Explained with ayahs 87–90
جب صور پھونکا جائے گا
اللہ تعالیٰ قیامت کی گھبراہٹ اور بےچینی کو بیان فرما رہے ہیں۔ صور میں حضرت اسرافیل ؑ بحکم الہی پھونک ماریں گے۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ ہونگے۔ دیر تک نفخہ پھونکتے رہیں گے۔ جس سے سب پریشان حال ہوجائیں گے سوائے شہیدوں کے جو اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں دئیے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ایک دن کسی شخص نے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا فرمایا کرتے ہیں کہ اتنے اتنے وقت تک قیامت آجائے گی ؟ آپ نے سبحان اللہ یا لا الہ الا اللہ یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ بطور تعجب کہا اور فرمانے لگے سنو ! اب تو جی چاہتا ہے کہ کسی سے کوئی حدیث بیان ہی نہ کرو میں نے یہ کہا تھا کہ عنقریب تم بڑی اہم…
Read the full tafseer →سورة النمل 109 الف
قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس امر کی تصریح کی گئ ہے کہ آخرت میں بدی کا بدلہ اتنا ہی دیا جائے گا جتنی کسی نے بدی کی ہو اور نیکی کا اجر اللہ تعالیٰ آدمی کے عمل سے بہت زیادہ عطا فرمائے گا۔ اس کی مزید مثالوں کے لیے ملاحظہ ہو، یونس آیات 26۔ 27، القصص آیت 84، العنکبوت آیت 7، سبا آیات 37۔ 38، المومن آیت 40،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
مَنْ جَاۗءَ بالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَيْرٌ مِّنْهَا، یہ حشر و نشر اور حساب کتاب کے بعد پیش آنے والے انجام کا ذکر ہے اور حسنہ سے مراد کلمہ لا الہ الا اللہ ہے (کما قال ابراہیم) یا اخلاص ہے (کما قال قتادہ) اور بعض حضرات نے مطلق اطاعت کو اس میں داخل قرار دیا ہے۔ معنے یہ ہیں کہ جو شخص نیک عمل کرے گا اور نیک عمل اسی وقت نیک کہلانے کے قابل ہوتا ہے جبکہ اس کی پہلی شرط ایمان موجود ہو تو اس کو اپنے عمل سے بہتر چیز ملے گی مراد اس سے جنت کی لازوال نعمتیں اور عذاب اور ہر تکلیف سے دائمی نجات ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ خیر سے مراد یہ ہے کہ ایک نیکی کی جزاء دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک ملے گی۔ (مظہری)
وَهُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
آیت 89-90
یہ اوپر والے ٹکڑے انہ خبیر بما تعملون کا لازمی نتیجہ بیان فرمایا ہے کہ جو نیکی کما کر اس دن حاضر ہوں گے ان کے لئے تو بہترین صلہ ہوگا اور وہ اس دن کی گھبراٹہ سے بالکل مامون اور نچنت ہوں گے لیکن جو لوگ بدی کی کمائی کر کے آئیں گے تو وہ اوندیھ منہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے کہ یہ تمہارے اعمال ہی کا بدلہ ہے جو تمہیں مل رہا ہے تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی جا رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
89-1یعنی حقیقی اور بڑی گھبراہٹ سے وہ محفوظ ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–93
39: اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کی حقانیت اور اپنی قدرت کی بہت سی نشانیاں دنیا میں دکھاتا رہا ہے، مثلا بہت سی پیشگی خبریں جو آپ نے وحی کی بیناد پر دی تھیں، وہ لوگوں نے کھلی آنکھوں پر پوری ہوتی ہوئی دیکھیں، جیسا کہ سورة روم کے شروع میں اس کی ایک مثال آنے والی ہے۔ یہاں اس قسم کی نشانیاں بھی مراد ہوسکتی ہیں، اور قیامت بھی مراد ہوسکتی ہے کہ اس وقت قیامت کے منکر بھی اسے پہچان لیں گے، لیکن اس وقت کا پہچاننا فائدہ مند نہیں ہوگا، کیونکہ ایمان لانے کا وقت گذر چکا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–90
اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار…
Read the full tafseer →11 یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ زیادتی نہیں۔ جو کرنا، سو بھرنا، خود کردہ راچہ علاج۔
Read the full tafseer →آیت 90 وَمَنْ جَآء بالسَّیِّءَۃِ فَکُبَّتْ وُجُوْہُہُمْ فِی النَّارِ ط ”
یعنی ان لوگوں کو اوندھے منہ جہنم میں جھونک دیاجائے گا۔ اعاذنا اللّٰہ من ذٰلک !
ہَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ”
یعنی اس سزا کی صورت میں تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو رہی ‘ بلکہ تمہارے اعمال کے عین مطابق ہی تمہیں بدلہ مل رہا ہے۔
Read the full tafseer →100 سزا یا برے اعمال کے برے بدلہ کے مطابق اللہ کا ضابطہ یا قانون یہ ہے۔ کہ جتنا کسی نے جرم کیا ہے اسے اتنی ہی سزا دی جائے اس سے زیادہ نہ دی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی حال میں بھی اپنے بندوں پر ظلم یا زیادگی نہیں کرتا۔ یہ الگ بات ہے کہ کئی جرائم ایسے ہیں جن کی سزا ہی خلود فی النار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–91
103۔ (جیسا کہ اب تک بھی رہا ہوں عقائد و اعمال دونوں میں) عبادت وتعمیل احکام سے جب سرور انبیاء مستثنی نہیں تو ظاہر ہے کسی ولی، کسی بزرگ کا کیا ذکر ہے۔ (آیت) ” ھذہ البلدۃ “۔ یعنی شہر مکہ، اللہ مالک تو سب ہی شہروں، ملکوں کا ہے۔ مکہ کی تخصیص سے مقصود مکہ کے مرتبہ کا شرف و اعزاز ہے۔ (آیت) ” ولہ کل شیء “۔ یعنی ہر چیز جب اسی کی ملک ہے، تو وہ جس کو بھی چاہے محترم ومتبرک ٹھہرادے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیت نمبر 83 تا 93
ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے اور وہ ان کے رؤساء مقتدیٰ ہوں گے ان کو روکا جائے گا یعنی آگے پیچھے سے روکا جائے گا پھر ان کو ہانکا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ مقام حساب میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کیا تم نے میرے انبیاء کو میری آیتوں کے ساتھ جھٹلایا تھا حال یہ ہے کہ تم نے ان کی تکذیب کی جہت کا علمی احاطہ نہیں کیا أمَّا میں اَمْ کو ما استفہامیہ میں ادغام کردیا ذَا موصول ہے ای ما الذی اور جن کاموں کا تم کو حکم دیا گیا تھا ان میں سے تم نے کیا کیا کام کئے ؟ اور ان کے ظلم یعنی…
Read the full tafseer →ومن جا باسیئتہ فکبت وجوھھم فی النار ھل تجزون الا ما کنتم تعلمون . اور جو شخص
بدی (یعنی شرک) لے کر آئے گا سو ان کو اوندھے منہ آگ میں ڈال دیا جائے گا (اور ان سے کہا جائے گا کہ) تم کو انہی اعمال کی سزا دی جا رہی ہے جو تم کیا کرتے تھے۔
اَلسَّیِّءَۃِ سے مراد ہے شرک۔ فَکُبَّتْ وُجُوْھُھُمْ یعنی ان کو اوندھے منہ آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ وَجُہٌسے مراد پوری شخصیت ہے۔ ھَلْ تُجْزَوْنَ یعنی اعمال کے مطابق سزا دی جائے گی اور شرک سے بڑھ کر کوئی جرم نہیں اور جہنم سب سزاؤں سے بڑھ کر عذاب ہے اس لئے جرم شرک کے مطابق جہنم میں ان کو ڈالا جائے گا۔
Read the full tafseer →(90) اور جو شخص کفر و شرک لائے گا وہ اوندھے منہ دوزخ میں ڈالا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تمہیں تو آخرت میں ان ہی کاموں کا بدلہ دیاجا رہا ہے جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →وَمَنْ جَاۗءَ بالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ۔۔ : یہاں برائی سے مراد شرک ہے، اس پر صحابہ اور بعد کے علماء کی اکثریت کا اتفاق ہے۔ اس تخصیص کی وجہ وہ ہولناک سزا ہے جو آگے بیان کی جا رہی ہے۔ دلیل اس کی وہ صحیح حدیث ہے جس میں ہے کہ آگ سجدے کے مقامات کو نہیں کھائے گی (دیکھیے بخاری : 6573) اور سجدے کے مقامات میں سب سے زیادہ معزز مقام چہرہ ہے، لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ چہرے کے بل آگ میں گرائے جانے والوں سے مراد موحد مسلمان ہوں۔
