27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 27:1–6

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

طس، یہ آیات ہیں قرآن کی، اور واضح طور پر بیان کرنے والی کتاب کی

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

اور روشنی ہیں اہل ایمان کے لیے

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

بلاشبہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے اعمال کو مزین کردیا سو یہ لوگ بھٹکتے پھرتے ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور یہ لوگ آخرت میں بہت زیادہ کسارہ میں ہوں گے

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور بالیقین آپ کو حکمت والے علم والے کی طرف سے قرآن دیا جارہا ہے۔

1۔ ابن ابی حاتم نے ابنم عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اللہ تعالیٰ کی اس آیت ” ان الذین لا یؤمنون بالاخرۃ “ سے یہی مراد ہے کہ وہ آخرت کا اقرار نہیں کرتے اور نہ ہی اس پر ایمان لاتے ہیں آیت ” فہم یعمہون “ یعنی وہ سرگرداں ہیں) اسی گمراہی میں آیت ” وانک لتلقی القراٰن “ یعنی آپ لے رہے ہیں قرآن کو ” حکیم علیم “ یعنی بڑے حکمت والے علم والے کی طرف سے۔
Ayah 27:7

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

جب موسیٰ نے اپنے گھروالوں سے کہا کہ بلاشبہ مجھے آگ نظر آئی ہے میں وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لات اہوں، یا تمہارے پاس آگ کا ایک شعلہ کسی لکڑی میں جلتا ہوا لاتا ہوں تاکہ تم تاپ لو

1۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” بشہاب قبس “ کے بارے میں بتائیں، تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے ایک شعلہ آگ میں سے جس میں سے وہ آگ کو لیتے ہیں پھر پوچھا عرب کے لوگ اس کو پہچانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے طرفہ کا قول نہیں سنا۔ ہم عرانی فبت ادفعہ دون سہادی کشعلہ القبس ترجمہ : اس نے میری بےپردگی کا ارادہ کیا میں نے آگ کے شعلہ کی طرح اپنی بےخوابی سے اسے دور کرتے ہوئے رات گزاری
Ayahs 27:8–9

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

سو جب وہ وہاں آئے تو آواز دی گئی کہ وہ شخص مبارک ہے جو آگ میں ہے اور وہ بھی مبارک ہیں جو اس کے اردگرد ہیں اور اللہ پاک ہے جو رب العالمین ہے

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

اے موسیٰ بیشک بات یہ ہے کہ میں اللہ ہوں عزیز ہوں حکیم ہوں

بابرکت آگ اور ہدایت 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ” نودی ان بورک من فی النار ومن حولہا “ کے بارے میں روایت کیا کہ برکت دی گئی ہے آگ میں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو آوازدی اور وہ نور میں تھے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ آگ نور تھی آیت ” ان بورک من فی النار ومن حولہا “ (یعنی برکت دی گئی) جو آگ کے اردگرد ہے۔ 4۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس سے روایت کیا کہ آیت ” ان بورک من فی النار ومن حولہا “ یعنی آگ کو برکت دی گئی۔ 5۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 6۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ابی بن کعب کے مصحف میں یوں ہے آیت ” ان بورک من فی النار ومن حولہا “ لیکن آگ کے بارے میں وہ گمان کرتے تھے کہ وہ رب العالمین کا نور تھا۔ آیت ” ومن حولہا “ اور ( اس کے اردگرد) فرشتے تھے۔ 7۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اسے آیت ” ان بورک من فی النار “ پڑھتے تھے۔ 8۔ ابن المنذر نے محمد بن کعب (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ آگ رحمن کا نور تھا آیت ” ومن حولہا “ سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) اور فرشتے ہیں۔ 9۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” بورک “ سے مراد ہے پاکیزہ۔ 10۔ عبد بن حمید وامسلم وابن ماجہ وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابوا لشیخ فی العظمۃ والبیہقی فی الاسماء والصفات ابو عبیدہ کے طریق سے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نہیں سوتے اور نہ ان کو یہ لائق ہے کہ وہ سوجائیں وہ ترازو کو نیچا کرتے ہیں اور اس کو اونچا کرتے ہیں اس کی طرف اٹھائے جاتے ہیں دن کے عمل سے پہلے رات کا عمل اس کے ہاں پیش کیا جاتا ہے اور رات کے عمل سے پہلے دن کا عمل اس کے ہاں پیش کیا جاتا ہے اس کا حجاب نور ہے اگر وہ حجاب کو اٹھادے حد نگاہ تک اس کے انوار و تجلیات ہر چیز کو جلادیں پھر ابو عبیدہ نے (یہ آیت) پڑھی آیت ” ان بورک من فی النار ومن حولہا وسبحن اللہ رب العالین “ یعنی برکت دی گئی ہے جو آگ میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے جو جہان والوں کا رب ہے )
Ayahs 27:10–14

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور تم اپنی لاٹھی کو ڈالدو، سو جب اس لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اس طرح حرکت کررہی ہے جیسے سانپ ہو تو وہ پیٹھ پھیر کر لوٹے اور مڑ کر بھی پیچھے نہ دیکھا، اے موسیٰ تم نہ ڈرو، بلاشبہ میرے حضور میں پیغمبر نہیں ڈرتے

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

مگر جس نے ظلم کیا پھر اس نے گناہ کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا تو میں مغفرت کرنے والا ہوں رحمت والا ہوں

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور اے موسیٰ تم اپنا ہاتھ گریبان میں داخل کرو وہ بلا کسی عیب کے روشن ہو کر نکلے گا۔ یہ دونوں چیزیں ان نو معجزات میں سے ہیں جنہیں لے کر تمہیں فرعون کی طرف جانا ہے بلاشبہ وہ لوگ نافرمان ہیں

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

سو جب ان کے پاس ہمارے معجزات پہنچے جو واضح تھے تو کہنے لگے کہ یہ صریح جادو ہے

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور انہوں نے ظلم اور تکبر کی راہ سے ان کا انکار کیا حالانکہ ان کے نفسوں نے یقین کرلیا تھا۔ سو دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوا

1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریرج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فلما راٰ ہا تہتز کانہا جان “ یعنی جب وہ سانپ کی شکل میں بدل گیا اور دوڑنے لگا۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولم یعقب کہ وہ واپس نہیں مڑا آیت ” الا من ظلم ثم بدل حسنا بعد سوء “ یعنی پھر اس نے توبہ کی اپنے عمل کے بعد اور اپنے گناہ کے بعد۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولی مدبرا “ سے مراد ہے بھاگنے والا آیت ” ولم یعقب “ یعنی وہ متوجہ نہ ہوا۔ آیت ” انی لایخاف لدی “ یعنی میرے پاس (پیغمبر نہیں ڈرتے “ آیت ” الا من ظلم “ یعنی اللہ ظالم کو پناہ نہیں دیتا پھر اللہ تعالیٰ اس میں اپنی رحمت فرماتے ہیں پھر فرمایا آیت ” حسنا بعد سوء “ یعنی پھر وہ بندہ برے اعمال کے بعد اچھے اعمال کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ” فانی غفور رحیم “ (بلاشبہ میں بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہوں) 4۔ ابن المنذر نے میمون (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا آیت ” انی لایخاف لدی المرسلون، الا من ظلم “ اور میرے پاس ظالم کے لیے کوئی امان نہیں یہاں تک کہ وہ توبہ کرے۔ 5۔ سعید بن منصور نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت ” الا من ظلم “ پڑھا۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) ایک جبہ پہنے ہوئے تھے (کہ اس کی آستین کہنیوں تک نہیں پہنچتی تھیں۔ واللہ تعالیٰ نے ان کو فمایا۔ آیت ” وادخل ید فی جیبک “ کہ یعنی (اپنے بازوؤں کو) کہ یعنی (اپنے بازوؤں کو) اس میں داخل کرلو۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا۔ 7۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے مقسم (رح) سے روایت کیا کہ ان سے کہا گیا آیت ” وادخل ید فی جیبک “ (کہ اپنے) ہاتھوں کو اپنے گریبان میں داخل کرلو کیونکہ اس جبہ کی آستین نہیں تھی۔ 8۔ ابن جریروابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ان پر ایک جبہ تھا جو آپ کے ہاتھ کے بعض حصہ تک پہنچتا تھا۔ یعنی اس کی آستین نہیں تھی۔ اگر اس کی آستین ہوتی تو ان کو حکم ہوتا کہ اپنے ہاتھ کو اپنی آستین میں داخل کرو۔ 9۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آتی ” وادخل یدک فی جیبک “ سے مراد ہے حکم ہوا کہ اپنی قمیص کے گریبان میں اپنا ہاتھ داخل کرو۔ 10۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ رھمۃ اللہ علیہ سیر وایت کیا کہ آیت ” وادکل ید فی جیبک “ یعنی اپنی قمیض کے گریبان میں اپنا ہاتھ داخل کرو۔ آیت ” تخرج بیضاء من غیر سوء “ یعنی بغیر برص کی بیماری کے سفید نکلے گا۔ آیت ” فی تسع اٰیت ‘] سے مراد ہیں کہ نو معجزات موسیٰ (علیہ السلام) کا ہاتھ روشن ہونا آیت ” فی تسع اٰیت “ تو معجزات میں سے ہیں ابن عباس ؓ فرمایا کرتے تھے وہ نو نشانیاں تھیں موسیٰ کا ہاتھ اور ان کی لاٹھی طوفان، مکڑی، جوئیں، مینڈک، خون اور قحط سالی ان کی وادیوں میں اور ان کے مویشیوں میں اور ان کے شہروں کے پھلوں میں نقصان (پھر فرمایا) آیت ” فلما جاء تہم اٰیتنا مبصرۃ “ یعنی واضح نشانیاں آیت ” وجحدو بہا “ یعنی قوم نے اللہ کی آیات کا انکار کیا بعد اس کے کہ ان کے دل یقین کرچکے تھے کہ وہ سچی ہیں اور جحود اس انکار کو کہتے ہیں جو معرفت کے بعد ہو۔ 11۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت ہے آیت ” ظلما وعلوا “ سے مراد ہے بڑا بنتے ہوئے اور تکبر کرتے ہوئے۔ 12۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آتی ” واستیقنتہا انفسہم ظلما وعلوا “ سے مراد ہے کہ انہوں نے تکبر کیا حالانکہ ان کے دل یقین کرچکے تھے اور اس کلام میں تقدیم وتاکیر ہے۔ 13 عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا آیت ” ظلما وعلیہا “ اور عاصم (رح) نے یوں پڑھا آیت ” وعلوا “ عین اور لام کے رفع کے ساتھ۔
Ayah 27:15

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے داوٗد اور سلیمان کو علم دیا۔ اور ان دونوں نے کہا کہ اللہ کے لیے سب تعریف ہے جس نے ہمیں اپنے مومن بندوں میں سے بہت سوں پر فضیلت دی ہے

داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑ کی تسبیح 1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ داوٗد (علیہ السلام) کو تین چیزیں دی گئیں ان کے لیے پہاڑوں کو مسخر کردیا گیا پہاڑ ان کے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے اور ان کے لیے لوہے کو نرم کردیا گیا اور پرندوں کی بولی ان کو سکھائی گئی اور سلیمان (علیہ السلام) کو دو چیزیں دی گئیں ان کو پرندوں کی زبان کی تعلیم دی گئی اور ان کے لیے جنات کو مسخر کردیا گیا اور یہ چیزیں ان کو داوٗد (علیہ السلام) سے ورثہ کے طور پر دی گئیں تھی اور ان کے لیے پہاڑوں کو مسخر نہیں کیا گیا اور ان کے لیے لوہے کو نرم نہیں کیا گیا۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے عمر بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بندے پر کوئی نعمت نہیں کی اور بندے نے اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کی مگر یہ کہ اس کی حمد افضل ہوتی ہے اس کی نعمت سے اگر تو نہیں جانتا تو اس بات کو اللہ کی نازل کردہ کتاب میں پڑھ لے۔ اللہ عز وجل نے فرمایا آیت ” ولقد اتینا داوئد و سلیمان علما، وقالا الحمد للہ الذی فضلنا علی کثیر من عبادہ المومنین “ اور کونسی نعمت افضل ہے ان چیزوں میں سے جو داوٗد اور سلیمان (علیہ السلام) کو عطا ہوئی۔
Ayah 27:16

