Explained with ayahs 7–14
آگ لینے گئے رسالت مل گئی
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو موسیٰ ؑ کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ ؑ اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آگئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔ تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
سورة النمل 16
سورة بنی اسرائیل میں فرمایا گیا ہے کہ موسیٰ کو ہم نے صریح طور پر نظر آنے والی نو نشانیاں (تِسْعَ اٰيٰتٍ بَیِّنٰتٍ) عطا فرمائی تھیں۔ اور سورة اعراف میں ان کی تفصیل یہ بیان کی گئی ہے۔ (1) لاٹھی جو اژدھا بن جاتی تھی (2) ہاتھ جو بغل سے سورج کی طرح چمکتا ہوا نکلتا تھا (3) جادوگروں کو برسر عام شکست دینا (4) حضرت موسیٰ کے پیشگی اعلان کے ماطبق سارے ملک میں قحط (5) طوفان (6) ٹڈی دل (7) تمام غلے کے ذخیروں میں سرسریاں اور انسان و حیوان سب میں جوئیں (8) مینڈکوں کا طوفان (9) اور خون (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الزخرف، حاشیہ 43)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْـنًۢا بَعْدَ سُوْۗءٍ فَاِنِّىْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ، اس سے پہلی آیت میں موسیٰ ؑ کے معجزہ عصا کا ذکر ہے جس میں یہ بھی مذکور ہے کہ عصا جب سانپ بن گیا تو موسیٰ خود بھی اس سے ڈر کر بھاگنے لگے۔ آگے بھی موسیٰ ؑ کے دوسرے معجزہ ید بیضا کا بیان ہے درمیان میں اس استثناء کا ذکر کس لئے کیا گیا اور یہ استثناء منقطع ہے یا متصل اس میں حضرات مفسرین کے اقوال مختلف ہیں بعض حضرات نے استثناء کو منقطع قرار دیا ہے تو مضمون آیت کا یہ ہوگا کہ پہلی آیت میں انبیاء (علیہم السلام) پر خوف نہ ہونے کا ذکر تھا بسبیل تذکرہ ان لوگوں کا بھی ذکر کردیا جن پر خوف طاری ہونا چاہئے یعنی وہ لوگ جن…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ کے لئے دوسری نشانی
یہ دوسری نشانی ہے جو اسی موقع پر عطا ہوئی۔ اس کی وضاحت بھی پیچھے سورة اعراف اور سورة طلحہ وغیرہ میں ہوچکی ہے۔ تخرج بیضآء کے ساتھ من غیر سوء کی قید حضرت موسیٰ کے اس تردد کے رفع کرنے کے لئے تھی کہ ہاتھ کے سفید ہونے سے ان کو کسی مرض کا دہم نہ ہو۔ قرآن کے اسلوب بیان سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ اطمینان دہانی ان کو یہ معجزہ دیتے وقت ہی کردی گئی تھی اور یہی بات قرین عقل و فطرت ہے۔ حضرت موسیٰ کو عصا کے معجزے سے جو تشویش ہوئی تھی اسی طرح کی تشویش ان کو اس معجزے سے بھی ہوتی اگر یہ اطمینان دہانی ان کو نہ کردی جاتی۔ اس سے ضمناً تورات کے اس بیان کی تردید ہوتی ہے کہ حضرت…
Read the full tafseer →12-1یعنی بغیر برص وغیرہ کی بیماری کے۔ یہ لاٹھی کے ساتھ دوسرا معجزہ انھیں دیا گیا۔
12-2فِیْ تسْعِ آیَات یعنی یہ دو معجزے ان-9نشانیوں میں سے ہیں، جن کے ذریعے سے میں نے تیری مدد کی ہے۔ انھیں لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس جا، ان-9نشانیوں کی تفصیل کے لئے دیکھئے (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا) 17۔ الاسراء :11) کا حاشیہ۔
Read the full tafseer →5: ان نشانیوں کا بیان سورة اعراف : 130 تا 133 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →وادخل یدک ……سوآء
یہ عمل بھی ایسا ہی ہوا حضرت موسیٰ نے اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالا اور جب نکالا تو وہ بغیر بیماری کے چمک رہا تھا۔ یہ کوئی مرض نہ تھی بلکہ معجزہ تھا اور اللہ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ اس قسم کی نونشانیاں او معجزات تمہیں دیئے جائیں گے جن میں سے دو کا مشاہدہ اور مظاہرہ تم نے دیکھ لیا ۔ اب حضرت موسیٰ کے سامنے اس مہم کا انکشاف کیا جاتا ہے جو انہوں نے سر کرنی ہے اور جس کے لئے ان کو یوں تیار کیا گیا۔
