Explained with ayahs 7–14
آگ لینے گئے رسالت مل گئی
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو موسیٰ ؑ کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ ؑ اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آگئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔ تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
سورة النمل 16
سورة بنی اسرائیل میں فرمایا گیا ہے کہ موسیٰ کو ہم نے صریح طور پر نظر آنے والی نو نشانیاں (تِسْعَ اٰيٰتٍ بَیِّنٰتٍ) عطا فرمائی تھیں۔ اور سورة اعراف میں ان کی تفصیل یہ بیان کی گئی ہے۔ (1) لاٹھی جو اژدھا بن جاتی تھی (2) ہاتھ جو بغل سے سورج کی طرح چمکتا ہوا نکلتا تھا (3) جادوگروں کو برسر عام شکست دینا (4) حضرت موسیٰ کے پیشگی اعلان کے ماطبق سارے ملک میں قحط (5) طوفان (6) ٹڈی دل (7) تمام غلے کے ذخیروں میں سرسریاں اور انسان و حیوان سب میں جوئیں (8) مینڈکوں کا طوفان (9) اور خون (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، الزخرف، حاشیہ 43)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْـنًۢا بَعْدَ سُوْۗءٍ فَاِنِّىْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ، اس سے پہلی آیت میں موسیٰ ؑ کے معجزہ عصا کا ذکر ہے جس میں یہ بھی مذکور ہے کہ عصا جب سانپ بن گیا تو موسیٰ خود بھی اس سے ڈر کر بھاگنے لگے۔ آگے بھی موسیٰ ؑ کے دوسرے معجزہ ید بیضا کا بیان ہے درمیان میں اس استثناء کا ذکر کس لئے کیا گیا اور یہ استثناء منقطع ہے یا متصل اس میں حضرات مفسرین کے اقوال مختلف ہیں بعض حضرات نے استثناء کو منقطع قرار دیا ہے تو مضمون آیت کا یہ ہوگا کہ پہلی آیت میں انبیاء (علیہم السلام) پر خوف نہ ہونے کا ذکر تھا بسبیل تذکرہ ان لوگوں کا بھی ذکر کردیا جن پر خوف طاری ہونا چاہئے یعنی وہ لوگ جن…
Read the full tafseer →حضرات انبیاء کے معجزات آنکھیں کھول دینے والے ہوتے ہیں
مبصرۃ کے معنی ہیں آنکھیں کھول دینے والی نشانیاں، حضرت انبیاء (علیہم السلام) سے جو معجزات ظہور میں آئے ان کا معجزہ ہونا دیکھنے والوں سے مخفی نہیں رہا۔ ان کی قاہری نے اندھوں کی آنکھیں بھی کھول دیں لیکن جو لوگ نہیں ماننا چاہتے تھے انہوں نے حضرت موسیٰ کے ان معجزات کو بھی جادو قرار دے دیا۔ یہاں تک کہ خود جادوگروں نے بھی علی الاعلان اعتراف کرلیا کہ یہ جادو نہیں ہے لیکن پھر بھی ہٹ دھرموں نے اپنی ضد نہیں چھوڑ، اسی کو جادو ہی کہتے رہے۔ یہاں وہ بات یاد رکھیے جو اوپر گزر چکی ہے کہ ایک ساحر کا انتہائی کمال یہ ہوتا ہے کہ اس کی لٹھیا سانپ کی طرح رینگنے…
Read the full tafseer →13-1مُبْصِرَۃً ، واضح اور روشن یا اسم فاعل مفعول کے معنی میں ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
6: اس انجام کا مفصل ذکر سورة یونس : 90 تا 92 اور سورة شعراء : 60 تا 66 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فلما جآء تھم ……المفسدین (41)
یہ بیشمار نشانیاں ، حق کو باطل سے واضح کرنے والی نشانیاں ، ایسی نشانیاں کہ جس کو اللہ نے دو آنکھیں دی ہیں وہ انہیں دیکھ سکتا ہے۔ جن کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نشانیاں مبصر ہیں یعنی وہ دیکھنے والی ہیں۔ دیکھ دیکھ کر لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف لانے والی ہیں۔ لیکن وہ لوگ ایسے ہٹ دھرم تھے کہ ان کو بھی انہوں نے کہا کہ سحر مبین ہے ، کھلا جادو ہے۔ یہ نہیں کہ وہ دل سے کہتے تھے یا وہ فی الواقعہ ایسا سمجھتے تھے یہ تو انہوں نے محض ظلم اور علوم کی وجہ سے کہا۔ ان کے دل و دماغ تو اس پر مطمئن تھے کہ یہ حق ہے۔ بالکل ان کو کوئی شبہ نہ تھا۔
