Explained with ayahs 15–19
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی حضرت سلیمان اور حضرت داؤد ؑ پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے لکھا ہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ…
Read the full tafseer →سورة النمل 18
یعنی حقیقت کا علم۔ اس بات کا علم کہ درحقیقت ان کے پاس اپنا کچھ بھی نہیں ہے جو کچھ ہے اللہ کا عطیہ ہے اور اس پر تصرف کرنے کے جو اختیارات بھی ان کو بخشے گئے ہیں انہیں اللہ ہی کی مرضی کے مطابق استعمال کیا جانا چاہیے، اور اس اختیار کے صحیح و غلط استعمال پر انہیں مالک حقیقی کے حضور جواب دہی کرنی ہے، یہ علم اس جہالت کی ضد ہے جس میں فرعون مبتلا تھا، اس جہالت نے جو سیرت تعمیر کی تھی اس کا نمونہ وپر مذکور ہوا، اب بتایا جاتا ہے کہ یہ علم کیسی سیرت کا نمونہ تیار کرتا ہے، بادشاہی، دولت، حشمت، طاقت، دونوں طرف یکساں ہے، فرعون کو بھی یہ ملی تھی اور داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کو بھی۔ لیکن…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ہم نے داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کو (شریعت اور حکمرانی کا) علم عطا فرمایا اور ان دونوں نے (ادائے شکر کے لئے) کہا کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے سزاوار ہیں جس نے ہم کو اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر فضیلت دی اور داؤد (علیہ السلام کی وفات کے بعد ان) قائم مقام سلیمان ؑ ہوئے (یعنی ان کو سلطنت وغیرہ ملی) اور انہوں نے (اظہار شکر کے لئے) کہا کہ اے لوگوہم کو پرندوں کی بولی (سمجھنے) کی تعلیم کی گئی ہے (جو دوسرے بادشاہوں کو حاصل نہیں) اور ہم کو (سامان سلطنت کے متعلق) ہر قسم کی (ضروری) چیزیں دی گئی ہیں (جیسے فوج، لشکر مال اور آلات جنگ وغیرہ) واقعی یہ (اللہ تعالیٰ کا) کھلا ہوا فضل ہے اور…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون ……آیات 44-15
اوپر کی آیات سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ حق کے انکار کا اصل سبب حقیقت کا خفا نہیں بلکہ لوگوں کا ظلم و استکبار ہے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نعمت عطا فرماتا ہے وہ نعمت ان کے لئے فتنہ بن جاتی ہے اور وہ بجائے اس کے کہ خدا کے زیادہ سے زیادہ شکر گزار اور اس کے فرمانبردار بندے نہیں خدا سے اکڑنے والے اور اس کی زمین میں فساد برپا کرنے والے بن جاتے ہیں۔ اب ان کے مقابل میں اللہ کے صالح و مصلح بندوں کر ذکر ہو رہا ہے کہ ان پر اللہ کی نعمتیں جتنی ہی زیادہ ہوتی جاتی ہیں ان کی گردنیں ثمر بار شاخ کی طرح خدا کے آگے اتنی ہی جھکتی جاتی ہیں۔ اس کردار کی عملی مثال کے طور پر حضرت دائود اور…
Read the full tafseer →15-1سورت کے شروع میں فرمایا گیا تھا کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے سکھلایا جاتا ہے اس کی دلیل کے طور پر حضرت موسیٰ ؑ کا مختصرا قصہ بیان فرمایا اور اب دوسری دلیل حضرت داؤد ؑ و سلیمان ؑ کا یہ قصہ ہے انبیا (علیہم السلام) کے یہ واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں علم سے مراد نبوت کے علم کے علاوہ وہ علم ہے جن سے حضرت داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کو بطور خاص نوازا گیا تھا جیسے حضرت داؤد ؑ کو لوہے کی صنعت کا علم اور حضرت سلیمان ؑ کو جانوروں کی بولیوں کا علم عطا کیا گیا تھا ان دونوں باپ بیٹوں کو اور بھی بہت کچھ عطا کیا گیا تھا لیکن یہاں صرف علم کا ذکر کیا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
7: یاد رہے کہ ایک صحیح حدیث کے مطابق انبیاء (علیہم السلام) کا ترکہ ان کے وارثوں میں تقسیم نہیں ہوتا، اس لئے یہاں وراثت ملنے کا مطلب یہ ہے کہ نبوت اور سلطنت میں وہ اپنے والد حضرت داؤد ؑ کے جانشین ہوئے۔
