Explained with ayahs 7–14
آگ لینے گئے رسالت مل گئی
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو موسیٰ ؑ کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ ؑ اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آگئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔ تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم…
Read the full tafseer →سورة النمل 17
قرآن میں دوسرے مقامات پر بیان کیا گیا ہے کہ جب موسیٰ علیہ اللام کے اعلان کے مطابق کوئی بلائے عام مصڑ پر نازل ہوتی تھی تو فرعون حضرت موسیٰ سے کہتا تھا کہ تم اپنے خدا سے دعا کر کے اس بلا کو ٹلوا دو ، پھر جو کچھ تم کہتے ہو وہ ہم مان لیں گے، مگر جب وہ بلا ٹل جاتی تھی تو فرعون اپنی اسی ہٹ دھرمی پر تل جاتا تھا (الاعراف، آیت 134، الزخرف، آیت 50، 49) بائیبل میں بھی اس کا ذکر موجود ہے (خروج، باب 8 تا 10) اور ویسے بھی یہ بات کسی طرح تصور میں نہ آسکتی تھی کہ ایک پورے ملک پر قحط اور طوفان اور ٹڈی دلوں کا ٹوٹ پڑنا اور مینڈکوں اور سرسریوں کے بیشمار لشکروں کا امڈ آنا کسی جادو کا کر شہ ہوسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
اِلَّا مَنْ ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْـنًۢا بَعْدَ سُوْۗءٍ فَاِنِّىْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ، اس سے پہلی آیت میں موسیٰ ؑ کے معجزہ عصا کا ذکر ہے جس میں یہ بھی مذکور ہے کہ عصا جب سانپ بن گیا تو موسیٰ خود بھی اس سے ڈر کر بھاگنے لگے۔ آگے بھی موسیٰ ؑ کے دوسرے معجزہ ید بیضا کا بیان ہے درمیان میں اس استثناء کا ذکر کس لئے کیا گیا اور یہ استثناء منقطع ہے یا متصل اس میں حضرات مفسرین کے اقوال مختلف ہیں بعض حضرات نے استثناء کو منقطع قرار دیا ہے تو مضمون آیت کا یہ ہوگا کہ پہلی آیت میں انبیاء (علیہم السلام) پر خوف نہ ہونے کا ذکر تھا بسبیل تذکرہ ان لوگوں کا بھی ذکر کردیا جن پر خوف طاری ہونا چاہئے یعنی وہ لوگ جن…
Read the full tafseer →وجحدوا بھا واستیف تھا انفسھم ظلماً وعلوا فانظر کیف کان فیہ المفسدین (14)
منکروں کے انکار کا اصل سبب ان کا ظلم اور اعلو ہوتا ہے
یہ آخر میں اصل مدعا سامنے رکھ دیا گیا ہے جس کے لئے یہ سرگزشت سنائی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ دعوت حق کو قبول نہیں کرنا ہتے وہ ایک دو نہیں بلکہ نو نو معجزات دیکھ کر بھی اپنے انکار کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔ ان کے دل اقرار کرتے ہیں کہ داعی کی بات حق ہے لیکن زبانوں سے وہ برابر اس کی تکذیب ہی کرتے رہتے ہیں۔ ان کے انکار کی اصل علت یہ نہیں ہوتی کہ حق ان پر اچھی طرح واضح نہیں ہوتا بلکہ اس کا اصل سبب ان کا …ورعلتو ہوتا ہے۔ وہ…
Read the full tafseer →14-1یعنی علم کے باوجود جو انہوں نے انکار کیا تو اس کی وجہ ان کا ظلم اور استکبار تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
6: اس انجام کا مفصل ذکر سورة یونس : 90 تا 92 اور سورة شعراء : 60 تا 66 میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فلما جآء تھم ……المفسدین (41)
یہ بیشمار نشانیاں ، حق کو باطل سے واضح کرنے والی نشانیاں ، ایسی نشانیاں کہ جس کو اللہ نے دو آنکھیں دی ہیں وہ انہیں دیکھ سکتا ہے۔ جن کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نشانیاں مبصر ہیں یعنی وہ دیکھنے والی ہیں۔ دیکھ دیکھ کر لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف لانے والی ہیں۔ لیکن وہ لوگ ایسے ہٹ دھرم تھے کہ ان کو بھی انہوں نے کہا کہ سحر مبین ہے ، کھلا جادو ہے۔ یہ نہیں کہ وہ دل سے کہتے تھے یا وہ فی الواقعہ ایسا سمجھتے تھے یہ تو انہوں نے محض ظلم اور علوم کی وجہ سے کہا۔ ان کے دل و دماغ تو اس پر مطمئن تھے کہ یہ حق ہے۔ بالکل ان کو کوئی شبہ نہ تھا۔
