Explained with ayahs 15–19
حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام پر خصوصی انعامات
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کی خبر دے رہا ہے جو اس نے اپنے بندے اور نبی حضرت سلیمان اور حضرت داؤد ؑ پر فرمائی تھیں کہ کس طرح دونوں جہان کی دولت سے انہیں مالا مال فرمایا۔ ان نعمتوں کے ساتھ ہی اپنے شکرئیے کی بھی توفیق دی تھی۔ دونوں باپ بیٹے ہر وقت اللہ کی نعمتوں پر اس کی شکر گزاری کیا کرتے تھے اور اس کی تعریفیں بیان کرتے رہتے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے لکھا ہے کہ جس بندے کو اللہ تعالیٰ جو نعمتیں دے اور ان پر وہ اللہ کی حمد کرے تو اس کی حمد ان نعمتوں سے بہت افضل ہے دیکھو خود کتاب اللہ میں یہ نکتہ موجود ہے پھر آپ نے یہی آیت لکھ…
Read the full tafseer →سورة النمل 25
اصل الفاظ ہیں رَبِّ اَوْزِعْنِيْٓ۔ وزع کے اصل معنی عربی زبان میں روکنے کے ہیں، اس موقع پر حضرت سلیمان کا یہ کہنا کہ اَوْزِعْنِيْٓ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ (مجھے روک کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کروں) ہمارے نزدیک دراصل یہ معنی دیتا ہے کہ اے میرے رب جو عظیم الشان قوتیں اور قابلیتیں تو نے مجھے دی ہیں وہ ایسی ہیں کہ اگر میں ذرا سی غفلت میں بھی مبتلا ہوجاؤں تو حد بندگی سے خارج ہو کر اپنی کبریائی کے خبط میں نہ معلوم کہاں سے کہاں نکل جاؤں، اس لیے اسے میرے پروردگار تو مجھے قابو میں رکھ تاکہ میں کافر نعمت بننے کے بجائے شکر نعمت پر قائم رہوں۔
سورة النمل 26
صالح بندوں میں داخل کرنے سے مراد…
Read the full tafseer →وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ ، یہاں رضا بمعنے قبول ہے۔ معنے یہ ہیں کہ یا اللہ مجھے ایسے عمل صالح کی توفیق دیجئے جو آپ کے نزدیک مقبول ہو۔ روح المعانی میں اس سے اس پر استدلال کیا ہے کہ عمل صالح کے لئے قبولیت لازم نہیں ہے بلکہ قبولیت کچھ شرائط پر موقوف ہوتی ہے اور فرمایا کہ صالح اور مقبول ہونے میں نہ عقلاً کوئی لزوم ہے نہ شرعاً اسی لئے انبیاء (علیہم السلام) کی سنت ہے کہ اپنے اعمال صالحہ کے مقبول ہونے کی بھی دعا کرتے تھے جیسے حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) نے بیت اللہ کی تعمیر کے وقت دعا فرمائی، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا، اس سے معلوم ہوا کہ جو عمل نیک ہے صرف اس کو کر کے بےفکر ہونا…
Read the full tafseer →فتبتم ضاحکا میں لفظ ضحک خوشی اور ابتہاج و سرور کے مفہوم میں ہے جس طرحہود آیت 71 میں ہے۔ مجرد تبسم استخفافو تحقیر کی نوعیت کا بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ضاحکاً کی قید نے معین کردیا کہ یہ تبسم خوشی اور سرور کی نوعیت کا تھا۔
وہ حقیقت جس کے لئے مذکورہ واقعہ بیان ہوا ہے
اوزعنی ان اشکر الایۃ وزع کے معنی کی تحقیق اوپر گزر چکی ہے۔ یہاں یہ تھامنے اور سنبھالنے کے مفہوم میں ہے۔ یعنی حضرت سلیما ننے یہ دعا فرمائی کہ اے رب جب تو نی میرے علم میں یہ افزونی عطا فرمائی ہے کہ میں حشراتر و ہوام کی بولی بھی سمجھنے لگاہوں تو ایسا نہ ہو کہ میں غرور و طغیان میں مبتلا ہو کر تیری راہ سے بھٹک جائوں بلکہ تو میری باگ اپنے…
Read the full tafseer →19-1چیونٹی جیسی حقیر مخلوق کی گفتگو سن کر سمجھ لینے سے حضرت سلیمان ؑ کے دل میں شکر گزاری کا احساس پیدا ہوا کہ اللہ نے مجھ پر کتنا انعام فرمایا ہے۔
19-2اس سے معلوم ہوا کہ جنت مومنوں ہی کا گھر ہے اس میں کوئی بھی اللہ کی رحمت کے بغیر داخل نہیں ہو سکے گا اسی لیے حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا سیدھے سیدھے اور حق کے قریب رہو اور یہ بات جان لو کہ کوئی شخص بھی صرف اپنے عمل سے جنت میں نہیں جائے گا صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ بھی ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں بھی اس وقت تک جنت میں نہیں جاؤں گا جب تک اللہ کی رحمت مجھے اپنے دامن میں نہیں ڈھانک لے گی۔ صحیح بخاری۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
