An-Naml 27:91

An-Naml · from ayah 91

27:91

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَلَهٗ كُلُّ شَیْءٍ ؗ— وَّاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۟ۙاِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الۡبَلۡدَةِ الَّذِىۡ حَرَّمَهَا وَلَهٗ كُلُّ شَىۡءٍ‌ ۖ وَّاُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَۙ

(کہہ دو) کہ مجھ کو یہی ارشاد ہوا ہے کہ اس شہر (مکہ) کے مالک کی عبادت کروں جس نے اس کو محترم (اور مقام ادب) بنایا ہے اور سب چیز اُسی کی ہے اور یہ بھی حکم ہوا ہے کہ اس کا حکم بردار رہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Say, O Muhammad], "I have only been commanded to worship the Lord of this city, who made it sacred and to whom [belongs] all things. And I am commanded to be of the Muslims [those who submit to Allah]

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 7 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:91

(اے محمدؐ، اِن سے کہو) "مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اِس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اِسے حرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کر رہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(کہہ دو) کہ مجھ کو یہی ارشاد ہوا ہے کہ اس شہر (مکہ) کے مالک کی عبادت کروں جس نے اس کو محترم (اور مقام ادب) بنایا ہے اور سب چیز اُسی کی ہے اور یہ بھی حکم ہوا ہے کہ اس کا حکم بردار رہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

مجھے تو بس یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں جس نے اسے حرمت واﻻ بنایا ہے، جس کی ملکیت ہر چیز ہے اور مجھے یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں میں ہو جاؤں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر ! ان سے کہہ دو کہ :) مجھے تو یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اس شہر کو حرمت بخشی ہے، اور ہر چیز کا مالک وہی ہے، اور مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں شامل رہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ پوجوں اس شہر کے رب کو جس نے اسے حرمت والا کیا ہے اور سب کچھ اسی کا ہے، اور مجھے حکم ہوا ہے کہ فرمانبرداروں میں ہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(آپ ان سے فرما دیجئے کہ) مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اس شہرِ (مکّہ) کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے عزت و حُرمت والا بنایا ہے اور ہر چیز اُسی کی (مِلک) ہے اور مجھے (یہ) حکم (بھی) دیا گیا ہے کہ میں (اللہ کے) فرمانبرداروں میں رہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرمت دی اور اسی کے لیے ہر چیز ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوجاؤں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے نبی ! کہہ دیجئے :) مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر (مکہ) کے مالک حقیقی کی اطاعت کروں جس نے اسے احترام بخشا اور جو ہر چیز کا مالک ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبردار بن کر رہوں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

مجھے تو بس یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اس کو محترم ٹھہرایا اور جس کے اختیار ہی میں سب کچھ ہے اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں فرماں برداری کرنے والوں ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مجھے تو بس یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں بندگی کرتا رہوں اس شہر مکہ کے رب کی جس نے اسے حرمت والا بنایا ہے اور ہر چیز اسی کی ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے اس بات کا کہ میں ہو رہوں فرمانبرداروں میں سے

— مولانا اسحاق مدنی

مجھے تو یہی حکم ملا ہے کہ میں عبادت کروں اس شہر کے مالک (حقیقی) کی جس نے اسے محترم بنایا ہے اور سب چیزیں اسی کی مالک ہیں اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں فرمانبردار رہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(دیکھو !) مجھے تو یہی حکم ہوا ہے کہ میں بندگی کروں اس شہر کے رب کی جس نے اسے محترم قرار دیا ہے اور اسی کے اختیار میں ہے ہرچیز اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں شامل ہوجاؤں اس کے فرمانبردار بندوں میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرمادیں مجھے یہی کہا گیا ہے کہ اس شہر مکہ کے مالک کی عبادت کروں جس نے اس کو محترم اور ادب کا مقام بنایا اور سب چیز اسی کی ہے۔ اور یہ بھی حکم ہوا ہے کہ اس کا فرمانبردار رہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(Tell them, O Muhammad): "I have been commanded only to serve the Lord of this city that He has made inviolable, to serve Him to Whom all things belong. I have been commanded to be of those that submit to Allah,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

I am but ordered to worship the Lord of this city, which is sanctified by Him. And to Him belongs every thing, and I am ordered to be one of the Muslims (who submit themselves to Allah),

— Muhammad Taqi Usmani

I am but ordered to worship the Lord of this city, which is sanctified by Him. And to Him belongs every thing, and I am ordered to be one of the Muslims (who submit themselves to Allah),

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

I have been commanded only to worship the Lord of this city, Who has sanctified it and to Whom belongs everything. And I am commanded to be from among the Muslims.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Say): I (Muhammad) am commanded only to serve the Lord of this land which He hath hallowed, and unto Whom all things belong. And I am commanded to be of those who surrender (unto Him),

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Say, O Muhammad], "I have only been commanded to worship the Lord of this city, who made it sacred and to whom [belongs] all things. And I am commanded to be of the Muslims [those who submit to Allah]

— Saheeh International

I am commanded to worship the Lord of this town which He has made sacred. To Him belong all things. I am commanded to be a Muslim

