27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsسراج البیان

Ayahs 27:1–6

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

طس ۔ (ف 1) یہ (سورت) قرآن اور کھلی کتاب کی آئتیں ہیں

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

مومنوں کے لئے ہدایت اور خوشخبری ہے

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

جو نماز پڑھتے اور زکوۃ دیتے اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

بیشک جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ۔ ان کے اعمال ہم نے ان کو اچھے کردکھلائیے ہیں سو وہ بھٹکتے پھرتے ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہ وہی لوگ جن کو بری طرف کا عذاب ہوتا ہے اور وہی آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھائیں گے

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور تجھ کو تو یہ قرآن ایک حکمت والے باخبر کی طرف سے ملتا ہے

ف 1: ان آیات سے سورة نمل کا آغاز ہوتا ہے ۔ طٰسۤ حروف مقطعات میں سے ہے تفصیل آلمۤ کی بحث میں گزرچکی ۔ سورۃ کا آغاز قرآن کے تعارف سے ہوتا ہے ۔ ارشاد ہے کہ یہ قرآن اور کتاب مبین کی آئتیں ہیں قرآن کے معنے اس کتاب کے ہیں جس کی کثرت سے قرات اور تلاوت ہو ۔ یہ مصدر بمعنی مفعول ہے ۔ غور فرمائیے ۔ انجیل کی اشاعت آج دنیا میں سب کتابوں سے زیادہ ہے ۔ دنیا کے ہر گوشے میں مشینری موجود ہیں اور ہر وہ زبان اور ہر قوم میں اس کو سرعت سے پھیلا رہے ہیں ۔ مگر وہ کتاب جس کی دن رات تلاوت ہوتی ہے ۔ صرف قرآن ہے کتاب مبین سے غرض یہ ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے ۔ جس میں تمام ضروریات انسانی کو کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے اس میں کہیں بھی ابہام یا ایمال نہیں ہے ۔ ہر قسم کی فروگذشت اور اغلاط سے پاک ہے ۔ ہر شخص کے لئے موقع ہے ۔ کہ وہ اس کے انوار سے کسب ضو ہوسکے ارشاد ہے کہ قرآن اور کتاب مبین ان لوگوں کی راہنمائی کے لئے ہے جو ایمان کی دولت سے بہرہ مند ہیں ۔ اور نماز وزکوٰۃ کے پابند ہیں ! اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ایمان بالآخرت کے متعلق فرمایا ، کہ اس کے بغیر دلوں میں خلوص اور نیکی کا جذبہ پیدا نہیں ہوسکتا ۔ یہی عقیدہ ہے جو اعمال کو درست کردیا ہے اور ذمہ داری کا احساس پیدا کردیتا ہے ۔ اسی عقیدہ کی وجہ سے نیکی کی تحریک پیدا ہوتی ہے ۔ اور اسی کے طفیل انسان تمام برائیوں سے حقیقی طور پر نفرت کرنے لگتا ہے ۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر عمل کی ذمہ داری سے ! اور محاسبہ طلب ہے ۔ وہ تسلیم کرتا ہے کہ ایک وقت آئے گا جبکہ سب لوگوں کو خدا کے حضور میں اکٹھا ہونا پڑیگا ۔ اور وہاں یقینا اعمال کی سخت باز پرس ہوگی قرآن حکیم کہتا ہے جو لوگ آخرت ایمان نہیں رکھتے وہ نتائج کے لحاظ سے سخت گھٹے میں رہیں گے ان کے لئے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ دنیا میں خیروبرکت کا وافر ذخیرہ جمع کرسکیں اور اپنے لئے زاہ راہ کا سامان کرسکیں یعنی قرآن حکیم کو جو آپ حاصل کرتے ہیں تو اللہ کے حضور سے قریب ترین موقع ومقام سے ۔ اس طرح کہ قلب سے تمام حجابات باطلہ اٹھ جائیں ۔ اور انوار لاہوت اس کو براہ راست مستیز بنادیں ۔ غرض یہ ہے کہ قرآن کا کلام الٰہی ہونا بالکل قطعی اور یقینی ہے ۔ اس میں کسی طرح بھی فریب نفس یا غلط فہمی کا دخل نہیں
Ayah 27:7

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

جب موسیٰ نے اپنے گھروالوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے اب میں وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لاؤنگا یا تمہارے پاس دہکتا ہوا انگارا لاؤں گا شاید تم تاپو

