An-Naml 27:17

An-Naml · from ayah 17

27:17

وَحُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّیْرِ فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ ۟وَحُشِرَ لِسُلَيۡمٰنَ جُنُوۡدُهٗ مِنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ وَالطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوۡزَعُوۡنَ

اور سلیمان کے لئے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے اور قسم وار کئے جاتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And gathered for Solomon were his soldiers of the jinn and men and birds, and they were [marching] in rows.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 2 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:17

سلیمانؑ کے لیے جن اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے تھے اور وہ پورے ضبط میں رکھے جاتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور سلیمان کے لئے جنوں اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے اور قسم وار کئے جاتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

سلیمان کے سامنے ان کے تمام لشکر جنات اور انسان اور پرند میں سے جمع کیے گئے (ہر ہر قسم کی) الگ الگ درجہ بندی کردی گئی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور سلیمان کے لیے ان کے سارے لشکر جمع کردیے گئے تھے جو جنات، انسانوں اور پرندوں پر مشتمل تھے، چنانچہ انہیں قابو میں رکھا جاتا تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جمع کیے گئے سلیمان کے لیے اس کے لشکر جنوں اور آدمیوں اور پرندوں سے تو وہ روکے جاتے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور سلیمان ؑ کے لئے ان کے لشکر جنّوں اور انسانوں اور پرندوں (کی تمام جنسوں) میں سے جمع کئے گئے تھے، چنانچہ وہ بغرضِ نظم و تربیت (ان کی خدمت میں) روکے جاتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور سلیمان کے لیے اس کے لشکر جمع کیے گئے، جو جنوں اور انسانوں اور پرندوں سے تھے، پھر وہ الگ الگ تقسیم کیے جاتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور سلیمان کے لیے (کسی مہم کے سلسلہ میں) اس کے جنوں، انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کئے گئے اور ان کی جماعت بندی کردی گئی تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

سلمان کے جانزے کے لئے اس کا سارا لشکر۔ جنوں، انسانوں اور پرندوں میں سے … اکٹھا کیا گیا اور ان کی درجہ بندی کی جارہی تھی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہمارے خالق ومالک کی طرف سے اور سلیمان کی عظمت و شان کا یہ عالم تھا کہ ان کے لیے جمع کیے جاتے لشکر جنوں انساں اور پرندوں کے

— مولانا اسحاق مدنی

اور سلیمان کیلئے ان کا لشکر جمع کیا گیا جن بھی اور انسان بھی اور پرندے بھی اور انہیں (صف بندی کیلئے) روکا جاتا تھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جمع کیے گئے سلیمان کے (معائنہ کے) لیے اس کے تمام لشکر جنوں ّ انسانوں اور پرندوں میں سے اس طرح کہ انہیں جماعتوں میں منظم کیا جاتا تھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور سلیمان کے لیے جنوں ‘ انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے اور وہ جماعت وار کیے گئے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Hosts of jinn and humans and birds were marshalled for Solomon and were kept under full control.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And mustered for Sulaiman were his forces from among the Jinns and the humans and the birds. So all of them were kept under (his) control,

— Muhammad Taqi Usmani

And mustered for Sulaiman were his forces from among the Jinns and the humans and the birds. So all of them were kept under (his) control,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And there were gathered before Sulayman his hosts of Jinn and men, and birds, and they all were set in battle order (marching forward).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And there were gathered together unto Solomon his armies of the jinn and humankind, and of the birds, and they were set in battle order;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And gathered for Solomon were his soldiers of the jinn and men and birds, and they were [marching] in rows.

— Saheeh International

Soloman's army, consisting of human beings, jinn, and birds were gathered together in his presence in ranks.

— Muhammad Sarwar

And his hosts of the jinn and the men and the birds were gathered to him, and they were formed into groups.

— Muhammad Habib Shakir

And there were gathered unto Sulaiman his hosts of jinns and mankind and birds, and they were set in bands.

— Abdul Majid Daryabadi

And before Solomon were marshalled his hosts,- of Jinns and men and birds, and they were all kept in order and ranks.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–19

حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی حضرت سلیمان اور حضرت داؤد ؑ پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے لکھا ہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 23 بائیبل میں اس کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے کہ جن حضرت سلیمان کے لشکروں میں شامل تھے اور وہ ان سے خدمت لیتے تھے، لیکن تلمود اور تبیوں کی روایات میں اس کا تفصیلی ذکر ملتا ہے (جیوش انسائیکلوپیڈیا جلد 11 صفحہ 440) موجودہ زمانہ کے بعض لوگوں نے یہ ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے کہ جن اور طیر سے مراد جنات اور پرندے نہیں ہیں بلکہ انسان ہی ہیں جو حضرت سلیمان کے لشکر میں مختلف کام کرتے تھے، وہ کہتے ہیں کہ جن سے مراد پہاڑی قبائل کے وہ لوگ ہیں جنہیں حضرت سلیمان نے مسخر کیا تھا اور وہ ان کے ہاں حیرت انگیز طاقت اور محنت کے کام کرتے تھے، اور طیر سے مراد گھوڑ سواروں کے دستے ہیں جو پیدل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–18

