Ayahs 27:1–2یہ کتاب مبین کی آیات ہیں جو مومنین کے لیے ہدایت اور بشارت ہیں، کافروں کے لیے ان کے اعمال مزین کردیئے گئے ہیں
یہاں سے سورة النمل شروع ہو رہی ہے۔ نمل چیونٹی کو کہتے ہیں اس سورت کے دوسرے رکوع میں ایک قصہ بیان فرمایا ہے جس میں اس بات کا ذکر ہے کہ ایک مرتبہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر آ رہا تھا تو ایک چیونٹی نے اپنی ہم جنس چیونٹیوں سے کہا کہ تم لوگ اپنے بلوں میں گھس جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہارا چورا بنا کر رکھ دیں، اسی مناسبت سے اس سورت کا نام سورة النمل معروف ہوا۔
اول تو یہ فرمایا کہ یہ قرآن کی اور واضح طور پر بیان کرنے والی کتاب کی آیات ہیں کتاب مبین سے بھی قرآن مجید ہی مراد ہے۔ جیسا کہ سورة یوسف کے شروع میں (تِلْکَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَکِتٰبٌ مُّبِیْنَ ) فرمایا ہے۔
Ayahs 27:3–5پھر آیات قرآنیہ کو اہل ایمان کے لیے ہدایت اور بشارت بتایا۔ اور اہل ایمان کی صفات بتائیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ نماز بدنی عبادت ہے اور زکوٰۃ مالی عبادت ہے اور یہ دونوں اسلام کے ارکان میں سے ہیں۔ ان کی ادائیگی پابندی سے کی جائے تو ایمان کے دوسرے تقاضوں پر بھی عمل ہوتا رہتا ہے۔ اور آخرت کا یقین ہر نیکی پر آمادہ کرنے اور ہر گناہ چھڑانے پر ابھارتا رہتا ہے اسی کو آیت کے ختم پر (وَ ھُمْ بالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ) میں بیان فرمایا۔
مومنین کی صفات بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ آیات قرآنیہ اہل ایمان کے لیے بشارت اور ہدایت ہیں قرآن تو سبھی کو ہدایت کی طرف بلاتا ہے اور حق قبول کرنے پر انعامات کی بشارت دیتا ہے لیکن چونکہ قرآن کی دعوت پر اہل ایمان ہی دھیان دیتے ہیں اس لیے خاص طور سے ان کے لیے ہدایت اور بشارت ہونا بیان فرمایا۔
اس کے بعد کافروں کا تذکرہ فرمایا کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کردیا ہے جو انہیں مرغوب ہیں اور انہیں اچھے لگتے ہیں، جو کام برے ہیں یہ لوگ انہیں اچھا سمجھ رہے ہیں اور اس کی وجہ سے جہل مرکب میں مبتلا ہیں اور گمراہی کی وادیوں میں بھٹکتے پھر تے ہیں، ان لوگوں کی وعید بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کے لیے بڑا عذاب ہے اور یہ لوگ آخرت میں سخت خسارہ میں ہوں گے۔ انہیں وہاں نعمت اور رحمت نصیب نہ ہوگی۔ ہمیشہ کے لیے عذاب ہی میں رہیں گے اور عذاب بھی بڑھتا چڑھتا رہے گا اس سے بڑھ کر کیا خسارہ ہوسکتا ہے دنیا میں جو انہیں اجسام دیئے گئے اعضاء اور جوارح عطا کیے گئے اموال سے نوازے گئے ایمان قبول کرکے ان سب کے ذریعہ جنت حاصل کرسکتے تھے لیکن وہ تو کفر اختیار کر کے اور اعمال بد میں مبتلا ہو کر جنت سے ہاتھ دھو بیٹھے اور دوزخ کے مستحق ہوگئے، یہ سب سے بڑا خسارہ ہے۔
Ayah 27:6اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا (وَاِنَّکَ لَتُلَقَّی الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ عَلِیْمٍ ) (اور بالیقین آپ کو حکمت والے علم والے کی طرف سے قرآن دیا جا رہا ہے) پس جب اللہ تعالیٰ کی آپ پر مہربانی ہے اللہ کا فرشتہ آتارہتا ہے اور اللہ کی کتاب آپ تک پہنچاتا رہتا ہے آپ کو یہ محبوبیت عند اللہ ہی کافی ہے۔ دشمن جو کچھ کہیں کہنے دو ، ان کی باتوں سے غمگین نہ ہو۔
Ayahs 27:7–8حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا رات کے وقت سفر میں کوہ طور پر آگ کے لیے جانا اور نبوت سے سرفراز ہونا