10: سبا ایک قوم کا نام تھا جو یمن کے ایک علاقے میں آباد تھی، اسی قوم کے نام پر اس علاقے کو بھی سبا کہا جاتا تھا، اس وقت یہاں ایک ملکہ حکمران کر رہی تھی جس کا نام تاریخی روایتوں میں ”بلقیس“ بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
حتی ……عبادک الصلحین (91)
یہ لشکر جب نکلا ، جس میں انسان ، جن او طیور شامل تھے۔ نہایت تنظیم اور ترتیب کے ساتھ اس کا اول اس کے آخری حصہ سے مربوط تھا۔ اس کی صفیں منظم تھیں اور اس کی حرکت بھی منظم تھی۔ یہ لشکر ایک ایسی وادی میں پہنچا جہاں چیونٹیاں بڑی تعداد میں تھیں۔ اس کثرت سے کہ اس ودی کا نام ہی وادی نمل تھا۔ تو ایک ایسی چیونٹی نے جو ان کی سربراہ تھی ، چیونٹیوں سے کہا۔
ادخلوا مسکنکم (82 : 81) ” اپنے گھروں میں داخل ہو جائو۔ “ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ چیونٹیوں بھی شہد کی مکھیوں کی طرح بہت منظم ہوتی ہیں۔ ان کے اندر ڈیوٹیاں تقسیم ہوتی ہیں اور یہ ایک عجیب نظام کے ساتھ زندگی بسر کرتی ہیں۔ ایسے…
Read the full tafseer →4 اس چیونٹی کی بات سمجھ کر تعجب ہوا اور فرط سرورو نشاط سے ادائے شکر کا جذبہ جوش میں آیا۔
5 یعنی حیران ہوں تیرے انعامات عظیمہ کا شکر کس طرح ادا کروں، پس آپ ہی سے التجاء کرتا ہوں کہ مجھے پورا شاکر بنا دیجئے زبان سے بھی اور عمل سے بھی۔ اور اعلیٰ درجہ کے نیک بندوں میں (جو انبیاء ومرسلین ہیں) محشور فرمائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آیت 19 فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنْ قَوْلِہَا ”
حضرت سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی اس بات کو سن بھی لیا اور سمجھ بھی لیا۔ چناچہ جذبات تشکرّ کے باعث آپ علیہ السلام کے چہرے پر بےاختیار تبسم آگیا اور زبان پر ترانۂ حمد جاری ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
21 آپ نے چیونٹی کی یہ بات سمجھ کر فرط سرور و انبساط سے ہنش دیئے اور اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کیا۔ پھر دست بدعا ہو کر فرمایا : پروردگار ! مجھے ان نعمتوں کے شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرما تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت سلیمان لوگوں کے ہمراہ نماز استسقاء کے لئے ایک میدان کی طرف نکلے۔ وہاں ایک چیونٹی کو دیکھا جو چت لیٹ کر اور اپنے پاؤں اوپر اٹھائے ہوئے اللہ سے دعا کر رہا تھی کہ یا اللہ ! میں بھی تیری مخلوق ہوں اگر تو کھانے پینے کو نہ دے گا تو میں کیسے زندہ رہ سکتی ہوں یا ہمیں کھانے کو دے یا مار ڈال۔ حضرت سلیمان نے چیونٹی کی یہ دعا سن کر لوگوں سے…
Read the full tafseer →23۔ (کہ اللہ رے احتیاط ودور اندیشی ! ) (آیت) ” ضاحکا “۔ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ اس سے ثبوت ضحک کا انبیاء (علیہم السلام) سے ملتا ہے، اور حدیث نبوی میں جو اس کی نفی آئی ہے مراد اس سے نفی عادت ضحک کی ہے نہ کہ نفی بالکلیہ۔ (آیت) ” تبسم ضاحکا “۔ ترکیب سے بعض اہل تفسیر نے بات یہ پیدا کی ہے کہ تبسم تو آپ (علیہ السلام) نے اپنی عادت ومعمول کے مطابق کیا، پھر وہ تبسم اضطرارا ضحک کے درجہ تک پہنچ گیا۔
24۔ یعنی عمل مقبول عنایت ہو (آیت) ” نعمتک ....... والدی “۔ نعمتوں سے مراد نعمت ایمان ونعمت علم ہیں۔ اور جہاں تک حضرت سلیمان (علیہ السلام) وحضرت داؤد (علیہ السلام) کا تعلق ہے نعمت نبوت بھی۔ جانوروں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
آیت نمبر 15 تا 21
