Ayahs 27:1–33 ایمان بالآخرت کی خاص اہمیت : سو آخرت پر ایمان و یقین کو بطور خاص ذکر فرمانے سے اس کی عظمت و اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ اس کا اجمالی ذکر اس سے پہلے مطلق ایمان کے ضمن میں آچکا ہے کہ عقیدہ آخرت ہی دراصل وہ اہم اور بنیادی نقطہ ہے جس پر انسان کے بناؤ بگاڑ کا مدارو انحصار ہے۔ کہ اسی ایمان و یقین سے اس کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ غور و فکر سے کام لیتا ہے۔ ورنہ اس سے محرومی کی صورت میں انسان لایعنی اور غیرذمہ دار انسان بلکہ محض ایک حیوان بن کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ لوگ چاہے اس کتاب حکیم کی قدر کریں یا نہ کریں حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ یہ کتاب حکیم ایمان والوں کے لیے سراسر ہدایت اور عظیم الشان بشارت بن کر نازل ہوئی ہے۔ سو اس سے ان کو راہ حق و ہدایت کی راہنمائی بھی ملتی ہے اور دارین کی سعادت اور فوز و فلاح سے سرفرازی بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 27:44 برے اعمال کی خوشنمائی ایک مستقل عذاب۔ والعیاذ باللہ : سو منکرین و معاندین کے لیے ایک سزا یہ ہے کہ ان کے برے اعمال کو ہی خوشنما بنادیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں وہ اپنے برے اعمل کو چھوڑنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوں گے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ ہلاکت و تباہی کی راہ پر بڑھتے چلے جائیں گے۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ نور ایمان سے محروم لوگوں کیلئے سنت الہیہ یہی ہے کہ انکے لیے انکے برے اعمال ہی کو مزین کردیا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی ایسے لوگوں کے دلوں میں چونکہ حق کی طلب و تلاش ہوتی ہی نہیں۔ وہ اسی دنیائے دوں کے وقتی اور عارضی فائدوں کے حصول ہی کو اصل کامیابی اور اس کی تکلیفوں اور ناداریوں کو ہی وہ اصل ناکامی سمجھتے ہیں۔ اور وہ اسی کے لئے جیتے اور اسی کے لئے مرتے ہیں۔ اس لئے وہ اپنے انہی اعمال کو سب سے اچھا سمجھتے ہیں جو وہ اس دنیا کی کمائی کے لئے کرتے ہیں۔ اس لئے وہ ہدایت کے نور سے محروم رہ کر گمراہیوں کی تاریکیوں میں ہی بھٹکتے رہتے ہیں۔ " اور ہم نے ان کے برے اعمال کو ان کے لئے مزین کردیا " کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا قانون یہ ہے کہ جو شخص ہدایت سے منہ موڑے گا وہ اس سے اسی طرح محروم رہ جائے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور جب کسی کے برے اعمال کو اس کے لیے مزین کردیا جاتا ہے تو وہ انہی کو اچھا سمجھ کر ان میں مشغول ہوجاتا ہے اور اس کو حق و ہدایت کی طرف رجوع کی توفیق بھی نہیں ملتی جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو برے اعمال کو اچھا سمجھنا ایک نقد اور فوری سزا ہے جو دستور خداوندی کے مطابق ایسے لوگوں کو ملتی ہے۔ اور اس کے باعث وہ نور حق و ہدایت سے محروم اور دور سے دور تر ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 27:5–66 قرآن حکیم کی عظمت شان کے ایک اہم پہلو کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا یہ قرآن آپ پر بڑی ہی حکیم وعلیم ذات کی طرف سے اتارا جا رہا ہے "۔ جس کی نہ حکمت بےپایاں کا کوئی کنارہ و انتہاء اور نہ اس کے علم کی کوئی حد و نہایت۔ پھر اس کی طرف سے عطا فرمائے جانے والے اس قرآن حکیم کی عظمتوں کا کیا ٹھکانا۔ اس لئے آپ منکرین کی پرواہ کئے بغیر اپنا کام جاری رکھیں اور نظر ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک کی رحمتوں عنایتوں اور کرم فرمائیوں پر رکھیں۔ اور ان محروم القسمت لوگوں کی کرتوتوں کی پرواہ مت کریں۔ جس ذات نے آپ پر یہ قرآن اتارا ہے وہ آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ اور جب اس کی نصرت و عنایت اور امداد و حمایت آپ کو حاصل ہے تو پھر آپ کو کسی کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے۔ وہ ہر قدم پر آپکی نصرت فرمائیگی اور آپکو منزل مقصود تک پہنچا دے گی۔ سو اس ارشاد سے جہاں ایک طرف قرآن حکیم کی بےپایاں عظمت شان کے ایک اہم پہلو کو اجاگر فرمایا گیا ہے وہیں دوسری طرف اس میں پیغمبر کے لیے تسلیہ و تسکین کا عظیم الشان سامان بھی ہے ۔ والحمد للہ -
Ayah 27:77 سرگزشت موسیٰ کے ایک اہم حصے کی تذکیر و یاددہانی : سو یہاں سے حضرت موسیٰ کی سرگزشت کے اہم حصے کو سبق آموزی کیلئے ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ کی سرگزشت کے اس حصے کو یاد کرو کہ جب انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ مجھے ایک آگ سی نظر آرہی ہے۔ میں جاتا ہوں تاکہ میں وہاں سے تمہارے لیے کوئی خبر لے آؤں یا کوئی انگارہ اٹھا لاؤں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔ یعنی اگر وہاں کوئی آدمی مل گیا تو اس سے راستہ کے بارے میں معلومات حاصل کرسکوں گا۔ نہیں تو کم از کم آگ کا کوئی انگارا ہی لے آؤں گا تاکہ تم آگ سینک سکو۔ بہرکیف یہاں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کا بیان شروع ہو رہا ہے کہ اس میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ اس میں حضور ﷺ کیلئے سامان تسکین وتسلیہ بھی ہے اور مخالفین کیلئے عبرت و بصیرت بھی۔ لیکن یہ ان کے لیے ہے جو اس کے طالب و متلاشی ہوں۔
