Explained with ayahs 20–21
ہدہد
ہدہد فوج سلیمان میں مہندس کا کام کرتا تھا وہ بتلاتا تھا کہ پانی کہاں ہے ؟ زمین کے اندر کا پانی اس کو اسطرح نظر آتا تھا جیسے کہ زمین کے اوپر کی چیز لوگوں کو نظر آتی ہے۔ جب سلیمان ؑ جنگل میں ہوتے اس سے دریافت فرماتے کہ پانی کہاں ہے ؟ یہ بتادیتا کہ فلاں جگہ ہے۔ اتنا نیچا ہے اتنا اونچا ہے وغیرہ۔ حضرت سلیمان ؑ اسی وقت جنات کو حکم دیتے اور کنواں کھود لیا جاتا پانی کی تلاش کا حکم دیا اتفاق سے وہ موجود نہ تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا آج ہدہد نظر نہیں آتا کیا پرندوں میں کہیں وہ چھپ گیا جو مجھے نظر نہ آیا۔ یا واقع میں وہ حاضر نہیں ؟ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ تفسیر سن کر نافع بن ارزق خارجی نے…
Read the full tafseer →سورة النمل 27
یعنی ان پرندوں کا جن کے متعلق اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ جن اور انس کی طرح ان کے لشکر بھی حضرت سلیمان کے عساکر میں شامل تھے، ممکن ہے کہ حضرت سلیمان ؑ ان سے خبر رسانی، شکار اور اسی طرح کے دوسرے کام لیتے ہوں۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اور ایک بار یہ قصہ ہوا کہ) سلیمان ؑ نے پرندوں کی حاضری لی تو (ہدہد کو نہ دیکھا) فرمانے لگے کہ کیا بات ہے کہ میں ہدہد کو نہیں دیکھتا کیا کہیں غائب ہوگیا ہے (اور جب معلوم ہوا کہ واقع میں غائب ہے تو فرمانے لگے) میں اس کو (غیر حاضری پر) سخت سزا دوں گا یا اس کو ذبح کر ڈالوں گا یا وہ کوئی صاف دلیل (اور غیر حاضری کا عذر) میرے سامنے پیش کردے (تو خیر چھوڑ دوں گا) تھوڑی دیر بعد وہ آ گیا اور سلیمان (علیہ السلام سے) کہنے لگا کہ ایسی بات معلوم کر کے آیا ہوں جو آپ کو معلوم نہیں ہوئی اور (اجمالی بیان اس کا یہ ہے کہ) میں آپ کے پاس قبیلہ سبا کی ایک پختہ خبر لایا ہوں (جس کا تفصیلی بیان یہ ہے کہ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(21-20)
حضرت سلیمان کی فضائل فوج اسی پریڈ کے موقع پر جب انہوں نے اپنے پرندوں کی فوج کا جائزہ لیا تو ہد ہد کو غائب پایا۔ اس پر غضبناک ہو کر فرمایا کہ کیا بات ہے میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا ہوں۔ وہ موجود ہے، مجھے نظر نہیں آیا ہے، یا غیر حاض رہے ؟ یا تو وہ اپنی اس غیر حاضری کے لئے کوئی معقول عذر پیش کرے ورنہ یا تو میں اس کو سخت سزا دوں گا یا ذبح کر چھوڑوں گا۔
ام کان من الغائبین سے پہلے بربنائے قرینہ اتنی بات محذوف ہے کہ وہ موجود ہے میں دیکھ نہیں رہا ہوں یا ……
سلطن مبین اصل میں دلیل و حجت کے مفہوم میں آتا ہے۔ یہاں یہ اپنی صائی میں کسی عذر معقول کے لئے آیا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
20-1یعنی موجود تو ہے، مجھے نظر نہیں آرہا یا یہاں موجود ہی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
10: سبا ایک قوم کا نام تھا جو یمن کے ایک علاقے میں آباد تھی، اسی قوم کے نام پر اس علاقے کو بھی سبا کہا جاتا تھا، اس وقت یہاں ایک ملکہ حکمران کر رہی تھی جس کا نام تاریخی روایتوں میں ”بلقیس“ بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
وتفقد……مبین (13)