— Muhammad Sarwar

I am commanded only that I should serve the Lord of this city, Who has made it sacred, and His are all things; and I am commanded that I should be of these who submit;

— Muhammad Habib Shakir

I am commanded only to worship the Lord of this city which He hath sanctified, -and His is every thing - and I am commanded to be of the Muslims;

— Abdul Majid Daryabadi

For me, I have been commanded to serve the Lord of this city, Him Who has sanctified it and to Whom (belong) all things: and I am commanded to be of those who bow in Islam to Allah's Will,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:91

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 91–93

اللہ تعالیٰ کو حکم اعلان اللہ تعالیٰ اپنے نبی محترم ﷺ سے فرماتا ہے کہ آپ لوگوں میں اعلان کردیں کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی عبادت کا اور اس کی فرمانبرداری کا مامور ہوں۔ جیسے ارشاد ہے کہ اے لوگو ! اگر تمہیں میرے دین میں شک ہے تو ہوا کرے میں تو جن کی تم عبادت کررہے ہو ان کی عبادت ہرگز نہیں کرونگا۔ میں اسی اللہ کا عابد ہوں جو تمہاری زندگی موت کا مالک ہے۔ یہاں مکہ شریف کی طرف ربوبیت کی اضافت صرف بزرگی اور شرافت کے اظہار کے لئے ہے جیسے فرمایا آیت (فَلْيَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَيْتِ ۙ) 106۔ قریش :3) انہیں چاہیے کہ اس شہر کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں اوروں کی بھوک کے وقت آسودہ اور اوروں کے خوف…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 91–93

سورة النمل 110 یہ سورة چونکہ اس زمانے میں نازل ہوئی تھی جبکہ اسلام کی دعوت ابھی صرف مکہ معظمہ تک محدود تھی اور مخاطب صرف اس شہر کے لوگ تھے، اس لیے فرمایا " مجھے اس شہر کے رب کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے "۔ اس کے ساتھ اس رب کی خصوصیت یہ بیان کی گئی کہ اس نے ا سے حرم بنایا ہے۔ اس سے کفار مکہ مکہ کو متنبہ کرنا مقصود ہے کہ جس خدا کا تم پر یہ احسان عظیم ہے کہ اس نے عرب کی انتہائی بدامنی اور فساد و خونریزی سے لبریز سرزمین میں تمہارے اس شہر کو امن کا گہوارہ بنا رکھا ہے، اور جس کے فضل سے تمہارا یہ شہر پورے ملک عرب کا مرکز عقیدت بنا ہوا ہے تم اس کی ناشکری کرنا چاہو تو کرتے رہو، مگر مجھے تو یہی حکم دیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 91–93

خلاصہ تفسیر (اے پیغمبر ﷺ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ) مجھے تو یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر (مکہ) کے مالک (حقیقی) کی عبادت کیا کروں جس نے اس (شہر) کو محترم بنایا ہے (کہ حرم ہونا اسی احترام پر مرتب ہے مطلب یہ ہے کہ عبادت میں کسی کو شریک نہ کروں) اور (اس کی عبادت کیوں نہ کی جاوے جبکہ) سب چیزیں اسی کی (ملک) ہیں اور مجھ کو یہ (بھی) حکم ہوا ہے کہ میں (عقائد و اعمال سب میں) فرمانبردار رہوں (یہ تو توحید کا حکم ہوا) اور (مجھ کو) یہ (بھی حکم ملا ہے) کہ میں (تم کو) قرآن پڑھ پڑھ کر سناؤں (یعنی احکام الہیہ کی تبلیغ کروں جو نبوت کے لوازم میں سے ہے) سو (میری تبلیغ کے بعد) جو شخص راہ پر آوے گا تو اپنے ہی فائدہ کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 91–92

آیت 92-91 آنحضرت ﷺ کے مشن کی وضاحت یہ آخر میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی زبان سے آپ ﷺ کے مشن اور مقصد دعوت کی بالکل فیصلہ کن انداز میں وضاحت کرا دی تاکہ قریش اگر سنبھلنا چاہیں تو سنبھل جانیں ورنہ نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہوجائیں ہمارے نزدیک یہاں انما امرت سے پہلے لفظ قل برنبانے قرینہ محذوف ہے۔ بعد میں اس کی وضاحت ہوگئی ہے چناچہ فرمایا ہے۔ فقل انما انا الٓیۃ اور قل الحمد للہ فرمایا کہ ان لوگوں کو صاف صاف سنا دو کہ مجھے تو یہ ہدایت ہوئی ہے کہ میں اس سرزمین کے اس رب کی بندگی کروں جس نے اس کو محترم ٹھہرایا اور جس کے اختیار ہی میں سب کچھ ہے اور یہ کہ میں اسی کی اطاعت کرنے والوں میں سے بنوں۔ یہ اجمالی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