واستبف تھا انفسھم (82 : 31) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
7 یعنی جب وقتاً فوقتاً ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے وہ نشانیاں دکھلائی گئیں تو کہنے لگے کہ یہ سب جادو ہے حالانکہ ان کے دلوں میں یقین تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں اور جو نشانیاں دکھلا رہے ہیں یقینا خدائی نشان ہیں۔ جادو، شعبدہ اور نظر بندی نہیں مگر محض بےانصافی اور غرور تکبر سے جان بوجھ کر اپنے ضمیر کے خلاف حق کی تکذیب اور سچائی کا انکار کر رہے تھے، پھر کیا ہوا چند روز بعد پتہ لگ گیا کہ ایسے ہٹ دھرم مفسدوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ سب کو بحرقلزم کی موجوں نے کھالیا، کسی کو گور وکفن بھی نصیب نہ ہوا۔
Read the full tafseer →آیت 13 فَلَمَّا جَآءَ تْہُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَۃً ”
یعنی وہ کھلی کھلی نشانیاں جو ان کی آنکھیں کھولنے اور حقیقت کا مشاہدہ کرانے کے لیے کافی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12 پھر اسی مقام پر موسیٰ (علیہ السلام) کو یدبیضا کا دوسرا معجزہ عطا کیا گیا۔ جس کی تفصیل پہلے مقامات پر گزر چکی ہے اور آئندہ بھی آئے گی۔ یہ دو بڑے بڑے واضح معجزے منجملہ ان نو معجزات کے تھے جن کا ذکر پہلے سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 101 کے حاشیہ میں گزر چکا ہے گویا ابتداً یہی دو بڑے معجزے عطا کرکے حصرت موسیٰ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا کیونکہ فرعونیوں نے اپنے ملک میں فساد عظیم برپا کر رکھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
15۔ (کہ دنیا میں غرقابی نصیب ہوئی، اور آخرت میں عذاب شدید) (آیت) ” جآء تھم ..... مبین “۔ یعنی وہ معجزات وخوارق تو ایسے صریح تھے کہ ان کے وقوع سے انکار ممکن ہی نہ تھا۔ ان کے نفس مشاہدہ کے بعد اب ان منکروں نے توجیہ وتاویل شروع کی، کہ ان کو حقانیت وللہیت سے کیا واسطہ یہ تو عین سحر کی کارفرمائیاں ہیں۔ (آیت) ” وجحدوابھا واستیقنتھا انفسھم “۔ یعنی وہ شواہد نبوت اندر ہی اندر تو اپنا کام کرتے گئے، اور ان لوگوں کے دلوں میں اتر گئے، پھر بھی یہ لوگ محض اپنی ضد، اکڑ اور نفسانیت سے انکار پر قائم رہے۔ (آیت) ” ظلماوعلوا “۔ دونوں کے درمیان فرق یہ کیا گیا ہے کہ ظلم ان آیات و شواہد کو ان کے مرتبہ سے گھٹانا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : طس اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب مبین کی یعنی حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی، زیادتی صفت کے ساتھ (القرآن) پر عطف ہے، وہ ہدایت ہے یعنی گمراہی سے ہدایت کرنے والی ہے اور مومنین یعنی اس کی تصدیق کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری ہے، وہ (مومن) جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کے طریقہ کے مطابق ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں (یعنی) دلیل کے ساتھ اس پر یقین رکھتے ہیں، اور (ھم) مبتداء اور اس کی خبر (یوقنون) کے درمیان (بالآخرۃ) کے فصل کی وجہ سے ھم کا اعادہ کیا گیا ہے جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے…