اس منظر میں حضرت سلیمان ایک نبی اپنے ایک عظیم و کثیر لشکر میں نظر آتے ہیں۔ جب وہ پرندوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہد ہد کو غائب پاتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص ہد ہد تھا جسے اس لشکر میں ہونا چاہئے تھا۔ یہ کوئی عام ہد ہد نہ تھا کہ جس طرح لاکھوں میں سے ایک غائب ہو ۔ یا کرہ ارض کے تمام ہد ہدوں میں سے صرف ایک کم تھا۔ نیز اس سے یہ بھی معلمو ہوتا ہے کہ یہ مخصوص ہد ہد ایک خاص کردار رکھتا تھا اور مخصوص خصوصیات رکھتا تھا۔ یہ نہایت ہی بیدار مغز ، باریک بیں اور عقلمند ہد ہد تھا۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کی شخصیت بھی معلوم ہوتی ہے کہ آپ اپنی اس عظیم الشان فوج پر بھی پوری نگاہ رکھے…
Read the full tafseer →6 کسی ضرورت سے سلیمان (علیہ السلام) نے اڑنے والی فوج کا جائزہ لیا، ہدہد ان پر نظر نہ پڑا۔ فرمایا کیا بات ہے ہدہد کو میں نہیں دیکھتا۔ آیا پرندوں کے جھنڈ میں مجھ کو نظر نہیں آیا، یا حقیقت میں غیر حاضر ہے ؟ (تنبیہ) پرندوں سے حضرت سلیمان مختلف کام لیتے تھے مثلاً ہوائی سفر میں ان کا پرے باندھ کر اوپر سایہ کرتے ہوئے جانا، یا ضرورت کے وقت پانی وغیرہ کا کھوج لگانا، یا نامہ بری کرنا وغیرہ۔ ممکن ہے اس وقت ہدہد کی کوئی خاص ضرورت پیش آئی ہو۔ مشہور ہے کہ جس جگہ زمین کے نیچے پانی قریب ہو ہدہد کو محسوس ہوجاتا ہے اور یہ کچھ مستبعد نہیں کہ حق تعالیٰ کسی جانور کو کوئی خاص حاسہ انسانوں اور دوسرے جانوروں سے تیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آیت 19 فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنْ قَوْلِہَا ”
حضرت سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی اس بات کو سن بھی لیا اور سمجھ بھی لیا۔ چناچہ جذبات تشکرّ کے باعث آپ علیہ السلام کے چہرے پر بےاختیار تبسم آگیا اور زبان پر ترانۂ حمد جاری ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
21 آپ نے چیونٹی کی یہ بات سمجھ کر فرط سرور و انبساط سے ہنش دیئے اور اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کیا۔ پھر دست بدعا ہو کر فرمایا : پروردگار ! مجھے ان نعمتوں کے شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرما تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیں۔ اور ایک روایت میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت سلیمان لوگوں کے ہمراہ نماز استسقاء کے لئے ایک میدان کی طرف نکلے۔ وہاں ایک چیونٹی کو دیکھا جو چت لیٹ کر اور اپنے پاؤں اوپر اٹھائے ہوئے اللہ سے دعا کر رہا تھی کہ یا اللہ ! میں بھی تیری مخلوق ہوں اگر تو کھانے پینے کو نہ دے گا تو میں کیسے زندہ رہ سکتی ہوں یا ہمیں کھانے کو دے یا مار ڈال۔ حضرت سلیمان نے چیونٹی کی یہ دعا سن کر لوگوں سے…
Read the full tafseer →26۔ ہد ہد ایک معروف پرند ہے، سر پر کلغی لئے ہوئے، جو ہندوستان کے ان اطراف میں موسم برسات میں اکثر دکھائی دیتا ہے، ملک فلسطین میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ جاڑوں میں مصر اور مضافات مصر کو چلا جاتا ہے اور مارچ کے مہینہ سے پھر فلسطین میں آجاتا ہے۔ اڑان کی بڑی زبردست قوت رکھتا ہے۔ مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
آیت نمبر 15 تا 21
ترجمہ : اور ہم نے داؤد اور اس کے بیٹے سلیمان کو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا علم عطا کیا اور پرند وغیرہ کی بولی سکھائی اور ان دونوں حضرات نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا سب تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے ہم کو نبوت کے ذریعہ اور جن و انس و شیاطین کی تسخیر کے ذریعہ اپنے مومن بندوں میں سے بہت سوں پر فضیلت عطا فرمائی اور سلیمان (علیہ السلام) نبوت اور علم میں داؤد (علیہ السلام) کے وارث ہوئے اور سلیمان (علیہ السلام) نے کہا اے لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولی یعنی ان کی آواز کی سمجھ سکھائی اور ہم کو ہر وہ شئ عطا فرمائی جو انبیاء اور ملوک کو عطا کی جاتی ہے (یعنی جس کی ان کی حاجت ہوتی…