سورة طٰہٰ کے پہلے اور دوسرے رکوع کی تفسیر میں اور سورة شعراء کے دوسرے رکوع کی تفسیر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ تفصیل کے ساتھ ہم نے بیان کردیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے مصر میں رہتے تھے فرعون کے بیٹے بنے ہوئے تھے ان کے ہاتھ سے فرعون کی قوم کا ایک شخص قتل ہوگیا ایک شخص نے رائے دی کہ دیکھو فرعونی لوگ تمہارے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں لہٰذا تم یہاں سے نکل جاؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر کو چھوڑ کر مدین چلے گئے وہاں کے شیخ کی لڑکی سے نکاح ہوگیا اور دس سال وہاں رہے۔ جب اپنی بیوی کو لے کر مصر کی طرف واپس آنے لگے تو رات کو سردی بھی لگ گئی اور راستہ بھی بھول گئے۔ اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ پہاڑ طور پر آگ نظر آرہی ہے یہ آگ نہیں تھی نور ربانی تھا جسے انہوں نے آگ سمجھ لیا تھا اپنی بیوی سے کہا تم یہیں ٹھہرو مجھے آگ نظر آرہی ہے میں وہاں جاتا ہوں، وہاں سے لکڑی میں سلگا کر آگ کا شعلہ لے آؤں گا۔ تاکہ تم اس سے تاپ لو گی یعنی گرمی حاصل کرلو گی اور یہ بھی امکان ہے کہ وہاں کوئی راستہ بتانے والا مل جائے۔ وہاں پہنچے تو اللہ پاک کی طرف سے یہ آواز آئی کہ وہ شخص مبارک ہے جو آگ میں ہے اور وہ بھی مبارک ہیں جو اس کے ارد گرد ہیں۔ مفسرین نے فرمایا کہ (مَنْ فِی النَّارِ ) سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور (مَنْ حَوْلَہَا) سے فرشتے مراد ہیں (و قیل علی عکس ذالک) جہاں یہ آگ تھی سورة قصص میں اس کو (اَلْبَقْعَۃِ الْمُبَارَکَۃِ ) فرمایا ہے اور آواز بھی وادی کے کنارے کی دائیں جانب سے آئی تھی بقعہ بھی مبارک وہاں جو فرشتے حاضر تھے وہ بھی مبارک موسیٰ (علیہ السلام) بھی مبارک، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبارک ہونے کی خوشخبری دی گئی اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی تنزیہ بیان کی کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب سے اور ہر نقص سے اور مخلوقات کی صفات سے پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ وحدہ لا شریک ہے اپنی ذات وصفات میں مخلوق کی ہر مشابہت سے پاک ہے (لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ) ۔
Ayahs 27:9–10مبارک ہونے کی بشارت کے بعد اللہ پاک کا مزید خطاب ہوا اور فرمایا (یٰمُوْسٰی اِِنَّہٗٓ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) کہ اے موسیٰ بیشک میں اللہ ہوں عزیز ہوں حکیم ہوں۔ اس کے بعد لاٹھی کے بارے میں سوال و جواب ہوا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں تھی، پھر اس لاٹھی کے ڈالنے کا حکم فرمایا جب انہوں نے لاٹھی کو ڈال دیا تو وہ اژدھا بن گئی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح سے ہے اور اس کی حرکت ہو رہی ہے یہ حال دیکھ کر وہ پچھلے پاؤں لوٹے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا یہ خوف طبعی تھا جس کا اس وقت مظاہرہ ہوا، اللہ پاک کا ارشاد ہوا کہ اسے پکڑ لو ڈرو نہیں ہم اس کو پہلی حالت پر لوٹا دیں گے اور یہ بھی فرمایا کہ (اِِنِّیْ لاَ یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ ) (میرے حضور میں پیغمبر نہیں ڈرا کرتے) لہٰذا تم ڈرو نہیں میری طرف سے تمہاری حفاظت ہوگی۔ بظاہر اس سے پہلے انہیں نبوت اور رسالت سے نوازنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ہم کلامی ہی رسالت عطا فرمانے کے قائم مقام ہوگئی جیسا کہ جبرائیل امین (علیہ السلام) نے خاتم النّبیین ﷺ کو غار حرا میں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات سنا دیں اور اسی سے آپ کے پیغمبر ہونے کی ابتدائی خبر دی گئی، اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ (اِِنِّیْ لاَ یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ ) میں دونوں باتیں بیان فرما دیں اول رسالت کا اعلان فرمایا، دوم رسولوں کی ایک صفت خاص فرما دی اور وہ یہ کہ اللہ کے رسول، اللہ کے حضور میں کسی مخلوق سے نہیں ڈرتے قال صاحب الروح و التقید بلدی لان المرسلین فی سائر الاحیان اخوف الناس من اللہ عزوجل۔