انبیاء میں مال کی وراثت نہیں ہوتی وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ ، وَرِثَ سے وراثت علم اور نبوت مراد ہے وراثت مال نہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا (نحن معاشر الانبیآء لا نرث ولا نورث) یعنی انبیاء نہ وارث ہوتے ہیں اور نہ مورث، حضرت ابوالدرداء سے ترمذی اور ابو داؤد میں روایت ہے۔ العلماء ورثۃ الانبیاء و ان الانبیاء لم یورثوا دینارا ولا درھما ولکن ورثوا العلم فمن اخذہ اخذ بحظ وافر۔ یعنی علماء انبیاء کے وارث ہیں، لیکن انبیاء میں وراثت علم اور نبوت کی ہوتی ہے مال کی نہیں ہوتی۔ حضرت ابوعبداللہ (جعفر صادق) کی روایت اس مسئلہ کو اور زیادہ واضح کردیتی ہے کہ حضرت سلیمان ؑ حضرت داؤد ؑ کے وارث ہوئے اور سرور دو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حشر لسلمین میں مضاف محذوف ہے یعنی حضرت سلیمان کے جائزہ اور ملاحظہ کے لئے ان کی ساری فوج جمع کی گئی۔ حضرت سلیمان کی فوڈ وزع کے اصل معنی روکنے، تھامنے اور سنبھالن کے ہیں۔ آگے آیت 19 میں اسی معنی میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے لیکن فوج کے تعلق سے جب یہ لفظ آئے تو اس کے معنی تربیت دینے اور درجہ بندی و صف بندی کرنے کے ہوتے ہیں۔ اب یہ حضرت سلیمان کی افواج کی ایک پریڈ کا ذکر فرمایا ہے جس میں ان کی تمام فوج، جو جنوں انسانوں اور پرندوں پر مشتمل تھی، ان کے ملاحظہ کے لئے اکٹھی کی گی۔ فھو یوزعون یعنی مقصود اس اجتماع سے ان کی ترتیب اور الگ الگ درجہ بندی تھی۔ یہاں اس پریڈ کے ذکر سے اصل مدعا، جیسا کہ آگے کی آیات…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

17-1اس میں حضرت سلیمان ؑ کی اس انفرادی خصوصیت و فضیلت کا ذکر ہے، جس میں وہ پوری تاریخ انسانیت میں ممتاز ہیں کہ ان کی حکمرانی صرف انسانوں پر ہی نہ تھی بلکہ جنات، حیوانات اور چرند پرند حتٰی کہ ہوا تک ان کے ماتحت تھی، اس میں کہا گیا ہے کہ سلیمان ؑ کے تمام لشکر یعنی جنوں، انسانوں اور پرندوں سب کو جمع کیا گیا۔ یعنی کہیں جانے کے لئے یہ لاؤ لشکر جمع کیا گیا۔ 17-2یعنی سب کو الگ الگ گروہوں میں تقسیم (قسم وار) کردیا جاتا تھا، مثلًا انسانوں، جنوں کا گروہ، پرندوں اور حیوانات کا گروہ وغیرہ وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