Read the full tafseer →ومن جآء بالسیئۃ سیئہ سے مراد شرک ہے، یہ حضرت ابن عباس، امام نخفی، حضرت ابوہریرہ، مجاہد، قیس بن سعد اور حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ اہل تاویل کی جانب سے یہ اجماع ہے کہ حسنہ سے مراد لا الہ الا اللہ اور سیئہ سے مراد شرک ہے یہی اس آیت میں تعبیر ہے۔ فکمت وجوھھم فی النار حضرت ابن عباس نے کہا، انہیں پھینک دیا جائے گا۔ ضحاک نے کہا، انہیں پرے پھینکا جائے گا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے، کبیت الانئا میں نے برتن کو اس کے منہ پر پھینک دیا۔ اس سے لازم رکب ہے۔ کلام عرب میں بہت ہی کم واقع ہوا ہے۔
ھل تجزون انہیں کہا جائے گا۔ تمہیں بدلہ نہیں دیا جائے گا۔ پھر جائز ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا آیت من جاء بالحسنۃ فلہ خیر منہا سے مراد ہے لا الہ الا اللہ ومن جاء بالسیءۃ فکبت وجوہہم فی النار سے مراد ہے شرک۔
2۔ ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے دو ثابت ہونے والی چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا من جاء بالحسنۃ فلہ خیر منہا، وہم من فزع یومئذ اٰمنون، ومن جاء باسیءۃ فکبت وجوہہم فی لنار، ہل تجزون الا ماکنتم تعملون۔ سے مراد ہے وہ شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا تھا تو وہ دوزخ میں داخل ہوا۔
3۔ الحاکم نے الکنی میں صفوان بن عسال ؓ سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →وَمَنْ [ اور جو ] جَاۗءَ [ آیا ] بِالسَّيِّئَةِ [ برائی کے ساتھ ] فَكُبَّتْ [ تو اوندھے کئے جائیں گے ] وُجُوْهُهُمْ [ ان کے چہرے ] فِي النَّارِ ۭ[ آگ میں ] هَلْ تُجْزَوْنَ [ تم لوگوں کو کیا بدلہ دیا جاتا ہے ] اِلَّا مَا [ سوائے اس کے جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ کیا کرتے تھے ]
ک ب ب
(ن) کبا پچھاڑنا۔ اوندھا کرنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 90
(افعال) اکبابا ثلاثی مجرد کا ہم معنی ہے۔
مکب اسم الفاعل ہے۔ اوندھا کرنے والا۔ اَفَمَنْ يَّمْشِيْ مُكِبًّا عَلٰي وَجْهِهٖٓ اَهْدٰٓى (تو کیا وہ جو چلتا ہے اوندھا کرنے والا ہوتے ہوئے اپنے چہرے پر زیادہ ہدایت پر ہے) 67/22 ۔
Read the full tafseer →(وَ مَنْ جَآء بالسَّیِّءَۃِ فَکُبَّتْ وُجُوْھُھُمْ فِی النَّارِ ) ( اور جو شخص سیۂ لے کر آئے گا سو وہ لوگ ہوں گے جنہیں چہروں کے بل اوندھا کر کے آگ میں ڈال دیا جائے گا) جیسے جملہ سابقہ میں لفظ الحسنہ سے ایمان مراد لیا گیا ہے اسی طرح بعض مفسرین نے اس جملہ میں سیۂ سے کفر اور شرک مراد لیا، اور مطلب یہ ہے کہ جو شخص قیامت کے دن کفر اور شرک لے کر آئے گا اسے اوندھے منہ کر کے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا جیسا کہ سورة الشعراء میں فرمایا (فَکُبْکِبُوْا فِیْھَا ھُمْ وَ الْغَاوُوْنَ وُ جُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَ ) (لوگ اور ابلیس کا لشکر سب کے سب اوندھے منہ کر کے دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے) اور اگر سیۂ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
بیان حال قیامت وجزاء آخرت
