27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 27:1–4

طٰسٓ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 27:1 in the Quran reader

طٰس آیتیں ہیں قرآن اور کھلی کتاب کی

هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 27:2 in the Quran reader

ہدایت اور خوشخبری ایمان والوں کے واسطے

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ Open ayah 27:3 in the Quran reader

جو قائم رکھتے ہیں نماز کو اور دیتے ہیں زکوٰۃ اور ان کو آخرت پر یقین ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ Open ayah 27:4 in the Quran reader

جو لوگ نہیں مانتے آخرت کو اچھے دکھلائے ہم نے ان کی نظروں میں ان کے کام سو وہ بہکے پھرتے ہیں3

3 یعنی جن کو انجام کی کوئی فکر اور مستقبل کا خیال نہ ہو، وہ اسی دنیائے فانی کی فکر میں ڈوبے رہتے ہیں۔ ان کی تمام کوشش کا مرکز یہ ہی چند روزہ زندگی ہے جو کتاب یا پیغمبر ادھر سے ہٹا کر عاقبت کی طرف توجہ دلائے، اس پر کیوں کان دھرنے لگے۔ وہ دنیا کے عشق میں غرق ہو کر ہادیوں پر آوازیں کستے ہیں۔ آسمان صحیفوں کو مرد طعن بناتے ہیں۔ پیغمبروں کے ساتھ ٹھٹھا کرتے ہیں۔ اور یہ ہی کام ہیں، جن کو اپنے نزدیک بہت اچھا سمجھ کر برابر گمراہی میں ترقی کرتے جاتے ہیں۔ (تنبیہ) تزیین کی نسبت حق تعالیٰ کی طرف اس حیثیت سے کی کہ خالق ہر چیز کا وہ ہی ہے کسی سبب پر مسبب کا ترتب بدون اس کی مشیت و ارادہ کے نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ دوسرے مواضع میں اضلال و ختم و طبع وغیرہ کی نسبت اس کی طرف ہوئی ہے۔ سورة " نمل " کی ان ابتدائی آیات کا مضمون سورة بقرہ کی ابتدائی آیات سے بہت مشابہ ہے ان کو ایک مرتبہ مطالعہ کرلیا جائے۔
Ayah 27:5

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 27:5 in the Quran reader

وہی ہیں جن کے واسطے بری طرح کا عذاب ہے اور آخرت میں وہی ہیں خراب4

4 یعنی وہاں سب سے زیادہ خسارہ میں یہ ہی لوگ ہوں گے۔
Ayah 27:6

وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ Open ayah 27:6 in the Quran reader

اور تجھ کو تو قرآن پہنچتا ہے ایک حکمت والے خبردار کے پاس سے5

5 یعنی اب بدبختوں کو تیہ ضلالت میں بھٹکنے دو ۔ جب انہوں نے قرآن مبین کی قدر نہ پہچانی اور اس کی ہدایات و بشارات سے فائدہ نہ اٹھایا تو یہ ہی حشر ہونا تھا۔ آپ ﷺ تو خدا کا شکر کیجئے کہ اس علیم و حکیم کی سب سے زیادہ عظیم الشان کتاب آپ ﷺ کو مرحمت کی گئی ہے جس سے ہر وقت تازہ باتازہ فوائد پہنچ رہے ہیں جس میں مومنین کے لیے بشارتیں ہیں اور مکذبین کو عبرتناک واقعات سنائے گئے ہیں تاکہ سچوں کا دل مضبوط و قوی ہو اور جھوٹ کی حمایت کرنے والے اپنی بدانجامی پر مطلع ہوجائیں۔ چناچہ ان ہی اغراض کے لیے آگے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعونیوں کا قصہ سنایا جاتا ہے۔
Ayah 27:7

اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا١ؕ سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 27:7 in the Quran reader

جب کہا موسیٰ نے اپنے گھر والوں کو میں نے دیکھی ہے ایک آگ6 اب لاتا ہوں مہارے پاس وہاں سے کچھ خبر یا لاتا ہوں انگارا سلگا کر شاید تم سینکو7

6 یہ " مدین " سے جاتے ہوئے وادی " طوٰی " کے قریب پہنچ کر کہا جبکہ سخت سردی کی اندھیری رات میں راستہ بھول گئے تھے مفصل واقعہ سورة " طہٰ " کے فوائد میں گزر چکا۔ ملاحظہ کرلیا جائے۔ 7 یعنی راستہ کی خبر لاتا ہوں اگر آگ کے پاس کوئی موجود ہو ورنہ کم ازکم سینکنے تاپنے کے لیے ایک انگارا لے آؤں گا۔
Ayah 27:8

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 27:8 in the Quran reader

پھر جب پہنچا اس کے پاس آواز ہوئی کہ برکت ہے اس پر جو کوئی کہ آگ میں ہے اور جو اس کے آس پاس ہے8 اور پاک ہے ذات اللہ کی جو رب سارے جہان کا9

8 وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ دنیا کی آگ نہیں، بلکہ غیبی اور نورانی آگ ہے جس کے اندر نور الٰہی ظاہر ہو رہا تھا، یا اس کی بجلی چمک رہی تھی۔ شاید وہ ہی ہو جس کو حدیث میں فرمایا " حِجَابُہُ النَّار " یا " حِجَابُہُ النُّوْرُ " پھر غیب سے آواز آئی۔ " اَنْ بُورِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا۔ " یعنی زمین کا یہ ٹکڑا مبارک، آگ میں جو تجلی ہے وہ بھی مبارک، اور اس کے اندر یا اس کے آس پاس جو ہستیاں ہیں مثلاً فرشتے یا خود موسیٰ (علیہ السلام) وہ سب مبارک ہیں۔ یہ غالباً موسیٰ (علیہ السلام) کو مانوس کرنے کے لیے بطور اعزازو اکرام کے فرمایا۔ 9 یعنی مکان، جہت، جسم، صورت اور رنگ وغیرہ سماعت حدوث سے اللہ کی ذات پاک ہے۔ آگ میں اس کی تجلی کے یہ معنی نہیں کہ معاذ اللہ اس کی ذات پاک آگ میں حلول کر آئی ؟ آفتاب عالمتاب قلعی دار آئینہ میں متجلی ہوتا ہے لیکن کون احمق کہہ سکتا ہے کہ اتنا بڑا کرہ شمسی چھوٹے سے آئینہ میں سما گیا ؟
Ayah 27:9