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور سلیمان، داوٗد کے وارث ہوئے اور انہوں نے کہا کہ اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر چیز دی گئی ہے، بلاشبہ یہ کھلا ہوا فضل ہے

1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” حضرت سلیمن داوٗد “ سے مراد ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) وارث بنے ان کی نبوت کے ان کے ملک کے اور ان کے علم کے۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ ہمارے نزدیک الناس سے مراد ہے اہل علم 3۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں عمر بن خطاب ؓ کے پاس تھا ہم پر کعب الحبر داخل ہوئے اور کہا اے امیر المومنین ! کیا میں آپ کو بہت ہی عجیب چیز کے بارے میں بتاؤں جو میں نے کتاب الانبیاء میں پڑھی کہ ایک چھوٹا کیڑا سلیمان (علیہ السلام) کے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے نبی آپ پر سلام ہو انہوں نے فرمایا اے ام ! تجھ پر بھی سلام ہو مجھ کو بتا تو کھیتی کیوں نہیں کھاتا ! اس نے کہا اے اللہ کے نبی کیونکہ آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی نافرمانی کی اس وجہ سے سلام ہو مجھ کو بتا تو کھیتی کیوں نہیں کھاتا ! اس نے کہا اے اللہ کے نبی کیونکہ آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی نافرمانی کی اس وجہ سے میں اس کو نہیں کھاتا پھر پوچھاتو پانی کیوں نہیں پیتا اس نے کہا اے اللہ کے نبی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو پانی میں غرق کردیا اس وجہ سے میں نے اس کا پینا چھوڑدیا پھر پوچاھ تو نے آبادی کو کیوں چھوڑدیا اور ویران جگہ پر رہنے لگا تو اس نے کہا ویران جگہیں اللہ کی میراث ہیں اور میں اللہ کی میراث میں رہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی کتاب میں فرمایا آیت ” وکم اہلکنا من قریۃ بطرت معیشتہا “ سے لے کر آیت ” وکنا نحن الوارثین “ تک۔ 4۔ ابن ابی شیبہ واحمد فی الزہد وابن ابی حاتم ابو صدیق ناجی (رح) سیر وایت کیا کہ سلیمان بن داوٗد (علیہما السلام) لوگوں کے لایے بارش کو طلب کرنے باہر نکلے ایک چیونٹی کے پاس سے گزرے جو اپنی گدی پر چت لیٹی ہوئی اپنی ٹانگوں کو آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے یہ کہہ رہی تھی۔ اے اللہ ! میں تیری مخلوق میں سے ایک مخلوق ہوں اور تیرے رزق کے بغیر ہم کو غنا نہیں (یعنی ہم کو کھانے پینے کی ضرورت ہے) یا تو ہم کو پانی پلایا ہم کو ہلاک کر (یہ سن کر) سلیمان (علیہ السلام) نے لوگوں سے کہا واپس لوٹ جاؤ تم اپنے علاوہ دوسری مخلوق کی دعا کے بدلے میں پانی پلائے گاؤ گے۔ داوٗد (علیہ السلام) جانور کے درمیان بھی فیصلے فرماتے تھے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے ابو درداء رجی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ داوٗد (علیہ السلام) ایک دنجانوروں کے درمیان فیصلہ فرماتے تھے اور ایک دن لوگوں کے درمیان ایک گائے آئی اور اس نے اپنا سینگ دروازے کے حلقے میں رکھ دیا پھ ریوں لوریاں دینے لگی جیسے والدہ اپنے بچے کو لوریان دیتی ہے۔ اور کہنے لگی میں جوان تھی وہ مجھ سے بچے جنواتے اور مجھ سے کام لیتے تھے پھر جب میں بوڑھی ہوگئی تو انہوں نے مجھے ذبح کرنے کا ارادہ کرلیا۔ داوٗد (علیہ السلام) نے اس کے مالک سے فرمایا اس سے اچھا برتاؤ کرو اور اس کو ذبح نہ کرو۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت ” علمنا منطق الطیر واوتینا من کل شیء “ 6۔ الحاکم فی المستدر جعفر بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کو زمین کے مشارق اور اس کے مغارب کی بادشاہی دی گئی سلیمان (علیہ السلام) سات سو سال اور چھ ماہ بادشاہ رہے آپ دنیا کی تمام چیزوں جنات، انسان، جانور، پرندے اور درندوں کے بادشاہ رہے آپ کو ہر چیز اور شے کی زبان سکھائی گئی اور آپ کے زمانے میں عجیب و غریب کام کیے گئے یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو موت دینے کا ارادہ فرمایا تو ان کی طرف وحی بھیجی کہ اللہ کا علم اور اس کی حکمت اپنے بھائی کو دے دو اور داوئد (علیہ السلام) کی اولاد میں چار سو اسی افراد انبیاء ہوئے ان میں کوئی رسول نہ تھا۔ ذہبی نے کہا یہ حدیث جھوٹی ہے۔ 7۔ الحاکم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر سو فرسخ تک پھیلا ہوا تھا۔ اس میں پچیس فرسخ انسانوں کے لیے اور پچیس فرسخ جنات کے لیے اور پچیس فرسخ وحشی جانوروں کے لیے اور پچیس فرسخ پرندوں کے لیے تھے اور ان کے لیے ایک ہزار شیشے کے گھر تھے لکڑی پر اس میں تین سو صریحہ اور سات سو پلنگ تھے اور آپ تیز ہوا کو حکم فرماتے تو وہ ان سب کو اوپر اٹھالیتی تھی آپ ہوا کو حکم فرماتے تو وہ ان کو لے کر چل پڑتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وھی بھیجی بلاشبہ میں نے تیرے ملک میں اضافہ کردیا ہے کوئی آدمی کوئی بات نہیں کرے گا۔ مگر ہوا آئے گی اور تجھ کو خبردے گی۔ 8۔ عبداللہ بن احمد فی زوائد الزہد وابن المنذر وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان بن داوٗد (علیہ السلام) اپنے ملک میں بنی اسرائیل میں سے ایک کاشتکار پر سے گزرے جبکہ ہوا نے آپ کو اٹھا رکھا تھا پس آدمی نے سلیمان کو دیکھ کر کہا سبحان اللہ کہ آل داوٗد کو بادشاہی عطا کی گئی ہے اس کی آواز کو ہوا نے اٹھایا اور ان کے کانوں میں ڈال دیا۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا اس آدمی کو میرے پاس لے آؤ۔ اس کو لایا گیا تو آپ نے اس سے پوچھا تو نے کیا کہا ؟ اس نے ان کو بتایا میں نے یوں کہا تھا سلیمان نے فرمایا میں تجھ پر ایک فتنہ کا ڈر رکھتا ہوں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سبحان اللہ کا ثواب اس سے بڑھ کر ہے جو حضرت داوٗد (علیہ السلام) کو عطا کیا گیا کاشت کار نے عرض کیا اللہ تعالیٰ تیرے رنج اور غم کو دور فرمادے جیسے تو نے میرے رنج اور غم کو دور کردیا اور سلیمان (علیہ السلام) سفید رنگت والے بھاری جسم والے گہرے سرخ زرد رنگ والے۔ جہاد کرنے والے تھے کسی بادشاہ کا سنتے تھے تو اس کے پاس آکر اس سے جنگ کرتے اور اپنے زیر نگیں کرلیتے آپ جنات کو حکم فرماتے تھے تو وہ آپ کے لیے شیشے کا گھر بناتے اور آپ جنگی آلات جو چاہتے اس میں رکھتے پھر وہ تیز ہوا کو حکم فرمایا تو وہ اس مکان کو زمین سے اٹھالیتی پھر آپ ہلکی ہوا کو حکم فرماتے تو وہ آگے آگے رہتی جہاں آپ جاتے۔ 9۔ ابن المنذر نے یحییٰ بن کثیر (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان بن داوٗد (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے فرمایا کیا میں تم کو آج کے دن اپنے مالک کا بعض حصہ نہ دکھاؤ بنی اسرائیل نے کہا کیوں نہیں۔ اے ہوا ہم کو اوپر اٹھا ان کو ہوا نے اوپر اٹھا لیا اور ان کو آسمان و زمین کے درمیان رکھ دیا پھر فرایا اے پرندوں ہم کو سایہ کردو۔ تو پرندوں نے ایسا اپنے پروں کے ساتھ سایہ کردیا۔ کہ وہ سورج کو نہیں دیکھتے تھ فرمایا اے بنی اسرائیل کونسا ملک تم نے دیکھا ہے۔ انہوں نے ہم نے بڑا ملک دیکھا ہے فرمایا ” لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الھمد، وہو علی کل شیء قدیر “ میرے اس ملک سے اور دنیا ومافیہا سے بہتر ہے فرمایا اے بنی اسرائیل جو شخص ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ اور علانیہ طور پر دونوں حالتوں مالداری اور فقر دونوں حالتوں میں میانہ روی اختیار کرتا ہے عدل کرتا ہے۔ ناراضگی اور رضامندی کی حالت میں اور ہر حال میں اللہ کو یاد کرتا ہے تو اس کو بھی ایسی بادشاہت عطا کی جائے گی جیسے مجھے بادشاہت عطا کی گئی۔
Ayah 27:17