قال اللہ تعالیٰ ویوم ینفخ فی الصور۔۔۔ الی۔۔۔ الا ما کنتم تعملون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اول قیامت کا امکان ثابت کیا پھر روز قیامت کے کچھ مبادی اور چند علامتوں کا ذکر کیا اب ان آیات میں روز قیامت کا حال اور حشر کی کچھ مجمل کیفیت بیان کرتے ہیں کہ خروج دابۃ الارض اور طلوع الشمس من المغرب کے بعد قیامت کا آغاز اس طرح ہوگا کہ صور پھونکا جائے گا جس سے تمام کائنات درہم برہم ہوجائے گی اور توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔
اور چونکہ روز قیامت روز جزاء ہے اس لئے اخیر میں قانون جزا بیان کیا۔ من جاء بالحسنۃ فلہ خیر منھا الی اخر الایات چناچہ فرماتے ہیں اور ذکر کیجئے آپ ان سے اس دن کا جس…
Read the full tafseer →77:۔ یہ تخویف اخروی ہے جن لوگوں نے شرک کیا انہیوں منہ کے بل جہنم میں پھینکا جائے گا اور کہا جائے گا یہ سزا تمہیں تمہارے اعمال ہی کی دی جارہی ہے۔ بالسیئۃ واھو الشرک و بہ فسرہ من فسر الحسنۃ بشہادۃ ان لا الہ الا اللہ الخ (روح ج 20 ص 37) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–93
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا رد کیا ۔ پھر توحید کے دلائل بیان کئے ، اللہ کی صفات کا ذکر ہوا ، انسانوں کو نصیحت کی باتیں سمجھائی گئیں اور پھر جزئے عمل کی منزل کا ذکر ہوا ۔ آج تو لوگ اکڑ دکھاتے ہیں اور انبیاء کی بات کو تسلیم نہیں کرتے مگر جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب گھبرا جائیں گے سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ محفوظ رکھے گا ۔ اس دن پہاڑ بادلوں کی طرح اڑیں گے اور پھر جزائے عمل کی منزل آئے گی۔
وحی کا بدلہ
اب اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے من جاء بالحسنہ فلہ خیر منھا جو شخص نیکی لے کر آیا اس کے لیے اس نیکی سے بہتر بدلہ ہوگا کیونکہ اللہ کے ہاں ہر نیکی کا اجر کم از…
Read the full tafseer →وَمَنْ جَاۗءَ بِالسَّيِّئَۃِ فَكُبَّتْ وُجُوْہُہُمْ فِي النَّارِ 0 ۭ ہَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 90
سَّيِّئَةُ :
الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81]
سَّيِّئَةُ :
اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :،
، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ چناچہ قرآن میں ہے اور سیئۃ کے معنی برائی کے ہیں اور یہ حسنۃ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
و یوم ینفخ فی الصور الخ یہاں سے پھر حشر اور اس کی ابتداء تفصیل کے ساتھ ذکر فرماتا ہے، کیونکہ اجمال کے بعد تفصیل خوب دل میں جم جاتی ہے۔ صور پھونکنے کا آلہ ترئی یا بگل کی مانند ہے۔ قیامت کی ابتداء یہیں سے ہوگی کہ اسرافیل فرشتہ اس کو منہ سے لگا کر بجادے گا۔ اس کی آواز اس شدت کی ہوگی کہ اول حیوانات مرجائیں گے، پھر نباتات فنا ہوں گے، پھر جمادات اور اس کی ہیبت ناک آواز سے آسمان و زمین کے سب لوگ گھبرا اٹھیں گے، مگر جن کو اللہ چاہے گا نہ گھبرائیں گے، وہ کون لوگ ہوں گے بعض کہتے ہیں ملائکہ حوران جنت بعض کہتے ہیں۔ اہل اللہ انبیاء اولیاء و شہداء حدیث میں آیا ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) بھی انہی میں ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–92
اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ ھٰذِہِ الْبَلْدَۃِ الَّذِیْ حَرَّمَھَا وَلَـہٗ کُلُّ شَیْ ئٍ زوَّاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ وَاَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ جفَمَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ جوَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ ۔ (النمل : 91، 92)
(مجھے تو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اس گھر کو عزت و حرمت والا بنایا ہے اور ہر چیز اسی کے اختیار میں ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداری کرنے والوں میں سے بنوں ۔ نیز یہ بھی کہ میں قرآن پڑھ کر سنائوں، تو جو ہدایت کی راہ اختیار کرے گا وہ اپنے ہی فائدے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن اعمال کی بنیاد پر لوگ دو قسم کے ہونگے، ذلت اور درماندگی سے محفوظ رہنے والے حضرات اور ان کے مقابلے میں ذلیل ہونے والے لوگ۔
آیت 87 میں ذکر ہوا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو زمینوں، آسمانوں اور اِ ن کے درمیان جو چیز ہے وہ لرز اور گھبرا جائے گی سوائے ان لوگوں کے جنھیں اللہ تعالیٰ اس ذلت اور گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا۔ اب ذلّت سے محفوظ اور اس سے دوچار ہونے والے لوگوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔
جس شخص نے نیک کاموں میں زندگی بسر کی اس کے لیے بہترین بدلہ ہوگا اور اس دن ان کو گھبراہٹ سے محفوظ رکھا جائے گا۔ جس شخص نے برائی کے کاموں میں زندگی گزار دی اسے آگ میں الٹے منہ ڈالا…
Read the full tafseer →90: وَمَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ (اور جو کوئی برائی لایا) ۔ السّیئۃ سے شرک مراد ہے۔ فَکُبَّتْ (پس ان کو اوندھے کیا جائے گا) ۔ القیت (ڈالے جائیں گے) وُجُوْہُہُمْ فِی النَّار (ان کے چہرے آگ میں) ۔ کہا جاتا ہے کببت الرجل اے القیتہ علی وجہہ۔ (میں نے اسے چہرے کے بل گرا دیا) ۔
آیت میں تمام جسم کو وجہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جیسا کہ سر اور گردن سے تعبیر کرتے ہیں۔ ای القوافی النار۔ ان کو رلانے کے لئے اوندھا کردیا جائے گا۔ اور کہا جائے گا۔ ہَلْ تُجْزَوْنَ اِلاَّ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (تمہیں نہیں بدلہ دیا جا رہا مگر اتنا ہی جو کچھ تم کرتے تھے) ۔ یعنی دنیا میں رہتے ہوئے۔ مثلاً شرک اور دیگر معاصی۔
Read the full tafseer →90۔۔ ومن جاء بالسیئہ، ، اور جو شرک لے کر آئے گا، فکبت وجوھھم فی النار، ، ان کو آگ میں چہروں کے بل ڈالاجائے گا، جیسا کہ کہاجاتا ہے ، کبت الرجل، اذالقیتہ ، علی وجھہ، فانکب واکب، اور کہاجائے گا، جہنم کے داروغے سے ، ھل تجزون الاماکنتم تعملون، ، دنیا میں شرک سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
89 تا 90۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے صور کے پھونکنے کا ذکر فرمایا تھا اگرچہ اس بات میں علماء نے بڑا اختلاف کیا ہے کہ صور کتنی دفع پھونکا جائے گا مگر صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمر 20 والعاص ؓ کی حدیث 3 ؎ سے معلوم ہوتا ہے کہ صور فقط دو دفع ہی پھونکا جاوے گا جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دجال کو ہلاک کر چکیں گے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا زمانہ گزر چکے گا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات ہوجائے گی تو اس کے بعد شام کے ملک کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا چل کر جن کے دل میں ذدرہ برابر بھی ایمان ہے اس طرح کے سب لوگ اس ہوا کے اثر سے مرچکیں گے اور شیطان کے بہکانے سے دنیا میں پھر پہلے زمانہ جاہلیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