حل لغات :۔ ھدی ۔ سے غرض ہدایت ۔ درجات و مراتب سے اٰنست میں نے دیکھی ، محسوس کی تصطلون ۔ اصطیلا سے ہے ۔ آگ تاپنا
Ayah 27:8

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

پھر جب وہاں آیا تو آواز دی گئی کہ جو کوئی آگ میں ہے اور جو آگ کے ارد گرد ہے برکت والا ہے اور اللہ کی ذات پاک سے جو سارے جہانوں کا مالک ہے

حل لغات :۔ من فی النار سے مفسرین نے مختلف معانی مراد لئے ہیں ۔ یہ حضرت ابن عباس کی رائے ہے اللہ کا نور ہے ۔ یہ قتادہ کا مذہب سے ۔ حضرات موسیٰ ہیں اور یہ زیادہ صحیح ہے ۔ لان القریب من الشی قد یقال انہ (راذی) یعنی جو چیز قریب ہو اس کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ انہ فیہ ۔ تھتز : استہزا سے بمعنی بات کرنا ۔ جان : سانپ ۔ میں غیر سوء : یعنی بلا تکلیف کے ، سوء کی قید احترازی ہے اس میں اس واقعہ کی تواسط کی ہے ۔ جو بائبل مذکور ہے ۔ یعنی موسیٰ کا ہاتھ اس کی وجہ سے سفید ہوگیا ۔
Ayah 27:9

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

اے موسیٰ بات یہ ہے کہ میں اللہ غالب حکمت والا ہوں (ف 1)

ف 1: یہ اس وقت کا ذکر ہے جبکہ حضرت موسیٰ سے جدا ہوکر چلے ہیں ان کے ساتھ اس وقت ان کی بیوی تھیں جنگل میں آگ کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ وہ آگے بڑھے تو دیکھا کہ جس کو وہ آگ سمجھ رہے تھے وہ اللہ کی ایک تجلی تھی ۔ فرمایا کہ موسیٰ بابرکت ہے اور اللہ جو عالم پروردگار ہے تجسم وتحیز سے پاک ہے ! اے موسیٰ میں اپنی عزیز حکیم یعنی غالب برتر اور حمیع علوم حکمت کا مالک خدا ہوں ! اور میں نے تمہیں مخاطب کیا ہے ۔
Ayahs 27:10–15

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور تو اپنا عصا ڈال پھر جب اس کو اس طرح ہلتے دیکھا جیسا سانپ تو موسیٰ پیٹھ پھیر کر بھاگا وہ پیچھے مڑ کر نہ دیکھا ۔ اے موسیٰ مت ڈر بیشک میں جو ہوں میرے پاس پیغمبر (ف 2) نہیں ڈرتے

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

مگر جس نے ظیم کیا پھر اس کے عوض میں بدی کے نیکی کی تو میں بخشنے والا مہربان ہوں

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ گریبان ڈال کہ بغیر برائی (یعنی کسی بیماری کے) سفید نکلے گا ۔ یہ (دومعجزے مل کر نو معجزے ہیں ان کے ساتھ) فرعون اور اس کی قوم کی طرف (جا) کر وہ فاسق لوگ ہیں

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری آنکھیں کھولنے والے معجزات آئے تو بولے کہ یہ صریح جادو ہے

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور بےانصافی اور غرور سے ان کا انکار کیا باوجودان کے دل ان معجزات کا یقین کرچکے تھے پس دیکھ کر مفسدوں کا انجام کیا ہوا

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو ایک علم دیا اور ان دونوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں اپنے بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت بخشی