8: حضرت سلیمان ؑ کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی بولیاں سکھادی تھیں، جس کی وجہ سے ان کو پتہ چل جاتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، بلکہ آگے چیونٹی کا جو واقعہ آرہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں پرندوں کے علاوہ دوسرے جانوروں کی بولی سکھائی گئی تھی، بعض معاصرین نے نہ جانے اس بات کو تسلیم کرنے میں کیا دشواری محسوس کی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے ان آیتوں میں دوراز کار تاویلات کا دروازہ کھول دیا ہے، حالانکہ…
Read the full tafseer →درس نمبر 271 ایک نظر میں
” یہاں حضرت دائود کی طرف صرف ایک اشارہ ہے لیکن پورا قصہ صرف حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ہے اور اس سے قبل حضرت مسویٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ایک مختصر کڑی دی گئی ہے۔ یہ سب حضرات انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے اور اس سورت کے آغاز ہی میں قرآن کریم پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا۔
ان ھذا ……یختلفون (82 : 68) اس سورت میں حضرت سلیمان علیہالسلام کے قصے کی سب سورتوں کے مقابلے میں زیادہ تفصیلات دی گئی ہیں ، یعنی جہاں جہاں حضرت سلیمان کا تذکرہ ہوا ہے۔ اگرچہ یہاں ان کے حالات زندگی میں سے قصہ ہد ہد اور ملکہ سبا کی تفصیلات ہیں۔ اس کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علہی السلام…
Read the full tafseer →8 حضرت سلیمان حضرت داؤد (علیہ السلام) کے صاحبزادہ ہیں۔ باپ بیٹے میں سے ہر ایک کو اس کی شان کے لائق اللہ تعالیٰ نے علم کا خاص حصہ عطا فرمایا۔ شرائع و احکام اور اصول سیاست و حکمرانی وغیرہ کے علوم سب اس لفظ کے تحت میں داخل ہوگئے۔
9 حق تعالیٰ نے جو علم داؤد سلیمان (علیہما السلام) کو دیا تھا اسی کا اثر یہ تھا کہ حق تعالیٰ کے انعامات کا شکر ادا کرتے تھے۔ کسی نعمت الٰہی پر شکر ادا کرنا اصل نعمت سے بڑی نعمت ہے۔
10 " بہت سے " اس لیے کہا کہ بہت بندگان خدا کو ان پر فضیلت دی گئی ہے۔ باقی تمام مخلوق پر فضیلت کلی تو سارے جہان میں ایک ہی بندے کو حاصل ہوئی جن کا نام مبارک ہے محمد رسول اللہ ﷺ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
وَقَالَا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ ”
وہ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے کہ اللہ نے انہیں مؤمنین کے درمیان ایک خاص مرتبہ عطا کیا تھا۔
Read the full tafseer →14 حضرت داؤد (علیہ السلام) کے چھ اور بھائی تھے آپ سب سے چھوٹے تھے۔ ریوڑ چڑایا کرتے تھے۔ پست قامت اور مضبوط جسم کے مالک تھے۔ تیر اندازی اور نشانہ بازی میں خوب ماہر تھے اور یہ آپ کی پیشہ ورانہ ضرورت تھی۔ جالوت سے لڑائی کے وقت یہ طالوت کے لشکر میں محض ایک سپاہی تھے۔ نشانہ بازی میں مہارت کی بنا پر آپ نے تلافن میں ایک پتھر کا نشانہ بنا کر جالوت کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ بعد طالوت نے اپنی بیٹی کا ان سے نکاح کردیا۔ اسی طرح طالوت کے بعد بادشاہی بھی ان کی طرف منتقل ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے نبوت سے بھی سرفراز فرمایا اور یہ تفصیل سورة بقرہ کی آیت نمبر 251 کے تحت پہلے گزر چکی ہے۔ پھر ان کی اولاد انیس…
Read the full tafseer →16۔ یعنی علم نبوت وملک داری۔ ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے، نیز اسی تفسیر کے حاشیے سورة الانبیاء پ 17 میں۔
