Explained with ayahs 15–19
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی حضرت سلیمان اور حضرت داؤد ؑ پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے لکھا ہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ…
Read the full tafseer →سورة النمل 20
وراثت سے مراد یہاں مال و جائداد کی وراثت نہیں بلکہ نبوت اور خلافت میں حضرت داؤد کی جانشینی ہے، مال و جائداد کی میراث اگر بالفرض منتقل ہوئی بھی ہو تو وہ تنہا حضرت سلیمان ہی کی طرف منتقل نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ حضرت داؤد کی دوسری اولاد بھی موجود تھی، اس لیے اس آیت کو اس حدیث کی تردید میں پیش نہیں کیا جاسکتا جو نبی ﷺ سے مروی ہے کہ لا نورث ما ترکنا صدقۃ، " ہم انبیاء کی وراثت تقسیم نہیں ہوتی، جو کچھ ہم نے چھوڑا وہ صدقہ ہے "۔ (بخاری، کتاب فرض الخمس) اور ان النبی لا یورث انما میراثہ فی فقراء المسلمین والمساکین " نبی کا وارث کوئی نہیں ہوتا، جو کچھ وہ چھوڑتا ہے وہ مسلمانوں کے فقراء اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
انبیاء میں مال کی وراثت نہیں ہوتی
وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ ، وَرِثَ سے وراثت علم اور نبوت مراد ہے وراثت مال نہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا (نحن معاشر الانبیآء لا نرث ولا نورث) یعنی انبیاء نہ وارث ہوتے ہیں اور نہ مورث، حضرت ابوالدرداء سے ترمذی اور ابو داؤد میں روایت ہے۔ العلماء ورثۃ الانبیاء و ان الانبیاء لم یورثوا دینارا ولا درھما ولکن ورثوا العلم فمن اخذہ اخذ بحظ وافر۔ یعنی علماء انبیاء کے وارث ہیں، لیکن انبیاء میں وراثت علم اور نبوت کی ہوتی ہے مال کی نہیں ہوتی۔ حضرت ابوعبداللہ (جعفر صادق) کی روایت اس مسئلہ کو اور زیادہ واضح کردیتی ہے کہ حضرت سلیمان ؑ حضرت داؤد ؑ کے وارث ہوئے اور سرور دو…
Read the full tafseer →حضرت سلیمان کی فضائی فوج
یعنی حضرت دائود کے اس حضرت سلیمان ان کے واثر ہوئے۔ جیسا نامور باپ تھا اس سے بڑھ کر نامور بیٹا ہوا۔ سورة انبیاء میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ حضرت سلیمان نے اپنی بری فوج کے ساتھ ساتھ اپنی بحری طاقت کو بڑی ترقی دی۔ ان کا بحری بیڑا دنیا کا سب سے زیادہ طاقتور بیڑا ھتا۔ اس آیت سے اور آگے کی آیات سے واضح ہوتا ہے کہ ان کو پرندوں کی بولی کا بھی خاص علم عطا ہوا تھا اور ان کی تربیت کر کے وہ اپنی فوج میں ان سے نامہ بری، خبر رسانی اور سراغ رسانی کا کام نہایت اعلیٰ پیمانہ پر لیتے تھے اور اس طرح انہوں نے گویا اپنی ایک فضائی فوج بھی مرتب کرلی تھی۔ لیکن یہ سب کچھ حاصل ہونے کے باوجود انہوں…
Read the full tafseer →16-1اس سے مراد نبوت اور بادشاہت کی وراثت ہے، جس کے وارث صرف سلیمان ؑ قرار پائے۔ ورنہ حضرت داؤد ؑ کے اور بھی بیٹے تھے جو اس کی وراثت سے محروم رہے۔ ویسے بھی انبیاء کی وراثت علم میں ہی ہوتی ہے، جو مال اسباب وہ چھوڑ جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے، جیسا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے (البخاری کتاب الفرائض و مسلم، کتاب الجہاد)
16-2بولیاں تو تمام جانور کی سکھلائی گئی تھیں لیکن پرندوں کا ذکر بطور خاص اس لئے کیا گیا ہے کہ پرندے سائے کے لئے ہر وقت ساتھ رہتے تھے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ صرف پرندوں کی بولیاں سکھلائی گئی تھیں اور چونٹیاں بھی منجملہ پرندوں کے ہیں۔ (فتح القدیر)
16-3جس کی ان کو ضرورت تھی، جیسے علم، نبوت،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
7: یاد رہے کہ ایک صحیح حدیث کے مطابق انبیاء (علیہم السلام) کا ترکہ ان کے وارثوں میں تقسیم نہیں ہوتا، اس لئے یہاں وراثت ملنے کا مطلب یہ ہے کہ نبوت اور سلطنت میں وہ اپنے والد حضرت داؤد ؑ کے جانشین ہوئے۔