Read the full tafseer →فلما جآتھم ایتنا مبصرۃ قالو ھذا سحر مبین . جب ان کے پاس (ہمارے احکام واضح طور پر پہنچ گئے یا)
ہماری نشانیاں (یعنی معجزات) کھلم کھلا پہنچ گئے تو فرعون اور اس کی قوم والوں نے کہا یہ کھلا جادو ہے۔
خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کو حکم ملا اپنی لاٹھی زمین پر پھینک دو ‘ موسیٰ ( علیہ السلام) نے لاٹھی پھینک دی وہ سانپ بن گئی اور تیزی کے ساتھ دوڑنے لگی اور حکم ملا اپنا ہاتھ گریبان کے اندر کر کے نکالو وہ سفید بےداغ نکلے گا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے اس حکم کی بھی تعمیل کی اور ہاتھ اندر سے گورا چمکیلا بےداغ نکلا اور حکم ملا یہ دونوں نشانیاں لے کر مع نو نشانیوں کے فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ…
Read the full tafseer →(13) غرض کہ جب موسیٰ ؑ ان لوگوں کے پاس ہمارے دیے ہوئے معجزات لے کر پہنچے جو نہایت واضح تھے اور یکے بعد دیگرے وہ دکھائے تو وہ لوگ کہنے لگے کہ موسیٰ ؑ جو ہمارے پاس لے کر آئے ہیں یہ کھلا جادو ہے۔
Read the full tafseer →فَلَمَّا جَاۗءَتْهُمْ اٰيٰتُنَا مُبْصِرَةً۔۔ :”مُبْصِرَةً“ دکھانے والی، آنکھیں کھول دینے والی، واضح، روشن۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر آیا ہے کہ جب موسیٰ ؑ کے اعلان کے مطابق ان پر کوئی عام عذاب آتا تو فرعون اور اس کے درباری موسیٰ ؑ سے کہتے تھے کہ اپنے رب سے دعا کرکے یہ عذاب ٹلوا دو ، تو تم جو کہتے ہو ہم مان لیں گے۔ مگر جب وہ عذاب ٹل جاتا تو وہ اپنے وعدے سے مکر جاتے۔ ظاہر ہے سارے ملک پر قحط، طوفان، ٹڈی دل اور دوسرے الٰہی لشکروں کا امڈ آنا جادو کا کرشمہ کسی طرح نہیں ہوسکتا تھا۔ آنکھیں کھول دینے والی اتنی نشانیاں آنے پر بھی انھوں نے انھیں کھلا جادو کہہ دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
( اذ قال موسیٰ لا۔۔۔۔۔۔ )
اذا قال موسیٰ لا ھلہ اذ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے اور و فعل اذکر ہے گویا اسے اس ارشاد : وانک لتقی القرآن من لدن حکیم علیم۔ فرمایا : مراد ہے اے محمد ! ﷺ اس کی حکمت اور اس کے علم کے آثار میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ لیجئے جب انہوں نے اپنی بیوی سے کہا : انی انست نارا یعنی میں نے دور سے اسے دیکھا ہے۔ حرث بن حلذہ نے کہا :
آنست نباۃ وافزعھا القناص عصرا وقدونا الامساء
اس نے خفی آواز محسوس کی، عمر کے وقت شکاریوں نے اسے خوفزدہ کیا جب کہ شام قریب آچکی تھی۔
ساتیکم منھا بخبر اوتیکم بشھاب قبس لعلکم تصطلون عاصم، حمزہ اور کسائی نے بشھاب قمس قرأت کی ہے (1)
1 ؎۔ المحرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریرج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فلما راٰ ہا تہتز کانہا جان “ یعنی جب وہ سانپ کی شکل میں بدل گیا اور دوڑنے لگا۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولم یعقب کہ وہ واپس نہیں مڑا آیت ” الا من ظلم ثم بدل حسنا بعد سوء “ یعنی پھر اس نے توبہ کی اپنے عمل کے بعد اور اپنے گناہ کے بعد۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولی مدبرا “ سے مراد ہے بھاگنے والا آیت ” ولم یعقب “ یعنی وہ متوجہ نہ ہوا۔ آیت ” انی لایخاف لدی “ یعنی میرے پاس (پیغمبر…
Read the full tafseer →فَلَمَّا [ پھر جب ] جَاۗءَتْهُمْ [ آئیں ان کے پاس ] اٰيٰتُنَا [ ہماری نشانیاں ] مُبْصِرَةً [ بینا کرنے والی ہوتے ہوئے ] قَالُوْا [ تو انھوں نے کہا ] ھٰذَا [ یہ ] سِحْرٌ مُّبِيْنٌ [ ایک کھلا جادو ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