17۔ (اور ہم اس پر ادائے شکر اور تحدیث نعمت کرتے ہیں) (آیت) ” فضلنا “ اظہار افضیلت مطلق صورت میں مذموم وممنوع نہیں، ممنوع صرف راہ کبر و تفاخر سے ہے۔ (آیت) ” علی کثیر من عبادہ ال مومنین “۔ افضیلت کل مومنین پر نہیں، صرف اکثر مومنین پر ہے، دعوی بس یہیں تک محدود ہے۔ دوسرے انبیاء آخر ان سے افضل بھی تو ہوئے ہیں۔ ضمنا اس میں رد آگیا توریت کا، جس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نعوذ باللہ ایک بددین انسان کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ غلبہ فنا کے آثار کا دائم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
آیت نمبر 15 تا 21
ترجمہ : اور ہم نے داؤد اور اس کے بیٹے سلیمان کو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا علم عطا کیا اور پرند وغیرہ کی بولی سکھائی اور ان دونوں حضرات نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا سب تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے ہم کو نبوت کے ذریعہ اور جن و انس و شیاطین کی تسخیر کے ذریعہ اپنے مومن بندوں میں سے بہت سوں پر فضیلت عطا فرمائی اور سلیمان (علیہ السلام) نبوت اور علم میں داؤد (علیہ السلام) کے وارث ہوئے اور سلیمان (علیہ السلام) نے کہا اے لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولی یعنی ان کی آواز کی سمجھ سکھائی اور ہم کو ہر وہ شئ عطا فرمائی جو انبیاء اور ملوک کو عطا کی جاتی ہے (یعنی جس کی ان کی حاجت ہوتی…
Read the full tafseer →ولقد اتینا داود و سلیمن علما . اور ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ یعنی طاقت بشریہ کے مطابق اللہ کی ذات ‘ صفات ‘ احکام اور مبدء و معاد کے احوال اور پرندوں اور چوپایوں کی بولی اور پہاڑوں کی تسبیح اور لوہے کو نرم کرنے کا علم ہم نے عطا کیا۔
وقالا الحمد اللہ الذی فضلنا علی کثیر من عبادہ المؤمنین . اور (ا اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے
ہوئے) دونوں نے کہا : تعریف ہے اس اللہ کی جس نے اپنے کثیر مؤمن بندوں پر ہم کو برتری عنایت فرمائی۔
قَالاَ سے پہلےنہ ہونا اور واؤ ہونا بتارہا ہے کہ اس سے پہلے کچھ کلام محذوف ہے۔ پوری عبارت اس طرح تھی پس دونوں نے علم کے مطابق عمل کیا اور نعمت کے حق کو پہچان کر یہ…
Read the full tafseer →(15) اور ہم نے داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کو شریعت اور حکومت کا علم اور فہم عطا فرمائی اور ان دونوں نے شکر ادا کرنے کے لیے فرمایا کہ تمام تعریفوں کا اللہ تعالیٰ ہی حق دار ہے جس نے ہمیں علم اور فہم عطا فرمائی اور ان دونوں نے شکر ادا کرنے کے لیے فرمایا کہ تمام تعریفوں کا اللہ تعالیٰ ہی حق دار ہے جس نے ہمیں علم اور نبوت کے ذریعے اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی اور داؤد ؑ کے نو لڑکے تھے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ عِلْمًا : موسیٰ ؑ اور فرعون کے قصّے میں ان لوگوں کا نمونہ ملتا ہے جنھوں نے جانتے بوجھتے ہوئے محمد ﷺ کی رسالت کا انکار کیا، جیسے ابو لہب اور ابوجہل وغیرہ اور سلیمان ؑ اور ملکہ سبا کے قصّے میں ان لوگوں کا نمونہ ہے جو حق واضح ہونے پر ایمان لے آئے اور فرعون کے طرز عمل کے برعکس ان کی سلطنت ان کے لیے حق کے اعتراف میں رکاوٹ نہیں بنی۔ یہی حال رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والوں کا تھا۔ یمن کا بادشاہ نجاشی ہو یا سرداران قریش میں سے ایمان لانے والے ہوں، یا مدینہ کے اوس و خزرج کے سردار۔
”عِلْماً“ کی تنوین تنکیر کے لیے بھی ہوسکتی ہے، جس سے ایک قسم کا علم مراد ہو، یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(ولقد اتینا دائود۔۔۔۔۔ )