8: حضرت سلیمان ؑ کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی بولیاں سکھادی تھیں، جس کی وجہ سے ان کو پتہ چل جاتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، بلکہ آگے چیونٹی کا جو واقعہ آرہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں پرندوں کے علاوہ دوسرے جانوروں کی بولی سکھائی گئی تھی، بعض معاصرین نے نہ جانے اس بات کو تسلیم کرنے میں کیا دشواری محسوس کی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے ان آیتوں میں دوراز کار تاویلات کا دروازہ کھول دیا ہے، حالانکہ…
Read the full tafseer →وورث ……المبین (61)
حضرت دائود کو نبوت اور علم کے ساتھ ساتھ حکومت بھی دی گئی تھی لیکن ان دونوں پر اللہ کے فضل و کرم کے بیان میں ان کے اقتدار کا ذکر نہیں کیا گیا۔ صرف علم و حکمت کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ علم و حکمت کے مقابلے میں اقتدار ایک حقیر چیز ہے۔
وورث سلیمان دائود (82 : 61) ” او سلیمان نے دائود کی وراثت پانی۔ “ یہاں وراثت سے مراد بھی علم کی وراثت ہے کیونکہ علم و حکمت ہی اس قابل ہے کہ اس میں کوئی پیغمبر دوسرے کا وارث بنے اور اس بات کی تاکید اس سے بیھہوتی ہے کہ حضرت سلیمان لوگوں میں یہ اعلان کرتے ہیں۔
وقال یایھا الناس ……من کل شیء (82 : 61) ” اے لوگو ، ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور…
Read the full tafseer →11 یعنی داؤد کے بیٹوں میں سے ان کے اصل جانشین حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہوئے جن کی ذات میں اللہ تعالیٰ نے نبوت اور بادشاہت دونوں جمع کردیں اور وہ ملک عطا فرمایا جو ان سے قبل یا بعد کسی کو نہ ملا۔ جن، ہوا، اور پرندوں کو ان کے لیے مسخر فرما دیا۔ جیسا کہ سورة " سبا " میں آئے گا۔
12 اس بات کا انکار کرنا بداہت کا انکار ہوگا کہ پرندے جو بولیاں بولتے ہیں ان میں ایک خاص حد تک افہام و تفہیم کی شان پائی جاتی ہے۔ ایک پرند جس وقت اپنے جوڑے کو بلاتا یا دانہ دینے کے لیے اپنے بچوں کو آواز دیتا یا کسی چیز سے خوف کھا کر خبردار کرتا ہے، ان تمام حالات میں اس کی بولی اور لب و لہجہ یکساں نہیں ہوتا چناچہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
وَقَالَا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِہِ الْمُؤْمِنِیْنَ ”
وہ اللہ کا شکر ادا کرتے تھے کہ اللہ نے انہیں مؤمنین کے درمیان ایک خاص مرتبہ عطا کیا تھا۔
Read the full tafseer →16 یہاں وراثت سے مراد حضرت داؤد کے ذاتی مال و دولت کی وراثت نہیں بلکہ نبوت اور جہاں بانی کی وراثت مراد ہے۔
17 اللہ تعالیٰ کی حیران کن قدرتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تمام انسان ایک ہی جیسی شکل رکھتے ہیں۔ ہر شخص کی ایک ناک، دو کان، دو آنکھیں، دوبازو اور دو پاؤں ہوتے ہیں لیکن اس قدر یکسانیت کے باوجود ہر ایک کی شکل دوسرے سے مختلف ہوتی ہے پھر ایک شخص کے اگر چھ لڑکے ہیں تو دوسرے لوگ یہ توبتلا سکتے ہیں ان سب میں یک گونہ مشابہت پائی جاتی ہے مگر ان میں نمبر صرف والدین اور قریبی رشتہ دار ہی یا دوست احباب ہی کرسکتے ہیں۔ پھر یہ اختلاف صرف شکل و صورت تک محدود نہیں۔ ہر انسان کی بولنے کی آواز کھانسنے کی…
Read the full tafseer →18۔ (ملک وسلطنت میں) (آیت) ” ورث “ سے مراد میراث اصطلاحی نہیں، بلکہ معنی مطلق کسی متقدم کے کمالات کے مالک ہوجانے کے ہیں۔
19۔ (حکومت وسلطنت سے متعلق) (آیت) ” من کل شیء “ مراد کثرت وافراط ہے، اور یہ عام محاورہ زبان ہے۔ اے کثرۃ ما اوتی کما تقول فلان یقصدہ کل احد ترید کثرۃ قصادہ (کشاف) المراد بہ کثرۃ ما اوتی (مدارک) اردو محاورہ میں بھی ایسے موقع پر بولتے ہیں ” اس کو اللہ نے سب ہی کچھ دے رکھا ہے “۔ (آیت) ” اوتینا۔ علمنا “۔ جمع کے صیغے اظہار عظمت کے لیے ہیں، جیسا کہ شاہی محاورہ ہے۔ (آیت) ” ایھا الناس “ اس طریق خطاب سے اشارۃ یہ نکل رہا ہے کہ آپ کو اس انعام الہی کی اشاعت خاص ہی منظور تھی۔ فالمقصود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