Read the full tafseer →وتفقد الطیر . اور پرندوں کو طلب کیا۔
یعنی پرندوں کے متعلق تفتیش کی اور ان کو طلب کیا۔ تَفَقَّد کا معنی ہے گم شدہ چیز کا ڈھونڈنا۔ غرض پرندوں کی تفتیش کرنے کے بعد ہدہد کو غیرحاضر پایا۔ ہدہد کو تلاش کرنے کی وجہ یہ تھی کہ جب حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کسی منزل پر اترتے تھے تو دھوپ سے بچانے کے لئے پرندے پورے لشکر پر سایہ کرلیتے تھے اور ہدہد اوپر چڑھ کر زمین کو دیکھتا تھا اور زمین کے اندر پانی کی تلاش کرتا تھا اور پانی کا دور یا قریب ہونا معلوم کرتا تھا کیونکہ اس کو زمین کے اندر کی چیزیں اسی طرح نظر آتی تھیں جیسے شیشہ کے اندر چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔ پانی جہاں نظر آجاتا وہاں جا کر چونچ سے زمین کو…
Read the full tafseer →(20) ایک بار یہ قصہ ہوا کہ سلیمان ؑ نے تمام پرندوں کی حاضری لی تو ہدہد کو نہ دیکھا تو فرمانے لگے کیا بات ہے کہ میں ہدہد کو اس کی جگہ پر نہیں پاتا اگر وہ پرندوں میں سے کہیں غائب ہوگیا ہے۔
Read the full tafseer →وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَآ اَرَى۔۔ : اس سے سلیمان ؑ کے کمال احتیاط، نظم و ترتیب اور بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے معاملے کی ذاتی طور پر نگرانی کا پتا چلتا ہے، حتیٰ کہ پرندوں میں سے ایک پرندے ہُد ہُد اور ہُد ہُد میں سے ایک خاص ہُد ہُد کی عدم موجودگی بھی ان سے مخفی نہ رہ سکی۔ خلفائے راشدین ؓ بھی چھوٹے سے چھوٹے معاملے کی بہ نفس نفیس خبر رکھتے تھے۔ امیر المومنین عمر بن خطاب ؓ کے حالات، خصوصاً ان کا شام کا سفر اس کی بہترین مثال ہے۔
فَقَالَ مَا لِيَ لَآ اَرَى : یعنی معاملہ کیا ہے، آیا ہُد ہُد یہاں موجود ہے اور مجھے نظر نہیں آ رہا، یا وہ ان میں سے ہے جو غائب ہیں ؟ معلوم ہوا جائزے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
(وتفقد الطیر فقال ما لی۔۔۔۔۔ )
اس میں اٹھارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ وتفقد الطیر جس سفر میں چیونٹی کا ذکر ہوا اس میں اور چیز کا ذکر کیا جس طرح پہلے گزرا ہے۔ تفقد کا مطلب ہے جو چیز تجھ سے غائب ہوا اس کو تلاش کرنا۔ طیرا سم جمع ہے واحد طیر ہے۔ یہاں طیر سے مراد جنس طیر اور جماعت ہے۔ وہ سفر میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس رہتے اور اپنے پروں سے آپ کو سایہ کرتے لوگوں نے پرندوں کی تلاش کی وجہ میں اختلاف کیا ہے۔ ایک جماعت نے کہا : یہ اس اعتبار سے تھا کہ امور مملکت کی بجا آو ری اس کا تقاضا کرتی تھی یہ آیت کا ظاہر معنی ہے۔ ایک جماعت نے کہا : آپ نے پرندوں کو تلاش کیا کیونکہ جب ہد ہد غائب ہوا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–31
بلقیس کی حکومت کی خبر
1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کا ہدہد پرندوں کے درمیان سے گم کیسے ہوگیا فرمایا کہ سلیمان ایک منزل پر اترے اور انہوں نے نہیں جانا کہ پانی کہاں ہے اور ہدہد سلیمان کو پانی کے باے میں بتاتا تھا انہوں نے اس سے پوچھنے کا ارادہ فرمایا تو اس کو گم پایا ابن عباس ؓ سے کہا گیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ہد ہد کے لیے جال لگایا جاتا ہے اور اسمیں مٹی ڈال دی جاتی ہے تو وہ اس میں پھنس جاتا ہے بچہ ہد ہد کے لیے پھندہ لگاتا ہے اور وہ بچہ اس سے غائب ہوجاتا ہے اور اس کا شکار کرلیتا ہے تو انہوں نے…
