An-Naml 27:18

An-Naml · from ayah 18

27:18

حَتّٰۤی اِذَاۤ اَتَوْا عَلٰی وَادِ النَّمْلِ ۙ— قَالَتْ نَمْلَةٌ یّٰۤاَیُّهَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ ۚ— لَا یَحْطِمَنَّكُمْ سُلَیْمٰنُ وَجُنُوْدُهٗ ۙ— وَهُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ۟حَتّٰٓى اِذَاۤ اَتَوۡا عَلٰى وَادِ النَّمۡلِۙ قَالَتۡ نَمۡلَةٌ يّٰۤاَيُّهَا النَّمۡلُ ادۡخُلُوۡا مَسٰكِنَكُمۡ‌ۚ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمٰنُ وَجُنُوۡدُهٗۙ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُوۡنَ‏

یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ چیونٹیوں اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Until, when they came upon the valley of the ants, an ant said, "O ants, enter your dwellings that you not be crushed by Solomon and his soldiers while they perceive not."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 2 of surah · Ruku 17 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:18

(ایک مرتبہ وہ ان کے ساتھ کوچ کر رہا تھا) یہاں تک کہ جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا "“اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھس جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمانؑ اور اس کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا کہ چیونٹیوں اپنے اپنے بلوں میں داخل ہو جاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب وه چینوٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو! اپنے اپنے گھروں میں گھس جاؤ، ایسا نہ ہو کہ بیخبری میں سلیمان اور اس کا لشکر تمہیں روند ڈالے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہاں تک کہ ایک دن جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا : چیونٹیو ! اپنے اپنے گھروں میں گھس جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں پیس ڈالے، اور انہیں پتہ بھی نہ چلے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہاں تک کہ جب چیونٹیوں کے نالے پر آئے ایک چیونٹی بولی اے چیونٹیو! اپنے گھروں میں چلی جاؤ تمہیں کچل نہ ڈالیں سلیمان اور ان کے لشکر بے خبری میں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہاں تک کہ جب وہ (لشکر) چیونٹیوں کے میدان پر پہنچے تو ایک چیونٹی کہنے لگی: اے چیونٹیو! اپنی رہائش گاہوں میں داخل ہو جاؤ کہیں سلیمان ؑ اور ان کے لشکر تمہیں کچل نہ دیں اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی پر آئے تو ایک چیونٹی نے کہا اے چیونٹیو ! اپنے گھروں میں داخل ہوجاؤ، کہیں سلیمان اور اس کے لشکر تمہیں کچل نہ دیں اور وہ شعور نہ رکھتے ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہاں تک جب وہ چیونٹیوں کی ایک وادی پر پہنچے تو ایک چیونٹی بول اٹھی، چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تمہیں روند ڈالیں اور انہیں پتہ بھی نہ چلے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچنے ایک چیونٹی نے کہا، اے چینٹیو، اپنے سوراخوں میں گھس جائو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں پامال نہ کر ڈالے اور انہیں اس کا احساس بھی نہ ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر نظم و ترتیب کے لیے ان کو روکا جاتا یہاں تک کہ ایک مرتبہ چلتے چلتے جب وہ چیونٹیوں کی ایک وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے آواز دی کہ اے چیونٹیو ! گھس جاؤ تم اپنے اپنے بلوں میں کہیں ایسا نہ ہو کہ رونڈ ڈالیں تم کو سلیمان اور ان کے لشکر درآنحالیکہ انکو اس کی خبر بھی نہ ہو

— مولانا اسحاق مدنی

یہاں تک کہ ایک مرتبہ جب وہ چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے۔ ایک چیونٹی نے کہا کہ اے چیونٹیو اپنے سوراخوں میں جاگھسو کہیں سلیمان اور ان کا لشکر تمہیں روند نہ ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا : اے چیونٹیو ! تم سب اپنے بلوں میں گھس جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان ؑ اور اس کے لشکر تمہیں کچل کر رکھ دیں اور انہیں اس کا احساس بھی نہ ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہاں تک کہ جب وہ چیونٹیوں کے میدان میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا چیونٹیو ! اپنے اپنے بلوں میں داخل ہوجاؤ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(Solomon was once on the move with them) until when they reached a valley of ants one of the ants said: "O ants, get into your holes, lest Solomon and his hosts crush you (under their feet) without even knowing."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

until when they reached the valley of the ants, one of the ants said, :O ants, enter your dwelling places, lest Sulaiman and his armies crush you unknowingly.

— Muhammad Taqi Usmani

until when they reached the valley of the ants, one of the ants said, :O ants, enter your dwelling places, lest Sulaiman and his armies crush you unknowingly.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Till, when they came to the valley of the ants, one of the ants said: "O ants! Enter your dwellings, lest Sulayman and his armies should crush you, while they perceive not."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Till, when they reached the Valley of the Ants, an ant exclaimed: O ants! Enter your dwellings lest Solomon and his armies crush you, unperceiving.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Until, when they came upon the valley of the ants, an ant said, "O ants, enter your dwellings that you not be crushed by Solomon and his soldiers while they perceive not."

— Saheeh International

When they arrived in the valley of the ants, one ant said to the others, "Enter your dwellings lest you be carelessly crushed by Soloman and his army."

