27. Surah An-Naml
النملThe Ant · 93 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
سورة نمبر 27 کل رکوع 7 آیات 93 الفاظ و کلمات 1167 حروف 4879 یہ سورة مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جس میں توحید خالص کی تعلیم ‘ عظمت نبوت ‘ فکر آخرت اور تخلیق کائنات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس سورة میں چند انبیاء کرام کا ذکر کرکے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے کس طرح اللہ کا دین پہنچایا ان کے لیے دنیا کی مال داری اور سرداری ان کی تبلیغ دین میں رکاوٹ نہیں بنی بلکہ انہوں نے سب کچھ ہونے کے باوجود اللہ کا شکر ادا کیا اور اللہ کا دین پھیلانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت دائود (علیہ السلام) ‘ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا۔ دوسری طرف قوم فرعون ‘ قوم ثمود اور قوم لوط کی نافرمانیوں کا ذکر کر کے بتایا کہ اللہ کا یہ دستور ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو بچا لیتا ہے اور منکرین کو مٹادیتا ہے یہ اس کا نظام ہے۔ بلکہ بلقیس جو سورج کو اپنا معبود سمجھتی تھیں جب ان کو اللہ کا دین پہنچا تو انہوں نے اپنے شرک سے توبہ کرلی اور وہ اللہ کی فرمانبردار ہو کر عزت و عظمت کے بلند مقام کو حاصل کرسکیں۔ نمل ‘ چونٹی کو کہتے ہیں۔ اس سورة میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے چیونٹیوں کی ایک وادی کا ذکر ہے اسی مناسبت سے اس سورة کا نام النمل رکھا گیا ہے۔ اس سورة میں عبرت و نصیحت کے لیے چند انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی نافرمان قوموں کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا ہے کہ ایک طرف تو فرعون قوم ثمود اور قوم لوط تھی جن کو انبیاء نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور حسن عمل کرنے پر بشارتیں دیں لیکن انہوں نے نافرمانی اور گناہ کے راستے کا انتخاب کرلیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت صالح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں کو بچا لیا گیا اور نافرمان قوموں کو ان کے گناہوں کے سبب جڑ و بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا۔ ان کی بستیاں ان پر الٹ دی گئیں اور انہیں سمندر میں غرق کردیا گیا۔ ان کی ترقیات ‘ مال و دولت اور اونچی عمارتیں ان کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکیں۔ دوسری طرف حضرت دائود ؐ اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو حکومت و سلطنت اور تمام دنیاوی طاقتیں عطا کی گئیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو چرند ‘ پرند اور درند میں سے ہر ایک کی زبان اور بولی سکھائی گئی۔ انسان اور جنات کو ان کے تابع کردیا گیا پوری دنیا پر ان کی حکومت تھی لیکن اس سب کے باوجود نہ ان میں اپنی سلطنت و طاقت کا غرور تھا نہ انہوں نے اپنی طاقت کو مظلوموں کو تباہ کرنے کا ذریعہ بنایا بلکہ قدم قدم پر اللہ کی نعمتوں کا شکر اور عاجزی و انکساری کو روشن زندگی بنائے رکھا۔ ملکہ بلقیس کا ذکر کرکے مکہ مکرمہ کے کافروں سے یہ کہا جارہا ہے کہ اب فیصلہ کرنا ان کا اپنا کام ہے کہ وہ تاریخ کی سچائیوں پر ایمان لاتے ہیں یا ان پر تاریخ کو پھر سے دہرایاجائے۔ اگر انہوں نے ملکہ بلقیس کا طریقہ اختیار کیا کہ وہ مشرکہ تھیں ‘ سورج کو اپنا معبود مانتی تھیں لیکن جب ان پر اسلام کو پیش کیا گیا تو انہوں نے کفر و شرک سے توبہ کر کے اللہ کی فرمانبرداری اختیار کرلی اور اس طرح دنیا اور اپنی آخرت کو سنوار لیا۔ ان کو اختیار ہے اگر وہ چاہیں تو قوم فرعون ‘ قوم ثمو اور قوم لوط کا طریقہ اپنا لیں جنہوں نے اللہ کی سرزمین پر ناحق غرور تکبر کیا اور اپنی طاقت و قوت کے نشے میں اللہ اور اس کے رسولوں کی نافرمانی اختیار کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام تر طاقت و قوت کے باوجود ان قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر عبرت کا نمونہ بنادیا گیا۔ آج ان کے عالی شان مکانات کے کھنڈرات ان کے غرور وتکبر کا منہ چڑا رہے ہیں۔ اگر وہ اللہ و رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے تو ان کو دنیا میں اس سے زیادہ عروج و ترقی دی جاتی جو وہ حاصل کرچکے تھے اور آخرت میں ان کو جنت کی ابدی راحتیں عطا کیے جانے کا وعدہ برحق ہے۔ اس سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت اور تخلیق کا ذکر کرکے انسانوں کے ضمیر سے پوچھا ہے کہ زمین و آسمان ‘ چاند ‘ سورج ‘ ستارے ‘ چرند ‘ پرند ‘ درند اور خود انسانوں اور جنات کو کس نے پیدا کیا۔ فرمایا کہ اگر وہ غرور تکبر سے کام نہ لیں تو ان کے دل پکار اٹھیں گے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے وہی اس کا رخانہ ہستی کو چلارہا ہے ساری قدرت اور سارا اختیار اسی ایک اللہ کا ہے۔ اس کے بر خلاف وہ معبود جن کو وہ اپنا حاجت روا مانتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی تمام تمناؤں کو وہ پورا کرتے ہیں وہ اپنے وجود میں خود انسانی ہاتھوں کے محتاج ہیں۔ وہ پیدا کیے جاتے ہیں لیکن کائنات میں وہ ایک ذرے کو بھی پیدا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ فرمایا گیا کہ جو اپنے نفع اور نقصان کے مالک نہیں ہیں وہ دوسروں کے نفع و نقصان کے مالک کیسے ہو سکتے ہیں ؟ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کی بات کوئی مانتا ہے یا نہیں مانتا آپ اعلان فرمادیجئے کہ میں اس اللہ کا فرماں بردار ہوں جس نے مجھے ایمان پر چلنے کی توفیق عطا فرمائی۔ میں اس کا کلام تمہیں سناتا ہوں ‘ قرآن پڑھتا پڑھاتا ہوں ‘ نیک اور بہتر راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہوں جو شخص بھی میری بات سنے گا ‘ میری اطاعت کرے گا اس میں اسی کا فائدہ ہے لیکن جو شخص نافرمانی کا راستہ اختیار کے گا وہ دینا اور آخرت میں سوائے نقصان کے کچھ بھی حاصل نہ کرسکے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے یہ بھی کہلوایا گیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اعلان کر دیجئے کہ میرا اللہ وہ ہے جو تمام خوبیوں ‘ عظمتوں اور تعریفوں کا مستحق ہے۔ بہت جلد قیامت آنے والی ہے۔ اس دن وہ اللہ انکار اور کفر و شرک کرنے والوں کو بتادے گا کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کس طرح ایک اچھا موقع ضائع کردیا ہے۔ اب ان کو اپنے اعمال کے برے نتائج کو بھگتنا ہوگا۔ کیونکہ وہ اللہ تمہارے کسی عمل سے بیخبر نہیں ہے۔
طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader
طٰس۔ یہ قرآن کی واضح اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں
هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader
جو ہدایت اور ان مومنوں کے لئے خوش خبری ہیں۔
الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader
جو لوگ نماز کو قائم کرتے ‘ زکوۃ دیتے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader
بیشک جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال ان کی نظر میں خوش نما بنادیئے ہیں اور وہ ان ہی میں بھٹکتے پھر رہے ہیں۔
اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader
یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے بد ترین عذاب ہے اور وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔
وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader
(اے نبی ﷺ ! ) یقیناً آپ کو یہ قرآن بڑی حکمت والے اور بہت زیادہ جاننے والے کی طرف سے دیا گیا ہے۔
اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader
یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ میں تمہارے پاس یا تو (راستے کی ) خبر لاتا ہوں یا آگ کا شعلہ (انگارہ) لے کر آتا ہوں تاکہ تم اس سے گرمائی حاصل کرسکو۔
فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader
پھر جب وہ آگ کے قریب پہنچے تو آواز دی گئی کہ مبارک ہے جو آگ کے اندر ہے اور جو اس کے اردگرد ہے۔ اللہ کی ذات پاک بےعیب ہے اور وہی رب العالمین ہے۔
یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader
اے موسیٰ (علیہ السلام) ! میں ہی اللہ ہوں غالب حکمت والا۔
وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader
اور تم اپنا عصا پھینکو۔ پھر جب انہوں نے اس کو حرکت کرتے دیکھا جیسے وہ سانپ ہو تو وہ (موسیٰ (علیہ السلام) پیٹھ پھیر کر بھاگے اور انہوں نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ نے فرمایا اے موسیٰ تم مت ڈرو۔ بیشک میرے سامنے رسول ڈرا نہیں کرتے۔
اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader
سوائے اس کے اگر کسی سے کوتاہی ہوجائے۔ اور پھر وہ اسکو نیکی سے بدل لے تو بیشک میں بہت زیادہ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہوں۔
وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader
اور اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالئے وہ بغیر کسی عیب کے سفید چمکتا ہوانکلے گا۔ نونشانیوں میں سے (دونشانیاں) لے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف جایئے کیونکہ وہ بہت حد سے نکل جانے والے لوگ ہیں۔
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader
پھر جب وہ ان کے پاس روشن معجزات لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔
وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader
حالانکہ ان کے دلوں میں اس کا یقین تھا مگر انہوں نے ظلم اور تکبر سے اس کا انکار کردیا۔ اے نبی ﷺ ! دیکھئے ان فسادیوں کا انجام کیسا (بھیانک) ہوا۔
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader
اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ ان دونوں نے کہا تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی ہے۔
وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader
اور سلیمان (علیہ السلام) دائود (علیہ السلام) کے وارث ہوئے۔ انہوں نے کہا اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے۔ اور ہمیں ہر نعمت دی گئی ہے۔ بیشک یہ اللہ کا کھلا ہوا فضل و کرم ہے۔
وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader
اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے جنات ‘ انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے تھے۔ وہ پورے نظم و ضبط میں رکھے جاتے تھے۔
حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader
یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔ اے چیونٹیو ! اپنے بلوں میں گھس جائو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان (علیہ السلام) اور ان کا لشکر تمہیں روند ڈالیں اور انہیں خبر ہی نہ ہو۔
فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader
اس پر سلیمان مسکراتے ہوئے ہنس پڑے اور کہا اے میرے پروردگار مجھے اس بات پر قائم رکھئے گا کہ میں آپ کے ان احسانات کا شکر ادا کرتا رہوں جو آپ نے مجھ پر اور میرے والدین پر کئے ہیں۔ اور میں ایسے بھلے کام کرتا رہوں جس سے آپ راضی ہوجائیں۔ اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل رکھیئے گا۔
وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader
اور انہوں نے (سلیمان نے ) پرندوں کا جائزہ لیا تو کہا کیا بات ہے میں نے ہدہد کو نہیں دیکھا۔ کیا وہ کہیں غائب ہوگیا ہے ؟
لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader
البتہ میں اس کو سخت سزا دوں گا یا میں اسکو ذبح کر ڈالوں گا۔ ورنہ اسے میرے سامنے کوئی معقول وجہ پیش کرنا ہوگی۔
فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader
زیادہ دیر نہیں گذری تھی کہ ہدہد نے حاضر ہوکر کہا کہ میں ایک ایسی بات معلوم کرکے آیا ہوں جس کا شاید آپ کو علم نہیں ہے۔ اور میں آپ کے پاس قوم سبا سے ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں۔
اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader
میں نے ایک عورت کو دیکھا ہے جو وہاں کے لوگوں پر حکومت کررہی ہے۔ اور اس کو ہر طرح کا سازوسامان دیا گیا ہے۔ اور اس کے پاس ایک عظیم الشان تخت ہے۔
وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader
میں نے اسے اور اس کی قوم کو دیکھا ہے کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کررہے ہیں۔ اور شیطان نے ان کے اعمال ان کی نظروں میں آراستہ کرکے دکھادیئے ہیں اور ان کو صحیح راستے سے روک دیا ہے لہٰذا وہ راہ ہدایت نہیں پاسکتے۔
اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader
اور وہ اس اللہ کو ( کیوں) سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو نکالتا ہے۔ اور وہ ہر اس چیز کو جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader
اللہ کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے۔ وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔
قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader
سلیمان (علیہ السلام) نے کہا کہ ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے۔
اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader
میرا یہ خط لے کر جا اور اس کو ان کے آگے ڈا ل دے۔ پھر دور ہٹ کر دیکھنا کہ وہ کیا باتیں کرتیں ہیں۔
قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader
(ملکہ بلقیس نے ) کہا کہ اے میرے سرداروں ! مجھے ایک با عظمت خط بھیجا گیا ہے۔
اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader
وہ سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے ہے۔ اللہ جو رحمن و رحیم ہے اس کے نام سے شروع کیا گیا ہے۔
اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader
(اس میں لکھا ہے کہ) تم میرے مقابلے میں بڑائی اختیار نہ کرو۔ اور اطاعت کے ساتھ میرے پاس چلی آئو۔
قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader
(ملکہ نے ) کہا اے سردارو ! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو میں اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو۔
قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader
انہوں نے کہا۔ ہم بڑی قوت و طاقت والے اور سخت جنگ کرنیوالے ہیں۔ فیصلہ تمہارے اختیار میں ہے تم خود دیکھو کہ تمہیں کیا حکم دینا ہے۔
قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader
(ملکہ سبا نے ) کہا کہ بیشک بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔ اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل و خوار کردیتے ہیں، اور یہ لوگ بھی ایس ہی کریں گے
وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader
اور بیشک میں ان کے پاس کچھ ہدیہ بھیجتی ہوں پھر دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں۔
فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader
پھر جب سلیمان (علیہ السلام) کے پاس قاصد آیا تو انہوں نے کہا۔ کیا تم مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ پس جو کچھ اللہ نے ہمیں دیا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا گیا ہے۔ بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ ) تم اپنے تحفے پر اتراتے ہو۔
اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader
تو ان کی طرف لوٹ جا۔ اب ہم ان پر ایک ایسا لشکر لے کر آئیں گے جس کا وہ مقابلہ نہ کرسکیں گے اور ہم ان کو وہاں سے بےعزت کر کے نکالیں گے اور وہ ذلیل و خواو ہوجائیں گے۔