Ayahs 27:1–21۔ گویا آیتوں سے متعلق یہاں چار باتیں بیان ہوئیں۔ ایک یہ کہ یہ آیتیں جس کتاب کی ہیں وہ قرآن ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ کتاب روشن وواضح ہے، تیسرے اور چوتھے یہ کہ آیات انہیں اہل ایمان کیلیے سبب ہدایت بھی ہیں اور ذریعہ بشارت بھی (آیت) ” تلک “۔ کا اشارۂ بعید قرآن کے شرف ومنزلت کے اظہار کے لیے ہے۔ لاداۃ البعد للاشارۃ بعید لمنزلۃ فی الفضل والشرف (روح) (آیت) ” کتاب “۔ کتاب کی تنوین وتنکیر اظہار عظمت کے لیے ہے۔ (آیت) ” وتنوینہ للتفخیم “ (روح)
Ayah 27:32۔ یعنی عقائد و اعمال دونوں کے باب میں بڑے پختہ ہیں۔ (آیت) ” یقیمون ..... الزکوۃ “۔ نماز گویا خلاصہ ہے طاعات بدنی کا اور زکوٰۃ طاعات مالی کا۔ وکنی باقامۃ الصلوۃ وایتاء الزکوۃ عن عمل الصالحات مطلقا (روح) (آیت) ” وھم یوقنون “۔ عقائد کے باب میں عقیدۂ آخرت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ انسان کو اپنی ذمہ داری، مسؤلیت کا پورا احساس بغیر اس کے ہو نہیں سکتا۔ مشرکین کے ہاں تو یہ عقیدہ پہلے ہی سے مسخ شدہ تھا، یہود بھی آخرت کی سزا وجزا کو بھلا کر اسی دنیا پر قانع ہوگئے تھے۔ چناچہ ان کی توریت اور دوسرے صحائف عالم آخرت سے خاموش ہی ہیں۔
Ayah 27:43۔ یہ مشاہدہ ہے کہ جن قوموں کے دل سے آخرت کا خیال مٹ جاتا ہے وہ اپنا سارا وقت، ساری قوت اسی دنیا کی دوڑ دھوپ، اسی کی ترقیوں کے لیے وقف رکھتے ہیں۔ (آیت) ” زینا لھم اعمالھم فھم یعمھون “۔ جو لوگ مذہب کا دامن چھوڑے ہوئے ہیں، قرآن مجید کی کتنی صحیح تشخیص ان کے بارے میں کردی۔ اپنی اس مادی حسی دنیا کے سامان اور یہیں کی ترقیوں پر وہ پھولے اور اتراتے ہوئے، کس کس طرح ایک ایک نظریہ، ایک ایک فلسفہ کی آڑ ڈھونڈتے پھرتے ہیں، اور اس در سے اس در تک منڈلاتے ہی رہتے ہیں !
Ayah 27:54۔ (اس دنیا میں بھی) موت کے وقت تو اس عذاب شدید کا نزول مشاہد اور قطعی ہے۔ باقی موت سے پہلے بھری پری زندگی ہی میں غور کر کے دیکھا جائے، تو آخرت فراموش قومیں کتنی ذہنی اذیتوں میں مبتلا بسر کرتی رہتی ہیں۔ برطانیہ، فرانس، امریکا، روس وغیرہ پر ان کی ساری ظاہری خوشحالیوں کے باوجود آج جو کچھ گزر رہی ہے، وہ کس کی نظر سے مخفی ہے ؟
Ayah 27:65۔ (اور اس لیے وہ قرآن ہی ہر انسانی ضرورت کا ایک جامع نسخہ ہے)
Ayah 27:76۔ ذکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مدین سے واپسی کے وقت کوہ طور سے قریب ہو کر گزرنے کا ہے، آپ مصر کی راہ بھول گئے تھے۔ سردی کا موسم اور اندھیری رات تھی، حاشیے سورة طہ پ 16 میں گزر چکے۔ (آیت) ” لاھلہ “۔ اھل پر بھی حاشیہ وہیں گزر چکا ہے۔ اگلی سورة القصص میں بھی یہی قصہ خفیف لفظی تغیرات کے ساتھ آرہا ہے۔ فقہاء مفسرین نے اس لفظی اختلاف ومعنوی اتحاد سے استدلال یہ کیا ہے کہ حدیث نبوی کی روایت بالمعنی جائز ہے۔ واختلاف الالفاظ فی ھاتین السورتین والقصۃ واحدۃ دلیل علی جواز نقل الحدیث بالمعنی (مدارک)
Ayah 27:87۔ یعنی ملائکہ۔ اے من فی مکان النار وھم الملائکۃ (مدارک) (آیت) ” ان “۔ ان یہاں مفسرہ ہے اور تقدیر کلام یوں بھی سمجھی گئی ہے۔ نودی بانہ بورک۔ انھی المفسرۃ لان النداء فیہ معنی القول والمعنی قیل لہ بورک (کشاف وکبیر) نودی بانہ بورک (مدارک)
8۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ۔ ومن حول مکانھا اے موسیٰ (مدارک) بہت سے مفسروں سے اس کے بالعکس بھی منقول ہے یعنی (آیت) ” من فی النار “۔ کو قرب نار کے معنی میں لے کر مراد اس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لی ہے، اور (آیت) ” من حولھا “۔ سے فرشتہ۔
9۔ (جہت، رنگ، مقدار، وزن وغیرہ تمام تعینات سے) یہ تنبیہ معا اس لیے کردی گئی ہے کہ کوئی اس تجلی کو جو بشکل نار محدود ومقید تھی کہیں عین ذات واجب الوجود نہ سمجھ بیٹھے ! معاذ اللہ۔ کہیں (آیت) ” رب العلمین “۔ کی سی ناقابل پیمائش وسعتیں رکھنے والی ذات بےہمتا آگ کے چند شعلوں کے اندر حلول کرسکتی ہے ! اے الذی یفعل مایشاء ولا یشبھہ شیء من مخلوقاتہ ولا یحیط بہ شیء من مصنوعاتہ وھو العلی العظیم المباین بجمیع المخلوقات ولا یکتنفہ الارض والسموت بل ھو الاحد الصمد المنزہ عن مماثلۃ المحدثات (ابن کثیر) ” موسیٰ (علیہ السلام) اگر اس مسئلہ سے خالی الذہن تھے تو یہ اس کی تعلیم ہے، اور اگر آپ کو دلائل عقلیہ اور فطرت صالحہ سے پہلے سے معلوم تھا تو زیادت تفہیم ہے “ (تھانوی (رح )
