Explained with ayahs 87–90
جب صور پھونکا جائے گا
اللہ تعالیٰ قیامت کی گھبراہٹ اور بےچینی کو بیان فرما رہے ہیں۔ صور میں حضرت اسرافیل ؑ بحکم الہی پھونک ماریں گے۔ اس وقت زمین پر بدترین لوگ ہونگے۔ دیر تک نفخہ پھونکتے رہیں گے۔ جس سے سب پریشان حال ہوجائیں گے سوائے شہیدوں کے جو اللہ کے ہاں زندہ ہیں اور روزیاں دئیے جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ایک دن کسی شخص نے دریافت کیا کہ یہ آپ کیا فرمایا کرتے ہیں کہ اتنے اتنے وقت تک قیامت آجائے گی ؟ آپ نے سبحان اللہ یا لا الہ الا اللہ یا اور کوئی ایسا ہی کلمہ بطور تعجب کہا اور فرمانے لگے سنو ! اب تو جی چاہتا ہے کہ کسی سے کوئی حدیث بیان ہی نہ کرو میں نے یہ کہا تھا کہ عنقریب تم بڑی اہم…
Read the full tafseer →سورة النمل 107
یعنی ایسے خدا سے تم یہ توقع نہ رکھو کہ اپنی دنیا میں تم کو عقل وتمیز اور تصرف کے اختیارات دے کر وہ تمہارے اعمال و افعال سے بیخبر رہے گا، اور یہ نہ دیکھے گا کہ اس کی زمین میں تم ان اختیارات کو کیسے استعمال کرتے رہے ہو۔
Read the full tafseer →وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ ، مراد یہ ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ کر اس طرح چلیں گے جیسے بادل کہ دیکھنے والا اس کو اپنی جگہ جما ہوا سمجھتا ہے حالانکہ وہ تیزی سے چل رہے ہیں۔ تمام بڑے اجسام جن کی ابتداء و انتہاء انسان کی نظر کے سامنے نہیں ہوتی جب وہ کسی ایک سمت کی طرف حرکت کریں تو خواہ حرکت کتنی بھی تیز ہو دیکھنے والوں کو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ اپنی جگہ جمے ہوئے ہیں جس کا مشاہدہ سب کو گہرے بادل اور دور تک چھائی ہوئی گھٹا سے ہوتا ہے کہ یہ بادل اپنی جگہ جمے ہوئے دکھائی دیتے ہیں حالانکہ وہ چل رہے ہوتے ہیں مگر ان کی حرکت دیکھنے والوں کو اس وقت محسوس…
Read the full tafseer →یہ اس دن کے ہول کی مزید تفصیل ہے کہ دوسری چیزوں کا تو کیا ذکر اس دن پہاڑوں کا بھی یہ حال ہوگا کہ بظاہر وہ ٹکے ہوئے نظر آئیں گے حالانکہ وہ بادلوں کی طرح اڑتے ہوئے ہوں گے۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ شعراء عرب میں جو حکیم تھے ان تک کا حال یہ تھا کہ وہ دوسری تمام چیزوں کو تو فانی مانتے تھے لیکن پہاڑوں کو غیر قانونی سمجھتے تھے۔ صنع اللہ الذی اتفن کل شی یہ اسی طرح کی ترکیب ہے جس طرح وعد اللہ یسبغۃ اللہ وغیرہ ترکیبیں قرآن میں ہیں۔ یہ اسلوب اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب کسی شے کی طرف خاص طور سے توجہ دلانا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اس خدا کی کاریگری ہوگی جس نے ہر چیز کو محکم کا ہے۔ جب اسی نیہر چیز کو محکم کیا…
Read the full tafseer →88-1یہ قیامت والے دن ہوگا کہ پہاڑ اپنی جگہوں پر نہیں رہیں گے بلکہ بادلوں کی طرح چلیں گے اور اڑیں گے۔
88-2یعنی یہ اللہ کی عظیم قدرت سے ہوگا جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا ہے۔ لیکن وہ ان مضبوط چیزوں کو بھی روئی کے گالوں کی طرح کردینے پر قادر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
38: اللہ تعالیٰ نے ہر نیکی کا ثواب دس گنا دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–90
اب علامات قیامت کے موضوع پر اور قیامت کے بعض مناظر کی طرف بات نکلتی ہے۔ اور اس کے بعد اس سورت پر آخری تبصرہ ہوگا۔ ایک ایسا دابۃ الارض جو ان لوگوں کے ساتھ ہمکلام ہوگا ، جو اللہ کی تکوینی آیات کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد حشر و نشر کا منظر جہاں یہ تکذیب کرنے والے اور جدل وجدال کرنے والے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ چپ چاپ کھڑے ہوں گے۔ پھر یہاں دنیا کی آیات و نشانات مثلا ً گردش لیل و نہار کے مناظر کی طرف بھی انسان کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آیا ان سے بڑا معجزہ بھی کوئی ہو سکتا ہے۔ لیکن لوگ ان سے غافل ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو یہ لوگ عظیم جزع و فزع میں مبتلا ہوں گے اور چیخ و پکار…