Ayah 27:11اس کے بعد فرمایا (اِِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) یہ استثناء منقطع ہے اور مطلب یہ ہے کہ حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کے علاوہ جو لوگ کوئی گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرلیں پھر اس کے بعد اس برائی کو نیکی سے بدل لیں یعنی اس کے بعد توبہ کرلیں تو ان کی توبہ قبول ہوگی۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے پاس بھیجنا تھا اور وہ بڑا سر کش تھا اس لیے معجزات کی ضرورت تھی دو بڑے معجزات تو وہی ہیں جو جو وادی مقدس میں دے دئیے گئے جہاں آگ لینے کے لیے گئے تھے اور باقی معجزات کا وقتاً فوقتاً ظہور ہوتا رہا یہاں جو دو معجزات دیئے گئے ان میں سے ایک لاٹھی کا سانپ بن جانا تھا اور دوسرا یدبیضاء تھا، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ اے موسیٰ تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں داخل کر دو اور پھر اسے نکالو جب نکالو گے تو دیکھو گے کہ وہ خوب سفید ہے کہ یہ سفیدی کسی عیب والی نہیں ہوگی جو مرض وغیرہ کی وجہ سے ہوجاتی ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص نشانی ہے جو بطور معجزہ عطا کی گئی ہے۔
Ayahs 27:12–13(فِیْ تِسْعِ اٰیَاتٍ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِہٖ ) (یہ وہ نشانیاں ہیں جو منجملہ ان نو نشانیوں میں سے ہیں جنہیں لے کر تم کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف چلے جانا ہے) (اِِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فَاسِقِیْنَ ) (بلاشبہ وہ لوگ نافرمان ہیں) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لے گئے معجزات دکھائے فرعون اور اس کی قوم نے الٹا اثر لیا۔
معجزات سے انہیں بصیرت حاصل ہوئی اور یہ یقین ہوگیا کہ یہ واقعی اللہ کے رسول ہیں لیکن انہوں نے معجزوں کو جادو بتادیا پھر جادو گروں سے مقابلہ میں جادو گر ہار گئے اور مسلمان ہوگئے لیکن فرعون اور اس کی قوم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ان پر ایمان لانے میں اپنی توہین سمجھی تکبر کیا جو انہیں لے ڈوبا اور دلوں میں یقین ہوتے ہوئے انکار کر بیٹھے بالآخر ہلاک کردیئے گئے اور ڈبو دیئے گئے اسی کو فرمایا (فَانْظُرْ کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ ) (سو دیکھ لو فساد کرنے والوں کا کیا انجام ہوا) ۔
Ayah 27:14فائدہ : (وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَا اَنْفُسُہُمْ ) سے معلوم ہوا کہ توحید و رسالت کا یقین ہوجانا ایمان نہیں، یقین بھی ہو اور یقین کے ساتھ تسلیم بھی ہو (جسے ماننا کہتے ہیں) تب ایمان کا تحقق ہوتا ہے۔ آج کل کافروں میں بکثرت ایسے لوگ ہیں جو اسلام کو دین حق سمجھتے ہیں اس بارے میں مضامین بھی لکھتے ہیں لیکن اسلام قبول نہیں کرتے یہ جحود اور عناد ہی ہے۔
Ayahs 27:15–18حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا علم و فضل، جن و انس پر حکومت، چیونٹیوں کو بلوں میں داخل ہونے کا مشورہ