ولقد اتینا دائود وسلیمن علما علم سے مراد فہم ہے، یہ قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دین، حکم وغیرہ کا علم، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وعلمنہ صنعۃ لبوس لکم “ ( الانبیائ : 80) ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیمیا گری کی صنعت : یہ قول شاذ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو نبوت اور زمین میں خلافت عطاء فرمائی اور زبور عطاء کی۔ وقالا الحمد للہ الذی فضلنا علی کثیر من عبادہ المومنین اس آیت میں علم کے شرف، مقام کی بلندی اور اہل علم کے تقدیم پر دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے علم کی نعمت سب سے عظیم نعمت ہے اور مومن بندوں میں سے جس کو علم عطا کیا گیا اسے خیر کثیر عطاء…
Read the full tafseer →داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ پہاڑ کی تسبیح
1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ داوٗد (علیہ السلام) کو تین چیزیں دی گئیں ان کے لیے پہاڑوں کو مسخر کردیا گیا پہاڑ ان کے ساتھ تسبیح پڑھتے تھے اور ان کے لیے لوہے کو نرم کردیا گیا اور پرندوں کی بولی ان کو سکھائی گئی اور سلیمان (علیہ السلام) کو دو چیزیں دی گئیں ان کو پرندوں کی زبان کی تعلیم دی گئی اور ان کے لیے جنات کو مسخر کردیا گیا اور یہ چیزیں ان کو داوٗد (علیہ السلام) سے ورثہ کے طور پر دی گئیں تھی اور ان کے لیے پہاڑوں کو مسخر نہیں کیا گیا اور ان کے لیے لوہے کو نرم نہیں کیا گیا۔
2۔ ابن ابی حاتم نے عمر بن عبدالعزیز (رح) سے روایت کیا کہ انہوں…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنَا [ اور بیشک ہم دے چکے ہیں ] دَاوٗدَ [ داود (علیہ السلام) کو ] وَسُلَيْمٰنَ [ اور سلیمان (علیہ السلام) کو ] عِلْمًا ۚ [ ایک علم ] وَقَالَا [ اور ان دونوں نے کہا ] الْحَمْدُ [ تمام حمد ] لِلّٰهِ الَّذِيْ [ اس اللہ کے لئے ہے جس نے [ فَضَّلَنَا [ فضیلت دی ہم کو ] عَلٰي كَثِيْرٍ [ بہتوں پر ] مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِيْنَ [ اپنے مومن بندوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا علم و فضل، جن و انس پر حکومت، چیونٹیوں کو بلوں میں داخل ہونے کا مشورہ
ان آیات میں جو حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے ان دونوں کو علم عطا فرمایا تھا علوم نبوت تو ان دونوں کو دیئے ہی تھے دوسرے علوم بھی عطا فرمائے تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے لوہے کو نرم فرما دیا تھا وہ اس سے لوہے کی زرہیں بناتے تھے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ایسا اقتدار عطا فرمایا تھا جس کے ذریعہ شیاطین سے کام لیتے تھے ان سے عمارتیں بھی بنواتے تھے اور ان سے سمندروں میں غوطے بھی لگواتے تھے اور ان سے بڑے بڑے برتن بنواتے تھے جو تالابوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
قصہء دوم داؤد (علیہ السلام) اجمالا وسلیمان (علیہ السلام) تفصیلاً
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا داود وسلیمان علما۔۔۔ الی۔۔۔ وادخلنی برحمتک فی عبادک الصالحین۔
ان آیات میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام کا قصہ بیان کرتے ہیں اور ان دینی اور دنیوی احسانات اور انعامات کا ذکر کرتے ہیں جو منجانب اللہ ان دونوں پیغمبروں پر مبذول ہوئے۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) کو نبوت اور علم شریعت کے علاوہ سلطنت عطا کی اور خارق عادت طریقہ پر زرہ سازی کی صنعت بتلائی تاکہ کافروں سے جہاد میں مدد ملے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کو منطق الطیر اور تسخیر جن اور تسخیر ہوا کا معجزہ عطا فرمایا جن اور انس کو ان کا تابع فرمان…