Read the full tafseer →6 یعنی جن بڑے بڑے پہاڑوں کو تم اس وقت دیکھ کر خیال کرتے ہو کہ ہمیشہ کے لیے زمین میں جمے ہوئے ہیں کبھی اپنی جگہ سے جنبش نہ کھا سکیں گے، قیامت کے دن یہ روئی کے گالوں کی طرح فضا میں اڑتے پھریں گے اور بادل کی طرح تیز رفتار ہوں گے۔ " وبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا فَکَانَتْ ہَبَآءً مُّنْبَثًّا (واقعہ، رکوع 1 ' آیت 6 ' 5) (وَتَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِ ) 101 ۔ القارعہ :5) (وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا) 20 ۔ طہ :105) (تنبیہ) آیت ہذا کو زمین کی حرکت و سکون کے مسئلہ سے کچھ علاقہ نہیں جیسا کہ بعض متنورین نے سمجھا ہے۔
7 یعنی جس نے ہر چیز کو نہایت…
Read the full tafseer →آیت 88 وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُہَا جَامِدَۃً وَّہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِط ”
پہاڑ اس دن بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ ہوائی سفر کے دوران ہم میں سے اکثرنے بادلوں کی ماہیت کا قریب سے مشاہدہ کیا ہوگا۔ یہ بظاہر دیکھنے میں ٹھوس نظر آتے ہیں لیکن جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے انہیں چیرتے ہوئے آگے گزر جاتا ہے۔ قیامت کے دن پہاڑوں کی ٹھوس حیثیت کو ختم کردیا جائے گا اور وہ ذرّات کے غبار میں تبدیل ہو کر بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔
صُنْعَ اللّٰہِ الَّذِیْٓ اَتْقَنَ کُلَّ شَیْءٍ ط ”
یہ اللہ کیّ صناعی کا کرشمہ ہے کہ اس نے اس وقت پہاڑوں کو ایسی محکم اور ٹھوس شکل دے رکھی ہے ‘ لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنی…
Read the full tafseer →95 یعنی جب قیامت قائم ہوگی تو اس کا آغاز اس طرح ہوگا کہ نظام کائنات میں زبردست خلل واقع ہوجائے گا۔ زمین مسلسل ہچکولے کھانے لگے لگی۔ اور پہاڑوں جیسی ٹھوس، سخت اور جامد چیز اپنی جڑیں چھوڑ کر ریزہ ریزہ ہوجائے گی اور ان ریزوں کی دھول فضا میں اس طرح اڑتی پھرے گی جیسے دھنکی ہوئی روئی) القارعہ : 5) اور اس مقام پر یہ تشبیہ دی گئی ہے کہ جیسے بادل فضا میں اڑتے پھرتے ہیں ویسے ہی پہاڑ بھی اڑتے پھریں گے۔
96 حالانکہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی جس چیز کو بھی بنایا وہ اس اس کی کاریگری کا بےمثال نمونہ ہے اور اتقل الامر کے معنی کسی چیز کو فنی مہارت کے ساتھ مضبوط بنانا ہے۔ جو مدت بعد تک کام کرنے پر بھی خراب نہ…
Read the full tafseer →97۔ (اور بیشک ظاہری نظر میں وہ ہیں بھی ایسے ہی بھاری بھر کم)
98۔ یعنی نفخ صور جس طرح جانداروں پر اس قدر مؤثر ہوگا، بےجان چیزوں کو بھی متاثر اور درہم برہم کیے بغیر نہ رہے گا ان کے اجزاء تحلیل ہوجائیں گے، اور ان میں تخلخل واقع ہو کر رہے گا یہاں تک کہ اڑے اڑے پھرنے لگیں گے، حال کے ایک ہندی مفسر قرآن نے (آیت) ” تمر “۔ کے صیغہ مضارع کو بجائے مستقبل کے صرف حال کے معنی میں لے کر آیت سے حرکت ارض پر استدلال کیا ہے، اور آیت کا مفہوم یہ بتایا ہے کہ پہاڑ جو بظاہر بالکل جمے ہوئے نظر آتے ہیں، وہ دراصل بادل کی سی تیزی کے ساتھ رواں ہیں۔ یہ معنی اگرچہ سیاق قرآنی سے بہت دور ہیں تاہم تفسیر بالرائے نہیں کہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیت نمبر 83 تا 93