یٰمُوْسٰۤى اِنَّهٗۤ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ Open ayah 27:9 in the Quran reader

اے موسیٰ وہ میں اللہ ہوں زبردست حکمتوں والاف 1

1 یعنی اس وقت تجھ سے کلام کرنے والا میں ہوں، یہ سب واقعہ مفصلاً سورة " طہٰ " میں گزر چکا۔
Ayah 27:10

وَ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰى لَا تَخَفْ١۫ اِنِّیْ لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَۗۖ Open ayah 27:10 in the Quran reader

اور ڈال دے لاٹھی اپنی پھر جب دیکھا اس کو پھن پھناتے جیسے سانپ کی سٹک2 لوٹا پیٹھ پھیر کر اور مڑ کر نہ دیکھا3 اے موسیٰ مت ڈر میں جو ہوں تیرے پاس نہیں ڈرتے رسول4

2 شاید ابتداء میں پتلا ہوگا، یا سرعت حرکت میں تشبیہ ہوگی، صغر جثہ میں نہیں۔ 3 یہ خوف طبعی تھا جو منافی نبوت تھا۔ 4 یعنی اس مقام حضور و اصطفاء میں پہنچ کر ایسی چیزوں سے ڈرنے کا کیا مطلب۔ مرسلین کو لائق نہیں کہ ہماری بارگاہ قرب میں پہنچ کر لاٹھی یا سانپ یا کسی مخلوق سے ڈریں۔ وہاں تو دل کو انتہائی سکون و طمانیت حاصل ہونا چاہیے۔
Ayah 27:11

اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًۢا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 27:11 in the Quran reader

مگر جس نے زیادتی کی پھر بدلے میں نیکی کی برائی کے پیچھے تو میں بخشنے والا مہربان ہوں5

5 یہ استثناء منقطع ہے یعنی خدا کے حضور میں پہنچ کر خوف و اندیشہ صرف اس کو ہونا چاہیے جو کوئی زیادتی یا خطاء و تقصیر کر کے آیا ہو۔ اس کے متعلق بھی ہمارے ہاں یہ قاعدہ ہے کہ برائی کیے بعد اگر دل سے توبہ کر کے اپنی روش درست کرلی اور نیکیاں کر کے برائی کا اثر مٹا دیا تو حق تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فرمانے والا ہے حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " موسیٰ (علیہ السلام) سے چوک کر ایک کافر کا خون ہوگیا تھا اس کا ڈر تھا ان کے دل میں، ان کو وہ معاف کردیا۔ "
Ayah 27:12

وَ اَدْخِلْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١۫ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 27:12 in the Quran reader

اور ڈال دے ہاتھ اپنا اپنے گریبان میں کہ نکلے سفید ہو کر نہ کسی برائی سے یہ دونوں مل کر نو نشانیاں لے کر جا فرعون اور اس کی قوم کی طرف بیشک وہ تھے لوگ نافرمان6

6 نو نشانیوں کا بیان سورة " بنی اسرائیل " کی آیت (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا) 17 ۔ الاسرآء :101) کے تحت میں دیکھو۔
Ayahs 27:13–14

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 27:13 in the Quran reader

پھر جب پہنچیں ان کے پاس ہماری نشانیاں سمجھانے کو بولے یہ جادو ہے صریح

وَ جَحَدُوْا بِهَا وَ اسْتَیْقَنَتْهَاۤ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوًّا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 27:14 in the Quran reader

اور ان کا انکار کیا اور ان کا یقین کرچکے تھے اپنے جی میں بےانصافی اور غرور سے، سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام خرابی کرنے والوں کا7

7 یعنی جب وقتاً فوقتاً ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے وہ نشانیاں دکھلائی گئیں تو کہنے لگے کہ یہ سب جادو ہے حالانکہ ان کے دلوں میں یقین تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں اور جو نشانیاں دکھلا رہے ہیں یقینا خدائی نشان ہیں۔ جادو، شعبدہ اور نظر بندی نہیں مگر محض بےانصافی اور غرور تکبر سے جان بوجھ کر اپنے ضمیر کے خلاف حق کی تکذیب اور سچائی کا انکار کر رہے تھے، پھر کیا ہوا چند روز بعد پتہ لگ گیا کہ ایسے ہٹ دھرم مفسدوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ سب کو بحرقلزم کی موجوں نے کھالیا، کسی کو گور وکفن بھی نصیب نہ ہوا۔
Ayah 27:15

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا١ۚ وَ قَالَا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰى كَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:15 in the Quran reader

اور ہم نے دیا داؤد اور سلیمان کو ایک علم8 اور بولے شکر اللہ کا جس نے ہم کو بزرگی دی9 اپنے بہت سے بندوں ایمان لوں پر10

