An-Naml 27:89

An-Naml · from ayah 89

27:89

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا ۚ— وَهُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ ۟مَنۡ جَآءَ بِالۡحَسَنَةِ فَلَهٗ خَيۡرٌ مِّنۡهَا‌ۚ وَهُمۡ مِّنۡ فَزَعٍ يَّوۡمَئِذٍ اٰمِنُوۡنَ

جو شخص نیکی لےکر آئے گا تو اس کے لئے اس سے بہتر (بدلہ تیار) ہے اور ایسے لوگ (اُس روز) گھبراہٹ سے بےخوف ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Whoever comes [at Judgement] with a good deed will have better than it, and they, from the terror of that Day, will be safe.

— Saheeh International

Juz 20 · Ruku 7 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:89

جو شخص بھلائی لے کر آئیگا اسے اُس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اُس دن کے ہَول سے محفوظ ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو شخص نیکی لےکر آئے گا تو اس کے لئے اس سے بہتر (بدلہ تیار) ہے اور ایسے لوگ (اُس روز) گھبراہٹ سے بےخوف ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگ نیک عمل ﻻئیں گے انھیں اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور وه اس دن کی گھبراہٹ سے بےخوف ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو کوئی نیکی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر بدلہ ملے گا۔ اور ایسے لوگ اس دن ہر قسم کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو نیکی لائے اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور ان کو اس دن کی گھبراہٹ سے امان ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو شخص (اس دن) نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے اس سے بہتر (جزا) ہوگی اور وہ لوگ اس دن گھبراہٹ سے محفوظ و مامون ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس سے بہتر بدلہ ہے اور وہ اس دن گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو شخص اس دن بھلائی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر بدلہ ملے گا اور ایسے ہی لوگ اس دن گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو نیکی کے ساتھ حاضر ہوں گے تو ان کے لئے اس سے بہتر صلہ ہے اور وہ اس دن ہر گھبراہٹ سے مامون رہیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو کوئی نیکی لے کر آئے گا اس کو اس سے کہیں بڑھ کر اچھا بدلہ ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کے ہول سے امن میں ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

جو کوئی نیکی (یعنی ایمان) لے کر آئے گا سو اس کو اس سے بہتراجر ملے گا اور۔ وہ لوگ اس روز کی (بڑی) گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو کوئی بھی (اس دن) نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس سے بہتر صلہ ہوگا اور وہ اس دن کی گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس سے بہتر بدلہ تیار ہے اور ایسے لوگ اس دن گھبراہٹ سے بےخوف ہوں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Whosoever comes with good will receive a reward better than his deed, and they will be made secure from the terror of that Day.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Whoever will come with the good deed will have (a reward) better than that, and such people will be immune on that day from any panic.

— Muhammad Taqi Usmani

Whoever will come with the good deed will have (a reward) better than that, and such people will be immune on that day from any panic.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Whoever brings a good deed, will have better than its worth; and they will be safe from the terror on that Day.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Whoso bringeth a good deed will have better than its worth; and such are safe from fear that Day.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Whoever comes [at Judgement] with a good deed will have better than it, and they, from the terror of that Day, will be safe.

— Saheeh International

Whoever does a good deed will receive a better reward than what he has done. He will be secure from the terror of the Day of Judgment.

— Muhammad Sarwar

Whoever brings good, he shall have better than it; and they shall be secure from terror on the day.

— Muhammad Habib Shakir

Whosoever will bring good shall have better than the worth thereof; and they from the terror of that Day will be secure.

— Abdul Majid Daryabadi

If any do good, good will (accrue) to them therefrom; and they will be secure from terror that Day.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:89

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 87–90

جب صور پھونکا جائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کی گھبراہٹ اور بےچینی کو بیان فرما رہے ہیں۔ صور میں حضرت اسرافیل ؑ بحکم الہی پھونک ماریں گے۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ ہونگے۔ دیر تک نفخہ پھونکتے رہیں گے۔ جس سے سب پریشان حال ہوجائیں گے سوائے شہیدوں کے جو اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں دئیے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ایک دن کسی شخص نے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا فرمایا کرتے ہیں کہ اتنے اتنے وقت تک قیامت آجائے گی ؟ آپ نے سبحان اللہ یا لا الہ الا اللہ یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ بطور تعجب کہا اور فرمانے لگے سنو ! اب تو جی چاہتا ہے کہ کسی سے کوئی حدیث بیان ہی نہ کرو میں نے یہ کہا تھا کہ عنقریب تم بڑی اہم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 108 یعنی وہ اس لحاظ سے بھی بہتر ہوگا کہ جتنی نیکی اس نے کی ہوگی اس سے زیادہ انعام اسے دیا جائے گا، اور اس لحاظ سے بھی کہ اس کی نیکی تو وقتی تھی اور اس کے اثرات بھی دنیا میں ایک محدود زمانے کے لیے تھے، مگر اس کا اجر دائمی اور ابدی ہوگا۔ سورة النمل 109 یعنی قیامت اور حشر و نشر کی وہ ہولناکیاں جو منکرین ھق کے حواس باختہ کیے دے رہی ہوں گی، ان کے درمیان یہ لوگ مطمئن ہوں گے، اس لیے کہ یہ سب کچھ ان کی توقعات کے مطابق ہوگا، وہ پہلے سے اللہ اور اس کے رسولوں کی دی ہوئی خبروں کے مطابق اچھی طرح جانتے تھے کہ قیامت قائم ہونی ہے، ایک دوسری زندگی پیش آنی ہے اور اس میں یہی سب کچھ ہونا ہے۔ اس لیے ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 89–90