9: یہاں بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان ؑ کو جو سلطنت عطا فرمائی تھی، وہ صرف انسانوں پر ہی نہیں، بلکہ جنات اور پرندوں پر بھی تھی، چنانچہ جب ان کا لشکر چلتا تھا تو اس میں جنات، انسان اور پرندے سب شامل ہوتے تھے، اور اس طرح لشکر کے افراد اتنے زیادہ ہوجاتے تھے کہ انہیں قابو میں رکھنے کا خاص اہتمام کرنا پڑتا تھا، لیکن نظم و ضبط پھر بھی قائم رہتا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وحشر ……یوزعون (71) یہ تھا حضرت سلیمان کا لشکر۔ بہت بڑی تعداد میں ہر طرف سے اٹھایا ہوا۔ جن انس اور پرندوں پر مشتمل۔ انسان تو معلوم ہیں ، جن وہ مخلوق ہے جس کے بارے میں خود قرآن نے معلومات دی ہیں اور ان کی حقیقت کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ وہ آگ کے شعلے سے پیدا شدہ ہیں۔ یعنی ایسے شعلے جو موجوں کی شکل میں اٹھتے ہیں۔ بشر ان کو نہیں دیکھ سکتے مگر وہ بشر کو دیکھ سکتے ہیں۔ انہ یراکم و قبیلہ من حیث لاترونھم ” وہ اور اس کا قبیلہ تمہیں دیکھتا ہے مگر تم اسے نہیں دیکھتے۔ “ یہ آیت اگرچہ ابلیس کے بارے میں ہے لیکن وہ جنوں میں سے تھا۔ پھر ان جنوں کے اندر یہ قوت ہے کہ یہ انسانوں کے دلوں میں برائی کے وسوسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی سلیمان (علیہ السلام) جب کسی طرف کوچ کرتے تو جن، انس، طیور تینوں قسم کے لشکروں میں سے حسب ضرورت و مصلحت ساتھ لیے جاتے تھے۔ اور ان کی جماعتوں میں خاص نظم و ضبط قائم رکھا جاتا تھا۔ مثلاً پچھلی جماعتیں تیز چل کر یا اڑ کر اگلی جماعتوں سے آگے نہیں نکل سکتی تھیں۔ نہ کوئی سپاہی اپنے مقام اور ڈیوٹی کو چھوڑ کر جاسکتا تھا۔ جس طرح آج بری، بحری اور ہوائی طاقتوں کو ایک خاص نظم و ترتیب کے ساتھ کام میں لایا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 وَحُشِرَ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّیْرِ فَہُمْ یُوْزَعُوْنَ ” ہر قسم اور ہر جنس کے لشکر کی علیحدہ علیحدہ جماعتیں battalians بنا کر انہیں ہر طرح سے منظم کیا گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 یہ دراصل سابقہ آیت میں کل شئی کی تفصیل ہے۔ یعنی آپ کا لشکر تین انواع پر مشتمل ہوتا تھا۔ اس میں انسان بھی شامل تھے، جن بھی اور پرندے بھی اور ان سے آپ مختلف قسم کے کام لیتے تھے اور یہ لشکر ملا جلا نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ جب آپ کسی مہم پر جاتے تو انسانوں کا لشکر الگ، جنوں کا الگ اور پرندوں کا لشکر الگ الگ ساتھ چلتا تھا۔ بھاری اور زیادہ مشقت طلب کام آپ جنوں سے لیتے تھے اور پیغام رسانی، سراغ رسانی اور پانی وغیرہ کی تاش کا کام آپ پرندوں سے لیتے تھے۔ نیز بعض دفعہ پرندوں کے جھنڈ سے لشکر پر سایہ کرنے کا کام بھی لیا جاتا تھا۔ جو لوگ معجزات اور خرق عادت امور سے گھٹن محسوس کرتے ہیں اور ایسے واقعات کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

20۔ (ان کی کثرت تعداد کی بنا پر) (آیت) ” من الجن والانس والطیر “۔ انسانوں کی سپاہ تو خیر ہوتی ہی ہے، جنات وطیور بھی جو عموما وعادۃ کسی سلطان وملک کے تابع نہیں ہوتے، لشکر سلیمانی میں داخل تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–21