ان آیات میں جو حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے ان دونوں کو علم عطا فرمایا تھا علوم نبوت تو ان دونوں کو دیئے ہی تھے دوسرے علوم بھی عطا فرمائے تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے لوہے کو نرم فرما دیا تھا وہ اس سے لوہے کی زرہیں بناتے تھے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ایسا اقتدار عطا فرمایا تھا جس کے ذریعہ شیاطین سے کام لیتے تھے ان سے عمارتیں بھی بنواتے تھے اور ان سے سمندروں میں غوطے بھی لگواتے تھے اور ان سے بڑے بڑے برتن بنواتے تھے جو تالابوں کے برابر ہوتے تھے اور بڑی بڑی ہانڈیاں بنواتے تھے جو زمین میں گڑی رہتی تھیں، دونوں باپ بیٹے اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے تھے۔ دونوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش بیان کی اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی، دونوں باپ بیٹے نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی تھے۔ علوم نبوت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمرانی بھی عطا فرمائی تھی۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) ملک کے وارث ہوئے اور یہ حکومت صرف انسانوں پر ہی نہیں بلکہ ان کی حکومت جنات اور وحوش و طیور سب پر تھی جنہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے مسخر فرما دیا تھا۔ یہ سب آپ کے حکم کے تابع تھے۔ چرندوں اور پرندوں میں اتنا شعور ہے کہ وہ جس کے لیے مسخر کردیئے جائیں اس کے حکم کو سمجھیں اور اس کی فرمانبر داری کریں ہر ایک کو اس کے احوال کے مطابق اللہ تعالیٰ نے شعور عطا فرمایا ہے جانور اس کو سمجھتے ہیں کہ ہمارا کون دشمن ہے آدمی پتھر اٹھائے تو کوا اور کتا دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں۔ چھپکلی ادھر ادھر چھپ جاتی ہے۔ چیونٹی کی قوت شامہ دیکھو جہاں ذرا سا کچھ میٹھا پڑا ہوگا ذرا دیر میں وہیں حاضر ہوجائے گی۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے، زبان تو دوسرے حیوانات کی بھی سکھائی گئی تھی لیکن چونکہ آگے ہد ہد کا قصہ آ رہا ہے اس لیے خصوصیت کے ساتھ جانوروں کی بولی کا تذکرہ فرما دیا انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ (وَاُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْءٍ ) (اور ہمیں ہر چیز دی گئی ہے) اس سے اس زمانہ کی ضرورت کے مطابق ہر چیز مراد ہے جو معیشت اور حکومت میں کام آئے اس کا ذکر فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس کی نعمتوں کا اقرار کرتے ہوئے یوں کہا کہ ہمیں ہر چیز دی گئی ہے۔ عن ابن عباس ؓ ھو ما یھمہ من امور الدنیا و الاخرۃ و قد یقال انہ ما یحتاج الملک من آلات الحرب وغیرھا (روح المعانی ص 174 ج 19) (ذٰلِکَ ھُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْن) (یہ کھلا ہوا فضل ہے) ۔
شکر ادا کرتے ہوئے یہ جو فرمایا ہے کہ اللہ نے ہمیں بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی ہے اس میں یہ بتادیا کہ ہم سے افضل بھی اللہ تعالیٰ کے مومن بندے ہیں۔ ان سے وہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) مراد ہیں جو ان دونوں سے افضل تھے اور اس سے ایک یہ بات معلوم ہوئی کہ اصل افضلیت وہی ہے جو ایمان کے ساتھ ہو اور اہل ایمان میں باہمی اخلاص اور اعمال کے اعتبار سے تفاضل ہے کافر اس قابل نہیں ہے کہ اسے مفضل علیہ قرار دیا جائے۔ یعنی وہ اس قابل بھی نہیں کہ کوئی مومن بندہ یہ کہے کہ میں فلاں کافر سے افضل ہوں فضیلت بتانے کے لیے کوئی وجہ تو ہو کافر میں تو خیر ہے ہی نہیں۔ پھر کیسے کہیں کہ ہم اس سے افضل ہیں اس کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ ان کے لشکر میں جنات بھی تھے اور انسان بھی، اور پرندے بھی، جنہیں چلنے کے وقت روکا جایا کرتا تھا۔ روکے جانے کا مطلب یہ ہے کہ بڑی بھاری بھاری تعداد میں لشکر ہونے کی وجہ سے متفرق ہوجانے کا اندیشہ تھا لہٰذا ان کو روک روک کر چلایا جاتا تھا تاکہ پچھلے لشکر والے بھی آگے والے لشکروں تک پہنچ جائیں ایسا نہ ہو کہ آگے والے آگے نکل جائیں اور پچھلوں کو خبر بھی نہ ہو۔ قال القرطبی معناہ یرد اولھم الی آخرھم و یکفون قال قتادۃ کان لک صنف وزعۃ فی رتبتھم و من الکرسی و من الارض اذا مشوا فیھا یقال ورزعنہ اوزعہ وزعا ای کففتہ و الوازع فی الحرب الموکل بالصفوف یزع من تقدم منھم۔