— Muhammad Sarwar

Until when they came to the valley of the Naml, a Namlite said: O Naml! enter your houses, (that) Sulaiman and his hosts may not crush you while they do not know.

— Muhammad Habib Shakir

Until when they came unto the valley of the ants, an ant said: O ants! enter Your habitations lest Sulaiman and his hosts crush you while they perceive not.

— Abdul Majid Daryabadi

At length, when they came to a (lowly) valley of ants, one of the ants said: "O ye ants, get into your habitations, lest Solomon and his hosts crush you (under foot) without knowing it."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–19

حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی حضرت سلیمان اور حضرت داؤد ؑ پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے لکھا ہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 24 اس آیت کو بھی آج کل کے بعض مفسرین نے تاویل کے اوپر چڑھایا ہے، وہ کہتے ہیں کہ وادی النمل سے مراد چیونٹیوں کی وادی نہیں ہے بلکہ یہ ایک وادی کا نام ہے جو شام کے علاقے میں تھی اور نملۃ کے معنی ایک چیونٹی کے نہیں ہیں بلکہ یہ ایک قبیلہ کا نام ہے، اس طرح وہ آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ " جب حضرت سلیمان وادی النمل میں پہنچے تو ایک نمل نے کہا کہ اسے قبیلہ نمل کے لوگو " لیکن یہ بھی ایسی تاویل ہے کہ جس کا ساتھ قرآن کے الفاظ نہیں دیتے، اگر بالفرض وادی النمل کو اس وادی کا نام مان لیا جائے، اور یہ بھی مان لیا جائے کہ وہاں بنی النمل نام کا کوئی قبیلہ رہتا تھا، تب بھی یہ بات عربی زبان کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 16–18

انبیاء میں مال کی وراثت نہیں ہوتی وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ ، وَرِثَ سے وراثت علم اور نبوت مراد ہے وراثت مال نہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا (نحن معاشر الانبیآء لا نرث ولا نورث) یعنی انبیاء نہ وارث ہوتے ہیں اور نہ مورث، حضرت ابوالدرداء سے ترمذی اور ابو داؤد میں روایت ہے۔ العلماء ورثۃ الانبیاء و ان الانبیاء لم یورثوا دینارا ولا درھما ولکن ورثوا العلم فمن اخذہ اخذ بحظ وافر۔ یعنی علماء انبیاء کے وارث ہیں، لیکن انبیاء میں وراثت علم اور نبوت کی ہوتی ہے مال کی نہیں ہوتی۔ حضرت ابوعبداللہ (جعفر صادق) کی روایت اس مسئلہ کو اور زیادہ واضح کردیتی ہے کہ حضرت سلیمان ؑ حضرت داؤد ؑ کے وارث ہوئے اور سرور دو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وادی نمل کی وضاحت وادالنمل سے کوئی مخصوص وادی بھی مراد ہو سکتی ہے جو اسی نام سے معروف رہی ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن نے اس کا ذکر اس نام سے محض اس خصوص کی وجہ سے کیا ہو کہ اس میں چیونٹیاں بہت تھیں۔ چیونٹیا چیونٹے اور اس نوع کے تمام حشرات اپنے گڑھ انہی علاقوں میں بناتے ہیں جن کا ماحول ہر اعتبار سے ان کے لئے سازگار ہو۔ حضرت سلیمان حشرات کی بولی بھی سمجھتے تھے یہ ذکر اسی پریڈ کے موقع کا ہے کہ جب حضرت سلیمان کی فوجیں مارچ کرتی ہوئی چیونٹیوں کی وادی میں پہنچیں تو ایک چیونٹی نے اپنے دل کو خطرے سے آگاہ کیا کہ اے چیونٹیوں ! اپنی بلوں میں گھس جائو، مبادا سلیمان اور اس کی فوجیں تمہیں پامال کردیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18-1اس سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ حیوانات میں بھی ایک خاص قسم کا شعور موجود ہوتا ہے۔ گو وہ انسانوں سے بہت کم اور مختلف ہے۔ دوسرا، یہ کہ حضرت سلیمان ؑ اتنی عظمت و فضیلت کے باوجود عالم الغیب نہیں تھے۔ اس لئے چیونٹیوں کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں بیخبر ی میں ہم روند نہ دی جائیں۔ تیسرا یہ کہ حیوانات بھی اس عقیدہ صحیحہ سے بہرہ ور تھے اور ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔ جیسا کہ آگے آنے والے ہدہد کے واقعے سے بھی اس کی مذید تائید ہوتی ہے۔ چوتھا یہ کہ حضرت سلیمان ؑ پرندوں کے علاوہ دیگر جانوروں کی بولیاں بھی سمجھتے تھے۔ یہ علم بطور اعجاز اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا فرمایا تھا، جس طرح تسخیر جنات وغیرہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 18–22

10: سبا ایک قوم کا نام تھا جو یمن کے ایک علاقے میں آباد تھی، اسی قوم کے نام پر اس علاقے کو بھی سبا کہا جاتا تھا، اس وقت یہاں ایک ملکہ حکمران کر رہی تھی جس کا نام تاریخی روایتوں میں ”بلقیس“ بیان کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 18–19

