Explained with ayahs 7–14
آگ لینے گئے رسالت مل گئی
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو موسیٰ ؑ کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ ؑ اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آگئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔ تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم…
Read the full tafseer →سورة النمل 12
سورة اعراف اور سورة شعراء میں اس کے لیے ثعبان (اژدھے) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور یہاں اسے " جان " کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جو چھوٹے سانپ کے لے بولا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جسامت میں وہ اژدہا تھا، مگر اس کی حرکت کی تیزی ایک چھوٹے سانپ جیسی تھی، اسی مفہوم کو سورة طہ میں حیۃ تسعی (دوڑتے ہوئے سانپ) کے الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔
سورة النمل 13
یعنی میرے حضور اس امر کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ رسول کو کوئی گزند پہنچے رسالت کے منصب عظیم پر مقرر کرنے کے لیے جب میں کسی کو اپنی پیشی میں بلاتا ہوں تو اس کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہوتا ہوں، اس لیے خواہ کیسا ہی کوئی غیر معمولی معاملہ پیش آئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
فَلَمَّا جَاۗءَهَا نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، يٰمُوْسٰٓي اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔
حضرت موسیٰ ؑ کے آگ دیکھنے اور آگ کے اندر سے ایک ندا سننے کی تحقیق
قرآن کریم میں حضرت موسیٰ ؑ کا یہ واقعہ بہت سی سورتوں میں مختلف عنوانات کے ساتھ آیا ہے۔ سورة نمل کی مذکورہ آیات میں اس سلسلے کے دو جملے غور طلب ہیں۔ اول (بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ) دوسرا (اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) اور سورة طہ میں جس کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے اس واقعہ سے متعلق یہ الفاظ آئے ہیں (اِذْ رَاٰ نَارًا الی قولہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →انبیاء کے معاملہ میں ایک خاص قابل توجہ پہلو
اوپر کی آیات میں حضرت موسیٰ کو پیش نظر مہم کے لئے ذہنی و قلبی طور پر تیار کرنے والی تعلیمات ہیں۔ اسکے بعد ان کو وہ عظیم ظاہری نشانیاں دی گئیں جن سے فرعون کے مقابلہ کے لئے ان کا مسلح ہونا ضروری تھا۔ ان میں سب سے اہم نشانی عصا کی تھی جس سے بعد کی تمام نشانیوں کا ظہور ہوا۔ اس نشانی کی وضاحت دوسرے مقامات میں ہوچکی ہے اور یہ بات بھی ہم واضح کرچکے ہیں کہ بالکل پہلے ہی مرحلے میں حضرت موسیٰ ایسا ڈر کے بھاگے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اس واقعہ کا یہ پہلو ہمارے نزدیک اس حقیقت کے اظہار کے لئے یہاں خاص طور پر ظاہر کیا گیا ہے کہ نبوت کے ابتدائی مرحلہ کے…
Read the full tafseer →10-1اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر عالم الغیب نہیں ہوتے، ورنہ موسیٰ ؑ اپنے ہاتھ کی لاٹھی سے نہ ڈرتے دوسرا، طبعی خوف پیغمبر کو بھی لا حق ہوسکتا ہے کیونکہ وہ بھی بالآخر انسان ہی ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
4: یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور پیغمبروں کو کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہوتا، البتہ کسی سے کوئی قصور ہوگیا ہو، تو اسے یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس پر ناراض نہ ہوں، لیکن جب ایسا کوئی شخص توبہ اور استغفار کے بعد اپنے حالات کی اصلاح کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →والق عصاک
یہ یہاں بات اختصار سے کی جاتی ہی اور سورة طہ کی طرح طویل مناجات نہیں ہے۔ یہاں مقصد آواز دینا اور فریضہ عائد کرنا ہے۔ “
فلما راھا تھتز کانھا جآن ولی مدبراً ولم یعقب ط