ترجمہ : اور ہم نے داؤد اور اس کے بیٹے سلیمان کو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا علم عطا کیا اور پرند وغیرہ کی بولی سکھائی اور ان دونوں حضرات نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا سب تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے ہم کو نبوت کے ذریعہ اور جن و انس و شیاطین کی تسخیر کے ذریعہ اپنے مومن بندوں میں سے بہت سوں پر فضیلت عطا فرمائی اور سلیمان (علیہ السلام) نبوت اور علم میں داؤد (علیہ السلام) کے وارث ہوئے اور سلیمان (علیہ السلام) نے کہا اے لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولی یعنی ان کی آواز کی سمجھ سکھائی اور ہم کو ہر وہ شئ عطا فرمائی جو انبیاء اور ملوک کو عطا کی جاتی ہے (یعنی جس کی ان کی حاجت ہوتی…
Read the full tafseer →فتبسم ضاحکا . پس سلیمان ( علیہ السلام) مسکراتے ہوئے ہنس پڑے۔ یہاں کچھ کلام محذوف ہے اور اس
پر عطف ہے۔ پورا کلام اس طرح تھا : سلیمان ( علیہ السلام) نے چیونٹی کی بات سن لی ‘ اس کا مطلب سمجھ لیا ‘ مطلب سمجھ کر خوش ہوئے اور اس بات سے بھی ان کو مسرت ہوئی کہ چیونٹی نے آپ کو اور آپ کی فوج کو عادل سمجھا۔ یہ تمام باتیں سمجھ کر آپ خوش ہوئے اور مسکرا دئیے۔ یا یوں کہا جائے کہ آپ کو چیونٹی کی دانش مندی اور احتیاط سے تعجب ہوا اور اس بات پر بھی اچنبھا ہوا کہ ایک حقیقی چیونٹی اپنی اور اپنی قوم کے بچاؤ کے راستے کیسے جانتی ہے۔ ان باتوں پر آپکو تعجب ہوا اور آپ مسکرا دئیے۔
ضَاحِکًا یعنی حضرت سلیمان ( علیہ…
Read the full tafseer →(19) غرض کہ سلیمان ؑ نے اس کی بات سنی اور اس عقل مندی متعجب ہو کر مسکراتے ہوئے ہنس پڑے اور ان کا لشکر اس کی بات نہ سمجھ سکا اور کہنے لگے اے میرے رب مجھے اس بات کی توفیق دیجیے کہ میں آپ کی ان نعمتوں کا شکر ادا کیا کروں جو آپ نے توحید کے صلہ میں مجھ کو اور میرے ماں باپ کو عطا فرمائی ہیں اور یہ کہ میں ایسے نیک کام کروں جن کو آپ قبول فرمائیں اور مجھ کو اپنے خصوصی فضل سے جنت میں اپنے نیک بندوں یعنی انبیاء کرام میں شامل کر لیجیے۔
Read the full tafseer →فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِهَا : تبسم بعض اوقات غصے اور ناراضی کی وجہ سے بھی ہوتا ہے، جیسا کہ کعب بن مالک ؓ کی حدیث توبہ میں ہے : (تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ) [ بخاري : 4418 ] کہ رسول اللہ ﷺ مجھے دیکھ کر مسکرائے، غصے والے کی طرح مسکرانا۔ تبسم کے بعد ”ضَاحِكًا“ اس لیے فرمایا کہ یہ مسکراہٹ ہنسنے کا پیش خیمہ تھی، جو خوشی کا اظہار ہوتا ہے۔ مسکرانے اور ہنسنے کی وجہ ایک تو چیونٹی کی دانش مندی اور اپنی قوم کی خیر خواہی پر تعجب تھا، دوسری وجہ اپنی نیک شہرت پر خوشی تھی کہ چیونٹیاں تک جانتی ہیں کہ سلیمان دانستہ کسی پر زیادتی نہیں کرتا۔
وَقَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِيْٓ۔۔ : چیونٹی کی آواز سن لینا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
(حتیٰ اذا اتوا علی واد النمل۔۔۔۔۔۔ )
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ حتی اذا اتوا علی واد انمل قتادہ نے کہا : ہمارے لیے یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ شام میں ایک وادی ہے۔ کعب نے کہا : یہ طائف میں ایک وادی ہے۔ قالت نملۃ یایھا النمل شعبی نے کہا : چیونٹی کے دو پر تھے وہ پرندوں میں سے تھی اس وجہ سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس کی بولی سمجھ گئے۔ اگر وہ پرندہ نہ ہوتی تو آپ اس کی بولی کو نہ سمجھتے۔ یہ بحث گزر چکی ہے اور بعد میں بھی آئے گی۔ سلیمان تیمی نے مکہ میں نملۃ اور النمل نون کے فتحہ اور میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ان سے دونوں کو ضمہ کے ساتھ پڑھنے کی قرأ ت بھی منقول ہے۔ نملہ کو نملہ اس لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” حتی اذا اتوا علی واد النمل “ کے بارے میں ذکر کیا گیا کہ یہ ایک وادی ہے شم کی زمین میں
2۔ ابن ابی حاتم نے شعبی (رح) سے رویت کیا کہ وہ چیونٹی کہ سلیمان علیہ اسلام نے جس کی بات کو سمجھا تھا وہ دو پروں والے پرندوں سے تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو سلیمان (علیہ السلام) اس کی بات کو نہ سمجھتے۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ چیونٹی پرندوں میں سے تھی۔