Ayah 27:910۔ (اور کوئی مادی مخلوق نہیں جو تم سے ہمکلام ہورہا ہے)
Ayah 27:1011۔ خوف طبعی مرتبہ نبوت کے بالکل منافی نہیں۔ اور پھر اگر یہ خوف عقلی تھا، جب بھی بسبب اس کے کہ اس میں کسی مخلوق کا واسطہ نہ تھا اس میں کوئی امر منافی شان نبوت نہیں (تھانوی (رح) جان اور ثعبان اور حیہ سب پر حاشیے گزر چکے۔
12۔ فقرہ صورۃ خبر ہے اور معنی انشاء یعنی ہدایت ہورہی ہے کہ خوف نہ کرنا چاہیے۔ یہ خوف اگر طبعی تھا تو (آیت) ” لاتخف “ الخ سے جو ازالہ خوف کیا گیا ہے، اس کی تقریر یہ ہوگی کہ ایک کیفیت طبیعہ پر جب دوسری کیفیت طبعیہ غالب آجاتی ہے تو پہلی کیفیت زائل ومضمحل ہوجاتی ہے۔ بس تم یہ سمجھو کہ ہم نے تم کو نبوت دی ہے۔ اس عنایت متجددہ کا سرورطبعا ایسا غالب ہوگیا کہ اس خوف کا اثر نہ رہے گا۔ اور اگر خوف عقلی تھا تو تقرر یہ ہوگی کہ ہرچند کہ حوادث انبیاء پر بھی آتے ہیں۔ مگر ہم اپنی عادت سے اطلاع دیتے ہیں کہ خود معجزات سے اور بالخصوص عطائے نبوت کے وقت ابتلاء وتضرر نہیں ہوا کرتا بس اب خوف عقلی نہ رہے گا (تھانوی (رح )
Ayah 27:1113۔ تو عام قاعدہ غفر و رحمت جب حقیقۃ عاصیوں اور خاطؤں کے حق میں ہے، تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو حقیقۃ عاصی وخاطی تھے بھی نہیں، قتل قبطی میں ان کا ” ظلم “ محض صورۃ تھا نہ کہ معنی وحقیقۃ “۔
Ayah 27:1214۔ (آیت) ” غیرسوٓء “۔ یدبیضاء پر اور تسع ایات۔ نومعجزات موسوی پر حاشیے سورة الاعراف پ 8 اور سورة طہ پ 16 میں گزر چکے،
Ayahs 27:13–1415۔ (کہ دنیا میں غرقابی نصیب ہوئی، اور آخرت میں عذاب شدید) (آیت) ” جآء تھم ..... مبین “۔ یعنی وہ معجزات وخوارق تو ایسے صریح تھے کہ ان کے وقوع سے انکار ممکن ہی نہ تھا۔ ان کے نفس مشاہدہ کے بعد اب ان منکروں نے توجیہ وتاویل شروع کی، کہ ان کو حقانیت وللہیت سے کیا واسطہ یہ تو عین سحر کی کارفرمائیاں ہیں۔ (آیت) ” وجحدوابھا واستیقنتھا انفسھم “۔ یعنی وہ شواہد نبوت اندر ہی اندر تو اپنا کام کرتے گئے، اور ان لوگوں کے دلوں میں اتر گئے، پھر بھی یہ لوگ محض اپنی ضد، اکڑ اور نفسانیت سے انکار پر قائم رہے۔ (آیت) ” ظلماوعلوا “۔ دونوں کے درمیان فرق یہ کیا گیا ہے کہ ظلم ان آیات و شواہد کو ان کے مرتبہ سے گھٹانا تھا اور علو اپنے کو اپنے درجہ سے بڑھانا تھا۔
Ayah 27:1516۔ یعنی علم نبوت وملک داری۔ ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے، نیز اسی تفسیر کے حاشیے سورة الانبیاء پ 17 میں۔
17۔ (اور ہم اس پر ادائے شکر اور تحدیث نعمت کرتے ہیں) (آیت) ” فضلنا “ اظہار افضیلت مطلق صورت میں مذموم وممنوع نہیں، ممنوع صرف راہ کبر و تفاخر سے ہے۔ (آیت) ” علی کثیر من عبادہ ال مومنین “۔ افضیلت کل مومنین پر نہیں، صرف اکثر مومنین پر ہے، دعوی بس یہیں تک محدود ہے۔ دوسرے انبیاء آخر ان سے افضل بھی تو ہوئے ہیں۔ ضمنا اس میں رد آگیا توریت کا، جس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نعوذ باللہ ایک بددین انسان کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ غلبہ فنا کے آثار کا دائم ومستمر رہنا کاملین کے لیے بھی لازم نہیں۔ چناچہ یہ دونوں حضرات اگرچہ فنا کے اعلی مقام پر تھے تاہم اپنے کمالات کی طرف بھی التفات رہا۔
Ayah 27:1618۔ (ملک وسلطنت میں) (آیت) ” ورث “ سے مراد میراث اصطلاحی نہیں، بلکہ معنی مطلق کسی متقدم کے کمالات کے مالک ہوجانے کے ہیں۔