Read the full tafseer →14:۔ یہ دوسرا قصہ ہے اور اس کے ضمن میں بھی پہلی علت کا بیان مقصود ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بڑے جلیل الشان پیغمبر تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑا علم و فضل عطا فرمایا تھا۔ انسانوں کے علاوہ وحوش و طیور اور جن بھی ان کے تابع تھے مگر اس کے باوجود وہ غیب داں نہ تھے انہیں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ ہدہد کہاں غائب ہوگیا ہے نیز وہ ملکہ سبا اور اس کی قوم کے حالات سے بھی واقف نہ تھے۔ اسی طرح ملکہ سبا کا تخت لانے پر بھی قادر نہ تھے۔ اسی لیے “ یا ایہا الملا ایکم یاتینی بعرشھا الخ ” فرمایا۔ اس واقعہ میں بھی مومنوں کے لیے رہنمائی اور ہدایت ہے کہ سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں “ علماً ” سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ربط آیات
سورۃ کی ابتداء قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت سے ہوئی ۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت اور ان کو فرعون کی قوم کی طرف بھیجنے کا ذکر ہوا ۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) بعض نشانیاں لے کر پہنچے تو قوم فرعون نے اسے جادو کہ انکار کردیا حالانکہ ان کے دلوں میں یقین تھا کہ یہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں بلکہ ایسی خارق عادت نشانی اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے نبی کے ہاتھ پر ہی ظاہر ہو سکتی ہے۔ بہر حال انہوں نے ظلم وتعدی اور غرور وتکبر کی بناء پر معجزات کا انکار کیا تو اللہ نے فرمایا کہ تم نے ایسے فسادیوں کا انجا م بھی تو دیکھ لیا کہ وہ کس طرح غرقاب ہوئے۔ اب آ ج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ عِلْمًا 0ۚ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِيْ فَضَّلَنَا عَلٰي كَثِيْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِيْنَ 15
داود
داود اسم أعجميّ.
( د و د ) داؤد ) (علیہ السلام) یہ عجمی نام ہے اور عجمہ وعلمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے )
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
حمد
الحَمْدُ لله تعالی: الثناء عليه بالفضیلة، وهو أخصّ من المدح وأعمّ من الشکر، فإنّ المدح يقال فيما يكون من الإنسان باختیاره، ومما يقال منه وفيه بالتسخیر، فقد يمدح الإنسان بطول قامته وصباحة وجهه، كما يمدح ببذل ماله وسخائه وعلمه، والحمد يكون في الثاني دون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
ترکیب : غیر بعید ای مکانا غیر بعید رو وقت خیر بعید او مکشا الا یسجد والا لیست زائدۃ وموضعالکلام نصب بدلامن اعمالھم والتحقیق وفل حرف التنبیہ علی الفعل من غیر تقدیر حذف۔ الخباء مصدر بمعنی المخبور من المفرو النبات انہ من سلیمان بالکسر علی الاستیناف وابلفتح بدلا من کتاب ومرفوع بکریم الی تعلوا موضعہ رفع بدلا من کباب۔
ترکیب : ضاحکا حال موکدۃ وقیل مقدرۃ لان التبسم مبداء الضحک ویقرء ضحکا علی انہ مصدر و العامل فیہ تبسم لانہ بمعنی ضحک حشر کا مفعول مالم یسم فاعلہ جنودہ۔
تفسیر … سلیمان ( علیہ السلام) کا قصہ : یہ دوسرا قصہ حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا ہے جو اس تفصیل سے یہود و نصاریٰ کو بھی…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ عِلْمًا ج وَقَا لاَ الْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (النمل : 15)
(اور ہم نے دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علم عطا کیا اور انھوں نے کہا کہ شکر ہے اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ )
انسانی زندگی میں شکر کے اثرات
انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایک مکلف مخلوق کی حیثیت سے زمین پر بھیجا۔ اسے شعور و خرد اور قوت امتیاز کی دولت سے بہرہ ور فرمایا، لیکن اس کی آزمائش کے لیے ابلیس اور اس کی ذُرِّیت کو بھی فریب و دجل کی صلاحیتوں سے مسلح فرما کر انسان کے ساتھ ہی زمین پر اتارا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے والد حضرت داؤد (علیہ السلام) کی مسند پر جلوہ افروز ہوئے اور انھوں نے اپنی نبوت اور اقتدار کے بارے میں لوگوں کو ان الفاظ میں آگاہ فرمایا۔