Read the full tafseer →وَتَفَقَّدَ [ اور انھوں نے جائز ہ لیا ] الطَّيْرَ [ پرندوں کا ] فَقَالَ [ تو کہا ] مَا لِيَ [ میرے لئے کیا ہے ]
لَآ اَرَى [ میں نہیں دیکھتا ] الْهُدْهُدَ ڮ[ ہدہد کو ] اَمْ [ یا ] كَانَ [ وہ ہے ] مِنَ الْغَاۗىِٕـبِيْنَ [ غائب ہونے والوں میں سے ]
نوٹ۔ 1: حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے سوال کیا گیا کہ تمام پرندوں میں ہدہد کی تفتیش کی کیا وجہ پیش آئی تو آپ نے فرمایا کہ سلیمان (علیہ السلام) نے کسی ایسے مقام پر قیام فرمایا جہاں پانی نہیں تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہدہد کو یہ خاصیت عطا فرمائی ہے کہ وہ زمین کے اندر کی چیزوں کو اور زمین کے اندر بہنے والے چشموں کو دیکھ لیتا ہے۔ وہ ہدہد سے یہ معلوم کرانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–37
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا پرندوں کی حاضری لینا، ہدہد کا غائب ہونا اور ملک سبا سے ایک ملکہ کی خبر لانا اور اس کے نام حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط لیجانا اور ملکہ کا ہدیہ بھیجنا
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت انسان جنات چرند پرند سب پر تھی وہ ان سب کے بادشاہ تھے، اور یہ چیزیں ان کے لشکر کا جزو تھیں ایک بار جانوروں کی حاضری لی تو جانور جمع ہوگئے لیکن ان میں ہدہد حاضر نہیں ہوا (ممکن ہے انہوں نے ہر جنس کے بڑے ہی کو بلایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تمام جانوروں کو جمع ہونے کا حکم دیا ہو سب جانور جمع ہوگئے ہدہد بھی سب آگئے لیکن ان کا سردار حاضر نہ ہوا ہو) جب مطلوبہ ہدہد کو انہوں نے حاضر نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–44
قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد
قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔
(ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
21:۔ اسی اثنا میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کی پڑتال کی تو ہدہد کو نہ پایا۔ فرمایا کیا بات ہے ہدہد مجھے ہی نظر نہیں آرہا ہے یا وہ ہے ہی غیر حاضر۔ “ لاعذبنہ الخ ” جب معلوم ہوا کہ وہ غیر حاضر ہے تو فرمایا میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا پھر وہ اپنی غیر حاضری کی کوئی معقول اور واضح دلیل پیش کرے گا اس سے واضح ہوگیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) غیب داں نہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–31
ربط آیات
گزشتہ درس میں ایک چیونٹی کا حال بیان ہوا ۔ سلیمان (علیہ السلام) چیونٹی کی بات سن کر مسکرائے اور پھر ان انعامات کا شکریہ ادا کیا جو اللہ نے آپ پر اور آپ کے والدین پر کر رکھے تھے۔ آپ نے اللہ سے اس کے پسندیدہ نیک اعمال کرنے کی توفیق بھی طلب کی اور ایک خصوصی دعا یہ کی کہ پروردگار ! مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل رکھ ۔ جانوروں اور پرندوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ چناچہ لوگ بہمیۃ الانعام یعنی اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری سے ، دودھ ، بال اور کھالیں حاصل کرتے ہیں ۔ بعض جانوروں سے باربرداری کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ بعض وحشی جانوروں کو باقاعدہ سیدھا کر کے ان سے بھی خدمت…