8 حضرت سلیمان حضرت داؤد (علیہ السلام) کے صاحبزادہ ہیں۔ باپ بیٹے میں سے ہر ایک کو اس کی شان کے لائق اللہ تعالیٰ نے علم کا خاص حصہ عطا فرمایا۔ شرائع و احکام اور اصول سیاست و حکمرانی وغیرہ کے علوم سب اس لفظ کے تحت میں داخل ہوگئے۔ 9 حق تعالیٰ نے جو علم داؤد سلیمان (علیہما السلام) کو دیا تھا اسی کا اثر یہ تھا کہ حق تعالیٰ کے انعامات کا شکر ادا کرتے تھے۔ کسی نعمت الٰہی پر شکر ادا کرنا اصل نعمت سے بڑی نعمت ہے۔ 10 " بہت سے " اس لیے کہا کہ بہت بندگان خدا کو ان پر فضیلت دی گئی ہے۔ باقی تمام مخلوق پر فضیلت کلی تو سارے جہان میں ایک ہی بندے کو حاصل ہوئی جن کا نام مبارک ہے محمد رسول اللہ ﷺ ۔
Ayah 27:16

وَ وَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ اُوْتِیْنَا مِنْ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ Open ayah 27:16 in the Quran reader

اور قائم مقام ہوا سلیمان داؤد کا11 اور بولا اے لوگوں ہم کو سکھائی ہے بولی اڑتے جانوروں کی12 اور دیا ہم کو ہر چیز میں سے13 بیشک یہی ہے فضیلت صریح

11 یعنی داؤد کے بیٹوں میں سے ان کے اصل جانشین حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہوئے جن کی ذات میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور بادشاہت دونوں جمع کردیں اور وہ ملک عطا فرمایا جو ان سے قبل یا بعد کسی کو نہ ملا۔ جن، ہوا، اور پرندوں کو ان کے لیے مسخر فرما دیا۔ جیسا کہ سورة " سبا " میں آئے گا۔ 12 اس بات کا انکار کرنا بداہت کا انکار ہوگا کہ پرندے جو بولیاں بولتے ہیں ان میں ایک خاص حد تک افہام و تفہیم کی شان پائی جاتی ہے۔ ایک پرند جس وقت اپنے جوڑے کو بلاتا یا دانہ دینے کے لیے اپنے بچوں کو آواز دیتا یا کسی چیز سے خوف کھا کر خبردار کرتا ہے، ان تمام حالات میں اس کی بولی اور لب و لہجہ یکساں نہیں ہوتا چناچہ اس کے مخاطبین اس فرق کو بخوبی محسوس کرتے ہیں۔ اسی سے ہم سمجھتے ہیں کہ دوسرے احوال و ضروریات کے وقت بھی ان کے چہچ ہوں میں (گو ہمیں کتنے ہی متشابہ و متقارب معلوم ہوں) ایسا لطیف و خفیف تفاوت ہوتا ہوگا، جسے وہ آپس میں سمجھ لیتے ہوں گے۔ تم کسی پوسٹ آفس میں چلے جاؤ اور تار کی متشابہ کھٹ کھٹ گھنٹوں سنتے رہو، تمہارے نزدیک محض بےمعنی حرکات و اصوات سے زیادہ وقعت نہ ہوگی۔ لیکن ٹیلیگراف ماسٹر فوراً بتادے گا کہ فلاں جگہ سے فلاں آدمی یہ مضمون کہہ رہا ہے یا فلاں لیکچرار کی تقریر انہی تاروں کی کھٹکھٹاہٹ میں صاف سنائی دے رہی ہے۔ کیونکہ وہ ان " فقرات تلغرافیہ " کی دلالت وضعیہ سے پوری طرح واقف ہے۔ علیٰ ہذا القیاس کیا بعید ہے کہ واضح حقیقی نے نغمات طیور کو بھی مختلف معانی و مطالب کے اظہار کے لیے وضع کیا ہو۔ اور جس طرح انسان کا بچہ اپنے ماں باپ کی زبان سے آہستہ آہستہ واقف ہوتا رہتا ہے، طیور کے بچے بھی اپنی فطری استعداد سے اپنے بنی نوع کی بولیوں کو سمجھنے لگتے ہوں اور بطور ایک پیغمبرانہ اعجاز کے حق تعالیٰ کسی نبی کو بھی ان کا علم عطا فرما دے۔ حیوانات کے لیے جزئی ادراکات کا حصول تو پہلے سے مسلم چلا آتا ہے لیکن یورپ کی جدید تحقیقات اب حیوانات کی عاقلیت کو آدمیت کی سرحد سے قریب کرتی جاتی ہے حتی کہ حیوانات کی بولیوں کی " ابجد " تیار کی جا رہی ہے۔ قرآن کریم نے خبر دی تھی کہ " ہر چیز اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید کرتی ہے جسے تم سمجھتے نہیں اور ہر پرندہ اپنی صلوٰۃ و تسبیح سے واقف ہے۔ " احادیث صحیحہ میں حیوانات کا تکلم، بلکہ جمادات محضہ کا بات کرنا اور تسبیح پڑھنا ثابت ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ اپنے خالق کی اجمالی مگر صحیح معرفت ہر چیز کی فطرت میں تہ نشین کردی گئی ہے۔ پس ان کی تسبیح وتحمید یا بعض محاورات و خطابات پر بعض بندگان خدا کا بطور خرق عادت مطلع کردیا جانا از قبیل محالات عقلیہ نہیں۔ ہاں عام عادت کے خلاف ضرور ہے۔ سو اعجاز و کرامت اگر عام عادت اور معمول کے موافق ہوا کرے تو اعجاز و کرامت ہی کیوں کہلائے (خوارق عادت پر ہم نے مستقل مضمون لکھا ہے اسے ملاحظہ کرلیا جائے) بہرحال اس رکوع میں کوئی معجزے اس قسم کے مذکور ہیں۔ جن میں زائغین نے عجیب طرح کی رکیک اور لچر تحریفات شروع کردی ہیں، کیونکہ بعض طیور کا اپنی بولی میں آدمیوں کے بعض علوم کو ادا کرنا، چیونٹیوں کا آپس میں ایک دوسرے کو مخاطب بنانا اور سلیمان پیغمبر کا ان کو سمجھ لینا یہ سب باتیں ان کے نزدیک ایسی لغو اور احمقانہ ہیں جن پر ایک بچہ بھی یقین نہیں کرسکتا۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ لاکھوں محققین اور علمائے سلف و خلف کی نسبت خیال کرتا کہ وہ ایسی کچی، لغو اور بدیہی البطلان باتوں کو جنہیں ایک بچہ اور گنوار بھی نہیں مان سکتا تھا۔ بلا تردید و تکذیب بیان کرتے چلے آئے اور ان اوہام کو رد کر کے مضمون آیات کی صحیح حقیقت جو تم پر آج منکشف ہوئی ہے کسی نے بیان نہ کی ؟ یہ خیال ان باتوں سے بھی بڑھ کر لغو اور احمقانہ ہے جن کی لغویت کو تم تسلیم کرانا چاہتے ہو۔ علماء سے ہر زمانہ میں غلط فہمی یا خطاء و تقصیر ہوسکتی ہے، مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ شب و روز کی جن محسوسات اور پیش پا افتادہ حقائق کو انسان کا بچہ بچہ جانتا ہے وہ صدیوں تک بڑے بڑے عقلمند اور محقق علماء کو ایک دن بھی نظر نہ آئی ہوں۔ یاد رہے کہ ہم اسرائیلی خرافات کی تائید نہیں کر رہے۔ ہاں جس حد تک اکابر سلف نے بلا اختلاف کلام الٰہی کا مدلول بیان کیا ہے اس کو ضرور تسلیم کرتے ہیں خواہ وہ اسرائیلی روایات کے موافق پڑجائیں یا مخالف۔ 13 یعنی ایسی عظیم الشان سلطنت و نبوت کے لیے جو چیزیں اور سامان درکار تھے وہ عطا فرمائے۔
Ayah 27:17