فی تسع ……فسقین (41)
” یہ (دو نشانیاں) نو نشانیوں میں سے ہیں فرعون اور اس کی قوم کی طرف (لے جانے کے لئے) وہ بڑے بدکردار لوگ ہیں۔ “
یہاں باقی نشانیاں نہیں گنوائی گئیں جبکہ سورة اعراف میں…
Read the full tafseer →6 نو نشانیوں کا بیان سورة " بنی اسرائیل " کی آیت (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا) 17 ۔ الاسرآء :101) کے تحت میں دیکھو۔
Read the full tafseer →آیت 12 وَاَدْخِلْ یَدَکَ فِیْ جَیْبِکَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍقف ”
یعنی یہ سفیدی برص یا کسی اور بیماری کے باعث نہیں ہوگی۔
فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَقَوْمِہٖ ط ”
یعنی فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجتے ہوئے ابھی آپ علیہ السلام کو صرف یہ دو نشانیاں دی جا رہی ہیں ‘ جبکہُ کل نو 9 نشانیاں دی جانی مقصود ہیں۔ باقی نشانیاں بعد میں موقع محل اور ضرورت کے مطابق دی جائیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12 پھر اسی مقام پر موسیٰ (علیہ السلام) کو یدبیضا کا دوسرا معجزہ عطا کیا گیا۔ جس کی تفصیل پہلے مقامات پر گزر چکی ہے اور آئندہ بھی آئے گی۔ یہ دو بڑے بڑے واضح معجزے منجملہ ان نو معجزات کے تھے جن کا ذکر پہلے سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 101 کے حاشیہ میں گزر چکا ہے گویا ابتداً یہی دو بڑے معجزے عطا کرکے حصرت موسیٰ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا کیونکہ فرعونیوں نے اپنے ملک میں فساد عظیم برپا کر رکھا تھا۔
Read the full tafseer →14۔ (آیت) ” غیرسوٓء “۔ یدبیضاء پر اور تسع ایات۔ نومعجزات موسوی پر حاشیے سورة الاعراف پ 8 اور سورة طہ پ 16 میں گزر چکے،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : طس اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب مبین کی یعنی حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی، زیادتی صفت کے ساتھ (القرآن) پر عطف ہے، وہ ہدایت ہے یعنی گمراہی سے ہدایت کرنے والی ہے اور مومنین یعنی اس کی تصدیق کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری ہے، وہ (مومن) جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کے طریقہ کے مطابق ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں (یعنی) دلیل کے ساتھ اس پر یقین رکھتے ہیں، اور (ھم) مبتداء اور اس کی خبر (یوقنون) کے درمیان (بالآخرۃ) کے فصل کی وجہ سے ھم کا اعادہ کیا گیا ہے جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے…
Read the full tafseer →وادخل یدک فی جیبک . اور اپنے ہاتھ کو اپنے (قمیص کے) گریبان میں ڈالو۔ جیب کرتہ کا گریبان
(قاموس) بعض نے کہا : جیب قمیص کو کہتے ہیں (جوب کا معنی ہے قطع کرنا) قمیص کو کاٹا جاتا ہے اس لئے اس کو جیب کہتے ہیں۔
بغوی نے لکھا ہے : اہل تفسیر کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اس وقت ایک چھوٹا سا اونی کرتہ پہنے ہوئے تھے جس کی نہ آستینیں تھیں نہ بٹن۔
تخرج بیضآ من غیر سوء . (اگر گریبان کے اندر ہاتھ ڈال کر باہر نکالو گے تو وہ) گورے رنگ کا ہو کر نکلے گا (جو سورج کی طرح روشن اور چمکدار ہوگا) بغیر کسی خرابی کے (یعنی برص وغیرہ کی بیماری کی وجہ سے اس کا گوراپن نہ ہوگا) ۔
فی تسع اٰیٰت . (یہ دونوں معجزات)…
Read the full tafseer →(12) اور تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں لے جاؤ اور پھر نکالو تو وہ بلاکسی عیب یعنی برص کے روشن ہو کر نکلے گا اور دونوں معجزے ان نو معجزوں میں سے ہیں جن کو دے کر تمہیں فرعون اور اس کی قبطی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے کیوں کہ وہ حد سے بڑھے ہوئے لوگ ہیں۔