91-1اس سے مراد مکہ شہر ہے اس کا بطور خاص اس لئے ذکر کیا ہے کہ اسی میں خانہ کعبہ ہے اور یہی رسول اللہ ﷺ کو بھی سب سے زیادہ محبوب تھا ' حرمت والا ' کا مطلب ہے اس میں خون ریزی کرنا، ظلم کرنا، شکار کرنا درخت کاٹنا حتّٰی کہ کانٹا توڑنا بھی منع ہے (بخاری کتاب الجنائز)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 90–93

39: اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کی حقانیت اور اپنی قدرت کی بہت سی نشانیاں دنیا میں دکھاتا رہا ہے، مثلا بہت سی پیشگی خبریں جو آپ نے وحی کی بیناد پر دی تھیں، وہ لوگوں نے کھلی آنکھوں پر پوری ہوتی ہوئی دیکھیں، جیسا کہ سورة روم کے شروع میں اس کی ایک مثال آنے والی ہے۔ یہاں اس قسم کی نشانیاں بھی مراد ہوسکتی ہیں، اور قیامت بھی مراد ہوسکتی ہے کہ اس وقت قیامت کے منکر بھی اسے پہچان لیں گے، لیکن اس وقت کا پہچاننا فائدہ مند نہیں ہوگا، کیونکہ ایمان لانے کا وقت گذر چکا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 91–93

اب سورت کے آخر میں آخری ضربات ہیں۔ یہاں یہاں رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی دعوت کا خلاصہ بیان کریں۔ اپنے منہاج کار کی وضاحت کردیں۔ طریقہ دعوت بتا دیں اور تبلیغ کردینے اور خدا کا پیغام پہنچا دینے کے بعد اب ان کو اس انجام کے حوالے کردیں۔ جو اللہ نے ان لوگوں کے لیے پسند فرمایا ہے اس لیے کہ انہوں نے خود اپنے لیے اسے چنا ہے۔ اور بات کا خاتمہ بھی اسی حمد و ثنا پر ہوتا ہے جس کے ساتھ آغاز ہوا تھا۔ انما امرت ان اعبد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما ربک بغافل عما تعملون (27: 91- 93) ” “۔ اہل عرب مکہ مکرمہ کو بیت الحرام اور حرم کو قابل احترام سمجھتے تھے اور مکہ مکرمہ اور حرم شریف کے اس احترام پر ان کی قیادت و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 شہر سے مراد ہے مکہ معظمہ جسے خدا تعالیٰ نے معظم و محترم بنایا۔ اسی تخصیص و تشریف کی بناء پر رب کی اضافت اس کی طرف کی گئی ورنہ یوں ہر چیز کا رب اور مالک وہ ہی ہے۔ 13 یعنی ان لوگوں میں رہوں جو حق تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری کرنے والے اور اپنے کو ہمہ تن اس کے سپرد کردینے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 91 اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ ہٰذِہِ الْبَلْدَۃِ الَّذِیْ حَرَّمَہَا ” ان آخری آیات کا انداز ایک اعلان کا سا ہے۔ اگرچہ اس اعلان کا آغاز لفظ ”قُلْ“ سے نہیں ہو رہا لیکن انداز یہی ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ڈنکے کی چوٹ یہ اعلان کردیجیے۔ آپ ان پر واضح کردیجیے کہ میں کسی بت ‘ کسی دیوی یا کسی دیوتا کی پرستش کی بجائے صرف اس رب کی بندگی کرتا ہوں اور اسی کی بندگی کرتا رہوں گا جس نے بیت اللہ کو حرم ٹھہرایا ہے اور اس شہر کی سر زمین کو محترم قرار دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

101 مکہ کے مالک ہونے کا اللہ تعالیٰ نے اس لئے ذکر فرمایا کہ اس سورة کے نزول کے وقت تک دعوت اسلام کا مرکز تبلیغ صرف مکہ ہی تھا۔ اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت اس لحاظ سے بھی تمہارے لئے ضروری ہے کہ جس نے اس شہر کو قابل احترام قرار دیا ہے۔ جس کے بیشمار فوائد اے قریش مکہ ! تم ہی اٹھا رہے ہو۔ ساری دنیا بالخصوص اس گھر کے متولی ہونے کے باعث تمہاری عزت اور تمہاری وقار قائم ہے اللہ کے اس عطا کردہ احترام ہی کی وجہ سے عرب کے ڈاکوؤں اور لیٹروں سے تمہاری جانیں اور تمہارے اموال محفوظ رہتے ہیں اور بالخصوص تمہارے تجارتی قافلوں کو کوئی لوٹنے کی جرات نہیں کرتا۔ پھر جسے تم پروانہ راہداری عطا کردو۔ لوگ اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 90–91

103۔ (جیسا کہ اب تک بھی رہا ہوں عقائد و اعمال دونوں میں) عبادت وتعمیل احکام سے جب سرور انبیاء مستثنی نہیں تو ظاہر ہے کسی ولی، کسی بزرگ کا کیا ذکر ہے۔ (آیت) ” ھذہ البلدۃ “۔ یعنی شہر مکہ، اللہ مالک تو سب ہی شہروں، ملکوں کا ہے۔ مکہ کی تخصیص سے مقصود مکہ کے مرتبہ کا شرف و اعزاز ہے۔ (آیت) ” ولہ کل شیء “۔ یعنی ہر چیز جب اسی کی ملک ہے، تو وہ جس کو بھی چاہے محترم ومتبرک ٹھہرادے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–93