وَ حُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:17 in the Quran reader

اور جمع کیے گئے سلیمان کے پاس اس کے لشکر جن اور انسان اور اڑتے جانور پھر ان کی جماعتیں بنائی جاتیں1

1 یعنی سلیمان (علیہ السلام) جب کسی طرف کوچ کرتے تو جن، انس، طیور تینوں قسم کے لشکروں میں سے حسب ضرورت و مصلحت ساتھ لیے جاتے تھے۔ اور ان کی جماعتوں میں خاص نظم و ضبط قائم رکھا جاتا تھا۔ مثلاً پچھلی جماعتیں تیز چل کر یا اڑ کر اگلی جماعتوں سے آگے نہیں نکل سکتی تھیں۔ نہ کوئی سپاہی اپنے مقام اور ڈیوٹی کو چھوڑ کر جاسکتا تھا۔ جس طرح آج بری، بحری اور ہوائی طاقتوں کو ایک خاص نظم و ترتیب کے ساتھ کام میں لایا جاتا ہے۔
Ayah 27:18

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰى وَادِ النَّمْلِ١ۙ قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ١ۚ لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُوْدُهٗ١ۙ وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:18 in the Quran reader

یہاں تک کہ پہنچے چیونٹیوں کے میدان پر2 کہا ایک چیونٹی نے اے چیونٹیو ! گھس جاؤ اپنے گھروں میں نہ پیس ڈالے تم کو سلیمان اور اس کی فوجیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو3

2 یعنی سلیمان کا اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ ایسے میدان کی طرف گزر ہوا جہاں چیونیٹوں کی بڑی بھاری بستی تھی۔ (تنبیہ) جہاں چیونٹیاں مل کر خاص سلیقہ سے اپنا گھر بناتی ہیں اسے زبان عرب میں " قریتہ النمل " کہتے ہیں۔ (چیونٹیوں کی بستی) مفسرین نے مختلف بلاد میں کئی ایسی وادیوں کا پتہ بتلایا ہے جہاں چیونٹیوں کی بستیاں بکثرت تھیں، ان میں سے کسی ایک پر حسب اتفاق حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا گزر ہوا۔ 3 یعنی یہ ایسے تو نہیں جو جان بوجھ کر تم کو ہلاک کریں، ہاں ممکن ہے بیخبر ی میں پس جاؤ۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " چیونٹی کی آواز کوئی (آدمی) نہیں سنتا، انھیں (سلیمان (علیہ السلام) کو) معلوم ہوگئی " یہ ان کا معجزہ ہوا۔ (تنبیہ) علمائے حیوانات نے سالہا سال جو تجربے کیے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حقیر ترین جانور اپنی حیات اجتماعی اور نظام سیاسی میں بہت ہی عجیب اور شؤن بشریہ سے بہت قریب واقعہ ہوا ہے۔ آدمیوں کی طرح چیونٹیوں کے خاندان اور قبائل ہیں ان میں تعاون باہمی کا جذبہ، تقسیم عمل کا اصول اور نظام حکومت کے ادارات نوع انسانی کے مشابہ پائے جاتے ہیں۔ محققین یورپ نے مدتوں ان اطراف میں قیام کر کے جہاں چیونٹیوں کی بستیاں بکثرت ہیں بہت قیمتی معلومات بہم پہنچائی ہیں۔ افسوس ہے ان مختصر فوائد میں ان کی گنجائش نہیں۔ محض مقام کی مناسب سے " دائرۃ المعارف المصریہ " کے آخری جملے نقل کرتا ہوں۔ " فَمَتٰی دَاہَمَ عَدُّوٌّ قَرْیَۃً للنَّمْلِ اِخْتَفَتِ الْنَمَلَۃُ وَخَرَجَتِ الْجُنُودُ لِلْقِتَالِ وَالنِّضَالِ فَیَخْرُجُ اَوْلَا وَاحِدٌ مِّنْہَا لِلْاِسْتِطْلاَعِ ثُمَّ یَعُودُ مُخْبِرًا بِمَارَأ ی وَبَعْدَ ہَنِیْہَۃٍ تَخْرُجُ ثَلاَثَۃٌ اَوْ اَرْبَعْۃٌ یَتْبَعُہَا عَدَدٌ کَثِیْفٌ مِنَ الْجُیُوشِ بَادِیَۃً عَلَیْہِمْ عَلآئِمُ الْحَنَقِ فَتَلْدَعُ کُلَّ مَاصَادَفَتْہُ وَلَاتَفْلَتُ مَنْ تَلْدَغُہ، وَلَوْقَطَعَتْ اَرْباً ارباً فَاِذًا اِنْتَہٰی الْقِتَالُ رَجَعَ الْفَعَلَۃُ فَاَعَادُوْ بِنَآء ماتَہَدَّمَ یَتَخَلَّلُہَا عَدَدٌ مِنَ الْجُنُودِ لِلْحَرَاسَۃِ لَا لِلْعَمَلِ ۔ " متذکرہ جملوں میں بتلایا ہے کہ خطرہ کی آہٹ پا کر اول ایک چیونٹی باہر نکلتی اور واپس جا کر اپنی قوم کو اپنی معلومات سے آگاہ کرتی ہے۔ باقی سلیمان (علیہ السلام) کا پتہ لگا لینا اور سلیمان کا اس کی بات پر مطلع ہوجانا بطریق خرق عادت تھا۔
Ayah 27:19

فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 27:19 in the Quran reader

پھر مسکرا کر ہنس پڑا اس کی بات سے4 اور بولا اے میرے رب میری قسمت میں دے کہ شکر کروں تیرے احسان کا جو تو نے کیا مجھ پر اور میرے ماں باپ پر اور یہ کہ کروں کام نیک جو تو پسند کرے اور ملا لے مجھ کو اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں5

4 اس چیونٹی کی بات سمجھ کر تعجب ہوا اور فرط سرورو نشاط سے ادائے شکر کا جذبہ جوش میں آیا۔ 5 یعنی حیران ہوں تیرے انعامات عظیمہ کا شکر کس طرح ادا کروں، پس آپ ہی سے التجاء کرتا ہوں کہ مجھے پورا شاکر بنا دیجئے زبان سے بھی اور عمل سے بھی۔ اور اعلیٰ درجہ کے نیک بندوں میں (جو انبیاء ومرسلین ہیں) محشور فرمائیے۔
Ayah 27:20

وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ١ۖ٘ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ Open ayah 27:20 in the Quran reader

اور خبر لی اڑتے جانوروں کی تو کہا کیا ہے جو میں نہیں دیکھتا ہدہد کو یا ہے وہ غائب6

6 کسی ضرورت سے سلیمان (علیہ السلام) نے اڑنے والی فوج کا جائزہ لیا، ہدہد ان پر نظر نہ پڑا۔ فرمایا کیا بات ہے ہدہد کو میں نہیں دیکھتا۔ آیا پرندوں کے جھنڈ میں مجھ کو نظر نہیں آیا، یا حقیقت میں غیر حاضر ہے ؟ (تنبیہ) پرندوں سے حضرت سلیمان مختلف کام لیتے تھے مثلاً ہوائی سفر میں ان کا پرے باندھ کر اوپر سایہ کرتے ہوئے جانا، یا ضرورت کے وقت پانی وغیرہ کا کھوج لگانا، یا نامہ بری کرنا وغیرہ۔ ممکن ہے اس وقت ہدہد کی کوئی خاص ضرورت پیش آئی ہو۔ مشہور ہے کہ جس جگہ زمین کے نیچے پانی قریب ہو ہدہد کو محسوس ہوجاتا ہے اور یہ کچھ مستبعد نہیں کہ حق تعالیٰ کسی جانور کو کوئی خاص حاسہ انسانوں اور دوسرے جانوروں سے تیز عنایت فرما دے۔ اسی ہدہد کی نسبت معتبر ثقات نے بیان کیا کہ زمین میں جس جگہ مٹی کے نیچے کینچوا ہو اسے محسوس کر کے فوراً نکال لیتا ہے حتی کہ کبھی کبھی ایک دو بالشت زمین کھودتا ہے تب وہاں سے کینچوا نکلتا ہے۔
Ayah 27:21

لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاۡاَذْبَحَنَّهٗۤ اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:21 in the Quran reader

اس کو سزا دوں گا سخت سزا7 یا ذبح کر ڈالوں گا یا لائے میرے پاس کوئی سند صریح8

7 مثلاً اس کے بال و پر نوچ ڈالوں گا۔ 8 یعنی اپنی غیر حاضری کا واضح عذر پیش کرے۔
Ayah 27:22

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

پھر بہت دیر نہ کی کہ آکر کہا میں لے آیا خبر ایک چیز کی کہ تجھ کو اس کی خبر نہ تھی اور آیا ہوں تیرے پاس سبا سے ایک خبر لے کر تحقیقی9

9 حضرت سلیمان کو اس ملک کا حال مفصل نہ پہنچا تھا۔ اب پہنچا۔ سبا ایک قوم کا نام ہے ان کا وطن عرب میں تھا " یمن " کی طرف (موضح القرآن) گویا ہدہد کے ذریعہ سے حق تعالیٰ نے متنبہ فرما دیا کہ بڑے سے بڑے انسان کا علم بھی محیط نہیں ہوسکتا دیکھو جن کی بابت خود فرمایا تھا (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ عِلْمًا) 27 ۔ النمل :15) ان کو ایک جزئی کی اطلاع ہدہد نے کی۔
Ayah 27:23