Read the full tafseer →وَاَدْخِلْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاۗءَ مِنْ غَيْرِ سُوْۗءٍ : موجودہ تورات کی دوسری کتاب خروج، باب (4) کی آیت (6) میں موسیٰ ؑ کے ہاتھ کو مبروص لکھا ہے۔ قرآن مجید چونکہ کتب سابقہ پر مہیمن (نگہبان) بن کر آیا ہے، جہاں ان میں کوئی غلطی ہو اس کی اصلاح کرتا ہے، اس لیے اس جگہ فرمایا : (مِنْ غَيْرِ سُوْۗءٍ) یعنی مبروص نہ تھا۔ (ثنائی)
فِيْ تِسْعِ اٰيٰتٍ۔۔ : یعنی یہ دو معجزے ان نو (9) نشانیوں میں سے ہیں، جن کے ذریعے سے میں نے تیری مدد کی ہے۔ ان نو نشانیوں کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (101) بعض نے کہا ہے کہ یہ دو نشانیاں (عصا اور ید بیضا) ان نو (9) نشانیوں کے علاوہ تھیں، اس صورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
( اذ قال موسیٰ لا۔۔۔۔۔۔ )
اذا قال موسیٰ لا ھلہ اذ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے اور و فعل اذکر ہے گویا اسے اس ارشاد : وانک لتقی القرآن من لدن حکیم علیم۔ فرمایا : مراد ہے اے محمد ! ﷺ اس کی حکمت اور اس کے علم کے آثار میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ لیجئے جب انہوں نے اپنی بیوی سے کہا : انی انست نارا یعنی میں نے دور سے اسے دیکھا ہے۔ حرث بن حلذہ نے کہا :
آنست نباۃ وافزعھا القناص عصرا وقدونا الامساء
اس نے خفی آواز محسوس کی، عمر کے وقت شکاریوں نے اسے خوفزدہ کیا جب کہ شام قریب آچکی تھی۔
ساتیکم منھا بخبر اوتیکم بشھاب قبس لعلکم تصطلون عاصم، حمزہ اور کسائی نے بشھاب قمس قرأت کی ہے (1)
1 ؎۔ المحرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریرج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فلما راٰ ہا تہتز کانہا جان “ یعنی جب وہ سانپ کی شکل میں بدل گیا اور دوڑنے لگا۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولم یعقب کہ وہ واپس نہیں مڑا آیت ” الا من ظلم ثم بدل حسنا بعد سوء “ یعنی پھر اس نے توبہ کی اپنے عمل کے بعد اور اپنے گناہ کے بعد۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولی مدبرا “ سے مراد ہے بھاگنے والا آیت ” ولم یعقب “ یعنی وہ متوجہ نہ ہوا۔ آیت ” انی لایخاف لدی “ یعنی میرے پاس (پیغمبر…
Read the full tafseer →وَاَدْخِلْ [ اور آپ داخل کریں ] يَدَكَ [ اپنا ہاتھ ] فِيْ جَيْبِكَ [ اپنے گریبان میں ] تَخْرُجْ [ تو وہ نکلے گا ] بَيْضَاۗءَ [ سفید ہوتے ہوئے ] مِنْ غَيْرِ سُوْۗءٍ ۣ [ کسی بھی برائی (بیماری) کے بغیر ] فِيْ تِسْعِ اٰيٰتٍ [ (یہ دو نشانیاں ) نو نشانیوں میں سے ہیں ] اِلٰى فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهٖ ۭ [ فرعون اور اس کی قوم کی طرف ] اِنَّهُمْ [ بیشک وہ سب ] كَانُوْا [ ہیں ] قَوْمًا فٰسِقِيْنَ [ ایک نافرمانی کرنے والی قوم ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(فِیْ تِسْعِ اٰیَاتٍ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِہٖ ) (یہ وہ نشانیاں ہیں جو منجملہ ان نو نشانیوں میں سے ہیں جنہیں لے کر تم کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف چلے جانا ہے) (اِِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فَاسِقِیْنَ ) (بلاشبہ وہ لوگ نافرمان ہیں) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لے گئے معجزات دکھائے فرعون اور اس کی قوم نے الٹا اثر لیا۔