(فِیْ تِسْعِ اٰیَاتٍ اِلٰی فِرْعَوْنَ وَ قَوْمِہٖ ) (یہ وہ نشانیاں ہیں جو منجملہ ان نو نشانیوں میں سے ہیں جنہیں لے کر تم کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف چلے جانا ہے) (اِِنَّہُمْ کَانُوْا قَوْمًا فَاسِقِیْنَ ) (بلاشبہ وہ لوگ نافرمان ہیں) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تشریف لے گئے معجزات دکھائے فرعون اور اس کی قوم نے الٹا اثر لیا۔
معجزات سے انہیں بصیرت حاصل ہوئی اور یہ یقین ہوگیا کہ یہ واقعی اللہ کے رسول ہیں لیکن انہوں نے معجزوں کو جادو بتادیا پھر جادو گروں سے مقابلہ میں جادو گر ہار گئے اور مسلمان ہوگئے لیکن فرعون اور اس کی قوم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ان پر ایمان لانے میں اپنی توہین سمجھی تکبر کیا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
قصہء اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ اذ قال موسیٰ لاملہ انی انست نارا۔۔۔ الی۔۔۔ عاقبۃ المفسدین۔
(ربط) اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو بیان فرمایا پھر اس کی تائید کے لئے پانچ قصے بیان فرمائے۔ (1) قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون۔ (2) قصہء داؤد (علیہ السلام) مشتمل بر قصہء نمل چیونٹی جس کو باوجود ایک حقیر جانور ہونے کے اللہ اور اس کے رسول کی معرفت حاصل تھی اور خدا کے رسول کی عصمت اور نزاہت کا یقین کامل تھا کہ وہ دیدہ و دانستہ کسی کے لئے باعث ایذا نہیں بن سکتے۔
(3) قصہء بلقیس بزبان ہد ہد جو سلیمان (علیہ السلام) کے متعدد معجزات پر مشتمل ہے۔ (4) قصہء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12:۔ یہ دوسرا معجزہ ہے۔ “ من غیر سوء ” یعنی یہ ہاتھ کا سفید نمودار ہونا برص وغیرہ کسی بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک معجزہ ہے۔ من غیر سوء من غیر برص (معالم و خازن ج 5 ص 112) ۔ “ فی تسع ایت الخ ” یہ فعل مقدر کے متعقل ہے ای ارسلنا یعنی ہم نے ان کو نو معجزے دے کر بھیجا۔ دو یہاں مذکور ہیں اور سات ان کے علاوہ ہیں۔ “ فلما جاء تھہم الخ ”: “ مبصرۃ ”، “ اٰیتنا ” سے حال ہے۔ یہ فرعون اور قوم فرعون کے فسق و فجور اور ان کی ضد وعناد کی حد تھی جب انہوں نے واضح اور روشن معجزات کو دیکھ لیا تو ماننے کے بجائے صاف کہہ دیا یہ سب جادو کے کرتب اور کرشمے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ربط آیات
سورۃ ہذا کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا کہ یہ خدائے حکیم وعلیم کی طرف سے پیغمبر پر نازل کیا گیا ہے اور یہ اہل ایمان کے لیے ہدایت اور خوش خبری ہے ، پھر ایمان والوں کی بعض صفات بھی بیان کیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں ، پھر منکرین آخرت کی سزا کا ذکر بھی بنوا کہ اس دنیا میں ان کے اعمال کو مزین کر کے دکھایا جاتا ہے اور یہ لوگ آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والے ہوں گے ۔ اس کے بعد آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے ایک گوشے کو بےنقاب کیا ہے ۔ اس واقعہ میں پیغمبر آخرالزمان کے لیے…
Read the full tafseer →فَلَمَّا جَاۗءَتْہُمْ اٰيٰتُنَا مُبْصِرَۃً قَالُوْا ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ 13ۚ