آیت نمبر 15 تا 21
ترجمہ : اور ہم نے داؤد اور اس کے بیٹے سلیمان کو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا علم عطا کیا اور پرند وغیرہ کی بولی سکھائی اور ان دونوں حضرات نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا سب تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے ہم کو نبوت کے ذریعہ اور جن و انس و شیاطین کی تسخیر کے ذریعہ اپنے مومن بندوں میں سے بہت سوں پر فضیلت عطا فرمائی اور سلیمان (علیہ السلام) نبوت اور علم میں داؤد (علیہ السلام) کے وارث ہوئے اور سلیمان (علیہ السلام) نے کہا اے لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولی یعنی ان کی آواز کی سمجھ سکھائی اور ہم کو ہر وہ شئ عطا فرمائی جو انبیاء اور ملوک کو عطا کی جاتی ہے (یعنی جس کی ان کی حاجت ہوتی…
Read the full tafseer →وورث سلیمن دادو . اور سلیمان داؤد کے وارث ہوئے۔ یعنی نبوت کے ‘ حکومت کے اور علم کے
وارث ہوئے۔ قتادہ نے یہی تفسیر کی اخرجہ عبد بن حمید و ابن المنذر و ابن ابی حاتم۔ شیعہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ انبیاء بھی دوسروں کو اپنا وارث بناتے ہیں۔ لیکن شیعہ فرقہ کا یہ استدلال بجائے فائدہ کے ان کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر سلیمان داؤد کے مال کے وارث ہوئے یہ صحیح مانا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت داؤد کے جو دوسرے اٹھارہ بیٹے تھے ان کو باپ کے مال میں سے کچھ نہیں ملا سب کے وارث سلیمان ہوگئے۔ وراثت کا معنی یہ ہے کہ ایک شئ دوسرے کی طرف بغیر کسی بیع شراء اور ہبہ اور عاریت وغیرہ کے منتقل ہوجائے خواہ وہ…
Read the full tafseer →(16) ان سب میں داؤد ؑ کی وفات کے بعد ان کی سلطنت کے جانشین سلیمان ؑ ہوئے اور سلیمان ؑ نے فرمایا اے لوگو ہمیں کو پرندوں کی بولی سمجھنے کی تعلیم دی گئی اور سامان سلطنت کے متعلق ہر قسم کی ضروری چیزوں کا علم دیا گیا، حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے اوپر بہت بڑا انعام ہے۔
Read the full tafseer →وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ۔۔ : اس سے مراد مال و جائداد کی وراثت نہیں بلکہ نبوت و سلطنت اور علم و عمل کی وراثت ہے۔ اگر مال و جائداد کی وراثت ہوتی تو وارث کے طور پر صرف سلیمان ؑ کا ذکر نہ ہوتا بلکہ اس میں داؤد ؑ کے دوسرے بیٹے بھی شریک ہوتے۔ علاوہ ازیں اگر ان کے ذاتی اموال کی وراثت ہی مراد ہو تو سلیمان ؑ کا ”يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ“ کہہ کر سب لوگوں کو بتانا بےمعنی ہوجاتا ہے۔ انبیائے کرام ؑ کے اموال و جائداد کا کوئی وارث نہیں ہوتا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَۃٌ) [ بخاري، الفرائض، باب قول النبي ﷺ لا نورث۔۔ : 6727، عن عائشۃ ] ”ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم جو چھوڑ جائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(ولقد اتینا دائود۔۔۔۔۔ )
ولقد اتینا دائود وسلیمن علما علم سے مراد فہم ہے، یہ قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دین، حکم وغیرہ کا علم، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وعلمنہ صنعۃ لبوس لکم “ ( الانبیائ : 80) ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیمیا گری کی صنعت : یہ قول شاذ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو نبوت اور زمین میں خلافت عطاء فرمائی اور زبور عطاء کی۔ وقالا الحمد للہ الذی فضلنا علی کثیر من عبادہ المومنین اس آیت میں علم کے شرف، مقام کی بلندی اور اہل علم کے تقدیم پر دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے علم کی نعمت سب سے عظیم نعمت ہے اور مومن بندوں میں سے جس کو علم عطا کیا گیا اسے خیر کثیر عطاء…