Read the full tafseer →وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَآ اَرَى الْہُدْہُدَ 0ۡۖ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَاۗىِٕـبِيْنَ 20
فقد
الفَقْدُ : عدم الشیء بعد وجوده، فهو أخصّ من العدم، لأن العدم يقال فيه وفیما لم يوجد بعد . قال تعالی: ماذا تَفْقِدُونَ قالُوا : نَفْقِدُ صُواعَ الْمَلِكِ [يوسف/ 71- 72]
(ق د ) الفقد
کے معنی ہیں کسی چیز کے وجود کے بعد اس کا نہ پایا جانا اور یہ عدم سے اخص ہے کیونکہ عدم فقد کو بھی کہتے ہیں ۔ اور کسی چیز کے سرے سے موجود نہ ہونے کو بھی قرآن میں ہے : ماذا تَفْقِدُونَ قالُوا : نَفْقِدُ صُواعَ الْمَلِكِ [يوسف/ 71- 72] تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے ہو بولے کہ بادشاہ کے پانی پینے کا کلاس کھویا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
و تفقد الطیر کہ پرندوں کی حاضری لی تو ان میں ہدہد کو نہ پایا، فرمایا کہ اس کو سزا دوں گا ورنہ کوئی عذر معقول بیان کرے، تھوڑی دیر کے بعد ہدہد بھی آحاضر ہوا اور اس نے سبا 1 ؎ کی شہزادی بلقیس کا حال بیان کیا کہ اس کے پاس سب سازوسامان سلطنت حاصل ہیں اور ایک بڑا عمدہ تخت بھی ہے کہ جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ مگر با ایں ہمہ آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ لوگ آفتاب پرست تھے یا تو صابی ہوں گے یا کوئی اور مذہب مروج ہوگا جو شیطانی مذہب تھا اور اللہ کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے، آسمان کی چھپی ہوئی ستارے آفتاب ماہتاب چھپ جاتے ہیں، پھر ان کو اللہ ہی ظاہر کرتا ہے، پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
وَتَفَقَّدَالطَّیْرَ فَقَالَ مَالِیَ لَآاَرَی الْھُدْھُدَ صلے ز اَمْ کَانَ مِنَ الْغَـآئِبِیْن۔ َاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْلَاَ اذْبَحَنَّـہٗٓ اَوْلَیَا تِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْن۔ (النمل : 20، 21)
(ایک اور روز) آپ ( علیہ السلام) نے پرندوں کا جائزہ لیا، تو فرمانے لگے کہ کیا بات ہے، میں ہدہد کو نہیں دیکھ رہا ہوں، یا وہ غیرحاضروں میں ہے۔ (اگر وہ غیرحاضر ہے) تو میں اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح کر ڈالوں گا یا پھر وہ کوئی واضح عذر میرے سامنے پیش کرے۔ )
جانوروں سے پیغام رسانی کی خدمت
ہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جنات اور پرندے بھی تھے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اپنے لشکر کا جائزہ لینا اور ہد ہد کے بارے میں رپورٹ طلب کرنا۔
آیت 17 میں بیان ہوا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جنوں، انسانوں اور پرندوں کو الگ الگ منظم کر رکھا تھا۔ اسی اصول کے پیش نظر انھوں نے ایک علاقہ کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے سفر کے دوران ایک مقام پر پہنچ کر اپنے لشکر کا جائزہ لیا تو انھوں نے ہدہد پرندے کو لشکر میں غائب پایا۔ غضبناک ہو کر فرمایا کیا وجہ ہے ہد ہد نظر نہیں آیا۔ کیا وہ غیر حاضر ہے ؟ اگر اس نے غیر حاضری کی معقول وجہ نہ بتلائی تو میں اسے سخت سزا دوں گا یا پھر اسے ذبح کرڈالوں گا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے رویہّ سے…
Read the full tafseer →واقعہ ہد ہد :