اس کے بعد ایک واقعہ بیان فرمایا اور وہ یہ کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے لشکر کو لے کر جا رہے تھے ایک چیونٹی کو ان کا پتہ چل گیا اس نے چیونٹیوں سے کہا کہ تم اپنے اپنے رہنے کے ٹھکانوں میں گھس جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر بےعلمی میں تمہیں روند ڈالیں جس سے تم پس کر رہ جاؤ اور انہیں پتہ بھی نہ چلے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اس کی بات سن لی اور سمجھ لیا اور اس کی بات سن کر ایسے مسکرائے کہ ہنسی تک نوبت پہنچ گئی۔ اور اللہ پاک کے حضور میں یوں دعا کی کہ اے رب مجھے اپنے اس کام میں لگائے رکھیئے کہ آپ نے جو مجھ پر اور میرے والدین پر انعام فرمایا ہے میں اس کا شکر ادا کرتا رہوں اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوں میں داخل رکھیئے۔
اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ چیونٹیاں سمجھتی بھی ہیں اور بولتی بھی ہیں گو ہم ان کے بولنے کو نہ سن سکیں اور نہ سمجھ سکیں، ایک چیونٹی نے جو اپنی جنس کو خطاب کر کے کہا اسے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے سمجھ لیا، حضرت ابوہریرہ ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ اللہ کے نبیوں میں سے ایک نبی اپنے امتیوں کو لے کر (آبادی سے باہر) بارش کی دعا کرنے کے لیے نکلے، اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ ایک چیونٹی آسمان کی طرف اپنی ایک ٹانگ اٹھائے ہوئے ہے، یہ دیکھ کر انہوں نے فرمایا کہ چلو واپس ہوجاؤ اس چیونٹی کی وجہ سے ہمارے حق میں دعا قبول ہوگئی۔ (رواہ الدار قطنی کمافی المشکوٰۃ ص 132)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انبیائے کرام میں سے ایک نبی کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے حکم دیا کہ چیونٹیوں کی آبادی کو جلا دیاجائے، چناچہ وہ جلا دی گئی، اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے وحی بھیجی کہ تمہیں ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اس کی وجہ سے تم نے تسبیح پڑھنے والی امتوں میں سے ایک امت کو جلا دیا۔ (رواہ البخاری ص 267)
شریعت میں ایذا دے والی چیونٹی کو مار دینا جائز تو ہے جلا کر ہلاک کرنا جائز نہیں۔
سنن ابو داؤد شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چیونٹیوں کی ایک آبادی کو دیکھا جسے حضرات صحابہ نے جلا دیا تھا، آپ نے فرمایا کہ اسے کس نے جلایا ؟ حاضرین نے عرض کیا کہ ہم نے جلایا ہے آپ نے فرمایا لاَ یَنْبَغِیْ اَنْ یَّعَذِّبَ بالنَّار الاَّ رَبُّ النَّار بلاوجہ چیونٹی کو قتل کرنے کی ممانعت وارد ہوئی ہے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چار جانوروں کے قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (1) چیونٹی (2) شہد کی مکھی (3) ہدہد (4) صرد۔ (رواہ ابو داؤد)
Ayah 27:19فائدہ : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں جو (فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِنْ قَوْلِہَا) فرمایا اس میں لفظ تبسم (مسکرانا) اور ضاحکاً (ہنسنا) دونوں کو جمع فرما دیا ہے جب کسی کو ہنسی آتی ہے تو عموماً مسکراہٹ سے شروع ہوتی ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اولاً مسکراہٹ آگئی جو ہنسی تک پہنچ گئی اس میں اس طرف اشارہ ملتا ہے کہ ہنسنا محمود کام نہیں ہے کبھی کبھار کوئی ہنسی آجائے تو دوسری بات ہے زیادہ تر مسکرانے سے کام چلانا چاہیے۔ حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ پوری طرح ہنسے ہوں اور آپ کے گلے کا کوا دیکھنے میں آگیا ہو، آپ تو بس مسکرایا کرتے تھے۔ (رواہ البخاری)