19۔ (حکومت وسلطنت سے متعلق) (آیت) ” من کل شیء “ مراد کثرت وافراط ہے، اور یہ عام محاورہ زبان ہے۔ اے کثرۃ ما اوتی کما تقول فلان یقصدہ کل احد ترید کثرۃ قصادہ (کشاف) المراد بہ کثرۃ ما اوتی (مدارک) اردو محاورہ میں بھی ایسے موقع پر بولتے ہیں ” اس کو اللہ نے سب ہی کچھ دے رکھا ہے “۔ (آیت) ” اوتینا۔ علمنا “۔ جمع کے صیغے اظہار عظمت کے لیے ہیں، جیسا کہ شاہی محاورہ ہے۔ (آیت) ” ایھا الناس “ اس طریق خطاب سے اشارۃ یہ نکل رہا ہے کہ آپ کو اس انعام الہی کی اشاعت خاص ہی منظور تھی۔ فالمقصود منہ تشھیر عنمۃ اللہ تعالیٰ والتنویہ بھا ودعاء الناس الی التصدیق بذکر المعجزۃ (کبیر) اس جاہ وحشم کا بیان تو ریت میں ان الفاظ میں ہے :” اور سلیمان بادشاہ کے پینے کے سب باسن سونے کے تھے۔ سوسلیمان بادشاہ، دولت اور حکمت کی نسبت زمین کے سب بادشاہوں سے سبقت لے گیا اور سارے جہاں نے سلیمان کی طرف توجہ کی تاکہ اس کی حکمت کو جو خدا نے اس کے دل میں ڈالی تھی سنے۔ اور ان میں سے ہر ایک آدمی اپنا ہدیہ روپے کے باسن اور سونے کے برتن اور پوشاکیں اور سلاح اور خوشبوئیاں اور گھوڑے اور خچر جتنے ہر ایک سال کے لیے ٹھہرائے ہوئے تھے۔ اس کے آگے گزرانتے تھے۔ اور سلیمان نے گاڑیاں اور سوار بہت سے جمع کیے۔ اس کی ایک ہزار چار سوگاڑیاں تھیں اور بارہ ہزار سوار “ (1۔ سلاطین۔ 10۔ 21۔ 26) نیز ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔
Ayah 27:1720۔ (ان کی کثرت تعداد کی بنا پر) (آیت) ” من الجن والانس والطیر “۔ انسانوں کی سپاہ تو خیر ہوتی ہی ہے، جنات وطیور بھی جو عموما وعادۃ کسی سلطان وملک کے تابع نہیں ہوتے، لشکر سلیمانی میں داخل تھے۔
Ayah 27:1821۔ چیونٹیوں کا میدان اس لیے کہا گیا کہ وہاں جھنڈ کے جھنڈ چیونٹیاں جمع تھیں۔ ایک مرتبہ حضرت سلیمان کا لشکر خشکی میں کسی سرزمین سے گزر رہا تھا کہ راہ میں ایسا قطعہ پڑا جہاں چیونٹیاں بکثرت آباد تھیں اور وہیں ماجرا پیش آیا۔
22۔ چیونٹی نہایت ذہین جانور ہوتی ہیں۔ جیسا کہ ماہر فن کا بیان ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ نیز پارۂ ھذا کے صفحہ 785 پر ضمیمہ۔۔۔ حیوانات سے عقل کی بالکلیہ نفی کرنا کرنا قول بلادلیل ہے اور چیونٹی کے متعلق تو یہ خیال خلاف دلیل بھی ہے۔ چیونٹی کے باب میں تو ماہرین فن کا بیان ہے کہ ” تنظیم وتقسیم کار کے لحاظ سے ہو یا ذہانت وذکاوت کی بنا پر چیونٹی کی زندگی ہر طرح مربوط ومکمل ہوتی ہے “ منطق الطیرکا علم تو حضرت سلیمان کو حسب تصریح قرآن تھا ہی، اس قصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پرندوں کے علاوہ بھی حیوانات کی بولیوں کا علم آپ رکھتے تھے۔ (آیت) ” وھم لایشعرون “۔ سلیمان نبی معصوم تھے۔ ارادی ظلم آپ سے ممکن ہی نہ تھا۔ (آیت) ” وھم لایشعرون “ اسی دفع دخل کے لیے ہے۔ یعنی یہ زیادتی بیخبر ی اور لاعلمی کی حالت میں ان کے لشکریوں سے نہ سرزد ہوجائے، ضمنا یہ بھی آیت سے نکل آیا کہ علم غیب ہرگز کوئی جزو نبوت نہیں (چہ جائیکہ جزو ولایت ! ) اس قصہ کے حوالے اسرائیلی مذہبی نوشتوں میں بھی آتے ہیں۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔
ضمیمہ پ 19 بہ سلسلہ حاشیہ نمبر 22:
چیونٹی :
(روز نامہ رہبر دکن حیدر آباد کے سائنسی کالموں سے)
چیونٹی بظاہر بڑی حقیر اور بڑی غیر اہم معلوم ہوتی ہے لیکن محنت اور ذہانت کے لحاظ سے ایک ایسا نادر نمونہ ہے جس کی مثال ملنی دشوار ہے۔ یہ کبھی نہ نچلی بیٹھتی ہے نہ کبھی بیکار، ہر وقت مصروف، ہر وقت مشغول، اس کی زندگی کے مختلف ادوار اور اس کے رہنے سہنے کے طریقوں کا حال سنایا جائے تو آپ ششدررہ جائیں، تنظیم اور تقسیم کار کے لحاظ سے ہو یا ذہانت اور ذکاوت کی بنا پرچیونٹی کی زندگی ہر طرح مکمل اور مربوط ہوتی ہے ! حقیقت افسانہ سے زیادہ تعجب خیز ہوتی ہے۔ چیونٹی کس طرح اشرف المخلوقات حضرت انسان سے کمتر نہیں ہے۔ یہ جانور پالتی ہے۔ ان کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ فوج رکھتی ہے۔ دشمن پر حملہ کرتی ہے، اسے کھیتی باڑی کا سلیقہ بھی آتا ہے ! !۔ کھیتوں میں ن اگر چلاتی ہے، بیج بوتی ہے، کاشت تیار ہوتی ہے تو اسے دور کرتی اور احتیاط کے ساتھ تہ خانوں میں محفوظ اور منتقل کردیتی ہے۔ مدارج کے فرق البتہ اس میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اس قوم میں بھی حیدر آباد کا نظام جاگیرداری موجود ہے، ان کے جاگیردار ہمارے جاگیرداروں کی طرح مطلبی، آرام پسند، قومی فرائض سے غافل، خود پسند اور تن آسان ہوتے ہیں۔ ان کو کسی کام سے کوئی غرض نہیں ہوتی، دن بھر کھاتے اور پڑے اینڈھا کرتے ہیں !
اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ اپنی نوع سے ہٹ کر دوسری نوع کے جانوروں کو پالنا، ان سے فائدہ اٹھانا صرف اشرف المخلوقات کا حصہ ہے لیکن تجربات نے اب یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچا دی ہے کہ چیونٹی جیسی حقیر خلقت بھی اس خصوص میں انسان کی رقیب ہے، چیونٹی کی گائے، بھینس ایک قسم کے کیڑے ہوتے ہیں جن کو (Aphieds) افائیڈس کہا جاتا ہے، ان کے شکم میں شہد بھرا رہتا ہے۔ چیونٹیاں اپنے چھوٹے چھوٹے ڈنکوں کی مدد سے ان کیڑوں سے شہد حاصل کرلیتی ہیں، بعض مرتبہ چیونٹیاں ان دودھیلے جانوروں کو اپنے چھتوں میں اٹھا لاتی ہیں۔ اور ان کے انڈے بچوں کی بڑی سخت نگہداشت کی جاتی ہے۔
چیونٹی کی ایک قسم وہ بھی ہوتی ہے۔ جو خود دودھ دیتی ہے۔ یہ میکسیکو اور آسٹریلیا کے بعض حصوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے، ان کی زندگی کا مقصد اپنے دیگر ہم قوموں کو آرام اور غذا پہنچانا ہوتا ہے۔ ابتداء میں قومی مزدور اور رضا کار ان کو گائے بھینسوں کی طرح اچھی اچھی غذا مہیا کرتے ہیں، یعنی خوب چارہ ڈال کر ان کو دودھ حاصل کرنے کی غرض سے پالا اور پرورش کیا جاتا ہے جس طرح کبوتر اپنے بچوں کو غذا بھراتا ہے۔
رضاکار چیونٹیاں ان گائے بھینسوں کو شہد بھرایا کرتی ہیں۔ جوں جوں یہ عمل جاری رہے گائے بھینسوں کا جثہ بڑھتا جاتا ہے ...... یہاں تک کہ ان کے چلنا پھرنا حتی کہ سرکنا بھی دو بھر ہوجاتا ہے۔ یوں بھی ان کو چلنے پھرنے کی ضرورت نہیں رہتی اور یہ اپنے لیے بنے ہوئے مخصوص خانوں کی دیواروں سے چمٹ جاتی ہیں۔ یہ خاص کمرہ تقریبا تین انچ لمبا اور ایک انچ چوڑا ہوتا ہے۔ اس کی شکل کردی یعنی گول ہوتی ہے۔ یہ کمرے دراصل چوپال کا کام دیتے ہیں، جہاں گائے بھینس باندھی جاتی ہیں ! ! ان کی دیواروں سے شہد بھری چیونٹیاں اس طرح لٹکتی رہتی ہیں جیسے انگور کے خوشے لٹک رہے ہوں، مزدوروں اور رضاکاروں کو جب بھی بھوک ستائے وہ ان زندہ مرتبانوں کے پاس آکر اپنی غذا لیتے اور پھر کام میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ یوں تو عموما چیونٹیوں کی یہ گائیں چل پھر سکنے سے معذور ہوتی ہیں لیکن اگر ان کے شکم میں بھرا ہوا شہد کم ہوجائے تو ان کو چلتے پھرتے بھی دیکھا گیا ہے۔ آئیے اب چیونٹیوں کے جاگیرداروں، اور نوابین کا حال سن لیجئے۔ یہ دراصل مفت خورے ہوتے ہیں اور اپنی زندگی میں ایک آدھ مرتبہ مزدوروں رضا کاروں کے محلوں پر دھاوا بول کر ان کے انڈے اپنے پاس اٹھالاتے ہیں اور جب ان سے بچے نکلتے ہیں تو ان سے ملازمین کا ساکام لیتے ہیں، گھر بار کی نگہداشت، صفائی، تعمیر و ترمیم، بچوں کی نگرانی، غذا کی فراہمی یہ سب ان ہی رضاکاروں کے ذمہ ہوتی ہے۔ مشہور فرانسیسی سائنس داں ہیوبر نے اس خصوص میں ایک بڑا دلچسپ تجربہ دہرایا ہے۔ اس نے تقریبا (30) ” جاگیردار چیونٹیوں “ کو ان کے رضاکاروں سے علیحدہ کرکے ایک ڈبہ میں علیحدہ بند کردیا۔ ہاتھ پیر ہلانے کی توفیق تو خدا نے ان کو دی نہ تھی دو دن کے اندر نصف سے زیادہ جاگیردار دوسری دنیا کو سدھارچکے تھے اور جو باقی تھے وہ بھی لب گور، سکت جواب دے چکی تھی، چہرے زرد، موت آنکھوں کے سامنے کھیل رہی تھی، ہیوبر کو ان کی حالت پر رحم آگیا۔ اس نے صندوق میں ایک رضا کار کو بھی منتقل کردیا۔ اس رضا کار نے تن تنہا بغیر کسی دوسرے کی مدد کے سب کے رہنے کے لیے زمین میں ایک گھر بنالیا سب کو اس میں منتقل کیا، غذا مہیا کی، بیماروں کی تیمارداری کی، ان کو بھلا چنگا بنایا، اور دیکھتے دیکھتے اس چھوٹی سی جگہ میں زندگی کی ہماہمی پھر سے پیدا ہوگئی ! !۔
شہد کی مکھیوں کی طرح چیونٹیوں کی بھی تین گروہوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ نر اور مادہ اور غیر نمو یافتہ مادہ یا رضا کا ر۔ یہ امر تو ہمیں بہت قدیم سے معلوم ہے کہ چیونٹیاں کفایت شعار اور گرہستی بھی ہوتی ہیں۔ غذائی دانے محفوظ کرلینا ان کا ایک عام وطیرہ ہے۔ لیکن یہ حالیہ انکشاف بےحد تعجب خیز ہے کہ چیونٹیوں کی بعض انواع نہ صرف یہ کہ آئندہ کے استعمال کے لیے اپنی غذا محفوظ کرتی ہیں۔ بلکہ ان کو باضابطہ طریقوں سے اور خوش سلیقگی سے کاشت کرنا بھی آتا ہے !