معجزات سے انہیں بصیرت حاصل ہوئی اور یہ یقین ہوگیا کہ یہ واقعی اللہ کے رسول ہیں لیکن انہوں نے معجزوں کو جادو بتادیا پھر جادو گروں سے مقابلہ میں جادو گر ہار گئے اور مسلمان ہوگئے لیکن فرعون اور اس کی قوم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ان پر ایمان لانے میں اپنی توہین سمجھی تکبر کیا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
قصہء اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ اذ قال موسیٰ لاملہ انی انست نارا۔۔۔ الی۔۔۔ عاقبۃ المفسدین۔
(ربط) اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو بیان فرمایا پھر اس کی تائید کے لئے پانچ قصے بیان فرمائے۔ (1) قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون۔ (2) قصہء داؤد (علیہ السلام) مشتمل بر قصہء نمل چیونٹی جس کو باوجود ایک حقیر جانور ہونے کے اللہ اور اس کے رسول کی معرفت حاصل تھی اور خدا کے رسول کی عصمت اور نزاہت کا یقین کامل تھا کہ وہ دیدہ و دانستہ کسی کے لئے باعث ایذا نہیں بن سکتے۔
(3) قصہء بلقیس بزبان ہد ہد جو سلیمان (علیہ السلام) کے متعدد معجزات پر مشتمل ہے۔ (4) قصہء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12:۔ یہ دوسرا معجزہ ہے۔ “ من غیر سوء ” یعنی یہ ہاتھ کا سفید نمودار ہونا برص وغیرہ کسی بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک معجزہ ہے۔ من غیر سوء من غیر برص (معالم و خازن ج 5 ص 112) ۔ “ فی تسع ایت الخ ” یہ فعل مقدر کے متعقل ہے ای ارسلنا یعنی ہم نے ان کو نو معجزے دے کر بھیجا۔ دو یہاں مذکور ہیں اور سات ان کے علاوہ ہیں۔ “ فلما جاء تھہم الخ ”: “ مبصرۃ ”، “ اٰیتنا ” سے حال ہے۔ یہ فرعون اور قوم فرعون کے فسق و فجور اور ان کی ضد وعناد کی حد تھی جب انہوں نے واضح اور روشن معجزات کو دیکھ لیا تو ماننے کے بجائے صاف کہہ دیا یہ سب جادو کے کرتب اور کرشمے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ربط آیات
سورۃ ہذا کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا کہ یہ خدائے حکیم وعلیم کی طرف سے پیغمبر پر نازل کیا گیا ہے اور یہ اہل ایمان کے لیے ہدایت اور خوش خبری ہے ، پھر ایمان والوں کی بعض صفات بھی بیان کیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں ، پھر منکرین آخرت کی سزا کا ذکر بھی بنوا کہ اس دنیا میں ان کے اعمال کو مزین کر کے دکھایا جاتا ہے اور یہ لوگ آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والے ہوں گے ۔ اس کے بعد آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے ایک گوشے کو بےنقاب کیا ہے ۔ اس واقعہ میں پیغمبر آخرالزمان کے لیے…
Read the full tafseer →وَاَدْخِلْ يَدَكَ فِيْ جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَاۗءَ مِنْ غَيْرِ سُوْۗءٍ 0ۣ فِيْ تِسْعِ اٰيٰتٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَقَوْمِہٖ 0ۭ اِنَّہُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ 12
دخل
الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58]
( دخ ل ) الدخول
( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔
يد
الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ترکیب : اذ کا عامل اذکر محذوف اور میم سے بھی متعلق ہوسکتا ہے نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ یا تو ضمیر ہے جو موسیٰ کی طرف راجع ہے یا ان بورک علی الاول ان بمعنی ای تفسیر کے لیے من مرفوع ہے، بورک سے انہ ضمیر شان انا مبتدا اللہ خبر تھتز حال ہے راھا مفعول سے کانھا حال ہی ضمیر تہتز ہے، الامن ظلم استثناء منقطع موضع نصب میں اور ممکن ہو کہ محل رفع میں ہو فاعل سے بدل ہو کر بیضا، من غیر سوء فی تسع تینوں حال ہیں، الی محذوف سے متعلق تقدیرہ مرسلاً الی فرعون، مبصرۃ حال ہے، مبصرۃً بھی پڑھا ہے تب یہ مفعول لہ ہے ظلمًا و علوًا حال ہیں ضمیر جحدوا سے مفعول بھی ہوسکتے ہیں۔