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور سلیمان کے لیے ان کے لشکر جمع کیے گئے جو جنات میں سے اور انسانوں میں سے اور پرندوں میں سے تھے، پھر انہیں روکا جاتا تھا

1۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کے لیے تین لاکھ کرسیاں رکھی جاتی تھیں انسانوں میں سے مومن آپ کے قریب بیٹھے تھے اور اس کے پیچھے مومن جنات بیٹھتے تھے پھر وہ پرندوں کو حکم فرماتے تو وہ ان پر سایہ کرتے تھے پھر ہوا کو حکم فرماتے تو وہ ان کو اوپر اٹھالیتی پھر آپ بالیوں کے پاس سے گزرتے تو اس کو حرکت نہ دیت۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فہم یوزعون “ سے مراد ہے کہ وہ روکے جائیں گے۔ 3۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فہم یوزعون “ یعنی اس میں سے ہر جماعت پر ایک نگہبان مقرر کیا جاتا جو آگے جانے والوں کو پچھلوں کی طرف لوٹاتا تاکہ وہ چلنے میں آگے نہ بڑھ جائیں جیسے کہ بادشاہ کیا کرتے ہیں۔ 4۔ الطبرانی اور الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” فہم یوزعون “ کے بارے میں پوچھا کہ اس سے کیا مراد ہے تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے کہ ان کے اگلوں کو پچھلوں سے روکا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ پرندے سو جاتے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو پہچانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کے قول کو نہیں سنا۔ وزعت رعیلہا باقب نہد اذا مالقوم شدو ابعد خمس ترجمہ : روک دیا گیا مقدمۃ الجیش کے گھوڑوں کو پتلی کمروالے گھوڑوں کے ساتھ جبکہ قوم نے خمس کے بعد شدید حمہ کیا۔ 5۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد وابو رزین (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فہم یوزعون سے مراد ہے ان کے اگلوں کو پچھلوں پر روکا جاتا تھا۔ 6۔ عبدالرزق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فہم یوزعون “ سے مراد ہے کہ ان کے اول دستے کو لوٹا دیا جاتا ہے ان کے آخری دستے پ پر تاکہ وہ اکھٹے ہوجائیں ) ۔
Ayahs 27:18–19

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان میں آئے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ اے چیونٹیو ! اپنے رہنے کی جگہوں میں گھس جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں کچل کے رکھ دیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