واستبف تھا انفسھم (82 : 31) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
7 یعنی جب وقتاً فوقتاً ان کی آنکھیں کھولنے کے لیے وہ نشانیاں دکھلائی گئیں تو کہنے لگے کہ یہ سب جادو ہے حالانکہ ان کے دلوں میں یقین تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں اور جو نشانیاں دکھلا رہے ہیں یقینا خدائی نشان ہیں۔ جادو، شعبدہ اور نظر بندی نہیں مگر محض بےانصافی اور غرور تکبر سے جان بوجھ کر اپنے ضمیر کے خلاف حق کی تکذیب اور سچائی کا انکار کر رہے تھے، پھر کیا ہوا چند روز بعد پتہ لگ گیا کہ ایسے ہٹ دھرم مفسدوں کا انجام کیسا ہوتا ہے۔ سب کو بحرقلزم کی موجوں نے کھالیا، کسی کو گور وکفن بھی نصیب نہ ہوا۔
Read the full tafseer →آیت 14 وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ط ”
اس فقرے میں ظُلْمًا وَّعُلُوًّا کا تعلق آغاز کے لفظ وَجَحَدُوْا کے ساتھ ہے۔ مضمون کے اعتبار سے یہ بہت اہم آیت ہے۔ اگرچہ انہوں نے بظاہر ان تمام نشانیوں کو جادو قرار دے کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پیغمبر ماننے سے انکار کردیا تھا لیکن ان کا یہ انکار سراسر ناانصافی اور سرکشی پر مبنی تھا ‘ کیونکہ ان کے دل یہ حقیقت تسلیم کرچکے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام واقعی اللہ کے رسول ہیں اور یہ تمام خرق عادت واقعات حقیقت میں معجزات ہیں۔ ممکن ہے ان کے عوام کو یہ شعور نہ ہو لیکن کم از کم فرعون اور قوم کے بڑے بڑے سرداروں کی اس…
Read the full tafseer →13 موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بھائی ہارون کے ہمراہ فرعون کے دربار میں پہنچے اسے اللہ کا پیغام بھی پہنچایا اور اپنی رسالت کی صداقت کے طور پر یہ دونوں معجزات بھی دکھلائے لیکن ان لوگوں نے ان معجزات کو جادو کے کرشمے یا شعبدہ بازیاں کہہ دیا۔ حالانکہ ان کے دلوں میں یہ یقین آگیا تھا۔ کہ یہ معجزات فی الواقعہ اللہ کی عطا کردہ نشانیاں ہیں۔ جادو کے کرشمے نہیں ہیں۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) فی الواقعہ اللہ کے رسول ہیں اور دل میں یقین کے برعکس ان کا سزان سے انکار کردینا محض تکبر کی بنا پر تھا اور یہ بہت بڑی بےانصافی کی بات تھی۔
واضح رہے کہ تصدیق و تکذیب کے لحاظ سے ایمان اور کفر کے چار قسمیں ہیں۔ ایک یہ کہ دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
15۔ (کہ دنیا میں غرقابی نصیب ہوئی، اور آخرت میں عذاب شدید) (آیت) ” جآء تھم ..... مبین “۔ یعنی وہ معجزات وخوارق تو ایسے صریح تھے کہ ان کے وقوع سے انکار ممکن ہی نہ تھا۔ ان کے نفس مشاہدہ کے بعد اب ان منکروں نے توجیہ وتاویل شروع کی، کہ ان کو حقانیت وللہیت سے کیا واسطہ یہ تو عین سحر کی کارفرمائیاں ہیں۔ (آیت) ” وجحدوابھا واستیقنتھا انفسھم “۔ یعنی وہ شواہد نبوت اندر ہی اندر تو اپنا کام کرتے گئے، اور ان لوگوں کے دلوں میں اتر گئے، پھر بھی یہ لوگ محض اپنی ضد، اکڑ اور نفسانیت سے انکار پر قائم رہے۔ (آیت) ” ظلماوعلوا “۔ دونوں کے درمیان فرق یہ کیا گیا ہے کہ ظلم ان آیات و شواہد کو ان کے مرتبہ سے گھٹانا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : طس اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب مبین کی یعنی حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی، زیادتی صفت کے ساتھ (القرآن) پر عطف ہے، وہ ہدایت ہے یعنی گمراہی سے ہدایت کرنے والی ہے اور مومنین یعنی اس کی تصدیق کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری ہے، وہ (مومن) جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کے طریقہ کے مطابق ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں (یعنی) دلیل کے ساتھ اس پر یقین رکھتے ہیں، اور (ھم) مبتداء اور اس کی خبر (یوقنون) کے درمیان (بالآخرۃ) کے فصل کی وجہ سے ھم کا اعادہ کیا گیا ہے جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے…