تفسیر : اذقال موسیٰ الخ یہ حضرت موسیٰ (…
Read the full tafseer →وَاَدْخِلْ یَدَکَ فِیْ جَیْبِکَ تَخْرُجْ بَیْضَآئَ مِنْ غَیْرِسُؤٓئٍ قف فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَقَوْمِہٖ ط اِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ ۔ (النمل : 12)
(آپ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالیے، وہ بغیر کسی مرض کے چمکتا ہوا نکلے گا، (یہ دو معجزات) نو معجزات میں سے ہیں، فرعون اور اس کی قوم کی طرف جایئے، بیشک وہ بڑے سرکش لوگ ہیں۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیا جانے والا دوسرا معجزہ
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصائے موسیٰ کے ساتھ جو دوسرا معجزہ عطا کیا گیا یہ اس کا بیان ہے۔ آپ ( علیہ السلام) سے کہا گیا کہ آپ اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالیے۔ چناچہ جب باہر نکالا گیا تو وہ چمکتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
فہم القرآن
ربط کلام : پہلی وحی کے موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کرنے کے ساتھ دو عظیم معجزات سے سرفراز کیا گیا۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنا رسول منتخب فرمالیا ہے تو انھیں حکم ہوا کہ اے موسیٰ ! اپنا عصا زمین پر پھینکئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جو نہی عصا زمین پر پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر اپنا پھن پھلاتے ہوئے لہرانے لگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اڈر کر اس سے دور بھاگے اور انھوں نے پلٹ کر دیکھنے کی ہمت نہ کی۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) پیچھے کی طرف بھاگ رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ڈریے…
Read the full tafseer →12: وَاَدْخِلْ یَدَکَ فِیْ جَیْبِکَ (اپنے ہاتھ کو اپنی قمیص کے اندر داخل کرو) ۔ اور اس کو نکالو۔ تَخْرُجْ بَیْضَآئَ (وہ سفید ہو کر نکلے گا) ۔ اس کی چمک نور آفتاب پر غالب آجائے گی۔ مِنْ غَیْرِ سُوْئٍ (بغیر کسی خرابی کے) ۔ برص وغیرہ کی۔
نحو : بیضاء اور مِنْ غَیْرِ سُوْئٍ دونوں حال ہیں۔ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ (نو معجزات میں ہیں) ۔ : یہ جملہ مستانفہ ہے۔ اور فی کا تعلق محذوف کے ساتھ۔ ای اذہب فی تسع آیات۔ نمبر 2۔ والق عصاک وادخل یدک فی جملۃ تسع آیات۔ القائے عصا اور ید بیضاء دونوں من جملہ 9 آیات سے ہیں۔
اِلٰی فِرْعَوْنَ وَقَوْمِہٖ (فرعون اور اس کی قوم کی طرف) ۔ الی کا تعلق مرسلاً محذوف سے ہے ای مرسلاً…
Read the full tafseer →12۔ وادخل یدک فی جبیب، جیب قمیص کو کاٹ کر بنایاجاتا ہے۔ اہل تفسیر کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ اس وقت ایک چھوٹا سا اونی کرتہ پہنے ہوئے تھے جس کی نہ آستینیں تھیں نہ بٹن اور وہ چمکنے لگا جیسے کہ بجلی چمکتی ہے۔ اس وجہ سے اللہ کافرمان، تخرج بیضاء من غیر سوئ، بغیر کسی بیماری کے یعنی برص وغیرہ کی بیماری نہی ہوگی۔ فی تسع آیات، یہ نونشانیوں سے ایک نشانی ہے جوان کودے کر بھیجی ہے۔ الی فرعون وقومہ انھم کانوا قومافاسقین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