(آیت 87 ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قیامت کے دن سے، جو انہیں پیش آنے والا ہے، ڈراتا ہے یعنی اس دن انہیں جن سخت مصائب، مشقتوں اور دل کو دہلادینے والے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا ان سے ڈرتا ہے، چناچہ فرمایا : (ویوم ینفخ فی الصور ففزع) ” اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو گھبرا اٹھیں گے۔ “ صور پھونکے جانے کی وجہ سے۔ (من فی السموت ومن فی الارض) یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوف سے کانپ اٹھے کی اور خوف کی وجہ سے جو انہیں پیش آنے والا ہے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے تلاطم خیز ہوں گے (الا من شاء اللہ) سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ تعالیٰ اکرام و تکریم بخش کرتا ثابت قدمی عطا کرے گا وہ…
Read the full tafseer →97 بروں کے برے انجام کا ذکر وبیان ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے اس دن برائی کے ساتھ حاضر ہونے والوں کا معاملہ وانجام بیان فرما دیا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی برائی لے کر آئے گا تو ایسوں کو اوندھے منہ ڈال دیا جائے گا دوزخ کی آگ میں "۔ { سیئہ } یعنی " برائی " کا لفظ اگرچہ عام اور ہر برائی کو شامل ہے مگر اکثر اہل علم کے نزدیک یہاں پر اس سے مراد کفر و شرک کی برائی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں۔ اور آگے جو سزا بیان فرمائی گئی ہے وہ اس کفر و شرک ہی کی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (جامع، ابن کثیر وغیرہ) ۔ اسی لئے کہ شرک دراصل بغاوت ہے اور بغاوت کا جرم ناقابل معافی جرم ہوتا ہے۔ اسی لئے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–93
قیامت قریب ہے ‘ نیکو کاروں کو خوشخبری اور بد کا روں کے لیے وعید
تشریح : ان آیات میں قرب قیامت کا ذکر کرتے ہوئے دابۃ الارض کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک جانور زمین میں سے نکلے گا اور انسانوں سے باتیں کرے گا۔ مسند احمد میں سیدنا حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ (1) آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا۔ (2) دخان۔ (3) دابہ۔ (4) خروج یاجوج ماجوج۔ (5) نزول عیسیٰ علیہ السلام۔ (6) دجال۔ (7) تین خسوف ‘ ایک مغرب میں دوسرا مشرق میں تیسرا جزیرۃ العرب میں ہوگا۔ (8) ایک آگ جو قصرعدن سے نکلے گی۔
سیدقطب شہید صاحب (رح) ظلال القرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیات 83 تا 93
اسرار و معارف
ایک روز ہم ان سب کو میدن حشر میں جمع فرمائیں گے اور ہر امت سے اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والوں کو الگ کرلیا جائے گا اور یوں جب حاضر کیے جائیں گے تو سوال ہوگا کہ تم نے ہماری آیتوں کا انکار کردیا یا بغیر سوچ بچار کے ہی کردیا تھا یا تم نے کوشش تو کی مگر حقیقت کو نہ پا سکے تو چونکہ ان کا جرم ثابت ہوگا لہذا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی بات کرسکیں گے۔ بھلا انہیں دوبارہ زندہ کیے جانے کی سمجھ نیند سے کیوں نہیں آتی کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات کو آرام کے لیے بنایا ہے اور انسان سو کر آرام حاصل کرتا ہے اور نیند میں بھی تو روح کا تعلق بدن سے ایک گونہ کمزور…