حتی ……عبادک الصلحین (91) یہ لشکر جب نکلا ، جس میں انسان ، جن او طیور شامل تھے۔ نہایت تنظیم اور ترتیب کے ساتھ اس کا اول اس کے آخری حصہ سے مربوط تھا۔ اس کی صفیں منظم تھیں اور اس کی حرکت بھی منظم تھی۔ یہ لشکر ایک ایسی وادی میں پہنچا جہاں چیونٹیاں بڑی تعداد میں تھیں۔ اس کثرت سے کہ اس ودی کا نام ہی وادی نمل تھا۔ تو ایک ایسی چیونٹی نے جو ان کی سربراہ تھی ، چیونٹیوں سے کہا۔ ادخلوا مسکنکم (82 : 81) ” اپنے گھروں میں داخل ہو جائو۔ “ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ چیونٹیوں بھی شہد کی مکھیوں کی طرح بہت منظم ہوتی ہیں۔ ان کے اندر ڈیوٹیاں تقسیم ہوتی ہیں اور یہ ایک عجیب نظام کے ساتھ زندگی بسر کرتی ہیں۔ ایسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی سلیمان کا اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ ایسے میدان کی طرف گزر ہوا جہاں چیونیٹوں کی بڑی بھاری بستی تھی۔ (تنبیہ) جہاں چیونٹیاں مل کر خاص سلیقہ سے اپنا گھر بناتی ہیں اسے زبان عرب میں " قریتہ النمل " کہتے ہیں۔ (چیونٹیوں کی بستی) مفسرین نے مختلف بلاد میں کئی ایسی وادیوں کا پتہ بتلایا ہے جہاں چیونٹیوں کی بستیاں بکثرت تھیں، ان میں سے کسی ایک پر حسب اتفاق حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا گزر ہوا۔ 3 یعنی یہ ایسے تو نہیں جو جان بوجھ کر تم کو ہلاک کریں، ہاں ممکن ہے بیخبر ی میں پس جاؤ۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " چیونٹی کی آواز کوئی (آدمی) نہیں سنتا، انھیں (سلیمان (علیہ السلام) کو) معلوم ہوگئی " یہ ان کا معجزہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18 حَتّٰٓی اِذَآ اَتَوْا عَلٰی وَاد النَّمْلِلا ” حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے لشکروں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے ایک ایسے علاقے سے گزرے جہاں چیونٹیاں کثرت سے پائی جاتی تھیں۔ لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمٰنُ وَجُنُوْدُہٗلا وَہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ ” انہیں احساس بھی نہیں ہوگا کہ ان کے قدموں اور گھوڑوں کے سموں تلے کتنی ننھی جانیں مسلی جا رہی ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 علمائے حیوانات کی جدید تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جس طرح انسان اپنے اجتماعی اور سیاسی نظام کے لئے چند مخصوص ضوابط کی پابندی کرتا ہے۔ چیونٹی جیسے حقیر ترین جانور کی بستیوں میں بھی اسی سے ملتا جلتا نظام پایا جاتا ہے۔ آدمیوں کی طرح چیونٹیوں کے بھی خاندان اور قبائل ہوتے ہیں ان میں باہمی تعاون اور تقسیم کار کا اصول اور نظام حکومت کے ادارت پائے جاتے ہیں ان کی بھی زبان ہے جس کو سب چیونٹیاں سمجھتی ہیں۔ 20 حضرت سلیمان اپنے لاؤ لشکر سمیت کسی مہم پر جارہے تھے کہ چیونٹیوں کی ایک بستی پر ان کا گزر ہوا تو آپ نے ایک چیونٹی کو دوسری چیونٹی سے یوں خطاب کرتے ہو سنا۔ وہ شاید ان چیونٹیوں کی سردار چیونٹی تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

21۔ چیونٹیوں کا میدان اس لیے کہا گیا کہ وہاں جھنڈ کے جھنڈ چیونٹیاں جمع تھیں۔ ایک مرتبہ حضرت سلیمان کا لشکر خشکی میں کسی سرزمین سے گزر رہا تھا کہ راہ میں ایسا قطعہ پڑا جہاں چیونٹیاں بکثرت آباد تھیں اور وہیں ماجرا پیش آیا۔ 22۔ چیونٹی نہایت ذہین جانور ہوتی ہیں۔ جیسا کہ ماہر فن کا بیان ہے۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ نیز پارۂ ھذا کے صفحہ 785 پر ضمیمہ۔۔۔ حیوانات سے عقل کی بالکلیہ نفی کرنا کرنا قول بلادلیل ہے اور چیونٹی کے متعلق تو یہ خیال خلاف دلیل بھی ہے۔ چیونٹی کے باب میں تو ماہرین فن کا بیان ہے کہ ” تنظیم وتقسیم کار کے لحاظ سے ہو یا ذہانت وذکاوت کی بنا پر چیونٹی کی زندگی ہر طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–21

آیت نمبر 15 تا 21 ترجمہ : اور ہم نے داؤد اور اس کے بیٹے سلیمان کو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا علم عطا کیا اور پرند وغیرہ کی بولی سکھائی اور ان دونوں حضرات نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا سب تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے ہم کو نبوت کے ذریعہ اور جن و انس و شیاطین کی تسخیر کے ذریعہ اپنے مومن بندوں میں سے بہت سوں پر فضیلت عطا فرمائی اور سلیمان (علیہ السلام) نبوت اور علم میں داؤد (علیہ السلام) کے وارث ہوئے اور سلیمان (علیہ السلام) نے کہا اے لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولی یعنی ان کی آواز کی سمجھ سکھائی اور ہم کو ہر وہ شئ عطا فرمائی جو انبیاء اور ملوک کو عطا کی جاتی ہے (یعنی جس کی ان کی حاجت ہوتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