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ترکیب : اذ کا عامل اذکر محذوف اور میم سے بھی متعلق ہوسکتا ہے نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ یا تو ضمیر ہے جو موسیٰ کی طرف راجع ہے یا ان بورک علی الاول ان بمعنی ای تفسیر کے لیے من مرفوع ہے، بورک سے انہ ضمیر شان انا مبتدا اللہ خبر تھتز حال ہے راھا مفعول سے کانھا حال ہی ضمیر تہتز ہے، الامن ظلم استثناء منقطع موضع نصب میں اور ممکن ہو کہ محل رفع میں ہو فاعل سے بدل ہو کر بیضا، من غیر سوء فی تسع تینوں حال ہیں، الی محذوف سے متعلق تقدیرہ مرسلاً الی فرعون، مبصرۃ حال ہے، مبصرۃً بھی پڑھا ہے تب یہ مفعول لہ ہے ظلمًا و علوًا حال ہیں ضمیر جحدوا سے مفعول بھی ہوسکتے ہیں۔
تفسیر : اذقال موسیٰ الخ یہ حضرت موسیٰ (…
Read the full tafseer →فَلَمَّا جَآئَ تْھُمْ اٰیٰـتُـنَا مُبْصِرَۃً قَالُوْا ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ۔ (النمل : 13)
(پس جب ان کے پاس ہماری آنکھیں کھول دینے والی نشانیاں آئیں، انھوں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ )
مُبْصِرَۃً کے معنی ہیں آنکھیں کھول دینے والی نشانیاں۔
پیغمبروں کے معجزات آنکھیں کھول دینے والے ہوتے ہیں
دیگر انبیائے کرام کی طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب معجزات لے کر فرعون اور اپنی قوم کے پاس آئے تو ان کا معجزہ ہونا قوم سے مخفی نہیں رہا۔ اندھوں نے بھی جان لیا کہ ایسی نشانیاں دکھانا انسان کے بس کی بات نہیں۔ ان کی قاہری اور ان کے عدیم المثال ہونے نے سب کو اپنی حیثیت ماننے پر مجبور کردیا۔ لیکن جن لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کے پاس جانا۔ فرعون اور اس کے حواریوں کا ردِّ عمل۔
سورۃ طٰہٰ میں یہ وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دو عظیم معجزات دے کر فرعون کی طرف بھیجا تو انھیں دو نصیحتیں فرمائیں۔ اے موسیٰ تو اور تیرا بھائی ان معجزات کے ساتھ جاؤ۔ لیکن دو باتوں کا خیال رکھنا میرے ذکر سے غافل نہ ہونا اور جب فرعون سے گفتگو کرو تو اس میں سختی کی بجائے نرمی ہونی چاہے۔ (طٰہٰ : 42 تا 44)
جب موسیٰ (علیہ السلام) معجزات کے ساتھ فرعون اور اس کے وزیروں، مشیروں کے پاس پہنچے تو انھوں نے دلائل سننے اور عظیم معجزات دیکھنے کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر…
Read the full tafseer →واضح آیات :
13: فَلَمَّا جَآئَ تْہُمْ ٰایٰتُنَا (جب ان کے پاس ہماری آیات آچکیں) ۔ آیات سے معجزات مراد ہیں۔ مُبْصِرَۃً (کھلم کھلا) ۔ یہ حال ہے۔ یعنی ظاہر و واضح۔ نمبر 1۔ آیات کے لئے یہاں ابصار کا لفظ لائے۔ حالانکہ حقیقت میں آیات تو غور و فکر کرنے والوں کے لئے ہیں۔ کیونکہ نظر و فکر میں وہ آیات ان سے ملا بست رکھنے والی ہیں۔
نمبر 2۔ ان آیات کو اس طرح قرار دیا گیا گویا وہ دیکھی جاتی ہیں پس ان سے راہ مل جاتی ہے۔ کیونکہ اندھا راہ پانے پر قدرت نہیں رکھتا چہ جائیکہ وہ دوسرے کی راہنمائی کرے۔ عرب کا یہ قول اسی قسم میں سے ہے۔ کلمۃ عوراء۔ کیونکہ اچھی بات راہنمائی کرتی ہے اور بری گمراہ کرتی ہے۔ قَالُوْا…
Read the full tafseer →13۔ فلماجاء تھم آیاتنا مبصرۃ، واضح نشانیاں جس کو وہ دیکھتے ہیں، قالواھذاسحرمبین۔ واضح جادو ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
