27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة نمبر 27 کل رکوع 7 آیات 93 الفاظ و کلمات 1167 حروف 4879 یہ سورة مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جس میں توحید خالص کی تعلیم ‘ عظمت نبوت ‘ فکر آخرت اور تخلیق کائنات کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس سورة میں چند انبیاء کرام کا ذکر کرکے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے کس طرح اللہ کا دین پہنچایا ان کے لیے دنیا کی مال داری اور سرداری ان کی تبلیغ دین میں رکاوٹ نہیں بنی بلکہ انہوں نے سب کچھ ہونے کے باوجود اللہ کا شکر ادا کیا اور اللہ کا دین پھیلانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت دائود (علیہ السلام) ‘ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا۔ دوسری طرف قوم فرعون ‘ قوم ثمود اور قوم لوط کی نافرمانیوں کا ذکر کر کے بتایا کہ اللہ کا یہ دستور ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کو بچا لیتا ہے اور منکرین کو مٹادیتا ہے یہ اس کا نظام ہے۔ بلکہ بلقیس جو سورج کو اپنا معبود سمجھتی تھیں جب ان کو اللہ کا دین پہنچا تو انہوں نے اپنے شرک سے توبہ کرلی اور وہ اللہ کی فرمانبردار ہو کر عزت و عظمت کے بلند مقام کو حاصل کرسکیں۔ نمل ‘ چونٹی کو کہتے ہیں۔ اس سورة میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے چیونٹیوں کی ایک وادی کا ذکر ہے اسی مناسبت سے اس سورة کا نام النمل رکھا گیا ہے۔ اس سورة میں عبرت و نصیحت کے لیے چند انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی نافرمان قوموں کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا ہے کہ ایک طرف تو فرعون قوم ثمود اور قوم لوط تھی جن کو انبیاء نے اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور حسن عمل کرنے پر بشارتیں دیں لیکن انہوں نے نافرمانی اور گناہ کے راستے کا انتخاب کرلیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت صالح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں کو بچا لیا گیا اور نافرمان قوموں کو ان کے گناہوں کے سبب جڑ و بنیاد سے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا۔ ان کی بستیاں ان پر الٹ دی گئیں اور انہیں سمندر میں غرق کردیا گیا۔ ان کی ترقیات ‘ مال و دولت اور اونچی عمارتیں ان کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکیں۔ دوسری طرف حضرت دائود ؐ اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو حکومت و سلطنت اور تمام دنیاوی طاقتیں عطا کی گئیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو چرند ‘ پرند اور درند میں سے ہر ایک کی زبان اور بولی سکھائی گئی۔ انسان اور جنات کو ان کے تابع کردیا گیا پوری دنیا پر ان کی حکومت تھی لیکن اس سب کے باوجود نہ ان میں اپنی سلطنت و طاقت کا غرور تھا نہ انہوں نے اپنی طاقت کو مظلوموں کو تباہ کرنے کا ذریعہ بنایا بلکہ قدم قدم پر اللہ کی نعمتوں کا شکر اور عاجزی و انکساری کو روشن زندگی بنائے رکھا۔ ملکہ بلقیس کا ذکر کرکے مکہ مکرمہ کے کافروں سے یہ کہا جارہا ہے کہ اب فیصلہ کرنا ان کا اپنا کام ہے کہ وہ تاریخ کی سچائیوں پر ایمان لاتے ہیں یا ان پر تاریخ کو پھر سے دہرایاجائے۔ اگر انہوں نے ملکہ بلقیس کا طریقہ اختیار کیا کہ وہ مشرکہ تھیں ‘ سورج کو اپنا معبود مانتی تھیں لیکن جب ان پر اسلام کو پیش کیا گیا تو انہوں نے کفر و شرک سے توبہ کر کے اللہ کی فرمانبرداری اختیار کرلی اور اس طرح دنیا اور اپنی آخرت کو سنوار لیا۔ ان کو اختیار ہے اگر وہ چاہیں تو قوم فرعون ‘ قوم ثمو اور قوم لوط کا طریقہ اپنا لیں جنہوں نے اللہ کی سرزمین پر ناحق غرور تکبر کیا اور اپنی طاقت و قوت کے نشے میں اللہ اور اس کے رسولوں کی نافرمانی اختیار کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام تر طاقت و قوت کے باوجود ان قوموں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر عبرت کا نمونہ بنادیا گیا۔ آج ان کے عالی شان مکانات کے کھنڈرات ان کے غرور وتکبر کا منہ چڑا رہے ہیں۔ اگر وہ اللہ و رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے تو ان کو دنیا میں اس سے زیادہ عروج و ترقی دی جاتی جو وہ حاصل کرچکے تھے اور آخرت میں ان کو جنت کی ابدی راحتیں عطا کیے جانے کا وعدہ برحق ہے۔ اس سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے وحدانیت اور تخلیق کا ذکر کرکے انسانوں کے ضمیر سے پوچھا ہے کہ زمین و آسمان ‘ چاند ‘ سورج ‘ ستارے ‘ چرند ‘ پرند ‘ درند اور خود انسانوں اور جنات کو کس نے پیدا کیا۔ فرمایا کہ اگر وہ غرور تکبر سے کام نہ لیں تو ان کے دل پکار اٹھیں گے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے وہی اس کا رخانہ ہستی کو چلارہا ہے ساری قدرت اور سارا اختیار اسی ایک اللہ کا ہے۔ اس کے بر خلاف وہ معبود جن کو وہ اپنا حاجت روا مانتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی تمام تمناؤں کو وہ پورا کرتے ہیں وہ اپنے وجود میں خود انسانی ہاتھوں کے محتاج ہیں۔ وہ پیدا کیے جاتے ہیں لیکن کائنات میں وہ ایک ذرے کو بھی پیدا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ فرمایا گیا کہ جو اپنے نفع اور نقصان کے مالک نہیں ہیں وہ دوسروں کے نفع و نقصان کے مالک کیسے ہو سکتے ہیں ؟ فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کی بات کوئی مانتا ہے یا نہیں مانتا آپ اعلان فرمادیجئے کہ میں اس اللہ کا فرماں بردار ہوں جس نے مجھے ایمان پر چلنے کی توفیق عطا فرمائی۔ میں اس کا کلام تمہیں سناتا ہوں ‘ قرآن پڑھتا پڑھاتا ہوں ‘ نیک اور بہتر راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہوں جو شخص بھی میری بات سنے گا ‘ میری اطاعت کرے گا اس میں اسی کا فائدہ ہے لیکن جو شخص نافرمانی کا راستہ اختیار کے گا وہ دینا اور آخرت میں سوائے نقصان کے کچھ بھی حاصل نہ کرسکے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے یہ بھی کہلوایا گیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اعلان کر دیجئے کہ میرا اللہ وہ ہے جو تمام خوبیوں ‘ عظمتوں اور تعریفوں کا مستحق ہے۔ بہت جلد قیامت آنے والی ہے۔ اس دن وہ اللہ انکار اور کفر و شرک کرنے والوں کو بتادے گا کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کس طرح ایک اچھا موقع ضائع کردیا ہے۔ اب ان کو اپنے اعمال کے برے نتائج کو بھگتنا ہوگا۔ کیونکہ وہ اللہ تمہارے کسی عمل سے بیخبر نہیں ہے۔