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

میں نے پایا ایک عورت کو جو ان پر بادشاہی کرتی ہے اور اس کو ہر ایک چیز ملی ہے10 اور اس کا ایک تخت ہے بڑا11

10 ہر ایک چیز میں، مال، اسباب، فوج، اسلحہ، اور حسن و جمال سب آگیا۔ 11 یعنی اس ملکہ کے بیٹھنے کا تخت ایسا مکلف و مرصع اور بیش قیمت تھا کہ اس وقت کسی بادشاہ کے پاس نہ تھا، مفسرین ملکہ کا نام " بلقیس " لکھتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 27:24

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

میں نے پایا کہ وہ اور اس کی قوم سجدہ کرتے ہیں سورج کو اللہ کے سوائے اور بھلے دکھلا رکھے ہیں ان کو شیطان نے ان کے کام پھر روک دیا ہے ان کو راستہ سے سو وہ راہ نہیں پاتے1

1 یعنی وہ قوم مشرک آفتاب پرست ہے۔ شیطان نے ان کی راہ مار دی، اور مشرکانہ رسوم واطوار کو ان کی نظر میں خوبصورت بنادیا۔ اسی لیے وہ راہ ہدایت نہیں پاتے۔ ہدہد نے یہ کہہ کر گویا سلیمان (علیہ السلام) کو اس قوم پر جہاد کرنے کی ترغیب دی۔
Ayah 27:25

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

کیوں نہ سجدہ کریں اللہ کو جو نکالتا ہے چھپی ہوئی چیز آسمانوں میں اور زمین میں اور جانتا ہے جو چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو2

2 غالباً یہ ہُد ہُد کے کلام کا تتمہ ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ جانور اپنے خالق کی صحیح معرفت فطرۃً رکھتے ہیں۔ یا بطور خرق عادت اسی ہدہد کو اس طرح کی تفصیلی معرفت عطا کی گئی ہو۔ خدا چاہے تو ایسی معرفت ایک خشک لکڑی میں پیدا کر دے۔ باقی جانوروں میں فطری طور پر اس قسم کی عقل و معرفت کا موجود ہونا جسے صدر شیرازی نے " اسفار اربعہ " میں " علم حضوری " یا " شعور بسیط " سے تعبیر کیا ہے اس کو مستلزم نہیں کہ ان کی طرف انبیاء مبعوث ہوں۔ کیونکہ یہ فطری معرفت کسبی نہیں، جبلی ہے۔ اور بعث انبیاء کا تعلق کسبیات سے ہوتا ہے نیز یہ صحیح نہیں کہ جس چیز میں کوئی درجہ عقل و شعور کا ہو وہ مکلف بھی ہو۔ مثلاً شریعت حقہ نے صبی کو مکلف قرار نہیں دیا۔ حالانکہ قبل از بلوغ اس میں خاصا درجہ عقل کا موجود ہے، اسی سے حیوانات کی عاقلیت کا اندازہ کرلو۔ (تنبیہ) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " ہد ہد کی روزی ہے ریت سے کیڑے نکال نکال کر کھانا۔ نہ دانہ کھائے نہ میوہ، اس کو اللہ کی اسی قدرت سے کام ہے۔ " شاید اسی لیے یُخْرِجُ الْخَبْ کا خاص طور پر ذکر کیا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 27:26

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

اللہ ہے کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا پروردگار تخت بڑے کا3

3 یعنی اس کے عرش عظیم سے بلقیس کے تخت کو کیا نسبت۔
Ayah 27:27

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

سلیمان نے کہا ہم اب دیکھتے ہیں تو نے سچ کہا یا تو جھوٹا ہے4

4 یعنی تیرے جھوٹ سچ کا امتحان کرتا ہوں۔
Ayah 27:28

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

لے جا میرا یہ خط اور ڈال دے ان کی طرف پھر ان کے پاس سے ہٹ آ پھر دیکھ وہ کیا جواب دیتے ہیں5

5 یعنی سلیمان نے ایک خط لکھ کر ہدہد کے حوالہ کیا کہ ملکہ " سبا " کو پہنچا دے اور جواب لے کر آ۔ اور دیکھنا خط پہنچا کر وہاں سے ایک طرف ہٹ جانا۔ کیونکہ قاصد کا وہیں سر پر کھڑا رہنا آداب شاہانہ کے خلاف ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی آپ کو چھپا، لیکن وہاں کا ماجرا دیکھ، ہدہد خط لے گیا، بلقس جہاں اکیلی سوتی تھی۔ روزن میں سے جا کر اس کے سینہ پر رکھ دیا۔ " (موضح)
Ayahs 27:29–30

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

کہنے لگی اے دربار والو میرے پاس ڈالا گیا ایک خط عزت کا

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

وہ خط ہے سلیمان کی طرف سے6 اور وہ یہ ہے شروع اللہ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم والا ہے

6 بلقیس نے خط پڑھ کر اپنے مشیروں اور درباریوں کو جمع کیا، کہنے لگی کہ میرے پاس یہ خط عجیب طریقہ سے پہنچا ہے جو ایک بہت بڑے معزز و محترم بادشاہ (سلیمان) کی طرف سے آیا ہے۔ غالباً حضرت سلیمان کا نام اور ان کی بےمثال حکومت و شوکت کا شہرہ پہلے سے سن چکی ہوگی۔
Ayah 27:31

