Explained with ayahs 7–14
آگ لینے گئے رسالت مل گئی
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو موسیٰ ؑ کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ ؑ اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آگئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔ تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
سورة النمل 10
سورة قصص میں ہے کہ ندا ایک درخت سے آرہی تھی فِي الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ ، اس سے جو صورت معاملہ سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ وادی کے کنارے سے ایک خطے میں آگ سی لگی ہوئی تھی مگر نہ کچھ جل رپا تجا نہ کوئی دھواں اٹھ رہا تھا اور اس آگ کے اندر ایک ہرا بھرا درخت کھڑا تھا جس پر سے یکایک یہ ندا آنی شروع ہوئی۔
یہ ایک عجیب معاملہ ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ پیش آتا رہا ہے، نبی ﷺ جب پہلی مرتبہ نبوت سے سرفراز کیے گئے تو غار حرا کی تنہائی میں یکایک ایک فرشتہ آیا اور اس نے اللہ کا پیغام پہنچانا شروع کردیا، حضرت موسیٰ کے ساتھ بھی یہی صورت پیش آئی کہ ایک شخص سفر کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
فَلَمَّا جَاۗءَهَا نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، يٰمُوْسٰٓي اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔
حضرت موسیٰ ؑ کے آگ دیکھنے اور آگ کے اندر سے ایک ندا سننے کی تحقیق
قرآن کریم میں حضرت موسیٰ ؑ کا یہ واقعہ بہت سی سورتوں میں مختلف عنوانات کے ساتھ آیا ہے۔ سورة نمل کی مذکورہ آیات میں اس سلسلے کے دو جملے غور طلب ہیں۔ اول (بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ) دوسرا (اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) اور سورة طہ میں جس کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے اس واقعہ سے متعلق یہ الفاظ آئے ہیں (اِذْ رَاٰ نَارًا الی قولہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →صفات عزیز و حکیم کا تعارف
اوپر کی بات تو ہاتف غیب کی آواز تھی جو حضرت موسیٰ کو سنائی دی اب یہ خود حضرت موسیٰ کر کے رب العزت نے اپنا تعارف کرایا کہ میں ہی خدائے عزیز و حکیم ہوں۔ ان صفات سے تعارف کے وجہ ظاہر ہے کہ یہ نہیں ہو سکتی کہ حضرت موسیٰ ان سے ناواقف تھے۔ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے اور ایک مدت تک حضر شعیب کی صحبت و معیت میں رہے تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ان صفات سے ناواقف نہیں ہو سکتے تھے۔ مقصوداں کی تذکیر سے اس مہم کے لئے ان کے قلب کو مضبوط کرنا تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو مامور فرمانا چاہا۔ پچھلی سورة میں العزیز الرحیم کی صفات بار بار آئی ہیں اور انکے مضمرات ہم واضح…
Read the full tafseer →9-1درخت سے ندا کا آنا، حضرت موسیٰ ؑ کے لئے باعث تعجب تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، موسٰی ! تعجب نہ کر میں ہی اللہ ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
4: یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور پیغمبروں کو کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہوتا، البتہ کسی سے کوئی قصور ہوگیا ہو، تو اسے یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس پر ناراض نہ ہوں، لیکن جب ایسا کوئی شخص توبہ اور استغفار کے بعد اپنے حالات کی اصلاح کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فلما جآء ھا نودی……الحکیم (9)
یہ وہ پکار ہے جس کے ساتھ پوری کائنات ہمقدم ہے اور جس کے ساتھ تمام جہان اور تمام آسمان ہم آہنگ ہیں۔ تمام کائنات اس کے سامنے سہمی ہوئی ہے اور انسان روح اور ضمیر اسے سن کر کانپ اٹھتا ہے۔ یہ وہ آواز ہے جس کے ساتھ زمین و آسمان کا اتصال ہے اور انسان جو ایک چھوٹا سا ذرا ہے وہ عظیم اور بلند ذات کی آواز کو پاتا ہے اور ایک فانی اور ضعیف انسان ایک لافانی اور قوی ذات باری کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے اور یہ مقام اسے محض فصل رب تعالیٰ سے ملتا ہے۔