Ayahs 27:1–6

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

طٰس۔ یہ قرآن کی واضح اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

جو ہدایت اور ان مومنوں کے لئے خوش خبری ہیں۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

جو لوگ نماز کو قائم کرتے ‘ زکوۃ دیتے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

بیشک جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ہم نے ان کے اعمال ان کی نظر میں خوش نما بنادیئے ہیں اور وہ ان ہی میں بھٹکتے پھر رہے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے بد ترین عذاب ہے اور وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہوں گے۔

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ ! ) یقیناً آپ کو یہ قرآن بڑی حکمت والے اور بہت زیادہ جاننے والے کی طرف سے دیا گیا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : بشری (خوش خبری۔ اچھی اطلاع) ‘ یئو تون (وہ دیتے ہیں) ‘ زینا (ہم نے خوبصورت بنادیا) ‘ یعمھون (وہ اندھے بن رہے ہیں) ‘ الا خسرون (زیادہ نقصان اٹھانے والے) ‘ تلقی (دیا گیا ہے) ‘ لدن (قریب ۔ نزدیک) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 : ٭اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا فرمائے تھے جو راہ حق سے بھٹک جانے والوں کو کھلی آنکھوں سے نظر آتے تھے مگر سچائیوں کا انکار کرنے والوں نے ان کا بھی انکار کردیا اور اللہ کے غضب کا شکار ہوگئے۔ ان ہی انبیاء کرام میں سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی تھے جن کو اللہ نے نہ صرف انسانوں اور جنات پر حکومت عطا فرمائی تھی بلکہ چرند ‘ پرند ‘ درند ہواؤں اور ہر مخلوق کو ان کے تابع کردیا تھا۔ وہ ہر جاندار کی بولی سمجھتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ” وادی النمل “ یعنی چیونٹیوں کے میدان سے گذر رہے تھے ‘ چیونٹیوں کے سردار نے کہا کہ تم اپنی حفاظت کرو کہیں سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر تمہیں روند نہڈالے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) یہ سن کر ہنس پڑے اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے انہیں ہر جاندار کی بولی اور اس کی سمجھ عطا فرمائی ہے۔ چونکہ اس میں ” النمل “ کا ذکر آیا ہے جس کے معنی چیونٹی کے ہیں اسی لئے اس سورت کا نام النمل رکھا گیا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ سنا کر اللہ نے کفار مکہ سے فرمایا ہے کہ تمہارا یہ حال ہے کہ معمولی معمولی سرداریوں اور دولت کے گھمنڈ کر کے تم اللہ کے نبی اور ان کے جاں نثاروں پر ظلم توڑنے سے باز نہیں آتے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جن کو اللہ نے ہر مخلوق پر سلطنت عطا کی تھی وہ چیونٹیوں کے ساتھ بھی انصاف کرتے تھے اور اللہ کی کسی مخلوق کو ستاتے نہیں تھے۔ ٭سورۃ النمل میں بنیادی عقیدوں کی اصلاح یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ‘ رسول کی رسالت ‘ آخرت پر یقین اور حسن عمل کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے اس کائنات کا خالق ‘ مالک ‘ حقیقی معبود اور کار ساز صرف ایک اللہ کی ذات ہے۔ وہ اپنی پیدا کی ہوئی کائنات کو اپنی قدرت اور اپنی مرضی سے چلارہا ہے۔ وہ اس کائنات کے چلانے میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ البتہ جب انسان اپنے برے اعمال اور کفر و شرک سے کائنات کا تو ازن خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے پاکیزہ نفوس بندوں یعنی پیغمبروں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ راستے سے بھٹکے ہوئے لوگوں کو ان کی بری روش اور بد اعمالیوں کی اصلاح کی طرف متوجہ کرسکیں۔ اگر وہانبیاء کرام (علیہ السلام) کے سمجھانے کے باوجود اپنی گمراہی پر قائم رہتے ہیں تو ان پر عذاب نازل کیا جاتا ہے۔ بنیوں اور رسولوں کا یہ سلسلہ ابتدائے کائنات سے شروع کیا گیا اور آخر میں اس نے اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو بھیجا جن کی نبوت و رسالت قیامت تک جاری رہے گی تمام نبیوں کی طرح نبی کریم ﷺ نے بھی اسی بات پر زور دیا ہے کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ جو شخص بھی اللہ کی ذات اور صفات میں کسی طرح بھی شرک کرتا ہے وہ ایک بہت بڑا ظلم کرتا ہے جسے اللہ معاف نہیں کرتا۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو آخری نبی اور آخری رسول بنا کر بھیجا ہے وہیں آپ کو ایک ایسی عظیم کتاب بھی عطا فرمائی گئی ہے جو قیامت تک آنے والوں کے لئے ہدایت و رہنمائی کی محفوظ کتاب ہے۔ وہ کتاب اور اس کی آیات واضح اور کھلی ہوئی دلیلوں کے ساتھ نازل کی گئی ہیں جو نہ صرف اہل ایمان کے لئے ہدایت کے اصولوں کی روشن کتاب ہے بلکہ ان لوگوں کے لئے دنیا اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ لیکن یہ صاحبان ایمان کون لوگ ہیں ؟ فرمایا کہ وہ لوگ جو نمازوں کو قائم کرتے ‘ زکوۃ ادا کرتے اور آخرت پر یقین کامل رکھنے والے ہیں۔ لیکن وہ لوگ جو آخرت کی زندگی ‘ اس کے حساب کتاب اور اچھے برے اعمال کے نتائج پر ایمان نہیں رکھتے وہ انتہائی ناکام لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے یہ بدلہ لیتا ہے کہ ان کے برے اور گندے اعمال کو ان کی نظروں میں خوبصورت بنا دیتا ہے اور وہ اپنے اعمال پر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ یہ خود فریبی ایک دن ان کو اللہ کے عذاب کا شکار بنا دیتی ہے اور ایسے لوگ آخرت میں خالی ہاتھ پہنچیں گے۔ اس وقت انہیں اس بات کا اندازہ ہوگا کہ وہ کس قدر نقصان اٹھانے والے بن چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ لوگوں کی بداعمالیوں کی فکر نہ کیجئے بلکہ آپ اللہ کے کلام کو ہر شخص تک پہنچانے کی جدوجہد کیجئے کیونکہ یہ قرآن کریم ایسی عظیم کتاب ہے جو اس علیم وخبیر اور حکمت و دانائی والی ذات کی طرف سے نازل کی گئی ہے جو اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق کے لئے کیا بہتر ہے اور انکی بھلائی کن کن چیزوں میں پوشیدہ ہے۔
Ayahs 27:7–14