حتی اذا اتوا علی وادالنمل . یہاں تک کہ یہ سب جب چیونٹیوں کی وادی پر پہنچے۔ عَلٰی وَادٍ میں لفظ عَلٰی بتارہا ہے کہ وہ اوپر سے آئے تھے اور بات بھی معلوم ہو رہی ہے کہ اس وادی کو طے کر کے آکر کنارہ پر پہنچ گئے تھے (اور وہیں چیونٹیوں کے بل تھے) اتی علی الشئی کا معنی ہے کسی چیز کو ختم کردیا اور اس کے آخری حصہ پر پہنچ گئے۔ وہب بن منبہ نے بحوالۂ کعب بیان کیا ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) جب تخت پر سوار ہوتے تو اہل و عیال کو نوکروں چاکروں کو اور لاؤ لشکر کو بھی سوار کرلیتے تھے۔ سالن پکانے کے برتن اور روٹیاں پکانے کے آہنی تنور بھی ساتھ ہوتے تھے۔ اتنی بڑی بری نو دیگیں بھی ہوتی تھیں کہ ایک دیگ میں دس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(18) چناچہ ایک مرتبہ سرزمین شام میں ایک چیونٹیوں کے میدان پر سے گزر ہوا تو عرجاء یا منذرہ نامی ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا اے چیونٹیو اپنے سوراخوں میں جا گھسو کہیں تمہیں سلیمان اور ان کا لشکر بیخبر ی میں نہ کچل ڈالیں یا یہ کہ سلیمان ؑ کے لشکر نے چیونٹی کی یہ بات نہیں سمجھی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

حَتّىٰٓ اِذَآ اَتَوْا عَلٰي وَاد النَّمْلِ۔۔ : اس آیت سے بہت سے مسائل معلوم ہوتے ہیں : 1 چیونٹیوں کو اللہ تعالیٰ نے اجتماعیت کا شعور بخشا ہے، چناچہ وہ بستیوں کی صورت میں رہتی ہیں۔ ان کی باقاعدہ ایک ملکہ ہوتی ہے، جس کے احکام کے تحت وہ زندگی بسر کرتی ہیں۔ ان کی بستیوں کے اندر حیرت انگیز ترتیب کے ساتھ مکانات، ان کی دہلیزیں، چھتیں، راستے، غرض سب کچھ ہوتا ہے۔ وہ آنے والے وقت کے لیے غذا جمع کرتی ہیں اور اسے ایسے طریقے سے محفوظ کرتی ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے، چناچہ وہ غلے کے ہر دانے کو کاٹ کر دو حصوں میں کردیتی ہیں، تاکہ وہ نمی سے اگ نہ جائے۔ ان میں پہرے دار، لڑاکا دستے، خوراک جمع کرنے والے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 18–19

(حتیٰ اذا اتوا علی واد النمل۔۔۔۔۔۔ ) اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ حتی اذا اتوا علی واد انمل قتادہ نے کہا : ہمارے لیے یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ شام میں ایک وادی ہے۔ کعب نے کہا : یہ طائف میں ایک وادی ہے۔ قالت نملۃ یایھا النمل شعبی نے کہا : چیونٹی کے دو پر تھے وہ پرندوں میں سے تھی اس وجہ سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس کی بولی سمجھ گئے۔ اگر وہ پرندہ نہ ہوتی تو آپ اس کی بولی کو نہ سمجھتے۔ یہ بحث گزر چکی ہے اور بعد میں بھی آئے گی۔ سلیمان تیمی نے مکہ میں نملۃ اور النمل نون کے فتحہ اور میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان سے دونوں کو ضمہ کے ساتھ پڑھنے کی قرأ ت بھی منقول ہے۔ نملہ کو نملہ اس لیے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 18–19

1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” حتی اذا اتوا علی واد النمل “ کے بارے میں ذکر کیا گیا کہ یہ ایک وادی ہے شم کی زمین میں 2۔ ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے رویت کیا کہ وہ چیونٹی کہ سلیمان علیہ اسلام نے جس کی بات کو سمجھا تھا وہ دو پروں والے پرندوں سے تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو سلیمان (علیہ السلام) اس کی بات کو نہ سمجھتے۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ چیونٹی پرندوں میں سے تھی۔ 4۔ البخاری فی تاریخہ وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے نوف (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان بن داوٗد (علیہ السلام) کے زمانہ میں چیونٹیاں مکھیوں کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