فلما جاء ھا نودی (82 : 8) ” جب وہ وہاں پہنچا تو ندا آئی۔ “ پکارا گیا ، یہاں قرآن پکارنے والے کا نام نہیں لیتا ، لیکن وہ معلوم ہے۔ یہ نام…
Read the full tafseer →1 یعنی اس وقت تجھ سے کلام کرنے والا میں ہوں، یہ سب واقعہ مفصلاً سورة " طہٰ " میں گزر چکا۔
Read the full tafseer →آیت 9 یٰمُوْسٰٓی اِنَّہٗٓ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ”
میں اللہ ہوں اور میں ہی آپ علیہ السلام سے اس وقت خطاب کر رہا ہوں۔
Read the full tafseer →9 اس منظر نے پھر اس آواز نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تو پھر آواز آئی : موسیٰ میں اللہ ہوں، زبردست ہوں اور حکمت والا ہوں اور یہاں سبحان اللہ کہنے سے مقصود یہ تھا کہ اللہ رب العالمین ایسا نہیں جو اس درخت میں یا آگ میں موجود ہو یا ان میں حلول کر آیا ہو۔ بس اس مقام پر اللہ نے اپنی تجلی ڈالی تھی۔ جیسے سورج کے سامنے شیشہ رکھنے سے شیشے میں سے بھی روشنی اور اس کی شعاعیں اور سورج سب کچھ نظر آنے لگتے ہیں۔ لیکن یہ کہا جاسکتا ہے اتنا بڑا سورج چھوٹے سے آئینہ میں سما گیا ہے یا اس جگہ موجود ہے۔
جہمیہ اور معتزلہ جو اللہ تعالیٰ کی صفات کی بزعم خود تنزیہہ بیان کرتے اور اپنے آپ کو اہل…
Read the full tafseer →10۔ (اور کوئی مادی مخلوق نہیں جو تم سے ہمکلام ہورہا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : طس اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب مبین کی یعنی حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی، زیادتی صفت کے ساتھ (القرآن) پر عطف ہے، وہ ہدایت ہے یعنی گمراہی سے ہدایت کرنے والی ہے اور مومنین یعنی اس کی تصدیق کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری ہے، وہ (مومن) جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کے طریقہ کے مطابق ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں (یعنی) دلیل کے ساتھ اس پر یقین رکھتے ہیں، اور (ھم) مبتداء اور اس کی خبر (یوقنون) کے درمیان (بالآخرۃ) کے فصل کی وجہ سے ھم کا اعادہ کیا گیا ہے جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے…
Read the full tafseer →یموسی انہ انا اللہ العزیز الحکیم . اے موسیٰ ( علیہ السلام) ! حقیقت یہی ہے کہ میں ہی اللہ ہوں غالب اور حکمت والا ہوں۔ لفظ عزیز و حکیم درحقیقت تمہید ہے آئندہ واقعہ کی ‘ یعنی میں ایسا قادر مطلق اور غالب کل اور حکمت و تدبیر کے ساتھ کام کرنے والا ہوں کہ کسی کے تصور کی رسائی بھی وہاں تک نہیں ہوسکتی مثلاً لاٹھی کو سانپ بنا دینا وغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(9۔ 10) ارشاد ہوا اے موسیٰ ؑ بات یہ ہے کہ میں اللہ ہوں اور جو میرے اوپر ایمان نہ لائے اس کو سزا دینے میں زبردست ہوں اور اپنے حکم اور فیصلہ میں حکمت والا ہوں۔
میں نے اس چیز کا حکم دیا ہے کہ میرے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کی جائے اور تم ہاتھ میں سے اپنا عصا زمین پر ڈال دو ، چناچہ انہوں نے ڈال دیا، سو جب حضرت موسیٰ ؑ نے اس کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا جیسے سانپ ہو تو وہ اس سے مڑ کر بھاگے اور اس کے ڈر کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
ارشاد خداوندی ہوا اے موسیٰ ؑ ڈور نہیں اور ہمارے حضور میں پیغمبر نہیں ڈرا کرتے۔