Read the full tafseer →1۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” حضرت سلیمن داوٗد “ سے مراد ہے کہ سلیمان (علیہ السلام) وارث بنے ان کی نبوت کے ان کے ملک کے اور ان کے علم کے۔
2۔ ابن ابی حاتم نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ ہمارے نزدیک الناس سے مراد ہے اہل علم
3۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں عمر بن خطاب ؓ کے پاس تھا ہم پر کعب الحبر داخل ہوئے اور کہا اے امیر المومنین ! کیا میں آپ کو بہت ہی عجیب چیز کے بارے میں بتاؤں جو میں نے کتاب الانبیاء میں پڑھی کہ ایک چھوٹا کیڑا سلیمان (علیہ السلام) کے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے نبی آپ پر سلام ہو انہوں نے فرمایا اے ام !…
Read the full tafseer →وَوَرِثَ [ اور وارث ہوئے ] سُلَيْمٰنُ [ سلیمان (علیہ السلام) ] دَاوٗدَ [ داود (علیہ السلام) کے ] وَقَالَ [ اور انھوں نے کہا ] يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ [ اے لوگو ] عُلِّمْنَا [ علم دیا گیا ہم کو ] مَنْطِقَ الطَّيْرِ [ پرندوں کی بولی کا ] وَاُوْتِيْنَا [ اور دیا گیا ہم کو ] مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ[ ہر چیز میں سے ] اِنَّ ھٰذَا [ بیشک یہ ] لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ [ یقینا یہی واضح فضل ہے ]
نوٹ۔ 1: مذکورہ آیات میں ایک اہم سبق یہ ہے کہ اپنے زمانے کی سب سے زیادہ طاقتور حکومت کے فرمان روا اور ایجادات و صنعت گری میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہونے کے باوجود حضرت داود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا علم و فضل، جن و انس پر حکومت، چیونٹیوں کو بلوں میں داخل ہونے کا مشورہ
ان آیات میں جو حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے ان دونوں کو علم عطا فرمایا تھا علوم نبوت تو ان دونوں کو دیئے ہی تھے دوسرے علوم بھی عطا فرمائے تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے لوہے کو نرم فرما دیا تھا وہ اس سے لوہے کی زرہیں بناتے تھے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ایسا اقتدار عطا فرمایا تھا جس کے ذریعہ شیاطین سے کام لیتے تھے ان سے عمارتیں بھی بنواتے تھے اور ان سے سمندروں میں غوطے بھی لگواتے تھے اور ان سے بڑے بڑے برتن بنواتے تھے جو تالابوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
قصہء دوم داؤد (علیہ السلام) اجمالا وسلیمان (علیہ السلام) تفصیلاً
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا داود وسلیمان علما۔۔۔ الی۔۔۔ وادخلنی برحمتک فی عبادک الصالحین۔
ان آیات میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام کا قصہ بیان کرتے ہیں اور ان دینی اور دنیوی احسانات اور انعامات کا ذکر کرتے ہیں جو منجانب اللہ ان دونوں پیغمبروں پر مبذول ہوئے۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) کو نبوت اور علم شریعت کے علاوہ سلطنت عطا کی اور خارق عادت طریقہ پر زرہ سازی کی صنعت بتلائی تاکہ کافروں سے جہاد میں مدد ملے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کو منطق الطیر اور تسخیر جن اور تسخیر ہوا کا معجزہ عطا فرمایا جن اور انس کو ان کا تابع فرمان…
Read the full tafseer →15:۔ یہاں وراثت سے علمی وراثت مراد ہے وراثت مال مراد نہیں یا وراثت قائم مقام ہونے سے کنایہ ہے اس صورت میں علم، نبوت اور ملک سب اس میں داخل ہوں گے۔ ای نبوتہ وعلمہ و ملکہ دون سائر اولادہ و کان لداود (علیہ السلام) تسعۃ عشر ابنا (معالم و خازن ج 5 ص 112) ای قام مقامہ فی النبوۃ والملک و صار نبیا ملکا بعد موت ابیہ داود (علیہا السلام) فوراثتہ ایاہ مجاز عن قیامہ مقامہ فیما ذکر بعد موتہ (روح ج 19 ص 170) ۔