آیت نمبر 83 تا 93 ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے اور وہ ان کے رؤساء مقتدیٰ ہوں گے ان کو روکا جائے گا یعنی آگے پیچھے سے روکا جائے گا پھر ان کو ہانکا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ مقام حساب میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کیا تم نے میرے انبیاء کو میری آیتوں کے ساتھ جھٹلایا تھا حال یہ ہے کہ تم نے ان کی تکذیب کی جہت کا علمی احاطہ نہیں کیا أمَّا میں اَمْ کو ما استفہامیہ میں ادغام کردیا ذَا موصول ہے ای ما الذی اور جن کاموں کا تم کو حکم دیا گیا تھا ان میں سے تم نے کیا کیا کام کئے ؟ اور ان کے ظلم یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انما امرت ان اعبد رب ھذہ البلد الذی حرمھا ولہ کل شیء وامرت ان اکون من المسلمین . مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس (ا اللہ) کی عبادت کروں جو (خاص طور پر) اس شہر کا مالک حقیقی ہے جس نے اس کو محترم بنایا ہے (ویسے تو عام طور پر) ہر چیز اسی کی ہے اور مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ میں (اسی کا) فرمانبردار ہوں۔ ھٰذِہِ الْبَلْدَۃِ یعنی مکہ۔ رب کی ھٰذِہِ الْبَلْدَۃِ کی طرف اضافت شہر کی عزت ظاہر کرنے اور اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہے کہ اس کے اندر کعبہ ہے جو تجلیات الہیہ کی پر توافگنی کا خصوصی مقام ہے۔ اَلَّذِیْ حَرَّمَھَا یعنی وہ رب ایسا ہے کہ اس نے اس شہر کو حرم بنا دیا ‘ یہاں کسی پر ظلم نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(91) پیغمبر ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ مجھے تو یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر کے مالک کی عبادت کیا کروں جس نے مجھے محترم بنایا ہے اور سب چیزیں مخلوقات وغیرہ اسی کی ملکیت ہیں اور مجھے یہ بھی حکم ہوا ہے کہ میں دین اسلام پر مسلمانوں کے ساتھ قائم رہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ۔۔ : اس آیت میں قریش مکہ پر چوٹ ہے کہ تم لوگ جو اس شہر میں رہتے ہو جسے اللہ تعالیٰ نے حرمت والا اور جائے امن قرار دیا ہے، جہاں نہ کسی کو قتل کیا جاتا ہے، نہ کسی پر ظلم ہوتا ہے، نہ اس میں شکار کی اجازت ہے، نہ اس کے درخت کاٹنے کی، جس کی وجہ سے تم بیشمار فوائد اٹھا رہے ہو۔ اللہ کے گھر کے متولی ہونے کی وجہ سے ساری دنیا میں تمہاری عزت اور تمہارا وقار قائم ہے۔ سارے عرب میں کسی کی جان اور مال محفوظ نہیں، لوگوں کو ان کے گھروں سے اٹھا لیا جاتا ہے، ان کے اموال لوٹ لیے جاتے ہیں، مگر بیت اللہ کی وجہ سے مکہ میں بھی تمہیں اس کی نعمت میسر ہے اور ہر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 91–92

انما امرت ان اعبدرب ھذہ البلدۃ الذی حرمھا مراد مکہ مکرمہ ہے اللہ تعالیٰ نے جس کی حرمت کو عظمت والا بنایا ہے یعنی اسے امن والا حرم بنایا ہے اس میں خون نہیں بہایا جاتا اور اس میں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا، کسی شکار کو شکار نہیں کیا جاتا، اس میں درخت کو نہیں کاٹا جاتا جس کی وضاحت کئی مواقع پر گزر چکی ہے۔ حضرت ابن عباس نے التی حرمھا، بلدہ کی صفت پڑھی ہے۔ جماعت کی قرأت الذی ہے یہ محل نصب میں ہے اور رب کی صفت ہے اگر لفظ رب معرف باللام ہوتا تو تو کہتا : المحرمھا اگر یہ بلدہ کی صفت ہوتا تو تو کہتا : المحرمھا ھوا گر تو کہتا : الذی حرمھا تو تو استدلال نہ کرسکتا کہ تو کہتا ہو۔ ولہ کل شیء پیدائش اور ملک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 91–93