حَتّىٰٓ اِذَآ [ یہاں تک کہ جب ] اَتَوْا [ وہ سب پہنچے ] عَلٰي وَادِ النَّمْلِ ۙ [ چونٹیوں کی وادی پر ] قَالَتْ [ تو کہا ] نَمْــلَةٌ [ ایک چونٹی نے ] يّـٰٓاَيُّهَا النَّمْلُ [ اے چونٹیو ] ادْخُلُوْا [ تم لوگ داخل ہو جاؤ] مَسٰكِنَكُمْ ۚ [ اپنے گھروں میں ] لَا يَحْطِمَنَّكُمْ [ ہرگز نہ روندنے پائے تم لوگوں کو ] سُلَيْمٰنُ [ سلیمان (علیہ السلام) ] وَجُنُوْدُهٗ ۙ[ اور ان کے لشکر ] وَ [ اس حال میں کہ ] هُمْ [ انھیں ] لَا يَشْعُرُوْنَ [ شعور نہ ہو ] ح ط م (ض) خطما تورنا۔ روندنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 18 ۔ حطمۃ صفت ہے اور اس پر تائے مبالغہ ہے۔ ظالم اور بےدرد چرواہا۔ بےدردی سے روندنے والا۔ كَلَّا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 15–18

حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا علم و فضل، جن و انس پر حکومت، چیونٹیوں کو بلوں میں داخل ہونے کا مشورہ ان آیات میں جو حضرت داؤد اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا تذکرہ فرمایا کہ ہم نے ان دونوں کو علم عطا فرمایا تھا علوم نبوت تو ان دونوں کو دیئے ہی تھے دوسرے علوم بھی عطا فرمائے تھے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے لیے لوہے کو نرم فرما دیا تھا وہ اس سے لوہے کی زرہیں بناتے تھے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ایسا اقتدار عطا فرمایا تھا جس کے ذریعہ شیاطین سے کام لیتے تھے ان سے عمارتیں بھی بنواتے تھے اور ان سے سمندروں میں غوطے بھی لگواتے تھے اور ان سے بڑے بڑے برتن بنواتے تھے جو تالابوں کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–19

قصہء دوم داؤد (علیہ السلام) اجمالا وسلیمان (علیہ السلام) تفصیلاً قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا داود وسلیمان علما۔۔۔ الی۔۔۔ وادخلنی برحمتک فی عبادک الصالحین۔ ان آیات میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام کا قصہ بیان کرتے ہیں اور ان دینی اور دنیوی احسانات اور انعامات کا ذکر کرتے ہیں جو منجانب اللہ ان دونوں پیغمبروں پر مبذول ہوئے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو نبوت اور علم شریعت کے علاوہ سلطنت عطا کی اور خارق عادت طریقہ پر زرہ سازی کی صنعت بتلائی تاکہ کافروں سے جہاد میں مدد ملے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کو منطق الطیر اور تسخیر جن اور تسخیر ہوا کا معجزہ عطا فرمایا جن اور انس کو ان کا تابع فرمان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

18:۔ “ حتی ” ابتدائیہ ہے جو ابتداء کلام میں آتا ہے لیکن اس میں غایت کا مفہوم بھی ہے۔ “ یوزعون ” سے جس روانگی اور کوچ کی طرف اشارہ ہے یہ اس کی غایت ہے کانہ قیل فساروا حتی اذا اتوا الخ (روح) یا یہ “ اتینا داود و سلیمان علما ” کی غایت ہے یعنی القصہ ان کے علم کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو چیونٹی کی بات بھی سنادی۔ قالہ الشیخ (رح) تعالیٰ ۔ 19:۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کے ساتھ آنے کا علم اللہ تعالیٰ نے بطور الہام چیونٹی کے دل میں ڈالدیا تو اس نے دوسری چوٹیوں سے کہا تم فورًا اپنے سوراخون میں گھس جاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں روند ڈالیں کیونکہ ان کو تمہارے یہاں موجود ہونے کا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–19

ربط آیات گزشتہ آیات میں حضرات دائود علیہ اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر ہوا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا اس بات پر شکر ادا کیا کہ اس نے انہیں بہت سے نیک اور ایماندار بندوں پر فضلیت بخشی ہے۔ پھر سلیمان (علیہ السلام) کی جانشینی کا ذکر ہوا ۔ پھر انہوں نے لوگوں کے سامنے اللہ کی عطا کردہ نعمت کا اس طرح تذکرہ کیا کہ اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی گفتگو سکھائی گئی ہے اور ہمیں ضرورت کی ہر چیز ، عطا کی گئی ہے جو کہ بڑی کھلی فضلیت ہے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ان کے لشکر اکٹھے کیے جاتے تھے جن سے وہ مختلف مواقع پر کام لیتے تھے ، یہ لشکر انسانوں ، جنوں اور پرندوں پر مشتمل تھے جنہیں حسب ضرورت تقسیم بھی کیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

حَتّٰٓي اِذَآ اَتَوْا عَلٰي وَادِ النَّمْلِ۝ 0 ۙ قَالَتْ نَمْــلَۃٌ يّٰٓاَيُّہَا النَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰكِنَكُمْ۝ 0ۚ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمٰنُ وَجُنُوْدُہٗ۝ 0 ۙ وَہُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۝ 18 أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے وادي قال تعالی: إِنَّكَ بِالْوادِ الْمُقَدَّسِ [ طه/ 12] أصل الوَادِي : الموضع الذي يسيل فيه الماء، ومنه سُمِّيَ المَفْرَجُ بين الجبلین وَادِياً ، وجمعه : أَوْدِيَةٌ ، نحو : ناد وأندية، وناج وأنجية، ويستعار الوادِي للطّريقة کالمذهب والأسلوب،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–19