Ayah 27:88 حضرت موسیٰ کیلئے صدائے خیر و برکت : یعنی حضرت موسیٰ جب وہاں پہنچے تو انکو آواز آئی کہ " برکت ہو اس پر جو آگ کے اندر ہے اور اس پر بھی جو آگ کے پاس ہے "۔ " جو آگ کے اندر ہے "، یعنی فرشتے۔ اور " جو آگ کے پاس ہے " یعنی موسیٰ ۔ اور بعض نے اس کے برعکس کہا ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی صورت ہو بہرحال یہ امر قطعی ہے کہ اللہ پاک کی ذات بےہمتا جس کے نور مطلق کی یہ ایک تجلی تھی وہ خود اس میں نہیں تھی کہ وہ بےمثال ذات ایسی تمام حدود وقیود سے پاک اور وراء الوراء ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی لئے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا گیا ۔ { وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ } ۔ یعنی اللہ اس سے پاک ہے کہ کوئی مخلوق یا کوئی زمان و مکان اس کا احاطہ کرسکے۔ (المراغی، المحاسن، جلالین، مدارک اور خازن وغیرہ) ۔ بہرکیف وہاں پہنچنے پر حضرت موسیٰ کو اس صدائے خیر و برکت سے نوازا گیا اور شرف نبوت سے مشرف و سرفراز فرمایا گیا۔ سو اس سے یہ امر واضح فرما دیا گیا کہ شرف نبوت خالصتاً خداوند قدوس کا ایک عطیہ اور احسان ہوتا ہے۔ اس میں بندے کے کسی کسب و عمل کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ بلکہ نبوت سے پہلے پیغمبر کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی۔ جیسا کہ اس قصہ سے آشکارا وعیاں ہے۔
Ayahs 27:9–109 حضرت موسیٰ کا اپنی لاٹھی سے بھاگنا اور اس میں درسہائے عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب موسیٰ نے اللہ کے حکم وارشاد پر اپنی لاٹھی کو زمین پر پھینک دیا اور دیکھا کہ وہ یکایک اس طرح بل کھا رہی ہے جیسے وہ کوئی سانپ ہو۔ تو اس سے موسیٰ مارے خوف کے اس طرح بھاگ کھڑے ہوئے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موسیٰ ڈرو مت کہ ہمارے یہاں رسول ڈرا نہیں کرتے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ نہ تو معجزہ نبی کے اختیار میں ہوتا ہے اور نہ ہی وہ عالم الغیب ہوتا ہے اور نہ ہی مختار کل۔ ورنہ حضرت موسیٰ اس موقعہ پر اپنے عصا کے اس انقلاب کی بناء پر اس طرح خوف نہ کھاتے۔ اور جب معجزہ نبی کے اختیار میں نہیں ہوتا تو کرامت بزرگ اور ولی کے اختیار میں کس طرح ہوسکتی ہے ؟ بلکہ جب تک خداوند قدوس کی طرف سے ان کو آگاہ نہ کیا جائے ان کو اس کی حقیقت کا علم تک نہیں ہوتا۔ جیسا کہ یہاں پر آپ دیکھ رہے ہیں کہ حضرت موسیٰ کو اس وقت تک حقیقت حال کا پتہ نہ چل سکا جب تک کہ خدائے پاک نے انہیں خود نہیں بتادیا۔ حالانکہ یہاں قصہ خود حضرت موسیٰ کی اپنی اس لاٹھی کا ہے جو آپ (علیہ السلام) کے اپنے ہاتھ میں تھی۔ اور آپ (علیہ السلام) اللہ کے پیغمبر اور اولوا العزم رسول تھے ۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام ۔ اور جب حضرت موسیٰ جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر بھی غیب کا علم نہیں رکھتے تو کسی بزرگ و ولی کی یہ ہستی کیسے اور کہاں ہوسکتی ہے کہ وہ غیب کا علم رکھتا ہو ؟۔ سو کس قدر بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ بزرگوں کو اپنی قبروں میں بیٹھے ہوئے پرندوں کے بارے میں یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ وہ نر ہے یا مادہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف جب حضرت موسیٰ اپنی لاٹھی کو سانپ کی شکل میں دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ہمت بھی نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہایت دلنواز آواز میں تسلی دی گئی کہ ڈرو نہیں کہ میرے یہاں رسول ڈرا نہیں کرتے۔ پس آپ اے موسیٰ اس سے ڈرو نہیں کہ اس میں خوف اور خطرے کی کوئی بات نہیں بلکہ یہ ایک معجزہ ہے جو آپ کے ہاتھ پر اس طرح ظاہر کیا گیا ہے ۔ علی نبینا وعلیہ افضل الصلوات واتم التسلیمات -
Ayah 27:1110 توبہ سے خطاؤں کی بخشش کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے ظلم کیا لیکن اس کے بعد اس نے برائی کو اچھائی سے بدل دیاتو یقینا میں بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہوں "۔ سو جب ہمارا قانون عام یہ ہے تو پھر آپ کے کیا کہنے کہ آپ کا تو قصہ ہی اور ہے۔ پھر خوف کا ہے کا ؟ اللہ تعالیٰ کے نیک اور سلیم الفطرت بندوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب ان کو کسی اندیشے کی کوئی صورت پیش آتی ہے تو ان کا ذہن فوراً اپنی کسی غلطی اور خطاء کی طرف جاتا ہے کہ کہیں یہ اسی غلطی اور خطا کا نتیجہ اور خمیازہ نہ ہو۔ اس لیے ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ کا ذہن اس موقعہ پر قبطی کے قتل کے اس واقعے کی طرف منتقل ہوا ہو جو شروع میں بطور خطا آپ سے سرزد ہوگیا تھا۔ اگرچہ آپ نے اس پر اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ بھی کرلی تھی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی وہ توبہ قبول بھی فرما لی تھی۔ لیکن حضرات انبیاء و رسل اور صالحین کی طبیعتیں چونکہ اس بارے بڑی حساس ہوتی ہیں اور اپنے محاسبے کیلئے یہ حضرات بڑے محتاط ہوتے ہیں اس لیے آپ کا ذہن اس طرف منتقل گیا ہو تو اس بنا پر آپ کو اس بشارت سے نوازا گیا۔ بہرکیف اس سے توبہ کی عظمت شان واضح ہوجاتی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
11 اللہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک میں بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہوں "۔ پس ہمارے یہاں سے صرف بخشش ہی نہیں ہوتی بلکہ اس سے بڑھ کر مزید رحمتوں سے بھی نوازا جاتا ہے ۔ فَاغْفِرْلِیْ وَارْحَمْنِی یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَیَا اَکْرم الاْکرِمِیْنَ ۔ بہرکیف اس سے حضرت موسیٰ کو یہ اطمینان دلایا گیا کہ جو کوئی خطا و قصور کے سرزد ہوجانے کے بعد سچے دل سے توبہ کرتا ہے میں اس کی خطا و قصور کو معاف کردیتا ہوں کہ میں بڑا غفور و رحیم ہوں۔ اور اس بات کو یہاں پر عام صیغے میں بیان فرما کر اس کے فیض کو ہمہ گیر کردیا گیا کہ یہ معاملہ صرف تمہارے ہی لیے خاص نہیں بلکہ میں ہر بندے کے ساتھ یہی معاملہ کرتا ہوں۔