مَنْ جَاۗءَ بالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَيْرٌ مِّنْهَا، یہ حشر و نشر اور حساب کتاب کے بعد پیش آنے والے انجام کا ذکر ہے اور حسنہ سے مراد کلمہ لا الہ الا اللہ ہے (کما قال ابراہیم) یا اخلاص ہے (کما قال قتادہ) اور بعض حضرات نے مطلق اطاعت کو اس میں داخل قرار دیا ہے۔ معنے یہ ہیں کہ جو شخص نیک عمل کرے گا اور نیک عمل اسی وقت نیک کہلانے کے قابل ہوتا ہے جبکہ اس کی پہلی شرط ایمان موجود ہو تو اس کو اپنے عمل سے بہتر چیز ملے گی مراد اس سے جنت کی لازوال نعمتیں اور عذاب اور ہر تکلیف سے دائمی نجات ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ خیر سے مراد یہ ہے کہ ایک نیکی کی جزاء دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک ملے گی۔ (مظہری) وَهُمْ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 89–90

آیت 89-90 یہ اوپر والے ٹکڑے انہ خبیر بما تعملون کا لازمی نتیجہ بیان فرمایا ہے کہ جو نیکی کما کر اس دن حاضر ہوں گے ان کے لئے تو بہترین صلہ ہوگا اور وہ اس دن کی گھبراٹہ سے بالکل مامون اور نچنت ہوں گے لیکن جو لوگ بدی کی کمائی کر کے آئیں گے تو وہ اوندیھ منہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے کہ یہ تمہارے اعمال ہی کا بدلہ ہے جو تمہیں مل رہا ہے تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی جا رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 88–89

38: اللہ تعالیٰ نے ہر نیکی کا ثواب دس گنا دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 82–90

اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی ایک نیکی کا بدلہ کم از کم دس نیکیوں کے حساب سے دیا جائے گا۔ جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ 10 یعنی بڑی گھبراہٹ سے کما قال تعالیٰ (لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ وَتَتَلَقّٰىهُمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ ) 21 ۔ الانبیآء :103) اگر کم درجہ کی گھبراہٹ ہو تو اس آیت کے منافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 89 مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَیْرٌ مِّنْہَا ج ” ایک نیکی کا اجر دس گنا بھی ہوسکتا ہے ‘ سات سو گنا بھی اور اس سے بھی زیادہ۔ بہر حال نیکی کا بدلہ بڑھا چڑھا کردیا جائے گا۔ وَہُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَءِذٍ اٰمِنُوْنَ ” اس سے قیامت کے دن کی گھبراہٹ مراد ہے جسے سورة الحج کی پہلی آیت میں اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ کہا گیا ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ قیام قیامت سے پہلے اللہ تعالیٰ مؤمنین صادقین کو سکون کی موت عطا کر کے اس دن کی گھبراہٹ سے بچا لے گا۔ اس کے علاوہ ان الفاظ میں اس مفہوم کی گنجائش بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو بعث الموت کے بعد میدان حشر کی گھبراہٹ سے بھی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

98 یہاں بھلائی سے مراد ایمان اور اعمال صالحہ ہیں۔ جزا یعنی نیک اعمال کے اچھے بدلہ کے متعلق اللہ کا عام ضابطہ یا قانون یہ ہے کہ ہر نیکی کے عوض دس گنا زیادہ اجر عطا فرمائے اور یہ اس کا اپنے نیک بندوں پر فضل اور احسان ہوگا۔ (6: 16) پھر اگر کوئی عمل انتہائی خلوص اور محض اللہ کی خوشنودی کی خاطر بجا لایا گیا ہوگا اور بعد میں اس کی نگہداشت بھی کی گئی ہوگی تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ سات سو گناہ یا اس سے زیادہ بھی دے سکتا ہے۔ (2: 261) 99 ایمانداروں پر گھبراہٹ طاری نہ ہونے کی دو وجہیں ہوں گی ایک یہ کہ جو کچھ اس دن ہوگا ان کی توقع اور ان کے ایمان کے مطابق ہوگا اور جس حادثہ کی انسان کو پہلے سے خبر ہو وہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