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان اعبد رب ہذہ البلدۃ میں البلدۃ سے مراد ہے مکہ۔ 2۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ ابن المنذر نے ابن جریرج (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں کو یہ گمان ہے کہ البلدۃ سے مراد مکہ ہے۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ابو لاعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ البلدۃ سے منی مراد ہے۔ 5۔ ابو عبید وابن المنذر نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ ابن مسعود کی قراءت یہ ہے کہ آیت وان اتلوا القرٰن ہے، یعنی اتل امر کا صیغہ ہے۔ اور ابی بن کعب کی قرءت میں ہے آیت وان اتلوا القرآن، (یعنی ان پر قرآن کی تلوت کیجیے۔ 6۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وا بن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّمَآ [ کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] اُمِرْتُ [ مجھے حکم دیا گیا ] اَنْ اَعْبُدَ [ کہ میں بندگی کروں ] رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِيْ [ اس شہر کے اس رب کی جس نے ] حَرَّمَهَا [ محترم کیا اس (شہر) کو ] وَلَهٗ [ اور اس کیلئے ہی ہے ] كُلُّ شَيْءٍ ۡ [ سب چیز ] وَّاُمِرْتُ [ اور مجھے حکم دیا گیا ] اَنْ اَكُوْنَ [ کہ میں ہوجاؤں ] مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ [ فرمانبردارں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آپ یہ اعلان فرما دیں کہ مجھے صرف یہی حکم ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں اور فرماں بردار رہوں رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ آپ یہ اعلان فرما دیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرمت دی ہے اس میں امن وامان رکھنا اور شکار نہ کرنا اور اس کے درخت نہ کاٹنا اور اس میں کسی کا خون بہانے سے پرہیز کرنا اس کی حرمت میں یہ سب داخل ہے آیت شریفہ کے عموم الفاظ کی وجہ سے حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص حدود حرم میں کسی کو قتل کر دے تو قاتل کو بطور قصاص حرم میں قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے حرم سے باہر لے جا کر قتل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 91–93

خاتمہء سورت برحکم عبادت وتلاوت قرآن قال اللہ تعالیٰ انما امرت ان اعبدرت ھذہ البلدۃ۔۔۔ الی۔۔۔۔ وما ربک بغافل عما تعملون۔ (ربط) جب اللہ تعالیٰ مبدا اور معاد اور قیامت اور علامات قیامت اور قانون جزا اور سزا کو بیان کرچکے تو اب اس سورت کو تین احکام کے بیان پر ختم کرتے ہیں جن پر آخرت کی کامیابی کا دارومدار ہے۔ (1) ایک تو خدا کی عبادت۔ یعنی توحید خالص۔ (2) دوم دین اسلام پر استقامت۔ (3) سوم قرآن مجید کی تلاوت جو تبلیغ احکام اور دعوت اسلام کا اولین ذریعہ ہے۔ اور بتلا دیا کہ راہ راست پر چلنے سے بندہ ہی کا فائدہ ہے۔ اور نہ چلنے سے بندہ ہی کا نقصان ہے اور اللہ بندوں کے اعمال سے غافل نہیں۔ لہٰذا اعمال…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

78:۔ آخر میں تمام مذکورہ دلائل کے ثمرہ و نتیجہ کے طور پر دلیل وحی کا ذکر کیا گیا ہے کہ مجھے وحی کے ذریعہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ میں اس عزت و حرمت والے شہر مکہ کے رب کی عبادت کروں، اسی کو کارساز سمجھوں اور حاجات و مصائب میں صرف اسی کو پکاروں۔ ولہ کل شیء، کیونکہ ساری کائنات کا مالک اور سارے جہان میں وہی متصرف و مختار ہے۔ وامرت ان اکون، مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ میں زندگی کے ہر معاملہ میں اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردوں۔ وان اتلوا القران، اور مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ میں قرآن کی تبلیغ و اشاعت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھوں ای واظب علی قراءت ہ علی الناس بطریق تکریر الدعوۃ و تثنیۃ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 89–93

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا رد کیا ۔ پھر توحید کے دلائل بیان کئے ، اللہ کی صفات کا ذکر ہوا ، انسانوں کو نصیحت کی باتیں سمجھائی گئیں اور پھر جزئے عمل کی منزل کا ذکر ہوا ۔ آج تو لوگ اکڑ دکھاتے ہیں اور انبیاء کی بات کو تسلیم نہیں کرتے مگر جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب گھبرا جائیں گے سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ محفوظ رکھے گا ۔ اس دن پہاڑ بادلوں کی طرح اڑیں گے اور پھر جزائے عمل کی منزل آئے گی۔ وحی کا بدلہ اب اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے من جاء بالحسنہ فلہ خیر منھا جو شخص نیکی لے کر آیا اس کے لیے اس نیکی سے بہتر بدلہ ہوگا کیونکہ اللہ کے ہاں ہر نیکی کا اجر کم از…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ ہٰذِہِ الْبَلْدَۃِ الَّذِيْ حَرَّمَہَا وَلَہٗ كُلُّ شَيْءٍ۝ 0 ۡوَّاُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۝ 91 ۙ أمر الأَمْرُ : الشأن، وجمعه أُمُور، ومصدر أمرته : إذا کلّفته أن يفعل شيئا، وهو لفظ عام للأفعال والأقوال کلها، وعلی ذلک قوله تعالی: إِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ [هود/ 123] ( ا م ر ) الامر ( اسم ) کے معنی شان یعنی حالت کے ہیں ۔ اس کی جمع امور ہے اور امرتہ ( ن ) کا مصدر بھی امر آتا ہے جس کے معنی حکم دینا کے ہیں امر کا لفظ جملہ اقوال وافعال کے لئے عام ہے ۔ چناچہ آیات :۔ { وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ } ( سورة هود 123) اور تمام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 91–93