Ayah 27:1212 حضرت موسیٰ کیلئے یدِبیضا کا دوسرا عظیم الشان معجزہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے موسیٰ سے کہا کہ تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی بیماری کے "۔ یعنی ایسا نہیں جیسا کہ برص وغیرہ کسی بیماری کی وجہ سے ہوجاتا ہے بلکہ یہ تو ہماری طرف سے ایک خاص عنایت، اِعزاز و اکرام اور معجزئہ وبرہان کے طور پر ہے۔ اور پھر اس میں کسی بیماری و عیب یا تکلیف کا کوئی سوال کس طرح پیدا ہوسکتا ہے ۔ { مِنْ غَیْرِ سُوْئٍ } ۔ کے عموم میں یہ سب ہی کچھ داخل ہے کہ نکرہ تحت النفی عموم و شمول کا فائدہ دیتا ہے۔ بہرکیف یدبیضا کا یہ معجزہ دوسرا بڑا معجزہ تھا جس سے حضرت موسیٰ کو معجزئہ عصا کے بعد نوازا گیا۔ اور یہ من جملہ ان نو نشانیوں کے ہے جن سے آنجناب کو نوازا گیا تھا کہ ان سے مسلح ہو کر جاؤ فرعون کے پاس تبلیغِ حق کے لیے۔ اور اس طرح پوری قوت سے اس کے سامنے کلمہ حق پیش کرو۔
13 موسیٰ کو فرعون کی طرف جانے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان معجزات سے لیس ہو کر جاؤ فرعون اور اس کی قوم کی طرف کہ وہ بڑے ہی بدکردار لوگ ہیں "۔ کہ کفر و شرک سے بڑھ کر وہ خدائی کے دعوے کرتے ہیں۔ اور بنی اسرائیل پر طرح طرح کے مظالم بھی ڈھاتے ہیں۔ اور وہ راہ حق و ہدایت سے اس قدر دور اور ایسے محروم ہوچکے ہیں کہ کہیں وہ لوگ فرعون کو خطاب کرکے کہتے ہیں ۔ { یَذَرَکَ وَاٰلِہَتَکَ } ۔ یعنی کیا آپ موسیٰ کو اسی طرح ڈھیل دیئے جائیں گے کہ یہ آپ کو اور آپ کے معبودوں کو چھوڑ دے ؟ جس سے ان کے شرک و بت پرستی کا ثبوت ملتا ہے۔ تو کہیں اس کا نعرہ ہے ۔ { اَنَا رَبُّکُمْ الَاعْلٰی } ۔ جس سے ان کے خدائی دعو وں کا پتہ چلتا ہے۔ اور اس پر مزید یہ کہ خدائی نشانوں اور پیغمبر کے معجزوں کو کھلا جادو قرار دیا جا رہا ہے وغیر ذالک۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت موسیٰ کو نو نشانیوں سے مسلح فرما کر حکم دیا گیا کہ اب جاؤ فرعون اور اس کی قوم کے پاس اور ان کو ان کے ظلم بد اور کردارِ بد سے خبردار کردو کہ وہ بڑے ہی بگڑے اور بدکردار لوگ ہیں۔ شروع میں حضرت موسیٰ کو عصا اور یدبیضا کی ان دو نشانیوں سے نوازا گیا جو کہ اصل ہیں۔ اور باقی نشانیاں دراصل انہی سے متفرع اور انہی کا نتیجہ ہیں۔ اور یہ سب معجزات آنجناب کی صداقت و حقانیت کے واضح دلائل وبراہین تھے۔
Ayahs 27:13–1414 فرعونیوں کی طرف سے موسیٰ کے معجزات کا انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے ان معجزات کا انکار کردیا جبکہ ان کے دل ان کی صداقت و حقانیت کا یقین کرچکے تھے۔ سو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تعصب وعناد، ظلم وتکبر اور عناد و ہٹ دھرمی وغیرہ کس قدر بری چیزیں ہیں کہ حق کے پوری طرح واضح ہوجانے کے باوجود انسان کو اس سے محروم کردیتی ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ محض دل سے ماننا اور یقین کرلینا کافی نہیں جب تک کہ زبان سے بھی اس کا اقرار و اعلان نہ ہو۔ بہرکیف فرعونیوں نے حضرت موسیٰ کے ان معجزات کا جانتے بوجھتے اور دل میں انکو حق سمجھنے کے باوجود ان کا انکار کردیا۔ محض ظلم اور تکبر کی بنا پر۔ ظلم سے مراد یہ ہے کہ وہ دوسروں کے حق مار کھانے کے عادی ہوگئے تھے۔ اس لیے اس سے وہ کسی قیمت پر دست بردار ہونے کو تیار نہیں تھے۔ اور دینی تعلیمات ان پر جو قدغنیں عائد کرتی تھیں انکو یہ لوگ ماننے کیلئے تیار نہ تھے۔ اور غلو سے مراد یہ ہے کہ انکے اندر کبر و غرور کا مرض ایسا پکا ہوگیا تھا کہ یہ حق بات کو ماننے اور کسی بڑے سے بڑے حق کے آگے جھکنے کیلئے تیار نہیں ہوتے تھے۔ سو ایسے مفسدین کا انجام ہولناک تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 27:1515 داؤد و سلیمان کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم نے داؤد اور سلیمن کو بھی ایک عظیم الشان علم بخشا "۔ تنوین یہاں پر تعظیم کے لئے ہے۔ یعنی ایک عظیم الشان علم۔ اور حضرت داؤد اور سلیمٰن (علیہ السلام) کو نبوت اور حکومت و جہانبانی دونوں کا علم بخشا گیا تھا۔ چناچہ ان حضرات کی حکمرانی بھی اپنی مثال آپ تھی اور دیگر کئی عظیم الشان خصوصیات سے بھی ان کو نوازا گیا تھا۔ (ابن کثیر، مراغی وغیرہ) ۔ سو اس علم کی بنا پر انہوں نے ایک عظیم الشان سلطنت قائم کی۔ سو ان دونوں حضرات کو جس عظیم الشان علم سے نوازا گیا تھا اس میں حکمت و معرفت کا وہ علم بھی شامل تھا جس کا مظہر اور نمونہ " زبور " اور " امثال " ہیں۔ اور اس میں سائنس کا وہ معجزانہ علم بھی شامل تھا جس کی بنا پر انہوں نے بحری اور بری قوت کے اعتبار سے اپنے زمانے کی سب سے زیادہ مضبوط اور طاقتور سلطنت قائم کی تھی۔ اور انہوں نے دین و دنیا کے اجتماع اور بادشاہی میں فقیری اور انابت و رجوع الی اللہ کی ایسی عظیم الشان مثال قائم کی تھی جس کا دوسرا کوئی نمونہ اس سے پہلے کہیں مل سکا تھا اور انہ اس کے بعد ۔ والحمد للہ رب العالمین -
16 شکر نعمت کا درس اور نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نعمت علم سے سرفرازی کی بعد ان دونوں حضرات نے فرمایا کہ " شکر اس اللہ کا جس نے ہمیں فضیلت ۔ و بزرگی ۔ بخشی ہے اپنے بہت سے ایماندار بندوں پر "۔ بہت سے مومن بندوں پر نہ کہ سب پر۔ کہ سب پر فضیلت و بزرگی تو اس واہب مطلق نے اپنے ایک ہی بندے کو بخشی ہے۔ جس کو " عَبْدِہٖ "، " عَبْدِنَا " اور " عَبْدُ اللّٰہ " کی خصوصی اضافت و نسبت سے اس کتاب حکیم میں جا بجا ذکر اور یاد فرمایا گیا تھا۔ اور وہ بندہ خاص اور عبد کامل ہیں حضرت محمد رسول اللہ ۔ ﷺ ۔ پھر حضرت داؤد و سلیمٰن کا یہ کہنا بھی فخر کے طور پر نہیں تھا بلکہ شکر خداوندی اور تحدیث نعمت کے طور پر تھا۔ جیسا کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی شان اور ان کا طرہ امتیاز ہوتا ہے۔ اور جو کہ بندوں سے مطلوب ہے۔ سو یہ ہوتی ہے اللہ والوں کی شان کہ اتنی بڑی سلطنت کے باوجود ان کے اندر کوئی گھمنڈ نہیں پیدا ہوا۔ بلکہ اس کو اللہ تعالیٰ کا کرم و احسان سمجھ کر اسی کے شکر سے رطب اللسان ہوگئے ۔ علی نبینا وعلیہما الصلاۃ والسلام -