حضرت جابر بن سمرہ ؓ نے آپ کی صفت بیان کی وَ کَانَ لاَ یَضْحَکُ الاَّ تَبَسُّمًا (آپ نہیں ہنستے تھے مگر مسکرا کر) ۔ (رواہ الترمذی)
بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ ہنسی آئی ہو اور آپ کی مبارک داڑھیں ظاہر ہوگئی ہوں، شمائل ترمذی میں ہے لقد رایت رسول اللہ ﷺ ضحک یوم الخندق حتی بدت نواجذہ، اور بھی بعض روایات میں ایسا وارد ہوا ہے، آپ نے زیادہ ہنسنے سے منع فرمایا ہے حضرت ابوذر ؓ کو چند نصیحتیں ایک ہی مجلس میں فرمائی تھیں جن میں ایک یہ بھی تھی ایاک و کثیرۃ الضحک فانہ یمیت القلب و یذھب بنور الوجہ کہ زیادہ ہنسنے سے پرہیز کرو کیونکہ وہ دل کو مردہ کردیتا ہے اور چہرے کے نور کو ختم کردیتا ہے۔ (مشکوۃ المصابیح ص 415)
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعا میں یہ بھی ہے کہ اے پروردگار آپ نے مجھے اور میرے والدین کو جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں مجھے اس حال پر باقی رکھیئے کہ میں ان کا شکر گزار رہوں اس سے معلوم ہوا کہ والدین پر جو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہوں ان کا بھی شکر ادا کرنا چاہیے، بات یہ ہے بہت سی نعمتیں والدین کے ذریعہ اولاد کی طرف منتقل ہوتی ہیں اور وہ نعمتوں کا ذریعہ بنتے ہیں۔ علوم دینیہ اور اعمال صالحہ پر ڈالنے میں عموماً والدین ہی کا دخل ہوتا ہے والدین میں جو دینداری کے جذبات ہوتے ہیں یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے یہ نعمت اولاد کی دینداری کا سبب بن جاتی ہے لہٰذا اولاد کو اس نعمت کا بھی شکر ادا کرنا ضروری ہوا، نیز والدین سے جو میراث ملتی ہے وہ پہلے ماں باپ کو ملتی ہے پھر اولاد کو پہنچتی ہے لہٰذا اس کا بھی شکر ادا کیا جائے۔
Ayahs 27:20–37حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا پرندوں کی حاضری لینا، ہدہد کا غائب ہونا اور ملک سبا سے ایک ملکہ کی خبر لانا اور اس کے نام حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط لیجانا اور ملکہ کا ہدیہ بھیجنا
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت انسان جنات چرند پرند سب پر تھی وہ ان سب کے بادشاہ تھے، اور یہ چیزیں ان کے لشکر کا جزو تھیں ایک بار جانوروں کی حاضری لی تو جانور جمع ہوگئے لیکن ان میں ہدہد حاضر نہیں ہوا (ممکن ہے انہوں نے ہر جنس کے بڑے ہی کو بلایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تمام جانوروں کو جمع ہونے کا حکم دیا ہو سب جانور جمع ہوگئے ہدہد بھی سب آگئے لیکن ان کا سردار حاضر نہ ہوا ہو) جب مطلوبہ ہدہد کو انہوں نے حاضر نہ پایا تو فرمانے لگے کیا بات ہے مجھے ہدہد نظر نہیں آ رہا ہے۔ کیا کسی ایسے گوشہ میں ہے جسے میں دیکھ نہیں پاتا یا وہ موجود ہی نہیں ہے اسے یا تو سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر ڈالوں گا الا یہ کہ اپنی غیر حاضری کا عذر واضح دلیل کے ساتھ بیان کرے، ابھی ذرا سی ہی دیر گزری تھی کہ ہدہد حاضر ہوگیا اور اس نے کہا کہ میں ملک سبا میں چلا گیا تھا اور میں ایسی چیز کی خبر لایا ہوں جس کا آپ کو علم نہیں ہے (علم ایسی ہی چیز ہے جس سے بات کرنے کا حوصلہ ہوجاتا ہے) ۔