حضرت موسیٰ اور فرعون 2: حضرت موسیٰ جب حضرت شعیب سے جدا ہوئے تو انہوں نے جنگل میں اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھی تجلی کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے ۔ مختصراً یوں سمجھ لیجئے کہ تجلی کے معنی ایک نوع کے اظہار کے ہیں شئے تجلی وہ ہوتی ہے جس کو وہ نوربحث اپنے اظہار کا ایک عنوان ٹھہرادے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو مخاطب کیا اور فرمایا ۔ دیکھو میں تمہارا خدا ہوں اور اس کے بعد ان کو یہ بتایا کہ تمہارے عصا ہولناک سانپ بن سکتا ہے اور تمہارا ہاتھ سفید وبراق ہوجائے گا ۔ غرضیکہ اسی طرح کے نو خوارق ان کو دیئے گئے اور کہا گیا کہ اب فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔ وہ بہت ظالم ہوگیا ہے اور اس کی سرکشیاں حد سے بڑھ چکی ہیں ۔ وہ فاسق ہے اور چاہتا ہے کہ بنی اسرائیل میں بھی عقیدہ عمل کی تمام برائیاں پھیل جائیں ۔ عصا کا سانپ بن جانا اور ہاتھ کا سفید براق ہوجانا ۔ غالباً اس سے مقصود یہ تھا کہ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کو تسلی ہو اور فرعون کو معلوم ہوجائے کہ بنی اسرائیل جیسی بےضرر قوم میں بھی زندگی پیدا ہوسکتی ہے ۔ اور میرے لئے اور میری قوم کے لئے اژدھا بن سکتی ہے ۔ اگر اللہ کو ان کی زندگی منظور ہے اور خدا یہ چاہے کہ ان کو غلامی کے خلاف آمادہ کیا جائے انہیں مظلومیت کا احساس پیدا ہوجائے اور ان کو بتلایا جائے کہ تم میں ظلم کے مقابلہ کی پوری قوت موجود ہے اور تم دشمن کے لئے بہت زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں ارشاد ہے کہ حضرت موسیٰ فرعون کے پاس تربیت وآزادی کا مطالبہ لے کر آئے ! اور خوارق ومعجزات سے اس کو یقین دلایا کہ میں اللہ کی جانب سے آیا ہوں ۔ اور بنی اسرائیل کی رہائی سب مقدرات میں سے ہے اب یہ ناممکن ہے کہ تم زیادہ عرصہ اپنے مظالم کو جاری رکھ سکو ۔ یہ سن کر فرعون اور اس کی قوم نے موسیٰ کے مطالبات ماننے سے قطعی انکار کردیا اور صاف کہہ دیا کہ دراصل آپ ہم لوگوں پر جادو کرکے ہماری حکومت چھیننا چاہتے ہیں ارشاد ہے کہ یہ لوگ دل میں حضرت موسیٰ کی صداقت کے قائل ہوچکے تھے اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ آفتاب نبوت چمکے اور لوگ اس کی تمازت کو محسوس نہ کریں اور عمداً انکار ۔ اور مراد سرکشی کا نتیجہ یہ ہوا کہ متعدد لوگ دریا میں غرق کردیئے گئے اور بنی اسرائیل ان کی املاک کے وارث قرار پائے ۔
Ayahs 27:16–17

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور سلیمان داؤد کا وارث ہوا ! اور بولا لوگوں ہمیں پرندوں کی بولی سکھلائی (ف 1) اور ہمیں ہر شے میں دیا گیا ہے بیشک یہ صریح فضل ہے

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور سلیمان کے لئے اس کے لشکر جنوں اور آدمیوں اور پرندوں میں سے جمع کئے گئے پھر وہ مثل المثل (اس کے سامنے کھڑے) کئے گئے

پرندوں کی بولیاں 1: فرعون اور حضرت موسیٰ کے قصہ کے بعد داؤد سلیمان (علیہ السلام) کے حالات بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ فرعون کی تنگ طرفی کو ظاہر کیا جائے اور بتایا جائے کہ اللہ کے نیک بندے باوجود تاج اور رنگ کے مالک ہونے کے اللہ کے شاگرد رہتے ہیں اور ازراہ کبروغرور گمراہ نہیں ہوجاتے ، دیکھئے داؤد اور سلمان (علیہ السلام) کی ان کو سیاسی فہم و فراست کا بہرہ وافر دیا گیا ۔ ان کو بتایا گیا کہ کس طرح سلطنت کی حدود کو وسیع کیا جاسکتا ہے اور کس طرح اختیارات کو انسانوں ، جنوں اور پرندوں پر استعمال کیا جاسکتا ہے مگر ان کی سل امتی عقل ملاحظہ ہو کہ وہ دائرہ عبودیت سے باہر نہیں نکلے اور ہمیشہ اس فضیلت و برتری کو اللہ کی نوازش سمجھتے رہے علمنا منطق الطیر سے غرض یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں یہ ملک عطا فرمایا ہے ۔ کہ ہم پرندوں کی بولیاں سمجھ لیتے ہیں ۔ چناچہ ماہرین حیوانات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ حیوانات بھی بولتے ہیں اور اپنے مافی الضمیر کو ادا کرتے ہیں اور بعض لوگوں نے تو بعض پرندوں کی آوازوں سے ان کے حروف تک مرتب کئے ہیں اور ان کو سمجھنے کی ابتدائی کوشش بھی کی ہے
Ayah 27:18