101۔ یعنی جس اجر کا وہ مستحق ہے اس سے بھی کہیں بڑھ کر اسے اجر ملے گا (آیت) ” الحسنۃ “۔ کی تفسیر کلمہ توحید ہے اور اگلی آیت میں (آیت) ” السیءۃ “ کی تفسیر شرک ہے۔ ابومسعود ؓ صحابی اور ابن عباس ؓ صحابی اور بہ کثرت تابعین سے یہی منقول ہے۔ وارادبالحسنۃ علی ما روی عن ابن عباس ؓ وابن مسعود ؓ و مجاھد والحسن والنخعی وابی صالح و سعید بن جبیر وعطاء وقتادۃ شھادۃ ان لاالہ الا اللہ (روح) بلکہ بعض صحابیوں سے تو اس معنی کی سند خود رسول کریم ﷺ تک پہنچتی ہے۔ عن ابی ہریرہ (رح) وعن کعب بن عجرۃ ؓ ان النبی ﷺ فسرھا بذلک (روح) اور اقرار توحید سے مراد اقرار مقبول ہے۔ والمراد بھذہ الشھادۃ التوحید المقبول (روح) 102۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 83–93

آیت نمبر 83 تا 93 ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے اور وہ ان کے رؤساء مقتدیٰ ہوں گے ان کو روکا جائے گا یعنی آگے پیچھے سے روکا جائے گا پھر ان کو ہانکا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ مقام حساب میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کیا تم نے میرے انبیاء کو میری آیتوں کے ساتھ جھٹلایا تھا حال یہ ہے کہ تم نے ان کی تکذیب کی جہت کا علمی احاطہ نہیں کیا أمَّا میں اَمْ کو ما استفہامیہ میں ادغام کردیا ذَا موصول ہے ای ما الذی اور جن کاموں کا تم کو حکم دیا گیا تھا ان میں سے تم نے کیا کیا کام کئے ؟ اور ان کے ظلم یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

من جا بالحسنہ فلہ خیرمنھا . جو شخص نیکی لائے گا سو اس کو اس نیکی کے اجر سے بہتر ملے گا۔ ابو معشر نے کہا : ابراہیم بلا استثناء قسم کھا کر کہتے تھے کہ اَلْحَسَنَۃِ (سے مراد) لا الہ الا اللہ ہے۔ قتادہ نے کہا : اخلا (مراد) ہے۔ بعض علماء نے کہا : ہر طاعت مراد ہے۔ خَیْرٌ تفضیل کے لئے نہیں ہے اور مِنْھَا میں مِنْ سببیہ ہے ‘ لا الہ الا اللہ سے بہتر کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی اس لئے تفضیل اضافی مراد نہیں ہے بلکہ واقعی بہتری یعنی ثواب کا حصول اور عذاب سے امن مراد ہے جو حسنہ کے سبب سے حاصل ہوگا۔ محمد بن کعب اور عبدالرحمن بن زید نے کہا : مَنْ تفضیلیہ ہے (سببیہ نہیں ہے) اور اس سے مراد ہے دس گنا سے سات سو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(89) اور جو شخص قیامت کے دن خلوص کے ساتھ کلمہ ”لا الہ الا اللہ“۔ لے کر آئے گا تو اس کو اس نیکی کے اجر مذکور سے بہتر اجر ملے گا اور وہ گھبراہٹ اور عذاب کے دن اور جب کہ دوزخ کو پر کیا جائے گا امن میں رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَنْ جَاۗءَ بالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَيْرٌ مِّنْهَا : نیکی سے مراد ہر نیک کام ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد ”لاَ اِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ“ ، بعض نے اخلاص اور بعض نے فرائض کا ادا کرنا لیا ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ اسے عام رکھا جائے، کیونکہ تخصیص کی کوئی وجہ نہیں۔ (شوکانی) ”خیر منھا“ سے مراد دس گنا سے سات سو گنا تک ہے، بلکہ نیکی میں زیادہ اخلاص اور حسن ادا کی برکت سے بغیر حساب بھی ہوسکتا ہے۔ وَهُمْ مِّنْ فَزَعٍ يَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ : ”فَزَعٍ“ پر تنوین تعظیم کی ہے، یعنی وہ اس دن بڑی گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (لَا يَحْزُنُهُمُ الْفَزَعُ الْاَكْبَرُ) [ الأنبیاء : 103 ] ”انھیں سب سے بڑی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