ترجمہ : اس دن کو یاد کرو جس دن ہم ہر امت میں سے ایک ایک گروہ ان لوگوں کا جمع کریں گے جو میری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے اور وہ ان کے رؤساء مقتدیٰ ہوں گے ان کو روکا جائے گا یعنی آگے پیچھے سے روکا جائے گا پھر ان کو ہانکا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ مقام حساب میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کیا تم نے میرے انبیاء کو میری آیتوں کے ساتھ جھٹلایا تھا حال یہ ہے کہ تم نے ان کی تکذیب کی جہت کا علمی احاطہ نہیں کیا أمَّا میں اَمْ کو ما استفہامیہ میں ادغام کردیا ذَا موصول ہے ای ما الذی اور جن کاموں کا تم کو حکم دیا گیا تھا ان میں سے تم نے کیا کیا کام کئے ؟ اور ان کے ظلم یعنی…
Read the full tafseer →وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وہی تمرمر السحاب . (اے دیکھنے والے ! ) تو پہاڑوں کو دیکھ
رہا ہے اور تو ان کو اپنی جگہ جما ہوا خیال کر رہا ہے (اور سمجھتا ہے کہ یہ جنبش نہیں کریں گے) حالانکہ وہ بادلوں کی طرح اڑے پھریں گے۔ (یہ ترجمہ مولانا اشرف علی صاحب کے ترجمہ کے مطابق ہے لیکن حضرت مفسر کی تفسیر کے مطابق جو ترجمہ ہوگا وہ اس طرح ہوگا۔ مترجم) ۔
اے دیکھنے والے ! تو (فزع کے وقت) پہاڑوں کو دیکھے گا تو خیال کرے گا کہ یہ اپنی جگہ کھڑے ہیں (متحرک نہیں ہیں) حالانکہ وہ بادلوں کی طرح (تیزرفتاری کے ساتھ) چلیں گے۔
پھر تیزی کے ساتھ چل کر زمین پر گرپڑیں گے اور زمین کے برابر ہوجائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بڑے بڑے…
Read the full tafseer →(88) اور جن پہاڑوں کے متعلق تم یہ خیال کر رہے ہو کہ اپنی جگہ سے حرکت نہیں کریں گے، اس وقت فضاء میں بادلوں کی طرح اڑے اڑے پھریں گے کہ اللہ کا کام ہوگا جس نے ہر چیز کو اپنے انداز پر مضبوط بنا رکھا ہے جو کچھ تم نیکی و برائی کرتے ہو اس کو سب خبر ہے۔
Read the full tafseer →وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً۔۔ : یعنی اس وقت صرف انسان ہی نہیں بلکہ وہ پہاڑ جنھیں دیکھ کر تم خیال کرتے ہو کہ اپنی جگہ نہایت مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں، انھیں کوئی چیز ہلا نہیں سکتی، وہ قیامت کے دن بادل کی طرح فضا میں اڑتے پھریں گے۔ قیامت کے دن پہاڑوں کے مختلف احوال مذکور ہیں، سب کا حاصل یہ ہے کہ ان کو اڑا کر زمین صاف کردی جائے گی۔ دیکھیے سورة طٰہٰ (105) ، معارج (9) ، حاقہ (14) ، مزمل (14) ، قارعہ (5) ، فرقان (23) اور واقعہ (6) اور ان پر گزرنے والی کیفیات کی ترتیب کے لیے سورة نبا کی آیت (20) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ۔۔ : اتقان کا معنی کسی…
Read the full tafseer →وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وھی تمرمر الحساب حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جامدۃ سے مراد ہے ٹھہرے ہوئے جب کہ وہ تیزی سے چل رہے ہیں۔ قتبی نے کہا : اس کی وجہ یہ ہے کہ پہاڑ بہت زیادہ ہیں اور انہیں چلایا جاتا ہے آنکھ کے دیکھنے میں وہ کھڑے ہیں جب کہ وہ چل رہے ہیں اسی طرح ہر عظیم شے اور جمع کثیر ہوتی ہے آنکھ جس سے قاصر ہوتی ہے کیونکہ وہ بہت زیادہ ہوتے ہیں اور اس کی اطراف میں بہت دوری ہوتی ہے۔ وہ دیکھنے والے کے گمان میں واقف کی طرح ہوتے ہیں جب کہ وہ چل رہے ہوتے ہیں۔ نابغہ نے لشکر کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا :
بارعن مثل الطود تحسب انھم وقوف بحاج والرکاب تھملج
ارعن کے مقام پر بڑے ٹیلے کی ماند تو انہیں گمان کرے…
Read the full tafseer →قیامت کے روز پہاڑوں کی حالت
جس نے ہر چیز کو ٹھیک طرح بنای ہے بلاشہ وہ ان کاموں سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو (88)
1۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتری الجبال تحسبہا جامدۃ یعنی کھڑے ہوئے صنع اللہ الذی اتقن کل شیء میں اتقن کا معنہ ہے مضبوط۔
2۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتری الجبال تحسبہا جامدۃ سے مراد ہے اپنی بنیادوں میں مضبوط حرکت کر تنے والے آیت وہی تمر مر السحاب
3۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت صنع اللہ الذی اتقن کل شیء یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو بہترین اور مضبوط بنایا۔
4۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ…
Read the full tafseer →وَتَرَى [ اور تو دیکھتا ہے ] الْجِبَالَ [ پہاڑوں کو ] تَحْسَبُهَا [ تو گمان کرتا ہے ان کو ] جَامِدَةً [ جمے ہوئے ] وَّ [ حالانکہ ] هِىَ [ وہ ] تَمُــرُّ [ چلیں گے ] مَرَّ السَّحَابِ ۭ [ بادل کا چلنا ] صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ [ (تو دیکھتا ہے) اس اللہ کی کاریگری کو جس نے ] اَتْقَنَ [ مہارت سے بنایا ] كُلَّ شَيْءٍ ۭ [ ہر ایک چیز کو ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] خَبِيْرٌۢ [ باخبر ہے ] بِمَا [ اس سے جو ] تَفْعَلُوْنَ [ تم لوگ کرتے ہو ]
ج م د
جمودا کسی چیز کا جم جانا۔
جامد فاعل کے وزن پر صفت ہے۔ جما ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 88
ت ق ن
(x) x ثلاثی مجرد سے فعل نہیں آتا۔
(افعال) اتقانا کام کو مضبوطی سے کرنا۔…
Read the full tafseer →(صَنْعَ اللّٰہِ الَّذِیْ اَتْقَنَ کُلَّ شَیْءٍ ) (یہ اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو ٹھیک طرح بنایا ہے) کوئی شخص یہ نہ سوچے کہ ایسے بھاری پہاڑ کیسے اڑتے پھریں گے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اپنی حکمت کے مطابق ٹھیک بنایا ہے پہاڑوں کو بھی اس نے پیدا فرمایا اور ان کو بھاری بوجھل جامد بنایا وہ ہی ان کا پیدا کرنے والا ہے اگر وہ انہیں ان کی جگہوں سے ہٹا دے اور بادلوں کی طرح چلا دے تو اسے اس پر بھی قدرت ہے اسے اختیار ہے کہ اپنی مخلوق کو جس حال میں رکھے۔
لفظ اتقن اتقان سے ماضی کا صیغہ ہے جو مضبوط بنانے کے معنی میں آتا ہے لیکن چونکہ ساری ہی چیزیں مضبوط نہیں ہیں اس لیے مفسرین نے اس کا ترجمہ سواہ علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
بیان حال قیامت وجزاء آخرت
قال اللہ تعالیٰ ویوم ینفخ فی الصور۔۔۔ الی۔۔۔ الا ما کنتم تعملون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اول قیامت کا امکان ثابت کیا پھر روز قیامت کے کچھ مبادی اور چند علامتوں کا ذکر کیا اب ان آیات میں روز قیامت کا حال اور حشر کی کچھ مجمل کیفیت بیان کرتے ہیں کہ خروج دابۃ الارض اور طلوع الشمس من المغرب کے بعد قیامت کا آغاز اس طرح ہوگا کہ صور پھونکا جائے گا جس سے تمام کائنات درہم برہم ہوجائے گی اور توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا۔
اور چونکہ روز قیامت روز جزاء ہے اس لئے اخیر میں قانون جزا بیان کیا۔ من جاء بالحسنۃ فلہ خیر منھا الی اخر الایات چناچہ فرماتے ہیں اور ذکر کیجئے آپ ان سے اس دن کا جس…
Read the full tafseer →75:۔ قیامت کے دن تمہیں ایسا محسوس ہوگا کہ پہاڑ زمین پر جمے ہوئے ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی طرح ادھر سے ادھر اڑ رہے ہوں گے۔ صنع اللہ الذی الخ یہ فعل مقدر کا مفعول مطلق ہے برائے تاکید مضمون جملہ ای صنع اللہ تعالیی ذلک صنعا (روح) ۔ یعنی جس اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو بےمثال کریگری سے محکم و مضبوط بنایا ہے قیامت کے دن وہی پہاڑوں کو بادلوں کی طرح اڑائے گا یہ اسی کی قدرت و طاقت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
ربطہ آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی صفات ، مسئلہ توحید اور جزائے عمل کا ذکر کیا گیا ہے اللہ نے اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ عنادی اور ضدی لوگوں کے ایمان قبول کرنے کی توقع نہ رکھیں ۔ یہ تو ان چیزوں پر اس وقت ایمان لائیں گے ۔ جب قرب قیامت میں دابۃ الارض کا ظہور ہوگا ۔ اس وقت منکرین مجبوراً ایمان لائیں گے مگر ایسا ایمان کچھ مفید نہیں ہوگا اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جزائے عمل کا ذکر کیا ہے اور ساتھ ساتھ کفر و شرک کرنے والوں کا شکوہ کیا ہے کہ وہ آیات الٰہی میں غور و فکر کر کے ایمان کو قبول نہیں کرتے۔ دلائل توحید اور قیامت کی کیفیت کا بھی اجمالا ًذکر کردیا گیا ہے۔
