ہے اور یہ فقرہ اس وہم کے ازالے کے لئے استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت صرف بیت حرام سے مختص ہے (وامرت ان اکون من المسلمین) (1) (1۔ یہاں مصنف نے سبقت قلم سے (وامرت ان اکون اول المسلمین) لکھ دیا ہے اور اسی کے مطابق تفسیر…
Read the full tafseer →101 سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ تعریف سب اللہ ہی کیلئے ہے "۔ کیونکہ جو بھی کوئی خوبی جہاں بھی کہیں پائی گئی یا َپائی جاتی ہے یا پائی جائے گی وہ سب اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ہے۔ پس تعریف کا اصل حقدار وہی اور صرف وہی ہے۔ اور وہی وحدہ لاشریک ہے جس نے مجھے شرف نبوت سے مشرف فرمایا اور قرآن جیسی نعمت عظمیٰ مجھ پر اتاری۔ اب اگر تم لوگ اس نعمت کی قدر نہیں کرو گے اور مجھ سے نشانیوں ہی کا مطالبہ کرتے جاؤ گے تو عنقریب ہی جب تمہیں وہ اپنی نشانیاں دکھائے گا تو اس وقت تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ حق کیا ہے اور تمہارا بھلا کس میں تھا۔ اور تمہیں کس قدر عظیم الشان نعمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–93
قیامت قریب ہے ‘ نیکو کاروں کو خوشخبری اور بد کا روں کے لیے وعید
تشریح : ان آیات میں قرب قیامت کا ذکر کرتے ہوئے دابۃ الارض کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک جانور زمین میں سے نکلے گا اور انسانوں سے باتیں کرے گا۔ مسند احمد میں سیدنا حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ (1) آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا۔ (2) دخان۔ (3) دابہ۔ (4) خروج یاجوج ماجوج۔ (5) نزول عیسیٰ علیہ السلام۔ (6) دجال۔ (7) تین خسوف ‘ ایک مغرب میں دوسرا مشرق میں تیسرا جزیرۃ العرب میں ہوگا۔ (8) ایک آگ جو قصرعدن سے نکلے گی۔
سیدقطب شہید صاحب (رح) ظلال القرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیات 83 تا 93
اسرار و معارف
ایک روز ہم ان سب کو میدن حشر میں جمع فرمائیں گے اور ہر امت سے اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والوں کو الگ کرلیا جائے گا اور یوں جب حاضر کیے جائیں گے تو سوال ہوگا کہ تم نے ہماری آیتوں کا انکار کردیا یا بغیر سوچ بچار کے ہی کردیا تھا یا تم نے کوشش تو کی مگر حقیقت کو نہ پا سکے تو چونکہ ان کا جرم ثابت ہوگا لہذا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی بات کرسکیں گے۔ بھلا انہیں دوبارہ زندہ کیے جانے کی سمجھ نیند سے کیوں نہیں آتی کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات کو آرام کے لیے بنایا ہے اور انسان سو کر آرام حاصل کرتا ہے اور نیند میں بھی تو روح کا تعلق بدن سے ایک گونہ کمزور…
Read the full tafseer →7 ۔ یعنی سب تعریف صرف اسی اللہ یک ہے جس نے مجھے ہدایت دی اور لوگوں کے لئے ہادی (ہدایت دینے والا بنایا) حقیقت یہ ہے کہ جس کو جو نعمت ملی اسی کی طرف سے ملی۔
8 ۔ کہ ہاں یہی وہ نشانیاں ہیں جن کا وعدہ اللہ و رسول ﷺ نے کیا تھا مگر اس وقت کا پہچاننا تمہیں کوئی فائدہ نہ دے سکے گا۔ یہ خطاب کفار مکہ سے ہے۔ اسلامی فتوحات اور تباہ شدہ قوموں کے آثار بھی ان میں شامل ہیں اور قرب قیامت کی نشانیاں بھی اس کے تحت آجاتی ہیں۔ (دیکھئے سورة فصلت :53) تمت سورة النمل بحمد اللہ فی الیوم الرابع عشر من رمضان 1389 ھ۔
Read the full tafseer →(27:93) سیریکم س حرف ہے جو مضارع پر آکر اسے مستقبل قریب میں کردیتا ہے۔ اری یری اراء ۃ (افعال) مصدر دکھانا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ عنقریب تم کو دکھائے گا۔
عما تعملون : تخصیص الخطاب اولا بہ (علیہ الصلوۃ والسلام) وتعمیمہ ثانیا للکفرۃ تغلیبا ای وما ربک بغافل عما تعمل انت من الحسنات وما تعملون انتم ایھا الکفرۃ من السیئات۔
یعنی اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے اعمال حسنہ سے اور کفار کے اعمال بد سے بیخبر نہیں۔ ان کے لئے ثواب و جزاء اور ان کے لئے عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–93
لغات القرآن : آیت نمبر 87 : 93 :
ینفخ (پھونک ماری جائے گی) فزع (گھبرا گیا) داخرین (عاجزی کرنے والے) تحسب (تو گمان کرتا ہے) ‘ جامدۃ (جمع ہوجانے والی) تمر (وہ چلے گی) السحاب (بادل) صنع اللہ (اللہ کی کاری گری) کبت (اوندھا پھینک دیا گیا) ‘ ھل تجزون ( کیا تم بدلہ دیئے جائو گے) امرت ( میں حکم دیا گیا ہوں) البلدۃ (شہر) حرم ( قابل احترام بنایا) ان اتلو (یہ کہ میں تلاوت کروں گا) سیری (وہ بہت جلد دکھائے گا) ‘ تعرفون (تم پہچانتے ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر 87 تا 93 :
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر قیامت اور اس دن کی ہولناکی کو بیان کیا گیا ہے۔ یہاں پر ایک اصولی بات ارشاد فرمائی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محبوب تم فرماؤ کہ مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی عبادت کروں، جس نے اس شہر کو امن والا کیا کہ وہاں آدمی جانور قتل وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے واسطے ہر چیز ہے اور مجھ کو حکم ہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہون اور اللہ کو ایک جانوں اور تمہارے سامنے قرآن کو پڑھوں تاکہ تم ایمان لاؤ تو جو راہ پر آئے گا تو اپنے بھلے کے آوے گا اور جو کوئی بہکار ہے تو تم فرمادو کہ میں تو ڈرانے والے پیغمبروں میں سے ہوں اور میرے ذمہ تو پہنچادینا ہے اور سب خوبیاں اللہ کے لیے ہیں تم کو عنقریب اپنی نشانیاں شق القمر وغیرہ معجزات اور بدر کے واقعات کہ قتل کا ہونا قید ہونا،…