4۔ البخاری فی تاریخہ وابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے نوف (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان بن داوٗد (علیہ السلام) کے زمانہ میں چیونٹیاں مکھیوں کی…
Read the full tafseer →فَتَبَسَّمَ [ تو وہ مسکرائے ] ضَاحِكًا [ ہنستے ہوئے ] مِّنْ قَوْلِهَا [ اس کی بات سے ] وَقَالَ [ اور کہا ] رَبِّ [ اے میرے رب ] اَوْزِعْنِيْٓ [ تو میرے دل میں ڈال دے ] اَنْ اَشْكُرَ [ کہ میں شکر ادا کروں ] نِعْمَتَكَ الَّتِيْٓ [ تیری اس نعمت کا جو ] اَنْعَمْتَ [ تو نے انعام کی ] عَلَيَّ [ مجھ پر ] وَعَلٰي وَالِدَيَّ [ اور میرے والدین پر ] وَاَنْ [ اور یہ کہ ] اَعْمَلَ [ میں عمل کروں ] صَالِحًا [ ایسے نیک ] تَرْضٰىهُ [ تو پسند کرے جس کو ] وَاَدْخِلْنِيْ [ اور تو داخل کر دے مجھ کو ] بِرَحْمَتِكَ [ اپنی رحمت سے ] فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ [ اپنے نیک بندوں میں ]
(افعال) ایزاعا کسی کو کسی چیز…
Read the full tafseer →فائدہ : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں جو (فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِنْ قَوْلِہَا) فرمایا اس میں لفظ تبسم (مسکرانا) اور ضاحکاً (ہنسنا) دونوں کو جمع فرما دیا ہے جب کسی کو ہنسی آتی ہے تو عموماً مسکراہٹ سے شروع ہوتی ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اولاً مسکراہٹ آگئی جو ہنسی تک پہنچ گئی اس میں اس طرف اشارہ ملتا ہے کہ ہنسنا محمود کام نہیں ہے کبھی کبھار کوئی ہنسی آجائے تو دوسری بات ہے زیادہ تر مسکرانے سے کام چلانا چاہیے۔ حضرت عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ آپ پوری طرح ہنسے ہوں اور آپ کے گلے کا کوا دیکھنے میں آگیا ہو، آپ تو بس مسکرایا کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
قصہء دوم داؤد (علیہ السلام) اجمالا وسلیمان (علیہ السلام) تفصیلاً
قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا داود وسلیمان علما۔۔۔ الی۔۔۔ وادخلنی برحمتک فی عبادک الصالحین۔
ان آیات میں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیھما السلام کا قصہ بیان کرتے ہیں اور ان دینی اور دنیوی احسانات اور انعامات کا ذکر کرتے ہیں جو منجانب اللہ ان دونوں پیغمبروں پر مبذول ہوئے۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) کو نبوت اور علم شریعت کے علاوہ سلطنت عطا کی اور خارق عادت طریقہ پر زرہ سازی کی صنعت بتلائی تاکہ کافروں سے جہاد میں مدد ملے۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کو منطق الطیر اور تسخیر جن اور تسخیر ہوا کا معجزہ عطا فرمایا جن اور انس کو ان کا تابع فرمان…
Read the full tafseer →20:۔ اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعے چیونٹی کی بات حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دل میں ڈال دی تو اس کی بات پر تعجب سے مسکرائے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ انہ (علیہ السلام) لم یسمع صوتا اصلا وانما فھم ما فی نفس النملۃ الھاما من اللہ تعالیٰ (روح ج 19 ص 176) ۔ “ رب اوزعنی ” میرے پروردگار مجھے توفیق عطا فرما کہ میں ہمیشہ ان انعامات کے شکر میں مصروف رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمائے مثلاً میری آمد کا علم چیونٹی کے دل میں ڈال دیا اور چیونٹی کی بات میرے دل میں ڈال دی یہ بھی اس کا انعام ہے اور بقیہ زندگی میں اعمال صالحہ کی بجا آوری پر قائم رکھ اور محض اپنی مہربانی سے مجھے زمرہ صالحین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ربط آیات