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ میں تمہارے پاس یا تو (راستے کی ) خبر لاتا ہوں یا آگ کا شعلہ (انگارہ) لے کر آتا ہوں تاکہ تم اس سے گرمائی حاصل کرسکو۔

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

پھر جب وہ آگ کے قریب پہنچے تو آواز دی گئی کہ مبارک ہے جو آگ کے اندر ہے اور جو اس کے اردگرد ہے۔ اللہ کی ذات پاک بےعیب ہے اور وہی رب العالمین ہے۔

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

اے موسیٰ (علیہ السلام) ! میں ہی اللہ ہوں غالب حکمت والا۔

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور تم اپنا عصا پھینکو۔ پھر جب انہوں نے اس کو حرکت کرتے دیکھا جیسے وہ سانپ ہو تو وہ (موسیٰ (علیہ السلام) پیٹھ پھیر کر بھاگے اور انہوں نے پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔ اللہ نے فرمایا اے موسیٰ تم مت ڈرو۔ بیشک میرے سامنے رسول ڈرا نہیں کرتے۔

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

سوائے اس کے اگر کسی سے کوتاہی ہوجائے۔ اور پھر وہ اسکو نیکی سے بدل لے تو بیشک میں بہت زیادہ معاف کرنے والا نہایت مہربان ہوں۔

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالئے وہ بغیر کسی عیب کے سفید چمکتا ہوانکلے گا۔ نونشانیوں میں سے (دونشانیاں) لے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف جایئے کیونکہ وہ بہت حد سے نکل جانے والے لوگ ہیں۔

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پھر جب وہ ان کے پاس روشن معجزات لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