16:۔ تحدیث بالنعمۃ کے طور پر لوگوں کو خطاب کر کے انعامات خداوندی کا ذکر کیا۔ یعنی اللہ کا شکر ہے جو مجھے حسب ضرورت پرندوں کی باتوں سے آگاہ فرما دیتا ہے اور اس کے علاوہ بھی اس کے انعامات بےحساب ہیں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ربط آیات
سورۃ کی ابتداء قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت سے ہوئی ۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت اور ان کو فرعون کی قوم کی طرف بھیجنے کا ذکر ہوا ۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) بعض نشانیاں لے کر پہنچے تو قوم فرعون نے اسے جادو کہ انکار کردیا حالانکہ ان کے دلوں میں یقین تھا کہ یہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں بلکہ ایسی خارق عادت نشانی اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے نبی کے ہاتھ پر ہی ظاہر ہو سکتی ہے۔ بہر حال انہوں نے ظلم وتعدی اور غرور وتکبر کی بناء پر معجزات کا انکار کیا تو اللہ نے فرمایا کہ تم نے ایسے فسادیوں کا انجا م بھی تو دیکھ لیا کہ وہ کس طرح غرقاب ہوئے۔ اب آ ج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت…
Read the full tafseer →وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ 0ۭ اِنَّ ھٰذَا لَہُوَالْفَضْلُ الْمُبِيْنُ 16
ورث
الوِرَاثَةُ والإِرْثُ : انتقال قنية إليك عن غيرک من غير عقد، ولا ما يجري مجری العقد، وسمّي بذلک المنتقل عن الميّت فيقال للقنيةِ المَوْرُوثَةِ : مِيرَاثٌ وإِرْثٌ. وتُرَاثٌ أصله وُرَاثٌ ، فقلبت الواو ألفا وتاء، قال تعالی: وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] وقال عليه الصلاة والسلام : «اثبتوا علی مشاعرکم فإنّكم علی إِرْثِ أبيكم» «2» أي :
أصله وبقيّته، قال الشاعر :
461-
فينظر في صحف کالرّيا ... ط فيهنّ إِرْثٌ کتاب محيّ
«3»…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
ترکیب : غیر بعید ای مکانا غیر بعید رو وقت خیر بعید او مکشا الا یسجد والا لیست زائدۃ وموضعالکلام نصب بدلامن اعمالھم والتحقیق وفل حرف التنبیہ علی الفعل من غیر تقدیر حذف۔ الخباء مصدر بمعنی المخبور من المفرو النبات انہ من سلیمان بالکسر علی الاستیناف وابلفتح بدلا من کتاب ومرفوع بکریم الی تعلوا موضعہ رفع بدلا من کباب۔
ترکیب : ضاحکا حال موکدۃ وقیل مقدرۃ لان التبسم مبداء الضحک ویقرء ضحکا علی انہ مصدر و العامل فیہ تبسم لانہ بمعنی ضحک حشر کا مفعول مالم یسم فاعلہ جنودہ۔
تفسیر … سلیمان ( علیہ السلام) کا قصہ : یہ دوسرا قصہ حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا ہے جو اس تفصیل سے یہود و نصاریٰ کو بھی…
Read the full tafseer →وَوَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ یٰٓـاَیُّھَاالنَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَاُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْ ئٍ اِنَّ ھٰذَا لَھُوَالْفَضْلُ الْمُبِیْنُ ۔ (النمل : 16)
(اور ( حضرت) سلیمان (علیہ السلام) (حضرت) دائود (علیہ السلام) کے وارث ہوئے اور فرمایا، اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی کا علم دیا گیا ہے اور ہمیں ہر قسم کی چیزیں عطا کی گئی ہیں، بیشک یہ نہایت ہی کھلا ہوا فضل ہے۔ )
آیت میں وراثت کا مفہوم
حضرت سلیمان (علیہ السلام) حضرت دائو (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ ان کا اصل عبرانی نام سولومون تھا جو سلیم کا ہم معنی ہے۔ 965 قبل مسیح میں حضرت دائود (علیہ السلام) کے جانشین ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے والد حضرت داؤد (علیہ السلام) کی مسند پر جلوہ افروز ہوئے اور انھوں نے اپنی نبوت اور اقتدار کے بارے میں لوگوں کو ان الفاظ میں آگاہ فرمایا۔