گزشتہ آیات میں حضرات دائود علیہ اور سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر ہوا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا اس بات پر شکر ادا کیا کہ اس نے انہیں بہت سے نیک اور ایماندار بندوں پر فضلیت بخشی ہے۔ پھر سلیمان (علیہ السلام) کی جانشینی کا ذکر ہوا ۔ پھر انہوں نے لوگوں کے سامنے اللہ کی عطا کردہ نعمت کا اس طرح تذکرہ کیا کہ اے لوگو ! ہمیں پرندوں کی گفتگو سکھائی گئی ہے اور ہمیں ضرورت کی ہر چیز ، عطا کی گئی ہے جو کہ بڑی کھلی فضلیت ہے سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ان کے لشکر اکٹھے کیے جاتے تھے جن سے وہ مختلف مواقع پر کام لیتے تھے ، یہ لشکر انسانوں ، جنوں اور پرندوں پر مشتمل تھے جنہیں حسب ضرورت تقسیم بھی کیا…
Read the full tafseer →فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّنْ قَوْلِہَا وَقَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِيْٓ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِيْٓ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلٰي وَالِدَيَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىہُ وَاَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ 19
بسم
قال تعالی: فَتَبَسَّمَ ضاحِكاً مِنْ قَوْلِها[ النمل/ 19] .
ضحك
الضَّحِكُ : انبساطُ الوجه وتكشّر الأسنان من سرور النّفس، ولظهور الأسنان عنده سمّيت مقدّمات الأسنان الضَّوَاحِكِ.
قال تعالیٰ “ وَامْرَأَتُهُ قائِمَةٌ فَضَحِكَتْ [هود/ 71] ، وضَحِكُهَا کان للتّعجّب بدلالة قوله : أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ [هود/ 73] ، ويدلّ علی ذلك أيضا قوله : أَأَلِدُ وَأَنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
ترکیب : غیر بعید ای مکانا غیر بعید رو وقت خیر بعید او مکشا الا یسجد والا لیست زائدۃ وموضعالکلام نصب بدلامن اعمالھم والتحقیق وفل حرف التنبیہ علی الفعل من غیر تقدیر حذف۔ الخباء مصدر بمعنی المخبور من المفرو النبات انہ من سلیمان بالکسر علی الاستیناف وابلفتح بدلا من کتاب ومرفوع بکریم الی تعلوا موضعہ رفع بدلا من کباب۔
ترکیب : ضاحکا حال موکدۃ وقیل مقدرۃ لان التبسم مبداء الضحک ویقرء ضحکا علی انہ مصدر و العامل فیہ تبسم لانہ بمعنی ضحک حشر کا مفعول مالم یسم فاعلہ جنودہ۔
تفسیر … سلیمان ( علیہ السلام) کا قصہ : یہ دوسرا قصہ حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) کا ہے جو اس تفصیل سے یہود و نصاریٰ کو بھی…
Read the full tafseer →فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًامِّنْ قَوْلِھَا وَقَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْٓ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰہُ وَاَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِکَ فِیْ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ (النمل : 19)
(پس سلیمان اس کی بات پر مسکراتے ہوئے ہنس پڑے اور دعا کی اے میرے رب ! مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اس فضل کا شکرگزار رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور میں ایسے نیک کام کروں جو تجھے پسند ہوں اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے صالح بندوں میں داخل فرما۔ )
تَبَسَّمَ کا مفہوم
تَبَسَّمَ کا لفظ بعض دفعہ استخفاف اور تحقیر کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) انتہائی خوشی کے عالم میں بھی اللہ تعالیٰ کے انعام کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا شکرا ادا کرتے ہیں۔
حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے چیونٹی کی آواز سنی تو مسکرائے اور سوچا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کس قدر علم اور اقتدار عطا فرمایا ہے کہ میں ایک چیونٹی کی آواز کو سنتا اور سمجھتا ہوں۔ اتنے بڑے اقبال اور اقتدار کے مالک ہونے کے باوجود اتراتے نہیں بلکہ اپنے رب کا ان الفاظ میں شکر ادار کرتے ہیں۔ الٰہی ! جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر احسانات فرمائے ہیں میں ان کا اعتراف کرتا ہوں اور شکر گزار ہوں۔ الٰہی ! مجھے اپنے انعامات کے نتیجہ میں ایسے اعمال کرنے کی توفیق…