قرآن مجید کے الفاظ سے یوں لگتا ہے کہ جیسے حضرت داؤد (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو یہ پہلا خطاب تھا۔ جس میں انھوں نے اپنی نبوت، اقتدار اور اختیار کے بارے میں عوام کو آگاہ فرماتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ جو کچھ ہمیں ملا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں سے لے کر چیونٹیوں تک کی زبان اور…
Read the full tafseer →15: وَلَقَدْ ٰاتَیْنَا دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ عِلْمًا (اور ہم نے دائود و سلیمان (علیہما السلام) کو یقینا علم دیا) ۔ یہاں آتینا اعطینا کے معنی میں ہے یعنی عطا کیا۔ علماً ۔ نمبر 1۔ کچھ علم۔ نمبر 2۔ شاندار علم۔ اس سے مراد بہر صورت علم دین اور فیصلہ ہائے نبوت ہیں۔
وَقَالَا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ (دونوں نے کہا تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے اپنے بہت سے مومن بندوں پر ہمیں فضیلت دی) ۔ اور یہ آیت ہماری دلیل ہے معتزلہ کے خلاف اصلح للعباد کو چھوڑنے ہیں۔ یہاں محذوف ہے تاکہ وائو کا عطف صحیح ہوجائے۔ اگر محذوف نہ مانیں تو پھر فاء…
Read the full tafseer →15۔ ولقد اتینا، و سلیمان علما، فیصلے کا علم پرندوں کی بولی کا علم اور چوپاؤں کی زبان شیطان کا مسخر ہونا اور پہاڑوں کی تسبیح، وقالاالحمدللہ الذی فضلنا، نبوت کتاب ، تسخیر، شیطان خواہ جنوں میں سے ہویا انسانوں میں سے علی کثیر من عبادہ المومنین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
15 تا 26 بعضے مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے یہ قرآن شریف کے مخالف ہے اس لیے کے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ خصوصیت کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جانوروں کو بولی سمجھنے کی نعمت عنایت فرمائی تھی جو نعمت مخلوق الٰہی میں سے کسی کو عنایت نہیں ہوئی اور حضرت سلیمان کا قول اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں نقل کیا ہے اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی اس نعمت کو اپنی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا ہے جب یہ کہا جاوے گا کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے تو پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خصوصیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
آیت 15 سے 44
اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…
Read the full tafseer →15 داؤد و سلیمان کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم نے داؤد اور سلیمن کو بھی ایک عظیم الشان علم بخشا "۔ تنوین یہاں پر تعظیم کے لئے ہے۔ یعنی ایک عظیم الشان علم۔ اور حضرت داؤد اور سلیمٰن (علیہ السلام) کو نبوت اور حکومت و جہانبانی دونوں کا علم بخشا گیا تھا۔ چناچہ ان حضرات کی حکمرانی بھی اپنی مثال آپ تھی اور دیگر کئی عظیم الشان خصوصیات سے بھی ان کو نوازا گیا تھا۔ (ابن کثیر، مراغی وغیرہ) ۔ سو اس علم کی بنا پر انہوں نے ایک عظیم الشان سلطنت قائم کی۔ سو ان دونوں حضرات کو جس عظیم الشان علم سے نوازا گیا تھا اس میں حکمت و معرفت کا وہ علم بھی شامل تھا جس کا مظہر اور نمونہ " زبور " اور " امثال "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں
تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–31
آیات نمبر 15:31 اسرار و معارف :