(6 تا 13) مشرکین مکہ قرآن کو انسان کا کلام کہتے تھے اس لیے فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے تو قرآن ایسے صاحب حکمت سے پایا ہے جو حکمت والا ہے اپنے حکموں میں اور خبردار ہے تمام امور میں اب آگے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ کس طور سے ان کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے انتخاب کرلیا اور ان سے باتیں کیں اور ان کو بڑی بڑی نشانیاں دیں اور بھیجا ان کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس تو ان لوگوں نے کفر اور تکبر کیا اور جو معجزات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو دکھائے ان کو کھلا ہوا جادو بتلایا صحیح بخاری ومسلم کے 1 ؎ (1 ؎ مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین فصل اول) حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
آیت 7 سے 14
یعنی موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتداء، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریقہ و فاضلہ کو یاد کیجئے۔۔۔ یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : (انی انست نارا) یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے : (ساتیکم منھا بخبر) میں وہاں سے تمہارے لئے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں (اواتکیم بشھاب قبس لعللکم تصطلون) ” یا سلگتا ہوا نگارا…
Read the full tafseer →12 حضرت موسیٰ کیلئے یدِبیضا کا دوسرا عظیم الشان معجزہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے موسیٰ سے کہا کہ تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی بیماری کے "۔ یعنی ایسا نہیں جیسا کہ برص وغیرہ کسی بیماری کی وجہ سے ہوجاتا ہے بلکہ یہ تو ہماری طرف سے ایک خاص عنایت، اِعزاز و اکرام اور معجزئہ وبرہان کے طور پر ہے۔ اور پھر اس میں کسی بیماری و عیب یا تکلیف کا کوئی سوال کس طرح پیدا ہوسکتا ہے ۔ { مِنْ غَیْرِ سُوْئٍ } ۔ کے عموم میں یہ سب ہی کچھ داخل ہے کہ نکرہ تحت النفی عموم و شمول کا فائدہ دیتا ہے۔ بہرکیف یدبیضا کا یہ معجزہ دوسرا بڑا معجزہ تھا جس سے حضرت موسیٰ کو معجزئہ عصا کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
قوم موسیٰ کا ذکرباعث عبرت
تشریح : نبوت ملنے کا انداز بھی عجیب ہے سیدنا محمد ﷺ کو غار حرا میں نبوت ملی اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں ملی کہ آگ لینے گئے تو نبوت مل گئی اور ساتھ ہی دو معجزے بھی۔ ویسے آپ کو نو معجزے عطا کیے گئے تھے۔ آپ کے بارے میں اور آپ کی قوم اور فرعون کے بارے میں تفصیلاً سورة طہٰ رکوع 1 میں گزر چکا ہے۔ سورة الاعراف میں بھی یہ واقعہ کوہ طور پر ہوا جو سطح سمندر سے تقریباً 5 ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہاں رومی سلطنت کے پہلے عیسائی بادشاہ قسطنطین نے یاد گار کے طور پر 365 ء کے قریب وہاں ایک کلیسہ بنوا دیا۔ فرعون کے عبرت ناک انجام کی یہ کہانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة نمل
رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 14 ۔ اسرار و معارف :
طس۔ یہ قرآن کی آیات ہیں جو ایک کھلی کتاب ہے یعنی جو حقائق کو واضح کرکے بیان کرتی ہے اور باعث ہدایت بھی ہے اور نوید کامرانی بھی ان لوگوں کے لیے جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے یقین کی دلیل یہ ہے کہ عملاً اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور عبادات کے ادا کرنے میں پوری کوشش کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی کردار میں بھی اور معیشت میں بھی اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور یہ سب کسی دنیاوی فادے یا لالچ میں نہیں کرتے بلکہ انہیں آخرت اور روز جزا پر یقین کامل ہے لہذا اس روز کی کامیابی کے خواہشمند ہیں۔ اور ایسے لوگ جو آخرت پر یقین نہیں کرتے ان کو سزا کے طور پر ان…
Read the full tafseer →5 ۔ ان نو نشانیوں کا ذکر سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ (دیکھئے سورة اسرا : 101) بعض نے کہا ہے کہ یہ دو نشانیاں (عصا اور یدبیضا) ان نو نشانیوں کے علاوہ تھیں اس صورت میں حرف ” فی “ بمعنی ” مع “ ہوگا۔ (کذا فی فی القرطبی)