حالانکہ ان کے دلوں میں اس کا یقین تھا مگر انہوں نے ظلم اور تکبر سے اس کا انکار کردیا۔ اے نبی ﷺ ! دیکھئے ان فسادیوں کا انجام کیسا (بھیانک) ہوا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 14 : (اھل) گھروالے۔ اہل خانہ) ‘ انست ( میں نے دیکھا) شھاب (شعلہ) ‘ قبس (انگارہ) نودی (آوازدی گئی) ‘ تصطلون (تم سینکو۔ گرمائی حاصل کرو) ‘ بورک (برکت دی گئی) ‘ حول ( اردگرد۔ آس پاس) ‘ تھتز (لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ۔ اژدھا) ‘ مدبرا (پیٹھ پھیرنے والا) ‘ لم یعقب (مڑکرنہ دیکھا) ‘ مبصرۃ (آنکھیں کھولنے والی) ‘ استیقنت ( یقین کرلیا) ‘ علو (بڑائی۔ تکبر) عاقبۃ (انجام۔ نتیجہ) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 14 : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو اس سورت کے مضامین کے لحاظ سے دوبارہ ارشاد فرمایا گیا ہے جب وہ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس دس سال گذارنے کے بعد اپنے گھروالوں کے ساتھ واپس مصر تشریف لارہے تھے ۔ جیسا کہ اس سے پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سردی کی رات اور اندھیرے کی وجہ سے مصر کا راستہ بھول گئے تھے۔ دور دور تک کوئی شخص بھی نہ تو راستہ بتانے والا تھا اور نہ سردی سے بچنے کا سامان تھا۔ یہ جگہ وادی سینا یا وادی طوی کے قریب واقع تھی۔ آپ نے جب ایک جلتی ہوئی آگ کو دیکھا تو اپنی اہلیہ سے فرمایا کہ ذرا تم ٹہرو میں نے ایک جلتی آگ کو دیکھا ہے شاید وہاں کوئی راستہ بتانے والا مل جائے یا کم ازکم میں تھوڑی سے آگ یا انگارہ ہی لے آؤں گا تاکہ سردی سے بچائو کیا جاسکے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اس آگ سے کچھ قریب ہوئے تو ایسا محسوس ہو اجیسی کسی جھاڑی یا درخت میں آگ لگی ہوئی ہے اور وہ ایک ہرا بھرا درخت ہے۔ جب موسیٰ اس آگ کی طرف بڑھے تو وہ آگ آپ سے دور ہونے لگی اور جب آپ پیچھے ہٹتے تو ایسا لگتا جیسے آگ ان کا پیچھا کررہی ہے۔ آپ اسی حیرت و تعجب میں تھے کہ اس جھاڑیا درخت میں سے ایک آواز بلند ہوئی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) جو کچھ آگ کے اندر ہے یا اس کے ارد گرد ہے وہ مبارک و برکت والا ہے۔ اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے اور وہی رب العالمین ہے۔ فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) یہ میں ہی اللہ ہوں جس کی حکمت ہر چیز پر غالب ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھنا شروع کیا کہ یہ آواز کدھر سے آرہی ہے کیونکہ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ آواز ہر سمت اور جانب سے آرہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ ! تم اپنا عصا (لاٹھی) کو پھینکو۔ جیسے ہی انہوں نے اپنے عصا کو پھینکا تو وہ ایک اژدھا بن گیا جو پتلے سانپ کی طرح نہایت پھر تیلا اور دوڑ نے والا تھا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس اژدھا کو دیکھا تو بشری تقاضے کے تحت ان پر ایک خوف طاری ہوگیا اور انہوں نے خوف کے مارے اس طرح بھاگنا شروع کیا کہ پیچھے پلٹ کر بھی نہ دیکھا اللہ کی طرف سے آواز آئی کہ اے موسیٰ ! تم ڈرو مت کیونکہ میرے سامنے رسول ڈرا نہیں کرتے۔ ڈر تو اس شخص کو ہوتا ہے جو کسی قسم کی کوتاہی یا گناہ کرتا ہے۔ پھر بھی اگر وہ پلٹ آئے اور توبہ کرلے تو اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے وہ معاف کردیتا ہے چونکہ آپ نے تو کوئی خطا کی نہیں ہے لہٰذا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر فرمایا کہ اے موسیٰ ! اپناہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالیے وہ بغیر کسی عیب یا بیماری کے (چاند کی طرح) چمکتا ہو نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو یہ دونوں معجزات دیکر ارشاد فرمایا کہ اب آپان دونوں معجزات کو لے کر فرعون کے دربار میں بےخوف و خطر پہنچ جائیے۔ اور اس کو اور اس کی نافرمان قوم کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیے کیونکہ وہ لوگ بہت زیادہ حد سے نکل چلے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو طرح طرح کے نو معجزات عطا فرمائے مگر اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود فرعون اور اس کی قوم نے اپنے ظلم وتکبر سے توبہ نہیں کی اور آخر کار اللہ تعالیٰ نے فرعون اور قوم فرعون کو ان کے فساد کی وجہ سے بھیانک انجام سے دوچار کیا اور پانی میں ڈبو دیا گیا۔ سورۃ النمل کی ان آیات کی مزید تشریح اور وضاحت یہ ہے کہ (1) اللہ تعالیٰ جسم اور جسمانیت سے پاک ذات ہے۔ اس موقع پر یہ بات ایک دفعہ اور عرض ہے کہ اس جھاڑیا درخت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو چمک ‘ آگ اور روشنی نظر آئی ہے وہ اللہ کا نور اور تجلی ہے جو اس درخت پر ڈال دی گئی تھی۔ اس آگ کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ نے اس درخت میں حلول کرلیا تھا بلکہ محسوسات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دکھایا گیا کہ یہ درخت میں لگی ہوئی آگ ‘ یہ دنیا کی آگ نہیں ہے بلکہ اللہ کی تجلی کا عکس ہے جو نظر آتا ہے۔ آگ کی شکل میں اس لئے دکھائی گئی کہ اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آگ اور روشنی کی ضرورت تھی۔ (2) یہ غیبی آواز جو اس درخت سے معجزاتی طور پر آرہی تھی اس کی کوئی سمت یا جہت مقرر نہیں تھی بلکہ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ آواز ہر طرف سے آرہی ہیجس کو صرف حضرت موسیٰ کے کان ہی نہیں بلکہ تمام اعضاء یعنی ہاتھ پاؤں وغیرہ سن رہے تھے۔ (3) اللہ تعالیٰ نے اس وادی طوی میں حضرت موسیٰ کو دو معجزات عطا فرمائے عصا کا اژدھا بن جانا اور بغل میں سے ہاتھ نکالنا جو چاند کی طرح چمکدار اور روشن ہوجاتا تھا۔ بقیہ معجزات مختلف اوقات میں عطا فرمائے۔ (1) جادو گروں کی شکست اور فرعون کی ذلت۔ (2) شدید ترین قحط سالی (3) ٹڈیوں کا عذاب (4) غلے اور اناج میں سرسریوں کا پڑجانا۔ (5) ہر چیز میں خون کا عذاب۔ (6) مینڈکوں کا عذاب۔ (7) طوفان۔ جب بھی ان میں سے کوئی عذاب آتا تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آتے ‘ دعا کی درخواست کرتے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے یہ عذاب ٹل جاتا تو پھر سے اسی طرح اپنی نافرمانیوں میں لگ جاتے تھے۔ غرضیکہ جب یہ قوم حد سے آگے بڑھ گئی اور فساد فی الارض کی انتہاؤں پر پہنچ گئی تب اللہ کا فیصلہ آگیا اور فرعون اور اس کے تمام لشکر کو تباہ و برباد کردیا گیا اور پانی میں ڈبودیا گیا۔ اس کے برخلاف اللہ نے حضرت موسیٰ اور ان پر ایمان لانے والوں کو نجات عطا فرمادی۔ (4) ظلم و زیادتی اور تکبر و غرور ایسی بڑی خرابی ہے جو انسان کو حق و صداقت کی راہوں سے روک دیتی ہے اور اس برے انجام تک پہنچا دیتی ہے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ملتا۔
Ayahs 27:15–19