ان کسان چیونٹیوں کا رنگ بھورا ہوتا ہے۔ یہ جسامت میں بھی دوسری چیونٹیوں کے مقابلہ میں بڑی ہوتی ہیں اور مناسب موسم آنے پر بالکل کسانوں کی طرف بیج بونے کی تیاریاں شروع کردیتی ہیں۔ کھیت کے لیے زمین کے انتخاب کے بعد وہ ایک مٹی کا پٹھا بنا لیتی ہیں یہ چار تاچھ انچ اونچا ہوتا ہے پوری چوڑائی تین تا چار فیٹ ہوتی ہے۔ اس چھتہ کے اطراف تین چار فیٹ تک کی زمین بالکل صاف کردی جاتی ہے۔ جیسے کسی پائیں باغ کی تیاری ہو ! اس صاف شدہ اراضی پر کسی قسم کی نباتات اگنے نہیں دی جاتی ہے البتہ صرف ایک خاص قسم کی گھاس اگتی ہے جو بیج دار ہوتی ہے۔ یہی چیونٹیوں کا کھیت ہے، اگر دوسری قسم کی گھاس اس میں اگنے لگے تو بیکار گھاس کو چیونٹیاں فورا علیحدہ کردیتی ہیں۔ یہ بیج دار گھاس جو اہتمام سے اگائی جاتی ہے چاول سے بہت کچھ ملتی ہوتی ہے۔ فصل کے تیار ہونے پر چیونٹیاں بڑی احتیاط سے اس کو گودام میں منتقل کردیتی ہیں۔ گودام میں منتقل کرنے کے بعد ان کی صفائی کی جاتی ہے اور بھوسہ دوبارہ باہر پھینک دیا جاتا ہے ! !
اگر گودام میں غلہ نمی اور رطوبت کی وجہ سے خراب ہونے لگے تو کبھی کبھی باہر نکال کر دھوپ کھلا لیا جاتا ہے ! یہ تمام تحقیق سب سے پہلے ڈاکٹر لنکم نے کی تھی اور پھر میک کک نے 1877 ء میں اس کی تصدیق کی۔ اس کے بعد متواتر تجربات نے رہے سہے شبہ کو بھی بالکل دور کردیا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ سائنس اور مذہب میں بڑا اختلاف ہے۔ لیکن کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ سائنس دراصل اپنے ان تجربات اور معلومات سے ایک ان دیکھے خدا کی عظمت اور قدرت کے تصور میں غیر معمولی اضافہ کردیتا ہے۔
Ayah 27:1923۔ (کہ اللہ رے احتیاط ودور اندیشی ! ) (آیت) ” ضاحکا “۔ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ اس سے ثبوت ضحک کا انبیاء (علیہم السلام) سے ملتا ہے، اور حدیث نبوی میں جو اس کی نفی آئی ہے مراد اس سے نفی عادت ضحک کی ہے نہ کہ نفی بالکلیہ۔ (آیت) ” تبسم ضاحکا “۔ ترکیب سے بعض اہل تفسیر نے بات یہ پیدا کی ہے کہ تبسم تو آپ (علیہ السلام) نے اپنی عادت ومعمول کے مطابق کیا، پھر وہ تبسم اضطرارا ضحک کے درجہ تک پہنچ گیا۔
24۔ یعنی عمل مقبول عنایت ہو (آیت) ” نعمتک ....... والدی “۔ نعمتوں سے مراد نعمت ایمان ونعمت علم ہیں۔ اور جہاں تک حضرت سلیمان (علیہ السلام) وحضرت داؤد (علیہ السلام) کا تعلق ہے نعمت نبوت بھی۔ جانوروں کی گفتگو سمجھ لینا ایک معجزہ اور نعمت عظیم ہے۔ حضرات انبیاء اپنے ان کمالات پر اترا نہیں جاتے بلکہ انہیں ایک نعمت سے دوسری نعمتوں کا استحضار ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ یہاں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ہوا۔ قرآن مجید کی یہ ساری صراحتیں تو ریت موجودہ کے ان بیانات کی تردید کررہی ہیں۔ جن میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ایمان اور اخلاق کو مجروح کیا گیا ہے۔
25۔ (اور کبھی بھی اس نعمت قرب کو بعد سے تبدیل نہ کر) (آیت) ” رحمتک “۔ رحمت سے مراد رحمت خاصہ ہے اور (آیت) ” الصلحین “۔ سے مراد اعلی درجہ کے نیک بندے یعنی انبیاء ہیں۔
Ayah 27:2026۔ ہد ہد ایک معروف پرند ہے، سر پر کلغی لئے ہوئے، جو ہندوستان کے ان اطراف میں موسم برسات میں اکثر دکھائی دیتا ہے، ملک فلسطین میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ جاڑوں میں مصر اور مضافات مصر کو چلا جاتا ہے اور مارچ کے مہینہ سے پھر فلسطین میں آجاتا ہے۔ اڑان کی بڑی زبردست قوت رکھتا ہے۔ مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔
Ayah 27:2127۔ یعنی وہ اپنی غیر حاضری کا کوئی معقول عذر میرے سامنے پیش کردے تو البتہ سزا سے بچ سکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے سپرد بھی کچھ خدمات تھیں، یہ بھی ممکن ہے کہ حاضری محض انضباط وانتظام کے لئے لی گئی ہو۔ اور فوج سے غیرحاضری خود ایک جرم ہے۔ (آیت) ” لاعذبنہ ....... مبین “۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) یہاں صرف اپنا ارادۂ مشروط ظاہر کررہے ہیں کہ اگر ملزم کوئی عذر ہی نہ پیش کرسکا، یا پیش بھی کیا تو بہت ضعیف تو وہ قابل تعزیر ہوگا۔ کوئی حکم شرعی نافذ نہیں کررہے ہیں۔ اس لئے یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ فقہ اسلامی میں تو غائب پر قضاجائز نہیں، پھر یہ نبی کیسے غائب پر قضا جاری کررہے ہیں۔ (آیت) ” لاعذبنہ “۔ سے مفسر تھانوی (رح) نے یہ استنباط کیا ہے کہ حیوانات کو تعلیم کے لئے تادیب جائز ہے، اور دفع اذی کے لئے قتل بھی جائز ہے، لیکن وہیں جہاں تادیب ودفع اذی مرتب ہو ورنہ نہیں، چناچہ ہدہد ہی ہے کہ اب نہ وہ قابل تادیب ہے اور نہ اس سے کوئی ایذا پہنچتی ہے۔
Ayah 27:2228۔ یہ بات ایک نبی سے ایک امتی ہی نہیں، حیوان کہہ رہا ہے، اور قرآن مجید اس دعوے کو بلاشائبہ تردید دہرارہا ہے۔ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ ہدہد کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ میری غیر حاضری کسی نافرمانی کی بناء پر نہیں، بلکہ کارسرکاری سے تھے۔
Ayah 27:2329۔ ملک سبا، عرب کے مغربی جنوبی علاقہ کو کہتے ہیں، تقریبا وہی ملک جہاں آج یمن، حضر موت، عسیر واقع ہیں۔ اپنے زمانہ میں بڑا زرخیر ومتمول ملک رہ چکا ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔
Ayah 27:2430۔ اس ملکہ کا نام بلقیس تھا۔ اس کی دولت وامارت، سازوسامان کے لئے انگریزی تفسیر القرآن ملاحظہ ہو۔ (آیت) ” عظیم “۔ عظیم جو تخت کی صفت آئی ہے اس سے مراد گرانقدر اور پیش بہا بھی ہوسکتا ہے اور جسامت کے اعتبار سے بےحد بڑا بھی (آیت) ” امراۃ تملکھم “۔ بجائے بادشاہ کے ملکہ کی فرمانروائی دنیا میں کوئی نوپیدا شے نہیں، جاہلی قوموں میں بہت قدیم زمانہ سے یہ ہوتا آیا ہے۔ (آیت) ” اوتیت من کل شیء۔ کل شیء “ سے یہاں بھی مراد انھیں چیزوں کی کثرت وافراط ہے جو ملکہ کو اپنے جاہ وحشم کے لئے ضروری تھیں، ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 19 (آیت) ” امراۃ تملکھم “۔ عورتوں کے ہاتھ میں عہدہ اور منصب دے دینا یہاں تک کہ انہیں پورے ملک کی ملکہ یا فرمانروا بنا دینا، یورپ کی ایجاد نہیں، مشرک قوموں کے ہاں یہ دستور ہر زمانہ میں رہا ہے اور مصر، کلدانیہ، ایران کی جاہلی حکومتوں کے ہاں عورت کو اتنی آزادی ہمیشہ حاصل رہی ہے۔ یہ تو اسلام تھا جس نے آکر بریک لگایا، اور اس دستور کو ناجائز قرار دیا۔ صحیح بخاری کی صاف حدیث آئی ہے لن یفلح قوم ولوامرھم امراۃ (بخاری۔ کتاب الفتن) وہ قوم فلاح یاب نہ ہوگی جو اپنی حکومت عورت کے سپرد کئے ہوئے ہے۔
31۔ مؤرخین کا بیان ہے کہ اس ملک میں سو سے اوپر دیوتا پجتے تھے۔ معبود اعظم سورج دیوتا تھا۔ جو دنیا کی بہت سی قوموں کا معبود اعظم رہ چکا ہے۔
32۔ (اور راہ ہدایت پانے کی کوشش درجہ ضروری میں بھی نہیں کرتے) (آیت) ” زین ...... اعمالھم “۔ ؛ جیسا کہ ہر جاہلی اور خدا فراموش وآخرت فراموش قوم اپنی دنیوی، مادی ترقیوں میں مست اور مگن رہا کرتی ہے، یہ متمدن قوم “ بھی تھی۔ فقہاء وصوفیہ نے چونکہ یہ سارا قول ہدہد پرندہ ہی کا قرار دیا ہے۔ اس لیے اس سے نتیجہ بھی یہ نکالا ہے کہ بقدر ضرورت علم ومعرفت حیوانات میں بھی موجود ہوتا ہے۔
Ayah 27:2533۔ (اے انسانو ! ) (آیت) ” الذین یخرج ...... والارض۔ یعلم ..... تعلنون “۔ یعنی اس کی قدرت بھی کامل اور اس کا علم بھی ہمہ گیر .... جاہلی مشرک قوموں کو مغالطہ عموما انہیں دو صفات باری کے باب میں پیش آتا رہا ہے۔ اس لئے یہاں کھل کر دونوں کا اثبات کیا گیا۔ (آیت) ” یخرج الخبء فی السموت والارض “۔ پوشیدہ چیزوں کو آسمان، زمین سے نکالتا رہتا ہے، مثلا پانی کو آسمان سے اور نباتات کو زمین سے۔ (آیت) ” الایسجدوا “ اس ترکیب سے مفہوم وجوب سجدہ کو لیا گیا ہے۔ قال اھل التحقیق قولہ الا یسجدوا یبج ان یکون بمعنی الامر (کبیر)