Read the full tafseer →(27:12) جیبک مضاف مضاف الیہ تیرا گریبان۔
تخرج۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) واحد مؤنث غائب۔ ضمیر فاعل یدک کی طرف راجع ہے۔
بیضائ۔ سفید۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے واحد مؤنث ابیض واحد مذکر بیض جمع کا صیغہ ہر دو مذکر مؤنث کے لئے آتا ہے۔
من غیر سوئ۔ بلا کسی عیب کے بلا کسی مرض (ازقسم برص) کے۔ ملاحظہ ہو 26:156 ۔
فی تسع ایت ای ھما داخلتان فی جملۃ تسع ایات۔ یہ دو معجزات بھی جملہ نو معجزات میں شامل ہیں۔ اس سے قبل اذھبمحذوف ہے ای اذھب فی تسع ایت الی فرعون ان نو معجزات (جن میں یہ دو بھی شامل ہیں) کو لے کر فرعون کے پاس جاؤ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 14 :
(اھل) گھروالے۔ اہل خانہ) ‘ انست ( میں نے دیکھا) شھاب (شعلہ) ‘ قبس (انگارہ) نودی (آوازدی گئی) ‘ تصطلون (تم سینکو۔ گرمائی حاصل کرو) ‘ بورک (برکت دی گئی) ‘ حول ( اردگرد۔ آس پاس) ‘ تھتز (لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ۔ اژدھا) ‘ مدبرا (پیٹھ پھیرنے والا) ‘ لم یعقب (مڑکرنہ دیکھا) ‘ مبصرۃ (آنکھیں کھولنے والی) ‘ استیقنت ( یقین کرلیا) ‘ علو (بڑائی۔ تکبر) عاقبۃ (انجام۔ نتیجہ) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 7 تا 14 :
ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو اس سورت کے مضامین کے لحاظ سے دوبارہ ارشاد فرمایا گیا ہے جب وہ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس دس سال گذارنے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
(ف 1) حضرت موسیٰ کو غیب سے آواز آئی کہ اے موسیٰ اللہ کی ذات سب عیبوں سے پاک ہے اور میں ہی اللہ عزت والاحکمت والا ہوں ، اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قدرت اور حکمت الٰہی دکھانے کے لیے یہ ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ تم اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دو وہ لکڑی زمین پر ڈالتے ہی ایک سانپ بن گیا پہلے پہل لکڑی کو سانپ بنتے دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے اور پیٹھے پھیر کر چلے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا فرمایا اے موسیٰ ڈرو مت اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنا رسول مقرر کیا ہے فرمایا میں ایسا ہوں کہ میرے حضور میں رسول ڈرا نہیں کرتے پھر فرمایا کہ بدی کے بعد اس کے عوض میں نیکی کی یعنی گناہ کرکے توبہ کی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
[4] سورة اعراف میں ان نو معجزوں کی تفصیل یہ بیان کی گئی ہے : (1) لاٹھی جو اژدھا بن جاتی تھی۔ (2) ہاتھ بغل سے سورج کی طرح چمکتا ہوا نکلتا تھا۔ (3) جادوگروں کو برسر عام شکست دینا۔ (4) موسیٰ (علیہ السلام) کے پیشگی اعلان کے مطابق سارے ملک میں قحط سالی۔ (5) طوفان۔ (6) ٹڈی دل۔ (7) تمام غلے کے ذخیروں میں سرسریاں اور انسان و حیوان میں جوئیں۔ (8) مینڈکوں کا طوفان۔ (9) پانی کا لہو ہوجانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
حضرت موسیٰ اور فرعون
2: حضرت موسیٰ جب حضرت شعیب سے جدا ہوئے تو انہوں نے جنگل میں اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھی تجلی کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے ۔ مختصراً یوں سمجھ لیجئے کہ تجلی کے معنی ایک نوع کے اظہار کے ہیں شئے تجلی وہ ہوتی ہے جس کو وہ نوربحث اپنے اظہار کا ایک عنوان ٹھہرادے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو مخاطب کیا اور فرمایا ۔ دیکھو میں تمہارا خدا ہوں اور اس کے بعد ان کو یہ بتایا کہ تمہارے عصا ہولناک سانپ بن سکتا ہے اور تمہارا ہاتھ سفید وبراق ہوجائے گا ۔ غرضیکہ اسی طرح کے نو خوارق ان کو دیئے گئے اور کہا گیا کہ اب فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔ وہ بہت ظالم ہوگیا ہے اور اس کی سرکشیاں حد سے بڑھ چکی…