حضرت مسویٰ نے حکم کے مطابق عصا پھینکا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایک سانپ ہے اور زمین پر رینگ رہا ہے ۔ جیسا کہ چھوٹے اور سریع الحرکت سانپ تیزی سے دوڑتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) انفعالی طبیعت کے مالک تھے۔ یہ اچانک منظر ان کے لئے غیر متوقع تھا۔ حضرت اس سانپ سے دور بھاگ گئے اور واپس نہ دیکھا۔ یہ ایک ایسی حرکت تھی جو غیر متوقع اور اچانک پیش آجانے کی صورت میں ہر انسان سے صادر ہوتی ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مزاج بھی…
Read the full tafseer →2 شاید ابتداء میں پتلا ہوگا، یا سرعت حرکت میں تشبیہ ہوگی، صغر جثہ میں نہیں۔
3 یہ خوف طبعی تھا جو منافی نبوت تھا۔
4 یعنی اس مقام حضور و اصطفاء میں پہنچ کر ایسی چیزوں سے ڈرنے کا کیا مطلب۔ مرسلین کو لائق نہیں کہ ہماری بارگاہ قرب میں پہنچ کر لاٹھی یا سانپ یا کسی مخلوق سے ڈریں۔ وہاں تو دل کو انتہائی سکون و طمانیت حاصل ہونا چاہیے۔
Read the full tafseer →فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ کَاَنَّہَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ ط ”
یعنی آپ علیہ السلام پر شدید خوف طاری ہوگیا۔
Read the full tafseer →10 اس آیت سے کئی امور پر روشنی پڑتی ہے۔ مثلاً حضرت موسیٰ کی لاٹھی کے سانپ بن جانے کا معجزہ، آپ کو سب سے پہلے اور اسی مقام پر عطا ہوا تھا۔ یہ لاٹھی زمین پر پڑتے ہی اژدہا کی شکل کا بڑا سانپ بن گیا جس میں پھرتی پتلے سانپ کی تھی۔ دوسرے یہ کہ چونکہ یہ پہلا موقع تھا اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) خود بھی اس سانپ سے ڈر گئے تھے۔ تیسرے یہ کہ اس وقت ہی آپ کو معلوم ہوا کہ منصب رسالت آپ کے سپرد کیا جارہا اس سے پہلے آپ کو قطعی طور پر علم نہ تھا کہ آپ کو نبوت عطا ہوگی اور نبوت یا رسالت عطا ہونے کے وقت بھی طبیعت گرانبار ہوجاتی ہے اور کچھ نامعلوم سا خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی غار حرا میں…
Read the full tafseer →11۔ خوف طبعی مرتبہ نبوت کے بالکل منافی نہیں۔ اور پھر اگر یہ خوف عقلی تھا، جب بھی بسبب اس کے کہ اس میں کسی مخلوق کا واسطہ نہ تھا اس میں کوئی امر منافی شان نبوت نہیں (تھانوی (رح) جان اور ثعبان اور حیہ سب پر حاشیے گزر چکے۔
12۔ فقرہ صورۃ خبر ہے اور معنی انشاء یعنی ہدایت ہورہی ہے کہ خوف نہ کرنا چاہیے۔ یہ خوف اگر طبعی تھا تو (آیت) ” لاتخف “ الخ سے جو ازالہ خوف کیا گیا ہے، اس کی تقریر یہ ہوگی کہ ایک کیفیت طبیعہ پر جب دوسری کیفیت طبعیہ غالب آجاتی ہے تو پہلی کیفیت زائل ومضمحل ہوجاتی ہے۔ بس تم یہ سمجھو کہ ہم نے تم کو نبوت دی ہے۔ اس عنایت متجددہ کا سرورطبعا ایسا غالب ہوگیا کہ اس خوف کا اثر نہ رہے گا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : طس اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب مبین کی یعنی حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی، زیادتی صفت کے ساتھ (القرآن) پر عطف ہے، وہ ہدایت ہے یعنی گمراہی سے ہدایت کرنے والی ہے اور مومنین یعنی اس کی تصدیق کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری ہے، وہ (مومن) جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کے طریقہ کے مطابق ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں (یعنی) دلیل کے ساتھ اس پر یقین رکھتے ہیں، اور (ھم) مبتداء اور اس کی خبر (یوقنون) کے درمیان (بالآخرۃ) کے فصل کی وجہ سے ھم کا اعادہ کیا گیا ہے جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے…
Read the full tafseer →والق عصاک . اور اپنی لاٹھی (ہاتھ سے زمین پر) پھینک دو ۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے لاٹھی زمین پر پھینک دی فوراً لاٹھی
سانپ بن گئی اور دوڑنے لگی۔
فلما راھا تھت کانھا جان ولی مدبرا ولم یعقب . جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے لاٹھی کو تیزی سے حرکت