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

کہ زور نہ کرو میرے مقابلہ میں اور چلے آؤ میرے سامنے حکم بردار ہو کر7

7 ایسا مختصر، جامع اور پر عظمت خط شاید ہی دنیا میں کسی نے لکھا ہو۔ مطلب یہ تھا کہ میرے مقابلہ میں زور آزمائی سے کچھ نہ ہوگا۔ خیریت اسی میں ہے کہ اسلام قبول کرو اور حکمبردار ہو کر آدمیوں کی طرح سیدھی انگلیوں میرے سامنے حاضر ہوجاؤ۔ تمہاری شیخی اور تکبر میرے آگے کچھ نہ چلے گی۔
Ayah 27:32

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

کہنے لگی اے دربار والو مشورہ دو مجھ کو میرے کام میں میں طے نہیں کرتی کوئی کام تمہارے حاضر ہونے تک8

8 یعنی مشورہ دو کیا جواب دیا جائے اور کیا کارروائی کی جائے جیسا کہ تمہیں معلوم ہے میں کسی اہم معاملہ کا فیصلہ بدون تمہارے مشورہ کے نہیں کرتی۔
Ayah 27:33

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

وہ بولے ہم لوگ زور آور ہیں اور سخت لڑائی والے اور کام تیرے اختیار میں ہے سو تو دیکھ لے جو حکم کرے9

9 یعنی ہمارے پاس زور و طاقت اور سامان حرب کی کمی نہیں۔ نہ کسی بادشاہ سے دبنے کی ضرورت، تیرا حکم ہو تو ہم سلیمان سے جنگ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ آگے تو مختار ہے سوچ سمجھ کر حکم دے۔ ہماری گردن اس کے سامنے خم ہوگی۔ معلوم ہوتا ہے کہ درباریوں کی صلاح لڑائی کرنے کی تھی مگر ملکہ نے اس میں تعجیل مناسب نہ سمجھی اور ایک بین بین صورت اختیار کی جس کا ذکر آگے آتا ہے۔
Ayahs 27:34–35

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

کہنے لگی بادشاہ جب گھستے ہیں کسی بستی میں اس کو خراب کردیتے ہیں اور کر ڈالتے ہیں وہاں کے سرداروں کو بےعزت اور ایسا ہی کچھ کریں گے

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور میں بھیجتی ہوں ان کی طرف کچھ تحفہ پھر دیکھتی ہوں کیا جواب لے کر پھرتے ہیں بھیجے ہوئے1

1 معلوم ہوتا ہے کہ مضمونِ خط کی عظمت و شوکت اور دوسرے قرائن و آثار سے بلقیس کو یقین ہوگیا کہ اس بادشاہ پر ہم غالب نہیں آسکتے اور کم ازکم اس کا قوی احتمال تو ضرور تھا۔ اس نے بتلایا کہ ایسی شان و شکوہ رکھنے والے بادشاہ سے لڑنا کھیل نہیں۔ اگر وہ غالب آگئے (جیسا کہ قوی امکان ہے) تو ملوک و سلاطین کی عام عادت کے موافق تمہارے شہروں کو تہ وبالا کر کے رکھ دیں گے۔ اور وہ انقلاب ایسا ہوگا جس میں بڑے عزت والے سرداروں کو ذلیل و خوار ہونا پڑے گا۔ لہذا میرے نزدیک بہتر ہے کہ ہم جنگ کرنے میں جلدی نہ کریں بلکہ ان کی طاقت، طبعی، رجحانات، نوعیت حکومت اور اس بات کا پتہ لگائیں کہ ان کی دھمکیوں کی پشت پر کون سی قوت کار فرما ہے۔ اور یہ کہ واقعی طور پر وہ ہم سے کیا چاہتے ہیں، اگر کچھ تحائف و ہدایا دے کہ ہم آنے والی مصیبت کو اپنے سر سے ٹال سکیں تو زیادہ اچھا ہوگا ورنہ جو کچھ رویہ معلوم ہوجائے گا ہم اس کے مناسب کارروائی کریں گے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " بلقیس نے چاہا کہ اس بادشاہ کا شوق دریافت کرے کس چیز سے ہے۔ مال، خوبصورت آدمی، یا نادر سامان، سب قسم کی چیزیں تحفہ میں بھیجی تھی۔ "
Ayah 27:36

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

پھر جب پہنچا سلیمان کے پاس بولا کیا تم میری اعانت کرتے ہو مال سے، سو جو اللہ نے مجھ کو دیا ہے بہتر ہے اس سے جو تم کو دیا ہے بلکہ تم ہی اپنے تحفہ سے خوش رہو2

2 یعنی یہ تحفہ تمہیں ہی مبارک رہے، کیا تم نے مجھے محض ایک دنیاوی بادشاہ سمجھا جو مال و متاع کا لالچ دیتے ہو، تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ حق تعالیٰ نے جو روحانی و مادی دولت مجھے عطا فرمائی ہے وہ تمہارے ملک و دولت سے کہیں بڑھ کر ہے ان سامانوں کی ہمیں کیا پروا۔
Ayah 27:37

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

پھر جا ان کے پاس اب ہم پہنچتے ہیں ان پر ساتھ لشکروں کے جن کا مقابلہ نہ ہو سکے ان سے اور نکال دیں گے ان کو وہاں سے بےعزت کر کر اور وہ خوار ہوں گے3

3 یعنی قیدی بنیں گے، جلا وطن ہوں گے اور ذلت و خواری کے ساتھ دولت و سلطنت سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " اور کسی پیغمبر نے اس طرح کی بات نہیں فرمائی۔ سلیمان کو حق تعالیٰ کی سلطنت کا زور تھا جو یہ فرمایا۔ "
Ayah 27:38

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

بولا اے دربار والو تم میں کوئی ہے کہ لے آوے میرے پاس اس کا تخت پہلے اس سے کہ وہ آئیں میرے پاس حکم بردار ہو کر4