سو وہ چیونٹی کی بات پر مسکراتے ہوئے ہنس پڑے اور عرض کیا کہ اے میرے رب آپ مجھے اسی پر رکھیے کہ میں آپ کی نعمت کا شکر ادا کرتا رہوں جو آپ نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرائی اور یہ کہ میں نیک عمل کروں جس سے آپ راضی ہوں، اور آپ مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل رکھیے

1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” حتی اذا اتوا علی واد النمل “ کے بارے میں ذکر کیا گیا کہ یہ ایک وادی ہے شم کی زمین میں 2۔ ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے رویت کیا کہ وہ چیونٹی کہ سلیمان علیہ اسلام نے جس کی بات کو سمجھا تھا وہ دو پروں والے پرندوں سے تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو سلیمان (علیہ السلام) اس کی بات کو نہ سمجھتے۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ چیونٹی پرندوں میں سے تھی۔ 4۔ البخاری فی تاریخہ وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے نوف (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان بن داوٗد (علیہ السلام) کے زمانہ میں چیونٹیاں مکھیوں کی طرح تھیں اور وہ ایک روایت میں امثال الذباب کی جگہ مثل الذباب ہے۔ 5۔ عبدبن حمید نے حکیم (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کے زمانہ میں چیونٹیاں مکھیوں کی طرح تھیں۔ 6۔ ابن المنذر نے وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہوا کو حکم فرمایا تھا کہ مخلوق میں سے کوئی چیز زمین میں بات کرے تو اس کو اٹھا کر سلیمان (علیہ السلام) کے کان میں ڈال دے اس وجہ سے انہوں نے چیونٹی کی بات کو سن لیا۔ 7۔ ابن ابی شیبہ نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ ان سے نماز میں مسکرانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت ” فتبسم ضاحکا من قولہا “ فرمایا میں ضحک کے سوا تبسم کو نہیں جانتا۔ 8۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” اوزعنی “ سے مراد ہے مجھے الہام کر۔ . 9۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وادخلنی برحمتک فی عبادک الصالحین “ سے مراد ہے انبیاء اور ایمان والوں کے ساتھ۔
Ayahs 27:20–31

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

اور سلیمان نے پرندوں کی حاضری لی تو کہا کیا بات ہے جو میں ہدہد کو نہیں دیکھ رہا ہوں، کیا وہ کہیں غائب ہے ؟

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

میں اسے ضرور ضرور سخت سزادوں گا یا ضرور ضرور اسے ذبح کردوں گا یا یہ بات کہ وہ میرے سامنے کوئی صریح دلیل لے کر آئے

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

پھر تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ہد ہد نے کہا کہ میں ایسی چیز کی خبر لایا ہوں جو آپ کو معلوم نہیں اور آپ کے پاس ملک سبا کی ایک یقینی خبر لایا ہوں

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

بیشک میں ایک عورت کو پایا جو ان پر بادشاہت کرتی ہے اور اسے ہر چیز دی گئی ہے اور اس کے لیے ایک بڑا تخت ہے

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

میں نے اسے اور اس کی قوم کو اس حالت میں پایا کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو مزین کردیا ہے سو اس نے انہیں راہ سے ہٹادیالہٰذا وہ ہدایت نہیں پاتے

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

وہ اللہ کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے اور وہ ان چیزوں کو جانتا ہے جنہیں تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

اللہ ہے جس کے سوا کوئی بھئی معبود نہیں وہ عرش عظیم کا رب ہے

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

سلیمان نے کہا ہم عنقریب دیکھتے ہیں کہ تو نے سچ کہا یا تو جھوٹوں میں سے ہے

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

یہ میرا خط لے جا اور اسے ان کے پاس ڈالدے پھر ہٹ جانا، پھ ردیکھنا کہ وہ کیا بات چیت کرتے ہیں

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

کہنے لگی کہ اے دربار والو ! میرے پاس ایک کط ڈالا گیا ہے جو عزت والا خط ہے

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

بیشک وہ خط سلیمان کی طرف سے ہے اور اس میں یہ ہے کہ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو رحمن ہے رحیم ہے