ان ما امرت ان اعبد رب ھذہ البلدۃ الخ مبدء و معاو و نبوت میں کلام کرکے سورة کو کس عمدہ خاتمہ پر تمام کرتا ہے جو تمام اگلے مضمون کا خلاصہ ہے۔ اول یہ کہ لوگوں کو کہہ دو کہ مجھ کو صرف اس شہر کے رب کی عبادت کا حکم ہوا ہے۔ یعنی مکہ کے رب کی، صرف اللہ کی عبادت پر مامور ہوں توحید خالص میرا وظیفہ ہے۔ اگرچہ خدا تعالیٰ صرف مکہ کا رب ہے، بلکہ تمام شہروں کا اور کل مخلوقات کا لیکن ھذہ البلدۃ کہنے سے قریش کو انفعال دلانا مقصود تھا کہ وہ رب کہ جس نے تمہارے اس شہر کو متبرک کیا ‘ حرمت دی ‘ جس کی بدولت تم عرب کی مار دھاڑ سے امن میں ہو اور اسی پر کیا منحصر ہے ولہ کل شیء اس کی اور بہت خوبیاں ہیں اور ہر شے اس کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 90–92

اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ ھٰذِہِ الْبَلْدَۃِ الَّذِیْ حَرَّمَھَا وَلَـہٗ کُلُّ شَیْ ئٍ زوَّاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ جفَمَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ جوَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ۔ (النمل : 91، 92) (مجھے تو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اس گھر کو عزت و حرمت والا بنایا ہے اور ہر چیز اسی کے اختیار میں ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداری کرنے والوں میں سے بنوں ۔ نیز یہ بھی کہ میں قرآن پڑھ کر سنائوں، تو جو ہدایت کی راہ اختیار کرے گا وہ اپنے ہی فائدے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن نجات اخلاص پر مبنی اعمال پر ہوگی لہٰذا تمام نیکیوں کی بنیاد ” اللہ “ کی خالص عبادت کرنا ہے جس کا نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ سب سے پہلے اس پر عمل کریں۔ اہل مکہ کی عزت و تکریم پوری دنیا میں بالعموم اور ججاز میں بالخصوص اس بناء پر کی جاتی تھی کہ یہ لوگ مکہ کے مکین اور بیت اللہ کے متولّی ہیں۔ اس بناء پر نہ صرف ان کی تکریم ہوتی تھی بلکہ انھیں تجارتی فوائد کے ساتھ بڑے بڑے تحائف بھی موصول ہوتے تھے۔ بیت اللہ کی وجہ سے انھیں امن حاصل تھا۔ سفر کے دوران لوگوں کو معلوم ہوجاتا کہ اس قافلے میں قریشی اور ہاشمی لوگ موجود ہیں تو لوٹ گھسوٹ کرنے والے قبائل اس قافلے پر ہاتھ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

91: اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ ہٰذِہِ الْبَلْدَۃِ (مجھے حکم ملا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں) ۔ البلدۃ سے مکہ مراد ہے۔ الَّذِیْ حَرَّمَہَا (جس کو اس نے حرمت والا بنایا) ۔ امن والا حرم محترم بنایا۔ اس میں پناہ لینے والا محفوظ رہتا ہے۔ اسکے کانٹے کو کاٹا نہ جائیگا اور نہ اسکی گھاس کو اکھاڑا جائیگا اور اسکے شکار کو بھگایانہ جائے گا۔ وَلَہٗ کُلُّ شَیْئٍ (اور چیز اسی ہی کی ہے) ۔ اس شہر سمیت وہ دنیا و آخرت کا مالک ہے۔ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (مجھے تو حکم ملا ہے کہ میں اسکی فرمانبرداری کروں) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر، 91۔ انماامرت ، اللہ تبارک وتعالی اپنے رسول سے حکم فرماتے ہیں کہ کہیں کہ مجھے اللہ نے اس کا حکم دیا ہے ، ان عبداللہ رب ھذہ البلدۃ، اس سے مکہ شہر مراد ہے۔ الذی حرمھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو حرم بنایا اور امن والابنایا نہ اس میں کسی کا خون بہایا جائے گا اور نہ ہی اس میں کسی کے ساتھ ظلم کیا جائے گا، اور نہ ہی یہاں پر شکار کیا جائے گا، اور نہ ہی کوئی گھاس اکھاڑی جائے گی، ولہ کل شئی، خلق کے اعتبار سے ہو یا ملکیت کے اعتبار سے ۔ وامرت ان اکون من المسلمین۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 91–93

91 تا 93۔ اوپر کی آیتوں میں مشرکین مکہ کو حشر سے ڈرا کر ان آیتوں میں پیغمبر ﷺ کو فرمایا ہے کہ اے رسول اللہ ﷺ کو فرمایا ہے کہ اے رسول اللہ کے کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو مجھ کو تو اللہ کا یہی حکم ہے کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی بندگی کروں جس کو اس نے ادب والا بنایا اور انسان اور اس کی سب ضرورت کی چیزوں کو اس نے اپنی قدرت سے اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے شرع میں شہر مکہ کی بڑی تعظیم اور بڑا ادب ہے چناچہ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت 4 ؎ ہے کہ پیغمبر ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا آسمان و زمین کی پیدائش کے وقت سے اللہ تعالیٰ نے شہر مکہ کو ادب والا بنایا ہے پھر فرمایا ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 91–93