کرتے دیکھا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ (تیزی سے اور دوڑ میں) ہلکا پھلکا سانپ ہے تو (ڈر کے مارے) پیٹھ پھیر کر بھاگ پڑے اور مڑ کر نہیں دیکھا۔ مقاتل نے کہا : عقب کا معنی ہے بھاگنے کے بعد پھر لوٹ پڑنا۔
یموسی لا تخلف انی لا یخاف لدی المرسلون . (ہم نے کہا) موسیٰ ( علیہ السلام) ! (سانپ سے) خوف
نہ کرو میرے پاس پہنچ کر پیغمبر (کسی چیز سے) ڈرا نہیں کرتے۔ یعنی جب میرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
(9۔ 10) ارشاد ہوا اے موسیٰ ؑ بات یہ ہے کہ میں اللہ ہوں اور جو میرے اوپر ایمان نہ لائے اس کو سزا دینے میں زبردست ہوں اور اپنے حکم اور فیصلہ میں حکمت والا ہوں۔
میں نے اس چیز کا حکم دیا ہے کہ میرے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کی جائے اور تم ہاتھ میں سے اپنا عصا زمین پر ڈال دو ، چناچہ انہوں نے ڈال دیا، سو جب حضرت موسیٰ ؑ نے اس کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا جیسے سانپ ہو تو وہ اس سے مڑ کر بھاگے اور اس کے ڈر کی وجہ سے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔
ارشاد خداوندی ہوا اے موسیٰ ؑ ڈور نہیں اور ہمارے حضور میں پیغمبر نہیں ڈرا کرتے۔
Read the full tafseer →وَاَلْقِ عَصَاكَ ۭ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ۔۔ : ”جَاۗنٌّ“ اصل میں چھوٹے سفیدسانپ کو کہتے ہیں۔ سورة اعراف (107) اور شعراء (32) میں اس کے لیے ”ثُعْبَانٌ“ کا لفظ آیا ہے، جس کا معنی بڑا سانپ (اژدہا) ہے۔ اس کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ شروع میں ”جَانٌّ“ تھا، پھر ”ثُعْبَانٌ“ بن گیا۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”اول سٹک سی بن گئی تھی پتلی، جب فرعون کے آگے ڈالی تو ناگ ہوگئی بڑھ کر۔“ (موضح) یا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سانپ حجم میں اژدہا تھا، مگر تیزی میں چھوٹے سانپ جیسا تھا۔
يٰمُوْسٰي لَا تَخَفْ۔۔ : موسیٰ ؑ کے خوف زدہ ہو کر پیٹھ پھیر کر لوٹنے سے ظاہر ہے کہ انھیں اس سے پہلے نہ اپنے نبی بنائے جانے کا علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
( اذ قال موسیٰ لا۔۔۔۔۔۔ )
اذا قال موسیٰ لا ھلہ اذ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے اور و فعل اذکر ہے گویا اسے اس ارشاد : وانک لتقی القرآن من لدن حکیم علیم۔ فرمایا : مراد ہے اے محمد ! ﷺ اس کی حکمت اور اس کے علم کے آثار میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ لیجئے جب انہوں نے اپنی بیوی سے کہا : انی انست نارا یعنی میں نے دور سے اسے دیکھا ہے۔ حرث بن حلذہ نے کہا :
آنست نباۃ وافزعھا القناص عصرا وقدونا الامساء
اس نے خفی آواز محسوس کی، عمر کے وقت شکاریوں نے اسے خوفزدہ کیا جب کہ شام قریب آچکی تھی۔
ساتیکم منھا بخبر اوتیکم بشھاب قبس لعلکم تصطلون عاصم، حمزہ اور کسائی نے بشھاب قمس قرأت کی ہے (1)
1 ؎۔ المحرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریرج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فلما راٰ ہا تہتز کانہا جان “ یعنی جب وہ سانپ کی شکل میں بدل گیا اور دوڑنے لگا۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولم یعقب کہ وہ واپس نہیں مڑا آیت ” الا من ظلم ثم بدل حسنا بعد سوء “ یعنی پھر اس نے توبہ کی اپنے عمل کے بعد اور اپنے گناہ کے بعد۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولی مدبرا “ سے مراد ہے بھاگنے والا آیت ” ولم یعقب “ یعنی وہ متوجہ نہ ہوا۔ آیت ” انی لایخاف لدی “ یعنی میرے پاس (پیغمبر…
Read the full tafseer →وَاَلْقِ [ اور آپ (علیہ السلام) ڈال دیں ] عَصَاكَ ۭ [ اپنی لاٹھی ] فَلَمَّا [ پھر جب ] رَاٰهَا [ انھوں (علیہ السلام) نے دیکھا اس (لاٹھی) کو ] تَهْتَزُّ [ کہ وہ ہلتی ہے ] كَاَنَّهَا [ جیسے کہ وہ ] جَاۗنٌّ[ سانپ ہے ] وَّلّٰى [ تو وہ چل دیے ] مُدْبِرًا [ پیٹھ پھرنے والے ہوتے ہوئے ] وَّلَمْ يُعَقِّبْ ۭ [ اور پیچھے ہوئے ہی نہیں ] يٰمُوْسٰي [ اے موسیٰ (علیہ السلام) ] لَا تَخَفْ ۣ [ آپ (علیہ السلام) مت ڈریں ] اِنِّىْ [ بیشک میں ہوں (کہ)] لَا يَخَافُ [ نہیں ڈرتے ] لَدَيَّ [ میرے پاس ] الْمُرْسَلُوْنَ [ بھیجے ہوئے (رسول)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