Read the full tafseer →(12) اور تو اپنا ہاتھ اپنے گریبان کے اندر داخل کردے تو وہ بغیر کسی عیب کے خوب سفید چمکتا ہوا نکل آئے گا یہ دونوں معجزے ان نو معجزوں میں سے ہیں جو تجھ کو دے کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جاتا ہے کیونکہ وہ بڑے حد سے نکل جانے والے لوگ ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سورة اعراف میں سات نشانیاں ہوچکیں 12
فائدہٖ وہ نشانیاں یہ ہیں 1 قحط اور 2 میووں کا نقصان اور 3 طوفان اور ٹڈی اور 4 چچڑی اور 5 مینڈک اور 7 لہو اور 8 ہاتھ سفید چٹا اور 9 عصا یہ دونوں یہاں موجود ہیں اور سات سورة اعراف کے چودھویں رکوع میں ہیں 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 3۔ یعنی جس سے کوئی لغزش سرزد ہوجاوے اور وہ اس لغزش کو یاد کر کے ڈرے تو مضائقہ نہیں۔
4۔ یہ اس لئے فرما دیا کہ اس انقلاب عصا سے مطمئن ہوجانے کے بعد کبھی اپنا قصہ قتل قبطی کا یاد کر کے پریشان نہ ہوں اس لئے اس سے بھی مطمئن فرمادیا تاکہ توحش جاتا رہے۔
Read the full tafseer →اے موسیٰ (علیہ السلام) اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال اور اس کا معجزانہ رنگ دیکھ اور فرعون کو دکھا :
12۔ اے موسیٰ ! ہم تیرے خیال کو روکنا نہیں چاہتے بلکہ اس کا رخ پھیرنا چاہتے ہیں ذرا اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر واپس لا اور اب دیکھ کہ اس کی حالت کیا ہے ؟ وہ پہلے کیا تھا اور اب کیا ہوگیا ؟ اس طرح ہم نے تیرے اپنے ہی دل کے اندر کی آواز کا رخ پھیردیا ہے اور تیرا داہنا ہاتھ ایک اتنا بڑا نشان ہے جس سے یہ بات ثابت کردی جائے گی کہ حکومت کا اہل فرعون ہے یا بنی اسرائیل ؟ گویا موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ع
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی :
تیرا وہ خیال جو ماضی کی طرف نکلا ہے اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿11﴾
Except him who did wrong, then after (doing) evil replaced (it) with good, then I am Most-Forgiving, Very-Merciful. 27:11
The miracle of the staff of Sayyidna Musa (علیہ السلام) was mentioned in the verse prior to this, where it was also stated that when the staff turned into serpent, Sayyidna Musa (علیہ السلام) himself started running out of fear. The other miracle of illuminative hand of Sayyidna Musa (علیہ السلام) is related in the verse next to above referred verse. Then why this exception is mentioned…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
16 According to Surah Bani Isra'il:101, the Prophet Moses had been granted nine clearly visible Signs, which according to the details given in AI-A`raf were the following: (1) The staff's turning into a serpent, 12) the shining hand when it was drawn out of the armpit, (3) public triumph over the magicians, (4) occurrence of a widespread famine in the land as foretold by the Prophet Moses, t5) the storm, (6) the locusts, (7) the incidence of weevils in the grain stores and of lice among human beings and animals, (8) the frogs, and (9) the rain of blood. (Far explanation, see E.N. 43 of Az…
Read the full tafseer →