(آیت 91 اے محمد ﷺ ان سے کہہ دیجئے : (انما امرت ان اعبد رب ھذہ البلدۃ) ” مجھے یہی حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں۔ “ یعنی مکہ مکرمہ (الذی حرمھا) ” جس نے اس کو محترم بنایا۔ “ اور اس کے رہنے والوں کو نعمتوں سے بہرہ ور کیا۔ پس اس لئے ان پر واجب ہے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔ (الہ کل شیء) عالم علوی اور عالم سفلی کی تمام اشیاء کا وہی مالک ہے اور یہ فقرہ اس وہم کے ازالے کے لئے استعمال کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت صرف بیت حرام سے مختص ہے (وامرت ان اکون من المسلمین) (1) (1۔ یہاں مصنف نے سبقت قلم سے (وامرت ان اکون اول المسلمین) لکھ دیا ہے اور اسی کے مطابق تفسیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 91–92

100 پیغمبر کا کام انذار و تبلیغ اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کی زبان پر ارشاد فرمایا گیا کہ میرا کام تو بہرحال یہی ہے کہ میں اس شہر کے اس رب کی ہی عبادت و بندگی کرتا رہوں جس نے اس کو حرمت والا بنایا ہے اور یہ کہ میں فرماں برداروں میں سے رہوں اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ میں قرآن سناتا جاؤں۔ سو اس کے بعد جس نے راہ حق و ہدایت کو اپنایا اس کا اپنا ہی بھلا اور جو بھٹک گیا اس کی ذمہ داری خود اسی پر۔ میرا کام تو صرف خبردار کردینا ہے اور بس۔ اور وہ میں اپنے بس کی حد تک کرچکا۔ اس سے آگے میری کوئی ذمہ داری نہیں۔ حق کو منوانا اور تمہارے دلوں میں اس کو اتار دینا نہ میرے بس میں ہے اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 82–93

قیامت قریب ہے ‘ نیکو کاروں کو خوشخبری اور بد کا روں کے لیے وعید تشریح : ان آیات میں قرب قیامت کا ذکر کرتے ہوئے دابۃ الارض کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک جانور زمین میں سے نکلے گا اور انسانوں سے باتیں کرے گا۔ مسند احمد میں سیدنا حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ (1) آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا۔ (2) دخان۔ (3) دابہ۔ (4) خروج یاجوج ماجوج۔ (5) نزول عیسیٰ علیہ السلام۔ (6) دجال۔ (7) تین خسوف ‘ ایک مغرب میں دوسرا مشرق میں تیسرا جزیرۃ العرب میں ہوگا۔ (8) ایک آگ جو قصرعدن سے نکلے گی۔ سیدقطب شہید صاحب (رح) ظلال القرآن میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 83–93

آیات 83 تا 93 اسرار و معارف ایک روز ہم ان سب کو میدن حشر میں جمع فرمائیں گے اور ہر امت سے اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والوں کو الگ کرلیا جائے گا اور یوں جب حاضر کیے جائیں گے تو سوال ہوگا کہ تم نے ہماری آیتوں کا انکار کردیا یا بغیر سوچ بچار کے ہی کردیا تھا یا تم نے کوشش تو کی مگر حقیقت کو نہ پا سکے تو چونکہ ان کا جرم ثابت ہوگا لہذا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی بات کرسکیں گے۔ بھلا انہیں دوبارہ زندہ کیے جانے کی سمجھ نیند سے کیوں نہیں آتی کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات کو آرام کے لیے بنایا ہے اور انسان سو کر آرام حاصل کرتا ہے اور نیند میں بھی تو روح کا تعلق بدن سے ایک گونہ کمزور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

5 ۔ یعنی اسے حرم بنایا جس میں نہ کوئی خون کیا جاسکتا ہے، نہ کسی پر ظلم ہوسکتا ہے نہ شکار کیا جاسکتا ہے اور نہ درخت کاٹا جاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:91) اعبد۔ مضارع واحد متکلم منصوب بوجہ عمل ان۔ میں عبادت کروں۔ جملہ مستانفہ ہے۔ تقدیر کلام ہے قل انما امرت ان اعبد رب۔ اعبد کا مفعول۔ مضاف۔ ھذاہ البلدۃ اشارۃ ومشار الیہ مل کر مضاف الیہ ۔ اس شہر کے رب کی۔ البلدۃ : ای مکۃ المعظمۃ۔ الذی : ای رب۔ حرمھا : حرم ماضی واحد مذکر غائب۔ تحریم (تفعیل) مصدر ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب اس کا مرجع البلدۃ ہے۔ اس نے اس کو حرمت دی۔ اس نے اس کا ادب رکھا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 87–93

