Explained with ayahs 7–14
آگ لینے گئے رسالت مل گئی
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو موسیٰ ؑ کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ ؑ اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آگئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔ تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم…
Read the full tafseer →سورة النمل 14
یہ استثناء متصل بھی ہوسکتا ہے اور منقطع بھی، متصل ہونے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ خوف کی معقول وجہ اگر ہوسکتی ہے تو یہ کہ رسول سے کوئی قصور سرزد ہوا ہو، اور منقطع ہونے کی صورت میں مراد یہ ہوگی کہ میرے حضور تو کسی کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہے جب تک کہ آدمی قصور وار نہ ہو۔
سورة النمل 15
یعنی قصور کرنے والا بھی اگر توبہ کر کے اپنے رویے کی اصلاح کرلے اور برے عمل کے بجائے نیک عمل کرنے لگے تو میرے ہاں اس کے لیے عفو و درگزر کا دروازہ کھلا ہے، اس موقع پر یہ بات ارشاد فرمانے سے مقصود ایک تنبیہ بھی تھی اور بشارت بھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نادانستگی میں ایک قبطی کو قتل کر کے مصر سے نکلے تھے، یہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْـنًۢا بَعْدَ سُوْۗءٍ فَاِنِّىْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ، اس سے پہلی آیت میں موسیٰ ؑ کے معجزہ عصا کا ذکر ہے جس میں یہ بھی مذکور ہے کہ عصا جب سانپ بن گیا تو موسیٰ خود بھی اس سے ڈر کر بھاگنے لگے۔ آگے بھی موسیٰ ؑ کے دوسرے معجزہ ید بیضا کا بیان ہے درمیان میں اس استثناء کا ذکر کس لئے کیا گیا اور یہ استثناء منقطع ہے یا متصل اس میں حضرات مفسرین کے اقوال مختلف ہیں بعض حضرات نے استثناء کو منقطع قرار دیا ہے تو مضمون آیت کا یہ ہوگا کہ پہلی آیت میں انبیاء (علیہم السلام) پر خوف نہ ہونے کا ذکر تھا بسبیل تذکرہ ان لوگوں کا بھی ذکر کردیا جن پر خوف طاری ہونا چاہئے یعنی وہ لوگ جن…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ کے ایک اندیشہ کا ازالہ
اللہ تعالیٰ کے نیک اور سلیم الفطرت بندوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب ان کو کوئی اندیشے کی حالت پیش آتی ہے تو فوراً ان کا ذہن اپنی کسی غلطی کی طرف جاتا ہے کہ مبادایہ اسی کا خمیازہ ہو۔ ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ کا ذہن اس موقع پر قبطی کے قتل کے واقعہ کی طرف منتقل ہوا ہو۔ اگرچہ اس کے بعد حضرت موسیٰ کا ازالہ نے توبہ کرلی تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول بھی فرمالی تھی لیکن حضرات انبیاء اور صالحین اپنا محاسبہ کرنے میں بڑے محتاط ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے لایخاف لدی المرسلون کے وعدہ بشارت کو موکد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو یہ اطمینان بھی دلادیا کہ میرے کسی…
Read the full tafseer →11-1یعنی ظالم کو تو خوف ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کی گرفت نہ فرما لے
11-2یعنی ظالم کی توبہ بھی قبول کرلیتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
4: یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور پیغمبروں کو کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہوتا، البتہ کسی سے کوئی قصور ہوگیا ہو، تو اسے یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس پر ناراض نہ ہوں، لیکن جب ایسا کوئی شخص توبہ اور استغفار کے بعد اپنے حالات کی اصلاح کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →الا من ……رحیم (11)
ہمارے ہاں تو وہ لوگ ڈرتے ہیں جو ظالم ہیں الا یہ کہ ظلم کے بعد وہ نیک ہوجائیں تو بھی معاف ہوجاتے ہیں کیونکہ انہوں نے ظلم ترک کر کے عدل اپنا لای ہے۔ شرک کو چھوڑ کر توحید کا عقیدہ اپنا لیا ہوتا ہے۔ شر کو چھوڑ کر خیر کی راہ لے لی ہے۔ میری رحمت وسیع ہے اور میری مغفرت بہت بڑی ہے۔