(6 تا 13) مشرکین مکہ قرآن کو انسان کا کلام کہتے تھے اس لیے فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے تو قرآن ایسے صاحب حکمت سے پایا ہے جو حکمت والا ہے اپنے حکموں میں اور خبردار ہے تمام امور میں اب آگے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ کس طور سے ان کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے انتخاب کرلیا اور ان سے باتیں کیں اور ان کو بڑی بڑی نشانیاں دیں اور بھیجا ان کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس تو ان لوگوں نے کفر اور تکبر کیا اور جو معجزات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو دکھائے ان کو کھلا ہوا جادو بتلایا صحیح بخاری ومسلم کے 1 ؎ (1 ؎ مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین فصل اول) حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
آیت 7 سے 14
یعنی موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتداء، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریقہ و فاضلہ کو یاد کیجئے۔۔۔ یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : (انی انست نارا) یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے : (ساتیکم منھا بخبر) میں وہاں سے تمہارے لئے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں (اواتکیم بشھاب قبس لعللکم تصطلون) ” یا سلگتا ہوا نگارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
14 فرعونیوں کی طرف سے موسیٰ کے معجزات کا انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے ان معجزات کا انکار کردیا جبکہ ان کے دل ان کی صداقت و حقانیت کا یقین کرچکے تھے۔ سو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تعصب وعناد، ظلم وتکبر اور عناد و ہٹ دھرمی وغیرہ کس قدر بری چیزیں ہیں کہ حق کے پوری طرح واضح ہوجانے کے باوجود انسان کو اس سے محروم کردیتی ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ محض دل سے ماننا اور یقین کرلینا کافی نہیں جب تک کہ زبان سے بھی اس کا اقرار و اعلان نہ ہو۔ بہرکیف فرعونیوں نے حضرت موسیٰ کے ان معجزات کا جانتے بوجھتے اور دل میں انکو حق سمجھنے کے باوجود ان کا انکار کردیا۔ محض ظلم اور تکبر کی بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
قوم موسیٰ کا ذکرباعث عبرت
تشریح : نبوت ملنے کا انداز بھی عجیب ہے سیدنا محمد ﷺ کو غار حرا میں نبوت ملی اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں ملی کہ آگ لینے گئے تو نبوت مل گئی اور ساتھ ہی دو معجزے بھی۔ ویسے آپ کو نو معجزے عطا کیے گئے تھے۔ آپ کے بارے میں اور آپ کی قوم اور فرعون کے بارے میں تفصیلاً سورة طہٰ رکوع 1 میں گزر چکا ہے۔ سورة الاعراف میں بھی یہ واقعہ کوہ طور پر ہوا جو سطح سمندر سے تقریباً 5 ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہاں رومی سلطنت کے پہلے عیسائی بادشاہ قسطنطین نے یاد گار کے طور پر 365 ء کے قریب وہاں ایک کلیسہ بنوا دیا۔ فرعون کے عبرت ناک انجام کی یہ کہانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة نمل
رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 14 ۔ اسرار و معارف :
طس۔ یہ قرآن کی آیات ہیں جو ایک کھلی کتاب ہے یعنی جو حقائق کو واضح کرکے بیان کرتی ہے اور باعث ہدایت بھی ہے اور نوید کامرانی بھی ان لوگوں کے لیے جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے یقین کی دلیل یہ ہے کہ عملاً اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور عبادات کے ادا کرنے میں پوری کوشش کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی کردار میں بھی اور معیشت میں بھی اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور یہ سب کسی دنیاوی فادے یا لالچ میں نہیں کرتے بلکہ انہیں آخرت اور روز جزا پر یقین کامل ہے لہذا اس روز کی کامیابی کے خواہشمند ہیں۔ اور ایسے لوگ جو آخرت پر یقین نہیں کرتے ان کو سزا کے طور پر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