مبارک ہونے کی بشارت کے بعد اللہ پاک کا مزید خطاب ہوا اور فرمایا (یٰمُوْسٰی اِِنَّہٗٓ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) کہ اے موسیٰ بیشک میں اللہ ہوں عزیز ہوں حکیم ہوں۔ اس کے بعد لاٹھی کے بارے میں سوال و جواب ہوا جو موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں تھی، پھر اس لاٹھی کے ڈالنے کا حکم فرمایا جب انہوں نے لاٹھی کو ڈال دیا تو وہ اژدھا بن گئی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح سے ہے اور اس کی حرکت ہو رہی ہے یہ حال دیکھ کر وہ پچھلے پاؤں لوٹے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا یہ خوف طبعی تھا جس کا اس وقت مظاہرہ ہوا، اللہ پاک کا ارشاد ہوا کہ اسے پکڑ لو ڈرو نہیں ہم اس کو پہلی حالت پر لوٹا دیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
قصہء اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ اذ قال موسیٰ لاملہ انی انست نارا۔۔۔ الی۔۔۔ عاقبۃ المفسدین۔
(ربط) اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو بیان فرمایا پھر اس کی تائید کے لئے پانچ قصے بیان فرمائے۔ (1) قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون۔ (2) قصہء داؤد (علیہ السلام) مشتمل بر قصہء نمل چیونٹی جس کو باوجود ایک حقیر جانور ہونے کے اللہ اور اس کے رسول کی معرفت حاصل تھی اور خدا کے رسول کی عصمت اور نزاہت کا یقین کامل تھا کہ وہ دیدہ و دانستہ کسی کے لئے باعث ایذا نہیں بن سکتے۔
(3) قصہء بلقیس بزبان ہد ہد جو سلیمان (علیہ السلام) کے متعدد معجزات پر مشتمل ہے۔ (4) قصہء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
10:۔ وہ چھوٹا سانپ جو تیزی سے حرکت کرے۔ دوسری جگہ اس سانپ کو “ ثعبان ” (اژدہا) سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہاں اسے بہت بڑا اژدھا بن گیا لیکن حرکت کی تیزی میں چھوٹے سانپ کی مانند تھا۔ شبھھا سبحانہ فی شدۃ حرکتہا واضطرابھا مع عظم جث تھا بصغار الحیات السریعۃ الحرکۃ الخ (روح ج 19 ص 163) ۔
11:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اژدہا کو دیکھا تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا تو ارشاد ہوا اے موسیٰ ! مت ڈرو، کیونکہ میرے قرب میں پیغمبر کسی چیز سے نہیں ڈرا کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو باین جلالت شان یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ سانپ ان کو ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ اس سے واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ربط آیات
سورۃ ہذا کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا کہ یہ خدائے حکیم وعلیم کی طرف سے پیغمبر پر نازل کیا گیا ہے اور یہ اہل ایمان کے لیے ہدایت اور خوش خبری ہے ، پھر ایمان والوں کی بعض صفات بھی بیان کیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں ، پھر منکرین آخرت کی سزا کا ذکر بھی بنوا کہ اس دنیا میں ان کے اعمال کو مزین کر کے دکھایا جاتا ہے اور یہ لوگ آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والے ہوں گے ۔ اس کے بعد آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے ایک گوشے کو بےنقاب کیا ہے ۔ اس واقعہ میں پیغمبر آخرالزمان کے لیے…
Read the full tafseer →وَاَلْقِ عَصَاكَ 0ۭ فَلَمَّا رَاٰہَا تَہْتَزُّ كَاَنَّہَا جَاۗنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّلَمْ يُعَقِّبْ 0ۭ يٰمُوْسٰي لَا تَخَفْ 0ۣ اِنِّىْ لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُوْنَ 1 0ۤۖ
لقی( افعال)
والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ
[ الأعراف/ 115] ،
( ل ق ی ) لقیہ ( س)
الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ترکیب : اذ کا عامل اذکر محذوف اور میم سے بھی متعلق ہوسکتا ہے نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ یا تو ضمیر ہے جو موسیٰ کی طرف راجع ہے یا ان بورک علی الاول ان بمعنی ای تفسیر کے لیے من مرفوع ہے، بورک سے انہ ضمیر شان انا مبتدا اللہ خبر تھتز حال ہے راھا مفعول سے کانھا حال ہی ضمیر تہتز ہے، الامن ظلم استثناء منقطع موضع نصب میں اور ممکن ہو کہ محل رفع میں ہو فاعل سے بدل ہو کر بیضا، من غیر سوء فی تسع تینوں حال ہیں، الی محذوف سے متعلق تقدیرہ مرسلاً الی فرعون، مبصرۃ حال ہے، مبصرۃً بھی پڑھا ہے تب یہ مفعول لہ ہے ظلمًا و علوًا حال ہیں ضمیر جحدوا سے مفعول بھی ہوسکتے ہیں۔
تفسیر : اذقال موسیٰ الخ یہ حضرت موسیٰ (…
Read the full tafseer →وَاَلْقِ عَصَاکَ ط فَلَمَّا رَاٰھَا تَھْتَزُّکَاَنَّھَا جَآنٌّ وَّلّٰی مُدْبِرًا وَّلَمْ یُعَقِّبْ ط یٰـمُوْسٰی لاَ تَخَفقف اِنِّیْ لاَ یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ ۔ (النمل : 10)
(اے موسیٰ ! آپ اپنی لاٹھی پھینک دیجیے، تو حضرت موسیٰ نے اس لاٹھی کو دیکھا حرکت کرتے ہوئے گویا کہ وہ سانپ ہے تو آپ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پلٹ کر بھی نہیں دیکھا، (ارشاد ہوا) اے موسیٰ ! ڈرو نہیں، میرے حضور رسول ڈرا نہیں کرتے۔ )
پہلا معجزہ اور اس کی وضاحت
قرآن کریم میں دوسرے مواقع پر یہ بات واضح کی گئی ہے کہ پروردگار نے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف ہم کلامی بخشا اور آپ ( علیہ السلام) کو بتایا کہ ہم نے آپ ( علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
فہم القرآن
ربط کلام : پہلی وحی کے موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرنے کے ساتھ دو عظیم معجزات سے سرفراز کیا گیا۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول منتخب فرمالیا ہے تو انھیں حکم ہوا کہ اے موسیٰ ! اپنا عصا زمین پر پھینکئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو نہی عصا زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر اپنا پھن پھلاتے ہوئے لہرانے لگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اڈر کر اس سے دور بھاگے اور انھوں نے پلٹ کر دیکھنے کی ہمت نہ کی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) پیچھے کی طرف بھاگ رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ڈریے…
Read the full tafseer →10: وَاَلْقِ عَصَاکَ (اور تم اپنی لاٹھی پھینک دو ) ۔ تاکہ تمہیں اپنی نبوت کا معجزہ معلوم ہو اور تو اس سے مانوس ہوجائے۔ اس کا عطف بورک پر ہے۔ کیونکہ معنی اس طرح ہے۔ نودی ان بورک من فی النار و ان الق عصاک۔ یہ دونوں نودی کی تفسیر ہیں مطلب یہ ہے کہ ان کو کہا گیا برکت دی گئی اس کو جو آگ میں ہے اور ان کو کہا گیا۔ تم اپنی لاٹھی ڈال دو ۔ اس پر دلالت کے لئے سورة قصص کی یہ آیت وان الق عصاک القصص۔ 31۔ جو کہ ان یا موسٰی انی انا اللہ کے بعد حرف تفسیر کو دوبارہ لا کر ذکر کی گئی۔
فَلَمَّا رَ ٰاہَا تَہْتَزُّ (جب اس کو حرکت کرتے دیکھا) ۔ نحو : یہ رآہا کی ہا سے حال ہے۔ کَاَنَّہَا جَآنٌّ۔ (گویا وہ ہلکا پھلکا…
Read the full tafseer →10۔ والق عصاک ، ،، حرکت کرتے ہوئے ، کانھاجان، وہ چھوٹا سانپ جو جلدی سے ادھر ادھر بھاگتا ہے۔ ولی مدبرا، خوف سے پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ ولم یعقب، اور واپس مڑ کر بھی نہیں دیکھا جیسے کہاجاتا ہے ، عقب فلاں اذارجع، جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے اور واپس آجائے۔ قتادہ کا بیان ہے کہ واپس مڑکر بھی نہ دیکھے۔ اس کے بعداللہ نے ارشاد فرمایا، یاموسی لاتخف انی لایخاف لدی المرسلون، اس سے مراد جب امن کی حالت ہو جو امن والی ہوبل کہ رہاخوف جو ایمان کی شرط ہے وہ اس سے جدا نہیں ہوگا۔ نبی کریم نے ارشاد فرمایا، انااخشاکم اللہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