اب حضرت مسویٰ کو اطمینان اور قرار نصیب ہوگیا۔ اب اللہ آپ کو دوسرا معجزہ عطا فرماتا ہے لیکن ابھی تک ان کو رسالت کی مہم نہیں بتائی گئی کہ جانا کہاں ہے۔
Read the full tafseer →5 یہ استثناء منقطع ہے یعنی خدا کے حضور میں پہنچ کر خوف و اندیشہ صرف اس کو ہونا چاہیے جو کوئی زیادتی یا خطاء و تقصیر کر کے آیا ہو۔ اس کے متعلق بھی ہمارے ہاں یہ قاعدہ ہے کہ برائی کیے بعد اگر دل سے توبہ کر کے اپنی روش درست کرلی اور نیکیاں کر کے برائی کا اثر مٹا دیا تو حق تعالیٰ اپنی رحمت سے معاف فرمانے والا ہے حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " موسیٰ (علیہ السلام) سے چوک کر ایک کافر کا خون ہوگیا تھا اس کا ڈر تھا ان کے دل میں، ان کو وہ معاف کردیا۔ "
Read the full tafseer →آیت 11 اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ”
اس استثناء کو بعض مفسرین نے متصل مانا ہے اور بعض نے منقطع۔ متصل ہونے کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جس رسول سے کوئی قصور سرزد ہوا ہو اس پر خوف طاری ہوسکتا ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اس وقت خوف کا طاری ہوجانا اس خطا کے سبب تھا جو قتل اگرچہ وہ قتل عمد نہیں تھا ‘ قتل خطا تھا کی صورت میں ان سے سرزد ہوئی تھی۔ لیکن اس کے برعکس کچھ مفسرین کے نزدیک یہ استثناء منقطع ہے ‘ یعنی یہ الگ جملہ ہے اور اس کا پچھلے جملے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
Read the full tafseer →11 ہاں میرے حضور ڈرنے کی صرف ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے کہ کسی شخص نے فی الواقعہ ظلم کیا ہو۔ اور ظالموں کو واقعی ڈرناہی چاہئے لیکن جو شخص ظلم کے بعد توبہ کرلے برے کاموں کے بعد نیکی کی راہ اختیار کرلے اور اپنا طرز عمل ہی بدل لے تو میں اسے معاف کردیتا ہوں۔ غالباً اس آیت میں حضرت موسیٰ کے اس دور کے ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ جب آپ سے ایک قبطی نادانستہ طور پر مارا گیا تھا۔ پھر آپ وہاں سے مفرور ہو کر مدین میں حضرت شعیب کے پاس آگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فانی غفور رحیم کہہ کر اس قصور کی معافی کی بھی بشارت سنا دی۔
Read the full tafseer →13۔ تو عام قاعدہ غفر و رحمت جب حقیقۃ عاصیوں اور خاطؤں کے حق میں ہے، تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو حقیقۃ عاصی وخاطی تھے بھی نہیں، قتل قبطی میں ان کا ” ظلم “ محض صورۃ تھا نہ کہ معنی وحقیقۃ “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : طس اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب مبین کی یعنی حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی، زیادتی صفت کے ساتھ (القرآن) پر عطف ہے، وہ ہدایت ہے یعنی گمراہی سے ہدایت کرنے والی ہے اور مومنین یعنی اس کی تصدیق کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری ہے، وہ (مومن) جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کے طریقہ کے مطابق ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں (یعنی) دلیل کے ساتھ اس پر یقین رکھتے ہیں، اور (ھم) مبتداء اور اس کی خبر (یوقنون) کے درمیان (بالآخرۃ) کے فصل کی وجہ سے ھم کا اعادہ کیا گیا ہے جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے…
Read the full tafseer →الا من ظلم ثم بدل حسنا بعد سوء فانی غفور رحیم . مگر ہاں جس سے کوئی قصور سرزد ہوجائے
پھر برائی ہوجانے کے بعد اس کے بجائے نیک کام کرلے تو میں بہت بخشنے والا مہربان ہوں۔