Read the full tafseer →وجحدوا بھا . اور انہوں نے ان آیات کا انکار کیا۔ یعنی اللہ کی طرف سے نازل ہونے کا انکار کیا۔
واستیقنتھا انفسھم . اور انکے دلوں کو ان آیات کا پکا یقین ہوگیا تھا۔ 1 استیقان کے معنی میں ایقان سے زیادہ زور ہے۔
ظلما وعلموا . ظلم اور تکبر کی وجہ سے (انہوں نے انکار کیا تھا) ظلم سے مراد ہے کہ انہوں نے اپنی جانوں
پر کیا تھا کہ دوامی دوزخ کے مستحق ہوگئے تھے اور تکبر یہ تھا کہ انہوں نے موسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان لانے سے سرتابی کی تھی۔
فانظر . پس (اے مخاطب ! بصیرت نظر سے) دیکھ۔
کیف کان عاقبۃ المفسدین . تباہ کاروں کا انجام کیسا ہوا (کہ دنیا میں ان کو پانی میں غرق کردیا گیا اور مرنے کے بعد دوزخ میں…
Read the full tafseer →(14) اور غضب یہ کہ ظلم وعناد اور تکبر کی وجہ سے ان معجزات کے منکر ہوگئے حالانکہ ان کے دلوں نے اس بات کا یقین کرلیا تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہیں تو آپ دیکھیے کہ ان مشرکین یعنی فرعون اور اس کی قوم کا کیسا برا انجام ہوا کہ ہم نے سب کو دریا میں غرق کردیا۔
Read the full tafseer →وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ۔۔ : ”أَیْقَنَ یُوْقِنُ“ کا معنی بھی یقین کرنا ہے، ”اِسْتَیْقَنَ“ میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی کیا گیا ہے ”اچھی طرح یقین کرلیا۔“ جحود یہ ہے کہ دل سے ایک بات کو درست سمجھتے ہوئے زبان سے اس کا انکار کر دے، یعنی فرعون اور اس کی قوم نے ان معجزوں کے سچا ہونے کے یقین کے باوجود ان کا انکار کردیا۔ یہی بات موسیٰ ؑ نے فرعون سے کہی تھی : (قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ) [ بني إسرائیل : 102 ] ”بلاشبہ یقیناً تو جان چکا ہے کہ انھیں آسمانوں اور زمین کے رب کے سوا کسی نے نہیں اتارا۔“
ظُلْمًا وَّعُلُوًّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
( اذ قال موسیٰ لا۔۔۔۔۔۔ )
اذا قال موسیٰ لا ھلہ اذ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے اور و فعل اذکر ہے گویا اسے اس ارشاد : وانک لتقی القرآن من لدن حکیم علیم۔ فرمایا : مراد ہے اے محمد ! ﷺ اس کی حکمت اور اس کے علم کے آثار میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ لیجئے جب انہوں نے اپنی بیوی سے کہا : انی انست نارا یعنی میں نے دور سے اسے دیکھا ہے۔ حرث بن حلذہ نے کہا :
آنست نباۃ وافزعھا القناص عصرا وقدونا الامساء
اس نے خفی آواز محسوس کی، عمر کے وقت شکاریوں نے اسے خوفزدہ کیا جب کہ شام قریب آچکی تھی۔
ساتیکم منھا بخبر اوتیکم بشھاب قبس لعلکم تصطلون عاصم، حمزہ اور کسائی نے بشھاب قمس قرأت کی ہے (1)
1 ؎۔ المحرر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریرج (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فلما راٰ ہا تہتز کانہا جان “ یعنی جب وہ سانپ کی شکل میں بدل گیا اور دوڑنے لگا۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولم یعقب کہ وہ واپس نہیں مڑا آیت ” الا من ظلم ثم بدل حسنا بعد سوء “ یعنی پھر اس نے توبہ کی اپنے عمل کے بعد اور اپنے گناہ کے بعد۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولی مدبرا “ سے مراد ہے بھاگنے والا آیت ” ولم یعقب “ یعنی وہ متوجہ نہ ہوا۔ آیت ” انی لایخاف لدی “ یعنی میرے پاس (پیغمبر…
Read the full tafseer →وَجَحَدُوْا [ اور انھوں نے جانتے بوجھتے انکار کیا ] بِهَا [ ان کا ] وَ [ حالانکہ ] اسْتَيْقَنَتْهَآ [ یقین حاصل کرچکے تھے ان (نشانیوں) کا ] اَنْفُسُهُمْ [ ان کے جی (یعنی دل)] ظُلْمًا [ ظلم کرتے ہوئے ] [ وَّعُلُوًّا ۭ: اور سرکشی کرتے ہوئے ][ فَانْظُرْ [ تو آپ ﷺ دیکھیں ] كَيْفَ [ کیسا ] كَانَ [ تھا ] عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ [ نظم بگاڑنے والوں کا انجام ]