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ ان دونوں نے کہا تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی ہے۔

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور سلیمان (علیہ السلام) دائود (علیہ السلام) کے وارث ہوئے۔ انہوں نے کہا اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے۔ اور ہمیں ہر نعمت دی گئی ہے۔ بیشک یہ اللہ کا کھلا ہوا فضل و کرم ہے۔

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے جنات ‘ انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے تھے۔ وہ پورے نظم و ضبط میں رکھے جاتے تھے۔

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا۔ اے چیونٹیو ! اپنے بلوں میں گھس جائو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان (علیہ السلام) اور ان کا لشکر تمہیں روند ڈالیں اور انہیں خبر ہی نہ ہو۔

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

اس پر سلیمان مسکراتے ہوئے ہنس پڑے اور کہا اے میرے پروردگار مجھے اس بات پر قائم رکھئے گا کہ میں آپ کے ان احسانات کا شکر ادا کرتا رہوں جو آپ نے مجھ پر اور میرے والدین پر کئے ہیں۔ اور میں ایسے بھلے کام کرتا رہوں جس سے آپ راضی ہوجائیں۔ اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل رکھیئے گا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 19 : فضلنا (ہم نے فضیلت دی۔ بڑائی دی) علمنا ( ہمیں سکھایا گیا) منطق (بولنا۔ بولی) الطیر (پرندہ۔ پرندے) حشر (جمع کیا گیا) ‘ یوزعون (وہ روکے جاتے ہیں) ‘ وادالنمل (چیونٹیوں کا میدان) ‘ لایحطمن (روند نہ ڈالیں) تبسم (وہ مسکرادیا) ضاحک ( ہنسنے والا) ‘ اوزعنی ( مجھے توفیق دے) ‘ ترضی (توخوش ہوجائے) ۔ تشریح : آیت نمبر 15 تا 19 : حضرت دائود (علیہ السلام) جو بنی اسرائیل کے عظیم پیغمبر تھے ان کو اللہ نے زبور کے ساتھ ساتھ ایسی خوبصورت آواز سے نوازا ھتا کہ جب وہ اپنی خوبصورت آواز میں زبور کی آیات کی تلاوت اور اللہ کی حمد وثناء کرتے تھے تو تمام انسان ‘ جنات ‘ چرند پرند اور درند بھی جھوم اٹھتے اور ان کی حمد و ثنا سے پہاڑ گونج اٹھتے تھے۔ وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے اخراجات اپنے ہاتھ کی محنت سے پورے فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں لوہے کو موم کی طرح نرم کردیا تھا وہ جس طرح چاہتے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے لوہے کو گرم کئے بغیر باریک اور نازک زنجیروں کے حلقے بناکرایسی زر ہیں تیار کرتے تھے جن سے ایک سپاہی میدان جنگ میں آسانی سے نقل و حرکت کرسکتا تھا اور اس طرح ایک جنگی ضرورت بھی پوری ہوجاتی تھی۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے انیس بیٹے تھے جن میں سب سے چھوٹے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) تھے۔ تمام اولاد میں صرف حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہی ان کے علم کے وارث تھے۔ وقت کے عظیم نبی اور عالی شان حکومت و سلطنت کے مالک تھے۔ ایک مرتبہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی ” الہٰی مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو میسر اور حاصل نہ ہو (سورۃ ص) اللہ تعالیٰ نے ان کی اس دعا کو قبول فرمایا اور ان کو وہ سلطنت عطا فرمائی جو اپنی مثال آپ ہے۔ اللہ نے ان کو انسانوں اور جنات کے علاوہ چرند ‘ پرند ‘ رند اور ہواؤں پر بھی حکومت عطا کی تھی۔ ہوا ان کے اسی طرح تابع اور مسخر کردی گئی تھی کہ وہ آپ کے تخت کو لے کر اڑ جاتی ۔ تیز رفتاری کا یہ عالم تھا کہ ایک مہینے کا سفر آدھے دن میں طے ہوجایا کرتا تھا۔ ان کا لشکر زبردست قوت و طاقت کا مالک تھا جس میں چرند ‘ پرند ‘ درند ‘ انسان اور جنات سب ہی شامل تھے۔ اور آپ ہر مخلوق کی بوی سمجھتے تھے۔ چناچہ ایک مرتبہ آپ اسی زبردست لشکر کے ساتھ جا ہے تھے کہ آپ کے کان میں ایک چیونٹی کی آواز پڑگئی جو اپنی ساتھی چیونٹیوں سے کہہ رہی تھی کہ تم جلدی سے اپنے بلوں میں گھس جائو کیونکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر آرہا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لشکر تمہیں اپنے پاؤں سے روند ڈالے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس چھوٹے سے جانور کی بات سن پر بےساختہ ہنس پڑے اور شکر کے طور پر اللہ کے سامنے جھک گئے اور عرض کیا “ الہٰی میں کس منہ سے آپ کا شکر یہ اداکروں۔ واقعی آپ نے مجھے اور میرے والدین کو اپنی بیشمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ عاجزی اور انکساری سے عرض کیا کہ اے اللہ مجھے اپنے صالح بندوں میں شالم فرما لیجئے گا۔ اپنی خاص رحمت اورا علیٰ درجات سے نواز دیجئے گا ۔ مجھے ایسے اعمال کی توفیق عطا فرمایئے گا کہ جس سے آپ راضی ہوجائیں۔ اللہ نے ان آیات میں چند باتوں کو ارشاد فرمایا ہے (1) اللہ نے حکومت تو فرعون کو بھی دی تھی مگر وہ اس قوت و طاقت کو اپنا ذاتی کمال سمجھ کر نافرمان بن گیا اور اللہ کے مقابلے میں اس نے لوگوں کو اپنے سامنے جھکانا شروع کردیا۔ اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو زبردست قوت و طاقت ‘ حکومت و سلطنت عطا فرمائی تھی لیکن انہوں نے اس کو اپنا ذاتی کمال نہیں بلکہ اللہ کی عطائو بخشش سمجھا اسی لیے وہ ہر آن ہر نعمت پر اللہ کا شکرادا کرتے تھے۔ (2) اتنی بڑی سلطنت و حکومت کے باوجود حضرت دائود لوہے کی زر ہیں بنا کر اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) ٹوکریاں بناکر اپنی گذراوقات کرتے تھے۔ یہ وہ ہاتھ کی کمائی تھی جو انسان کو اللہ کا محبوب بنادیتی ہے۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کسی انسان کا بہترین رزق اس کے اپنے ہاتھ کی کمائی ہے۔ بلاشبہ حضرت دائود اپنے ہاتھ سے محنت کرتے تھے۔ (3) اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ اس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو حضرت دائود ؐ کا وارث بنایا اس سے مراد ” وراثت علم “ ہے مال و دولت کی وراثت نہیں ہے کیونکہ انبیاء کرام کی وراثت مال و دولت نہیں ہوتی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہم انبیاء کرام نہ کسی کے وارث ہوتے ہیں اور نہ کوئی ہمارا وارث ہوتا ہے۔
Ayahs 27:20–37