6 ۔ سب کے سب بحر قلزم میں غرق کردیئے گئے ان میں سے کسی کو زندہ نہ چھوڑا گیا۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →(27:13) مبصرۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث بحالت نصب، دوسری چیزوں کو واضح اور روشن کرنے والی۔ بصیرت افروز۔ آیات کا حال ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 14 :
(اھل) گھروالے۔ اہل خانہ) ‘ انست ( میں نے دیکھا) شھاب (شعلہ) ‘ قبس (انگارہ) نودی (آوازدی گئی) ‘ تصطلون (تم سینکو۔ گرمائی حاصل کرو) ‘ بورک (برکت دی گئی) ‘ حول ( اردگرد۔ آس پاس) ‘ تھتز (لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ۔ اژدھا) ‘ مدبرا (پیٹھ پھیرنے والا) ‘ لم یعقب (مڑکرنہ دیکھا) ‘ مبصرۃ (آنکھیں کھولنے والی) ‘ استیقنت ( یقین کرلیا) ‘ علو (بڑائی۔ تکبر) عاقبۃ (انجام۔ نتیجہ) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 7 تا 14 :
ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو اس سورت کے مضامین کے لحاظ سے دوبارہ ارشاد فرمایا گیا ہے جب وہ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس دس سال گذارنے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
(ف 1) حضرت موسیٰ کو غیب سے آواز آئی کہ اے موسیٰ اللہ کی ذات سب عیبوں سے پاک ہے اور میں ہی اللہ عزت والاحکمت والا ہوں ، اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قدرت اور حکمت الٰہی دکھانے کے لیے یہ ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ تم اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دو وہ لکڑی زمین پر ڈالتے ہی ایک سانپ بن گیا پہلے پہل لکڑی کو سانپ بنتے دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے اور پیٹھے پھیر کر چلے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا فرمایا اے موسیٰ ڈرو مت اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنا رسول مقرر کیا ہے فرمایا میں ایسا ہوں کہ میرے حضور میں رسول ڈرا نہیں کرتے پھر فرمایا کہ بدی کے بعد اس کے عوض میں نیکی کی یعنی گناہ کرکے توبہ کی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
[4] سورة اعراف میں ان نو معجزوں کی تفصیل یہ بیان کی گئی ہے : (1) لاٹھی جو اژدھا بن جاتی تھی۔ (2) ہاتھ بغل سے سورج کی طرح چمکتا ہوا نکلتا تھا۔ (3) جادوگروں کو برسر عام شکست دینا۔ (4) موسیٰ (علیہ السلام) کے پیشگی اعلان کے مطابق سارے ملک میں قحط سالی۔ (5) طوفان۔ (6) ٹڈی دل۔ (7) تمام غلے کے ذخیروں میں سرسریاں اور انسان و حیوان میں جوئیں۔ (8) مینڈکوں کا طوفان۔ (9) پانی کا لہو ہوجانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
حضرت موسیٰ اور فرعون
2: حضرت موسیٰ جب حضرت شعیب سے جدا ہوئے تو انہوں نے جنگل میں اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھی تجلی کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے ۔ مختصراً یوں سمجھ لیجئے کہ تجلی کے معنی ایک نوع کے اظہار کے ہیں شئے تجلی وہ ہوتی ہے جس کو وہ نوربحث اپنے اظہار کا ایک عنوان ٹھہرادے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو مخاطب کیا اور فرمایا ۔ دیکھو میں تمہارا خدا ہوں اور اس کے بعد ان کو یہ بتایا کہ تمہارے عصا ہولناک سانپ بن سکتا ہے اور تمہارا ہاتھ سفید وبراق ہوجائے گا ۔ غرضیکہ اسی طرح کے نو خوارق ان کو دیئے گئے اور کہا گیا کہ اب فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔ وہ بہت ظالم ہوگیا ہے اور اس کی سرکشیاں حد سے بڑھ چکی…