Read the full tafseer →19: فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنْ قَوْلِہَا (اس کی بات پر آپ نے تبسم کیا ہنستے ہوئے) ۔ اس کی احتیاط پر تعجب کرتے ہوئے اور اپنی مصلحت کو صحیح جانچ لینے اور چیونٹیوں کو نصیحت کرنے پر متعجب ہوئے۔ نمبر 2۔ ظہور عدل پر خوشی کا اظہار کیا۔ ضاحکًا۔ یہ تاکیدی حال ہے کیونکہ تبسم ضحک کے معنی میں ہے۔ اور انبیاء (علیہم السلام) کا اکثر ضحک تبسم ہی ہوتا ہے۔ زجاج نے اسی طرح کہا ہے۔
دعائے سلیمانی :
وَقَالَ رَبِّ اَوْ زِعْنِیْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِیْ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ (اور کہا اے میرے رب تو مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکریہ ادا کروں جو آپ نے مجھ پر فرمائی ہیں) ۔ او زعنی کا معنی مجھے الہام…
Read the full tafseer →19۔ یا ایھا النمل الدخلوا مساکنکم، یہاں پر ادخلن جمع کا صیغہ ذکر نہیں کیا، کیونکہ انسان جب کلام کرتا ہے اور حیوانات کے متعلق بات کرتا ہے تو حیوانات کے بےعقل ہوجانے کی وجہ سے ان کے لیے وہ ضمیریں استعمال کرتا ہے جو جمادات کے لیے مستعمل ہیں۔ لایحطمکنم کہ وہ تمہیں روند نہ ڈالیں۔ سلیمان و جنودہ ، حطم کہتے ہیں کہ کسی چیز کو توڑنا، وھم لایشعرون، حضرت سلیمان نے چیونٹی کی بات سن لی ، حضرت سلیمان کا تخت جب ہواپرورواں ہوتا تو مخلوق میں سے کوئی بھی کلام نہیں کرسکتا تھا، حضرت سلیمان نے اس چیونٹی کی بات دور سے سن لی۔ مقاتل کا بیان ہے کہ حضرت سلیمان نے تین میل دور سے یہ بات سن لی تھی ۔ ضحاک کا قول ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
15 تا 26 بعضے مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے یہ قرآن شریف کے مخالف ہے اس لیے کے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ خصوصیت کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جانوروں کو بولی سمجھنے کی نعمت عنایت فرمائی تھی جو نعمت مخلوق الٰہی میں سے کسی کو عنایت نہیں ہوئی اور حضرت سلیمان کا قول اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں نقل کیا ہے اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی اس نعمت کو اپنی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا ہے جب یہ کہا جاوے گا کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے تو پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خصوصیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
آیت 15 سے 44
اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
21 حضرت سلیمان کا اپنی فضائی فوج کا جائزہ اور ہدہد کا قصہ عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایک موقعہ پر سلیمان نے پرندوں کی اپنی فضائی فوج کا جائزہ لیا تو فرمایا کہ کیا بات ہے کہ ہدہد نظر نہیں آ رہا۔ وہ کہیں غائب تو نہیں ۔ سبحان اللہ ۔ اللہ ۔ جل جلالہ ۔ دکھانے پہ آئے تو عالم بالا کے حقائق تک دکھا دے۔ اور نہ دکھائے تو یہ بھی پتہ نہیں کہ ہدہد یہاں موجود ہے یا کہیں غائب ہے۔ سو اصل بات یہ ہے کہ معاملہ سب کا سب اللہ پاک ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ بہرکیف حضرت سلیمن نے جب اپنی فضائی فوج ۔ پرندوں کی فوج۔ کا جائزہ لیا تو ہدہد کو وہاں پر موجود نہ پاکر فرمایا کہ " کیا بات ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں
تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–31
آیات نمبر 15:31 اسرار و معارف :