Read the full tafseer →4 ۔ یہاں برائی سے شرک مراد ہونے پر صحابہ اور بعد کے علما کی ایک جماعت کا اتفاق ہے بلکہ بعض نے مفسرین (رح) کا اتفاق نقل کیا ہے۔ اس تخصیص کی وجہ وہ ہولناک سزا ہے جو آگے بیٹان کی جا رہی ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(27:90) السیئۃ برائی، گناہ، فعل بد۔ الحسنۃ کی ضد ہے ملاحظہ ہو آیت مندرجہ بالا (27:89) سیئۃ اصل میں سیوأۃ تھا۔ واؤ کو یاء سے بدل کر یاء کو یاء میں مدغم کیا گیا ہے۔
فکبت میں فاء سببیہ ہے کبت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب (یہاں وجوہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔ کب یکب (نصر) کب اوندھے منہ گرنا یا گرانا کبت وہ اوندھے منہ گرائے جائیں گے۔
وجوھھم مضاف مضاف الیہ ان کے چہرے۔ یہاں وجوھھم سے مراد انفسھم ہے۔ جیسا کہ ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ (2:195) سے مراد بانفسکم ہے۔
ہل حرف استفہام ہے اور تصدیق کی طلب کے لئے آتا ہے یہاں اس آیت میں استفہام سے مقصود ہی نفی ہے اس لئے نفی کے معنوں میں آیا ہے اور اس کی خبر پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–93
لغات القرآن : آیت نمبر 87 : 93 :
ینفخ (پھونک ماری جائے گی) فزع (گھبرا گیا) داخرین (عاجزی کرنے والے) تحسب (تو گمان کرتا ہے) ‘ جامدۃ (جمع ہوجانے والی) تمر (وہ چلے گی) السحاب (بادل) صنع اللہ (اللہ کی کاری گری) کبت (اوندھا پھینک دیا گیا) ‘ ھل تجزون ( کیا تم بدلہ دیئے جائو گے) امرت ( میں حکم دیا گیا ہوں) البلدۃ (شہر) حرم ( قابل احترام بنایا) ان اتلو (یہ کہ میں تلاوت کروں گا) سیری (وہ بہت جلد دکھائے گا) ‘ تعرفون (تم پہچانتے ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر 87 تا 93 :
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر قیامت اور اس دن کی ہولناکی کو بیان کیا گیا ہے۔ یہاں پر ایک اصولی بات ارشاد فرمائی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
(ف 1) ارشاد ہوتا ہے کہ قیامت کے روز اس قانون پر عمل ہوگا جو کوئی نیکی لے کر آئے گا وہ اس کا بہتر اجرپائے گا اور وہ اس روز کی گھبراہٹ سے امن میں رہیں گے اس لیے کہ اس دن گھبراہٹ ان کو جب ہوتی کہ وہ کچھ کام نہ نیک کرتے پس یہ لوگ بےخوف اور نڈر ہوگئے بلکہ ادنی ادنی نیکی کا ثواب حاصل کریں گے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ جو رائی کے برابر بھی نیک کام کرے گا اس کا بھی ثواب ہوگا اور جو شخص بدی شرک وگناہ لے کر آئے گا تو وہ لوگ منہ کے بل آگ میں ڈال دیے جائیں گے یعنی ان کے شرک کی سزا ان کو یہ ملے گی کہ ان کے مونہوں کو سرنگوں کرکے ان کو جہنم میں ڈال دیاجائے گا پھر اس کی سزا وہ بھگتیں گے جو دنیا میں کرگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
[32] یعنی یہ اللہ کی صناعی ہے کہ ایک مضبوط اور مستحکم چیز ایک ذرا سی کل مروڑ دینے سے بادلوں کی طرح اڑنے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