ہم نے داود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علوم نبوت سے سرفراز فرمایا یہاں علم سے مراد نبوت کے ساتھ دوسرے علوم بھی شامل ہیں کہ حکومت و سیاست کا علم یا فنون میں سے زرہ سازی کا علم جو داود (علیہ السلام) کو بطور خاص عطا ہوا تھا نیز ان کی خصوصیت حکومت و سلطنت بھی تھی اور وہ حضرات اس پر شکر بھی ادا کرتے تھے کہ انہیں بہت سے نیک بندوں میں خاص فضیلت عطا کی گئی مثلاً ہر نبی کو بھی حکومت و سلطنت تو عطا نہ ہوئی اور سلیمان (علیہ السلام) داود (علیہ السلام) کے وارث مقرر ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر وہ نعمت عطا ہوئی ہے جو اس عظیم…
Read the full tafseer →7 ۔ یعنی دین و شریعت کا علم۔ (قرطبی) 8 ۔ یعنی ہمیں علم و نبوت عطا فرما کر اور پرندوں، جنوں اور انسانوں کو ہمارے تابع فرمان بنا کر اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی۔ ” بہت سے “ کا لفظ اس لئے استعمال فرمایا کہ نہیں بہت سوں پر ہی فضیلت دی گئی تھی ” سب پر “ نہیں کیوں کہ سب پر فضیلت تو صرف آنحضرت خاتم الانبیاء کو ہی حاصل ہوئی ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
(27:14) جحدوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ جحد وجحود مصدر (باب فتح) انہوں نے انکار کیا۔ جحد وجحود کے معنی ہیں کہ جس چیز کا دل میں اثبات ہو اس کی نفی اور جس کی نفی ہو اس کا اثبات کرنا۔
واستیقنتھا۔ ماضی واحد مؤنث غائب ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ استیقان (استفعال) یقین کرنا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ جو آیات کی طرف راجع ہے۔ واو حالیہ ہے حالانکہ (ان کے دلوں نے) ان معجزات کا یقین کرلیا تھا۔ ای علمت انفسھم علما یقینا انھا ایات من عند اللہ تعالیٰ ۔ حالانکہ ان کے دلوں نے یقینی طور پر جان لیا تھا کہ یہ آیات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ استیقان : ایقان سے زیادہ بلیغ ہے۔
ظلما وعلوا۔ (محض ظلم اور تکبر کی بناء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 19 :
فضلنا (ہم نے فضیلت دی۔ بڑائی دی) علمنا ( ہمیں سکھایا گیا) منطق (بولنا۔ بولی) الطیر (پرندہ۔ پرندے) حشر (جمع کیا گیا) ‘ یوزعون (وہ روکے جاتے ہیں) ‘ وادالنمل (چیونٹیوں کا میدان) ‘ لایحطمن (روند نہ ڈالیں) تبسم (وہ مسکرادیا) ضاحک ( ہنسنے والا) ‘ اوزعنی ( مجھے توفیق دے) ‘ ترضی (توخوش ہوجائے) ۔
تشریح : آیت نمبر 15 تا 19 :
حضرت دائود (علیہ السلام) جو بنی اسرائیل کے عظیم پیغمبر تھے ان کو اللہ نے زبور کے ساتھ ساتھ ایسی خوبصورت آواز سے نوازا ھتا کہ جب وہ اپنی خوبصورت آواز میں زبور کی آیات کی تلاوت اور اللہ کی حمد وثناء کرتے تھے تو تمام انسان ‘ جنات ‘ چرند پرند اور درند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو علم دیا۔ ان کا علم و دانش مشہور اور ضرب المثل ہے، جس کے شکریہ میں وہ کہنے لگے کہ سب خوبیاں اس اللہ کو ہیں جس نے ہمیں بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطا کی۔ اور داؤد (علیہ السلام) کے وارث سلیمان (علیہ السلام) نے لوگوں سے اس بات کا خطاب کیا کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے جن اور شیاطین اور جانوروں کی بولی سکھلائی ، یہ اس علم اور ورثہ کی تفصیل شروع ہوتی ہے کہ ہم کو جانوروں کی بولی بتائی ، چناچہ منقول ہے کہ مور ایک روزیہ کہہ رہا تھا کہ جو کچھ یہاں کرتا ہے اس کا بدلہ آخرت میں ملے گا، ایک…
Read the full tafseer →[5] داؤد و سلیمان (علیہما السلام) پر حاشیے سورة بقرہ میں گزر چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
حضرت موسیٰ اور فرعون