4 قاصد نے واپس جا کر پیغام جنگ پہنچا دیا۔ بلقیس کو یقین ہوگیا کہ یہ کوئی معمولی بادشاہ نہیں ان کی قوت خدائی زور سے ہے۔ جدال و قتال سے کچھ فائدہ نہ ہوگا، نہ کوئی حیلہ اور زور ان کے روبرو چل سکتا ہے آخر اظہار اطاعت وانقیاد کی غرض سے بڑے سازو سامان کے ساتھ حضرت سلیمان کی خدمت میں حاضری دینے کے لیے روانہ ہوگئی۔ جب ملک شام کے قریب پہنچی، حضرت سلیمان نے اپنے درباریوں سے فرمایا " کوئی ہے جو بلقیس کا تخت شاہی اس کے پہنچنے سے پیشتر میرے سامنے حاضر کر دے۔ " اس میں بھی حضرت سلیمان کو کئی طرح بلقیس پر اپنی خدا داد عظمت و قوت کا اظہار مقصود تھا۔ تاکہ وہ سمجھ لے کہ یہ نرے بادشاہ نہیں، کوئی اور فوق العادت باطنی طاقت بھی اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ (تنبیہ) " قَبْلَ اَنْ یَّاتُونِی مُسْلِمِیْنَ " سے معلوم ہوا کہ اسلام وانقیاد سے پہلے حربی کا مال مباح ہے۔
Ayah 27:39

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

بولا ایک دیو جنوں میں سے میں لائے دیتا ہوں وہ تجھ کو پہلے اس سے کہ تو اٹھے اپنی جگہ سے5 اور میں اس پر زور آور ہوں معتبر6

5 حضرت سلیمان کا دربار روزانہ ایک معین وقت تک لگتا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ اس سے پہلے کہ آپ دربار سے اٹھ کر جائیں، میں تخت کو حاضر کرسکتا ہوں، مگر اس کو پھر کچھ عرصہ لگتا۔ حضرت سلیمان اس سے بھی زیادہ جلدی چاہتے تھے۔ 6 " زور آور " ہوں، یعنی اپنی قوت بازو سے بہت جلد اٹھا کر لاسکتا ہوں، اللہ نے مجھ کو قدرت دی ہے اور " معتبر ہوں " یعنی اس میں خیانت نہ کروں گا۔ کہتے ہیں تخت بہت بیش قیمت تھا، سونے چاندی کا اور لعل و جواہر جڑے تھے۔
Ayah 27:40

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

بولا وہ شخص جس کے پاس تھا ایک علم کتاب کا میں لائے دیتا ہوں تیرے پاس اس کو پہلے اس سے کہ پھر آئے تیری طرف تیری آنکھ7 پھر جب دیکھا اس کو دھرا ہوا اپنے پاس کہا یہ میرے رب کا فضل ہے8 میرے جانچنے کو کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری9 اور جو کوئی شکر کرے، سو شکر کرے اپنے واسطے اور جو کوئی ناشکری کرے، سو میرا رب بےپروا ہے کرم والاف 10

7 راحج یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص حضرت سلیمان کا صحابی اور وزیر آصف بن برخیا ہے جو کتب سماویہ کا عالم اور اللہ کے اسماء اور کلام کی تاثیر سے واقف تھا، اس نے عرض کیا کہ میں چشم زدن میں تخت کو حاضر کرسکتا ہوں۔ آپ کسی طرف دیکھئے، قبل اس کے آپ ادھر سے نگاہ ہٹائیں تخت آپ کے سامنے رکھا ہوگا۔ 8 یعنی یہ ظاہر کے اسباب سے نہیں آیا اللہ کا فضل ہے کہ میرے رفیق اس درجہ کو پہنچے، جن سے ایسی کرامات ظاہر ہونے لگیں۔ اور چونکہ ولی کی خصوصاً صحابی کی کرامت اس کے نبی کا معجزہ اور اس کے اتباع کا ثمرہ ہوتا ہے اس لیے حضرت سلیمان پر بھی اس کی شکر گزاری عائد ہوئی۔ (تنبیہ) معلوم ہوا کہ اعجاز و کرامت فی الحقیقت خدواند قدیر کا فعل ہے جو ولی یا نبی کے ہاتھ پر خلاف معمول ظاہر کیا جاتا ہے۔ پس جس کی قدرت سے سورج یا زمین کا کرہ ایک لمحہ میں ہزاروں میل کی مسافت طے کرلیتا ہے اسے کیا مشکل ہے کہ تخت بلقیس کو پلک جھپکنے میں " مارَب " سے " شام " پہنچا دے۔ حالانکہ تخت بلقیس کو سورج اور زمین سے ذرہ اور پہاڑ کی نسبت ہے۔ 9 حضرت سلیمان ہر ہر قدم پر حق تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچانتے اور ہمہ وقت شکر گزاری کے لیے تیار رہتے تھے گویا یہ (اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا) 34 ۔ سبأ :13) کے حکم کی تعمیل تھی۔ 10 یعنی شکر گذاری کا نفع شاکر ہی کو پہنچتا ہے کہ دنیا و آخرت میں مزید انعامات مبذول ہوتے ہیں، ناشکری کرے گا تو خدا کا کیا نقصان، وہ ہمارے شکریوں سے قطعاً بےنیاز اور بذات خود کامل الصفات اور منبع الکمالات ہے۔ ہمارے کفران نعمت سے اس کی کسی صفت کمالیہ میں کمی نہیں آجاتی۔ یہ بھی اس کا کرم ہے کہ ناشکروں کو فوراً سزا نہیں دیتا۔ ایسے کریم کی ناشکری کرنے والا پرلے درجہ کا بےحیا اور احمق ہے۔