قرآن مجید کے الفاظ سے یوں لگتا ہے کہ جیسے حضرت داؤد (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو یہ پہلا خطاب تھا۔ جس میں انھوں نے اپنی نبوت، اقتدار اور اختیار کے بارے میں عوام کو آگاہ فرماتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ جو کچھ ہمیں ملا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں سے لے کر چیونٹیوں تک کی زبان اور…
Read the full tafseer →کل الناس افقہ من عمر۔
16: وَوَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗٗدَ (اور سلیمان دائود کے وارث ہوئے) ۔ دوسرے بیٹوں کی بجائے ان کو نبوت و بادشاہت ملی۔ دائود (علیہ السلام) کے انیس بیٹے تھے۔
قولِ علماء :
ان کو صرف والد کی طرح نبوت ملی تو گویا کہ یہ ان کے وارث بنے۔ ورنہ نبوت وراثت میں نہیں ملتی۔
وَقَالَ یٰٰٓاَیُّہَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ (سلیمان نے کہا اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی) ۔ اس اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو ذکر کر کے مشہور کیا۔ اور اس نعمت کے مرتبہ کا اعتراف کیا اور معجزہ کے تذکرہ سے لوگوں کو اس کی تصدیق کی طرف بلایا۔ یہ معجزہ پرندوں کی بولی ہے۔ المنطق۔ ہر وہ آواز جو مفرد یا…
Read the full tafseer →16۔ وورث سلیمان داوڈ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) حضرت داؤد (علیہ السلام) کی نبوت علم و حکمت اور حکومت کے وارث ہوئے دوسرے بھائیوں میں سے کوئی اس چیز کا وارث نہیں تھا، حضرت داود (علیہ السلام) کے انیس بیٹے تھے اور حضرت سلیمان کو وہی عطا کیا گیا جو حضرت داود (علیہ السلام) کودیاگیا حکومت میں سے۔
اس کے علاوہ حضرت سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کردیا گیا اور شیاطین کو بھ مسخر کردیا گیا، مقاتل کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان کا ملک بڑا تھا ارحضرت داؤد (علیہ السلام) مین سلیمان کی نسبت سے قوت فیصلہ بڑی تھی۔ اور آپ عبادت گزار زیادہ تھے اور حضرت سلیمان اللہ کی نعمتوں کے شکرگزار بہت تھے۔ وقال یا ایھا الناس علمنا منطق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
15 تا 26 بعضے مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے یہ قرآن شریف کے مخالف ہے اس لیے کے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ خصوصیت کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جانوروں کو بولی سمجھنے کی نعمت عنایت فرمائی تھی جو نعمت مخلوق الٰہی میں سے کسی کو عنایت نہیں ہوئی اور حضرت سلیمان کا قول اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں نقل کیا ہے اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی اس نعمت کو اپنی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا ہے جب یہ کہا جاوے گا کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے تو پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خصوصیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
آیت 15 سے 44
اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…
Read the full tafseer →17 میراث داؤدی کا ذکر اور اس سے مقصود ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا " اور وارث بنے سلیمٰن داؤد کے "۔ اور یہ وراثت مال و دولت کی نہیں بلکہ علم و حکمت کی وراثت تھی۔ کیونکہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی بلکہ وہ صدقہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا گیا ہے ۔ " نحن معشر الانبیاء لا نَرِث وَلَا نُوْرَثُ مَا تَرَکْنا فہو صدقۃ " ۔ سو انبیائے کرام کی اصل دولت علم ہوتی ہے نہ کہ مال۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ اِنَّمَا وَرَّثُوْا الْعِلْمَ فَمَنْ اَخَذَہ بَحَظٍّ وَافِرٍ ۔ اور یہاں اس وراثت سے وراثت مال مراد نہ ہونے کا ایک واضح قرینہ یہ بھی ہے کہ حضرت داؤد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں
تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–31
آیات نمبر 15:31 اسرار و معارف :
ہم نے داود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علوم نبوت سے سرفراز فرمایا یہاں علم سے مراد نبوت کے ساتھ دوسرے علوم بھی شامل ہیں کہ حکومت و سیاست کا علم یا فنون میں سے زرہ سازی کا علم جو داود (علیہ السلام) کو بطور خاص عطا ہوا تھا نیز ان کی خصوصیت حکومت و سلطنت بھی تھی اور وہ حضرات اس پر شکر بھی ادا کرتے تھے کہ انہیں بہت سے نیک بندوں میں خاص فضیلت عطا کی گئی مثلاً ہر نبی کو بھی حکومت و سلطنت تو عطا نہ ہوئی اور سلیمان (علیہ السلام) داود (علیہ السلام) کے وارث مقرر ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر وہ نعمت عطا ہوئی ہے جو اس عظیم…
Read the full tafseer →9 ۔ اس سے مراد مال و جائیداد کی وراثت نہیں بلکہ علم و فضل اور نبوت کی وراثت ہے۔ اگر مال و جائیداد کی وراثت ہوتی تو وارث کے طور پر صرف حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا ذکر نہ ہوتا کیونکہ اس میں تو حضرت دائود ( علیہ السلام) کے دوسرے بیٹے بھی شریک ہوتے۔ نیز اگر اسے تسلیم کرلیا جائے تو حضرت سلیمان کے قول :” یا ایھا الناس الخ “ کا ذکر بےمعنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ (کبیر) اور یوں بھی انبیا (علیہم السلام) کے بارے میں نبی ﷺ کا ارشاد واضح ہے کہ ان کے مال اور ان کی جائیداد بطور ورثہ تقسیم نہیں ہوتی : ” نحن معاشر الانبیا لا نورث ما ترکناہ صدقۃ “۔ پس آیت میں وراثت کا لفظ ایسا ہی ہے جیسا کہ فرمایا :” العلماء ورثۃ…
Read the full tafseer →(27:16) منطق الطیر۔ مضاف مضاف الیہ مل کر علمنا کا مفعول ثانی ہے نا ضمیر جمع متکلم مفعول اول کی ہے۔ پرندوں کی بولی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 19 :
فضلنا (ہم نے فضیلت دی۔ بڑائی دی) علمنا ( ہمیں سکھایا گیا) منطق (بولنا۔ بولی) الطیر (پرندہ۔ پرندے) حشر (جمع کیا گیا) ‘ یوزعون (وہ روکے جاتے ہیں) ‘ وادالنمل (چیونٹیوں کا میدان) ‘ لایحطمن (روند نہ ڈالیں) تبسم (وہ مسکرادیا) ضاحک ( ہنسنے والا) ‘ اوزعنی ( مجھے توفیق دے) ‘ ترضی (توخوش ہوجائے) ۔
تشریح : آیت نمبر 15 تا 19 :
حضرت دائود (علیہ السلام) جو بنی اسرائیل کے عظیم پیغمبر تھے ان کو اللہ نے زبور کے ساتھ ساتھ ایسی خوبصورت آواز سے نوازا ھتا کہ جب وہ اپنی خوبصورت آواز میں زبور کی آیات کی تلاوت اور اللہ کی حمد وثناء کرتے تھے تو تمام انسان ‘ جنات ‘ چرند پرند اور درند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو علم دیا۔ ان کا علم و دانش مشہور اور ضرب المثل ہے، جس کے شکریہ میں وہ کہنے لگے کہ سب خوبیاں اس اللہ کو ہیں جس نے ہمیں بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطا کی۔ اور داؤد (علیہ السلام) کے وارث سلیمان (علیہ السلام) نے لوگوں سے اس بات کا خطاب کیا کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے جن اور شیاطین اور جانوروں کی بولی سکھلائی ، یہ اس علم اور ورثہ کی تفصیل شروع ہوتی ہے کہ ہم کو جانوروں کی بولی بتائی ، چناچہ منقول ہے کہ مور ایک روزیہ کہہ رہا تھا کہ جو کچھ یہاں کرتا ہے اس کا بدلہ آخرت میں ملے گا، ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
[6] یہاں داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کے ذکر سے جہالت اور علم کا فرق بتانا مقصود ہے۔ بادشاہی فرعون کو بھی ملی تھی اور داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کو بھی لیکن جہالت اور علم کے فرق نے ان کے درمیان عظیم الشان فرق پیدا کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
پرندوں کی بولیاں