من جآء بالحسنۃ فلہ خیر منھا حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس نے کہا، حسنہ سے مراد لا الہ الا اللہ ہے۔ ابو معشر نے کہا : ابراہیم قسم اٹھایا کرتے تھے باللہ الذی لا الہ الا ہو۔ وہ یہ استثناء نہیں کرتے تھے نیکی لا الہ الا اللہ ہے۔ ابو معشر نے کہ؁، ابراہیم قسم اٹھایا کرتے تھے باللہ الذی لا الہ الا ہو۔ وہ یہ استثنئا نہیں کرتے تھے کہ نیکی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔ حضرت علی بن حسین بن علی ؓ نے کہا : ایک آدمی نے غزوہ میں شرکت کی جب وہ کسی جگہ تنہا ہوتا تو کہتا : لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ اسی اثنئا میں کہ وہ رو کے علاقہ میں جلفاء اور بردی کے علاقہ میں تھا اس نے بلند آواز سے کہا، لا الہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 89–90

1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا آیت من جاء بالحسنۃ فلہ خیر منہا سے مراد ہے لا الہ الا اللہ ومن جاء بالسیءۃ فکبت وجوہہم فی النار سے مراد ہے شرک۔ 2۔ ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے دو ثابت ہونے والی چیزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا من جاء بالحسنۃ فلہ خیر منہا، وہم من فزع یومئذ اٰمنون، ومن جاء باسیءۃ فکبت وجوہہم فی لنار، ہل تجزون الا ماکنتم تعملون۔ سے مراد ہے وہ شخص اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس کے ساتھ شرک کرتا تھا تو وہ دوزخ میں داخل ہوا۔ 3۔ الحاکم نے الکنی میں صفوان بن عسال ؓ سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

مَنْ [ جو ] جَاۗءَ [ آیا ] بِالْحَسَنَةِ [ بھلائی کے ساتھ ] فَلَهٗ [ تو اس کے لئے ہے ] خَيْرٌ مِّنْهَا ۚ [ اس سے بہتر ] وَهُمْ [ اور وہ لوگ ] مِّنْ فَزَعٍ [ دہشت سے ] يَّوْمَىِٕذٍ [ اس دن ] اٰمِنُوْنَ [ امن میں ہونے والے ہیں ] نوٹ۔ ا : آیت۔ 89 ۔ میں ہے کہ قیامت کے دن جو بھلائی لے کر آئے گا اس کے لئے اس سے بہتر ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بھلائی کا صلہ بھلائی سے بہتر ہوگا ۔ یہ بہتری دو طرح سے ہوگی ۔ ایک یہ کہ اس کی نیکی تو وقتی تھی اور کے اثرات بھی دنیا میں ایک محدود زمانے کے لئے تھے مگر اس کا اجر دائمی اور ابدی ہوگا ۔ دوسرے یہ کہ جتنی نیکی اس نے کی ہوگی اس سے زیادہ انعام اسے دیا جائے گا ۔ قرآن…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ ) (جو شخص نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر ہے) حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس آیت سے کلمہ اسلام (لاَ اِلٰہَ اِ لاَّ اللّٰہُ ) مراد ہے اور (فَلَہٗ خَیْرٌ مِّنْھَا) کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ سے فرمایا ہے ای وصل الیہ الخیر منھا یعنی اس کلمہ کی خیر اسے پہنچ جائے گی جو داخل جنت کی صورت میں حاصل ہوگی اس تفسیر کی بناء پر لفظ خیر اسم تفصیل کے لیے نہیں ہے اور مومن ابتدائے غایت کے لیے ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ خیر اسم تفصیل ہی کے معنی میں ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ثواب اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی رویت بندے کے تھوڑے سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 87–90

بیان حال قیامت وجزاء آخرت قال اللہ تعالیٰ ویوم ینفخ فی الصور۔۔۔ الی۔۔۔ الا ما کنتم تعملون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اول قیامت کا امکان ثابت کیا پھر روز قیامت کے کچھ مبادی اور چند علامتوں کا ذکر کیا اب ان آیات میں روز قیامت کا حال اور حشر کی کچھ مجمل کیفیت بیان کرتے ہیں کہ خروج دابۃ الارض اور طلوع الشمس من المغرب کے بعد قیامت کا آغاز اس طرح ہوگا کہ صور پھونکا جائے گا جس سے تمام کائنات درہم برہم ہوجائے گی اور توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ اور چونکہ روز قیامت روز جزاء ہے اس لئے اخیر میں قانون جزا بیان کیا۔ من جاء بالحسنۃ فلہ خیر منھا الی اخر الایات چناچہ فرماتے ہیں اور ذکر کیجئے آپ ان سے اس دن کا جس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

76:۔ یہ بشارت اخروی ہے۔ جو لوگ توحید پر قائم رہے اور اس کے مطابق عمل کیا انہیں بہترین جزا ملے گی اور قیامت کی گھبراہٹ سے بھی وہ محفوظ رہیں گے۔ بالحسنۃ ای بکلمۃ الاخلاص وھی شہادۃ ان لا الہ الا اللہ (معالم و خازن ج 5 ص 132) ای بقول لا الہ الا اللہ عند الجمہور (مدارک ج 3 ص 171) ۔ وعن ابن عباس ؓ الحسنۃ کلمۃ الشہادۃ (ابو السعود ج 6 ص 635) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 89–93