ہم نے داود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علوم نبوت سے سرفراز فرمایا یہاں علم سے مراد نبوت کے ساتھ دوسرے علوم بھی شامل ہیں کہ حکومت و سیاست کا علم یا فنون میں سے زرہ سازی کا علم جو داود (علیہ السلام) کو بطور خاص عطا ہوا تھا نیز ان کی خصوصیت حکومت و سلطنت بھی تھی اور وہ حضرات اس پر شکر بھی ادا کرتے تھے کہ انہیں بہت سے نیک بندوں میں خاص فضیلت عطا کی گئی مثلاً ہر نبی کو بھی حکومت و سلطنت تو عطا نہ ہوئی اور سلیمان (علیہ السلام) داود (علیہ السلام) کے وارث مقرر ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر وہ نعمت عطا ہوئی ہے جو اس عظیم…
Read the full tafseer →4 ۔ اگر بالفرض ” نملۃ “ سے مراد کوئی انسان ہوتا تو اس میں متعجبانہ ہنسی کی کوئی بات نہ تھی اور نہ یہ کوئی ایسا واقعہ تھا جس کے متعلق حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے احساس شکر گزاری کی اہمیت واضح کی جاتی۔ ظاہر ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے یہ اظہار تشکر اس بات پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک حقیر جانور کی بولی سمجھنے کا علم عطا فرمایا جو ان کے سوا اور کسی کو حاصل نہ تھا۔ 5 ۔ یہاں ” صالحین “ سے وہ کامل صالح لوگ مراد ہیں جن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی معصیت کا خیال تک نہیں آ پاتا۔ (کبیر)
Read the full tafseer →(27:19) فتبسم ضاحکا وہ مسکرا کر ہنس پڑا۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ تبسم تو آپ نے اپنی عادت کے معمول کے مطابق کیا پھر وہ تبسم اضطرار اضحک کے درجہ تک پہنچ گیا۔
اوزعنی امر واحد مذکر حاضر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم اوزع وایزاع سے جس کے معنی کسی چیز پر جما دینے کے ہیں اور الہام کرنے کے ہیں مجھے جما دے۔ مجھے توفیق دے۔ میری قسمت میں کر اوزع اللہ فلانا اللہ تعالیٰ نے فلاں کو شکر گزاری کا الہام کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 19 :
فضلنا (ہم نے فضیلت دی۔ بڑائی دی) علمنا ( ہمیں سکھایا گیا) منطق (بولنا۔ بولی) الطیر (پرندہ۔ پرندے) حشر (جمع کیا گیا) ‘ یوزعون (وہ روکے جاتے ہیں) ‘ وادالنمل (چیونٹیوں کا میدان) ‘ لایحطمن (روند نہ ڈالیں) تبسم (وہ مسکرادیا) ضاحک ( ہنسنے والا) ‘ اوزعنی ( مجھے توفیق دے) ‘ ترضی (توخوش ہوجائے) ۔
تشریح : آیت نمبر 15 تا 19 :
حضرت دائود (علیہ السلام) جو بنی اسرائیل کے عظیم پیغمبر تھے ان کو اللہ نے زبور کے ساتھ ساتھ ایسی خوبصورت آواز سے نوازا ھتا کہ جب وہ اپنی خوبصورت آواز میں زبور کی آیات کی تلاوت اور اللہ کی حمد وثناء کرتے تھے تو تمام انسان ‘ جنات ‘ چرند پرند اور درند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر اور ہدہد کا خبرلانا۔
(ف 1) فرمایا ایک بار حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر ملک شام کے میدان پر سے گزرا کہ جہان چیونٹیوں کے بل تھے اور وہ زمین پر چل رہی تھیں جو چیونٹیوں کا سردار تھا جب اس نے دیکھا کہ حضرت سلیمان کا لشکر آرہا ہے تو اس نے کہا، اے چیونٹیوں سب اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ تاکہ تم پاؤں کی روند میں آجاؤ، یہ بات حضرت سلیمان کو معلوم ہوئی کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سے علوم دیے تھے پھر حضرت سلیمان اس بات سے مسکرا کر ہنسنے لگے، ایک تو اس لیے کہ چیونٹی سلیمان (علیہ السلام) کو بیخبر ی کا الزام لگاتی ہے اس کو یہ معلوم نہیں کہ حضرت سلیمان کو کیا کیا علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
[6] یہاں داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کے ذکر سے جہالت اور علم کا فرق بتانا مقصود ہے۔ بادشاہی فرعون کو بھی ملی تھی اور داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کو بھی لیکن جہالت اور علم کے فرق نے ان کے درمیان عظیم الشان فرق پیدا کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