Read the full tafseer →فائدہ : (وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَا اَنْفُسُہُمْ ) سے معلوم ہوا کہ توحید و رسالت کا یقین ہوجانا ایمان نہیں، یقین بھی ہو اور یقین کے ساتھ تسلیم بھی ہو (جسے ماننا کہتے ہیں) تب ایمان کا تحقق ہوتا ہے۔ آج کل کافروں میں بکثرت ایسے لوگ ہیں جو اسلام کو دین حق سمجھتے ہیں اس بارے میں مضامین بھی لکھتے ہیں لیکن اسلام قبول نہیں کرتے یہ جحود اور عناد ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
قصہء اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ اذ قال موسیٰ لاملہ انی انست نارا۔۔۔ الی۔۔۔ عاقبۃ المفسدین۔
(ربط) اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو بیان فرمایا پھر اس کی تائید کے لئے پانچ قصے بیان فرمائے۔ (1) قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون۔ (2) قصہء داؤد (علیہ السلام) مشتمل بر قصہء نمل چیونٹی جس کو باوجود ایک حقیر جانور ہونے کے اللہ اور اس کے رسول کی معرفت حاصل تھی اور خدا کے رسول کی عصمت اور نزاہت کا یقین کامل تھا کہ وہ دیدہ و دانستہ کسی کے لئے باعث ایذا نہیں بن سکتے۔
(3) قصہء بلقیس بزبان ہد ہد جو سلیمان (علیہ السلام) کے متعدد معجزات پر مشتمل ہے۔ (4) قصہء…
Read the full tafseer →13:۔ “ ظلما و علوا ” یہ دونوں “ جحدوا ” کے مفول لہ ہیں اور “ واستیقنتہا انفسہم ” جملہ “ جحدوا ” کے فاعل سے حال ہے۔ قوم فرعون کو دل سے موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کے برحق ہونے کا پورا پورا یقین تھا لیکن انہوں نے محض بےانصافی اور غرور و استکبار کی وجہ سے ان کا انکار کیا۔ “ فانظر کیف کان الخ ”: پھر دیکھ لو ان معاندوں اور سرکشوں کا کیا حشر ہوا اللہ تعالیٰ نے ان کو غرق کر کے ان کا سارا غرور خاک میں ملا دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو جو موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے مصیبتوں سے نجات دی اور دنیا و آخرت میں آرام و راحت اور اعزازو اکرام عطا فرمایا۔ اس میں مومنوں کے لیے بشارت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ربط آیات
سورۃ ہذا کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا کہ یہ خدائے حکیم وعلیم کی طرف سے پیغمبر پر نازل کیا گیا ہے اور یہ اہل ایمان کے لیے ہدایت اور خوش خبری ہے ، پھر ایمان والوں کی بعض صفات بھی بیان کیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں ، پھر منکرین آخرت کی سزا کا ذکر بھی بنوا کہ اس دنیا میں ان کے اعمال کو مزین کر کے دکھایا جاتا ہے اور یہ لوگ آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والے ہوں گے ۔ اس کے بعد آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے ایک گوشے کو بےنقاب کیا ہے ۔ اس واقعہ میں پیغمبر آخرالزمان کے لیے…
Read the full tafseer →وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَيْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا 0ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِيْنَ 14ۧ
جحد
الجُحُود : نفي ما في القلب إثباته، وإثبات ما في القلب نفيه، يقال : جَحَدَ جُحُوداً وجَحْداً قال عزّ وجل : وَجَحَدُوا بِها وَاسْتَيْقَنَتْها أَنْفُسُهُمْ [ النمل/ 14] ، وقال عزّ وجل : بِآياتِنا يَجْحَدُونَ [ الأعراف/ 51] . وتَجَحَّدَ تَخَصَّصَ بفعل ذلك، يقال : رجل جَحِدٌ: شحیح قلیل الخیر يظهر الفقر، وأرض جَحْدَة : قلیلة النبت، يقال : جَحَداً له ونَكَداً ، وأَجْحَدَ : صار ذا جحد .