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ نے کافروں اور مشرکوں کا رد کیا ۔ پھر توحید کے دلائل بیان کئے ، اللہ کی صفات کا ذکر ہوا ، انسانوں کو نصیحت کی باتیں سمجھائی گئیں اور پھر جزئے عمل کی منزل کا ذکر ہوا ۔ آج تو لوگ اکڑ دکھاتے ہیں اور انبیاء کی بات کو تسلیم نہیں کرتے مگر جس دن صور پھونکا جائے گا تو سب گھبرا جائیں گے سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ محفوظ رکھے گا ۔ اس دن پہاڑ بادلوں کی طرح اڑیں گے اور پھر جزائے عمل کی منزل آئے گی۔ وحی کا بدلہ اب اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے من جاء بالحسنہ فلہ خیر منھا جو شخص نیکی لے کر آیا اس کے لیے اس نیکی سے بہتر بدلہ ہوگا کیونکہ اللہ کے ہاں ہر نیکی کا اجر کم از…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَنْ جَاۗءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ خَيْرٌ مِّنْہَا۝ 0 ۚ وَہُمْ مِّنْ فَزَعٍ يَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ۝ 89 حسنة والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، والسيئة تضادّها . وهما من الألفاظ المشترکة، کالحیوان، الواقع علی أنواع مختلفة کالفرس والإنسان وغیرهما، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ، أي : خصب وسعة وظفر، وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ أي : جدب وضیق وخیبة «1» ، يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ : كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] والفرق بين الحسن والحسنة والحسنی أنّ الحَسَنَ يقال في الأعيان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 87–90

و یوم ینفخ فی الصور الخ یہاں سے پھر حشر اور اس کی ابتداء تفصیل کے ساتھ ذکر فرماتا ہے، کیونکہ اجمال کے بعد تفصیل خوب دل میں جم جاتی ہے۔ صور پھونکنے کا آلہ ترئی یا بگل کی مانند ہے۔ قیامت کی ابتداء یہیں سے ہوگی کہ اسرافیل فرشتہ اس کو منہ سے لگا کر بجادے گا۔ اس کی آواز اس شدت کی ہوگی کہ اول حیوانات مرجائیں گے، پھر نباتات فنا ہوں گے، پھر جمادات اور اس کی ہیبت ناک آواز سے آسمان و زمین کے سب لوگ گھبرا اٹھیں گے، مگر جن کو اللہ چاہے گا نہ گھبرائیں گے، وہ کون لوگ ہوں گے بعض کہتے ہیں ملائکہ حوران جنت بعض کہتے ہیں۔ اہل اللہ انبیاء اولیاء و شہداء حدیث میں آیا ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) بھی انہی میں ہوں گے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَـہٗ خَبْرٌ مِّنْھَا ج وَھُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ ۔ وَمَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ فَکُبَّتْ وُجُوْھُھُمْ فِی النَّارِ ط ھَلْ تُجْزَوْنَ اِلاَّ مَاکُـنْـتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (النمل : 89، 90) (جو نیک عمل لے کر آئیں گے تو ان کے لیے اس سے بہتر صلہ ہے اور وہ اس دن گھبراہٹ سے مامون رہیں گے۔ اور جو لوگ برائی لے کے آئیں گے تو وہ اوندھے منہ جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے، تمہیں بدلہ میں وہی دیا جائے گا جو تم کرتے رہے ہو۔ ) عدل و جزاء کا دن قیامت کے ہولناک مناظر اور روح فرسا واقعات کا ذکر کرکے فرمایا کہ قیامت کا دن بدلے اور انصاف کا دن ہے۔ اس دن نہ کسی کو محرومی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 89–90

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن اعمال کی بنیاد پر لوگ دو قسم کے ہونگے، ذلت اور درماندگی سے محفوظ رہنے والے حضرات اور ان کے مقابلے میں ذلیل ہونے والے لوگ۔ آیت 87 میں ذکر ہوا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو زمینوں، آسمانوں اور اِ ن کے درمیان جو چیز ہے وہ لرز اور گھبرا جائے گی سوائے ان لوگوں کے جنھیں اللہ تعالیٰ اس ذلت اور گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا۔ اب ذلّت سے محفوظ اور اس سے دوچار ہونے والے لوگوں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جس شخص نے نیک کاموں میں زندگی بسر کی اس کے لیے بہترین بدلہ ہوگا اور اس دن ان کو گھبراہٹ سے محفوظ رکھا جائے گا۔ جس شخص نے برائی کے کاموں میں زندگی گزار دی اسے آگ میں الٹے منہ ڈالا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