(6 تا 13) مشرکین مکہ قرآن کو انسان کا کلام کہتے تھے اس لیے فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے تو قرآن ایسے صاحب حکمت سے پایا ہے جو حکمت والا ہے اپنے حکموں میں اور خبردار ہے تمام امور میں اب آگے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ کس طور سے ان کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے انتخاب کرلیا اور ان سے باتیں کیں اور ان کو بڑی بڑی نشانیاں دیں اور بھیجا ان کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس تو ان لوگوں نے کفر اور تکبر کیا اور جو معجزات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو دکھائے ان کو کھلا ہوا جادو بتلایا صحیح بخاری ومسلم کے 1 ؎ (1 ؎ مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین فصل اول) حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
آیت 7 سے 14
یعنی موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتداء، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریقہ و فاضلہ کو یاد کیجئے۔۔۔ یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : (انی انست نارا) یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے : (ساتیکم منھا بخبر) میں وہاں سے تمہارے لئے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں (اواتکیم بشھاب قبس لعللکم تصطلون) ” یا سلگتا ہوا نگارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
9 حضرت موسیٰ کا اپنی لاٹھی سے بھاگنا اور اس میں درسہائے عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب موسیٰ نے اللہ کے حکم وارشاد پر اپنی لاٹھی کو زمین پر پھینک دیا اور دیکھا کہ وہ یکایک اس طرح بل کھا رہی ہے جیسے وہ کوئی سانپ ہو۔ تو اس سے موسیٰ مارے خوف کے اس طرح بھاگ کھڑے ہوئے کہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موسیٰ ڈرو مت کہ ہمارے یہاں رسول ڈرا نہیں کرتے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ نہ تو معجزہ نبی کے اختیار میں ہوتا ہے اور نہ ہی وہ عالم الغیب ہوتا ہے اور نہ ہی مختار کل۔ ورنہ حضرت موسیٰ اس موقعہ پر اپنے عصا کے اس انقلاب کی بناء پر اس طرح خوف نہ کھاتے۔ اور جب معجزہ نبی کے اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
قوم موسیٰ کا ذکرباعث عبرت
تشریح : نبوت ملنے کا انداز بھی عجیب ہے سیدنا محمد ﷺ کو غار حرا میں نبوت ملی اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں ملی کہ آگ لینے گئے تو نبوت مل گئی اور ساتھ ہی دو معجزے بھی۔ ویسے آپ کو نو معجزے عطا کیے گئے تھے۔ آپ کے بارے میں اور آپ کی قوم اور فرعون کے بارے میں تفصیلاً سورة طہٰ رکوع 1 میں گزر چکا ہے۔ سورة الاعراف میں بھی یہ واقعہ کوہ طور پر ہوا جو سطح سمندر سے تقریباً 5 ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہاں رومی سلطنت کے پہلے عیسائی بادشاہ قسطنطین نے یاد گار کے طور پر 365 ء کے قریب وہاں ایک کلیسہ بنوا دیا۔ فرعون کے عبرت ناک انجام کی یہ کہانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة نمل
رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 14 ۔ اسرار و معارف :
طس۔ یہ قرآن کی آیات ہیں جو ایک کھلی کتاب ہے یعنی جو حقائق کو واضح کرکے بیان کرتی ہے اور باعث ہدایت بھی ہے اور نوید کامرانی بھی ان لوگوں کے لیے جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے یقین کی دلیل یہ ہے کہ عملاً اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور عبادات کے ادا کرنے میں پوری کوشش کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی کردار میں بھی اور معیشت میں بھی اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور یہ سب کسی دنیاوی فادے یا لالچ میں نہیں کرتے بلکہ انہیں آخرت اور روز جزا پر یقین کامل ہے لہذا اس روز کی کامیابی کے خواہشمند ہیں۔ اور ایسے لوگ جو آخرت پر یقین نہیں کرتے ان کو سزا کے طور پر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