اِلاَّ بہرحال استثنائیہ ہے لیکن استثناء متصل ہے (یعنی پیغمبر بھی کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ ان سے بیجا حرکات کا صدور ہوجاتا ہے پھر وہ توبہ کرلیتے ہیں اور بجائے گناہ کے نیک اعطام کرتے ہیں) یا منفصل ہے کہ مستثنیٰ منہ مُرْسَلُوْنَ نہیں ہے بلکہ الاَّ استثنائیہ ہے لیکن کے معنی میں ہے) کچھ علماء استثناء کو متصل کہتے ہیں اس میں قبطی کو قتل کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ اللہ اپنے کسی نبی کے دل میں کسی کا خوف نہیں آنے دیتا مگر اس…
Read the full tafseer →(11) ہاں مگر جس سے کوئی خطا ہوجائے اور پھر وہ اس خطا سے توبہ کرے تو اس کو بھی ڈرنا نہیں چاہیے کیونکہ میں تائب کی مغفرت کرنے والا اور جو توبہ کی حالت میں مرے اس پر رحم کرنے والا ہوں۔
Read the full tafseer →اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْـنًۢا۔۔ : یعنی میرے حضور ڈرنے کی صرف ایک وجہ ہوسکتی ہے کہ کسی شخص نے فی الواقع ظلم کیا ہو، اور ظالموں کو ڈرنا ہی چاہیے، لیکن جو شخص ظلم کے بعد توبہ کرلے، برے کاموں کے بعد نیکی کی راہ اختیار کرلے اور اپنا طرز عمل بدل لے تو میں اسے معاف کردیتا ہوں۔ اس کے بعد ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ غالباً اس میں موسیٰ ؑ کے غلطی سے قبطی کو قتل کرنے کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے، جسے انھوں نے خود ظلم کہا تھا : (رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ) [ القصص : 16 ] ”اے میرے رب ! یقیناً میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا، سو مجھے بخش دے۔“ اور اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا تھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
( اذ قال موسیٰ لا۔۔۔۔۔۔ )
اذا قال موسیٰ لا ھلہ اذ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے اور و فعل اذکر ہے گویا اسے اس ارشاد : وانک لتقی القرآن من لدن حکیم علیم۔ فرمایا : مراد ہے اے محمد ! ﷺ اس کی حکمت اور اس کے علم کے آثار میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ لیجئے جب انہوں نے اپنی بیوی سے کہا : انی انست نارا یعنی میں نے دور سے اسے دیکھا ہے۔ حرث بن حلذہ نے کہا :
آنست نباۃ وافزعھا القناص عصرا وقدونا الامساء
اس نے خفی آواز محسوس کی، عمر کے وقت شکاریوں نے اسے خوفزدہ کیا جب کہ شام قریب آچکی تھی۔
ساتیکم منھا بخبر اوتیکم بشھاب قبس لعلکم تصطلون عاصم، حمزہ اور کسائی نے بشھاب قمس قرأت کی ہے (1)
1 ؎۔ المحرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریرج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فلما راٰ ہا تہتز کانہا جان “ یعنی جب وہ سانپ کی شکل میں بدل گیا اور دوڑنے لگا۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولم یعقب کہ وہ واپس نہیں مڑا آیت ” الا من ظلم ثم بدل حسنا بعد سوء “ یعنی پھر اس نے توبہ کی اپنے عمل کے بعد اور اپنے گناہ کے بعد۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولی مدبرا “ سے مراد ہے بھاگنے والا آیت ” ولم یعقب “ یعنی وہ متوجہ نہ ہوا۔ آیت ” انی لایخاف لدی “ یعنی میرے پاس (پیغمبر…
Read the full tafseer →اِلَّا [ مگر ] مَنْ [ جس نے ] ظَلَمَ [ ظلم کیا ] ثُمَّ [ پھر ] بَدَّلَ [ بدلہ میں کی ] حُسْـنًۢا [ نیکی ] بَعْدَ سُوْۗءٍ [ برائی کے بعد ] فَاِنِّىْ [ تو بیشک میں ] غَفُوْرٌ [ بےانتہا بخشنے والا ہوں ] رَّحِيْمٌ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہوں ]
نوٹ۔ 2: آیت ۔ 11 ۔ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ پچھلی آیت میں انبیاء (علیہ السلام) پر خوف نہ ہونے کا ذکر تھا، پھر بسبیل تذکرہ ان لوگوں کا بھی ذکر کردیا جن پر خوف طاری ہونا چاہیے، یعنی وہ لوگ جن سے کوئی خطا سرزد ہوئی پھر توبہ کرکے نیک عمل اختیار کرلئے۔ ایسے حضرات کی اگرچہ اللہ تعالیٰ خطا معاف کردیتے ہیں مگر معانی کے بعد گناہ کے بعض آثار باقی رہنے کا…