Read the full tafseer →يٰمُوْسٰٓي اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : دیکھیے سورة طٰہٰ (14) یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے اپنی دو صفات بیان فرمائیں، ایک ”عزیز“ اور دوسری ”حکیم“۔ کیونکہ موسیٰ ؑ کو جو عظیم ذمہ داری دی جانے والی تھی اس کے لیے انھیں یہ اطمینان دلانا ضروری تھا کہ فرعون کو دعوت دیتے وقت اس کی شان و شوکت یا قوت و عظمت سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ انھیں بھیجنے والا اللہ ہے جو سب پر غالب ہے اور جو کمال حکمت والا ہے۔ موسیٰ ؑ کو فرعون کے گھر پرورش دلانے، پھر دس سال بکریاں چروانے اور اندھیری رات میں صحرا میں راستہ بھلا کر اچانک نبوت اور معجزے عطا کرکے فرعون کی طرف بھیجنے میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
( اذ قال موسیٰ لا۔۔۔۔۔۔ )
اذا قال موسیٰ لا ھلہ اذ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے اور و فعل اذکر ہے گویا اسے اس ارشاد : وانک لتقی القرآن من لدن حکیم علیم۔ فرمایا : مراد ہے اے محمد ! ﷺ اس کی حکمت اور اس کے علم کے آثار میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ لیجئے جب انہوں نے اپنی بیوی سے کہا : انی انست نارا یعنی میں نے دور سے اسے دیکھا ہے۔ حرث بن حلذہ نے کہا :
آنست نباۃ وافزعھا القناص عصرا وقدونا الامساء
اس نے خفی آواز محسوس کی، عمر کے وقت شکاریوں نے اسے خوفزدہ کیا جب کہ شام قریب آچکی تھی۔
ساتیکم منھا بخبر اوتیکم بشھاب قبس لعلکم تصطلون عاصم، حمزہ اور کسائی نے بشھاب قمس قرأت کی ہے (1)
1 ؎۔ المحرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
بابرکت آگ اور ہدایت
2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ” نودی ان بورک من فی النار ومن حولہا “ کے بارے میں روایت کیا کہ برکت دی گئی ہے آگ میں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو آوازدی اور وہ نور میں تھے۔
3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ آگ نور تھی آیت ” ان بورک من فی النار ومن حولہا “ (یعنی برکت دی گئی) جو آگ کے اردگرد ہے۔
4۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس سے روایت کیا کہ آیت ” ان بورک من فی النار ومن حولہا “ یعنی آگ کو برکت دی گئی۔
5۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اسی…
Read the full tafseer →يٰمُوْسٰٓي [ اے موسیٰ (علیہ السلام) ] اِنَّهٗٓ [ حقیقت یہ ہے کہ ] اَنَا [ میں ] اللّٰهُ [ اللہ ہوں ] الْعَزِيْزُ [ جو بالادست ہے ] الْحَكِيْمُ [ حکیم ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
مبارک ہونے کی بشارت کے بعد اللہ پاک کا مزید خطاب ہوا اور فرمایا (یٰمُوْسٰی اِِنَّہٗٓ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) کہ اے موسیٰ بیشک میں اللہ ہوں عزیز ہوں حکیم ہوں۔ اس کے بعد لاٹھی کے بارے میں سوال و جواب ہوا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں تھی، پھر اس لاٹھی کے ڈالنے کا حکم فرمایا جب انہوں نے لاٹھی کو ڈال دیا تو وہ اژدھا بن گئی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح سے ہے اور اس کی حرکت ہو رہی ہے یہ حال دیکھ کر وہ پچھلے پاؤں لوٹے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا یہ خوف طبعی تھا جس کا اس وقت مظاہرہ ہوا، اللہ پاک کا ارشاد ہوا کہ اسے پکڑ لو ڈرو نہیں ہم اس کو پہلی حالت پر لوٹا دیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
قصہء اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ اذ قال موسیٰ لاملہ انی انست نارا۔۔۔ الی۔۔۔ عاقبۃ المفسدین۔
(ربط) اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو بیان فرمایا پھر اس کی تائید کے لئے پانچ قصے بیان فرمائے۔ (1) قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون۔ (2) قصہء داؤد (علیہ السلام) مشتمل بر قصہء نمل چیونٹی جس کو باوجود ایک حقیر جانور ہونے کے اللہ اور اس کے رسول کی معرفت حاصل تھی اور خدا کے رسول کی عصمت اور نزاہت کا یقین کامل تھا کہ وہ دیدہ و دانستہ کسی کے لئے باعث ایذا نہیں بن سکتے۔
(3) قصہء بلقیس بزبان ہد ہد جو سلیمان (علیہ السلام) کے متعدد معجزات پر مشتمل ہے۔ (4) قصہء…