میدان حشر میں…
Read the full tafseer →وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُہَا جَامِدَۃً وَّہِىَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ 0ۭ صُنْعَ اللہِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ 0 ۭ اِنَّہٗ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ 88
جبل
الجَبَل جمعه : أَجْبَال وجِبَال، وقال عزّ وجل :
أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7]
( ج ب ل )
قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهاداً وَالْجِبالَ أَوْتاداً [ النبأ/ 6- 7] کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا " ۔ اور پہاڑوں کو ( اس کی میخیں ) نہیں ٹھہرایا ؟
حسب ( گمان)
والحِسبةُ : فعل ما يحتسب به عند اللہ تعالی. الم أَحَسِبَ النَّاسُ [ العنکبوت/ 1- 2] ، أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
و یوم ینفخ فی الصور الخ یہاں سے پھر حشر اور اس کی ابتداء تفصیل کے ساتھ ذکر فرماتا ہے، کیونکہ اجمال کے بعد تفصیل خوب دل میں جم جاتی ہے۔ صور پھونکنے کا آلہ ترئی یا بگل کی مانند ہے۔ قیامت کی ابتداء یہیں سے ہوگی کہ اسرافیل فرشتہ اس کو منہ سے لگا کر بجادے گا۔ اس کی آواز اس شدت کی ہوگی کہ اول حیوانات مرجائیں گے، پھر نباتات فنا ہوں گے، پھر جمادات اور اس کی ہیبت ناک آواز سے آسمان و زمین کے سب لوگ گھبرا اٹھیں گے، مگر جن کو اللہ چاہے گا نہ گھبرائیں گے، وہ کون لوگ ہوں گے بعض کہتے ہیں ملائکہ حوران جنت بعض کہتے ہیں۔ اہل اللہ انبیاء اولیاء و شہداء حدیث میں آیا ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) بھی انہی میں ہوں گے…
Read the full tafseer →وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُھَا جَامِدَۃً وَّھِیَ تَمُرُّ مَرَّالسَّحَابِ ط صُنْعَ اللّٰہِ الَّذِیْٓ اَتْقَنَ کُلَّ شَیْ ئٍ ط اِنَّـہٗ خَبِیْرٌ م بِمَا تَفْعَلُوْنَ ۔ (النمل : 88)
(تو اس دن پہاڑوں کو دیکھے گا تو گمان کرے گا کہ خوب جمے ہوئے ہیں حالانکہ وہ چل رہے ہوں گے، بادلوں کے چلنے کی طرح، یہ اس اللہ کی کاریگری ہوگی جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا، بیشک وہ ہر چیز سے باخبر ہے جو تم کررہے ہو۔ )
قیامت کا ایک اور منظر
قیامت کے ہولناک مناظر میں سے ایک اور دل کو لرزا دینے والا منظر بیان کیا گیا ہے کہ اس روز پہاڑ اپنے حجم اور جسامت کے باوجود دیکھنے والوں کو حسب سابق کھڑے ہوئے نظر آئیں گے لیکن حقیقت میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن کی کیفیت چناچہ جس دن صور پھونکا جائے گا انسان تو درکنار فلک بوس پہاڑ بھی اپنی جگہ پر قائم نہیں رہ سکیں گے۔
اہل مکہ کی غالب اکثریت قیامت کی منکر تھی اس لیے انھوں نے سرور دو عالم ﷺ سے سوال کیا کہ سینکڑوں، ہزاروں میلوں میں پھیلے ہوئے فلک بوس پہاڑوں کا کیا بنے گا ؟
” یہ لوگ آپ پوچھتے ہیں کہ یہ پہاڑکہاں چلے جائیں گے فرمادیں کہ میرا رب ان کو دھول بناکر اڑا دے گا۔ اور زمین کو چٹیل میدان بنا دے گا۔ (طٰہٰ : 105 تا 106 )
اسی بات کو یہاں اِ ن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ اے پیغمبر ﷺ آپ اور ہر دیکھنے والا دیکھے گا کہ جن پہاڑوں کو آپ جامد دیکھتے ہیں وہ ریزہ ریزہ ہو کر یوں…
Read the full tafseer →88: وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُہَا (اور تم پہاڑوں کو دیکھو گے۔ تم خیال کرو گے کہ وہ) : تحسبہا۔ ضمیر مخاطب سے حال ہے۔ قراءت : تَحْسَبُہَا۔ شامی ٗ حمزہ ٗ یزید ٗ عاصم نے فتحہ سین سے پڑھا۔ جبکہ دیگر قراء نے کسرہ سین سے تَحْسِبُہَاپڑھا ہے۔ جَامِدَۃً (اپنی جگہ جمے ہوئے ہیں) کھڑے اور حرکت سے رکے ہوئے ہیں۔ یہ جمد فی مکانہ سے بنا ہے۔ جبکہ وہ اپنی جگہ سے نہ ٹلے۔ وَہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ (حالانکہ وہ بادلوں کی طرح چل رہے ہیں)