Read the full tafseer →[33] فتوحات اسلام اور علامات قیامت سب اس کے تحت آگئیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
اسلام دین صداقت ہے
1: سورة نمل میں مکہ والوں کے تمام اعتراضات اور شکوک کو دور کیا گیا ہے ! اور ان تمام چیزوں کی تفصیل بیان کردی ہے ۔ جن کی ان کو رشدوہدایت کے سلسلہ میں ضرورت تھی ! اب ان آیات میں یہ بتلایا ہے کہ ان حقائق کو وضاحت کے بعد بھی اگر تم لوگوں کو توفیق سعادت نصیب نہ ہو ۔ تو میں اس بات کا ذمہ دار نہیں ۔ میں تمہارے اعتقادات اور خواہشات کی پیروی نہیں کرسکتا میں تو مجبور ہوں ۔ کہ رب کعبہ کی پرستش کروں ۔ جس نے کعبہ کو حرمت بخشی اور اس کو ساری کائنات کیلئے مرکزبنایا میں مجبور ہوں ۔ کہ صرف اسلام کو حق وصداقت سے تعبیر کروں ۔ کیونکہ یہی ایک مسلک ہے جو انسانیت کے لئے مفید ہے ۔ جو دل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
92۔ اور آپ کہہ دیجئے سب خوبیاں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ثابت ہیں وہ تم کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے گا سو اس وقت تم ان نشانیوں کو پہچان لو گے اور آپ کا پروردگار ان کاموں سے بیخبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہو ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور کہو سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے سزا وار ہیں وہ تم کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے گا جن کو تم پہچان لو گے۔ یعنی قرآن کریم کی صداقت اور اسلام کی حقانیت اور وقوع قیامت کے ایسے ایسے نشان دکھائے گا جن کو تم بھی جان لو گے اب ان نشانیات کو دیکھ کر ایمان لائو یا نہ لائو یہ تمہاری مرضی ہے یا ایسے وقت ایمان لانے پر آمادہ ہو جب ایمان لانا مفید نہ ہو اور آپ کا پروردگار ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 92–93
ف 1۔ یعنی اس کو اجر وثواب و نجات ہوگی، میں اس سے کسی مالی یا جاہی نفع کا خواہاں نہیں ہوں۔
2۔ یعنی میرا کام صرف حکم پہنچانا ہے، سو پہنچا کر سبکدوش ہوجاوں گا، آگے نہ ماننے کا وبال تم کو بھگتنا پڑے گا، مطلب یہ کہ میں پیغمبر ہوں اور تم سے کوئی غرض نہیں رکھتا۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ اپنی صدا کا اعلان کر دیجئے کہ تمہارا رب تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے :
93۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ خالص اللہ تعالیٰ کی تعریف کا نعرہ بلند کیجئے کہ ساری تعریفوں اور ساری حمدوں کا مستحق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے مجھ کو قرآن کریم جیسی نعمت سے نوازا ہے اگر تم اس قرآن کریم کی قدر نہیں کر رہے اور مجھے سے بار بار نشانیاں ہی طلب کر رہے ہو اور اس قرآن کریم کو جو دنیا جہان کی ساری نشانیوں سے بڑی نشانی ہے تو یاد رکھو کہ جس طرح کی نشانی تم طلب کر رہے ہو وہ عنقریب تم کو بھی دکھائے گا اور اس طرح دکھائے گا کہ تم کو اعتراف کرنا پڑے گا کہ ہاں یہ وہی نشانی ہے جس کی ہم کو طلب تھی اور تم یقینا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
Commentary
رَبَّ هَـٰذِهِ الْبَلْدَةِ (the Lord of this city - 27:91). Majority of the commentators have taken the word o=ff "Baldah" (the city) for Makkah. Allah Ta’ ala is the Lord of all the worlds and the Lord of heavens and earth. Therefore, the particular mention of Makkah here is to show its revered splendor, and its respect and honour in the sight of Allah Ta a1a. Word Haram is derived from Tahrim, which means "to prohibit" and also means "complete respect and veneration", and because of this respect and veneration whatever special religious prohibitions are applicable to Makkah and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 91–93
110 As this Surah was sent down at a stage when the message of Islam was confined to Makkah and its addressees were the people of that City only, it was said, "I have been commanded that I should worship the Lord of this City." And the characteristic of the Lord was stated to be that He had made that City sacred. This was meant to warn the disbelievers of Makkah, as if to say, " You may if you so like prove thankless to that God Who has done you the great favour of making this City of yours a haven of peace in the strife-ridden land of Arabia, and Who by His grace has made it the centre of…
Read the full tafseer →