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ وہ چیونٹیوں کے میدان (ف 2) میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کا لشکر تمہیں کچل ڈالے ۔ اور انہیں خبر نہ ہو

چیونٹی اور سلیمان 2: حضرت سلیمان کے متعلق بائبل میں بھی مذکور ہے کہ بہت شان و شوکت کے نبی تھے اس آیت میں ان کی حشمت و جلال اور تسخیر کا ذکر ہے ۔ فرمایا :۔ اس کے عساکر میں جن وانس کے علاوہ طیور بھی تھے جن سے جنگی خدمات لی جاتی تھیں ایک واقعہ بیان کیا ہے ۔ جس سے ان کی عظمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ حضرت سلیمان اپنے عساکر کے ساتھ گرد اڑاتے ہوئے ایک میدان سے گزرے یہ میدان چیونٹیوں کا مسکن تھا انہوں نے جب دیکھا کہ حضرت سلیمان کا لشکر نہایت حشمت وصوالت کے ساتھ ہماری طرف بڑھتا چلا آرہا ہے تو ایک چیونٹی کے اطلاع دینے پر سب کی سب اپنے اپنے سوراخوں میں گھس گئیں ان کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں یہ لشکر ہمیں اپنے پاؤں تلے نہ روند ڈالے حضرت سلیمان چیونٹی کی اس بات پر مسکرا کر ہنس پڑے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت پر شکریہ ادا کیا اور وسعت سلطنت او فوج کی کثرت سے خوش ہوئے دیکھئے ایک فرعون ہے کہ بنی اسرائیل کو غلام رکہنے پر نازاں اور مغرور ہے اور اپنے کو خدا سمجھتا ہے اور ایک سلیمان ہیں کہ ان وسیع اختیارات پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کررہے ہیں چیونٹی کے متعلق جدید ترین تحقیقات یہ ہے کہ یہ خطرات کو بہت دور سے محسوس کرلیتی ہے چناچہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب بارش ہوتی ہے تو یہ پانی پڑنے سے پہلے اپنے آپ کو محفوظ کرلیتی ہے اس واقعہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے جب عساکر دور سے دیکھا اور گردوغبار سے مطلع کو اٹا ہوا پایا تو سمجھ گئی کہ خطرہ قریب ہے اس لئے سبھوں کو خبردار کرکے جلدی جلدی بلوں میں گھسنے لگیں ایک وادی سے فوج کا اس طرح گزرجانا آسان ہے کہ چند چیونٹیوں کو بچایا جاسکے مگر معلوم ہوتا ہے کہ سلیمان کا لشکر تمام جنگ میں چھایا ہوا تھا اس لئے صورت حال یہ تھی کہ چیونٹیوں کا پاؤ تلے روندا جانا ضروری تھا ، قالب تعلۃ کے معنی یہ نہیں کہ اس نے انسان کی زبان میں سلیمان اور اس کے لشکر کا نام لیا اور کہا کہ ادخلو امساکنکمیہ کہ اپنی زبان میں طبعی اشارات وحرکات سے دوسری چیونٹیوں کو خطرات سے آگاہ کردیا ۔ اور سلیمان اور اس کے لشکر کا نام قرآن نے بطور حکایت وواقعہ کے ذکر کیا
Ayahs 27:19–21

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

تب سلیمان اس چیونٹی کی بات سے مسکرا کر ہنسا اور کہا اے رب مجھے توفیق دے کہ تیرے احسان کو جو تونے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیا ہے شکر کروں اور ایسے نیک کام کروں جن سے تو راضی ہو اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل کر

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

اور اس نے پرندوں کی خبر (یعنی حاضری) لی مہنہ بولا مجھے کیا کہ میں ہڈہڈ کو نہیں دیکھنا ۔ آیا وہ غیر حاضر ہے

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

میں اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح کرڈالوں گا ۔ یا وہ کوئی صاف دلیل میرے پاس لائے