ف 2: حضرت سلیمان کی تسخیر اور وسعت کے متعلق یہ دوسرا قصہ ہے ۔ بیان کیا جاچکا ہے کہ حضرت سلیمان کے لشکر میں جن وانس کے علاوہ طیور بھی تھے اور انہیں ہدہد کے متعلق یہ خدمات تھیں کہ وہ اثنا جنگ میں پانی تلاش کرے اور لشکر کو پانی کا پتہ دے ۔ چناچہ ہدہد کے متعلق یہ مشہور ہے کہ وہ زمین کے نیچے سوتوں کو معلوم کرلیتا ہے ۔ اور عربی میں ضرب المثل ہے کہ ھوابصر من ہد ہد کہ وہ ہد ہد سے بھی زیادہ تیز نگاہیں رکھتا ہے ایک دن ہدہد لشکر میں نظر نہ آیا ۔ اور گم ہوگیا ۔ اس پر حضرت سلیمان ناراض ہوئے اور یاوسپراوہر سے دریافت کیا ۔ اور غصے سے کہا کہا گر وہ معقول عذر پیش نہ کریگا تو میں اس کو ذبح کرڈالوں گا ۔ اسی…
Read the full tafseer →(19) چیونٹی کی اس بات پر سلیمان (علیہ السلام) مسکرایا اور مسکراتے ہوئے ہنس پڑا اور اس نے کہا اے میرے پروردگار ! مجھ کو توفیق دے اور اس بات پر مجھ کو مداومت نصیب کر کہ میں تیرے ان احسانات شکرکرتارہوں جو تونے مجھ پر اور میرے والدین پر کئے ہیں اور نیز یہ کہ میں ایسے نیک کام کرتا رہوں جن کو تو پسند کرتا ہو اور جن سے تو خوش ہو اور تو مجھ کو اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل رکھیو یعنی اللہ تعالیٰ اس نعمت سے متاثر ہوکر اللہ تعالیٰ سے دوامعلی الشکر کی توفیق طلب کی اور حضرت حق کے پسندیدہ کاموں کے بجا لانے کی دعا کی اور نیک بندے یعنی انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل رہنے کی دعا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 1۔ نملہ کے اس کلام کے وقت یا تو آپ کا لشکر زمین پر چلتا ہوگا، اور اگر ہوا پر سفر تھا، تو وہاں اترنے کا ارادہ ہوگا، اور نملہ کو بالہام الہی سلیمان (علیہ السلام) کی اور ان کے لشکر کی اور اس کے ارادہ کی معرفت ہوگئی ہوگی، اور قدرت کے سامنے سب آسان ہے۔
Read the full tafseer →سلیمان (علیہ السلام) نملہ کی بات سن کر مسکرائے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا :
19۔ (ضاحکا) ہنستے ہوئے (ضحک) سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ، واضح رہے کہ (ضحک) کے اصل معنی تو ہنسنے کے ہیں لیکن ظاہر ہے کہ ہنسنے کے مختلف اسباب ہوتے ہیں انسان کبھی مذاق اڑانے کے لئے ہنستا ہے کبھی محض خوشی ہنسی کا باعث ہوتی ہے کبھی کسی چیز پر اچنبھا ہوتا ہے تو ہنسی آجاتی ہے اس لئے بطور استعارہ (ضحک) کا استعمال تمسخر اور مسرت اور تعجب کے لئے بھی ہوتا ہے اور قرآن کریم میں بھی یہ تینوں معانی میں استعمال ہوا ہے ۔ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” فلما جآء ھم بایتنا اذا ھم منھا یضحکون “۔ (الزخرف 43 : 47) ” پھر جب اس نے ہماری…
Read the full tafseer →وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ (and that I do the good deeds You like - 27:19). Here رضا (liking) means acceptance. Thus the meaning is ` Ya Allah! Grace me with Divine help for such righteous deeds which are acceptable to You'. From this it is argued in Ruh ul-Ma’ ani that it is not necessary for the righteous deeds to be accepted, but their acceptance is dependent on certain conditions. It is further explained that there is no relation between righteousness and acceptance either rationally or in religious law. It is for this reason that the prophets used to pray for the acceptance of…
Read the full tafseer →25 "Restrain me...thanks to Thee" means this: "O my Lord! the wonderful powers and abilities that You have given me are such that if I become even a little forgetful and heedless, I might transgress the bounds of service and be puffed up with pride and go astray. Therefore, O my Lord, restrain me so that I may remain grateful to You for all Your blessings instead of being ungrateful. "
26 "Admit me..righteous servants" probably implies this: "I should be included among the righteous in the Hereafter and should enter Paradise along with them." For a person who dces righteous acts will…
Read the full tafseer →