( ج ح د ) حجد جحد
وجحودا ( رجان بوجھ کر انکار کردینا ) معنی دل میں جس چیز کا اقرار ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ترکیب : اذ کا عامل اذکر محذوف اور میم سے بھی متعلق ہوسکتا ہے نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ یا تو ضمیر ہے جو موسیٰ کی طرف راجع ہے یا ان بورک علی الاول ان بمعنی ای تفسیر کے لیے من مرفوع ہے، بورک سے انہ ضمیر شان انا مبتدا اللہ خبر تھتز حال ہے راھا مفعول سے کانھا حال ہی ضمیر تہتز ہے، الامن ظلم استثناء منقطع موضع نصب میں اور ممکن ہو کہ محل رفع میں ہو فاعل سے بدل ہو کر بیضا، من غیر سوء فی تسع تینوں حال ہیں، الی محذوف سے متعلق تقدیرہ مرسلاً الی فرعون، مبصرۃ حال ہے، مبصرۃً بھی پڑھا ہے تب یہ مفعول لہ ہے ظلمًا و علوًا حال ہیں ضمیر جحدوا سے مفعول بھی ہوسکتے ہیں۔
تفسیر : اذقال موسیٰ الخ یہ حضرت موسیٰ (…
Read the full tafseer →وَجَحَدُوْا بِھَا وَاسْتَیْـقَـنَـتْـھَآ اَنْفُسُھُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ط فَانْظُرْکَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ ۔ (النمل : 14)
(انھوں نے سراسر ظلم اور غرور کے سبب سے ان نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ دل ان کے قائل ہوچکے تھے، پس دیکھ لیجئے کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا۔ )
منکرین کے انکار کا اصل سبب
فرعون، آل فرعون اور دیگر اہل مصر کے سامنے ملک بھر کے جادوگروں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ ہوا۔ اور سب دیکھنے والوں کے سامنے ساحرانِ مصر نے اعلان کیا کہ یہ جادو نہیں، معجزے کی قاہری اور صداقت کی بالادستی ہے اور ہم اس سچائی کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ اسی طرح پورے ملک پر قحط اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا فرعون کے پاس جانا۔ فرعون اور اس کے حواریوں کا ردِّ عمل۔
سورۃ طٰہٰ میں یہ وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دو عظیم معجزات دے کر فرعون کی طرف بھیجا تو انھیں دو نصیحتیں فرمائیں۔ اے موسیٰ تو اور تیرا بھائی ان معجزات کے ساتھ جاؤ۔ لیکن دو باتوں کا خیال رکھنا میرے ذکر سے غافل نہ ہونا اور جب فرعون سے گفتگو کرو تو اس میں سختی کی بجائے نرمی ہونی چاہے۔ (طٰہٰ : 42 تا 44)
جب موسیٰ (علیہ السلام) معجزات کے ساتھ فرعون اور اس کے وزیروں، مشیروں کے پاس پہنچے تو انھوں نے دلائل سننے اور عظیم معجزات دیکھنے کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر…
Read the full tafseer →14: وَجَحَدُوْا بِہَا (انہوں نے ان آیات کا انکار کردیا) ۔ ایک قول : یہ ہے کہ جحود تو جاحد کے علم سے ہوتا ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ کیونکہ جحود انکار کو کہتے ہیں۔ اور بعض اوقات اشیاء کا انکار اس سے ناواقفیت کی بنیاد پر ہوتا ہے اور کبھی پہچان کے بعد ضد کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (کذافی شرح التاویلات) الدیوان کتاب میں مذکور ہے۔ کہا جاتا ہے جحد حقہٗ وبحقہٖ ایک ہی معنی میں ہیں۔ وَاسْتَیْقَنَتْہَا (اور یقین کرچکے تھے) ۔ و او حالیہ ہے۔ اور اس کے بعد قد مضمر ہے۔ اسیتقان ایقان سے زیادہ بلیغ ہے۔
اَنْفُسُہُمْ (انکے دل) یعنی زبانوں سے تو انہوں نے انکار کیا مگر انکے ضمیر و دل ان آیات پر یقین کرچکے تھے۔ ظُلْمًا (ظلم…
Read the full tafseer →تفسیر۔
14۔ وجحدوا بھا، اور انہوں نے ان نشانیوں کا انکار کیا، اور عند اللہ نشانیاں ہونے کا انکار کرنے لگے۔ واستقینھ تھا انفسھم ان کے دلوں کو یقین ہوگیا تھا، کہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ ظلما وعلوا، وہ شرک اور تکبر کی وجہ سے موسیٰ پر اسلام لانے سے تکبر کرنے لگے۔ فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین۔