ترکیب : غیر بعید ای مکانا غیر بعید رو وقت خیر بعید او مکشا الا یسجد والا لیست زائدۃ وموضعالکلام نصب بدلامن اعمالھم والتحقیق وفل حرف التنبیہ علی الفعل من غیر تقدیر حذف۔ الخباء مصدر بمعنی المخبور من المفرو النبات انہ من سلیمان بالکسر علی الاستیناف وابلفتح بدلا من کتاب ومرفوع بکریم الی تعلوا موضعہ رفع بدلا من کباب۔ ترکیب : ضاحکا حال موکدۃ وقیل مقدرۃ لان التبسم مبداء الضحک ویقرء ضحکا علی انہ مصدر و العامل فیہ تبسم لانہ بمعنی ضحک حشر کا مفعول مالم یسم فاعلہ جنودہ۔ تفسیر … سلیمان ( علیہ السلام) کا قصہ : یہ دوسرا قصہ حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا ہے جو اس تفصیل سے یہود و نصاریٰ کو بھی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

حَتّـٰٓی اِذَٓا اَتَوْا عَلٰی وَادِالنَّمْلِ لا قَالَتْ نَمْلَـۃٌ یّٰــٓاَ یُّـھَاالنَّمْلُ ادْخُلُوْا مَسٰکِنَـکُمْ ج لاَ یَحْطِمَنَّـکُمْ سُلَیْمٰنُ وَجُنُوْدُہٗ لا وَھُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ ۔ (النمل : 18) (یہاں تک کہ جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا، اے چیونٹیو ! اپنے بلوں میں گھس جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انھیں خبر بھی نہ ہو۔ ) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی فوجیں جس میں انسانوں، جنوں اور پرندوں کے لشکر شامل تھے جب مارچ کرتی ہوئی چیونٹیوں کی وادیوں میں پہنچیں تو ایک چیونٹی نے اپنے ہم جنسوں کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے کہا، اے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) صرف جن وانس اور پرندوں کی بولیاں نہیں جانتے تھے بلکہ وہ حشرات الارض کی بولیاں بھی سمجھتے تھے اس کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے۔ قرآن مجید نے یہ نہیں بتلایا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے لشکروں کے ساتھ کس طرف اور کس قوم کے خلاف پیش قدمی کر رہے تھے۔ صرف یہ بات بتلائی گئی ہے کہ جب وہ اپنے لشکروں کے ساتھ ایک ایسی وادی سے گزرنے والے تھے جہاں چیونٹیوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ چیونٹیوں کی سردار کو سلیمان (علیہ السلام) اور ان کے لشکروں کی آمد کا علم ہوا تو اس نے چیونٹیوں کو آواز پر آواز دی کہ اے چیونٹیو ! اپنی اپنی بلوں میں داخل ہوجاؤ کہیں سلیمان (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 18: حَتّٰی اِذَآ اَتَوْا عَلٰی وَادِ النَّمْلِ (یہاں تک کہ ان کا گزر ایک چیونٹیوں کی وادی سے ہوا) ۔ یہ شام کی وادی ہے جہاں چیونٹیاں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ اتی کا فعل علی سے متعدی کیا گیا ہے کیونکہ آپ کا گزر تو تخت پر ہوا تھا۔ اسی لئے استعلاء کا حرف لایا گیا۔ چیونٹی کا واقعہ : قَالَتْ نَمْلَۃٌ (ایک چیونٹی نے کہا) ۔ یہ لنگڑی تھی جس کا نام طاخیہ تھا یا منذرہ تھا۔ قول قتادہ ! وہ کوفہ میں داخل ہوئے تو ہر طرف سے لوگ ان کو لپٹ گئے۔ قتادہ نے کہا۔ جو چاہو سوال کرو۔ ابوحنیفہ نے جو جوان تھے سوال کیا کہ سلیمان کی چیونٹی مذکر تھی یا مؤنث۔ وہ لاجواب ہوگئے۔ ابوحنیفہ (رح) نے کہا وہ مؤنث تھی۔ ان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18۔ حتی اذا اتوا علی واد النمل، یہاں تک کہ یہ سب جب چیونٹیوں کی وادی پر پہنچے۔ ” علی واد ، ، میں لفظ علی بتارہا ہے کہ وہ اوپر سے آئے تھے اور بات بھی معلوم ہورہی ہے کہ اس وادی کو طے کرکے آخرہ کنارہ پر پہنچ گئے (اور وہیں چیونٹیوں کے بل تھے) اتی علی الشی، کا معنی ہے کسی چیز کو ختم کردیا اور اس کے آخری حصہ پر پہنچ گئے۔ وادی نمل کون سی جگہ ہے۔ وہب بن منبہ نے بحوالہ کعب بیان کیا ہے ، حضرت سلیمان جب تخت پر سوار ہوئے تو اہل و عیال نوکروں اور چاکروں کو اورلاؤ لشکر بھی سوار کرلیتے۔ سالن پکانے کے برتن اور وٹیاں پکانے کے آہنی تنور بھی ساتھ ہوتے تھے اتنی بڑی بڑی دیگیں نوتھیں کہ ایک ایک دیگ میں دس دس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–26