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

تم لوگ میرے مقابلہ میں بڑائی نہ جتاؤ اور میرے پاس فرمانبردار ہو کر آجاؤ

بلقیس کی حکومت کی خبر 1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کا ہدہد پرندوں کے درمیان سے گم کیسے ہوگیا فرمایا کہ سلیمان ایک منزل پر اترے اور انہوں نے نہیں جانا کہ پانی کہاں ہے اور ہدہد سلیمان کو پانی کے باے میں بتاتا تھا انہوں نے اس سے پوچھنے کا ارادہ فرمایا تو اس کو گم پایا ابن عباس ؓ سے کہا گیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ہد ہد کے لیے جال لگایا جاتا ہے اور اسمیں مٹی ڈال دی جاتی ہے تو وہ اس میں پھنس جاتا ہے بچہ ہد ہد کے لیے پھندہ لگاتا ہے اور وہ بچہ اس سے غائب ہوجاتا ہے اور اس کا شکار کرلیتا ہے تو انہوں نے فرمایا جب قضا آتی ہے تو نظر جاتی رہتی ہے۔ 2۔ سعید بن منصور ابن ابی حاتم نے یوسف بن مالک (رح) سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق ازارقہ والے عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس آیا کرتے تھے جب ابن عباس فتوی دیتے اور وہ خیال کرتے فتوی درست نہیں ہے تو فرماتے ٹھہرجائیے آپ نے یہ فتوی کیسے دیا ہے اور یہ کہاں سے لیا ہے ؟ ابن عباس فرماتے ہیں کیا وہ کذا کذا والا مرچکا ہے۔ یہاں تک کہ ایک دن ہدہد کا ذکر کیا اور فرمایا وہ جانتا ہے زمین میں پانی کی مسافت کو ابن رزق نے ان سے کہا ٹھہرئیے ٹھہرئیے اے ابن عباس آپ کس طرح گمان کرتے ہیں کہ ہد ہد دیکھتا ہے کہ پانی کی مسافت کو زمین کے نیچے سے۔ حالانکہ اس کے لیے پھندا نصب کیا جاتا ہے اور اس پر مٹی ڈال کر اس کو شکار کرلیا جاتا ہے۔ ابن عباس نے فرمایا اگر یہ بات نہ ہوتی کہ یہ جانے گا اور یوں باتیں کرے گا تو میں اس کوئی بات نہ کرتا بیشک نظر اس وقت فائدہ دیتی ہے جب تک تقدیر نہ آئی ہو جب تقدیر آجاتی ہے تو آنکھ سامنے رکاوٹ بن جاتی ہے ابن ازرق نے کہا کہ میں آپ سے اس کے بعد کسی چیز کے بارے میں جھگڑا نہیں کروں گا۔ ہد ہد پانی کی خبر لاتا تھا 3۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان کسی منزل پر اترنے کا ارادہ فرماتے تو ہد ہد کو بلاتے تاکہ ان کو پانی کے بارے میں بتلائے اور جب آپ نے یہ کہا تھا کہ یہاں جنوں نے چٹانیں کاٹیں اور چشمے جاری ہوگئے ان کے گھر بنانے سے پہلے (پھر) آپ نے ارادہ کیا کہ وہ ایک منزل پر اتریں تو ہدہد کو تلاش کیا اور اسکو نہ دیکھا اور فرمایا آیت ” مالی لا اری الہدہد، ام کان من الغائبین، (یعنی مجھے کیا ہوا کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھتا ہوں یا وہ غائب ہونے والوں میں سے ہے۔ 4۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ سلیمان (علیہ السلام) نے ایک جگہ ٹھہرنے کا ارادہ فرمایا تو ہد ہد جس کو بلایا وہ ہدہدہ جو کہ بلایا گیا وہ ہدہدوں کا سردار تھا تاکہ وہ پانی کی مسافت کو جان لے۔ ہدہد کو ایسی نظر دی گئی ہے جو پرندوں میں سے کسی کو نہیں دی گئی اور ہم کو یہ بھی یہ ذکر کیا گیا کہ وہ زمین میں پانی کو دیکھ سکتا ہے۔ جیسے تم میں سے کوئی شیشیے کے پیچھے سے اپنی تصویر کو دیکھ لیتا ہے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کی ہدہد کا نام عنبر تھا۔ 6۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور عبد بن حمید وابن جرری وابن ابی حاتم وابن المنذر والحاکم وصححہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” العذبنہ عذابا شدید “ سے مراد ہے پروں کو اکھیڑ لینا۔ 7۔ الفریابی وابن جریر وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” لاعذبنہ عذابا شدیدا “ سے مراد ہے کہ اس کے سارے پر اکھیڑ لیے جائیں گے۔ 8۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید اور ابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 9۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ اس کے پروں کو اکھیڑ لیاجائے اور اس کو چیونٹیوں کے لیے دھوپ میں ڈال دیا جائے گا۔ 10۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے یزید بن رومان (رح) سے روایت کیا کہ حضرت سلیمان کے پرندوں کو سزا دینے کا طریقہ یہ تھا کہ اس کے پر اکھیڑ لیے جائیں۔ 11۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” او لیاتینی بسلطن مبین “ سے مراد ہے کہ وہ میرے پاس سچی اور واضح خبر لائے۔ 12۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اولیاتینی بسلطن مبین “ سے مراد ہے واضح عذر۔ 13۔ عبد بن حمید وابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس نے فرمایا کہ قرآن مجدی میں ہر سلطان سے مراد حجت ہے اور وہ آیت جو سلیمان (علیہ السلام) کے متعلق ہے یعنی آیت ” او لیاتینی بسلطن مبین “ یعنی ہدہد کے لیے کونسی دلیل ہوگی۔ 14۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ہدہد سے سزا کو ہٹا دیا اپنی والدہ کے لیے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وجہ سے۔ 15۔ الحکیم الترمذی وابوالشیخ فی الظمہ عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سلیمان کی سزا کو ہدہد سے اس لیے ہٹا دیا چونکہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے والی تھی۔ 16۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” احطت بما لم تحط بہ “ یعنی میں ایسی چیز پر مطلع ہوا جس پر کوئی اور مطلع نہیں ہوا۔ 17۔ ابن المنزر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وجئتک من سباء بنبا یقین “ سے مراد ہے سچی خبر۔ 18۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجئتک من سبا بنبا “ سے وہ سبا مراد ہے جو یمن کی سرزمین ہے۔ جس کو مآرب کہا جاتا ہے اس کے اور صنعاء کے درمیان تین راتوں کا فاصلہ ہے آیت ” من سبا بنبا “ یعنی سچی خبر۔ 19۔ ابن ابی حاتم نے ابن لہیعہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ مآرب بلقیس کا شہر ہے۔ اس کے اور بیت المقدس کے درمیان ایک میل کا فاصلہ ہے جب اس کے بعد اس پر اللہ کا غصہ ہوا اور وہ آج یمن ہے اور اسی کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمایا آیت ” لقد کان لسبا فی مسکنہم آیۃ “ 20۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ سبا کی طرف بارہ نبی بھیجے گئے ان میں تبع بھی تھے۔ 21۔ ابن ابی حاتم نے حسن سے روایت کیا کہ انہوں نے اسکو یوں پڑھا آیت ” من سبا بنبا یقین “ اور سبا کو علاقہ قررار دیا۔ 22۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنے اسے آیت ” من سبا بنبا ‘ پڑھا اور اسے مرد قرار دیا۔ 23۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت ” انی وجدت امرأۃ تملکہم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس کا نام بلقیس بنت ابی شبرہ تھا اور بہت لمبے بالوں والی تھی۔ 24۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت انی وجدت امرأۃ تملکہم “ سے بلقیس بن شراحیل مراد ہے جو ملک سبا کی ملکہ تھی۔ 25۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ وہ عورت تھی جس کو بلقیس بن شراحیل کہا جاتا تھا اس کے والدین میں سے ایک جن تھا اس کے قدموں میں سے ایک پچھلا حصہ چوپائے کے کھر کی طرح تھا اور وہ اپنی مملکت کے کمرے میں تھی۔ 26۔ ابن ابی حاتم نے زہیر بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ وہ بلقیس بنت شراحیل بن مالک بن ریان تھی اور اس کی ماں فارعہ جنی عورتوں میں سے تھی۔ 27۔ ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ وہ عورت بلقیس بنت ابی شرح تھی اور اس کی ماں بلقہ تھی۔ 28۔ ابن مردویہ (رح) نے سفیان، ثوری (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 29۔ ابن عساکر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ملکہ سبا کا نام لیلیٰ تھا اور سبا یمن کا شہر ہے اور بلقیس حمیرہ قبیلہ تھی۔ 30۔ ابن جریر وابو الشیخ فی العظمۃ وابن مردویہ وابن عساکر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلقیس کے والدین میں سے ایک جن تھا۔ 31۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ وہ ملک کے ایک گھر میں رہتی تھی۔ جس کو بلقیس بنت شراحیل کہا جاتا تھا اس کے گھر والے فوت ہوگئے اور اس کی قوم نے اس کو بادشاہ بنا دیا۔ 32۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سبا کی ملکہ کی ماں جنی عورت تھی۔ 33۔ الحکیم الترمذی وابن مردویہ نے عثمان بن حاضر (رح) سے روایت کیا کہ بلقیس کی ماں جنات میں سے ایک عورت تھی جس کو بلقمہ بنت شیصان کہا جاتا تھا۔ ملکہ سبا کون تھی 34۔ ابن عساکر نے حسن بصری (رح) سیر وایت کیا کہ ان سے ملکہ سبا کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے والدین میں سے ایک جن تھا اور فرمایا جنوں میں تولد نہیں ہوتا یعنی انسان میں کوئی عورت جنوں میں سے کسی مرد کا بچہ نہیں جنتی۔ 35۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سلیمان کی بیوی کے بارہ ہزار رئیس تھے اور ہر رئیس کے نیچے ایک لاکھ افراد تھے۔ 36۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک رھمۃ اللہ علیہ سیر وایت کیا کہ جب ہدہد نے کہا آیت ” انی وجدت امرأۃ تملکہم “ (تو فرمایا) کہ سلیمان (علیہ السلام) نے انکار کیا کہ زمین پر ان کے علاوہ کوئی اور بادشاہ ہو۔ 37۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” واوتیت من کل شیء “ سے مراد ہے کہ دنیا کی ہر قسم کی چیز دی گئی۔ 39۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن لمبارک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہا عرش عظیم “ سے مراد ہے سونے کا بنا ہوا عظیم تخت جس کے پائے جواہرات اور موتیوں کے تھے خوبصورت بناوٹ اور مہنگی قیمت والا تھا۔ 40۔ ابن ابی حاتم نے زہیر بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہا عرش عظیم “ سے مراد ہے سونے کا ایک پلنگ اور اس کی دونوں جانب یاقوت اور زبرجد سے آراستہ کی گئیں تھیں۔ اس کی لمبائی اسی ہاتھ اور چوڑائی چالیس ہاتھ تھی۔ 41۔ ابن ابی حاتم نے یزید بن رومان (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وجدتہا وقومہا یسجدون للشمس “ سے مراد ہے اس کے کمرے میں ایک روشندان تھا جب سورج طلوع ہوتا اس کی طرف دیکھتی اور اس کو سجدہ کرتی تھی۔ 42۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” یخرج الخبء “ سے مراد ہے کہ وہ جانتا ہے ہر پوشیدہ چیز کو آسمان میں اور زمین میں۔ 43۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یخرج الخبء “ سے مراد ہے غیب۔ 44۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یخرج الخبء “ سے مراد ہے راز۔ 45۔ عبدالرزاق اور عبد بن حمید رحمہما اللہ نے حضرت قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 46۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یخرج الخبء “ سے مراد ہے پانی۔ 47۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن المنذر وابو الشیخ فی العظمۃ حکیم بن جابر ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” یخرج الخبء “ سے مراد ہے بارش۔ 48۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزیں جن کو (مخلوق کا) رزق بنادیا (اس طرح سے کہ) آسمان سے بارش برستی ہے نباتات زمین سے (اگتی ہے) 49۔ ابن المنزر نے ابن جیرج (رح) سیر وایت کیا کہ آتی ” سننظر اصدقت ام کنت من الکذبین “ یعنی (ہدہد کی بات کی نہ تصدیق کی اور اس کو جھٹلایا۔ 50۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” اذہب بکتبی ہذا “ یعنی اس کو ایک خط دیا اور فرمایا آیت ” اذہب بکتبی “ ہذا فالقہ الیہم ثم تول عنہم “ (یعنی میرے اس خط کو لے کر جا اور ان کی طرف ڈال کر ایک طرف ہوجانا پھ ردیکھتے رہنا وہ لوگ باہم کیا گفتگو کرتے ہیں) یعنی ان کے قیرب ہوجانا۔ آیت ” فانظر ماذا یرجعون “۔ ہدہد خط لے کر گیا یہاں تک کہ جب اس کے عرش کے درمیان پہنچا تو خط اس پر پھینک دیا درباری نے وہ خط اسے پڑھ کر سنایا تو اس میں یہ لکھا ہوا تھا آیت ” انہ من سلیمان وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم “ (یعنی وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ساتھ ہے۔ ہدہد خط لے کر پہنچا 51۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ سبا کی ملکہ جب سوتی تھی تو دروازے بند کردیتی تھی اور چابیوں کو اپنے سر کے نیچے رکھ لیتی تھی جب دروازے بند کردئیے گئے اور وہ اپنے بستر پر لیٹ گئی ہدہد اس کے پاس آیا یہاں تک کہ روشندان سے اس کے کمرے میں داخل ہوگیا اور اس خط کو اس کی رانوں کے درمیان ڈال دیا اس نے کط کو اٹھایا اور اس کو پڑھا کہن لگی، آیت ” یا ایہا الملؤا انی القی الی کتب کریم “ یعنی مجھ پر ایک معزز خط ڈالا گیا ہے وہ کہتی اس میں جو کچھ ہے وہ بہت اچھا ہے۔ 52۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کتاب کریم “ سے رماد ہے مہر لگایا ہوا خط۔ 53۔ ابن ابی حاتم نے زہیر بن محمد رحمۃ اللہ عیہ سے روایت کیا کہ آیت ” کتاب کریم “ سے مراد ہے کہ وہ ارادہ کرتی تھی کہ یہ خط مہر لگا ہوا ہے بادشاہ اسی طرح سے اپنے خط کو مہرلگاتے ہیں اور باہم خطوط جائز نہیں سمجھتے مگر مہر کے ساتھ۔ 54۔ ابن المنذرنے ابن جریج آیت ” انہ من سلیمن وانہ بسم اللہ الحمن الرحیم “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی چیز کا ذکر کیا ہے جتنا انہوں نے گمان کیا تھا۔ 55۔ ابن ابی حاتم نے یزید بن رومان (رح) سے روایت کیا کہ مکتوب پر یہ لکھا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم سلیمان بن داوٗد علیہ اسلام کی طرف سے بلقیس بنت ذی شرح اور اس کی قوم کی طرف۔ 56۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان بن داوٗد (علیہ السلام) نے ملکہ سبا کی طرف خط لکھا جس پر یہ تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ کے بندے سلیمان بن داوٗد کی طرف سے بلقیس ملکہ سبا کی طرف۔ سلام ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے۔ اما بعد ! آیت ” الا تعلوا علی واتونی مسلمین “۔ (یعنی میرے سانے غرور نہ کرو اور اطاعت گزار ہو کر میرے پاس حاضر ہوجاؤ) 57:۔۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان علیہ اسللام نے ملکہ سبا کو جو کط لکھا تھا اس میں وہی کچھ تھا مگر جو تم پڑھتے ہو قرآن میں یعنی ” انہ من سلیمن وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔ 58:۔۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” انہ من سلیمن وانہ بسم اللہ الرحمن الا تعلوا علی “ کے بارے میں روایت کیا یعنی تم میری مخالفت نہ کرو آیت ” وأتونی مسلمین “ یعنی مسلمان ہو کر میرے پاس چلے آؤ (پھر) فرمایا اسی طرح انبیاء (علیہم السلام) خوبصورت خط لکھتے تھے اور وہ طلب کرتے تھے اور زیادہ کلام نہ کرتے۔ 59:۔۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے سفیان بن منصور (رح) سے روایت کیا کہ کہا جاتا تھا کہ سلیمان بن داوئد (علیہ السلام) تمام لوگوں سے زیادہ بلیغ خط لکھنے والے اور تھوڑی گفتگو کرنے والے تھے پھر یہ آیت ” انہ من سلیمان “ پڑھی۔ 60۔ عبدالرزاق وابن سعد وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ جاہلیت والے ” باسمک اللہم “ لکھتے نبی ﷺ نے ابتداء میں یہی یہی لکھا ” باسمک اللہم “ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی آیت ” بسم اللہ مجریہا ومرساہا “ آپ ” نے ” بسم اللہ “ لکھا پھ ریہ آیت نازل ہوئی آیت ” ادعوا اللہ اوادعو الرحمن “ بسم اللہ الرحمن لکھنے کا حکم دیا یہ آیت نازل ہوئی جو سورة طس میں ہے۔ آیت ” انہ من سلیمان وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پھر آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا۔ 61۔ ابوعبید نے اپنے فضائل میں حارث العکلی (رح) سے روایت کیا کہ مجھے شعبی (رح) نے فرمایا نبی ﷺ نبی ﷺ تم کو کیسے خط لکھا کرتے تھے میں نے کہا ” باسمک اللہم “ پھر فرمایا کہ یہ پہلا خط تھا کہ جو نبی ﷺ نے مجھ سے لکھوایا۔ تو یہ سلسلہ چلتا رہا جتنا اللہ نے چاہا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی آیت ” بسم اللہ مجریہا ومرساہا (ھود آیت 41) تو آپ نے بسم اللہ کھایا تو یہ سلسلہ چلتا رہا جتنا اللہ نے چاہا پھر یہ آت نازل ہوئی آیت ” ادعو اللہ اوادعوا الرحمن “ تو پھر آپ ﷺ نے بسم اللہ الرحمن لکھوایا تو یہ دور چلتا رہا جتنا اللہ نے چاہا پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت ” انہ من سلیمن وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پھر آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوایا۔ 62۔ ابن ابی حاتم نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ ” باسمک اللہم “ لکھواتے تھے۔ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی آیت ” انہ من سلیمان وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔ 63۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ پہلے لوگ آیت ” ابسمک اللہم “ لکھا کرتے تھے تیہاں تک کہ یہ آیت ” انہ من سلیمان وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم “ نازل ہوئی۔ 24۔ ابو داوٗد نے اپنی مراسیل میں ابو مالک (رح) علیہ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ باسمک اللہم لکھا کرتے تھے جب یہ آیت نازل ہوئی آیت ” انہ من سلیمان وانہ بسم اللہ الرحمن الرحیم تو پھر آپ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوا یا۔ 65۔ ابوعبید نے اپنے فضائل میں وابن ابی شیبہ نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نے کسری قیصر اور نجاشی کی طرف خطوط لکھے۔ امابعد ! آجاؤ ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے۔ کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہیں بنائیں۔ اور نہ بنائے ہمارا بعض، بعض کو رب اللہ کو چھوڑ کر اگر وہ روگردانی کریں تو تم کہو گواہ رہنا کہ مسلمان ہیں جب نبی ﷺ کا خط قیصر کی طرف پہنچا تو اس نے پڑھ کر کہا میں نے کسی کو نہیں دیکھا سلیمان بن داوٗد اور سلیمان (علیہ السلام) کے بعد کہ اس نے یہ لکھا ہو آیت ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