لغات القرآن : آیت نمبر 87 : 93 : ینفخ (پھونک ماری جائے گی) فزع (گھبرا گیا) داخرین (عاجزی کرنے والے) تحسب (تو گمان کرتا ہے) ‘ جامدۃ (جمع ہوجانے والی) تمر (وہ چلے گی) السحاب (بادل) صنع اللہ (اللہ کی کاری گری) کبت (اوندھا پھینک دیا گیا) ‘ ھل تجزون ( کیا تم بدلہ دیئے جائو گے) امرت ( میں حکم دیا گیا ہوں) البلدۃ (شہر) حرم ( قابل احترام بنایا) ان اتلو (یہ کہ میں تلاوت کروں گا) سیری (وہ بہت جلد دکھائے گا) ‘ تعرفون (تم پہچانتے ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر 87 تا 93 : قرآن کریم میں متعدد مقامات پر قیامت اور اس دن کی ہولناکی کو بیان کیا گیا ہے۔ یہاں پر ایک اصولی بات ارشاد فرمائی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس دن…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 91–93

(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ اے محبوب تم فرماؤ کہ مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ میں اس شہر مکہ کے رب کی عبادت کروں، جس نے اس شہر کو امن والا کیا کہ وہاں آدمی جانور قتل وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے واسطے ہر چیز ہے اور مجھ کو حکم ہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہون اور اللہ کو ایک جانوں اور تمہارے سامنے قرآن کو پڑھوں تاکہ تم ایمان لاؤ تو جو راہ پر آئے گا تو اپنے بھلے کے آوے گا اور جو کوئی بہکار ہے تو تم فرمادو کہ میں تو ڈرانے والے پیغمبروں میں سے ہوں اور میرے ذمہ تو پہنچادینا ہے اور سب خوبیاں اللہ کے لیے ہیں تم کو عنقریب اپنی نشانیاں شق القمر وغیرہ معجزات اور بدر کے واقعات کہ قتل کا ہونا قید ہونا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 88–92

[32] یعنی یہ اللہ کی صناعی ہے کہ ایک مضبوط اور مستحکم چیز ایک ذرا سی کل مروڑ دینے سے بادلوں کی طرح اڑنے لگے۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

91۔ اور نیز یہ کہ میں تم کو قرآن کریم پڑھ پڑھ کر سنائوں سو جو شخص صحیح راہ اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی بھلے کو اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ رہا اور راہ حق سے بھٹکتا پھرا تو آپ فرما دیجئے کہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں ۔ یعنی صاف صاف اعلان کردو کہ مجھ کو تو یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر مکہ کا جو مالک حقیقی ہے اس کی عبادت کروں اس نے اس کو حرم بنایا اور ہر شے اسی کی ہے اور یہ حکم ملا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں رہوں یعنی عقائد اور اعمال صحیح ہوں اور تبلیغ کرتا رہوں قرآن کریم سن کر کوئی صحیح راستے پر آجائے تو اس کا نفع اسی کو پہنچے گا اور جو گمراہ رہتا ہے اور طریقہ حق پر نہیں آتا تو اس سے کہہ دوں کہ…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نبی اعظم وآخر ﷺ کے پروگرام کی مکمل وضاحت فرمائی جا رہی ہے : 91۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ میں تو اس بات کا حکم دیا گیا ہوں کہ میں اس شہر کے رب کی عبادت کروں ۔ ہاں ! اس خاص شہر مکہ مکرمہ کے رب کی عبادت کروں ، اندازہ کیجئے کہ یہ اس شہر میں بسنے والوں سے خطاب اول ہے اور اس کے لئے کیا پیارا انداز اختیار کیا گیا ہے اور اگر اب بھی وہ سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو ان سے زیادہ کون بدبخت ہوگا کس انداز سے توحید الہی کو قریش مکہ تک پہنچایا جا رہا ہے کہ تم نے جو اس شہر مین ایک سے زیادہ رب اور الہ بنا رکھے ہیں ان کوئی حقیقت نہیں نہ یہاں لات ومنواۃ کے لئے کچھ رکھا ہے اور نہ ہی ہبل کا یہاں کوئی مقام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 91–93

Commentary رَ‌بَّ هَـٰذِهِ الْبَلْدَةِ (the Lord of this city - 27:91). Majority of the commentators have taken the word o=ff "Baldah" (the city) for Makkah. Allah Ta’ ala is the Lord of all the worlds and the Lord of heavens and earth. Therefore, the particular mention of Makkah here is to show its revered splendor, and its respect and honour in the sight of Allah Ta a1a. Word Haram is derived from Tahrim, which means "to prohibit" and also means "complete respect and veneration", and because of this respect and veneration whatever special religious prohibitions are applicable to Makkah and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 91–93

110 As this Surah was sent down at a stage when the message of Islam was confined to Makkah and its addressees were the people of that City only, it was said, "I have been commanded that I should worship the Lord of this City." And the characteristic of the Lord was stated to be that He had made that City sacred. This was meant to warn the disbelievers of Makkah, as if to say, " You may if you so like prove thankless to that God Who has done you the great favour of making this City of yours a haven of peace in the strife-ridden land of Arabia, and Who by His grace has made it the centre of…

Read the full tafseer →