ف 2: حضرت سلیمان کی تسخیر اور وسعت کے متعلق یہ دوسرا قصہ ہے ۔ بیان کیا جاچکا ہے کہ حضرت سلیمان کے لشکر میں جن وانس کے علاوہ طیور بھی تھے اور انہیں ہدہد کے متعلق یہ خدمات تھیں کہ وہ اثنا جنگ میں پانی تلاش کرے اور لشکر کو پانی کا پتہ دے ۔ چناچہ ہدہد کے متعلق یہ مشہور ہے کہ وہ زمین کے نیچے سوتوں کو معلوم کرلیتا ہے ۔ اور عربی میں ضرب المثل ہے کہ ھوابصر من ہد ہد کہ وہ ہد ہد سے بھی زیادہ تیز نگاہیں رکھتا ہے ایک دن ہدہد لشکر میں نظر نہ آیا ۔ اور گم ہوگیا ۔ اس پر حضرت سلیمان ناراض ہوئے اور یاوسپراوہر سے دریافت کیا ۔ اور غصے سے کہا کہا گر وہ معقول عذر پیش نہ کریگا تو میں اس کو ذبح کرڈالوں گا ۔ اسی اثناا میں میں وہ آگیا ۔ اور اس نے ایک نئے ملک اور نئی حکومت کی خبر دی ۔ اس قصہ میں ہدہد کا بولنا اور ایک نئی سلطنت کو ڈھونڈھ نکالنا اور پھر ان کے مذہب تک کا پتہ دینا یہ سب باتیں کچھ اس ڈہب کی ہیں کہ عام لوگ اس کو سن کر کھٹکتے ہیں ۔ اس لئے اہل تفسیر اس کے بارہ میں حسب ذیل فرماتے ہیں :۔ (1) یہ ایک خاص ہدہد تھا ۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح کی سمجھ بوجھ دے رکھی تھی ۔ (2) طیور بھی ان معاملات کو سمجھتے ہیں اور ان کے متعلق یہ غلط مشہور ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے چناچہ ایک ماہر علم الحیوانات ان کی زبان کے چند اصول دریافت کئے ہیں ۔ (3) ہدہد ایک آدمی کا نام ہے ۔ جیسے اسد ، ذئب ، ابو عامر وغیرہ انسانوں کے نام ہوسکتے ہیں مگر یہ تاویل درست وزن دار نہیں تفقد الطیر من الطیر کی تصریح میں موجود ہے اور اس کے بعد لاعذبنہ کہ کر گویا توضیح کردی ہے ۔ (4) الھد ھد میں مضاف محذوف ہے اور اس سے صاحب ہد ہد مراد ہے جو طیور کی دیکھ بھال پر مقرر تھا اور مجھے یہ توضیح پسند ہے ۔
Ayahs 27:22–24

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

پھر تھوڑی دیر کے بعد ہڈ ہڈ آگیا ۔ اور کہا کہ مجھے ایک بات معلوم ہوئی ہے جو تجھے معلوم نہیں ۔ اور میں شہر سبا سے تیرے پاس ایک یقینی خبر لایا ہوں

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

میں نے ایک عورت پائی جو ان پر بادشاہت کر رہی ہے اور اس کو ہر شے ملی ہے اور اس کے پاس ایک بڑا تخت ہے

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

میں نے پایا کہ وہ اس کی قوم اللہ کے سوا سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لئے بھلے دکھائے ہیں اور انہیں راہ سے روکا ہے سو وہ راہ نہیں پاتے

حل لغات :۔ سبا ۔ نام شہر بلقیس ۔ حرم حضرت سلیمان (علیہ السلام) شہر مذکور ملک یمن میں واقع ہے
Ayahs 27:25–28

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

اللہ کو کیوں نہ سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی چھپی چیز نکالتا اور جو تم چھپاتے ہو اور ظاہر ہوجاتا ہے

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش عظیم کا رب ہے

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

سلیمان بولا ہم دیکھیں گے کہ تونے سچ کہا یا تو جھوٹا ہے

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

میرا یہ خط لیجا اور اس ایک طرف ڈال پھر ان کے پاس سے واپس آ ۔ پھر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں

الخب : پوشیدہ اور مستتر چیز ،
Ayah 27:29

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

وہ بولی اے درباریو بیشک میری طرف ایک عزت کا خط (ف 1) ڈالا گیا ہے

ملکہ سبا کی طرف حضرت سلیمان کا مکتوب 1: ہدہد نے یا صاحب ہد ہد نے جب یہ عذر پیش کیا ۔ کہ میں نے ایک جدید سلطنت دریافت کی ہے جہاں کے رہنے والے آفات کی پوجا کرتے ہیں ۔ اور راہ راست سے کھس کے ہوئے ہیں ۔ تو حضرت سلیمان نے اس کو ایک رقعہ دیا ۔ اور کہا کہ اس کو لے کر وہاں جاؤ۔ اور معلوم کرو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں ۔ تاکہ تمہارا جھوٹ اور سچ عیاں ہوجائے ۔ ارشاد ہے کہ وہ آفات کو تو پوجتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اس کو مشرق کے مستور افق سے جلوہ گر کرنے والا کون ہے ۔ اور وہ کون ہے جو سینے کے اندر تک سے واقف ہے معلوم ہوتا ہے کہ آفتا پرستی کی ابتداء اس خیال سے ہوتی ہے کہ آفات روشنی اور نور کا مرکز ہے ۔ اور خدا کا بھی نور ہے ۔ اس لئے ممکن ہے کہ سورج اس کے حسن و جمال اور تجلیات کا بہت بڑا آئینہ دار ہو ۔ قرآن حکیم نے بتایا ہے ۔ کہ یہ عقیدہ اور خیال غلط ہے اس کے نور اور اس کی قدرتوں میں دنیا کی کوئی چیز شریک یا سہیم نہیں ۔ وہ تو نور ہے اور یکسر نور ہے ۔ مگر اس کے نور ہونے کے معنے یہ نہیں کہ وہ کوئی جرم منور ہے یا کوئی مادی روشنی اور اجالا ہے بلکہ یہ معنی ہیں کہ کائنات کا وجود اس کی وجہ سے قائم ہے اور اگر وہ نہ ہو تو پھر تمام دنیا عدم کے اندھیروں میں گم ہو اور کسی چیز کا بھی وجود دکھائی نہ دے وہ واحد معبود ہے اور کوئی شخصیت بجز اس کے اس قابل نہیں کہ انسان جیسی پر عظمت ہستی اس کے سامنے جھکے غرض یہ ہے کہ ملکہ سبا کی قوم آفتا کی پرستش کرتی تھی حضرت سلیمان نے تحقیق احوال کے لئے ہدہد کو بھیجا تاکہ وہ اس قوم کے پاس جائے اور اصل معاملہ دریافت کرے ۔ الملؤا : سرداران قوم ، معززین حضرات ،
Ayahs 27:30–31

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

بیشک وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بیشک (ف 2) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے شروع کیا گیا ہے

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

کہ مجھ سے سرکشی نہ کرو اور تابعدار بن کر میرے پاس چلے آؤ

ف 2: ملکہ سبا کی زبان سے رقعہ کا مضمون ملاحظہ ہو کس قدر مختصر اور کس قدر جامع ہے ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم کہہ کر گویا اس کو یقین دلایا ہے کہ ہم ظالم نہیں ۔ ہم اس خدا کو مانتے ہیں جو رحمن اور رحیم ہے اور جس کے فیوض رحمت آفتاب سے کہیں زیادہ ہیں اس کے بعد اس سے مطالبہ کیا کہ مطیع ہوکر میرے پاس چلے آؤ۔ اور کسی قسم کی سرکشی کا اظہار نہ کرو ۔
Ayah 27:32

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

بولی اے درباریو میرے معاملہ میں مجھے مشورہ دو ۔ میں کسی امر کا فیصلہ نہیں کیا کرتی ۔ جب تک تم حاضر نہیں ہوتے

افتونی : مجھے رائے دو
Ayah 27:33

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

وہ بولے ہم لوگ بڑے زور آور اور سخت لڑنے والے ہیں اور کام تیرے اختیار میں ہے سو تو سوچ سمجھ لے کہ کیا حکم دیتی ہے

والامر الیک ۔ یعنی آخری فیصلہ آپکے اختیار ہے ۔ الملوک ۔ ملک کی جمع ہے ، یعنی بادشاہ ، حل لغات : اولوباس : ارباب حرب ،
Ayah 27:34

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

بولی بیشک جب کسی بستی میں بادشاہ داخل ہوتے ہیں ۔ تو اسے خراب کرتے ہیں اور وہاں کے عزت داروں کو بےعزت کرتے ہیں اور اسی طرح (یہ بھی) کریں گے

اعزۃ ۔ جمع عزیز ۔ غالب شریف ، ذلیل ۔
Ayah 27:35

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور میں ان کی طرف کچھ ہدیہ بھیجتی (ف 1) ہوں ۔ پھر دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لے کر آتے ہیں

ف 1: ملکہ سبا نے حضرت سلیمان کا خط سنا کر اس معاملہ میں اہل دربار سے مشورہ طلب کیا ماکنت قاطعہ امرا حتی تشھدون سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قدیم زمانے میں بھی طرز حکومت یہ تھی کہ وہ اہل دربار سے مشورہ لیا جائے ۔ اور بادشاہ کے اختیارات محدود ہوں ۔ اس آیت سے اس عہد کی جمہوری حکومت کا پتہ چلتا ہے ۔ ھدیۃ ۔ تحفہ ۔
Ayah 27:36

