Explained with ayahs 20–21
ہدہد
ہدہد فوج سلیمان میں مہندس کا کام کرتا تھا وہ بتلاتا تھا کہ پانی کہاں ہے ؟ زمین کے اندر کا پانی اس کو اسطرح نظر آتا تھا جیسے کہ زمین کے اوپر کی چیز لوگوں کو نظر آتی ہے۔ جب سلیمان ؑ جنگل میں ہوتے اس سے دریافت فرماتے کہ پانی کہاں ہے ؟ یہ بتادیتا کہ فلاں جگہ ہے۔ اتنا نیچا ہے اتنا اونچا ہے وغیرہ۔ حضرت سلیمان ؑ اسی وقت جنات کو حکم دیتے اور کنواں کھود لیا جاتا پانی کی تلاش کا حکم دیا اتفاق سے وہ موجود نہ تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا آج ہدہد نظر نہیں آتا کیا پرندوں میں کہیں وہ چھپ گیا جو مجھے نظر نہ آیا۔ یا واقع میں وہ حاضر نہیں ؟ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ تفسیر سن کر نافع بن ارزق خارجی نے…
Read the full tafseer →سورة النمل 28
موجودہ زمانے کے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہدہد سے مراد وہ پرندہ نہیں ہے جو عربی اور اردو زبان میں اس نام سے معروف ہے بلکہ یہ ایک آدمی کا نام ہے جو حضرت سلیمان کی فوج میں ایک افسر تھا، اس دعوے کی بنیاد یہ نہیں ہے کہ تاریخ میں کہیں ہدہد نام کا کوئی شخص ان حضرات کو سلیمان ؑ کی حکومت کے افسروں کی فہرست میں مل گیا ہے، بلکہ یہ عمارت صرف اس استدلال پر کھڑی کی گئی ہے کہ جانوروں کے ناموں پر انسانوں کے نام رکھنے کا رواج تمام زبانوں کی طرح عربی زبان میں بھی پایا جاتا ہے اور عبرانی میں بھی تھا، نیز یہ کہ آگے اس ہدہد کا جو جام بیان کیا گیا ہے اور حضرت سلیمان سے اس کی گفتگو کا جو ذکر ہے وہ ان کے…
Read the full tafseer →لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِيْدًا اَوْ لَاَاذْبَحَنَّهٗٓ، ابتدائی غور و فکر کے بعد یہ حاکمانہ سیاست کا مظاہرہ ہے کہ غیر حاضر رہنے والے کو سزا دی جائے۔
جو جانور کام میں سستی کرے اس کو معتدل سزا دینا جائز ہے
حضرت سلیمان ؑ کے لئے حق تعالیٰ نے جانوروں کو ایسی سزائیں دینا حلال کردیا تھا جیسا عام امتوں کے لئے جانوروں کو ذبح کر کے ان کے گوشت پوست وغیرہ سے فائدہ اٹھانا اب بھی حلال ہے۔ اسی طرح پالتو جانور گائے، بیل، گدھا، گھوڑا، اونٹ وغیرہ اپنے کام میں سستی کرے اس کو تادیب کے لئے بقدر ضروتر مارنے کی معتدل سزا اب بھی جائز ہے۔ دوسرے جانوروں کو سزا دینا ہماری شریعت میں ممنوع ہے۔ (قرطبی)
اَوْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(21-20)
حضرت سلیمان کی فضائل فوج اسی پریڈ کے موقع پر جب انہوں نے اپنے پرندوں کی فوج کا جائزہ لیا تو ہد ہد کو غائب پایا۔ اس پر غضبناک ہو کر فرمایا کہ کیا بات ہے میں ہد ہد کو نہیں دیکھ رہا ہوں۔ وہ موجود ہے، مجھے نظر نہیں آیا ہے، یا غیر حاض رہے ؟ یا تو وہ اپنی اس غیر حاضری کے لئے کوئی معقول عذر پیش کرے ورنہ یا تو میں اس کو سخت سزا دوں گا یا ذبح کر چھوڑوں گا۔
ام کان من الغائبین سے پہلے بربنائے قرینہ اتنی بات محذوف ہے کہ وہ موجود ہے میں دیکھ نہیں رہا ہوں یا ……
سلطن مبین اصل میں دلیل و حجت کے مفہوم میں آتا ہے۔ یہاں یہ اپنی صائی میں کسی عذر معقول کے لئے آیا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