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (اِِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوْٓءٍ فَاِِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) یہ استثناء منقطع ہے اور مطلب یہ ہے کہ حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کے علاوہ جو لوگ کوئی گناہ کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرلیں پھر اس کے بعد اس برائی کو نیکی سے بدل لیں یعنی اس کے بعد توبہ کرلیں تو ان کی توبہ قبول ہوگی۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
چونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کے پاس بھیجنا تھا اور وہ بڑا سر کش تھا اس لیے معجزات کی ضرورت تھی دو بڑے معجزات تو وہی ہیں جو جو وادی مقدس میں دے دئیے گئے جہاں آگ لینے کے لیے گئے تھے اور باقی معجزات کا وقتاً فوقتاً ظہور ہوتا رہا یہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
قصہء اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ اذ قال موسیٰ لاملہ انی انست نارا۔۔۔ الی۔۔۔ عاقبۃ المفسدین۔
(ربط) اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو بیان فرمایا پھر اس کی تائید کے لئے پانچ قصے بیان فرمائے۔ (1) قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون۔ (2) قصہء داؤد (علیہ السلام) مشتمل بر قصہء نمل چیونٹی جس کو باوجود ایک حقیر جانور ہونے کے اللہ اور اس کے رسول کی معرفت حاصل تھی اور خدا کے رسول کی عصمت اور نزاہت کا یقین کامل تھا کہ وہ دیدہ و دانستہ کسی کے لئے باعث ایذا نہیں بن سکتے۔
(3) قصہء بلقیس بزبان ہد ہد جو سلیمان (علیہ السلام) کے متعدد معجزات پر مشتمل ہے۔ (4) قصہء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
10:۔ وہ چھوٹا سانپ جو تیزی سے حرکت کرے۔ دوسری جگہ اس سانپ کو “ ثعبان ” (اژدہا) سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہاں اسے بہت بڑا اژدھا بن گیا لیکن حرکت کی تیزی میں چھوٹے سانپ کی مانند تھا۔ شبھھا سبحانہ فی شدۃ حرکتہا واضطرابھا مع عظم جث تھا بصغار الحیات السریعۃ الحرکۃ الخ (روح ج 19 ص 163) ۔
11:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اژدہا کو دیکھا تو پیٹھ پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا تو ارشاد ہوا اے موسیٰ ! مت ڈرو، کیونکہ میرے قرب میں پیغمبر کسی چیز سے نہیں ڈرا کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو باین جلالت شان یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ سانپ ان کو ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ اس سے واضح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ربط آیات
سورۃ ہذا کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا کہ یہ خدائے حکیم وعلیم کی طرف سے پیغمبر پر نازل کیا گیا ہے اور یہ اہل ایمان کے لیے ہدایت اور خوش خبری ہے ، پھر ایمان والوں کی بعض صفات بھی بیان کیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں ، پھر منکرین آخرت کی سزا کا ذکر بھی بنوا کہ اس دنیا میں ان کے اعمال کو مزین کر کے دکھایا جاتا ہے اور یہ لوگ آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والے ہوں گے ۔ اس کے بعد آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے ایک گوشے کو بےنقاب کیا ہے ۔ اس واقعہ میں پیغمبر آخرالزمان کے لیے…
Read the full tafseer →اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْـنًۢا بَعْدَ سُوْۗءٍ فَاِنِّىْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 11
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13]
والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس،
وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ترکیب : اذ کا عامل اذکر محذوف اور میم سے بھی متعلق ہوسکتا ہے نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ یا تو ضمیر ہے جو موسیٰ کی طرف راجع ہے یا ان بورک علی الاول ان بمعنی ای تفسیر کے لیے من مرفوع ہے، بورک سے انہ ضمیر شان انا مبتدا اللہ خبر تھتز حال ہے راھا مفعول سے کانھا حال ہی ضمیر تہتز ہے، الامن ظلم استثناء منقطع موضع نصب میں اور ممکن ہو کہ محل رفع میں ہو فاعل سے بدل ہو کر بیضا، من غیر سوء فی تسع تینوں حال ہیں، الی محذوف سے متعلق تقدیرہ مرسلاً الی فرعون، مبصرۃ حال ہے، مبصرۃً بھی پڑھا ہے تب یہ مفعول لہ ہے ظلمًا و علوًا حال ہیں ضمیر جحدوا سے مفعول بھی ہوسکتے ہیں۔
تفسیر : اذقال موسیٰ الخ یہ حضرت موسیٰ (…
Read the full tafseer →اِلاَّ مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا م بَعْدَ سُؤٓئٍ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (النمل : 11)
(مگر وہ شخص جس نے کوئی زیادتی کی ہو، پھر اس نے برائی کے بعد اس کو بھلائی سے بدل دیا، تو میں معاف کرنے والا مہربان ہوں۔ )
عام اصول اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بشارت
میری بارگاہ پناہ اور عافیت کی جگہ ہے، ڈرنے کی جگہ نہیں۔ ہاں اگر کوئی شخص برائی کا ارتکاب کرتا ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے یا کوئی زیادتی کرتا ہے یعنی کسی کا حق چھینتا ہے یا کسی پر زیادتی کرتا ہے تو اس کے لیے یقینا اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کسی اور سے ڈرنے کا کوئی موقع نہیں۔ وہی ایک ذات ہے جو اگر غفورورحیم ہے تو اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
فہم القرآن
ربط کلام : پہلی وحی کے موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرنے کے ساتھ دو عظیم معجزات سے سرفراز کیا گیا۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول منتخب فرمالیا ہے تو انھیں حکم ہوا کہ اے موسیٰ ! اپنا عصا زمین پر پھینکئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو نہی عصا زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر اپنا پھن پھلاتے ہوئے لہرانے لگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اڈر کر اس سے دور بھاگے اور انھوں نے پلٹ کر دیکھنے کی ہمت نہ کی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) پیچھے کی طرف بھاگ رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ڈریے…
Read the full tafseer →11: اِلاَّ مَنْ ظَلَمَ (مگر وہ جس سے قصور ہوا) لیکن جس نے قصور کیا دوسروں میں سے۔ کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) ظلم نہیں کرتے۔ نمبر 2۔ لیکن جس نے قصور کیا ان میں سے۔ مرسلین میں سے جس سے لغزش ہوگئی۔ جو اس کے مرتبہ عالی کے مناسب نہ تھی۔ اگرچہ وہ فی نفسہٖ درست ہو۔ جیسا کہ آدم (علیہ السلام) سے جلد بازی اور یونس ٗ سلیمان ٗ دائود (علیہم السلام) سے جلدی ہوئی۔ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا (پھر اس نے اس کو اچھائی سے بدل لیا) یعنی توبہ کرلی۔ بَعْدَ سُوْئٍ (لغزش کے بعد) ۔ فَاِنِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (پس بیشک میں بخشنے والا مہربان ہوں) ۔ اس کی توبہ کو قبول کرتا اور لغزش کو بخش دیتا اور اس پر رحم کرتا ہوں اور اس…
Read the full tafseer →تفسیر۔
الامن ظلم کے استثناء میں ائمہ کرام کی آرائ۔
تفسیر۔ 11۔ الامن ظلم ثم بدل، ،، ، اس استثناء میں آئمہ کرام کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض نے کہا یہ حضرت (علیہ السلام) کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب ان سے قبطی قتل ہوگیا، اس سے وہ خوف زدہ ہوگئے۔ اور فورا توبہ کرلی اور فرمایا رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی، اللہ نے ان کو معاف کردیا۔
ابن جریج کا قول ہے کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو کہا کہ میں نے تجھے ایک نفس کے قتل کرنے کے بعد تجھے بچایا۔ اب اس آیت کا معنی یہ ہے کہ انبیاء کرام گناہ پہنچ جانے سے یا گناہ سرزد ہوجانے سے اللہ سے ڈرتے ہیں۔ اگر ان سے کوئی لغزش ہو بھی جائے تو وہ توبہ کرلیتے ہیں۔ اس تاویل کی صورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