Read the full tafseer →14۔ فرعون کے زمانہ کے بڑے بڑے جادوگر جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ نہ کرسکے اور حضرت موسیٰ کے مقابلہ سے عاجز آن کر آخر کو مسلمان ہوگئے تو فرعون کے ساتھ کے لوگ اپنے دل میں یہ سمجھ گئے تھے کہ حضرت موسیٰ کا معاملہ بناوٹی اور جادو کا نہیں ہے کیونکہ اگر حضرت موسیٰ کا معاملہ بناوٹی اور جادو کا ہوتا تو اس طرح کے جادو گر جن کے باپ دادا سے جادو کا پیشہ چلا آتا تھا اسی کام کی تنخواہ اور جاگیر فرعون کی طرف سے ان کی مقرر تھی وہ اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) سے عاجز نہ ہوتے لیکن باوجود اس بات کے دل میں سمجھ جانے کے وہ لوگ ظاہر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لائے اور انجام یہ ہوا کہ غرق ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
آیت 7 سے 14
یعنی موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتداء، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریقہ و فاضلہ کو یاد کیجئے۔۔۔ یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : (انی انست نارا) یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے : (ساتیکم منھا بخبر) میں وہاں سے تمہارے لئے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں (اواتکیم بشھاب قبس لعللکم تصطلون) ” یا سلگتا ہوا نگارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
14 فرعونیوں کی طرف سے موسیٰ کے معجزات کا انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے ان معجزات کا انکار کردیا جبکہ ان کے دل ان کی صداقت و حقانیت کا یقین کرچکے تھے۔ سو اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تعصب وعناد، ظلم وتکبر اور عناد و ہٹ دھرمی وغیرہ کس قدر بری چیزیں ہیں کہ حق کے پوری طرح واضح ہوجانے کے باوجود انسان کو اس سے محروم کردیتی ہیں۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ محض دل سے ماننا اور یقین کرلینا کافی نہیں جب تک کہ زبان سے بھی اس کا اقرار و اعلان نہ ہو۔ بہرکیف فرعونیوں نے حضرت موسیٰ کے ان معجزات کا جانتے بوجھتے اور دل میں انکو حق سمجھنے کے باوجود ان کا انکار کردیا۔ محض ظلم اور تکبر کی بنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
قوم موسیٰ کا ذکرباعث عبرت
تشریح : نبوت ملنے کا انداز بھی عجیب ہے سیدنا محمد ﷺ کو غار حرا میں نبوت ملی اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں ملی کہ آگ لینے گئے تو نبوت مل گئی اور ساتھ ہی دو معجزے بھی۔ ویسے آپ کو نو معجزے عطا کیے گئے تھے۔ آپ کے بارے میں اور آپ کی قوم اور فرعون کے بارے میں تفصیلاً سورة طہٰ رکوع 1 میں گزر چکا ہے۔ سورة الاعراف میں بھی یہ واقعہ کوہ طور پر ہوا جو سطح سمندر سے تقریباً 5 ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہاں رومی سلطنت کے پہلے عیسائی بادشاہ قسطنطین نے یاد گار کے طور پر 365 ء کے قریب وہاں ایک کلیسہ بنوا دیا۔ فرعون کے عبرت ناک انجام کی یہ کہانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة نمل
رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 14 ۔ اسرار و معارف :