میں ملک سبا سے ایسی خبر لایا ہوں جو بالکل یقینی ہے اور وہ خبر یہ ہے کہ وہاں ایک عورت کی بادشاہت چلتی ہے اس عورت کے پاس شاہی ضرورت کی ہر چیز موجود ہے ایک بڑا تخت ہے جس پر وہ بیٹھتی ہے یہ عورت اور اس کی قوم کے لوگ مشرک ہیں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو تنہا ہے اور معبود حقیقی ہے سورج کو سجدہ کرتے ہیں شیطان ان کے پیچھے لگا ہوا ہے اس نے ان کے اعمال شرکیہ کو مزین کردیا ہے اور انہیں راہ حق سے ہٹا رکھا ہے، راہ حق تو یہ ہے کہ وہ اللہ کو سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے اور ان سب چیزوں کو جانتا ہے جنہیں آپ لوگ چھپاتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں، شیطان نے راہ حق سے ہٹا کر انہیں شرک پر لگا دیا ہے اب وہ اسی پر جمے ہوئے ہیں، جبکہ ساری مخلوق پر لازم ہے کہ اللہ ہی کی عبادت کریں اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
جب ہدہد نے اپنا بیان دے دیاتو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اچھا ہم ابھی پتہ چلا لیتے ہیں کہ تو اپنی بات میں سچا ہے یا جھوٹا ہے میں ایک خط لکھتا ہوں اور تیرے ہی ذریعہ بھیجتا ہوں میرا یہ خط لیجا اور جہاں ملکہ سبا اور اس کے درباری لوگ بیٹھتے ہیں وہاں جا کر اس کو ڈال دینا پھر وہاں سے ہٹ جانا تاکہ وہ اسے پڑھیں اور آپس میں گفتگو اور مشورہ کریں وہاں سے ہٹ تو جانا لیکن اتنی دور بھی نہ ہوجانا کہ ان کی باتوں اور مشوروں کا پتہ نہ چلے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے خط لکھا جس کے الفاظ یہ تھے (اِِنَّہٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَاِِنَّہٗ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ ) (بلاشبہ وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ یہ کہ اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو رحمن ہے رحیم ہے تم لوگ میرے مقابلہ میں بڑائی نہ جتاؤ اور میرے پاس فرماں بردار ہو کر آجاؤ) ۔
اس خط لکھنے کا یہ ادب معلوم ہوا کہ خط لکھنے والا پہلے اپنا نام لکھے تاکہ مکتوب الیہ کو معلوم ہوجائے کہ جو خط میں پڑھ رہا ہوں وہ کس کی طرف سے ہے۔ دوسرا ادب یہ معلوم ہوا کہ خط کی ابتداء میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا جائے۔ اگرچہ کسی کافر کے نام خط لکھا جا رہا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے جو شاہ روم ہرقل کو دعوت اسلام کا خط لکھا تھا اس کی ابتداء بھی اسی طرح ہے کہ پہلے آپ نے اپنا اسم گرامی لکھا پھر بسم اللہ الرحمن الرحیم من محمد عبداللہ و رسولہ الی ھرقل عظیم الروم سلام علی من اتبع الھدی تحریر فرمایا اس میں سلام کا اضافہ ہے لیکن السلام علیکم نہیں ہے بلکہ یوں ہے کہ اس پر سلام ہو جو ہدایت کا اتباع کرے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے دربار میں تشریف لے گئے تھے تو انہوں نے بھی والسلام علی من اتبع الھدی فرمایا تھا۔ معلوم ہوا کہ زبانی یا تحریری طور پر کافروں کو سلام نہ کیا جائے اگر ان کو سلام کرنا ہو تو سلام علی من اتبع الھدی یا اس کے ہم معنی الفاظ کہہ دیں یا لکھ دیں چونکہ سلام لکھنا کوئی فرض واجب نہیں ہے اس لیے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے مکتوب گرامی میں تحریر نہیں فرمایا، یہ معلوم ہوچکا تھا کہ جس عورت کو خط لکھا جا رہا ہے وہ اور اس کی قوم سورج کو سجدہ کرتے ہیں اس لیے اللہ کا نام شروع میں لکھ دیا اور یہ بھی بتادیا کہ وہ رحمن و رحیم ہے اس کی طرف رجوع کریں گے تو اس کی رحمت سے نوازے جائیں گے، پھر بڑی جسارت اور دلیری کے ساتھ تحریر فرمایا کہ تم لوگ مقابلہ میں بڑے نہ بنو۔ تکبر نہ کرو اور ساتھ ہی یہ بھی لکھ دیا کہ تم میرے پاس فرماں بردار ہو کر آجاؤ، خط لکھ کر ہدہد کے حوالے کردیا۔