Read the full tafseer →9:۔ اے موسیٰ اس وقت تم سے کلام کرنے والا میں ہوں جو سارے جہاں میں متصرف اور فاعل مختار ہوں “ العزیز الحکیم ” یہ ماقبل کے لیے بمنزلہ علت ہے۔ کیونکہ میں قدرت کے اعتبار سے سب پر غالب اور علم و حکمت کے اعتبار سے ہر چیز پر حاوی ہوں۔ “ والق عصاک ” یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و حکمت کا ذکر کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی لاٹھی زمین پر پھینکنے کا حکم دیا تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ یہ معجزہ عصا اور ید بیضاء اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے لیکن ان کا ظہور محض اللہ کی قدرت سے ہوا اس میں موسیٰ (علیہ السلام) کے اختیار و تصرف کو کوئی دخل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ربط آیات
سورۃ ہذا کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا کہ یہ خدائے حکیم وعلیم کی طرف سے پیغمبر پر نازل کیا گیا ہے اور یہ اہل ایمان کے لیے ہدایت اور خوش خبری ہے ، پھر ایمان والوں کی بعض صفات بھی بیان کیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں ، پھر منکرین آخرت کی سزا کا ذکر بھی بنوا کہ اس دنیا میں ان کے اعمال کو مزین کر کے دکھایا جاتا ہے اور یہ لوگ آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والے ہوں گے ۔ اس کے بعد آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے ایک گوشے کو بےنقاب کیا ہے ۔ اس واقعہ میں پیغمبر آخرالزمان کے لیے…
Read the full tafseer →يٰمُوْسٰٓي اِنَّہٗٓ اَنَا اللہُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 9ۙ
موسی
مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته .
عزیز
، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88]
( ع ز ز ) العزۃ
العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ترکیب : اذ کا عامل اذکر محذوف اور میم سے بھی متعلق ہوسکتا ہے نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ یا تو ضمیر ہے جو موسیٰ کی طرف راجع ہے یا ان بورک علی الاول ان بمعنی ای تفسیر کے لیے من مرفوع ہے، بورک سے انہ ضمیر شان انا مبتدا اللہ خبر تھتز حال ہے راھا مفعول سے کانھا حال ہی ضمیر تہتز ہے، الامن ظلم استثناء منقطع موضع نصب میں اور ممکن ہو کہ محل رفع میں ہو فاعل سے بدل ہو کر بیضا، من غیر سوء فی تسع تینوں حال ہیں، الی محذوف سے متعلق تقدیرہ مرسلاً الی فرعون، مبصرۃ حال ہے، مبصرۃً بھی پڑھا ہے تب یہ مفعول لہ ہے ظلمًا و علوًا حال ہیں ضمیر جحدوا سے مفعول بھی ہوسکتے ہیں۔
تفسیر : اذقال موسیٰ الخ یہ حضرت موسیٰ (…
Read the full tafseer →یٰـمُوْسٰٓی اِنَّـہٗٓ اَنَااللّٰہُ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (النمل : 9)
(اے موسیٰ ! یہ میں ہی ہوں، خدائے عزیزوحکیم۔ )
احتمالات کی وضاحت
گزشتہ آیت میں بیان کردہ غیرمعمولی صورتحال سے جو اشتباہات پیدا ہوسکتے تھے اور جس طرح اجمالی انداز میں بات فرمائی گئی تھی اور جس میں کئی احتمالات ممکن تھے ان تمام پردوں کو ہٹاتے ہوئے فرمایا کہ میں ہی خدائے عزیزوحکیم ہوں، میری ہی آواز تم نے سنی ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ذاتی نام سے اپنا ذکر فرمایا اور اپنی دو صفات سے اپنا تعارف کرایا تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تبلیغ و دعوت کے کٹھن راستے پر چلتے ہوئے یہ اطمینان رہے کہ ان کی پشت پناہ ایک ایسی ذات ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فہم القرآن
ربط کلام : پچھلی آیات میں قرآن مجید کے بارے میں شک کرنے اور سرور دو عالم ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کا انجام ذکر ہوا۔ اب جو انہیں دنیا اور آخرت میں ہوگا اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔
یہ بات سورة مزمل آیت 15 کے حوالہ سے بتلائی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان بہت سی مماثلتیں قائم کی ہیں۔ اس لیے موقع محل کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مشکلات اور ان کی قوم کی مخالفت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جس کی یہاں اس طرح ابتداء کی ہے کہ اے نبی ! موسیٰ (علیہ السلام) کے سفر پر غور فرمائیں۔ جب وہ دس سالہ غریب الوطنی کی زندگی گزار کر اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر کی طرف آرہے…
Read the full tafseer →9: یٰمُوْسٰی اِنَّہٗ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (اے موسیٰ حقیقت یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں جو غالب اور حکمت والا ہے) انہ میں ضمیر شان ہے۔ اَنَا اللّٰہُ ۔ مبتدأ و خبر ہیں۔ العَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ یہ دونوں خبر کی صفات ہیں یا ہٗ ضمیر اس طرف لوٹتی ہے جس پر ماقبل کی دلالت ہے یعنی اَن مکلمک انا اور اللہ یہ انا کا بیان ہے۔ العزیز الحکیم۔ اور یہ مبین کی صفات ہیں۔ یہ ان معجزات کی تمہید ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ظاہر کیے جانے والے تھے۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
9۔ یاموسی انہ انا اللہ العزیز الحکیم۔ انہ کی ضمیر بعض حضرات کے نزدیک امر وشان سے کنایہ ہے ۔ یعنی معبود میں ہی ہوں پھر حضرت موسیٰ کو اپنی قدرت پر نشانی عطافرمائی اور ارشاد فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
(6 تا 13) مشرکین مکہ قرآن کو انسان کا کلام کہتے تھے اس لیے فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے تو قرآن ایسے صاحب حکمت سے پایا ہے جو حکمت والا ہے اپنے حکموں میں اور خبردار ہے تمام امور میں اب آگے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ کس طور سے ان کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے انتخاب کرلیا اور ان سے باتیں کیں اور ان کو بڑی بڑی نشانیاں دیں اور بھیجا ان کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس تو ان لوگوں نے کفر اور تکبر کیا اور جو معجزات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو دکھائے ان کو کھلا ہوا جادو بتلایا صحیح بخاری ومسلم کے 1 ؎ (1 ؎ مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین فصل اول) حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
آیت 7 سے 14
یعنی موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتداء، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریقہ و فاضلہ کو یاد کیجئے۔۔۔ یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : (انی انست نارا) یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے : (ساتیکم منھا بخبر) میں وہاں سے تمہارے لئے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں (اواتکیم بشھاب قبس لعللکم تصطلون) ” یا سلگتا ہوا نگارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9 حضرت موسیٰ کا اپنی لاٹھی سے بھاگنا اور اس میں درسہائے عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب موسیٰ نے اللہ کے حکم وارشاد پر اپنی لاٹھی کو زمین پر پھینک دیا اور دیکھا کہ وہ یکایک اس طرح بل کھا رہی ہے جیسے وہ کوئی سانپ ہو۔ تو اس سے موسیٰ مارے خوف کے اس طرح بھاگ کھڑے ہوئے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موسیٰ ڈرو مت کہ ہمارے یہاں رسول ڈرا نہیں کرتے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ نہ تو معجزہ نبی کے اختیار میں ہوتا ہے اور نہ ہی وہ عالم الغیب ہوتا ہے اور نہ ہی مختار کل۔ ورنہ حضرت موسیٰ اس موقعہ پر اپنے عصا کے اس انقلاب کی بناء پر اس طرح خوف نہ کھاتے۔ اور جب معجزہ نبی کے اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
قوم موسیٰ کا ذکرباعث عبرت