آیت 20: وَتَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَالِیَ (اور آپ نے پرندوں کو طلب کیا) ۔ پس فرمایا۔ مجھے ہدہد دکھائی نہیں دیتا۔ قراءت : مَالِیَ مکی ٗ علی ٗ عاصم نے نصب سے پڑھا جبکہ دیگر قراء نے سکون یاء سے پڑھا ہے۔ التفقد اس چیز کو ڈھونڈنا جو تم سے غائب ہو۔ لَا اَرَی الْہُدْہُدَ اَمْ کَانَ مِنَ الْغَآپبِیْنَ (میں ہدہد کو نہیں دیکھتا یا وہ غائب ہونے والوں میں سے ہے) ۔ ام۔ یہاں بل کے معنی میں ہے۔ آپ نے پرندوں کا معاینہ کیا تو ہدہد کو نہ پایا۔ تو آپ نے فرمایا۔ وہ مجھے کیوں نظر نہیں آرہا۔ مطلب یہ ہے۔ وہ اس لئے نظر نہیں آرہا کہ کسی روک نے اس کو چھپا ڈالا۔ نمبر 2۔ یا کوئی دوسری صورت ہے۔ پھر آپ…
Read the full tafseer →20۔ وتفقدالطیر ، اس کا معنی ہے گمشدہ چیز کا ڈھونڈنا، آیت کا معنی ہے جو پرندوں میں سے غائب ہے وہ کون سا پرندہ ہے۔
ہدہد کے غائب ہونے کا واقعہ۔
تفسیر۔
” فقال مالی لااری الھدھد، مجھے ہدہد دکھائی نہیں دیتا، وہ کہاں غائب ہے ؟ جیسا کہ عرب کا قول ہے کہ مالی اراک کثیبا، کیا ہوا استفہام تعجبیہ ہے ہدہد معروف پرندہ ہے ہدہد کے گم ہونے اور اس کے سوال کرنے کی وجہ کیا تھی بعض حضرات نے کہا اس کو توبہ کروانی تھی۔
ہدہد کو تلاش کرنے کی وجہ یہ تھی کہ جب حضرت سلیمان کسی منزل پر اترتے تودھوپ سے بچانے کے لیے پرندے پورے لشکر پر سایہ کرتے اور ہد ہد چڑھ کر زمین کو دیکھتا تھا اور زمین کے اندر پانی کی تلاش کرتا تھا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
15 تا 26 بعضے مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے یہ قرآن شریف کے مخالف ہے اس لیے کے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ خصوصیت کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جانوروں کو بولی سمجھنے کی نعمت عنایت فرمائی تھی جو نعمت مخلوق الٰہی میں سے کسی کو عنایت نہیں ہوئی اور حضرت سلیمان کا قول اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں نقل کیا ہے اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی اس نعمت کو اپنی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا ہے جب یہ کہا جاوے گا کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے تو پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خصوصیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
آیت 15 سے 44
اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
21 حضرت سلیمان کا اپنی فضائی فوج کا جائزہ اور ہدہد کا قصہ عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایک موقعہ پر سلیمان نے پرندوں کی اپنی فضائی فوج کا جائزہ لیا تو فرمایا کہ کیا بات ہے کہ ہدہد نظر نہیں آ رہا۔ وہ کہیں غائب تو نہیں ۔ سبحان اللہ ۔ اللہ ۔ جل جلالہ ۔ دکھانے پہ آئے تو عالم بالا کے حقائق تک دکھا دے۔ اور نہ دکھائے تو یہ بھی پتہ نہیں کہ ہدہد یہاں موجود ہے یا کہیں غائب ہے۔ سو اصل بات یہ ہے کہ معاملہ سب کا سب اللہ پاک ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسے چاہے کرے۔ بہرکیف حضرت سلیمن نے جب اپنی فضائی فوج ۔ پرندوں کی فوج۔ کا جائزہ لیا تو ہدہد کو وہاں پر موجود نہ پاکر فرمایا کہ " کیا بات ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں
تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–31
آیات نمبر 15:31 اسرار و معارف :