پھر اس کا خلاصہ ذکر فرمایا۔ 89: مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ (جو شخص نیکی لایا) ۔ حسنۃ سے جمہور نے لا الہ الا اللہ کا سچا اقرار مراد لیا ہے۔ فَلَہ خَیْرٌ مِّنْہَا (اس کے لئے اس سے بہت بہتر ملے گا) یعنی اس کو اس عمل حسنہ کی جانب سے اس سے بہتر بدلہ حاصل ہوگا۔ وہ جنت ہے اس صورت میں خیر افضل کے معنی میں نہ آئے گی۔ نحو : منہا یہ موضع رفع میں خیر کی صفت ہے۔ وہم من فزع (اور وہ گھبراہٹ سے) ۔ قراءت : کوفی من فزعٍ شدید جو بہت ہی زیادہ ہو۔ نمبر 1۔ اور وہ آگ کا خوف ہے۔ نمبر 2۔ یا ہر قسم کا خوف خواہ معمولی ہو۔ باقی قراء نے بلا تنوین پڑھا ہے۔ یَوْمَپذٍ کوفی ‘ مدنی نے میم کے فتحہ سے جبکہ دیگر نے کسرئہ میم سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

89۔ من جاء بالحسنۃ، جو ایک نیکی لائے گا، اخلاص کی نیت کے ساتھ اور وہ کلمہ شہادت، ، اشھد ان لاالہ الا اللہ، ہے ابومعشر کا قول ہے کہ ابراہیم بلااستثناء قسم کھاکر کہتے تھے۔ کہ الحسنہ، ، سے مراد لاالہ الا اللہ، ہے قتادہ نے کہا کہ اخلاص مراد ہے۔ بعض علماء نے کہا کہ طاعت مراد ہے۔ فلہ خیرمنھا، ابن عباس کا قول ہے کہ جو شخص خیر کی طرف آئے گا تو اس کے لیے ایک نیکی قیامت کے دن بہتر ہوگی۔ وہ ثواب اور عذاب سے امن کی صورت میں ہوں گا۔ اگر ایمان میں کوئی بہترین چیز ہوتی تولاالہ الا اللہ کے علاوہ کوئی چیز نہ ہوتی۔ بعض نے کہا کہ ، خیرمنھا، سے مراد اللہ کی رضامندی ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ، ورضوان من…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 89–90

89 تا 90۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے صور کے پھونکنے کا ذکر فرمایا تھا اگرچہ اس بات میں علماء نے بڑا اختلاف کیا ہے کہ صور کتنی دفع پھونکا جائے گا مگر صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمر 20 والعاص ؓ کی حدیث 3 ؎ سے معلوم ہوتا ہے کہ صور فقط دو دفع ہی پھونکا جاوے گا جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) دجال کو ہلاک کر چکیں گے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا زمانہ گزر چکے گا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات ہوجائے گی تو اس کے بعد شام کے ملک کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا چل کر جن کے دل میں ذدرہ برابر بھی ایمان ہے اس طرح کے سب لوگ اس ہوا کے اثر سے مرچکیں گے اور شیطان کے بہکانے سے دنیا میں پھر پہلے زمانہ جاہلیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 87–90

(آیت 87 ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قیامت کے دن سے، جو انہیں پیش آنے والا ہے، ڈراتا ہے یعنی اس دن انہیں جن سخت مصائب، مشقتوں اور دل کو دہلادینے والے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا ان سے ڈرتا ہے، چناچہ فرمایا : (ویوم ینفخ فی الصور ففزع) ” اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو گھبرا اٹھیں گے۔ “ صور پھونکے جانے کی وجہ سے۔ (من فی السموت ومن فی الارض) یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوف سے کانپ اٹھے کی اور خوف کی وجہ سے جو انہیں پیش آنے والا ہے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے تلاطم خیز ہوں گے (الا من شاء اللہ) سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ تعالیٰ اکرام و تکریم بخش کرتا ثابت قدمی عطا کرے گا وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

96 نیکی کے کئی گنا اجر وثواب کا وعدہ و بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی نیکی لے کر آئے گا تو اس کو اس سے کہیں بڑھ کر بہتر اجر ملے گا "۔ کیونکہ وہ اکرم الاکرمین صرف عدل اور برابری نہیں، بلکہ فضل و احسان کا معاملہ فرمائے گا۔ اور بدلہ بھی اپنی شان کریمی کے مطابق عطا فرمائے گا نہ کہ ہمارے اعتبار سے ۔ فَشَرِّفْنَا بِہَا یَا مَنْ تَقَدَّسَ وَ تَعَالٰی عَنْ کُلِّ مَا نَتَصَوَّر۔ پھر اس خیر ۔ اچھے بدلے ۔ کی بھی کوئی حد نہیں بیان فرمائی گئی کہ وہ بدلہ و جزا کس قدر بہتر ہوگا۔ کم سے کم دس گنا اور اس کے آگے کتنے ہی گنا بڑھا کر دے گا۔ یعنی ایمان کی قوت اور صدق و اخلاص کی دولت جس قدر زیادہ ہوگی اسی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 82–93