ف 2: اس سے قبل کی آیتوں میں بتایا تھا ۔ کہ نغحہثانیہ کے وقت لوگ گھبرا اٹھیں گے ! اور اس ہولناک منظر کی تاب نہیں لاسکیں گے اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ جو لوگ نیک اور صالح ہیں ۔ جن کے نامہ اعمال میں حسنات کا بہرہ وافر ہے ۔ وہ اس دن کے خوف وہراس سے محفوظ رہیں گے ! اور جو لوگ اڑے ہیں اور جن کی زندگی کا مشن فواحش کا ارتکاب اور برائیوں کو پھیلانا ہے ۔ وہ جہنم میں اوندھے منہ گرینگے ۔ اور ان سے کہا جائے گا ۔ کہ یہ تمہارے اعمال کی صحیح جزا ہے ۔
حل لغات : الحسنۃ ۔ نیکی ، بھلائی
Read the full tafseer →90۔ بس مجھ کو تو یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر مکہ کے مالک حقیقی کی عبادت کروں جس نے اس شہر کو محترم بنایا ہے اور ہر ایک چیز اسی کی ہے اور نیز مجھ کو یہ حکم ملا ہے کہ میں فرماں برداروں میں ہوں۔
Read the full tafseer →ف 4۔ اوپر سورت میں جو مضامین ثلاثہ نبوت و توحید و معاد مفصل مذکور ہیں، آگے خاتمہ میں ان کا اجمال و تلخیص ہے۔
Read the full tafseer →برائیاں کما کر لانے والوں کے لئے آگ کا عذاب ہوگا جو ان کے کئے کا بدلہ ہوگا :
90۔ گزشتہ آیت میں نیکیاں کمانے والوں کا ذکر تھا اب زیر نظر آیت میں بدکاریاں کمانے والوں کا بیان ہے فرمایا گیا کہ جہاں نیکیاں کمانے والے ہوں گے وہاں برائیاں کما کر لانے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں ہوگی لیکن برائیوں کما کر لانے والوں کے ساتھ جو سلوک کیا جائے گا ذرا اس کو بھی اپنے ذہن میں رکھیں فرمایا ان لوگوں کو منہ کے بل اوندھا کرکے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا اور ان کو اس طرح پھینکتے ہوئے پھینکنے والے ہی کہیں گے کہ یہ جو تم کو اس طرح کی سزا مل رہی ہے تو یہ تمہارے ہی کرتوتوں کی مل رہی ہے جو تم دنیا میں کرتے رہے تھے ، اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–90
مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِّنْهَا
"Whoever will come with the good deed will have (a reward) better than that" - 27:89
This description relates to the situation that will take place after the Doomsday and the account taking. Here the word hasanah is purported for the kalimah of لا إله إلا اللہ محمد رسول اللہ (as explained by Ibrahim) or it is an expression of sincerity (as interpreted by Qatadah). Some have interpreted this to include complete submission. The sense is that every good deed will be recompensed by a reward better than the deed; but it should be remembered that a…
Read the full tafseer →109 That is, "Though the terrors of Resurrection will stun and confound the disbelievers, the believers will remain safe and secure from them, for everything in the Hereafter will be according to their expectations. They had already known from the messages brought by the Messengers of Allah that Resurrection will take place, and a new World will be established when everyone will be called to account for his deeds. Therefore, they will neither be bewildered nor alarmed, which will be the case with those who had denied this Day and retrained heedless of it, till their last breath in the world…
Read the full tafseer →