(6 تا 13) مشرکین مکہ قرآن کو انسان کا کلام کہتے تھے اس لیے فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے تو قرآن ایسے صاحب حکمت سے پایا ہے جو حکمت والا ہے اپنے حکموں میں اور خبردار ہے تمام امور میں اب آگے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ کس طور سے ان کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے انتخاب کرلیا اور ان سے باتیں کیں اور ان کو بڑی بڑی نشانیاں دیں اور بھیجا ان کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس تو ان لوگوں نے کفر اور تکبر کیا اور جو معجزات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو دکھائے ان کو کھلا ہوا جادو بتلایا صحیح بخاری ومسلم کے 1 ؎ (1 ؎ مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین فصل اول) حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
آیت 7 سے 14
یعنی موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتداء، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریقہ و فاضلہ کو یاد کیجئے۔۔۔ یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : (انی انست نارا) یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے : (ساتیکم منھا بخبر) میں وہاں سے تمہارے لئے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں (اواتکیم بشھاب قبس لعللکم تصطلون) ” یا سلگتا ہوا نگارا…
Read the full tafseer →10 توبہ سے خطاؤں کی بخشش کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس نے ظلم کیا لیکن اس کے بعد اس نے برائی کو اچھائی سے بدل دیاتو یقینا میں بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہوں "۔ سو جب ہمارا قانون عام یہ ہے تو پھر آپ کے کیا کہنے کہ آپ کا تو قصہ ہی اور ہے۔ پھر خوف کا ہے کا ؟ اللہ تعالیٰ کے نیک اور سلیم الفطرت بندوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب ان کو کسی اندیشے کی کوئی صورت پیش آتی ہے تو ان کا ذہن فوراً اپنی کسی غلطی اور خطاء کی طرف جاتا ہے کہ کہیں یہ اسی غلطی اور خطا کا نتیجہ اور خمیازہ نہ ہو۔ اس لیے ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ کا ذہن اس موقعہ پر قبطی کے قتل کے اس واقعے کی طرف منتقل ہوا ہو جو شروع میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
قوم موسیٰ کا ذکرباعث عبرت
تشریح : نبوت ملنے کا انداز بھی عجیب ہے سیدنا محمد ﷺ کو غار حرا میں نبوت ملی اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں ملی کہ آگ لینے گئے تو نبوت مل گئی اور ساتھ ہی دو معجزے بھی۔ ویسے آپ کو نو معجزے عطا کیے گئے تھے۔ آپ کے بارے میں اور آپ کی قوم اور فرعون کے بارے میں تفصیلاً سورة طہٰ رکوع 1 میں گزر چکا ہے۔ سورة الاعراف میں بھی یہ واقعہ کوہ طور پر ہوا جو سطح سمندر سے تقریباً 5 ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہاں رومی سلطنت کے پہلے عیسائی بادشاہ قسطنطین نے یاد گار کے طور پر 365 ء کے قریب وہاں ایک کلیسہ بنوا دیا۔ فرعون کے عبرت ناک انجام کی یہ کہانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة نمل
رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 14 ۔ اسرار و معارف :
طس۔ یہ قرآن کی آیات ہیں جو ایک کھلی کتاب ہے یعنی جو حقائق کو واضح کرکے بیان کرتی ہے اور باعث ہدایت بھی ہے اور نوید کامرانی بھی ان لوگوں کے لیے جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے یقین کی دلیل یہ ہے کہ عملاً اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور عبادات کے ادا کرنے میں پوری کوشش کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی کردار میں بھی اور معیشت میں بھی اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور یہ سب کسی دنیاوی فادے یا لالچ میں نہیں کرتے بلکہ انہیں آخرت اور روز جزا پر یقین کامل ہے لہذا اس روز کی کامیابی کے خواہشمند ہیں۔ اور ایسے لوگ جو آخرت پر یقین نہیں کرتے ان کو سزا کے طور پر ان…