قیامت قریب ہے ‘ نیکو کاروں کو خوشخبری اور بد کا روں کے لیے وعید تشریح : ان آیات میں قرب قیامت کا ذکر کرتے ہوئے دابۃ الارض کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک جانور زمین میں سے نکلے گا اور انسانوں سے باتیں کرے گا۔ مسند احمد میں سیدنا حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ (1) آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا۔ (2) دخان۔ (3) دابہ۔ (4) خروج یاجوج ماجوج۔ (5) نزول عیسیٰ علیہ السلام۔ (6) دجال۔ (7) تین خسوف ‘ ایک مغرب میں دوسرا مشرق میں تیسرا جزیرۃ العرب میں ہوگا۔ (8) ایک آگ جو قصرعدن سے نکلے گی۔ سیدقطب شہید صاحب (رح) ظلال القرآن میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 83–93

آیات 83 تا 93 اسرار و معارف ایک روز ہم ان سب کو میدن حشر میں جمع فرمائیں گے اور ہر امت سے اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والوں کو الگ کرلیا جائے گا اور یوں جب حاضر کیے جائیں گے تو سوال ہوگا کہ تم نے ہماری آیتوں کا انکار کردیا یا بغیر سوچ بچار کے ہی کردیا تھا یا تم نے کوشش تو کی مگر حقیقت کو نہ پا سکے تو چونکہ ان کا جرم ثابت ہوگا لہذا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی بات کرسکیں گے۔ بھلا انہیں دوبارہ زندہ کیے جانے کی سمجھ نیند سے کیوں نہیں آتی کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات کو آرام کے لیے بنایا ہے اور انسان سو کر آرام حاصل کرتا ہے اور نیند میں بھی تو روح کا تعلق بدن سے ایک گونہ کمزور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

3 ۔ نیکی سے مراد ہر نیک کام ہے بعض مفسرین (رح) نے اس سے مراد ” لا الہ الا اللہ “ بعض نے اخلاص اور بعض نے فرائض کی ادائی کی ہے لیکن بہت یہ ہے کہ اسے عام رکھا جائے، تخصیص کی کوئی وجہ نہیں۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:89) الحسنۃ۔ نیکی ۔ بھلائی۔ خوبی۔ نعمت۔ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کی جان یا بدن یا حالات میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنۃ کہلاتی ہے سیئۃ اس کی ضد ہے۔ بعض کے نزدیک الحسنۃ کی تفسیر کلمہ توحید ہے اور اسی طرح اگلی آیت میں السیئۃ کی تفسیر شرک ہے۔ خیر یہاں تفضیل کے معنوں میں آیا ہے یعنی بہتر خواہ دوام کی صورت میں ہو یا کہ اضعاف کی صورت میں ۔ منھا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الحسنۃ کی طرف راجع ہے۔ فزع ڈر، خوف، گھبراہٹ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 87–93

لغات القرآن : آیت نمبر 87 : 93 : ینفخ (پھونک ماری جائے گی) فزع (گھبرا گیا) داخرین (عاجزی کرنے والے) تحسب (تو گمان کرتا ہے) ‘ جامدۃ (جمع ہوجانے والی) تمر (وہ چلے گی) السحاب (بادل) صنع اللہ (اللہ کی کاری گری) کبت (اوندھا پھینک دیا گیا) ‘ ھل تجزون ( کیا تم بدلہ دیئے جائو گے) امرت ( میں حکم دیا گیا ہوں) البلدۃ (شہر) حرم ( قابل احترام بنایا) ان اتلو (یہ کہ میں تلاوت کروں گا) سیری (وہ بہت جلد دکھائے گا) ‘ تعرفون (تم پہچانتے ہو) ۔ تشریح : آیت نمبر 87 تا 93 : قرآن کریم میں متعدد مقامات پر قیامت اور اس دن کی ہولناکی کو بیان کیا گیا ہے۔ یہاں پر ایک اصولی بات ارشاد فرمائی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس دن…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 89–90