Ayah 27:1617 میراث داؤدی کا ذکر اور اس سے مقصود ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا " اور وارث بنے سلیمٰن داؤد کے "۔ اور یہ وراثت مال و دولت کی نہیں بلکہ علم و حکمت کی وراثت تھی۔ کیونکہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی بلکہ وہ صدقہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا گیا ہے ۔ " نحن معشر الانبیاء لا نَرِث وَلَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنا فہو صدقۃ " ۔ سو انبیائے کرام کی اصل دولت علم ہوتی ہے نہ کہ مال۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ اِنَّمَا وَرَّثُوْا الْعِلْمَ فَمَنْ اَخَذَہ بَحَظٍّ وَافِرٍ ۔ اور یہاں اس وراثت سے وراثت مال مراد نہ ہونے کا ایک واضح قرینہ یہ بھی ہے کہ حضرت داؤد کے روایات کے مطابق اٹھارہ بیٹے تھے۔ اور ظاہر ہے کہ اگر یہاں مال و دولت کی وراثت مراد ہوتی تو آپ (علیہ السلام) کے دوسرے بیٹوں کا بھی ذکر ہوتا نہ کہ صرف حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) کا کہ اس میراث کا حصہ سب کو برابر ملتا نہ کہ اکیلے کسی ایک بیٹے کو۔ اس لئے جمہور علماء و مفسرین کرام کے نزدیک یہاں پر وراثت سے مراد علم و حکمت اور حکومت و سلطنت کی وراثت ہے۔ (ابن کثیر، روح، مراغی، صفوۃ، خازن، اور مدارک وغیرہ) ۔ سو حضرت داؤد کی میراث علم و حکمت حضرت سلیمان ہی کو ملی۔ جو ایک عظیم الشان اور بےمثال میراث ہے۔
18 اللہ کی نعمتوں کا ذکر تحدیث و شکر نعمت کی غرض سے : سو حضرت سلیمان نے کہا " اے لوگو ہمیں پرندوں کی بولی کا علم عطا فرمایا گیا اور ہمیں ہر چیز عطاء فرمائی گئی "۔ یعنی آپ (علیہ السلام) کو ہر اس ساز و سامان سے نوازا گیا تھا جس کی آپ (علیہ السلام) کو اپنی شان نبوت اپنی گزران اور اپنے نظام حکومت کو چلانے کے لئے ضرورت تھی۔ یعنی " کل " سے مراد یہاں پر مطلق عموم و استغراق نہیں بلکہ وہ کثرت وبہتات ہے جس کی آپ کو ضرورت تھی۔ اور یہ ایک عام عقلی اور فطری امر ہے جسکی مثالیں ہر زبان میں پائی جاتی ہیں۔ جیسے اردو میں کہتے ہیں کہ " فلاں شخص کو ہر کوئی چاہتا ہے " یا " اس کو ہر کوئی جانتا مانتا ہے " یا " وہ ہر جگہ حاضر و موجود ہوتا ہے " وغیرہ وغیرہ۔ تو ظاہر ہے کہ اس سے مراد یہ نہیں ہوتا کہ اس کو دنیا کا ہر شخص چاہتا ہے یا اس کو دنیا کا ہر کوئی جانتا ہے۔ یا وہ دنیا بھر کی سب چیزوں کو جانتا ہے یا وہ پوری روئے زمین پر ہر جگہ موجود ہوتا ہے وغیرہ۔ بلکہ اس کا تعلق خاص کسی حلقے اور دائرے سے ہوتا ہے۔ سو ایسے ہی یہاں بھی ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے ۔ " عُمُوْمُ کُلِّ شَیْئٍ مَا یُنَاسِبُہ " ۔ یعنی ہر چیز کے عموم سے وہی معنیٰ و مفہوم مراد ہوتا ہے جو اس کے مناسب ہوتا ہے۔ (روح، ابن کثیر، مدارک، خازن، صفوۃ وغیرہ) ۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوگیا کہ اہل بدعت جو اس طرح کے عمومی کلمات کے عموم سے علم غیب کلی وغیرہ جیسے اپنے شرکیہ عقائد کیلئے استدلال کرتے ہیں وہ باطل و مردود ہے کہ ایسے کل سے مراد استغراق کلی نہیں ہوتا۔ بلکہ وہی ہوتا ہے جو اس موقع و محل کے مناسب ہوتا ہے۔
Ayahs 27:17–1819 چیونٹی کا دوسری چیونٹیوں سے سبق آموز خطاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ تم سب اپنے بلوں میں گھس جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تم کو روند ڈالے جبکہ ان کو اس کی خبر بھی نہ ہو "۔ سو اگر طبیعت صحیح اور مزاج درست ہو تو حقیقت ہر کسی کو واضح نظر آتی ہے۔ ورنہ بڑی بڑی عقلوں پر بھی پردے پڑجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو چیونٹی جیسی ایک چھوٹی اور ننھی منھی سی مخلوق بھی یہ جانتی اور مانتی ہے کہ نہ نبی غیب جانتا ہے نہ اس کے ساتھی اور صحابی۔ چناچہ وہ نصِّ قرآنی کے مطابق صاف اور صریح طور پر دوسری چیونٹیوں سے کہتی ہے کہ تم اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کے ساتھ کے لشکر تمہیں روند ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔ لیکن جب باطن میں خبث و فساد اور نیت میں خرابی وبگاڑ ہو تو عقل و خرد رکھنے والے ڈھاٹی ڈھائی من کے بڑے چیونٹوں کو بھی یہ بات سمجھ نہیں آتی اور وہ کہتے ہیں کہ نبی عالم غیب اور ما کان و مَا یَکُوْنُ کا عالم ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف چیونٹی کے اس خطاب میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔
Ayahs 27:19–2021 حضرت سلیمان کا اپنی فضائی فوج کا جائزہ اور ہدہد کا قصہ عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایک موقعہ پر سلیمان نے پرندوں کی اپنی فضائی فوج کا جائزہ لیا تو فرمایا کہ کیا بات ہے کہ ہدہد نظر نہیں آ رہا۔ وہ کہیں غائب تو نہیں ۔ سبحان اللہ ۔ اللہ ۔ جل جلالہ ۔ دکھانے پہ آئے تو عالم بالا کے حقائق تک دکھا دے۔ اور نہ دکھائے تو یہ بھی پتہ نہیں کہ ہدہد یہاں موجود ہے یا کہیں غائب ہے۔ سو اصل بات یہ ہے کہ معاملہ سب کا سب اللہ پاک ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ بہرکیف حضرت سلیمن نے جب اپنی فضائی فوج ۔ پرندوں کی فوج۔ کا جائزہ لیا تو ہدہد کو وہاں پر موجود نہ پاکر فرمایا کہ " کیا بات ہے مجھے ہدہد کہیں نظر نہیں آرہا " ؟۔ کیا وہ یہیں کہیں موجود ہے اور نظروں سے اوجھل ہے یا کہیں غائب ہے۔ سو وہ اپنی اس غیر حاضری کیلئے کوئی معقول عذر پیش کرے، ورنہ میں اس کو کوئی سخت سزا دونگا یا اس کو ذبح کرڈالونگا،۔ سلطان مبین سے یہاں پر مراد ایسی واضح دلیل اور حجت ہے جس سے ہدہد کی غیر حاضری کا جواز ثابت ہوجائے ورنہ اس کو اپنی غیر حاضری کی سزا بھگتنا ہوگی۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ حضرت سلیمان کی فوج میں باقاعدہ تربیت یافتہ پرندوں کی فوج بھی شامل تھی جس سے وہ پیغام رسانی، سراغ رسانی اور دریافت احوال جیسی مہمات میں کام لیتے تھے اور آپ چونکہ پرندوں کی بولی بھی سمجھتے تھے اس لیے آپ موجودہ دور کے سائنسدانوں سے کہیں زیادہ بہتر طریقے سے اور اعلی پیمانے پر کام لیتے تھے۔ پیغام رسانی اور دریافت احوال وغیرہ کے سلسلے میں پرندوں سے کام لینے کا طریقہ موجودہ زمانے میں بھی موجود ہے اور قدیم زمانے میں بھی پایا جاتا تھا۔ سو پرندوں کی تربیت کا فن بہت قدیم ہے اور کبوتر کی نامہ بری تو ضرب المثل کی حد تک مشہور ہے۔ بہرکیف حضرت سلیمان نے ہدہد کے بارے میں اس طرح کا اظہار کیا۔
Ayahs 27:21–2222 ہدہد کا جواب اور اس میں موجود اہم درسہائے عبرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہدہد نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں وہ کچھ لایا ہوں جس کے علم کا احاطہ جناب بھی نہیں کرسکے۔ سو اس سے بھی اوپر والی بات کی تاکید ہو رہی ہے کہ معاملہ سب کا سب اللہ پاک ہی کے ہاتھ میں ہے۔ پیغمبر کو وہی کچھ معلوم ہوتا ہے جو اس کو اللہ پاک کی طرف سے بتایا جاتا ہے اور بس ۔ سبحان اللہ ۔ ایک پرندہ حضرت سلیمٰن (علیہ السلام) جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر سے کہہ رہا ہے کہ میں آپ کے پاس ایسی معلومات لایا ہوں جو آپ کے علم میں بھی نہیں۔ اور آگے حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) اس کو روکنے ٹوکنے کی یا اس کی کوئی تغلیط و تکذیب کرنے کی بجائے یہ کہتے ہیں کہ ہم دیکھتے اور پتہ کرتے ہیں کہ تم نے سچ کہا ہے یا جھوٹ۔ حالانکہ حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) کی حکومت بحر احمر کے اس سرے پر فلسطین میں قائم ہے جبکہ ملکہ سباء کی حکومت اسی بحر احمر کے اس کنارے پر یمن میں قائم ہے۔ لیکن حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) اس کو نہیں جانتے۔ سو اس سے ایک بات تو یہ واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتا ہے نہ ہر جگہ حاضر و ناظر۔ اور دوسری بات یہ بھی واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) کی حکمرانی کے بارے میں لوگوں نے جو زمین و آسمان کے قلابے ملائے ہیں وہ بھی صحیح نہیں۔ سو ہدہد کے اس جواب کا مطلب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ حضرت سلیمان قوم سبا اور ان کی حکومت سے بالکل ہی بیخبر تھے کہ حضرت سلیمان کا بحری بیڑہ تو دور دور تک کے ممالک تک سفر کرتا تھا۔ بلکہ ہدہد کے اس جواب کا اصل مطلب یہ تھا کہ میں جناب کے پاس اس ملک اور اس قوم کے بارے میں وہ تازہ اور تفصیلی رپورٹ لایا ہوں جو جناب کے علم میں نہیں۔ سو پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں اور نہ مختار کل ۔ علیہم الصلاۃ والسلام -
Ayah 27:2323{ اُوْتِیَتْ مِنْ کلِّ شیئٍ } کا مطلب ؟ : یعنی اس عورت کو ہر وہ چیز دی گئی جس کی اس کو ضرورت تھی۔ ورنہ ملک یمن کی حکومت کے سوا اس عورت کے پاس نہ تو کوئی اور حکومت تھی اور نہ ہی رجولیت۔ نبوت اور اسلام جیسی عظیم الشان نعمتوں میں سے کوئی نعمت اسے حاصل تھی۔ اسی لئے حضرات اہل علم کہتے ہیں ۔ " عُمُوْمُ کُلِّ شَیْئٍ حَسَبَ طَبِیْعَتِہٖ " ۔ یعنی " ہر چیز کا عموم وہی معتبر ہوتا ہے جو اس کی طبیعت اور شان کے مناسب ہو "۔ جیسا کہ اس کی کچھ مزید تفصیل ابھی اوپر حاشیہ نمبر 18 میں بھی گزری ہے۔ پس اہل بدعت جو لفظِ " کل " جیسے الفاظ کے عموم سے اپنے مختلف شرکیہ عقائد کیلئے استدلال کرتے ہیں وہ سب باطل و بےبنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ہدہد نے کہا کہ حکومت کو چلانے اور ملک و قوم کی رفاہیت و ترقی کے سلسلے میں جن ذرائع و وسائل کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب اس کو حاصل ہیں۔ اور ملکہ کی عظمت سے متعلق اس نے اپنی اس رپورٹ میں مزید کہا کہ اس کے پاس ایک بڑا عظیم الشان تخت بھی ہے ۔ { وَلَہَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ } ۔ سو کل شیء سے یہی مراد ہے۔
Ayah 27:2424 شیطان نے ان کیلئے ان کے اعمال کو خوشنما بنادیا ہے : جس کے باعث ان کو اپنی برائیاں بھی اچھائیاں نظر آرہی تھیں۔ اور یہی حال ہر باطل پرست کا ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ وہ اپنے باطل کو ہی حق سمجھتا ہے۔ اس لئے وہ حق کی طلب و تلاش سے محروم اور لاپرواہ ہوجاتا ہے۔ پھر وہ راہ حق پائے تو کس طرح پائے ؟ جیسا کہ آپ آج کل کے اہل بدعت اور دوسرے باطل پرستوں کا حال ہے۔ اور شیطنٰ کی اس تزیین اور دھوکہ دہی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو عام اور کھلی حقیقت ہدہد جیسے پرندے کو بھی فوری طور پر اور اپنی پہلی ہی نظر میں معلوم ہوگئی وہ بگڑے ہوئے انسان کو بڑی بحث کے بعد بھی نہیں معلوم ہوتی۔ بلکہ وہ الٹا اپنی اسی گمراہی کو حق اور صدق ثابت کرنے کیلئے زور لگانے اور دلائل پیش کرنے لگتا ہے ۔ والعیاذ اللہ العظیم من کل سُوئٍ انحراف وّزیْغٍ وَ ضَلَال ۔ بہرکیف ہدہد نے اپنی رپورٹ میں اس قوم کی مذہبی اور اخلاقی حالت کے بارے میں بتایا کہ یہ لوگ مشرک ہیں سورج کی پوجا کرتے ہیں۔ اور شیطان نے ان کی آفتاب پرستی اور ان کے اس شرک کو ان کے لیے ایسا مزین اور خوشنما بنادیا کہ یہ لوگ اپنی اس کفر و شرک ہی کو درست سمجھتے ہیں۔ اور توحید اور خدا پرستی کی راہ ان کو سجھائی ہی نہیں دے رہی اور یہی نتیجہ ہوتا ہے خبث باطن، مت ماری اور برے ماحول کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 27:25–2625 کائنات کی گواہی خالق کی وحدانیت پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی بھی معبود نہیں۔ اور وہ مالک ہے عرش عظیم کا۔ یہاں تک کے اس کلام کے بارے میں یہ بھی احتمال ہے کہ یہ اللہ پاک نے اپنی طرف سے ہدہد کے کلام پر اضافہ کرتے ہوئے فرمایا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ہدہد کے کلام کا ہی تتمہ ہو۔ اور اللہ پاک اپنی قدرت کے اظہار کے لئے ایک پرندے کی زبان سے ایسی معقول باتیں کرانے پر پوری طرح قادر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف آسمان و زمین کی یہ پوری کائنات اس خالق ومالک کی عظمت شان اور اس کی وحدانیت مطلقہ کی گواہی دے رہی ہے۔ اور یہ پوری کائنات اور اس کے اندر موجود ہر چیز اپنی زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اس کا خالق یکتا اور وحدہ لاشریک ہے۔ تو پھر اس سب کے باوجود یہ لوگ شرک کیوں کرتے ہیں۔ اور اسی وحدہ لاشریک کے حضور کیوں نہیں جھکتے جس نے حکمتوں اور عجائب بھری اس کائنات کو وجود بخشا۔ اور جو زمین و آسمان کی تمام مخفی چیزوں کو بےنقاب کرتا ہے۔ سو معبود برحق وہی وحدہ لا شریک ہے۔ اور ہر قسم کی عبادت و بندگی کا حقدار بھی وہی وحدہ لاشریک ہے جو مالک ہے اس عرش عظیم کا جو آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات پر حاوی و محیط ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayahs 27:27–2826 سلیمان کا خط ملکہ سبا کے لیے ہدہد کو پرکھنے کی غرض سے : سو حضرت سلیمان نے ہدہد سے فرمایا کہ ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو یا جھوٹے۔ سو تم میرا یہ خط لے جاؤ اس کو ان کے آگے ڈال دو اور پھر ان سے ذرا ہٹ کر دیکھنا کہ وہ کیا ردِّعمل ظاہر کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ بات آداب کے خلاف ہے کہ خط دینے کے بعد تم ان کے سر پر کھڑے رہو ۔ سبحان اللہ ۔ کس طرح ایسے باریک آداب کی رعایت رکھی گئی ہے جس سے آج بھی بہت سی دنیا غافل و بیخبر ہے اور بڑے بڑے تیس مار خان بھی ان سے محروم ہیں۔ بہرکیف حضرت سلیمن نے ہدہد کو یہ ہدایت فرمائی کہ تم یہ خط لے جاکر ان تک پہنچا دو اور پھر ان سے ذرا ہٹ کر دیکھنا کہ وہ کیا ردِّعمل ظاہر کرتے ہیں۔ چناچہ اس نے ایسے ہی کیا۔ روایات کے مطابق جب وہ خط لیکر وہاں پہنچا تو اس وقت ملکہ سو رہی تھی۔ اس نے ایک دریچے میں داخل ہو کر وہ خط اس کے سینے پر رکھ دیا اور حسب ہدایت خود ایک طرف ہوگیا۔ ملکہ نے بیدار ہونے پر جب اس کو سربمہر دیکھا تو حیرت زدہ ہو کر رہ گئی اور خوف میں مبتلا ہوگئی۔ اور پھر خط کو پڑھنے کے بعد اپنے درباریوں کی میٹنگ بلائی جس میں اس بارے صلاح مشورہ کیا گیا۔ (ابن کثیر، المعارف، المراغی وغیرہ) ۔
Ayah 27:2927 مکتوب سلیمانی کی عظمت شان : سو ملکہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ میری طرف ایک عظیم الشان خط ڈالا گیا ہے۔ بیان اہمیت و عظمت واضح ہو کہ اول تو کتاب کو نکرہ لایا گیا پھر اس پر تنوین تعظیم کی۔ اور پھر کریم کی صفت بھی۔ یعنی تاکید در تاکید۔ اور یہ اس لئے کہ ایسا رعب و جلال والا اور اس قدر مختصر و موثر خط جو اللہ پاک کے نام مبارک سے شروع کیا گیا ہو اور اس میں بغیر کسی لاگ لپٹ کے صاف وصریح طور پر ایسا سخت حکم دیا گیا ہو اپنی نوعیت کا یہ ایک یکتا و واحد اور منفرد خط تھا۔ اور شاید ہی کبھی کسی حکمران نے کسی دوسرے حکمران کو اس طرح کا کوئی خط لکھا ہو۔ بہرکیف اس سے یہ بات ایک مرتبہ پھر واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں اور نہ ہر جگہ حاضر و ناظر۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ کیونکہ اگر ایسے ہوتا تو حضرت سلیمان کو نہ تو ہدہد کو نامہ و پیغام کے اس طرح ملکہ سبا کے پاس بھیجنے کی ضرورت ہوتی اور نہ ہی کہنے کی کہ ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تو نے سچ کہا یا تو جھوٹوں میں سے ہے۔ سو حضرات انبیاء و رسل عالم غیب نہیں ہوتے ۔ علیہم الصلاۃ والسلام -
Ayahs 27:30–3128 مکتوب سلیمانی کا اختصار اور اس کی جامعیت : سو مختصر ترین خط ہونے کے باوجود اس مکتوب گرامی کی عظمت شان اور جامعیت ملاحظہ ہو کہ اپنا صرف نام لکھا کہ یہ خط سلیٰمن (علیہ السلام) کی طرف سے ہے اور بس۔ نہ اپنی بےمثال بادشاہی و حکمرانی کا کوئی ذکر و تذکرہ اور نہ کسی طرح کی عظمت شان کی طرف کوئی اشارہ یا کوئی اظہار۔ بلکہ کمال عبدیت و بندگی کا بیان و اظہار اور اپنے خالق ومالک کے بابرکت نام اور اس کی توحید و وحدانیت کا ذکر و تذکرہ اور مکتوب الیہم کو یہ پر عظمت دعوت و پیغام کہ ہویٰ و ہوس کی پیروی ترک کر کے حق و ہدایت کی پیروی اختیار کرلو اور بےچون و چرا فرمان بردار بن کر حاضر ہوجاؤ۔ سبحان اللہ ۔ کیا کہنے اس شان عظمت و جامعیت اور اختصار کے۔ قدیم زمانے کے خطوط بالعموم اسی طرح مختصر اور " قلَّ و دلَّ " کی شان کے حامل اور اسی نوعیت کے ہوتے تھے۔ جیسا کہ حضور ﷺ کے نامہ ہائے مبارکہ سے بھی اسی کی شہادت ملتی ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت سلیمن کا خط قدرے مفصل اور طویل ہو مگر ملکہ نے اختصار کے ساتھ اس کے اسی حصے کا ذکر کیا ہو جس کا تعلق اس کے معاملہ سے تھا۔ یہاں پر اس خط کا یہ پہلو بھی ملاحظہ ہو کہ ملکہ کو اس طرح کسی ظاہری واسطے کے بغیر ملنے والے خط سے نہ کوئی تعجب ہوا نہ پریشانی۔ نہ اس کو اور نہ اس کے درباریوں کو۔ سو اس سے بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس زمانے میں پرندوں کے ذریعے خطوط بھیجنے اور بھجوانے کا طریقہ عام تھا۔ کم از کم بادشاہوں کے یہاں یہ طریقہ معروف تھا۔ اس لیے ان لوگوں نے اس طرح بغیر کسی ظاہری قاصد کے ملنے والے اس خط پر کسی قسم کے تعجب کا کوئی اظہار نہیں کیا ورنہ اس کا ذکر ضرور کیا جاتا۔ سو یہ عام رواج و معمول کے مطابق تھا۔