آیت نمبر 15 تا 21 ترجمہ : اور ہم نے داؤد اور اس کے بیٹے سلیمان کو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا علم عطا کیا اور پرند وغیرہ کی بولی سکھائی اور ان دونوں حضرات نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا سب تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے ہم کو نبوت کے ذریعہ اور جن و انس و شیاطین کی تسخیر کے ذریعہ اپنے مومن بندوں میں سے بہت سوں پر فضیلت عطا فرمائی اور سلیمان (علیہ السلام) نبوت اور علم میں داؤد (علیہ السلام) کے وارث ہوئے اور سلیمان (علیہ السلام) نے کہا اے لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولی یعنی ان کی آواز کی سمجھ سکھائی اور ہم کو ہر وہ شئ عطا فرمائی جو انبیاء اور ملوک کو عطا کی جاتی ہے (یعنی جس کی ان کی حاجت ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وحشر لسلمین جنودہ من الجن والانس والطیر فھم یوزعون . اور سلیمان ( علیہ السلام) کے لئے جن و انس اور پرندوں کی فوجیں جمع کردی گئی تھیں اور (ان کی اتنی کثرت تھی کہ) ان کو روکا جاتا تھا۔ یُوْزَعُوْنَ وہ روکے جاتے تھے یعنی اول حصہ کو دوسرے حصہ کے ساتھ روک کر ملا دیا جاتا تھا۔ اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ باوجودیکہ لشکر کی تعداد بہت زیادہ تھی پھر بھی کسی کو دور نہیں رکھا جاتا تھا۔ قاموس میں ہے : وَزَعتُہ میں نے اس کو روک دیا ‘ اسی سے ہے : وَازِع کی جمع وَزَعَۃٌ روکنے والے حرم سے ‘ اور کتا اور جھڑکنے والا (سب کو وازع کہا جاتا ہے) تَوزِیع ایزَاع توزُّع (تفعیل افعال تفعل) سب ہم معنی ہیں ‘ تقسیم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(17) اور سلیمان ؑ کے لیے جو ان کا تمام لشکر جمع کیا گیا تو اس کو چلنے کے وقت روکا جایا کرتا تھا تاکہ سب جمع ہوجائیں اور متفرق نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَحُشِرَ لِسُلَيْمٰنَ جُنُوْدُهٗ۔۔ : ”فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ“ اگر ”وَزَعَ یَزَعُ“ بروزن ”وَضَعَ یَضَعُ“ سے ہو تو اس کا معنی روکنا ہے اور اگر ”أَوْزَعَ یُوْزِعُ“ (افعال) سے ہو تو اس کا معنی تقسیم کرنا ہے۔ (قاموس) اس میں سلیمان ؑ کی اس خصوصیت و فضیلت کا ذکر ہے جس میں وہ پوری انسانی تاریخ میں منفرد ہیں کہ ان کی حکمرانی صرف انسانوں ہی پر نہ تھی، بلکہ جنّات، حیوانات اور پرندے حتیٰ کہ ہوا تک ان کے تابع فرمان تھی۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ سلیمان ؑ کے تمام لشکروں یعنی انسانوں، جنوں اور پرندوں سب کو جمع کیا گیا۔ ظاہر ہے یہ اہتمام جہاد فی سبیل اللہ ہی کے لیے کیا جاتا تھا، تاکہ ساری دنیا میں اللہ کا دین غالب…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

(وحشر لسلیمین جنودہٗ ۔۔۔۔۔ ) مسئلہ نمبر 1 :۔ وحشر لسلیمین حشر جمع کیے گئے حشر کا معنی جمع کرنا ہے۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فلم تغادر منھم احد۔ ( الکہف) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکروں کی مقدار میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : آپ کے لشکروں کی چھائونی سو فرسخ ضرب سو فرسخ تھی پچیس فرسخ جنوں کے لیے، پچیس فرسخ انسانوں کے لیے، پچیس فرسخ پرندوں کے لیے اور پچیس فرسخ وحشی جانوروں کے لیے تھی آپ کے ایک ہزار کمرے تھے جو شیشے کے بنے ہوئے تھے جو شیشہ لکڑی پر لگایا گیا تھا ان میں تین سو منکوحہ بیویاں اور سات سو لونڈیاں تھیں۔ ابن عطیہ نے کہا : ان کی چھائونی میں اختلاف…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کے لیے تین لاکھ کرسیاں رکھی جاتی تھیں انسانوں میں سے مومن آپ کے قریب بیٹھے تھے اور اس کے پیچھے مومن جنات بیٹھتے تھے پھر وہ پرندوں کو حکم فرماتے تو وہ ان پر سایہ کرتے تھے پھر ہوا کو حکم فرماتے تو وہ ان کو اوپر اٹھالیتی پھر آپ بالیوں کے پاس سے گزرتے تو اس کو حرکت نہ دیت۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فہم یوزعون “ سے مراد ہے کہ وہ روکے جائیں گے۔ 3۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” فہم یوزعون “ یعنی اس میں سے ہر جماعت پر ایک نگہبان مقرر کیا جاتا جو آگے جانے والوں کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَحُشِرَ [ اور اکٹھا کئے گئے ] لِسُلَيْمٰنَ [ سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ] جُنُوْدُهٗ [ ان کے لشکر ] مِنَ الْجِنِّ [ جنوں میں سے ] وَالْاِنْسِ [ اور انسانوں میں سے ] وَالطَّيْرِ [ اور پرندوں میں سے ] فَهُمْ [ پھر ان کی ] يُوْزَعُوْنَ [ صف بندی کی جاتی ] و ز ع (ف) وزعا (1) روکنا۔ منع کرنا۔ (2) قطار بنانا۔ صفت بندی کرنا (گڈمڈ ہونے سے روکنے کے لئے) ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 17

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–18

حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا علم و فضل، جن و انس پر حکومت، چیونٹیوں کو بلوں میں داخل ہونے کا مشورہ ان آیات میں جو حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے ان دونوں کو علم عطا فرمایا تھا علوم نبوت تو ان دونوں کو دیئے ہی تھے دوسرے علوم بھی عطا فرمائے تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے لوہے کو نرم فرما دیا تھا وہ اس سے لوہے کی زرہیں بناتے تھے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ایسا اقتدار عطا فرمایا تھا جس کے ذریعہ شیاطین سے کام لیتے تھے ان سے عمارتیں بھی بنواتے تھے اور ان سے سمندروں میں غوطے بھی لگواتے تھے اور ان سے بڑے بڑے برتن بنواتے تھے جو تالابوں کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–19