(ف 1) ارشاد ہوتا ہے کہ قیامت کے روز اس قانون پر عمل ہوگا جو کوئی نیکی لے کر آئے گا وہ اس کا بہتر اجرپائے گا اور وہ اس روز کی گھبراہٹ سے امن میں رہیں گے اس لیے کہ اس دن گھبراہٹ ان کو جب ہوتی کہ وہ کچھ کام نہ نیک کرتے پس یہ لوگ بےخوف اور نڈر ہوگئے بلکہ ادنی ادنی نیکی کا ثواب حاصل کریں گے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ جو رائی کے برابر بھی نیک کام کرے گا اس کا بھی ثواب ہوگا اور جو شخص بدی شرک وگناہ لے کر آئے گا تو وہ لوگ منہ کے بل آگ میں ڈال دیے جائیں گے یعنی ان کے شرک کی سزا ان کو یہ ملے گی کہ ان کے مونہوں کو سرنگوں کرکے ان کو جہنم میں ڈال دیاجائے گا پھر اس کی سزا وہ بھگتیں گے جو دنیا میں کرگئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 88–92

[32] یعنی یہ اللہ کی صناعی ہے کہ ایک مضبوط اور مستحکم چیز ایک ذرا سی کل مروڑ دینے سے بادلوں کی طرح اڑنے لگے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 89–90

ف 2: اس سے قبل کی آیتوں میں بتایا تھا ۔ کہ نغحہثانیہ کے وقت لوگ گھبرا اٹھیں گے ! اور اس ہولناک منظر کی تاب نہیں لاسکیں گے اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ جو لوگ نیک اور صالح ہیں ۔ جن کے نامہ اعمال میں حسنات کا بہرہ وافر ہے ۔ وہ اس دن کے خوف وہراس سے محفوظ رہیں گے ! اور جو لوگ اڑے ہیں اور جن کی زندگی کا مشن فواحش کا ارتکاب اور برائیوں کو پھیلانا ہے ۔ وہ جہنم میں اوندھے منہ گرینگے ۔ اور ان سے کہا جائے گا ۔ کہ یہ تمہارے اعمال کی صحیح جزا ہے ۔ حل لغات : الحسنۃ ۔ نیکی ، بھلائی

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

89۔ جو شخص نیکی لے کر حاضر ہوگا تو اس کو اس نیکی سے بہتر بدلا ملے گا اور وہ نیکی والے اس دن ہر قسم کی گھبراہٹ سے امن میں رہیں گے۔ شاید یہاں نیکی سے ایمان مراد ہے یعنی ایمان والے اس دن گھبراہٹ کے موقعوں سے مامون رہیں گے۔ سورة انبیاء میں گزر چکا ہے۔ ان الذین سبقت لھم منا الحسنی یا یہ مطلب ہے کہ ایک نیکی کے بدلہ دس نیکیوں کا اجرو ثواب یہ کم سے کم ہوگا ۔ اور جو شخص بدی اور برائی لے کر حاضرہو گا تو ایسے لوگ اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا تم کو انہی اعمال کا بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم کیا کرتے تھے ۔ یعنی کفر و شرک کی برائی مبتلاہو کر آنے والے اوندھے منہ جہنم میں ڈالے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 86–89

ف 3۔ کیونکہ وہ تدبر کرتے ہیں اور دوسرے تدبر نہیں کرتے اور انتاج کے لئے نظر و فکر ضروری ہے، اس لئے دوسرے اس سے منتفع نہیں ہوتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نیکی کمانے والوں کا استقبال اچھی طرح کیا جائے گا اور وہ نہیں گھبرائیں گے : 89۔ جو شخص نیکی کما کر لائے گا اس کو اس کام کا بدلہ اس کی نیکی سے دس گنا زیادہ دیا جائے گا بعض کے لئے ستر یا سات سو تک بھی اس کو بڑھایا جاسکتا ہے اور ان کو اس روز یقینا کسی طرح کی گھبراہٹ نہیں ہوگی بلکہ وہ ہر طرح سے مطمئن نظر آئیں گے اور ان کے چہرے بھی تروتازہ ہوں گے اور ان پر کسی طرح کی پریشانی اور گھبراہٹ نظر نہیں آئے گی کیونکہ ان کے میں کسی طرح کا کوئی کھٹکا نہیں ہوگا ، انسان کے دل کا چور ہی دراصل اس کی گھبراہٹ کا باعث ہوتا ہے اور جب دل پاک اور صاف اس قدر اطمینان ہوتا ہے کہ گھبراہٹ نام کی کوئی شے انسان کے قریب بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 89–90

مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ‌ مِّنْهَا "Whoever will come with the good deed will have (a reward) better than that" - 27:89 This description relates to the situation that will take place after the Doomsday and the account taking. Here the word hasanah is purported for the kalimah of لا إله إلا اللہ محمد رسول اللہ (as explained by Ibrahim) or it is an expression of sincerity (as interpreted by Qatadah). Some have interpreted this to include complete submission. The sense is that every good deed will be recompensed by a reward better than the deed; but it should be remembered that a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

108 The reward will be better in two ways: (1) It will be higher than what a person will actually deserve for his good deeds; and (2) it will be everlasting and for ever though the good act was temporary and its influence confined to a limited period only.

Read the full tafseer →