15 تا 26 بعضے مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے یہ قرآن شریف کے مخالف ہے اس لیے کے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ خصوصیت کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جانوروں کو بولی سمجھنے کی نعمت عنایت فرمائی تھی جو نعمت مخلوق الٰہی میں سے کسی کو عنایت نہیں ہوئی اور حضرت سلیمان کا قول اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں نقل کیا ہے اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی اس نعمت کو اپنی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا ہے جب یہ کہا جاوے گا کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے تو پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خصوصیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–44

آیت 15 سے 44 اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 17–18

19 چیونٹی کا دوسری چیونٹیوں سے سبق آموز خطاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا کہ تم سب اپنے بلوں میں گھس جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر تم کو روند ڈالے جبکہ ان کو اس کی خبر بھی نہ ہو "۔ سو اگر طبیعت صحیح اور مزاج درست ہو تو حقیقت ہر کسی کو واضح نظر آتی ہے۔ ورنہ بڑی بڑی عقلوں پر بھی پردے پڑجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو چیونٹی جیسی ایک چھوٹی اور ننھی منھی سی مخلوق بھی یہ جانتی اور مانتی ہے کہ نہ نبی غیب جانتا ہے نہ اس کے ساتھی اور صحابی۔ چناچہ وہ نصِّ قرآنی کے مطابق صاف اور صریح طور پر دوسری چیونٹیوں سے کہتی ہے کہ تم اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ۔ کہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 15–44

سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 15–31

آیات نمبر 15:31 اسرار و معارف : ہم نے داود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علوم نبوت سے سرفراز فرمایا یہاں علم سے مراد نبوت کے ساتھ دوسرے علوم بھی شامل ہیں کہ حکومت و سیاست کا علم یا فنون میں سے زرہ سازی کا علم جو داود (علیہ السلام) کو بطور خاص عطا ہوا تھا نیز ان کی خصوصیت حکومت و سلطنت بھی تھی اور وہ حضرات اس پر شکر بھی ادا کرتے تھے کہ انہیں بہت سے نیک بندوں میں خاص فضیلت عطا کی گئی مثلاً ہر نبی کو بھی حکومت و سلطنت تو عطا نہ ہوئی اور سلیمان (علیہ السلام) داود (علیہ السلام) کے وارث مقرر ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر وہ نعمت عطا ہوئی ہے جو اس عظیم…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

2 ۔ جہاں چیونٹیوں کی بڑی کثرت تھی۔ اس وادی کی جگہ بعض نے طائف اور اکثرے شام بتائی ہے۔ (شوکانی) 3 ۔ اور چیونٹیوں کا گفتگو کرنا عقلاً مستبعد نہیں ہے۔ (کبیر) بلکہ قرآن نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔ اگر ان کی یہ تسبیح زبان قال کی بجائے زبان حال پر محمول ہو تو اسے تو ہم سمجھتے ہیں لیکن حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا اس چیونٹی کی گفتگو کو سمجھ لینا اس خاص علم کی بنا پر تھا جو اللہ تعالیٰ نے انہیں دیا تھا اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اسے بطور نعمت الٰہی کے بیان کر رہے ہیں مگر ہمارے زمانہ کے بعض ” ماڈرن “ مفسرین جنہیں قرآن میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:18) لا یحطمنکم مضارع منفی تاکید بانون ثقیلہ واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ حطم مصدر (باب ضرب) وہ تمہیں روند نہ ڈالے۔ وہ تمہارا چورا نہ کر دے۔ الحطم کے اصل معنی کسی چیز کو توڑنے کے ہیں پھر کسی چیز کو ریزہ ریزہ کردینے اور روندنے پر حطم کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے ثم یجعلہ حطاما (39:21) پھر اسے چورا چورا کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–19

لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 19 : فضلنا (ہم نے فضیلت دی۔ بڑائی دی) علمنا ( ہمیں سکھایا گیا) منطق (بولنا۔ بولی) الطیر (پرندہ۔ پرندے) حشر (جمع کیا گیا) ‘ یوزعون (وہ روکے جاتے ہیں) ‘ وادالنمل (چیونٹیوں کا میدان) ‘ لایحطمن (روند نہ ڈالیں) تبسم (وہ مسکرادیا) ضاحک ( ہنسنے والا) ‘ اوزعنی ( مجھے توفیق دے) ‘ ترضی (توخوش ہوجائے) ۔ تشریح : آیت نمبر 15 تا 19 : حضرت دائود (علیہ السلام) جو بنی اسرائیل کے عظیم پیغمبر تھے ان کو اللہ نے زبور کے ساتھ ساتھ ایسی خوبصورت آواز سے نوازا ھتا کہ جب وہ اپنی خوبصورت آواز میں زبور کی آیات کی تلاوت اور اللہ کی حمد وثناء کرتے تھے تو تمام انسان ‘ جنات ‘ چرند پرند اور درند…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–18

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ ہم نے داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو علم دیا۔ ان کا علم و دانش مشہور اور ضرب المثل ہے، جس کے شکریہ میں وہ کہنے لگے کہ سب خوبیاں اس اللہ کو ہیں جس نے ہمیں بہت سے ایماندار بندوں پر فضیلت عطا کی۔ اور داؤد (علیہ السلام) کے وارث سلیمان (علیہ السلام) نے لوگوں سے اس بات کا خطاب کیا کہ ہم کو اللہ تعالیٰ نے جن اور شیاطین اور جانوروں کی بولی سکھلائی ، یہ اس علم اور ورثہ کی تفصیل شروع ہوتی ہے کہ ہم کو جانوروں کی بولی بتائی ، چناچہ منقول ہے کہ مور ایک روزیہ کہہ رہا تھا کہ جو کچھ یہاں کرتا ہے اس کا بدلہ آخرت میں ملے گا، ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 16–21