1 ۔ ” جان “ اصل میں چھوٹے سفید سانپ کو کہتے ہیں۔ سورة اعراف (آیت :107) اور سورة شعرا۔ (آیت :32) میں اس کے لئے ” ثعبان “ کا لفظ آیا ہے جس کے معنی بڑے سانپ (اژدہا) کے ہیں۔ معلوم ہوا کہ وہ سانپ اصل میں بڑا اژدہا رہا تھا لیکن اپنی حرکت کی تیزی میں چھوٹے سانپ جیسا تھا۔ بعض نے لکھا ہے کہ کبھی ” جان “ بن جاتا اور کبھی ” ثعبان “۔ اس لئے ان دو لفظوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں، ” اول شک سی بن گئی تھی پتلی جب فرعون کے آگے ڈالی تو ناگ ہوگئی بڑھ کر۔ (موضح) 2 ۔ یہ خوف طبعی بتضائے بشریت تھا۔ (قرطبی) 3 ۔ یعنی میرے حضور پہنچ کر انبیا ﷺ ، سانپ وغیرہ کسی چیز سے نہیں ڈرا کرتے کیونکہ یہاں…
Read the full tafseer →(27:10) الق۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو ڈال دے۔ القاء (افعال) مصدر۔
راھا۔ اس نے اس کو دیکھا یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا کو دیکھا ھاضمیر مفعول واحد مؤنث غائب عضا کی طرف راجع ہے
تھتز۔ مضارع واحد مؤنث غائب اھتزاز (افتعال) مصدر۔ وہ بل کھاتی ہے۔ وہ پھنپھناتی ہے۔ وہ ہلتی ہے۔ یہ حال ہے مفعول ھا سے پھر جب اس نے اس کو (عصا کو) بل کھاتے دیکھا ۔ وھزی الیک بجذع النخلۃ (19:25) اور تو ہلا کھجور کے تنے کو اپنی طرف
کانھا۔ یہ بھی یا ھا کا حال ہے یا ضمیر تھتز کا حال ہے جیسے کہ وہ۔ گویا وہ ہے ۔ کان حرف مشابہ بفعل ہے اس کا اسم منصوب اور خبر مرفوع ہوتی ہے جیسے کان زیدا اسد۔ یہ اکثر اور خاص کر قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 14 :
(اھل) گھروالے۔ اہل خانہ) ‘ انست ( میں نے دیکھا) شھاب (شعلہ) ‘ قبس (انگارہ) نودی (آوازدی گئی) ‘ تصطلون (تم سینکو۔ گرمائی حاصل کرو) ‘ بورک (برکت دی گئی) ‘ حول ( اردگرد۔ آس پاس) ‘ تھتز (لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ۔ اژدھا) ‘ مدبرا (پیٹھ پھیرنے والا) ‘ لم یعقب (مڑکرنہ دیکھا) ‘ مبصرۃ (آنکھیں کھولنے والی) ‘ استیقنت ( یقین کرلیا) ‘ علو (بڑائی۔ تکبر) عاقبۃ (انجام۔ نتیجہ) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 7 تا 14 :
ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو اس سورت کے مضامین کے لحاظ سے دوبارہ ارشاد فرمایا گیا ہے جب وہ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس دس سال گذارنے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
(ف 1) حضرت موسیٰ کو غیب سے آواز آئی کہ اے موسیٰ اللہ کی ذات سب عیبوں سے پاک ہے اور میں ہی اللہ عزت والاحکمت والا ہوں ، اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قدرت اور حکمت الٰہی دکھانے کے لیے یہ ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ تم اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دو وہ لکڑی زمین پر ڈالتے ہی ایک سانپ بن گیا پہلے پہل لکڑی کو سانپ بنتے دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے اور پیٹھے پھیر کر چلے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا فرمایا اے موسیٰ ڈرو مت اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنا رسول مقرر کیا ہے فرمایا میں ایسا ہوں کہ میرے حضور میں رسول ڈرا نہیں کرتے پھر فرمایا کہ بدی کے بعد اس کے عوض میں نیکی کی یعنی گناہ کرکے توبہ کی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
[3] اس قصے کی تفصیلات سورة طہٰ آیت 9 صفحہ 718 میں گزر چکی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
حضرت موسیٰ اور فرعون