قصہء دوم داؤد (علیہ السلام) اجمالا وسلیمان (علیہ السلام) تفصیلاً قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا داود وسلیمان علما۔۔۔ الی۔۔۔ وادخلنی برحمتک فی عبادک الصالحین۔ ان آیات میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام کا قصہ بیان کرتے ہیں اور ان دینی اور دنیوی احسانات اور انعامات کا ذکر کرتے ہیں جو منجانب اللہ ان دونوں پیغمبروں پر مبذول ہوئے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو نبوت اور علم شریعت کے علاوہ سلطنت عطا کی اور خارق عادت طریقہ پر زرہ سازی کی صنعت بتلائی تاکہ کافروں سے جہاد میں مدد ملے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کو منطق الطیر اور تسخیر جن اور تسخیر ہوا کا معجزہ عطا فرمایا جن اور انس کو ان کا تابع فرمان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

17:۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا جنوں، انسانوں اور پرندوں کا لشکر جمع کیا گیا اور کوچ سے پہلے اسے ایک خاص ترتیب سے مرتب کر کے متعدد دوستوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر دستے پر ایک سردار مقرر کردیا گیا تاکہ کثرت ازدحام کی وجہ سے نقل و حرکت میں آسانی ہو اور نظم و ضبط قائم رہ سکے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–17

ربط آیات سورۃ کی ابتداء قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت سے ہوئی ۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت اور ان کو فرعون کی قوم کی طرف بھیجنے کا ذکر ہوا ۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) بعض نشانیاں لے کر پہنچے تو قوم فرعون نے اسے جادو کہ انکار کردیا حالانکہ ان کے دلوں میں یقین تھا کہ یہ کسی انسان کے بس کی بات نہیں بلکہ ایسی خارق عادت نشانی اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے نبی کے ہاتھ پر ہی ظاہر ہو سکتی ہے۔ بہر حال انہوں نے ظلم وتعدی اور غرور وتکبر کی بناء پر معجزات کا انکار کیا تو اللہ نے فرمایا کہ تم نے ایسے فسادیوں کا انجا م بھی تو دیکھ لیا کہ وہ کس طرح غرقاب ہوئے۔ اب آ ج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَحُشِرَ لِسُلَيْمٰنَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّيْرِ فَہُمْ يُوْزَعُوْنَ۝ 17 حشر ، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة . ( ح ش ر ) الحشر ( ن ) اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔ جند يقال للعسکر الجُنْد اعتبارا بالغلظة، من الجند، أي : الأرض الغلیظة التي فيها حجارة ثم يقال لكلّ مجتمع جند، نحو : «الأرواح جُنُودٌ مُجَنَّدَة» «2» . قال تعالی: إِنَّ جُنْدَنا لَهُمُ الْغالِبُونَ [ الصافات/ 173] ( ج ن د ) الجند کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–19

ترکیب : غیر بعید ای مکانا غیر بعید رو وقت خیر بعید او مکشا الا یسجد والا لیست زائدۃ وموضعالکلام نصب بدلامن اعمالھم والتحقیق وفل حرف التنبیہ علی الفعل من غیر تقدیر حذف۔ الخباء مصدر بمعنی المخبور من المفرو النبات انہ من سلیمان بالکسر علی الاستیناف وابلفتح بدلا من کتاب ومرفوع بکریم الی تعلوا موضعہ رفع بدلا من کباب۔ ترکیب : ضاحکا حال موکدۃ وقیل مقدرۃ لان التبسم مبداء الضحک ویقرء ضحکا علی انہ مصدر و العامل فیہ تبسم لانہ بمعنی ضحک حشر کا مفعول مالم یسم فاعلہ جنودہ۔ تفسیر … سلیمان ( علیہ السلام) کا قصہ : یہ دوسرا قصہ حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا ہے جو اس تفصیل سے یہود و نصاریٰ کو بھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَحُشِرَلِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّیْرِفَہُمْ یُوْزَعُوْنَ ۔ (النمل : 17) (اور ( حضرت) سلیمان کے جائزے کے لیے جنوں، انسانوں اور پرندوں میں سے ان کے لشکر جمع کیے گئے تھے اور ان کی درجہ بندی کی جارہی تھی۔ ) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی فوج اس آیت کریمہ میں یہ دکھایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو جن خصوصی عنایات سے نوازا تھا اور آپ ( علیہ السلام) پر ایسی نوازشات کی گئی تھیں جن میں ان کا کوئی ہمسر نہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں صرف انسانوں پر ہی حکومت عطا نہیں کی بلکہ آپ ( علیہ السلام) کو جنوں اور پرندوں پر بھی اقتدار عطا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نہ صرف پرندوں کی بولیوں کا علم دیا گیا بلکہ انھیں جنوں، انسانوں اور پرندوں پر حکومت کرنے کا اختیار بھی عطا ہوا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) پہلے پیغمبر اور حکمران ہیں جو بیک وقت جنوں، انسانوں اور پرندوں پر عملاً حکمران بنائے گئے۔ اس کے لیے ” حُشَرِ لِسُلَیْمٰنَ “ کے الفاظ لا کر ثابت کیا گیا کہ جن وانس اور پرندوں کو مسخر کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا ورنہ ایسا کرنا سلیمان (علیہ السلام) کے بس کی بات نہ تھی۔ سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے اقتدار کی معاونت اور عوام کی خدمت کے لیے جنوں، انسانوں اور پرندوں کو الگ الگ منظم کیا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