[6] یہاں داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کے ذکر سے جہالت اور علم کا فرق بتانا مقصود ہے۔ بادشاہی فرعون کو بھی ملی تھی اور داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کو بھی لیکن جہالت اور علم کے فرق نے ان کے درمیان عظیم الشان فرق پیدا کردیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

چیونٹی اور سلیمان 2: حضرت سلیمان کے متعلق بائبل میں بھی مذکور ہے کہ بہت شان و شوکت کے نبی تھے اس آیت میں ان کی حشمت و جلال اور تسخیر کا ذکر ہے ۔ فرمایا :۔ اس کے عساکر میں جن وانس کے علاوہ طیور بھی تھے جن سے جنگی خدمات لی جاتی تھیں ایک واقعہ بیان کیا ہے ۔ جس سے ان کی عظمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ حضرت سلیمان اپنے عساکر کے ساتھ گرد اڑاتے ہوئے ایک میدان سے گزرے یہ میدان چیونٹیوں کا مسکن تھا انہوں نے جب دیکھا کہ حضرت سلیمان کا لشکر نہایت حشمت وصوالت کے ساتھ ہماری طرف بڑھتا چلا آرہا ہے تو ایک چیونٹی کے اطلاع دینے پر سب کی سب اپنے اپنے سوراخوں میں گھس گئیں ان کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں یہ لشکر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(18) یہاں تک کہ جب سلیمان (علیہ السلام) اور اس کا لشکر چیونٹیوں کے ایک میدان پر پہونچے تو ایک چیونٹی نے دوسری چیونٹیوں سے کہا اے چیونٹیو ! تم اپنے سوراخوں اور مکانوں میں گھس جائو کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان (علیہ السلام) اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں اور پیس ڈالیں اور ان کو خبر بھی نہ ہو یعنی راستے میں کوئی چیونٹیوں کی بستی اور وادی پڑتی ہوگی تو سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر کو آتا دیکھ کر چیونٹیوں کے سردار نے یہ کہا ہوگا چونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ مخلوق باوجود اپنی کثرت کے نہایت منظم ہے اور اس مخلوق میں ڈسپلن اور نظم بہت ہے باقاعدہ ان کی فوج ہوتی ہے جاسوس ہوتے ہیں خطرے کے وقت سراغ رساں سپاہی باہر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–19

ف 1۔ نملہ کے اس کلام کے وقت یا تو آپ کا لشکر زمین پر چلتا ہوگا، اور اگر ہوا پر سفر تھا، تو وہاں اترنے کا ارادہ ہوگا، اور نملہ کو بالہام الہی سلیمان (علیہ السلام) کی اور ان کے لشکر کی اور اس کے ارادہ کی معرفت ہوگئی ہوگی، اور قدرت کے سامنے سب آسان ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سلیمان (علیہ السلام) کا وادی نمل سے گزرنا اور ایک نملہ کی بات سن کر مسکرانا : 18۔ سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کی تینوں افواج کا ذکر اوپر گزر چکا جو جنوں ‘ انسانوں اور طیر پر مشتمل تھی اور آپ کے سامنے ان تینوں افواج کی تفصیل اور ان کی کارکردگی پیش کی گئی اور یقینا ان کی پریڈ بھی آپ نے دیکھی ہوگی اور ان کی طاقت وقوت بھی مثالی تھی آپ کا گزر مع افواج کے وادی نمل سے ہوا جس کا تذکرہ زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے ۔ وادی نمل کیا ہے اور وہ کہاں ہے ؟ نملہ سے کیا مراد ہے ؟ اس کا تفصیلی بیان چونکہ ہم ایک بار سورة الانبیاء کی آیت 81 ‘ 82 کے بعد سلیمان (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت کے عنوان میں عرض کرچکے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–18

There is no heritage of wealth among the prophets وَوَرِ‌ثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ (And Sulaiman inherited Dawud - 27:16). The inheritance mentioned in this verse is not the inheritance of wealth and property, because the Holy Prophet ﷺ has clearly declared that the prophets do neither inherit the property of anyone nor does their property is inherited by anyone. Tirmidhi and Abu Dawud have reported from Sayyidna Abu darda' ؓ that the Holy Prophet ﷺ has said, ` Ulama' (men of knowledge) are the inheritors of prophets, but the prophets did not leave dirhams or dinars (wealth) as their…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

24 This verse also has been greatly misconstrued by some commentators of the present day. They say that wad-in naml does not mean "valley of the ants", but it is the name of a valley that was in Syria, and namlah does not mean an ant but it is the name of a tribe. Thus, according to them, the verse means this: "When the Prophet Solomon reached the valley of the ants, a Namilite said, 'O people of the Naml tribe ......" But this also is an interpretation which is not supported by the words of the Qur'an. Even if we took wad-in-naml to be the name of a valley and supposed that it was inhabited…

Read the full tafseer →