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

اور انہوں نے (سلیمان نے ) پرندوں کا جائزہ لیا تو کہا کیا بات ہے میں نے ہدہد کو نہیں دیکھا۔ کیا وہ کہیں غائب ہوگیا ہے ؟

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

البتہ میں اس کو سخت سزا دوں گا یا میں اسکو ذبح کر ڈالوں گا۔ ورنہ اسے میرے سامنے کوئی معقول وجہ پیش کرنا ہوگی۔

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

زیادہ دیر نہیں گذری تھی کہ ہدہد نے حاضر ہوکر کہا کہ میں ایک ایسی بات معلوم کرکے آیا ہوں جس کا شاید آپ کو علم نہیں ہے۔ اور میں آپ کے پاس قوم سبا سے ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں۔

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

میں نے ایک عورت کو دیکھا ہے جو وہاں کے لوگوں پر حکومت کررہی ہے۔ اور اس کو ہر طرح کا سازوسامان دیا گیا ہے۔ اور اس کے پاس ایک عظیم الشان تخت ہے۔

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

میں نے اسے اور اس کی قوم کو دیکھا ہے کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کررہے ہیں۔ اور شیطان نے ان کے اعمال ان کی نظروں میں آراستہ کرکے دکھادیئے ہیں اور ان کو صحیح راستے سے روک دیا ہے لہٰذا وہ راہ ہدایت نہیں پاسکتے۔

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

اور وہ اس اللہ کو ( کیوں) سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو نکالتا ہے۔ اور وہ ہر اس چیز کو جانتا ہے جسے تم چھپاتے ہو اور جسے تم ظاہر کرتے ہو۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

اللہ کے سوا کوئی عبادت و بندگی کے لائق نہیں ہے۔ وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

سلیمان (علیہ السلام) نے کہا کہ ہم ابھی دیکھ لیتے ہیں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے۔

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

میرا یہ خط لے کر جا اور اس کو ان کے آگے ڈا ل دے۔ پھر دور ہٹ کر دیکھنا کہ وہ کیا باتیں کرتیں ہیں۔

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

(ملکہ بلقیس نے ) کہا کہ اے میرے سرداروں ! مجھے ایک با عظمت خط بھیجا گیا ہے۔

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

وہ سلیمان (علیہ السلام) کی طرف سے ہے۔ اللہ جو رحمن و رحیم ہے اس کے نام سے شروع کیا گیا ہے۔

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

(اس میں لکھا ہے کہ) تم میرے مقابلے میں بڑائی اختیار نہ کرو۔ اور اطاعت کے ساتھ میرے پاس چلی آئو۔

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

(ملکہ نے ) کہا اے سردارو ! میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو میں اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم میرے پاس موجود نہ ہو۔

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

انہوں نے کہا۔ ہم بڑی قوت و طاقت والے اور سخت جنگ کرنیوالے ہیں۔ فیصلہ تمہارے اختیار میں ہے تم خود دیکھو کہ تمہیں کیا حکم دینا ہے۔

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

(ملکہ سبا نے ) کہا کہ بیشک بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔ اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل و خوار کردیتے ہیں، اور یہ لوگ بھی ایس ہی کریں گے

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور بیشک میں ان کے پاس کچھ ہدیہ بھیجتی ہوں پھر دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لے کر لوٹتے ہیں۔

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

پھر جب سلیمان (علیہ السلام) کے پاس قاصد آیا تو انہوں نے کہا۔ کیا تم مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو۔ پس جو کچھ اللہ نے ہمیں دیا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا گیا ہے۔ بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ ) تم اپنے تحفے پر اتراتے ہو۔