تشریح : نبوت ملنے کا انداز بھی عجیب ہے سیدنا محمد ﷺ کو غار حرا میں نبوت ملی اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں ملی کہ آگ لینے گئے تو نبوت مل گئی اور ساتھ ہی دو معجزے بھی۔ ویسے آپ کو نو معجزے عطا کیے گئے تھے۔ آپ کے بارے میں اور آپ کی قوم اور فرعون کے بارے میں تفصیلاً سورة طہٰ رکوع 1 میں گزر چکا ہے۔ سورة الاعراف میں بھی یہ واقعہ کوہ طور پر ہوا جو سطح سمندر سے تقریباً 5 ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہاں رومی سلطنت کے پہلے عیسائی بادشاہ قسطنطین نے یاد گار کے طور پر 365 ء کے قریب وہاں ایک کلیسہ بنوا دیا۔ فرعون کے عبرت ناک انجام کی یہ کہانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة نمل
رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 14 ۔ اسرار و معارف :
طس۔ یہ قرآن کی آیات ہیں جو ایک کھلی کتاب ہے یعنی جو حقائق کو واضح کرکے بیان کرتی ہے اور باعث ہدایت بھی ہے اور نوید کامرانی بھی ان لوگوں کے لیے جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے یقین کی دلیل یہ ہے کہ عملاً اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور عبادات کے ادا کرنے میں پوری کوشش کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی کردار میں بھی اور معیشت میں بھی اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور یہ سب کسی دنیاوی فادے یا لالچ میں نہیں کرتے بلکہ انہیں آخرت اور روز جزا پر یقین کامل ہے لہذا اس روز کی کامیابی کے خواہشمند ہیں۔ اور ایسے لوگ جو آخرت پر یقین نہیں کرتے ان کو سزا کے طور پر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
1 ۔ ” جان “ اصل میں چھوٹے سفید سانپ کو کہتے ہیں۔ سورة اعراف (آیت :107) اور سورة شعرا۔ (آیت :32) میں اس کے لئے ” ثعبان “ کا لفظ آیا ہے جس کے معنی بڑے سانپ (اژدہا) کے ہیں۔ معلوم ہوا کہ وہ سانپ اصل میں بڑا اژدہا رہا تھا لیکن اپنی حرکت کی تیزی میں چھوٹے سانپ جیسا تھا۔ بعض نے لکھا ہے کہ کبھی ” جان “ بن جاتا اور کبھی ” ثعبان “۔ اس لئے ان دو لفظوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں، ” اول شک سی بن گئی تھی پتلی جب فرعون کے آگے ڈالی تو ناگ ہوگئی بڑھ کر۔ (موضح) 2 ۔ یہ خوف طبعی بتضائے بشریت تھا۔ (قرطبی) 3 ۔ یعنی میرے حضور پہنچ کر انبیا ﷺ ، سانپ وغیرہ کسی چیز سے نہیں ڈرا کرتے کیونکہ یہاں…
Read the full tafseer →(27:9) یموسیٰ ۔۔ قیل معناہ ان موسیٰ قال من المنادی قال یموسیٰ ۔۔ جیسے موسیٰ نے کہا ہو کون ہے یہ پکارنے والا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا انہ انا للہ ۔۔
انہ میں ضمیر شان ہے انا مبتداء اللہ خبر۔ العزیز الحکیم خبر کی صفات ہیں اے موسیٰ یہ میں ہوں۔ اللہ۔ بڑے غلبہ والا۔ بڑی حکمت والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 14 :
(اھل) گھروالے۔ اہل خانہ) ‘ انست ( میں نے دیکھا) شھاب (شعلہ) ‘ قبس (انگارہ) نودی (آوازدی گئی) ‘ تصطلون (تم سینکو۔ گرمائی حاصل کرو) ‘ بورک (برکت دی گئی) ‘ حول ( اردگرد۔ آس پاس) ‘ تھتز (لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ۔ اژدھا) ‘ مدبرا (پیٹھ پھیرنے والا) ‘ لم یعقب (مڑکرنہ دیکھا) ‘ مبصرۃ (آنکھیں کھولنے والی) ‘ استیقنت ( یقین کرلیا) ‘ علو (بڑائی۔ تکبر) عاقبۃ (انجام۔ نتیجہ) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 7 تا 14 :
ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو اس سورت کے مضامین کے لحاظ سے دوبارہ ارشاد فرمایا گیا ہے جب وہ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس دس سال گذارنے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
(ف 1) حضرت موسیٰ کو غیب سے آواز آئی کہ اے موسیٰ اللہ کی ذات سب عیبوں سے پاک ہے اور میں ہی اللہ عزت والاحکمت والا ہوں ، اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قدرت اور حکمت الٰہی دکھانے کے لیے یہ ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ تم اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دو وہ لکڑی زمین پر ڈالتے ہی ایک سانپ بن گیا پہلے پہل لکڑی کو سانپ بنتے دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے اور پیٹھے پھیر کر چلے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا فرمایا اے موسیٰ ڈرو مت اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنا رسول مقرر کیا ہے فرمایا میں ایسا ہوں کہ میرے حضور میں رسول ڈرا نہیں کرتے پھر فرمایا کہ بدی کے بعد اس کے عوض میں نیکی کی یعنی گناہ کرکے توبہ کی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