ہم نے داود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علوم نبوت سے سرفراز فرمایا یہاں علم سے مراد نبوت کے ساتھ دوسرے علوم بھی شامل ہیں کہ حکومت و سیاست کا علم یا فنون میں سے زرہ سازی کا علم جو داود (علیہ السلام) کو بطور خاص عطا ہوا تھا نیز ان کی خصوصیت حکومت و سلطنت بھی تھی اور وہ حضرات اس پر شکر بھی ادا کرتے تھے کہ انہیں بہت سے نیک بندوں میں خاص فضیلت عطا کی گئی مثلاً ہر نبی کو بھی حکومت و سلطنت تو عطا نہ ہوئی اور سلیمان (علیہ السلام) داود (علیہ السلام) کے وارث مقرر ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر وہ نعمت عطا ہوئی ہے جو اس عظیم…
Read the full tafseer →6 ۔ یعنی کیا دوسرے پرندوں میں چھپ گیا ہے جو نظر نہیں آرہا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(27:20) تفقد الطیر : تفقد ماضی واحد مذکر غائب نفقد (تفعیل) مصدر۔ جس کے معنی گم شدہ چیز کی تلاش کرنے کے ہیں فقد مادہ۔ اس سے فقد یفقد (ضرب) فقد بمعنی گم کرنا یا کھودینا کے ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں ہے ماذا تفقدون (12:71) تمہاری کیا چیز گم ہوئی ہے۔ الطیر۔ اسم جمع ہے اس کا واحد طائر ہے۔ تفقد الطیر اس نے پرندوں کی حاضری لی۔ اس نے پرندوں کا جائز ہ لیا۔
بسلطن : سلطن حجت ۔ سند۔ برہان۔ قوت۔ حکومت۔ سلطن مبین۔ واضح سند۔ معقول عذر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–37
لغات القرآن : آیت نمبر 20 تا 37 :
تفقد (اس نے جائزہ لیا۔ اس نے ڈھونڈا) ‘ مکت (وہ ٹھہرا۔ اس نے دیر کی) نباء (خبر) ‘ وجدت ( میں نے پایاض تملک ( وہ بادشاہت کرتی ہے) اوتیت (دیا گیا) الخبئ (پوشیدہ) القہ ( اس کو ڈال دے) افتونی ( مجھے بتائو۔ مجھے مشورہ دو ) ‘ قاطعۃ (کاٹنے والی) ‘ تشھدون ( تم موجود ہو) اولوقوۃ (قوت و طاقت والا) ‘ اولوباس ( لڑنے والے) ‘ تامرین (تو کیا حکم دیتی ہے) ‘ مرسلۃ ( بھیجنے والی) ‘ نظرۃ (دیکھنے والی) ‘ اتمدون (کیا تم مدد کرتے ہو) تفرحون ( وہ اتراتے ہیں۔ خوش ہوتے ہیں) ‘ صغرون (ذلیل و خوارہونے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 20 تا 37 :
حضرت سلیمان (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر اور ہدہد کا خبرلانا۔
(ف 1) فرمایا ایک بار حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر ملک شام کے میدان پر سے گزرا کہ جہان چیونٹیوں کے بل تھے اور وہ زمین پر چل رہی تھیں جو چیونٹیوں کا سردار تھا جب اس نے دیکھا کہ حضرت سلیمان کا لشکر آرہا ہے تو اس نے کہا، اے چیونٹیوں سب اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ تاکہ تم پاؤں کی روند میں آجاؤ، یہ بات حضرت سلیمان کو معلوم ہوئی کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سے علوم دیے تھے پھر حضرت سلیمان اس بات سے مسکرا کر ہنسنے لگے، ایک تو اس لیے کہ چیونٹی سلیمان (علیہ السلام) کو بیخبر ی کا الزام لگاتی ہے اس کو یہ معلوم نہیں کہ حضرت سلیمان کو کیا کیا علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
[6] یہاں داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کے ذکر سے جہالت اور علم کا فرق بتانا مقصود ہے۔ بادشاہی فرعون کو بھی ملی تھی اور داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کو بھی لیکن جہالت اور علم کے فرق نے ان کے درمیان عظیم الشان فرق پیدا کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