نحو : ہی تمتر یہ تحسبہ کی ضمیر منصوب سے حال ہے۔
مرّ السحاب ای مرًا مثل مرّ السحاب۔ بادلوں جیسا چلنا۔ مطلب یہ ہے۔ جب تم نفخہ کے وقت پہاڑوں کو دیکھو تو تم ان کو اپنی جگہ جما…
Read the full tafseer →تفسیر۔
88۔ وتری الجبال تحسبھا جامدۃ، وہ ایک جگہ مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔ وھی تمر مرالسحاب، ، حالانکہ وہ بادلوں کے چلنے کی طرح چلیں گے۔ پھر وہ زمین پر آجاتے ہیں اور زمین کے برابر ہوجاتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ برے بڑے جسم بھی اگر تیزی سے ایک ساتھ ایک طرف حرکت کررہے ہوں گے تو ان کی حرکت محسوس نہیں ہوتی۔
” صنع اللہ “ منصوب ہے مصدر ہونے کی وجہ سے۔ الذی اتقن کل شی، نے ہرچیز کا اندازہ لگایا ہے۔ انہ خبیر بماتفعلون، ، ابن کثیر، اہل بصرہ نے یاء کیساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–88
83 تا 88۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا حال بیان فرمایا ہے کہ جس روز ہم قرآن کے جھٹلانے والوں کے ہر ایک فرقہ کو گھیر کر بلاویں گے پھر ان کی مثل بنے گی ہر گناہ والے قسم دار ہوں گے زنا کرنے والے علیحدہ چور علیحدہ شرابی علیحدہ پھر اللہ تعالیٰ جھڑ کے طور پر احکام کے جھٹلانے والوں کو اور ٹالنے والوں سے سوال کرے گا کہ تم دنیا میں کیا کم کرتے رہے اس جھڑ کی کے سوال کے بعد مشرک لوگ عذاب کے قابل قرار پاویں گے۔ اور جب وہ لوگ اپنے شرک سے انکار کریں گے تو ان کے منہ پر مہر لگائی جائے گی ان کے ہاتھ پیروں سے گواہی لی جاوے گی صحیح مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں یہ اعضا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–90
(آیت 87 ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قیامت کے دن سے، جو انہیں پیش آنے والا ہے، ڈراتا ہے یعنی اس دن انہیں جن سخت مصائب، مشقتوں اور دل کو دہلادینے والے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا ان سے ڈرتا ہے، چناچہ فرمایا : (ویوم ینفخ فی الصور ففزع) ” اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو گھبرا اٹھیں گے۔ “ صور پھونکے جانے کی وجہ سے۔ (من فی السموت ومن فی الارض) یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوف سے کانپ اٹھے کی اور خوف کی وجہ سے جو انہیں پیش آنے والا ہے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے تلاطم خیز ہوں گے (الا من شاء اللہ) سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ تعالیٰ اکرام و تکریم بخش کرتا ثابت قدمی عطا کرے گا وہ…
Read the full tafseer →95 قیامت کے روز پہاڑوں کا حال : سو اس سے ہول قیامت کی مزید تفصیل فرما دی گئی کہ اس روز دوسری چیزوں کا تو ذکر ہی کیا پہاڑوں جیسی ٹھوس اور مستحکم مخلوق کا بھی اس روز حال یہ ہوگا کہ یہ بظاہر ٹکے ہوئے اور جمے ہوئے نظر آئیں گے مگر حقیقت میں یہ بادلوں کی طرح اڑے جا رہے ہو نگے۔ عام طور پر حضرات علما و مفسرین کا کہنا ہے کہ اس ارشاد کا تعلق قیامت سے ہے اور یہ کہ یہ وہی مضمون ہے جسے دوسری مختلف آیات کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے جیسے ۔ { وَسُیِّرَتِ الْجِبَالُ فَکَانَتْ سَرَابًا } ۔ (الانبیائ :20) ۔ { وَاِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ } ۔ (المرسلات : 10) وغیرہ۔ لیکن بعض محققین کا کہنا ہے کہ اس کو قیامت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–93
قیامت قریب ہے ‘ نیکو کاروں کو خوشخبری اور بد کا روں کے لیے وعید
