27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayahs 27:1–6

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

طس، یہ قرآن اور کتاب روشن کی آیتیں ہیں

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

مومنوں کے لئے ہدایت اور بشارت

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

وہ جو نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور وہ آخرت کا یقین رکھتے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ہم نے انکے اعمال انکے لئے آراستہ کردیے ہیں تو وہ سرگرداں ہو رہے ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے لئے برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہیں

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور تم کو قرآن (خدائے) حکیم وعلیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے

تفسیر سورة النمل آیت 1 سے 6 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چناچہ فرمایا : (تلک ایت القران وکتائب مبین) ” یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں۔ “ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہیں۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لئے ایسے ہی ہیں جیسے چشم بینا کے لئے سورج۔ یہ ایسی آیات ہیں جو ایمان پر دلالت کرتی ہیں اور ایمان تک پہنچنے کی دعوت دیتی ہیں۔ ماضی اور مستبقل کے واقعات کی خبر دیتی ہیں۔ یہ ایسے آیات ہے جو رعب عظیم کے اسمائے حسنیٰ ، صفات عالیہ اور افعال کاملہ کے ذریعے سے اس کی معرفت کی دعوت دیتی ہیں۔ یہ ایسی آیات ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اس کے اولیاء کی پہچان کروائ اور ان کے اوصاف بیان کئے گویا کہ ہم ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ مگر اس کے باوجود بہت سے لوگوں نے ان آیات سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، تمام معاندین حق نے ان کی راہنمائی کو قبول نہ کیا، تاکہ یہ آیات الٰہی ان لوگوں سے محفوظ ہیں جن میں کوئی بھلائی اور کوئی صلاح نہیں ہے جن کے دل طہارت سے بےبہرہ ہیں۔ ان آیات سے صرف وہی لوگ راہنمائی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ مختص کیا ہے، جن کا باطن پاک صاف اور جن کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں۔ اس لئے فرمایا : (ھدی و بشری للمومنین) ” مومنون کے لے ہدایت اور بشارت ہے۔ “ یعنی یہ آیات اہل ایمان کی صراط مستقیم کی طرف چلنے میں راہنمائی کرتی ہیں۔ ان کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کہ انہیں کس راستے پر چلنا چاہیے اور کس راستے کو ترک کرنا چاہیے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس ثواب کی خوشبخبری دیتی ہیں جو اس راستے پر گامزن ہونے پر مترتب ہوتا ہے۔ بسا اوقات کہا جاتا ہے کہ ایمان کے دعوے دار تو بہت زیادہ ہوتے ہیں تب کیا ہر اس شخص کی بات کو قبول کرلیا جائے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے، یا اس پر دلیل ضروری ہے ؟ اور یہی بات صحیح ہے اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا : (الذین یقیمون الصلوٰۃ) ” جو نما زقائم کرتے ہیں۔ “ یعنی جو فرض اور نفل نماز ادا کرتے ہیں، اس کے تمام ظاہری ارکان، شرائط، واجبات اور مستحباب کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں نیز اس کے افعال باطنہ کا بھی خیال رکھتے ہیں اور افعال باطنہ سے مراد خشوع ہے جو کہ نما زکی روح اور اس کا لب لباب ہے جو اللہ کی قربت کے استحضار اور نمازی کا نماز کے اندر قراءت اور تسبیحات اور رکوع و سجود اور دیگر افعال میں تدبر و تفکر سے حاصل ہوتا ہے۔ (ویوتون الزکوۃ) ” اور (مستحق لوگوں کو) زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ “ (وھم بالاخرۃ ھم یوقنون) ” اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ “ یعنی ان کے ایمان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ درجہء یقین تک پہنچا ہوا ہے۔ یقین سے مراد علم کا مل ہے جو قلب کی گہرائیوں میں اتر کر عمل کی دعوت دیتا ہے۔ آخرت پر ان کا یقین تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے حصول کے لئے پوری کوشش کریں، عذاب کے اسباب اور عقاب کے موجبات سے بچیں اور یہ ہر بھلائی کی بنیاد ہے۔ (ان الذین لا یومنون بالاخرۃ) ” جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ “ بلکہ وہ آخرت کو اور ان لوگوں کو جھٹلاتے ہیں جو آخرت کا اثبات کرتے ہیں۔ (زینا لھم اعمالھم فھم یعمھون) ” ہم نے ان کے عملوں کو ان کے لئے مزین کردیا، پس وہ حیران و سرگرداں پھرتے ہیں۔ “ وہ حیران و متردد ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو اس کی رضا پر ترجیح دیتے ہیں، ان کی نظر میں حقائق بدل گئے ہیں وہ باطل کو حق اور حق کو باطل سمجھنے لگے ہیں۔ (اولئک الذین لھم سوا العذاب) یعنی ان کے لئے نہایت سخت، بدترین اور سب سے بڑا عذاب ہے۔ (وھم فی الاخرۃ ھم الاخسرون) ” اور آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔ “ خسارہ انہی کے ساتھ مختص ہے کیونکہ وہ خود اور ان کے گھر والے قیامت کے روز خسارے میں ہوں گے اور وہ ایمان کے بارے میں بھی خسارے میں ہیں جس کی طرف انبیاء نے ان کو دعوت دی ہ۔ (وانک لتلقی القران من لدن حکیم علیم) ” اور بلا شبہ آپ کو قرآن، حکیم وعلیم کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔ “ یعنی یہ قرآن جو آپ پر نازل ہوتا ہے اور آپ اسے اخذ کرتے ہیں (حکیم) دانا ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام اشیاء کو انکے مقام پر رکھتی اور ان کے جگہ پر نازل کرتی ہے (علیم) باخبر ہستی کی طرف سے نازل ہوتا ہے جو تمام امور کے اسرار اور ان کے باطن کا اسی طرح علم رکھتی ہے جس طرح وہ ان کے ظاہر کا علم رکھتی ہے۔ چونکہ یہ قرآن دانا و باخبر ہستی کی طرف سے ہے اسے لئے معلوم ہوا کہ یہ تمام تر حکمت و دانائی اور بندوں کے مصالح پر مشتمل ہے اور کون ہے جو ان کے مصالح کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر جانتا ہو ؟
Ayahs 27:7–14