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

پھر جب قاصد سلیمان کے پاس (ف 2) آیا ۔ تو اس نے کہا ۔ تم مجھے مال سے مدد دیتے ہو سو جو کچھ اللہ نے مجھے دیا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے ۔ بلکہ تم اپنے ہدیہ (ف 3) سے آپ ہی خوش رہو

حضرت سلیمان نے تحائف واپس کردیئے ! 2: اس آیت میں بلقیس نے عام بادشاہوں کی اور ملوک کی ذہنیت بیان کی ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ حدود مملکت کو وسیع کرنے میں کوشاں رہتے ہیں ۔ اور جب کسی ملک کو فتح کرلیتے ہیں تو پھر بڑی ابتری مچاتے ہیں ۔ وہاں کا نظام ایک قسم بدل دیتے ہیں اور روہاں کے معززین اور اکابرین ان انقلابات میں بس جاتے ہیں ۔ اس لئے یہ رائے تو درست نہیں کہ سلیمان کو یہاں آنے پر حملہ کرنے کا موقع دیا جائے ۔ البتہ کوئی تدبیر کرنی چاہیے ۔ چناچہ اس نے وزراء سے کہا ۔ کہ بہتر ہوگا کہ اس کو یہاں کے تحفے تحائف بھیجے جائیں اگر اس نے ان کو قبول کرلیا ۔ تو معلوم ہوگا کہ وہ بہت زیادہ حریص نہیں ہے ! اور ایک فائدہ یہ ہوگا کہ وہ اتنا پرجوش ہوجائے گا اور اگر اس نے انکار کردیا تو معلوم ہوگا کہ وہ جنگ پر آمادہ ہے اس تجویز سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکہ سبا بہت عقل مند اور سمجھدار خاتون تھی حالانکہ وزراء نے کہا تھا کہ ہم بہت بہادر ہیں اور ہر طرح مرنے مارنے پر تیار ہیں مگر اس نے یہ مناسب نہ کیا ۔ 3: غرضیکہ تحفے تحائف بھیجے گئے ۔ لیکن حضرت سلیمان نے ان کو قبول کرنے سے انکار کردیا ۔ بلقیس کا خیال تھا کہ سلیمان بھی دنیا کے عام بادشاہوں کی طرح ہوگا اور وہ ان تحائف کو دیکھ کر خوش ہوجائے گا ۔ اس طرح دوسلطنتوں میں سیاسی تعلقات سے زیادہ استوار ہوجائیں گے ۔ چونکہ حضرت سلیمان بادشاہ کے ساتھ پیغمبر بھی تھے اس لئے طبعاً دنیا اور دنیا کے املاک سے بےنیاز تھے انہوں نے جب دیکھا کہ ملکہ سبا نے اس کے پیغام کو نہیں سمجھا اور ان کو معمولی حریص اور دنیا دار بادشاہ خیال کیا ۔ تو غضب میں آگئے ۔ اور کہنے لگے ۔ تحائف واپس بھیج دو ہم ان پر حملہ کرینگے ۔ اور ہماری فوجیں ان کو وہاں سے نکال باہر کریں گی ۔ اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ ہمارے پاس دنیوی قوت بھی ان سے کہیں زیادہ ہے ۔
Ayah 27:37

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

ان کی طرح پھر جا ۔ اب ہم ان پر ایسی فوجیں لے کر چڑھائی کریں گے جن کا مقابلہ وہ نہ کرسکیں گے اور ہم انہیں ان کی بستی سے ذلیل کرکے نکالیں گے اور وہ خوار ہوں گے

قبل لھم ۔ سامنا نہ ہوسکے گا ۔ ساغر کی جمع بمعنی ذلیل و رسوا ماتحت ۔
Ayah 27:38

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

کہا اے درباریو تم میں کوئی ہے کہ اس عورت کا تخت میرے پاس اس پہلے اٹھا لائے ۔ کہ وہ مسلمان (ف 4) ہوکر میرے پاس حاضر ہوں