[3] اس قصے کی تفصیلات سورة طہٰ آیت 9 صفحہ 718 میں گزر چکی ہیں۔
Read the full tafseer →ف 1: یہ اس وقت کا ذکر ہے جبکہ حضرت موسیٰ سے جدا ہوکر چلے ہیں ان کے ساتھ اس وقت ان کی بیوی تھیں جنگل میں آگ کی ضرورت محسوس ہوئی ۔
وہ آگے بڑھے تو دیکھا کہ جس کو وہ آگ سمجھ رہے تھے وہ اللہ کی ایک تجلی تھی ۔ فرمایا کہ موسیٰ بابرکت ہے اور اللہ جو عالم پروردگار ہے تجسم وتحیز سے پاک ہے ! اے موسیٰ میں اپنی عزیز حکیم یعنی غالب برتر اور حمیع علوم حکمت کا مالک خدا ہوں ! اور میں نے تمہیں مخاطب کیا ہے ۔
Read the full tafseer →(9) اے موسیٰ (علیہ السلام) بات یہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں کمال قوت کا مالک بڑی ہمت والا یعنی جو بلا کیف کلام کر رہا ہوں میں ہی اللہ ہوں کمال قوت اور کمال حکمت کا مالک ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 1۔ اس امر کے بتلانے کے لئے کہ یہ نور جو بشکل نار ہے خود ذات واجب نہیں یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العالمین جہاد و حدود و مقدار و الوان وغیرہ سے پاک ہے۔
Read the full tafseer →اے موسیٰ ! میں ہی اللہ ہوں ‘ زبردست حکمت والا :
9۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کیا دیکھا تھا ؟ آگ لیکن حقیقت اس آگ کی کیا تھی ؟ ایک روشنی تھی جو دراصل تجلی الہی کا نور تھا اور یہ ایک خالصتا خیالی چیز تھی جس کا وجود وہمی تھا وہ روشنی تھی اور وہ آواز جو پردہ نور سے سنی گئی تھی ۔ وہ کیا ہے ؟ کیا وہ براہ راست رب العزت کی آواز تھی ؟ حالانکہ معروف تو یہی ہے کہ ع
قول اور الحن نے آواز نے :
بلاشبہ یہ براہ راست ندائے الہی تھی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو کسی واسطہ سے بھی نہیں سنا تھا یعنی نہ یہ فرشتہ تھا اور نہ ہی کوئی مرئی چیز بلکہ یہ وہ ملکہ نبوت و رسالت تھا جو نبوت و رسالت ہی کے ساتھ خاص ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
فَلَمَّا جَاءَهَا نُودِيَ أَن بُورِكَ مَن فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿8﴾ يَا مُوسَىٰ إِنَّهُ أَنَا اللَّـهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿9﴾
So when he came to it, he was called: "Blessed is the one who is in the fire and the one who is around it And pure is Allah, the Lord of the worlds. 0 Musa, the fact is that I AM Allah, the Mighty, the Wise. (27:8 - 9)
The real nature of seeing the fire and hearing the voice from it
This incident of Sayyidna Musa (علیہ السلام) has appeared in the Qur'an at many places under different chapters. Two sentences in the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
10 According to AI-Qasas: 30, the voice was calling out from a tree. What one understands from this is this: A sort of a fire was alight on the ground on the edge of the valley, but neither was anything burning nor any smoke arising. In the midst of the fire there stood a lush green tree from which a voice started calling out this all of a sudden. This is a strange thing which the Prophets of Allah have been experiencing. When the Holy Prophet Muhammad (may Allah's peace be upon him) was first blessed with Prophethood, an Angel appeared before him in the solitude of the Gave of Hira' and…
Read the full tafseer →