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے آگ دیکھی ہے میں وہاں سے (راستہ کا) پتہ لاتا ہوں یا سلگتا ہوا انگارا تمہارے پاس لاتا ہوں تاکہ تم تاپو

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ وہ جو آگ میں (بجلی دکھاتا) ہے بابرکت ہے اور وہ جو آگ کے اردگرد ہیں اور خدا جو تمام عالم کا پروردگار ہے

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

پاک ہے اے موسیٰ میں ہی خدائے غالب و دانا ہوں

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور اپنی لاٹھی ڈالدو جب اسے دیکھا تو (اس طرح) ہل رہی تھی گویا سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا (حکم ہوا کہ) موسیٰ ڈرو مت ہمارے پاس پیغمبر ڈرا نہیں کرتے

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا تو میں بخشنے والا مہربان ہوں

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو سفید نکلے گا بےعیب (ان دو معجزوں کے ساتھ جو) نو معجزوں میں (داخل ہیں) فرعون اور اسکی قوم کے پاس جاؤ کہ وہ بےحکم لوگ ہیں

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پھر جب ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں پہنچی کہنے لگے یہ صریح جادو ہے

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور بےانصافی اور غرور سے ان سے انکار کیا کہ ان کے دل ان کو مان چکے تھے سو دیکھ لو کہ فسان کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا

آیت 7 سے 14 یعنی موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتداء، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریقہ و فاضلہ کو یاد کیجئے۔۔۔ یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : (انی انست نارا) یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے : (ساتیکم منھا بخبر) میں وہاں سے تمہارے لئے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں (اواتکیم بشھاب قبس لعللکم تصطلون) ” یا سلگتا ہوا نگارا تمہارے پاس لاتا ہوں، تاکہ تم آگ تاپ سکو۔ “ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اور ان کے گھر والے بیاباں میں بھٹک گئے تھے اور سخت سردرات تھی۔ (فلما جاھ ھا نودی ان بورک من فی النار ومن حولھا) ” پس جب وہ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور وہ جو اس (آگ) کے اردگرد ہیں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا اور آگاہ فرمایا کہ یہ نہایت مقدس اور مبارک جگہ ہے۔ یہ اس مقام کی برکت ہی ہے کہ اللہ تالیٰ نے اس مقام کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف کلام بخشنے، آپ کو آواز دینے اور آپ کو رسالت سے سرفراز کرنے کے لئے منتخب فرمایا : (وسبحن اللہ رب العلمین) یعنی اللہ رب کائنات اسی چیز سے پاک اور منزہ ہے کہ اس کے بارے میں کسی نقص اور برائی کا گمان کیا جائے۔ (یموسی انہ انا اللہ العزیز الحکیم) ” اے موسیٰ ! میں ہی اللہ، غالب و دانا ہوں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو آگاہ فرمایا کہ صرف اللہ ہی اکیلا عبادت کا مستحق ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا : (اننی انا اللہ لا الہ الا انا فاعبدنی واقم الصلوٰۃ الذکری) (طۃ : 20/14) ” میں اللہ ہوں، جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ پس میری عبادت کر اور مجھے یادر کھنے کے لئے نماز قائم کرو۔ “ (العزیز) جو تمام اشیاء پر غالب ہے اور جس کے سامنے تمام مخلوقات مطیع اور سرافگندہ ہیں۔ (الحکیم) وہ اپنے امرو خلق میں حکمت والا ہے۔ یہ اس کی حکمت ہی ہے کہ اس نے اپنے بندے موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا جن کے بارے میں اللہ تبارک تعالیٰ کو علم ہے کہ وہ رسالت، وحی اور شرف کلام بخشے جانے کے اہل ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غلبہ ہی ہے کہ آپ اس پر بھروسہ کرتے ہیں آپ اپنے تنہا ہوتنے، دشمنوں کی کثرت اور ان کے ظلم و جبر کے باوجود وحشت نہیں کھاتے۔ کیونکہ ان کی پیشانیاں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور ان کی حرکات و سکون اس کے دست تدبیر کے تحت ہیں۔ (والق عصاک) ” اور اپنی لاٹھی ڈال دو ۔ “ پس انہوں نے اپنی لاٹھی ڈال دی (فلما راھ اتھتذ کانھا جان) ” پس جب اسے حرکت کرتا ہوا دیکھا اس طرح کہ گویا وہ ایک سانپ ہے۔ “ وہ ایک سریع الحرکت نر سانپ تھا۔ (ولی مدبرا ولم یعقب) ” تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ “ آپ طبیعت بشری کے تقاضے کے مطابق اس سانپ سے خوف کھا کر بھاگے جو آپ نے دیکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیی (علیہ السلام) سے فرمایا : (یموسی لاتخفف) ” اے موسیٰ ! ڈرئیے مت۔ “ ایک مقام پر فرمایا : (اقبل ولا تخفف انک من الامنین) (القصص : 28/31) ” اے موسیٰ !” آگے آ، ڈر مت، یقیناً تو ہر طرح امن والا ہے۔ “ (انی لا یخاب لدی المرسلون) ” پیغمبر میرے پاس ڈرا نہیں کرتے۔ “ پیغمبروں کو کوئی امر خوف زدہ نہیں کرتا اس لیے کہ تمام مقامات خوف اللہ تعالیٰ کی قضاو قدر، اس کے تصرف اور امر کے مطابق درج ہیں۔ وہ نفوس قدسیہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لئے متخص اور اپنی وحی کے لئے چن لیا ہے ان کے لئے مناسب نہیں کہ وہ غیر اللہ سے ڈریں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی قرب اور اس سے ہم کلامی کے موقع پر۔ (الا من ظلم ثم بدل حسنا بعد سوء) ” ہاں جس نے ظلم کیا پھر برائی کے بعد اسے نیکی سے بدل دیا۔ “ یعنی یہ ہے وہ مقام جہاں اپنے ظلم اور جرم کے سبب سے وحشت اور خوف آنا چاہیے۔ رہے انبیاء ومرسلین (علیہ السلام) تو وحشت اور خوف کا ان کے ساتھ کیا تعلق ؟ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرکے ظلم کا ارکاب کیا پھر اس نے توبہ کے ذرئعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اپنی برائیوں کو نیکیوں کے ساتھ اور اپنی نافرمانیوں کو اطاعت کے ساتھ بدل ڈالا تو بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور نہایت رحم کرنے والا ہے کسی کو اس کی رحمت اور مغفر ت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔ (وادخل یدک فی جیبک تخرج بیضاء من غیر سوء) ” اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو، وہ سی بیماری کے بغیر سفید نکلے گا۔ “ یعنی برص اور نقص نہیں تھا بلکہ سفید، اس کی شعاعیں دیکھنے والوں کو مبہوت کئے دے رہی تھی : (فی تسع ایت الی فرعون وقومہ) ” نو معجزے لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ “ یعنی یہ دو معجزات، عصا کا دوڑتا ہوا سانپ بن جانا، ہاتھ کا گریبان سے نکالنا، اس کا سفید نکلنا، جملہ نو معجزات میں شامل ہیں۔ آپ ان معجزات کے ساتھ جائیں فرعون اور اس کی قوم کو اللہ تعالیٰ ی طرف بلائیں۔ (انھم کانو اقوما فسقین) ” بیشک وہ فاسق لوگ ہیں۔ “ انہوں نے اپنے شرک، سرکشی، اللہ کے بندوں پر تغلب اور زمین میں ناحق تکبر کے ذریعے سے فسق کا ارتکاب کیا۔ پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے اشراف کے پاس گئے، انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی اور ان کو معجزات دکھائے۔ (فلماجاھ تھم ایتنا مبصرۃ) ” پس جب ان کے پاس روشنی نشانیاں آئیں “ جو حق پر دلالت کرتی تھیں اور ان کے ذریعے سے (حق) ایسے دیکھا جاسکتا ہے جیسے آنکھیں سورج کے ذریعے سے دیکھتی ہیں۔ (قالو اھذا سحر مبین) ” تو انہوں نے کہا یہ صریح جادو ہے۔ “ انہوں نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا کہ ” یہ جادو ہے “ بلکہ انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا : (مبین) ” یہ کھلا دجادو ہے “ جو ہر ایک پر ظاہر ہے، حالانکہ یہ سب سے زیادہ تعجب خیز معجزات، واضح دلائل اور ہر طرف پھیل جانے والی روشنیاں تھیں جو فرضی قصے کہانیاں سے بہت زیادہ واضح اور جادوں کے کرتبوں سے بہت زیادہ ظاہر کرکے دکھائی گئی تھیں۔ یہ سب انکار حق اور انتہائی مغالطہ آمیز طرز استدلال ہے۔ (وجحدوا بھا) ” اور انہوں نے اس کا انکار کیا۔ “ یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہوئے ان سے کفر کیا۔ (واستیقتنھا انفسھم) ” حالانکہ ان کے دل اس کو مان چکے تھے۔ “ یعنی ان کا انکار کرسی شک و ریب پر مبنی نہیں تھا۔ انہوں نے آیات الٰہی کی صحت کے علم اور یقین کے باوجود ان کا انکار کیا۔ (ظلما) یعنی انہوں نے اپنے رب کے حق اور خود اپنے آپ ظلم کرتے ہوئے (عملوا) حق اور بندوں پر غلبہ اور انبیاء ومرسلین کی اطاعت کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ آیات کا انکار کیا۔ (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھئے مفسدوں کا کیسا (بدترین) انجام ہوا۔ “ اللہ تعالیٰ نے ان کو تباہ و برباد کردیا، ان کو سمندر میں غرق کیا، انہیں رسوا کی اور ان کی رہائش گاہوں اور مساکن کا اپنے کمزور بندوں کو وارث بنایا۔