ف 2: حضرت سلیمان کی تسخیر اور وسعت کے متعلق یہ دوسرا قصہ ہے ۔ بیان کیا جاچکا ہے کہ حضرت سلیمان کے لشکر میں جن وانس کے علاوہ طیور بھی تھے اور انہیں ہدہد کے متعلق یہ خدمات تھیں کہ وہ اثنا جنگ میں پانی تلاش کرے اور لشکر کو پانی کا پتہ دے ۔ چناچہ ہدہد کے متعلق یہ مشہور ہے کہ وہ زمین کے نیچے سوتوں کو معلوم کرلیتا ہے ۔ اور عربی میں ضرب المثل ہے کہ ھوابصر من ہد ہد کہ وہ ہد ہد سے بھی زیادہ تیز نگاہیں رکھتا ہے ایک دن ہدہد لشکر میں نظر نہ آیا ۔ اور گم ہوگیا ۔ اس پر حضرت سلیمان ناراض ہوئے اور یاوسپراوہر سے دریافت کیا ۔ اور غصے سے کہا کہا گر وہ معقول عذر پیش نہ کریگا تو میں اس کو ذبح کرڈالوں گا ۔ اسی…
Read the full tafseer →(20) اور سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کی خبر لی، جائز ہ لیا اور حاضری لی تو کہنے لگا مجھے کیا ہوگیا کہ میں ہدُ ہُد کو نہیں دیکھتا کیا وہ کہیں غائب ہوگیا یعنی پرندوں کی حاضری لی تو ہُد ہُد کو نہ پایا تو فرمایا کہ مجھ کو کیا ہوا کہ میں ہُد ہُد کو نہیں دیکھتا وہ پرندوں کی بھیڑ میں مجھے دکھائی نہیں دیتا وہ کہیں غائب ہے حضرت سلیمان (علیہ السلام) پرندوں سے مختلف کام لیتے تھے شاید ہُد ہُد کو بھی کوئی خدمت سپرد ہو اور اس خدمت کے لئے اس کی ضرورت ہو کہتے ہیں ہُد ہُد کو یہ حس عطا کی گئی ہے کہ وہ زمین پر سے زمین کے اندر کے پانی کا پتہ معلوم کرلیتا ہے کہ پانی کتنے فاصلہ پر ہے اسی قسم کی ممکن ہے کوئی…
Read the full tafseer →ف 2۔ یا تو طیور کو کچھ خدمتیں سپرد کر رکھی ہوں گی، اس لئے حاضری لی، یا یہ کہ محض انضباط و انتظام کے لئے مثل امراء اجناد کے ایسا کیا۔
Read the full tafseer →حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے ایک لشکری کو غیر حاضر پایا تو اس سے باز پرس کی :
20۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اپنے تمام لشکروں کی دیکھ بھال اور کبھی کبھی حاضری خود بھی چیک کیا کرتے تھے اس طرح ایک بار جو آپ نے اپنے ” لشکر طیر “ کی حاضری چیک کی اور ان کی پریڈ کو دیکھا تو ایک لشکری کو غیر حاضر پایا ‘ نہ چھٹی کی درخواست اور نہ ہی کسی طرح کی کوئی اطلاع آپ نے اس پر بہت تعجب بھی کیا اور غصہ بھی کہ ایسی غفلت اور وہ بھی اتنے بڑے ذمہ دار کی طرف سے آخر کیوں ؟ آپ نے باقاعدہ لکھا کہ آج کی حاضری میں میں نے ہدہد کو غیر حاضر پایا اور اس کی کوئی وجہ بھی معلوم نہیں ہوئی کہ وہ کیوں غیر حاضر ہے اس لئے وہ جس…
Read the full tafseer →Commentary
وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ (And he checked the birds - 27:20). The word تَفَقَّدَ (tafaqqud) means to verify about the presence or absence of some people. Hence it is translated as to check. Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) was bestowed by Allah Ta’ ala the rule over Jinns, the beasts and the birds, apart from humans. As it is customary for the ruler to look after and take care of all of his subjects, it is stated in this verse وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ That is Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) inspected the birds from his subjects, and made a note of the presence and absence of them all.…
Read the full tafseer →27 That is, the birds whose troops, as mentioned above, were included in the armies of Prophet Solomon like the troops of the men and jinns. It is just possible that the Prophet Solomon had employed them for communicating messages, hunting and performing other such services.
Read the full tafseer →