ف 4: بات یہ تھی کہ حضرت سلیمان کے مدنظر تبلیغ الاسلام میں انہوں نے اسی لئے دعوتی خط بھیجا تھا آپ چاہتے تھے کہ اس ملک کے لوگ اسلام کی دعوت کو قبول کرلیں ۔ اور بت پرستی چھوڑ دیں ۔ آپ کی خواہش تھی کہ یہ لوگ آفات کو خدا نہ سمجھیں بلکہ اس خدا کے سامنے جھکیں جس نے آفتاب کو پیدا کیا ہے ۔ مگر ملکہ نے اس دعوت پر قطعاً غور نہ کیا اور جس عنوان سے جواب دیا وہ توہین کے مزادلہ تھا ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سلیمان کا مقصد جہاد سے محض حدود سلطنت کو وسیع کرنا ہے اور مال و دولت کو حاصل کرنا ہے اسلام کی اشاعت اور حق مد نظر نہیں ۔ حالانکہ واقعہ اس کے برعکس تھا ۔
Ayah 27:39

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

جنوں میں سے ایک رالس بولا وہ تخت میں تیرے پاس لاؤں اس سے پہلے کہ تو اپنی جگہ سے اٹھے اور میں اس کے اٹھالانے پر امانت دار اور زور آور ہوں

حل لغات :۔ عفریت ۔ دیو خبیث ۔ لڑاکو ۔ چالاک ۔ توانا جن و انسان دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔
Ayah 27:40

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

وہ شخص جس کو کتاب کا علم تھا ۔ بولا کہ میں تریے پاس پلک مارنے سے پہلے لاؤں گا ۔ پھر جب سلیمان (ف 1) نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا اور کہا کہ یہ میرے رب کے فضل سے ہے تاکہ وہ آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری اور جو کوئی شکر کرتا ہے وہ اپنی ہی جان کے لئے شکر کرتا ہے اور جو کوئی ناشکری کرتا ہے تو میرا رب بےپرواہ سخی ہے

بلقیس کا تخت اور علم الحرکت 1 حضرت سلیمان کو ابتدا میں تو غصہ آیا ۔ کہ آخر کیوں بلقیس نے مجھ کو ایک معمولی قسم کا بادشاہ سمجھا مگر ایک تدبیر ذہن میں آئی ۔ کہ لاؤ یہ دیکھیں کہ وہ کہاں تک معاملہ فہم ہے اس کا بہترین طریق یہ سمجھا گیا ۔ کہ بلقیس کو اپنے پاس بلائیں ۔ چناچہ پہلے تو انہوں نے اس کا تخت حکومت مٹانے کی ٹھانی اور وہ بھی اس طرح کہ معمولی عقل کا آدمی بھی یہ اعجاز دیکھ کر اللہ کی قدرتوں سے آگاہ ہوجائے اور اسلام قبول کرلے ۔ پھر آپ نے درباریوں سے کہا مخاطب ہوکر پوچھا کون شخص ہے جو بہت جلد ملکہ سبا کے تخت کو مجھ تک پہنچا سکتا ہے ۔ بہت بڑے پُرفن چلاک اور قوی جن نے کہا کہ حضور میں پہنچا سکتا ہوں جب آپ اس مجلس سے اٹھیں گے بھی نہیں اور تخت موجود پائیں گے مگر ایک شخص جو اس سے بھی زیادہ ماہر تھا اور جس کو کتاب (الٰہی) کا علم تھا کہا کہ میں آنکھ جھپکنے سے پیشتر تخت کو آپ کی خدمت میں حاضر کرسکتا ہوں ۔ چناچہ وہ گیا اور تخت لے کر آگیا ۔ حضرت سلیمان نے کہا کہ اس تخت کی ہیئت کو بدل دو ۔ تاکہ یہ معلوم ہو کہ ملکہ کس قدر عقلمند ہے چناچہ تخت کی شکل بالکل تبدیل کردی گئی اور ادھر اس اثنا میں ملکہ پہنچ چکی تھی ۔ وہ ان معجزات کو دیکھ کر ششدرہ رہ گئی ۔ جب حضرت سلیمان نے کہا یہ تخت آپ کے تخت سے ملتا جلتا ہے تو اس نے کہا ہاں کچھ اسی قسم کا ہے اور اس کے ساتھ ہی اسلام کا اعتراف کرلیا ۔ اور بول اٹھی کہ میں اس واقع سے پہلے ہی نبوت کو تسلیم کرچکی تھی اور مان چکی تھی کہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں ۔ طرفان طرف بمعنی آنکھ مفرد اور جمع دونوں معنوں میں آتا ہے اور دیکھنے اور پلک مارنے کے معنی میں ہوتے ہیں