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

تو ان کی طرف لوٹ جا۔ اب ہم ان پر ایک ایسا لشکر لے کر آئیں گے جس کا وہ مقابلہ نہ کرسکیں گے اور ہم ان کو وہاں سے بےعزت کر کے نکالیں گے اور وہ ذلیل و خواو ہوجائیں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 20 تا 37 : تفقد (اس نے جائزہ لیا۔ اس نے ڈھونڈا) ‘ مکت (وہ ٹھہرا۔ اس نے دیر کی) نباء (خبر) ‘ وجدت ( میں نے پایاض تملک ( وہ بادشاہت کرتی ہے) اوتیت (دیا گیا) الخبئ (پوشیدہ) القہ ( اس کو ڈال دے) افتونی ( مجھے بتائو۔ مجھے مشورہ دو ) ‘ قاطعۃ (کاٹنے والی) ‘ تشھدون ( تم موجود ہو) اولوقوۃ (قوت و طاقت والا) ‘ اولوباس ( لڑنے والے) ‘ تامرین (تو کیا حکم دیتی ہے) ‘ مرسلۃ ( بھیجنے والی) ‘ نظرۃ (دیکھنے والی) ‘ اتمدون (کیا تم مدد کرتے ہو) تفرحون ( وہ اتراتے ہیں۔ خوش ہوتے ہیں) ‘ صغرون (ذلیل و خوارہونے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 20 تا 37 : حضرت سلیمان (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک عظیم پیغمبر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت کے ساتھ ساتھ ایک ایسی حکومت و سلطنت بھی عطافرمائی تھی کہ جس میں صرف انسان ہی نہیں بلکہ جنات اور پرندے بھی انکے تابع کردیئے گئے تھے اور وہ اللہ کے حکم سے ہر جان دار یہاں تک کہ چیونٹی جیسی معمولی اور چھوٹی سی مخلوق کی زبان تک کو سمجھتے تھے۔ ہد ہد جو ارض شام و فلسطین کا ایک ایسا پرندہ ہے جو زمین کی تہہ میں یہ آسانی سے دیکھ سکتا ہے کہ پانی کہاں موجود ہے۔ یقیناً حضرت سلیمان (علیہ السلام) جو ایک عظیم لشکر کے مالک تھے جب بھی جہاد کے لئے نکلتے تو پورے لشکر کے لئے پانی ایک بہت بڑا مسئلہ ہوتا تھا جس کے لئے ہد ہد جیسے پرندے سے کا م لیا جاتا تھا۔ ایک دن حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے لشکر میں ہد ہد کو نہ دیکھ کر پوچھا کہ ہد ہد کہاں ہے اور جس مقصد کے لئے اس کو بھیجا گیا تھا اس میں کوتاہی کیوں کی گئی ہے۔ اگر اس کی کوتاہی ثابت ہوگئی تو نہ صرف اس کو سخت سزادی جائے گی بلکہ اس ذبح کردیا جائے گا۔ چند روز کے بعد ہد ہد پرندہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دربار میں حاضر ہوا تو اس سے پوچھا گیا کہ وہ کہاں اور کیوں غائب ہوگیا تھا اور اس کے ذمے جو کام لگایا گیا تھا اس میں کوتاہی کیوں کی گئی ؟ ہد ہد نے کہا کہ میں اڑتے ہوئے ایک ایسے ملک میں گیا جہاں عورت حکمرانی کررہی ہے جس کے پاس نہ صرف تمام وسائل ‘ مال و دولت موجود ہے بلکہ اس کا تخت سلطنت بھی بہت وسیع ہے۔ یہ قوم سورج کو اپنا معبود مانتی ہے۔ ایک اللہ کو چھوڑ کر وہ شیطان کی پیروی کرتی ہے۔ شیطان نے ان کے برے اعمال کو ان کی نگاہوں میں اتنا خوبصورت بنادیا ہے کہ جس سے وہ صراط مستقیم کو چھوڑ کر گم راہی میں جا پڑے ہیں حالانکہ ان کو اس اللہ کی عبادت و بندگی کرنا چاہیے تھی جو تمام آسمانوں اور زمین کے بھیدوں سے واقف ہے۔ اسی نے زمین کو سزسبز و شاداب بنایا ہے ‘ وہی معبود برحق ہے اور اس کا تخت سلطنت ہی سب سے بلند وبالا ہے۔ ہد ہدنے کہا شاید آپ کو اس سلطنت اور اس کی حکمران کے متعلق معلومات نہیں ہیں۔ مجھے جو معلوم ہواوہ میں نے عرض کردیا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے شان پیغمبری کے مطابق اللہ کے نام سے اس خط کو شروع کیا اور فرمایا کہ تمہیں جیسے ہی میرا خط ملے تو ایک فرماں بردار کی طرح فوراً حاضر ہوجائو۔ خط کی مہر اور شاہی انداز سے لکھے گئے اس خط سے ملکہ بلقیس نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ یہ خط ایک عظیم بادشاہ نے لکھا ہے جن سے وہ واقف بھی تھی۔ یہ دعوت ملکہ بلقیس کا تاج و تخت ‘ حکومت و سلطنت حاصل کرنے کے لئے نہ تھی بلکہ اسلام کے اس مزاج کی عکاسی تھی جو اس نے ہمیش انسانوں کو راہ راست پر رکھنے کے لئے اختیار کی ہے تاکہ وہ کفر و شرک کو چھوڑ کر دین اسلام کی سچائیوں کی طرف آجائیں چناچہ خود مختار قوموں کو یہ کہا گیا کہ وہ دین اسلام کو ایک سچادین سمجھ کر اس کو قبول کرلیں تاکہ وہ ان کے بھائی بن کر برابر کی بنیاد اسلامی نظام کا ایک حصہ بن جائیں اور اگر وہ اس کو قبول نہیں کرتے تو اسلامی حکومت کی تابع داری قبول کرلیں اور سیدھے ہاتھ سے جزیہ اداکریں تاکہ ان کی حفاظت کی جاسکے۔ اور اگر یہ دونوں سورتیں ممکن نہ ہوں تو پھر وہ جنگ کے لیے تیار ہوجائیں۔ تلوار خود فیصلہ کردے گی کہ کس کو حکمرانی کا حق حاصل ہے۔ ملکہ بلقیس جنوبی عرب کی مشہور تجارت پیشہ ‘ ترقی یافتہ اور مال دار قوم سبا کی حکمران تھی جس قوم سبانے دنیا پر ایک ہزار سال تک حکمرانی کی ہے اور دنیاوی وسائل میں بہت مشہور ہے۔ اس نے پانی کو روکنے اور اس کو تقسیم کرنے کے لئے ایسے بہترین بند باندھ رکھے تھے کہ جس سے یہ ملک سر سبز و شاداب نظر آتا تھا۔ سورة سبا میں اس کی کچھ تفصیلات ملتی ہیں۔ غرضیکہ جب ملکہ بلقیس کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا یہ خط پہنچا تو اس نے ملک کے تمام ذمہ داروں کو جمع کرکے پوچھا کہ میں ہمیشہ تم سے مشورہ کرتی ہوں مجھے یہ مشورہ دو کہ ہمیں اس موقع پر کیا کرنا چاہیے کہنے لگے کہ ہم بہترین اور ہر اعتبار سے جنگ کرنے کی عظیم صلاحیتیں رکھتے ہیں اگر ہمارے اوپر جنگ مسلط کی گئی تو ہم اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں ہمیں کسی سے دبنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا کہ ہم تو ہر طرح تیار ہیں باقی آپ جیسے بہتر سمجھیں فیصلہ کرلیجئے ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ مشورہ کے بعد ملکہ بلقیس جو نہایت ذہین عورت تھی اس نے عقل مندی اور ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے بادشاہوں کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ کسی ملک میں فاتحانہ داخل ہوتے ہیں تو اس ملک کو تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں اور وہاں کے باعزت لوگوں کو ذلیل وخوارکرکے رکھ دیتے ہیں۔ میں اپنی طاقت پر بےجا گھمنڈ کرنے کے بجائے ایک ایسا طریقہ اختیار کرتی ہوں جس سے اندازہ ہوجائے گا کہ سیلما (علیہ السلام) کیا چاہتے ہیں۔ انہیں ہماری دولت سے غرض ہے یا وہ ہمیں دین اسلام کی دعوت دے رہے ہیں۔ اس نے بڑے قیمتی تحفے بھیجے جس میں سونا ‘ چاندی ‘ قیمتی جواہرات کے علاوہ کچھ غلام اور باندیاں بھی بھیجیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ردعمل کا اظہار کریت ہوئے تحفے لانے والوں سے کہا کہ مجھے اللہ نے اس سے بھی زیادہ دیا ہے۔ میں نے یہ سب کچھ اس لئے نہیں کہا تھا کہ مجھے تمہاری دولت اور تحفوں کی ضرورت ہے بلکہ میں نے دین اسلام پیش کیا تھا۔ لہٰذا یہ تحفے قبول کرنے سے انکار کرتا ہوں۔ ملکہ سے جا کر کہہ دینا کہ اگر تم نے میری اس دعوت کو قبول نہ کیا تو میں ایک ایسے زبردست لشکر کے ساتھ حملہ کرنے والا ہوں جس کے سامنے تم اور تمہاری طاقت ٹھہر نہ سکے گی۔ گویا اب میدان جنگ میں تلوار ہی فیصلہ کرے گی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے واقعہ کی بقیہ تفصیل اس کے بعد کی آیات میں آرہی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جو اپنے وقت کے عظیم بادشاہ ہی نہ تھے بلکہ اللہ کی طرف سے نبوت کے مقام پر مقرر فرمائے گئے تھے ۔ آپ نے ملکہ بلقیس کو دعوت اسلام دے کر صراط مستقیم کی طرف بلایا ہے تاکہ وہ سورج کی عبادت و بندگی کو چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت کریں اور اپنے کفر و شرک سے توبہ کرلیں۔ ان کا مقصد حکومت و سلطنت یا مال و دولت سمیٹنا نہیں تھا کیونکہ اللہ نے ان کو اتنا کچھ عطا فرمایا تھا اور ہر مخلوق پر حکمرانی حاصل تھی کہ اس سے پہلے کسی کو نصیب نہ ہوئی تھی۔ چنانچہ جب ملکہ بلقیس نے سونے ‘ چاندی اور جواہرات وغیرہ بھیجے تو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ملکہ بلقیس پر اس بات کو واضح کردیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ملکہ کا قبول اسلام یا اسلامی حکومت کے تابع داری مطلوب تھی دنیا کا سازو سامان کوئی حیثیت نہ رکھتا تھا۔ یہ وہ اسلامی مزاج تھا جس پر صحابہ کرام نے بھی عمل کیا۔ وہ جب بھی کسی سے جنگ کرتے تھے تو سب سے پہلے ان کو اسلام کی طرف بلاتے تھے اور ان پر واضح کردیتے تھے کہ اگر انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو وہ ہمارے بھائی ہیں اور تمام حقوق میں برابر ہیں۔ اگر وہ دین کو قبول نہیں کرتے تو اسلامی حکومت کی ذمہ داری میں آجائیں اور ایک معمولی ساٹیکس اداکریں یعنی جزیہ دیں۔ اگر وہدونوں میں سے کسی بات کو قبول نہ کریں تو پھر جنگ کے لئے تیار ہوجائیں۔