Read the full tafseer →(13) غرض ! جب ان کے پاس ہمارے نہایت روشن اور واضح الدلالۃ معجزے اور نشانیاں پہونچیں تو یہ کہنے لگے یہ تو کھلا ہوا جادو ہے یعنی دونوں یہ نشان پہلی ملاقات میں پیش کئے پھر دقتاً فوقتاً بعض نشانیاں دکھاتے رہے لیکن وہ سب معجزات کو کھلا ہوا جادو کہنے لگے اور سحر بتاتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
ف 3۔ یعنی جس سے کوئی لغزش سرزد ہوجاوے اور وہ اس لغزش کو یاد کر کے ڈرے تو مضائقہ نہیں۔
4۔ یہ اس لئے فرما دیا کہ اس انقلاب عصا سے مطمئن ہوجانے کے بعد کبھی اپنا قصہ قتل قبطی کا یاد کر کے پریشان نہ ہوں اس لئے اس سے بھی مطمئن فرمادیا تاکہ توحش جاتا رہے۔
Read the full tafseer →فرعونیوں نے بصیرت افروز نشانیاں دیکھ کر بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر ہی قرار دیا :
13۔ فرعون نے اپنی مغرورانہ سرشت کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے رسول اللہ ہونے کا استخفاف کیا اور مذاق وتحقیر کرتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شخصیت سے بحث شروع کردی اپنے گھرانے کے احسان جتائے اور مصری کے قتل والا معاملہ یاد دلایا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خوف زدہ کرنے کی پوری پوری کوشش کی مگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چونکہ ان سب مراحل کے متعلق اللہ رب العزت سے ہر قسم کا اطمینان کرچکے تھے اس لئے ان پر مطلق نہ خوف کا کوئی اثر ہوا اور نہ ہی ان کو کوئی غصہ آیا بلکہ انہوں نے فرعون کے گھرانے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿11﴾
Except him who did wrong, then after (doing) evil replaced (it) with good, then I am Most-Forgiving, Very-Merciful. 27:11
The miracle of the staff of Sayyidna Musa (علیہ السلام) was mentioned in the verse prior to this, where it was also stated that when the staff turned into serpent, Sayyidna Musa (علیہ السلام) himself started running out of fear. The other miracle of illuminative hand of Sayyidna Musa (علیہ السلام) is related in the verse next to above referred verse. Then why this exception is mentioned…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
16 According to Surah Bani Isra'il:101, the Prophet Moses had been granted nine clearly visible Signs, which according to the details given in AI-A`raf were the following: (1) The staff's turning into a serpent, 12) the shining hand when it was drawn out of the armpit, (3) public triumph over the magicians, (4) occurrence of a widespread famine in the land as foretold by the Prophet Moses, t5) the storm, (6) the locusts, (7) the incidence of weevils in the grain stores and of lice among human beings and animals, (8) the frogs, and (9) the rain of blood. (Far explanation, see E.N. 43 of Az…
Read the full tafseer →