لشکر سلیمان۔ : 17۔ وَحُشِرَ (اور جمع کیے گئے) ۔ لِسُلَیْمٰنَ جُنُوْدُہٗ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالطَّیْرِ (سلیمان کے لشکر جن میں جن و انس و پرند شامل تھے) ۔ روایت تفسیریہ میں ہے۔ آپ کا معسکرو چھاونی 100۔ 100 فرسخ تھا۔ ان میں 25 فرسخ جنات کے لئے ٗ 25 انسانوں اور 25 پرندوں کے لئے تھے۔ جبکہ پچیس و حشی جانوروں کے لئے تھے۔ اور آپ کے لکڑی پر بنے ہوئے شیشے کے ایک ہزار مکانات تھے۔ ان میں تین سو آپ کے حرم اور سات سو لونڈیاں تھیں۔ اور جنات نے آپ کے لئے سونے اور ابریشم کا قالین ایک مربع فرسخ میں تیار کیا۔ آپ کا منبر درمیان میں رکھا جاتا۔ یہ منبر سونے چاندی کا بنا تھا۔ جب آپ تشریف فرما ہوتے۔ تو چھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 17۔ وحشر لسلیمن جنودہ، ، حضرت سلیمان کے لیے جمع کردی گئیں، من الجن والانس، والطیر، دور دور سے ان کو جمع کردیا گیا، فھم یوزعون، وہ روکے جاتے ہیں۔ حضرت قتادہ کا بیان ہے کہ ہر لشکر کا حصہ دوسرے لشکر کو آگے کرتاتا کہ وہ جلدی چلے ، وزع کہتے ہیں کہ کسی کو روک دینا۔ مقاتل نے ، یوزعون ، کا ترجمہ کیا ہے۔ یساقون، ان کو چلایاجاتا تھا، محمد بن کعب نے کہا سلیمان کی لشکر گاہ سوفرسخ تھی، 25 فرسخ جنات کے لیے ، 25 فرسخ آدمیوں کے لیے ، 25 فرسخ پرندوں کے لیے اور 25 فرسخ جنگلی جانوروں کے لیے۔ حضرت سلیمان کے ایک ہزار کمرے تھے جو لکڑی کے تختوں پر فرش پر قائم تھے۔ تین سومنکوحہ بیبیاں تھیں جو تین سوگھروں میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–26

15 تا 26 بعضے مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے یہ قرآن شریف کے مخالف ہے اس لیے کے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ خصوصیت کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جانوروں کو بولی سمجھنے کی نعمت عنایت فرمائی تھی جو نعمت مخلوق الٰہی میں سے کسی کو عنایت نہیں ہوئی اور حضرت سلیمان کا قول اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں نقل کیا ہے اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی اس نعمت کو اپنی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا ہے جب یہ کہا جاوے گا کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے تو پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خصوصیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–44

آیت 15 سے 44 اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

19 چیونٹی کا دوسری چیونٹیوں سے سبق آموز خطاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ تم سب اپنے بلوں میں گھس جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تم کو روند ڈالے جبکہ ان کو اس کی خبر بھی نہ ہو "۔ سو اگر طبیعت صحیح اور مزاج درست ہو تو حقیقت ہر کسی کو واضح نظر آتی ہے۔ ورنہ بڑی بڑی عقلوں پر بھی پردے پڑجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو چیونٹی جیسی ایک چھوٹی اور ننھی منھی سی مخلوق بھی یہ جانتی اور مانتی ہے کہ نہ نبی غیب جانتا ہے نہ اس کے ساتھی اور صحابی۔ چناچہ وہ نصِّ قرآنی کے مطابق صاف اور صریح طور پر دوسری چیونٹیوں سے کہتی ہے کہ تم اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ۔ کہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–44

سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–31

آیات نمبر 15:31 اسرار و معارف : ہم نے داود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علوم نبوت سے سرفراز فرمایا یہاں علم سے مراد نبوت کے ساتھ دوسرے علوم بھی شامل ہیں کہ حکومت و سیاست کا علم یا فنون میں سے زرہ سازی کا علم جو داود (علیہ السلام) کو بطور خاص عطا ہوا تھا نیز ان کی خصوصیت حکومت و سلطنت بھی تھی اور وہ حضرات اس پر شکر بھی ادا کرتے تھے کہ انہیں بہت سے نیک بندوں میں خاص فضیلت عطا کی گئی مثلاً ہر نبی کو بھی حکومت و سلطنت تو عطا نہ ہوئی اور سلیمان (علیہ السلام) داود (علیہ السلام) کے وارث مقرر ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر وہ نعمت عطا ہوئی ہے جو اس عظیم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

1 ۔ یعنی ان کی جماعتیں بنائی گئیں اور ہر جماعت کو ایک خاص نظم اور ترتیب میں رکھا گیا تاکہ جس کی جو جگہ ہے وہیں رہے اور بلا اجازت اس سے آگے پیچھے نہ ہونے پائے۔ (شوکانی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:17) حشر۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ اکٹھا کیا گیا ۔ جمع کیا گیا۔ حشر مصدر سے۔ یوزعون۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب وزع (نصر) مصدر ہے۔ جس کے معنی روک لینا۔ باز رکھنا۔ لشکر کو ترتیب دینا۔ چناچہ وزع الحبش کے معنی ہیں اس نے لشکر کو صفوں اور گروہوں میں ترتیب دیا۔ یہاں یوزعون (وہ ترتیب دئیے گئے) میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ عساکر باوجود کثیر التعداد اور متفاوت ہونے کے غیر مرتب ومنتشر نہ تھے بلکہ نظم و ضبط میں تھے کہ کبھی سرکشی اختیار نہ کرتے تھے۔ وحشر ۔۔ فھم یوزعون اور (ایک موقعہ پر حضرت سلیمان کے حکم پر) اس کے لشکر مشتمل برجن و انس والطیر اکٹھے کئے گئے اور وہ گروہوں اور صفوں پر ترتیب دئیے گئے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–19

لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 19 : فضلنا (ہم نے فضیلت دی۔ بڑائی دی) علمنا ( ہمیں سکھایا گیا) منطق (بولنا۔ بولی) الطیر (پرندہ۔ پرندے) حشر (جمع کیا گیا) ‘ یوزعون (وہ روکے جاتے ہیں) ‘ وادالنمل (چیونٹیوں کا میدان) ‘ لایحطمن (روند نہ ڈالیں) تبسم (وہ مسکرادیا) ضاحک ( ہنسنے والا) ‘ اوزعنی ( مجھے توفیق دے) ‘ ترضی (توخوش ہوجائے) ۔ تشریح : آیت نمبر 15 تا 19 : حضرت دائود (علیہ السلام) جو بنی اسرائیل کے عظیم پیغمبر تھے ان کو اللہ نے زبور کے ساتھ ساتھ ایسی خوبصورت آواز سے نوازا ھتا کہ جب وہ اپنی خوبصورت آواز میں زبور کی آیات کی تلاوت اور اللہ کی حمد وثناء کرتے تھے تو تمام انسان ‘ جنات ‘ چرند پرند اور درند…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–18

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو علم دیا۔ ان کا علم و دانش مشہور اور ضرب المثل ہے، جس کے شکریہ میں وہ کہنے لگے کہ سب خوبیاں اس اللہ کو ہیں جس نے ہمیں بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطا کی۔ اور داؤد (علیہ السلام) کے وارث سلیمان (علیہ السلام) نے لوگوں سے اس بات کا خطاب کیا کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے جن اور شیاطین اور جانوروں کی بولی سکھلائی ، یہ اس علم اور ورثہ کی تفصیل شروع ہوتی ہے کہ ہم کو جانوروں کی بولی بتائی ، چناچہ منقول ہے کہ مور ایک روزیہ کہہ رہا تھا کہ جو کچھ یہاں کرتا ہے اس کا بدلہ آخرت میں ملے گا، ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 16–21

[6] یہاں داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کے ذکر سے جہالت اور علم کا فرق بتانا مقصود ہے۔ بادشاہی فرعون کو بھی ملی تھی اور داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کو بھی لیکن جہالت اور علم کے فرق نے ان کے درمیان عظیم الشان فرق پیدا کردیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 16–17