2: حضرت موسیٰ جب حضرت شعیب سے جدا ہوئے تو انہوں نے جنگل میں اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھی تجلی کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے ۔ مختصراً یوں سمجھ لیجئے کہ تجلی کے معنی ایک نوع کے اظہار کے ہیں شئے تجلی وہ ہوتی ہے جس کو وہ نوربحث اپنے اظہار کا ایک عنوان ٹھہرادے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو مخاطب کیا اور فرمایا ۔ دیکھو میں تمہارا خدا ہوں اور اس کے بعد ان کو یہ بتایا کہ تمہارے عصا ہولناک سانپ بن سکتا ہے اور تمہارا ہاتھ سفید وبراق ہوجائے گا ۔ غرضیکہ اسی طرح کے نو خوارق ان کو دیئے گئے اور کہا گیا کہ اب فرعون اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔ وہ بہت ظالم ہوگیا ہے اور اس کی سرکشیاں حد سے بڑھ چکی…
Read the full tafseer →(15) اب آگے حضرت دائود و سلیمان (علیہا السلام) کے ذکر میں ایک ایسی عورت کا ذکر جو نشاناتِ الٰہی کو دیکھ کر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے ہاتھ پر مشرف بہ سلام ہوئی اور شرک سے توبہ کرنے کا اعلان کیا یعنی مکہ سبا کے اسلام کا ذکر چناچہ ارشاد ہوتا ہے ار بلاشبہ ہم نے دائود ار سلیمان (علیہ السلام) کو علم عطا فرمایا اس پر ان دونوں باپ بیٹوں نے کہا تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کو لائق اور سزا وار ہیں جس نے ہم کو اپنے بہت سے ایمان والے بندوں پر بزرگی اور فضیلت عطا فرمائی یعنی ان کو علم شریعت اور حکم رانی کا طریقہ سکھایا اس پر انہوں نے ہمارا شکر ادا کرتے ہوئے کہا الحمد للہ اذی فضلنا علی کثیر من عبادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
ف 5۔ کہ دنیا میں غرق اور آخرت میں حرق کی سزا پائی۔
Read the full tafseer →داؤد اور سلیمان کو بھی علم دیا گیا اور وہ دونوں اللہ کے شکرگزار بندے تھے :
15۔ فرعون کی سرگزشت نے یہ بات ثابت کردی کہ فرعونیت اختیار کرنے والے اس لئے نہیں اختیار کرتے کہ ان کو حق وصداقت کا علم نہیں ہوتا بلکہ وہ اس لئے اس کو اختیار کرتے ہیں کہ ان کے پاس مال و دولت کے ڈھیر ہوتے ہیں اور اس ورطہ پر انکو ایسے اعوان انصار اور مشیر وزیر مل جاتے ہیں جو ان کی ہاں میں ہاں ملا کر ان کو غلط راستے پر گامزن کردیتے ہیں اور ایک بار جب وہ قدم اٹھا لیتے ہیں تو پھر ہر قدم اسی سمت اٹھانے پر وہ مجبور ہوجاتے ہیں اور ان کا ظلم وستم روز بروز ترقی ہی کرتا چلا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ نعمت و خوشحالی بھی ان…
Read the full tafseer →Commentary
وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا
And surely We gave knowledge to Dawud and Sulaiman. (27:15)
The knowledge given to Sayyidna Dawud and Sulaiman (علیہما السلام) was obviously the special knowledge normally given to the prophets about their functions and obligations as prophets, but at the same time it may also include other sciences and arts, as Sayyidna Dawud (علیہ السلام) was given the art of making armors. Sayyidna Dawud and Sulaiman (علیہما السلام) enjoyed a special position among the prophets in that they were also bestowed with the empire along with the…
Read the full tafseer →18 That is, the knowledge of the Reality, the knowledge that whatever they have is not theirs but the gift of Allah and whatever rights they have been granted over those things should be used strictly according to Allah's will, for they will be held answerable before Allah, the real Owner, for the right and wrong use of those rights. This knowledge is the opposite of the ignorance in which Pharaoh was involved. The type of character built on the ignorance has been presented in the preceding verses. Now, in the following verses, the model of the character built on the knowledge is being…
Read the full tafseer →