طس۔ یہ قرآن کی آیات ہیں جو ایک کھلی کتاب ہے یعنی جو حقائق کو واضح کرکے بیان کرتی ہے اور باعث ہدایت بھی ہے اور نوید کامرانی بھی ان لوگوں کے لیے جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے یقین کی دلیل یہ ہے کہ عملاً اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور عبادات کے ادا کرنے میں پوری کوشش کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی کردار میں بھی اور معیشت میں بھی اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور یہ سب کسی دنیاوی فادے یا لالچ میں نہیں کرتے بلکہ انہیں آخرت اور روز جزا پر یقین کامل ہے لہذا اس روز کی کامیابی کے خواہشمند ہیں۔ اور ایسے لوگ جو آخرت پر یقین نہیں کرتے ان کو سزا کے طور پر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
6 ۔ سب کے سب بحر قلزم میں غرق کردیئے گئے ان میں سے کسی کو زندہ نہ چھوڑا گیا۔ (وحیدی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(27:14) جحدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ جحد وجحود مصدر (باب فتح) انہوں نے انکار کیا۔ جحد وجحود کے معنی ہیں کہ جس چیز کا دل میں اثبات ہو اس کی نفی اور جس کی نفی ہو اس کا اثبات کرنا۔
واستیقنتھا۔ ماضی واحد مؤنث غائب ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ استیقان (استفعال) یقین کرنا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ جو آیات کی طرف راجع ہے۔ واو حالیہ ہے حالانکہ (ان کے دلوں نے) ان معجزات کا یقین کرلیا تھا۔ ای علمت انفسھم علما یقینا انھا ایات من عند اللہ تعالیٰ ۔ حالانکہ ان کے دلوں نے یقینی طور پر جان لیا تھا کہ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ استیقان : ایقان سے زیادہ بلیغ ہے۔
ظلما وعلوا۔ (محض ظلم اور تکبر کی بناء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 14 :
(اھل) گھروالے۔ اہل خانہ) ‘ انست ( میں نے دیکھا) شھاب (شعلہ) ‘ قبس (انگارہ) نودی (آوازدی گئی) ‘ تصطلون (تم سینکو۔ گرمائی حاصل کرو) ‘ بورک (برکت دی گئی) ‘ حول ( اردگرد۔ آس پاس) ‘ تھتز (لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ۔ اژدھا) ‘ مدبرا (پیٹھ پھیرنے والا) ‘ لم یعقب (مڑکرنہ دیکھا) ‘ مبصرۃ (آنکھیں کھولنے والی) ‘ استیقنت ( یقین کرلیا) ‘ علو (بڑائی۔ تکبر) عاقبۃ (انجام۔ نتیجہ) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 7 تا 14 :
ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو اس سورت کے مضامین کے لحاظ سے دوبارہ ارشاد فرمایا گیا ہے جب وہ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس دس سال گذارنے کے بعد…
Read the full tafseer →(ف 1) ان لوگوں نے کھلم کھلا ان معجزوں کا انکار کیا، یہ معجزے تو اللہ تعالیٰ کے نہیں ہیں حالانکہ ان کے دل مان چکے تھے کہ یہ معجزے برحق ہیں جادو نہیں ہیں ان کے انکار کی وجہ سوائے ظلم اور سرکشی کے کوئی اور نہ تھی پھر فرمایا کہ ان مفسدوں کا ایسا برا انجام ہوا کہ دنیا میں ڈوبے ، آخرت میں جہنم کی آگ میں ڈالے جائیں گے اس لیے قریش کو حضرت موسیٰ اور فرعون کا قصہ بیان فرمایا کہ سمجھادیا کہ اگر یہ لوگ رسول اللہ کی اطاعت قبول نہ کریں گے تو ان کا انجام فرعون اور اس کی قوم کی طرح ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
[4] سورة اعراف میں ان نو معجزوں کی تفصیل یہ بیان کی گئی ہے : (1) لاٹھی جو اژدھا بن جاتی تھی۔ (2) ہاتھ بغل سے سورج کی طرح چمکتا ہوا نکلتا تھا۔ (3) جادوگروں کو برسر عام شکست دینا۔ (4) موسیٰ (علیہ السلام) کے پیشگی اعلان کے مطابق سارے ملک میں قحط سالی۔ (5) طوفان۔ (6) ٹڈی دل۔ (7) تمام غلے کے ذخیروں میں سرسریاں اور انسان و حیوان میں جوئیں۔ (8) مینڈکوں کا طوفان۔ (9) پانی کا لہو ہوجانا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
حضرت موسیٰ اور فرعون