Ayahs 27:32–3329 درباریوں کا مشورہ اور ملکہ کو رائے : سو ان لوگوں نے ملکہ سے کہا کہ " ہم بڑے طاقتور اور جنگجو لوگ ہیں آگے آپ کی مرضی "۔ یعنی ہمارا کام رائے دینا نہیں، مرنا مارنا ہے۔ رائے قائم کرنا اور فیصلہ دینا تو آپ کا اپنا کام ہے۔ ہم تو بس حکم کے منتظر ہیں۔ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ کسی سے دبنے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں کہ ہم بڑے طاقتور اور سخت لڑنے والے جنگجو لوگ ہیں۔ ہمارے پاس وسائل جنگ بھی وافر مقدار میں موجود ہیں اور رجال کار کی بھی کوئی کمی نہیں۔ لہذ اگر جنگ کی نوبت آئی تو ہم حریف سے پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ سو { اولو قوۃ } سے انہوں نے اپنی عددی قوت و کثرت اور وسائلِ جنگ کی فراوانی کی طرف اشارہ کیا اور { اولوا باس شدید } سے اپنی جنگی مہارت و بصیرت اور جرات و بسالت کی طرف۔ اور جنگ میں یہی دو چیزیں درکار ہوتی ہیں۔ سو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ درباریوں کا رحجان جنگ کی طرف تھا اور اس طرح انہوں نے اپنا یہ رحجان مدلل طور پر ملکہ کے سامنے پیش کردیا۔ لیکن آگے حتمی فیصلے اور آخری رائے کا معاملہ اسی کے حوالے کردیا اور اس کو اس بارے پورا اختیار دے دیا گیا۔ اور یہی طریقہ ہوتا ہے دربار شاہی میں اپنی رائے پیش کرنے کا۔
Ayah 27:3430 ملکہ کا جواب اور جنگ سے احتراز کی پالیسی کا اظہار : یعنی اس نے واضح کردیا کہ لڑنا مرنا تو میری رائے میں درست نہیں کہ اس کا انجام ہولناک تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ کہ حکمران لوگ جب کسی ملک پر قبضہ کرتے ہیں تو اس کا نظام تہ وبالا کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اور اس کے عزت دار اور سربرآوردہ لوگوں کو ذلیل و خوار کردیتے ہیں۔ تاکہ وہ ان کے خلاف کوئی آواز اٹھانے کے قابل نہ رہے اور ان کا رعب اور دبدبہ دلوں پر چھا جائے۔ سو اگر جنگ کی صورت میں یہ لوگ غالب آگئے تو یہ بھی ہمارے ملک میں اور ہمارے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی کریں گے۔ اس لیے جنگ کی راہ کو اپنانا مجھے صحیح نہیں لگتا ہے کہ اس میں فساد و خرابی کا خدشہ و اندیشہ بہرحال زیادہ ہوتا ہے۔
Ayah 27:3531 ملکہ کا مصالحانہ رویہ اور ہدیہ بھیجنے کا فیصلہ : سو ملکہ نے کہا کہ میں فی الحال ان کی طرف ایک ہدیہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کا اس کا کیا جواب آتا ہے۔ اگر انہوں نے ہدیہ قبول کرلیا تو معلوم ہوجائے گا کہ یہ کوئی دنیا دار شخص ہے جسے دنیاوی لالچ سے راضی کر کے زیر کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر قبول نہ کیا تو معلوم ہوجائے گا کہ اس کا مطمح نظر دنیا نہیں عقیدئہ و دین ہے۔ ایسی صورت میں اس کا مقابلہ نہ ہم سے ہوسکتا ہے اور نہ ہمیں ایسا کرنے کے لئے سوچنا ہی چاہیئے کہ اس کا واسطہ مافوق الاسباب طاقت سے ہے۔ اور وہ یقیناً اللہ کا نبی ہے جس کی ہمیں پیروی کرنی چاہیئے۔ (صفوۃ، مراغی وغیرہ) ۔ اس ہدیے کی تفصیلات بعض تفسیری روایت میں بیان کی گئی ہیں اور ہمارے اہل بدعت جن کا گزارہ ہی ایسی واہی تباہی روایات پر ہوتا ہے وہ ان کو خوب مزے لے لے کر بیان کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ سب اسرائیلی روایات کے قبیل سے ہیں۔ اور ہم جیسا کہ امام رازی (رح) نے فرمایا ہے کہتے ہیں کہ جب قرآن حکیم نے اس کی کوئی تفصیل بیان نہیں فرمائی تو ہمیں بھی اس کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں۔ البتہ قرآن نے { ھدیۃ } کے لفظ نکرہ کے ذریعے واضح فرما دیا کہ وہ ہدیہ ایسا عظیم الشان ہوگا جو ان کی عظمت شان کے لائق ہوگا۔ قتادہ کہتے ہیں کہ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ملکہ سبا بڑی زیرک عورت تھی۔ روایات میں ہے کہ اس نے کہا کہ اگر سلیمان نے ہدیہ قبول کرلیا تو اس سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ ایک عام دنیاوی بادشاہ ہیں۔ لہذا تم ان سے لڑنا۔ اور اگر انہوں نے ہدیہ قبول نہ کیا تو اس سے واضح ہوجائے گا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ لہذا تم ان سے جنگ کرنے کی بجائے ان کی پیروی کرنا۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ بہرکیف اس سے اس کی سلامت روی اور عافیت بینی کا پتہ چلتا ہے کہ جنگ وجدال سے اجتناب واحتراز کی پالیسی ہی بہتری اور سلامتی کی راہ ہے۔
Ayah 27:3632 حضرت سلیمن کا ہدیہ قبول کرنے سے انکار : سو حضرت سلیمان نے اپنے جواب میں ان لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ مال کے ذریعے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ سو تم لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ مجھے تمہارے مال کی کوئی ضرورت نہیں۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو اس نے تم لوگوں کو دیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ دین و دنیا کی جن نعمتوں سے اللہ پاک نے حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) کو نوازا تھا ملکہ بلقیس کی محض دنیاوی کروفر کی اس کے مقابلے میں حیثیت ہی کیا تھی ؟۔ بہرکیف حضرت سلیمٰن نے ان کے ہدیہ کو قبول کرنے سے صاف انکار فرما دیا اور ان کو بتادیا کہ میرا مطالبہ تم لوگوں اور تمہاری ملکہ سے دنیاوی ساز و سامان اور مال و متاع کا نہیں کہ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے مجھے جس قدر نوازا ہے وہ تمہارے مال و متاع سے کہیں بڑھ کر ہے۔ بلکہ میرا مطالبہ تو تمہاری ملکہ اور تمہاری حکومت سے اطاعت و فرمانبرداری کا ہے کہ میرے پیش نظر اعلائے کلمتہ اللہ ہے۔ سو میں کوئی ایسا شخص نہیں ہوں کہ تمہارے ان تحفوں اور ہدیوں سے خوش ہو کر کفر و شرک کے اقتدار کو خدا کی زمین پر جائز تسلیم کرلوں۔ سو ایسی چیزوں سے تم ہی لوگ خوش ہوسکتے ہو کہ تمہارے نزدیک دنیا اور اس کے یہ دنیاوی مفادات ہی سب کچھ ہیں۔ جبکہ میرے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ کیونکہ میرے سامنے اصل مقصد خدا کی زمین میں خدا کی حکمرانی کا قیام ہے۔