پرندوں کی بولیاں 1: فرعون اور حضرت موسیٰ کے قصہ کے بعد داؤد سلیمان (علیہ السلام) کے حالات بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ فرعون کی تنگ طرفی کو ظاہر کیا جائے اور بتایا جائے کہ اللہ کے نیک بندے باوجود تاج اور رنگ کے مالک ہونے کے اللہ کے شاگرد رہتے ہیں اور ازراہ کبروغرور گمراہ نہیں ہوجاتے ، دیکھئے داؤد اور سلمان (علیہ السلام) کی ان کو سیاسی فہم و فراست کا بہرہ وافر دیا گیا ۔ ان کو بتایا گیا کہ کس طرح سلطنت کی حدود کو وسیع کیا جاسکتا ہے اور کس طرح اختیارات کو انسانوں ، جنوں اور پرندوں پر استعمال کیا جاسکتا ہے مگر ان کی سل امتی عقل ملاحظہ ہو کہ وہ دائرہ عبودیت سے باہر نہیں نکلے اور ہمیشہ اس فضیلت و…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) آگے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر اور اس کی ترتیب کا بیان ہے اور سلیمان (علیہ السلام) کے لئے اس کا لشکر جنات میں سے اور انسانوں میں سے اور پر وندوں میں سے جمع کیا گیا اور ان کو روکاجاتا تھا یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) جب سفر کرتے تو ان کے لشکر میں جنات بھی ہوتے اور انسان بھی ہوتے اور پرندے بھی شامل ہوتے اور ان کی روانگی سے قبل اس تمام لشکر کو ترتیب و تنظیم کی غرض سے روکاجاتا تھا پھر روانگی میں بھی اس ترتیب کو مدنظر رکھاجاتا تھا کہ پہلی صف والے آگے نہ نکل جائیں یا آگے والے پیچھے نہ رہ جائیں اسی طرح میمنہ اور میسرہ میں فرق نہ آئے دائیں والے بائیں طرف نہ ہوجائیں اور بائیں والے دائیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ تاکہ متفرق نہ ہوجاویں، پیچھے والے بھی پہنچ جاویں، یہ بات عادة غایت کثرت میں ہوتی ہے، کیونکہ تھوڑے مجمع میں تو اگلا آدمی خود ہی ایسے وقت رک جاتا ہے، اور بڑے مجمع میں اگلوں کو پچھلوں کی خبر بھی نہیں ہوتی، اس لئے اس کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے تینوں قسم کے لشکروں کو حاضر کیا جاتا تھا تاکہ وہ خود ان کا جائزہ لیں : 17۔ یہ تینوں قسم کے لشکر کون کون سے ہیں ؟ ؛ ہم نے اوپر بری ‘ بحری اور فضائی لشکروں کا ذکر کیا ہے قرآن کریم نے ان تینوں لشکرون کو جن وانس اور طیر کے لشکر قرار دیا ہے جو قرآن کریم نے ان کے نام قرار دئیے ہیں وہ بلاریب صحیح اور درست ہیں ہم نے ان کے ناموں کو محض موجودہ نام کی ترتیب کے لحاظ سے کہا ہے اور ایک ہی چیز کے مختلف ادوار میں مختلف نام ہو سکتے ہیں اس کی صورت اس وقت کے لحاظ سے کچھ بھی ہو ہمیں اس سے کوئی بحث نہیں غور طلب بات صرف اتنی ہے کہ افواج کے رکھنے کی ضرورت کیا ہوتی ہے ؟ یہی کہ دوسرے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–18

There is no heritage of wealth among the prophets وَوَرِ‌ثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ (And Sulaiman inherited Dawud - 27:16). The inheritance mentioned in this verse is not the inheritance of wealth and property, because the Holy Prophet ﷺ has clearly declared that the prophets do neither inherit the property of anyone nor does their property is inherited by anyone. Tirmidhi and Abu Dawud have reported from Sayyidna Abu darda' ؓ that the Holy Prophet ﷺ has said, ` Ulama' (men of knowledge) are the inheritors of prophets, but the prophets did not leave dirhams or dinars (wealth) as their…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

23 The Bible dces not either make any mention that there were jinns also in the Prophet Solomon's armies, and he took service from them; but the Talmud and the rabbinical traditions contain details of this. (Jewish Encyclopedia, Vol. XI, p. 440). Some of the present-day writers have strained every nerve to prove that the words jinn and fair do not refer to the jinns and birds but to men who performed different duties in the Prophet Solomon's army. They say that the Jinn haply the people of the mountain tribes whom Prophet Solomon had subdued and who performed teats of great strength and skill…

Read the full tafseer →