1: فرعون اور حضرت موسیٰ کے قصہ کے بعد داؤد سلیمان (علیہ السلام) کے حالات بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ فرعون کی تنگ طرفی کو ظاہر کیا جائے اور بتایا جائے کہ اللہ کے نیک بندے باوجود تاج اور رنگ کے مالک ہونے کے اللہ کے شاگرد رہتے ہیں اور ازراہ کبروغرور گمراہ نہیں ہوجاتے ، دیکھئے داؤد اور سلمان (علیہ السلام) کی ان کو سیاسی فہم و فراست کا بہرہ وافر دیا گیا ۔ ان کو بتایا گیا کہ کس طرح سلطنت کی حدود کو وسیع کیا جاسکتا ہے اور کس طرح اختیارات کو انسانوں ، جنوں اور پرندوں پر استعمال کیا جاسکتا ہے مگر ان کی سل امتی عقل ملاحظہ ہو کہ وہ دائرہ عبودیت سے باہر نہیں نکلے اور ہمیشہ اس فضیلت و…
Read the full tafseer →(16) اور سلیمان (علیہ السلام) اور دائود (علیہ السلام) کا جانشین اور وارث ہوا اور اس نے کہا کہ اے لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولی سمجھنے کی تعلیم دی گئی ہے اور ہم کو ہر قسم کی ضروری چیزیں عطا کی گئی ہیں واقعی یہ حکومت اور علم کا عطا کرنا اللہ تعالیٰ کا ایک کھلا ہوا فضل ہے یعنی حضرت دائود (علیہ السلام) کی وفات کے بعد حضرت دائود (علیہ السلام) کی وفات کے بعد حضرت سلیمان (علیہ السلام) ان کے قائم مقام ہوئے اور ان کے جانشین وارث مقرر ہوئے اور ان کو جانوروں کی بولیاں سمجھنے کا علم دیا گیا تو انہوں نے لوگوں کے سامنے اس کا اعلان کیا کہ ہم کو پرندوں کی بولی کو سمجھنے کا علم دیا گیا ہے اور حکومت کے چلانے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
ف 5۔ کہ دنیا میں غرق اور آخرت میں حرق کی سزا پائی۔
Read the full tafseer →سلیمان کو داؤد کا وارث بنایا گیا اور اس نے دوسروں کو بھی حصہ دار بنایا :
16۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو دادؤ کا وارث بنایا گیا ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) کون تھے ؟ اللہ کے رسول اور داؤد (علیہ السلام) کون تھے ؟ اللہ کے رسول ‘ پھر کیا رسالت بھی کسی کی وراثت ہوتی ہے ؟ اس جگہ رسالت کی وارثت کا بیان نہیں ہے بلکہ بیٹے کو مالی وراثت جو ملی اس کا ذکر کیا گیا ہے ، کیا رسول کسی کا وارث قرار پاتا تھا ؟ کیوں نہیں جس طرح سارے انسانوں کا اپنے آباؤواجداد کی جائیداد میں حق ہے انبیاء کرام (علیہ السلام) کا بھی تھا اور یقینا وہ اپنا حق وصول کرتے رہے اس میں نہ کوئی قباحت ہے اور نہ ممانعت اور ہمارے نبی اعظم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
There is no heritage of wealth among the prophets
وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ (And Sulaiman inherited Dawud - 27:16). The inheritance mentioned in this verse is not the inheritance of wealth and property, because the Holy Prophet ﷺ has clearly declared that the prophets do neither inherit the property of anyone nor does their property is inherited by anyone. Tirmidhi and Abu Dawud have reported from Sayyidna Abu darda' ؓ that the Holy Prophet ﷺ has said, ` Ulama' (men of knowledge) are the inheritors of prophets, but the prophets did not leave dirhams or dinars (wealth) as their…
Read the full tafseer →20 Succession here dces not mean inheritance of wealth and properties, but the succession to the Prophet David in the Prophethood and vicegerency. For the wealth and possessions, if at aII transferred, could not be transferred to the Prophet Solomon only, because Prophet David had other children also. Therefore, this verse cannot be cited to refute the Hadith reported from the Holy Prophet, saying, "The inheritance left by us, the Prophets, is not divided as such. whatever we leave behind is charity." (Bukhari) And: "There is no heir to a Prophet. Whatever he leaves behind, is divided among…
Read the full tafseer →