2: حضرت موسیٰ جب حضرت شعیب سے جدا ہوئے تو انہوں نے جنگل میں اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھی تجلی کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے ۔ مختصراً یوں سمجھ لیجئے کہ تجلی کے معنی ایک نوع کے اظہار کے ہیں شئے تجلی وہ ہوتی ہے جس کو وہ نوربحث اپنے اظہار کا ایک عنوان ٹھہرادے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو مخاطب کیا اور فرمایا ۔ دیکھو میں تمہارا خدا ہوں اور اس کے بعد ان کو یہ بتایا کہ تمہارے عصا ہولناک سانپ بن سکتا ہے اور تمہارا ہاتھ سفید وبراق ہوجائے گا ۔ غرضیکہ اسی طرح کے نو خوارق ان کو دیئے گئے اور کہا گیا کہ اب فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔ وہ بہت ظالم ہوگیا ہے اور اس کی سرکشیاں حد سے بڑھ چکی…
Read the full tafseer →(10) اور تو اپنی لاٹھی کو ڈال دے پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) نے لاٹھی کو اس طرح حرکت کرتے دیکھا کہ وہ ایک پتلا تیزرفتار سانپ ہے تو موسیٰ (علیہ السلام) پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے پلٹ کر بھی نہ دیکھا ارشاد ہوا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ڈر نہیں میری حضور میں پہونچکر پیغمبر ڈرا نہیں کرتے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کی تفصیل پہلے گذرچ کی ہے۔
جان کہتے ہیں پتلے سانپ کو سورة طہ میں حیۃ فرمایا اژدہا یا موٹا سانپ تو دوڑ میں چونکہ پتلے سانپ کی طرح دوڑتا تھا اس لئے جان فرمایا ورنہ اژدہا تھا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اول سٹک سی بن گئی تھی پتلی جب فرعون کے آگے ڈالی تو ناگ ہوگئی بڑھ کر 12 بہرحال…
Read the full tafseer →ف 2۔ مراد اس صورت خبر سے معنی انشاء ہے، یعنی ڈرنا نہ چاہئے۔
Read the full tafseer →آواز آئی موسیٰ عصا پھینک دے لیکن پھنکا گیا عصا حرکت میں دیکھ کر موسیٰ خوف کھاگئے :
10۔ مقام غور وفکر ہے کہ اب وہ موسیٰ نہیں بلکہ اب تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ایک پیغمبر اور جلیل القدر نبی ورسول ہیں اللہ رب العزت نے ان کو انبیاء کے سچے دین کی تلقین اور فرعون کی غلامی سے بنی اسرائیل کی رہائی کی اہم خدمات کے لئے چن لیا ہے وہ اب وادی مقدس میں حق تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف حاصل کر رہے ہیں وہ موسیٰ جو مدین کی راہ سے بھٹکے ہوئے تھے آج مصر جیسے متمدن ومہذب ملک اور اس کے سرکش ومغرور بادشاہ کی رہنمائی کرنے کے لئے منتخب کئے گئے ہیں اور جو کل تک اونٹوں اور بکریوں کی گلہ بانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
فَلَمَّا جَاءَهَا نُودِيَ أَن بُورِكَ مَن فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿8﴾ يَا مُوسَىٰ إِنَّهُ أَنَا اللَّـهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿9﴾
So when he came to it, he was called: "Blessed is the one who is in the fire and the one who is around it And pure is Allah, the Lord of the worlds. 0 Musa, the fact is that I AM Allah, the Mighty, the Wise. (27:8 - 9)
The real nature of seeing the fire and hearing the voice from it
This incident of Sayyidna Musa (علیہ السلام) has appeared in the Qur'an at many places under different chapters. Two sentences in the…
Read the full tafseer →12 In Surahs Al-A`raf and Ash-Shu`araa', the snake has been called thu`ban (a large serpent) but here jaann, a small snake. The reason is that in physical size it was a serpent but in movement it was swift like a small snake. The same thing has been expressed by hayyatun tas `a (a running snake) in Ta Ha: 20.
13 That is, "In My Presence there is no danger of any harm to the Messenger. When I call someone into My Presence to appoint him to the high office of Prophethood, I Myself become responsible for his safety. Therefore, the Messenger should remain fearless and confident in every kind of…
Read the full tafseer →