Read the full tafseer →4 ۔ یہ استثنا منقطع ہے اور لفظ ” الا “ بمعنی لئکن یعنی برائے استدراک ہے اور اگر مستثنیٰ متصل مذکور سے مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ” ہاں ! اس پیغمبر کو ڈر ہوسکتا ہے جس سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا ہو۔ مگر ہمارا قاعدہ ہے کہ جب کوئی توبہ کر کے اپنے رویہ کی اصلاح کرلیتا ہے تو ہم اسے معاف کردیتے ہیں اس کے بعد ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ (شوکانی) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں :” مسیٰ (علیہ السلام) سے چوک کر ایک کافر کا خون ہوگیا تھا اس کا ڈر تھا ان کے دل میں، ان کو وہ معاف کردیا۔ (موضح) انبیا اپنے علو مرتبت کے پیش نظر معمولی سی لغزش یا خطا کو بھی ظلم خیال کرتے تھے۔ ان کو ایسی غلطی معاف کردی جاتی ہے مگر پھر بھی وہ…
Read the full tafseer →(27:11) الا۔ یہاں استثناء منقطع ہے کیونکہ یہاں مستثنے منہ سے نہیں ہے یہاں الا بمعنی لیکن ہے یعنی میرے رسول میرے حضور ڈرا نہیں کرتے۔ لیکن ان کو چھوڑ کر جو بھی ظلم کرے گا اسے ڈر ہے من تاب وبدل حسنا بعد سوء فانی غفور رحیم۔ اور وہ ظلم کرنے والا بھی اگر توبہ کرلے اور برائی کرنے کے بعد نیکی کرنے لگے (تو اسے بھی کوئی ڈر نہیں) کیونکہ میں غفور اور رحیم ہوں۔
یا یہاں الا بمعنی ولا ہے۔ ای لا یخاف لدی المرسلون ولا من ظلم ثم بدل حسنا بعد سوء فانی غفور رحیم۔ (میرے) رسول میرے حضور ڈرا نہیں کرتے اور نہ (اسے کوئی ڈر ہے) جس نے ظلم کیا۔ لیکن اس کے بعد بدی کو نیکی سے بدل دیا تو بیشک میں غفور رحیم ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 14 :
(اھل) گھروالے۔ اہل خانہ) ‘ انست ( میں نے دیکھا) شھاب (شعلہ) ‘ قبس (انگارہ) نودی (آوازدی گئی) ‘ تصطلون (تم سینکو۔ گرمائی حاصل کرو) ‘ بورک (برکت دی گئی) ‘ حول ( اردگرد۔ آس پاس) ‘ تھتز (لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ۔ اژدھا) ‘ مدبرا (پیٹھ پھیرنے والا) ‘ لم یعقب (مڑکرنہ دیکھا) ‘ مبصرۃ (آنکھیں کھولنے والی) ‘ استیقنت ( یقین کرلیا) ‘ علو (بڑائی۔ تکبر) عاقبۃ (انجام۔ نتیجہ) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 7 تا 14 :
ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو اس سورت کے مضامین کے لحاظ سے دوبارہ ارشاد فرمایا گیا ہے جب وہ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس دس سال گذارنے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
(ف 1) حضرت موسیٰ کو غیب سے آواز آئی کہ اے موسیٰ اللہ کی ذات سب عیبوں سے پاک ہے اور میں ہی اللہ عزت والاحکمت والا ہوں ، اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قدرت اور حکمت الٰہی دکھانے کے لیے یہ ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ تم اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دو وہ لکڑی زمین پر ڈالتے ہی ایک سانپ بن گیا پہلے پہل لکڑی کو سانپ بنتے دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے اور پیٹھے پھیر کر چلے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا فرمایا اے موسیٰ ڈرو مت اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنا رسول مقرر کیا ہے فرمایا میں ایسا ہوں کہ میرے حضور میں رسول ڈرا نہیں کرتے پھر فرمایا کہ بدی کے بعد اس کے عوض میں نیکی کی یعنی گناہ کرکے توبہ کی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
[3] اس قصے کی تفصیلات سورة طہٰ آیت 9 صفحہ 718 میں گزر چکی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
حضرت موسیٰ اور فرعون