Ayah 27:2634۔ (جس کے آگے تخت ملکہ سبا کی حقیقت ہی کیا ہے) امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ ملکہ سبا کے تخت کو جو عظیم کہا گیا تھا وہ باعتبار معاصر ملوک و سلاطین کے تھا، اور یہاں جو عرش الہی کو عظیم کہا جارہا ہے، یہ جملہ مخلوقات کے مقابلہ میں ہے۔
Ayahs 27:27–2835۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) فرماتے ہیں اچھا ابھی امتحان ہوا جاتا ہے، یہ خط لے کر جا، بس حقیقت حال معلوم ہوئی جاتی ہے کہ تیرا بیان صحیح ہے یا غلط .... پرندوں کے ذریعہ سے خطوط رسانی کا طریقہ دنیائے قدیم میں عام رہا ہے، اور کبوتروں سے تو یہ خدمت یورپ میں آج تک لی جارہی ہے۔ (آیت) ” ثم تول عنھم “۔ ہٹ جانے کا حکم جو ہدہد کو دیا گیا، اس میں تعلیم ہے تہذیب وادب مجلس ملوک کی (تھانوی (رح) لیکن یہ مقصود بھی ہوسکتا ہے کہ غیر ملک کے سفیر کے بالکل سامنے وہ لوگ آزادی سے بات چیت نہ کرسکیں گے۔
Ayah 27:2936۔ (آیت) ” کریم “۔ مکتوب کو معزز یا تو اس کے مضمون کی عظمت کے لحاظ سے کہا گیا ہے، اور یا اس لحاظ سے کہ اس کا بھیجنے والا معزز تھا۔ بکرم مضمونہ اومرسلہ (بیضاوی) حسن مضمونہ وما فیہ اولانہ من عند ملک کریم (مدارک)
Ayahs 27:30–3137۔ خط کے مخاطب ملکہ کے علاوہ اعیان سلطنت بھی ہیں۔ اور تبعا جملہ اہل سبا۔ اسی لئے صیغہ جمع مخاطب کا ہے۔ (آیت) ” اتونی مسلمین “۔ سے مراد جسمانی حاضری نہیں۔ محض دعوت اسلام وا طاعت مقصود ہے المراد من المسلم اما المنقاد او ال مومن (کبیر) اے مومنین اومنقادین (بیضاوی) یہ ضرور نہیں کہ خط کی عبارت بجنسہ یہی ہو۔ قرینہ روایت بالمعنی کا ہے۔ یہود کے مقدس نوشتہ تالمود میں جو عبارت مکتوب دی ہوئی ہے۔ اس کے لیے ملاحظۃ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ مضمون مکتوب کے اس ایجاز سے امام رازی (رح) نے یہ استنباط کیا ہے کہ کلام انبیاء میں طوالت نہیں ہوتی، بلکہ نفس مطلب پر اکتفا ہوتا ہے۔ الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام لایطیلون بل یقتصرون علی المقصود وھذا الکتاب مشتمل علی تمام المقصود (کبیر)
Ayah 27:3238۔ (اور اس معاملہ میں شریک نہ ہولو) آیت سے ظاہر ہورہا ہے کہ سبا کا آئین حکومت جمہوری یا شورائی طرز کا تھا۔
Ayah 27:3339۔ یعنی ہم تو صلح وجنگ ہر صورت میں آپ کی اطاعت کے لیے تیار ہی ہیں۔ جو راہ چاہے اختیار کیجئے، باقی جنگی اعتبار سے آپ کمزور نہیں۔
Ayah 27:3440۔ (اس لیے سردست جنگ تو مناسب نہیں) ملکہ، ہر جنگ عظیم کے نتائج، کشت وخون، تباہی و بربادی سے خوب واقف ہے، اس لیے جنگ سے بچنا چاہتی ہے۔ صاحب خلاصۃ التفاسیر (متوفی غالبا 1905 ء۔ ) اپنے استاد عالی مقام، فخر المتاخرین مولنا عبد الحی فرنگی محلی (رح) کے حوالہ سے لکھتے ہیں، کہ انہوں نے اس آیت کے سبق میں فرمایا کہ ” مناسب نہیں کہ آدمی انقلاب کا خواہاں رہے، بلکہ یوں دعا کرے کہ اے اللہ بادشاہ وقت کو ایسی ایسی توفیق دے، یہ ہدایت کر، اور یہ نہ کہے کہ یہ بادشاہ معزول اور فلاں فرمانروا ہو۔ اس لیے کہ اس میں ہزار ہا بےجرم وخطا ارباب شرف وذکا پس جاتے ہیں۔
Ayah 27:3541۔ ملکہ نے کہا کہ سردست تو میں اپنی طرف سے صلح ودوستی کی طرح ڈالتی ہوں، تحفہ تحائف دے کر کسی کو بھیجتی ہوں اس کا جواب آنے پر مکرر غور ہوگا، روایات یہود میں ہے کہ ملکہ بلقیس نے یہ سفارت بحری راستہ سے روانہ کی، جس کے ساتھ علاوہ زر و جواہر کے چھ ہزار لڑکے اور لڑکیاں، ہم عمر، ہم قامت، ہم لباس بھی بطور غلاموں اور کنیزوں کے تھیں۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔
Ayahs 27:36–3742۔ سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں نے دعوت تو اطاعت واسلام کی دی تھی، یہ بلااطاعت و قبول دعوت محض اظہار دوستی کیسا ؟ یہ تو ایک صورت رشوت کی ہوئی۔ مال وقوت دونوں کے لحاط سے تو میری سلطنت اللہ کے فضل وکرم سے بلقیس کے ملک سے کہیں بڑھی ہوئی ہے، میں ان ہدایا وتحائف کو واپس کرتا ہوں اور عنقریب فوج کشی کرکے ان بےدینوں کو کچل ڈالوں گا، فقہاء نے کہا ہے کہ کافروں کے ہدیہ کو رد کردینا، جب اپنی مصلحت اسی میں ہومستحب ہے۔ (آیت) ” لا قبل لھم “۔ قبل کے معنی طاقت، طاقت مقابلہ کے ہیں۔ اے لایقدرون ان یقابلوھم (کبیر) اے لاطاقۃ وحقیقۃ القبل المقاومۃ والمقابلۃ (کبیر) اے لاطاقۃ لھم علی استقبالھا ودفاعھا (راغب) یقال لاقبل لی ھکذا اے لایمکننی ان اقابلہ (راغب) (آیت) ” اذلۃ وھم صغرون “۔ ذلت، یہ کہ جو کچھ شوکت و حکومت ہے وہ سب یہیں چھن چھنا جائے گی اور صغار، یہ کہ غلامی واسیری میں بسر کرنا ہوگی۔
Ayah 27:3843۔ وہ قاصد اب واپس پہنچتا ہے، اور حالات دربار سلیمان بیان کرتا ہے، بلقیس یہ سن کر حاضری کا قصد کرتی ہے، اس کی اطلاع حضرت سلیمان کو وحی الہی یا کسی اور ذریعہ سے آجاتی ہے۔ اس وقت وہ یہ گفتگو اپنے اہل دربار سے کرتے ہیں، عجب نہیں کہ اس خارق عادت کے ذریعہ سے مقصود حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اپنے کمالات باطنی کے ساتھ اپنی قوت اعجازی کا اظہار ہو۔ اس کے اعجازی پہلو کو سمجھنے کے لیے ملک یمن اور فلسطین کا درمیانی فاصلہ نظر میں رہے۔ بحری راستہ سے پہنچنے میں اس وقت مہینوں کا ذکر نہیں، دو دو تین تین سال لگ جاتے تھے !
Ayah 27:3944۔ (آیت) ” لقوی امین “۔ قوی اس لیے کہ وہ تخت لاکھ وزنی سہی، لیکن اس پر بھی اسے لے آؤں گا۔ امین یوں کہ وہ ہزار قیمتی سہی، مرصع سہی، میں کسی طرح کی خیانت نہ کروں گا۔ (آیت) ” عفریت “۔ کے معنی شریر و سرکش قسم کے جن کے ہیں، ھوالعارم والخبیث (راغب) (آیت) ” مقامک “۔ یعنی اپنے اجلاس سے۔ لفظی معنی مکان قیام کے ہیں، اور مقام جلوس کے بھی، المقام مقام القیام وزمانہ (راغب) قال الاخفش ان المقام المقعد (راغب) حضرت سلیمان (علیہ السلام) روزانہ صبح سے دوپہر تک عدالت کیا کرتے تھے۔
Ayah 27:4045۔ (آیت) ” قال ..... الکتب “۔ یہ کہنے والا کون تھا ؟ اس باب میں اقوال مختلف ہیں، ایک رائے یہ ہے کہ یہ کہنے والے جبرئیل (علیہ السلام) یا اور کوئی فرشتہ تھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ وہ وزیر سلطنت حضرت آصف تھے اور یہ قول ابن عباس ؓ کی جانب منسوب ہے اور جمہور نے بھی یہی اختیار کیا ہے۔ قالہ الجمھور (بحر) وھو الاصح وعلیہ الجمھور (مدارک) قال اکثر المفسرین ھو اصف بن برخیا (معالم) وھو المشھور من قول ابن عباس ؓ (کبیر) تیسرا قول ہے کہ وہ خود حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہی تھے (کبیر) امام رازی (رح) نے قرائن قوی قائم کرکے ترجیح اسی آخری قول کو دی ہے لیکن مفسر ابن حیان نے اس قول کی تضعیف کی ہے، ومن اغرب الاقوال انہ سلیمان (علیہ السلام) (بحر) (آیت) ” الکتب “۔ سے مراد توریت بھی ہوسکتی ہے، اور کوئی دوسری کتاب بھی جس میں اسماء الہی کی تاثیرات درج ہوں، یہ بھی کہا گیا ہے کہ جنس کتب الہی مراد ہے یا خود لوح محفوظ۔ المراد بالکتب جنس الکتب المنزلۃ او اللوح (بیضاوی)
46۔ (اسے نہ کسی کی شکر گزاری سے نفع، نہ کسی کی ناشکری سے نقصان، جو دو کرم تو بہرصورت اس کا شیوہ ہے) ملکہ کا تخت خواہ حضرت کی دعا سے، خواہ کسی اور خارق عادت طریق پر، سینکڑوں میل سے فی الفور اٹھ آیا ہے، اس موقع پر آپ (علیہ السلام) کی فطرت پیغمبرانہ جوش شکر گزاری سے لبریز ہو کر یہ الفاظ زبان پر لاتی ہے۔