حسب الحکم ہدہد نے خط لے جا کر اس مجلس میں ڈال دیا جس میں ملکہ سبا اور اس کے ارکان دولت موجود تھے وہاں خط ڈال کر ہدہد ذرا دورہٹ گیا ملکہ نے خط کھولا پڑھا اور اس کا مضمون اپنے درباریوں کو سنایا، خط بہت جاندار تھا کسی صاحب اقتدار کو یہ لکھا جائے کہ تم میرے مقابلہ میں بڑے نہ بنو اور فرماں بردار ہو کر آجاؤ، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، ملکہ سبا نے سمجھ لیا کہ خط لکھنے والا ہم سے بڑھ کر صاحب اقتدار معلوم ہوتا ہے، اگر ہم کوئی الٹا سیدھا جواب لکھ دیں تو یہ اپنی بڑائی جتانا ہوگا، اگر صاحب مکتوب نے ہم پر حملہ کردیا تو ممکن ہے کہ ہم مغلوب ہوجائیں، جس سے ہماری حکومت بھی تباہ ہوجائے اور رعیت کو بھی نا گوار احوال سے دو چار ہونا پڑے لہٰذا ہمیں سنجیدگی سے بصیرت کے ساتھ اس مسئلہ سے نبٹنا چاہیے۔
خط پڑھ کر ملکہ سبا نے اپنے درباریوں سے کہا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ میں اہم معاملات میں تمہارے مشورے کے بغیر کبھی کوئی اقدام نہیں کرتی اس لیے اب تم مشورہ دو کہ مجھ کو کیا کرنا چاہیے ؟ ارکان دولت نے کہا جہاں تک مرعوب ہونے کا تعلق ہے تو اس کی قطعاً ضرورت نہیں کیونکہ ہم زبردست طاقت اور جنگی قوت کے مالک ہیں، رہا مشورہ کا معاملہ تو فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے جو مناسب ہو اس کے لیے حکم کیجیے۔
ملکہ نے کہا کہ بیشک ہم طاقتور اور صاحب شوکت ہیں، لیکن سلیمان کے معاملہ میں ہم کو عجلت نہیں کرنی چاہیے، پہلے ہم کو اس کی قوت و طاقت کا اندازہ کرنا ضروری ہے کیونکہ جس عجیب طریقہ سے ہم تک یہ پیغام پہنچا ہے وہ اس کا سبق دیتا ہے کہ سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا مناسب ہے، میرا ارادہ یہ ہے کہ چند قاصد روانہ کروں جو سلیمان کے لیے عمدہ اور بیش بہا تحائف لے جائیں اس بہانہ سے وہ اس کی شوکت و عظمت کا اندازہ لگا سکیں گے اور یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ وہ ہم سے کیا چاہتا ہے۔ اگر واقعی وہ زبردست قوت و شوکت کا مالک اور شاہنشاہ ہے تو پھر اس سے ہمارا لڑنا مصیبت کو دعوت دینا ہے اس لیے کہ صاحب طاقت و شوکت بادشاہوں کا یہ دستور ہے کہ جب وہ کسی بستی میں فاتحانہ غلبہ کے ساتھ داخل ہوتے ہیں تو اس شہر کو برباد اور با عزت شہریوں کو ذلیل و خوار کردیتے ہیں۔ ہمیں بلاوجہ بربادی مول لینے کی کیا ضرورت ہے ؟
چنانچہ ملکہ نے چند ہدایا اور تحفہ جات تیار کیے اور اپنے چند اہل کاروں کو قاصد بنا کر بھیج دیا جب وہ لوگ یہ اموال ہدایا اور تحفے لے کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم لوگ مال کے ذریعہ میری مدد کرنا چاہتے ہو جس کی وجہ سے یہ تحفے لائے ہو ؟ سو اللہ نے مجھے جو کچھ عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو اس نے تمہیں دیا ہے، (کیونکہ تمہارے پاس تو زمین ہی کا کچھ حصہ ہے اور میرے لیے تو زمین کے اندر تانبے کی نہر بہہ رہی ہے اور میری فوج میں انسان بھی ہیں جنات بھی ہیں وحوش بھی ہیں اور طیور
بھی ان چیزوں کا حضرت سلیمان کے جواب میں تذکرہ نہیں ہے البتہ (مَا اٰتَانِیَ اللّٰہُ ) کے عموم میں یہ سب چیزیں داخل ہیں) حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے مزید فرمایا (بَلْ اَنْتُمْ بِھَدِیَّتِکُمْ تَفْرَحُوْنَ ) یعنی ہمیں تو تمہارے تحفوں کے ملنے کی خوشی نہیں ہے بلکہ تم ہی اپنے ہدیہ پر خوش ہو رہے ہو پھر قاصدوں میں جو ایک خصوصی قاصد تھا اس سے فرمایا کہ (ارْجِعْ اِِلَیْہِمْ ) کہ جاؤ ان کے پاس واپس چلے جاؤ (اور اپنے ہدایا بھی لے جاؤ کما فی روح المعانی) اگر ہماری بات نہ مانی اور ہمارے پاس فرماں بردار ہو کر نہ آئے تو ہم ان کے پاس ایسی فوجیں لے کر آئیں گے جن کا وہ مقابلہ نہ کرسکیں گے اور ہم ان کو وہاں سے ذلیل کر کے نکالیں گے۔