2: حضرت موسیٰ جب حضرت شعیب سے جدا ہوئے تو انہوں نے جنگل میں اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھی تجلی کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے ۔ مختصراً یوں سمجھ لیجئے کہ تجلی کے معنی ایک نوع کے اظہار کے ہیں شئے تجلی وہ ہوتی ہے جس کو وہ نوربحث اپنے اظہار کا ایک عنوان ٹھہرادے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو مخاطب کیا اور فرمایا ۔ دیکھو میں تمہارا خدا ہوں اور اس کے بعد ان کو یہ بتایا کہ تمہارے عصا ہولناک سانپ بن سکتا ہے اور تمہارا ہاتھ سفید وبراق ہوجائے گا ۔ غرضیکہ اسی طرح کے نو خوارق ان کو دیئے گئے اور کہا گیا کہ اب فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔ وہ بہت ظالم ہوگیا ہے اور اس کی سرکشیاں حد سے بڑھ چکی…
Read the full tafseer →(11) مگر ہاں جس سے کوئی کوتاہی ہوجائے پھر وہ برائی کے بعد بھلائی سے اس کی تلافی کردے تو میں بڑی مغفرت کرنے والا نہایت مہربان ہوں برائی کے بعد بھلائی یعنی توبہ کرلے یہ اس لئے فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت ملنے پر قبطی کے قتل کا واقعہ یاد آجانے سے وحشت نہ ہو اس لئے اطمینان دلایا کہ وہ مغفرت کی درخواست کرنے پر معاف کردیا گیا اس کو یاد کرکے پریشان نہ ہونا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) سے چوک کر ایک کافر کا خون ہوگیا تھا اس کا ڈر تھا ان کے دل میں ان کو معاف کردیا 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 3۔ یعنی جس سے کوئی لغزش سرزد ہوجاوے اور وہ اس لغزش کو یاد کر کے ڈرے تو مضائقہ نہیں۔
4۔ یہ اس لئے فرما دیا کہ اس انقلاب عصا سے مطمئن ہوجانے کے بعد کبھی اپنا قصہ قتل قبطی کا یاد کر کے پریشان نہ ہوں اس لئے اس سے بھی مطمئن فرمادیا تاکہ توحش جاتا رہے۔
Read the full tafseer →ہاں ! جس سے قصور ہوجائے اور وہ نیکی سے برائی کو بدل دے تو اللہ غفور ورحیم ہے :
11۔ یہ راز ونیاز اللہ اور اس کے رسول حضرت موسیٰ کے درمیان تھا ۔ حضرت موسیٰ نے آواز سنی اور نبوت و رسالت کے ڈالے جانے والے بار کو محسوس کیا اور خیالات کی دنیا نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ۔ آج دنیا بہت ترقی کرچکی ہے لیکن اس کے باوجود حال اور مستقبل کے چکر میں ہے اور باوجود ساری چالاکیوں کے ماضی اس کے قبضہ میں نہیں آیا حالانکہ فطرت انسانی یہ ہے کہ وہ حال ومستقبل کی بنسبت ماضی کی طرف زیادہ سفر کرتی ہے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا خیال بھی ماضی ومستقبل کا کوئی چکر نہیں بلکہ سب حال ہی حال ہے اس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿11﴾
Except him who did wrong, then after (doing) evil replaced (it) with good, then I am Most-Forgiving, Very-Merciful. 27:11
The miracle of the staff of Sayyidna Musa (علیہ السلام) was mentioned in the verse prior to this, where it was also stated that when the staff turned into serpent, Sayyidna Musa (علیہ السلام) himself started running out of fear. The other miracle of illuminative hand of Sayyidna Musa (علیہ السلام) is related in the verse next to above referred verse. Then why this exception is mentioned…
Read the full tafseer →14 This exception can be contiguous as well as remote. In the first case it will imply that there can be a genuine cause of fear if the Messenger has committed an offence; in the second case it will mean: "None should have any cause of fear in My Presence, unless, of course, someone has committed an offence."
15 That is, "If even an offender repents and reforms himself and does good instead of evil, I will pardon him. ° This implied both a warning and a good news. The Prophet Moses had killed a Copt inadvertently and fled from Egypt. This was an offence to which a subtle reference was made.…
Read the full tafseer →