تشریح : ان آیات میں قرب قیامت کا ذکر کرتے ہوئے دابۃ الارض کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک جانور زمین میں سے نکلے گا اور انسانوں سے باتیں کرے گا۔ مسند احمد میں سیدنا حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ (1) آفتاب کا مغرب سے طلوع ہونا۔ (2) دخان۔ (3) دابہ۔ (4) خروج یاجوج ماجوج۔ (5) نزول عیسیٰ علیہ السلام۔ (6) دجال۔ (7) تین خسوف ‘ ایک مغرب میں دوسرا مشرق میں تیسرا جزیرۃ العرب میں ہوگا۔ (8) ایک آگ جو قصرعدن سے نکلے گی۔
سیدقطب شہید صاحب (رح) ظلال القرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–93
آیات 83 تا 93
اسرار و معارف
ایک روز ہم ان سب کو میدن حشر میں جمع فرمائیں گے اور ہر امت سے اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والوں کو الگ کرلیا جائے گا اور یوں جب حاضر کیے جائیں گے تو سوال ہوگا کہ تم نے ہماری آیتوں کا انکار کردیا یا بغیر سوچ بچار کے ہی کردیا تھا یا تم نے کوشش تو کی مگر حقیقت کو نہ پا سکے تو چونکہ ان کا جرم ثابت ہوگا لہذا ان کے پاس کوئی جواب نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی بات کرسکیں گے۔ بھلا انہیں دوبارہ زندہ کیے جانے کی سمجھ نیند سے کیوں نہیں آتی کیا نہیں دیکھتے کہ ہم نے رات کو آرام کے لیے بنایا ہے اور انسان سو کر آرام حاصل کرتا ہے اور نیند میں بھی تو روح کا تعلق بدن سے ایک گونہ کمزور…
Read the full tafseer →2 ۔ یعنی اس وقت جن پہاڑوں کو دیکھ کر تم خیال کرتے ہو کہ اپنی جگہ پر نہایت مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں، اور انہیں کوئی چیز ہلا نہیں سکتی۔ قیامت کے دن بادل کی طرح فضا میں اڑتے پھرینگے۔ قیامت کے دن پہاڑوں کے متعلق مختلف صفات مذکور ہیں۔ سب کا حاصل یہ ہے کہ ان کو اڑا کر زمین صاف کردی جائیگی۔ (دیکھئے طہ :105، نباء 20، معارج :79، فرقان :23، واقعہ :6)
Read the full tafseer →(27:88) تری ماضی بمعنی مستقبل۔ تو دیکھے گا۔
تحسبھا۔ تحسب مضارع واحد مذکر حاضر تو گمان کرے گا۔ تو خیال کریگا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب پہاڑوں کی طرف راجع ہے تو ان پہاڑوں کو خیال کرے گا۔
جامدۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث جمود سے جن کے معنی جمنے اور ٹھہرنے کے ہیں۔ جمی ہوئی۔ ٹھہری ہوئی۔
وہی۔ میں واؤ حالیہ ہے ہی ضمیر واحد مؤنث غائب پہاڑوں کی طرف راجع ہے۔
تمر مضارع واحد مؤنث غائب مرور مصدر (باب نصر) وہ چلتی ہے وہ چل رہی ہے ۔ رواں ہے۔
مرالسحاب مجاف ، مضاف الیہ بادلوں کی چال۔ منصوب بوجہ مفعول مطلق ہونے کے۔
صنع اللہ۔ مضاف ضاف الیہ اللہ کی کاریگری۔ صنع، صنع، یصنع کا مصدر ہے باب فتح۔ بمعنی کاریگری۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–93
لغات القرآن : آیت نمبر 87 : 93 :
ینفخ (پھونک ماری جائے گی) فزع (گھبرا گیا) داخرین (عاجزی کرنے والے) تحسب (تو گمان کرتا ہے) ‘ جامدۃ (جمع ہوجانے والی) تمر (وہ چلے گی) السحاب (بادل) صنع اللہ (اللہ کی کاری گری) کبت (اوندھا پھینک دیا گیا) ‘ ھل تجزون ( کیا تم بدلہ دیئے جائو گے) امرت ( میں حکم دیا گیا ہوں) البلدۃ (شہر) حرم ( قابل احترام بنایا) ان اتلو (یہ کہ میں تلاوت کروں گا) سیری (وہ بہت جلد دکھائے گا) ‘ تعرفون (تم پہچانتے ہو) ۔
تشریح : آیت نمبر 87 تا 93 :
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر قیامت اور اس دن کی ہولناکی کو بیان کیا گیا ہے۔ یہاں پر ایک اصولی بات ارشاد فرمائی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
قیامت کی علامت۔