Ayah 27:3733 حضرت سلیمان کی طرف سے فوج کشی کا فیصلہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت سلیمان کی طرف سے قوم سبا کیخلاف فوج کشی کا فیصلہ و اعلان کردیا گیا۔ سو حضرت سلیمان نے کہا کہ ہم اپنی فوج کے ذریعے انکو ذلیل کر کے وہاں سے نکالیں گے۔ یعنی اس طرح کہ حکومت و اقتدار سے بھی محرومی ہوگی اور قید و بند کی ذلتیں بھی اٹھانی پڑیں گی۔ اور کوئی ان کو اس انجام سے بچا نہ سکے گا اگر انہوں نے اطاعت و فرمانبرداری کا راستہ نہ اپنایا۔ سو ہمارے لشکر کا ان کی طرف سے کوئی مقابلہ نہیں ہوسکے گا اور ہم اپنی قوت بازو سے ان علمبرداروں کو وہاں سے ایسا نکال باہر کریں گے کہ یہ خود اپنی نظروں میں بھی ذلیل ہو کر رہیں گے۔ بہرکیف حضرت سلیمان کو جب اپنے قاصد کے ذریعے یہ علم اور اندازہ ہوگیا کہ ملکہ سبا کے درباریوں کو اپنی قوت اور اپنے اسباب و وسائل اور اپنی شجاعت و بسالت پر بڑا ناز ہے تو آپ نے ان کو آگاہ فرما دیا کہ ہم ان پر ایسی فوج چڑھا لائیں گی جن کا ان سے کوئی مقابلہ نہیں ہو سکے گا۔ اور ہم ان کو وہاں سے اس طرح نکال باہر کریں گے کہ یہ اپنی نظروں میں خود ذلیل و خوار ہوں گے۔
Ayah 27:3834 سلیمان کی طرف سے تخت بلقیس کو حاضر کرنے کا حکم و ارشاد : بیچ میں سلسلہ کلام کا یہ تمام حصہ حذف کردیا گیا کہ بلقیس کے قاصد حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) کا یہ پیغام لے کر اس کے پاس واپس پہنچے اور سارا ماجرا ملکہ کو سنا دیا۔ جس سے اس کو اندازہ ہوگیا کہ یہ کوئی دنیاوی بادشاہ نہیں بلکہ بادشاہت اور نبوت دونوں کی جامع ہستی ہے۔ اس لئے اس سے مقابلہ و معارضہ کی کوئی صورت اپنانے کی بجائے اطاعت و فرمانبرداری کا طریقہ اپناتے ہوئے اس کے حضور حاضری دینی چاہیئے۔ اور اپنے اس ارادے اور پروگرام کی ملکہ بلقیس نے حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) کو اطلاع بھی کردی۔ تب اس موقع پر حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) نے یہ ارشاد فرمایا۔ (ابن کثیر، مراغی، صفوۃ، اور معارف وغیرہ) ۔ سو حضرت سلیمان نے اپنے درباریوں سے کہا کہ تم میں سے کون ایسا ہے جو اس ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے قبل اس سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں فرمانبردار ہو کر۔ تاکہ اس طرح وہ پوری طرح مرعوب ہوجائیں اور اپنی محض مادی قوت کے بل بوتے پر اکڑنے اور اترانے سے باز آجائیں۔ اور حق کے آگے دل و جان سے جھک جائیں۔ اور ان کو معلوم ہوجائے کہ ایمان و یقین کی قوت کے سامنے مادی قوت کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔
Ayah 27:3935 ایک قوی ہیکل جن کی دربار سلیمانی میں ایک پیشکش : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایک قوی ہیکل جن کی طرف سے تخت بلقیس کو مجلس سلیمانی کی برخاستگی سے قبل لاکر حاضر کرنے کی پیشکش کی گئی۔ یعنی قبل اس سے کہ آپ اٹھیں اپنی مجلس اور دربار عام سے۔ جس کے بارے میں مروی ہے کہ وہ صبح سے ظہر تک ہوتا تھا۔ جس میں حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) اپنی رعایا کی شکایات و مشکلات سنا کرتے تھے۔ (ابن کثیر، مراغی، معارف وغیرہ) ۔ سو اس قوی ہیکل جن نے حضرت سلیمن کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر حضور یہ خدمت میرے سپرد فرما دیں تو میں ان کی مجلس کی برخاستگی سے قبل تخت بلقیس کو لاکر آپ کے سامنے پیش کردونگا۔ حضرت سلیمان کو چونکہ اللہ پاک نے ایسا علم بھی عطا فرمایا تھا جس کے ذریعے آپ نے بہت سے جنوں کو مسخر کر کے مختلف قسم کی خدمات میں لگا رکھا تھا۔ اس لیے جب آپ نے اپنے دربار میں اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو اس کی تعمیل کے لیے سب سے پہلے ایک دیو ہیکل جن نے آگے بڑھ کر اپنی خدمات پیش کیں کہ میں آپ کی مجلس کے برخاست ہونے سے پہلے پہلے اس کو لا کر آپ کے سامنے پیش کر دوں گا۔ اور ظاہر ہے کہ اپنے طور پر یہ واقعی ایک بڑی پیشکش تھی مگر دوسرے دن کی پیشکش اس سے بھی بڑھ کر تھی۔
36 جن کی طرف سے اپنی دیانت و امانت کی یقین دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس دیو ہیکل جن نے اپنی اس پیشکش کو مزید پکا کرنے کے لیے کہا کہ میں اس کی طاقت بھی رکھتا ہوں اور میں امانتدار بھی ہوں۔ کوئی خیانت نہیں کرونگا۔ سو میں قوی ہوں اس لئے اس کا اٹھا لانا میرے لئے کوئی مشکل نہیں۔ اور میں امین ہوں اس لئے اس میں کسی قسم کی کوئی خیانت نہیں کروں گا۔ (کذا قال ابن عباس، ابن کثیر) ۔ لہذا حضور اس بارے مجھ پر اعتماد فرمائیں۔ میں یہ کام بآسانی کر بھی دونگا اور اس سلسلے میں کسی خیانت کا ارتکاب بھی نہیں کرونگا۔ مگر حضرت سلیمان نے فرمایا کہ مجھے اس تخت کو اس سے بھی پہلے یہاں لانا منظور ہے۔ تو اس پر وہ شخص بولا جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اس کو پلک جھپکنے سے بھی پہلے لاکر حاضر کرونگا جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ اور فعلا اس نے ایسا کر بھی دیا۔ تو اس کی پیشکش اس سے بھی کہیں بڑھ کر اہم اور مقدم تھی۔