2: حضرت موسیٰ جب حضرت شعیب سے جدا ہوئے تو انہوں نے جنگل میں اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھی تجلی کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے ۔ مختصراً یوں سمجھ لیجئے کہ تجلی کے معنی ایک نوع کے اظہار کے ہیں شئے تجلی وہ ہوتی ہے جس کو وہ نوربحث اپنے اظہار کا ایک عنوان ٹھہرادے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو مخاطب کیا اور فرمایا ۔ دیکھو میں تمہارا خدا ہوں اور اس کے بعد ان کو یہ بتایا کہ تمہارے عصا ہولناک سانپ بن سکتا ہے اور تمہارا ہاتھ سفید وبراق ہوجائے گا ۔ غرضیکہ اسی طرح کے نو خوارق ان کو دیئے گئے اور کہا گیا کہ اب فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔ وہ بہت ظالم ہوگیا ہے اور اس کی سرکشیاں حد سے بڑھ چکی…
Read the full tafseer →(14) اور فرعون کی قوم والوں نے ازروئے ظلم اور اقتدار کے غرور وتکبر سے ان تمام نشانات اور معجزات کا انکار کردیا حالانکہ ان کے جی اور ان کے دل ان نشانات کا یقین کرچکے تھے لہٰذا اے پیغمبر دیکھئے ان مفسدوں اور شریروں کا انجام کیسا ہوا یعنی پے درپے نشانات کو دیکھ کر دل تو قائل ہوگئے تھے لیکن اقتدار کا گھمنڈ غرور تکبر اور ناانصافی اور ظلم کی عادت ان خرابیوں کے باعث ضمیر کے خلاف انکار کرتے رہے لہٰذا دیکھ لیجئے کہ فساد برپا کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا کہ دنیا میں غرق کئے گئے اور قیامت میں جہنم کے گھاٹ اتارے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
ف 5۔ کہ دنیا میں غرق اور آخرت میں حرق کی سزا پائی۔
Read the full tafseer →فرعون نے اپنے ظلم کا اعتراف کرنے کے باوجود ظلم کو ترک نہ کیا :
14۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تفصیلی سرگزشت چونکہ پیچھے گزر چکی ہے جیسا کہ آپ پیچھے سے پڑھتے چلے آ رہے ہیں اور خصوصا سورة طہ میں وضاحت گزر چکی ہے اس لئے اس کا اختصار سے یہاں ذکر کیا گیا اور آخر میں اصل مدعا سامنے رکھ دیا گیا جس کے لئے یہ سرگزشت بار بار وقفہ وقفہ سے سنائی جا رہی ہے ، اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ﷺ کو مخاطب کرکے بتایا جا رہا ہے کہ اے رسول ﷺ جو لوگ دعوت حق کو قبول نہ کرنا چاہتے ہوں وہ ایک دو نہیں بیسیوں نشانیاں دیکھ لینے کے بعد اپنے انکار کے لئے کوئی نہ کوئی راہ نکال ہی لیتے ہیں باوجود اس کے کہ ان کے دل بھی اقرار کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنًا بَعْدَ سُوءٍ فَإِنِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿11﴾
Except him who did wrong, then after (doing) evil replaced (it) with good, then I am Most-Forgiving, Very-Merciful. 27:11
The miracle of the staff of Sayyidna Musa (علیہ السلام) was mentioned in the verse prior to this, where it was also stated that when the staff turned into serpent, Sayyidna Musa (علیہ السلام) himself started running out of fear. The other miracle of illuminative hand of Sayyidna Musa (علیہ السلام) is related in the verse next to above referred verse. Then why this exception is mentioned…
Read the full tafseer →17 As mentioned at other places in the Qur'an, whenever a plague befell Egypt as foretold by the Prophet Moses, Pharaoh would say, "O Moses, pray to your Lord to remove this plague; then we shall submit to what you say." But as soon as the plague was removed, Pharaoh would break his promise. (Al-A'raf: 134, Az-Zukhruf: 49-50). The Bible also has mentioned it (Exod., chs. 8 to 10), and otherwise also it could not be imagined that the occurrence of a famine throughout the country and the coming of a violent storm and the incidence of the locusts and the frogs and the weevils in such abundance…
Read the full tafseer →