(ف 1) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ قیامت کے اس ہول کی خبر دیتا ہے جو صور پھونکے جانے کے وقت پیدا ہوگا، ترمذی اور ابوداؤد میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اسرافیل پہلاصور پھونکیں گے جس سے تمام مخلوق پہلے گھبرا جائے گی اور پھر مرجائے گی بعد اس کے خدا کے روبرو کھڑے ہونے کے لیے دوسراصورپھونکاجائے گا جس سے تمام مردے قبر سے اٹھیں گے اور خدا کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے پھر فرمایا کہ یہ پہاڑ اللہ کی قدرت اور صنعت سے مضبوط اور جمے ہوئے ہیں کہ وہ مثل میخ کے گڑے ہوئے ہیں کہ ان میں آج کسی قسم کی حرکت نہیں اپنی جگہ قائم ہیں قیامت کے روز صور کے صدمہ سے مثل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
[32] یعنی یہ اللہ کی صناعی ہے کہ ایک مضبوط اور مستحکم چیز ایک ذرا سی کل مروڑ دینے سے بادلوں کی طرح اڑنے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
ف 1: یہ نفحہ ثانیہ کا نقشہ ہے کہ جب صور پھونکا جائے گا تو اس وقت آسمانوں اور زمین کی تمام کائنات گھبرا اٹھے گی ۔ بجز ان لوگوں کے جن کو اللہ تعالیٰ اس فزع محفوظ رکھے ۔ اور سب کے سب اس کے حضور میں بندھے چلے آئیں گے
حل لغات : داخرین ۔ تدلل وانعقاد کے ساتھ
Read the full tafseer →88۔ اور اے مخاطب تو پہاڑوں کو دیکھ کر یہ خیال کرتا ہے کہ وہ جمے ہوئے ہیں حالانکہ وہ قیامت کے دن بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے یہ سب اللہ تعالیٰ کی کاریگری ہے جس نے ہرچیز کو مضبوط و مستحکم بنایا ہے ۔ یہ یقینی بات ہے کہ تم لوگ جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے۔ یعنی پہاڑ اس وقت جمے ہوئے ہیں لیکن اس دن بادلوں کی طرح اڑے اڑے پھریں گے یہ نفخہ اولیٰ کی آخری حالت میں ہوگا ۔ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی کاریگری اور اس کی بناوٹ ہے جس نے ہر شی کو مضبوط بنارکھا ہے جس نے مضبوط بنایا ہے وہی کمزورکر دے گا ۔ اور روئی کے گالوں کی طرح یہ پہاڑ ہوجائیں گے ، تمہاری تمام کارروائیوں سے اللہ تعالیٰ خبردار ہے ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
ف 3۔ کیونکہ وہ تدبر کرتے ہیں اور دوسرے تدبر نہیں کرتے اور انتاج کے لئے نظر و فکر ضروری ہے، اس لئے دوسرے اس سے منتفع نہیں ہوتے۔
Read the full tafseer →ہول قیامت اور نظام اول کا درہم برہم ہونا اور نئے نظام کا قیام :
88۔ نفخ صور کا اثر جس طرح جانداروں پر ہوگا بےجان اور جاندار چیزوں پر بھی ہوگا اس وقت آپ پہاڑوں کو دیکھ رہے ہیں کہ وہ کس طرح جامد اور ٹھوس نظر آرہے ہیں لیکن جب اس نظام کے درہم برہم ہونے کا وقت آئے گا تو وہ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے نظرآئیں گے ، اس نظام کائنات کی مثال کو سمجھنے کے لئے یوں سمجھ لیں کہ جس طرح تسبیح کے دانوں کو ایک دھاگے کے ذریعہ اکٹھا کردیا گیا ہے اسی طرح اس نظام کائنات کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ ربط اور ترتیب کے طور پر باندھ دیا گیا ہے اور ہر ایک کی حرکت دوسرے کیلئے ٹھہراؤ کا کام دے رہی ہے اور اس طرح ان سب کا نظام…
Read the full tafseer →وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ
And you see the mountains (at present) taking them as fixed, while they will fly like the flight of clouds - 27:88
The word تَرَى in the beginning of this verse is used in Arabic for both present and future tense. Therefore, it can be translated as "You see" or as "You will see". In the latter case, the verse would be referring to the mountains as they will appear on the Doomsday. The sense in that case will be that the mountains will be uprooted and blown like clouds, which though would appear stationary to the…
Read the full tafseer →107 That is, "From such God you should not expect that after giving you the powers of intellect and discrimination and control over things, He will remain unaware of your deeds and actions and will not see how you have been using the delegated authority in the earth."
Read the full tafseer →