20-1یعنی موجود تو ہے، مجھے نظر نہیں آرہا یا یہاں موجود ہی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
10: سبا ایک قوم کا نام تھا جو یمن کے ایک علاقے میں آباد تھی، اسی قوم کے نام پر اس علاقے کو بھی سبا کہا جاتا تھا، اس وقت یہاں ایک ملکہ حکمران کر رہی تھی جس کا نام تاریخی روایتوں میں ”بلقیس“ بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
وتفقد……مبین (13)
اس منظر میں حضرت سلیمان ایک نبی اپنے ایک عظیم و کثیر لشکر میں نظر آتے ہیں۔ جب وہ پرندوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہد ہد کو غائب پاتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص ہد ہد تھا جسے اس لشکر میں ہونا چاہئے تھا۔ یہ کوئی عام ہد ہد نہ تھا کہ جس طرح لاکھوں میں سے ایک غائب ہو ۔ یا کرہ ارض کے تمام ہد ہدوں میں سے صرف ایک کم تھا۔ نیز اس سے یہ بھی معلمو ہوتا ہے کہ یہ مخصوص ہد ہد ایک خاص کردار رکھتا تھا اور مخصوص خصوصیات رکھتا تھا۔ یہ نہایت ہی بیدار مغز ، باریک بیں اور عقلمند ہد ہد تھا۔ اور سلیمان (علیہ السلام) کی شخصیت بھی معلوم ہوتی ہے کہ آپ اپنی اس عظیم الشان فوج پر بھی پوری نگاہ رکھے…
Read the full tafseer →7 مثلاً اس کے بال و پر نوچ ڈالوں گا۔
8 یعنی اپنی غیر حاضری کا واضح عذر پیش کرے۔
Read the full tafseer →آیت 21 لَاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْ لَاَاذْبَحَنَّہٗٓ ”
اس اجتماعی حاضری parade کے موقع سے غیر حاضر ہو کر اس نے بہت بڑا جرم کیا ہے اور اسے اس جرم کی سزا ضرور بھگتنا ہوگی۔
اَوْ لَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ”
ہاں اگر وہ کوئی ٹھوس عذر پیش کر کے اپنی اس غیر حاضری کا جواز ثابت کر دے تو سزا سے بچ سکتا ہے۔
Read the full tafseer →23 حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو کسی موقع پر ہدہد کی ضرورت محسوس ہوئی۔ ہدہد کی متعلق مشہور ہے کہ جس مقام پر پانی سطح زمین سے نزدیک تر ہو اسے معلوم ہوجاتا ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ انھیں یہی ضرورت تھی یا کچھ اور تھی، انہوں نے پرندوں کے لشکر میں ہدہد کو تلاش کیا لیکن وہ وہاں نہ ملا۔ آپ کو اس بات کا سخت رنج ہوا اور فرمایا کہ یا تو وہ اپنی غیر حاضری کا کوئی معقول وجہ پیش کرے۔ ورنہ میں اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح ہی کر ڈالوں گا۔
Read the full tafseer →27۔ یعنی وہ اپنی غیر حاضری کا کوئی معقول عذر میرے سامنے پیش کردے تو البتہ سزا سے بچ سکتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے سپرد بھی کچھ خدمات تھیں، یہ بھی ممکن ہے کہ حاضری محض انضباط وانتظام کے لئے لی گئی ہو۔ اور فوج سے غیرحاضری خود ایک جرم ہے۔ (آیت) ” لاعذبنہ ....... مبین “۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) یہاں صرف اپنا ارادۂ مشروط ظاہر کررہے ہیں کہ اگر ملزم کوئی عذر ہی نہ پیش کرسکا، یا پیش بھی کیا تو بہت ضعیف تو وہ قابل تعزیر ہوگا۔ کوئی حکم شرعی نافذ نہیں کررہے ہیں۔ اس لئے یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ فقہ اسلامی میں تو غائب پر قضاجائز نہیں، پھر یہ نبی کیسے غائب پر قضا جاری کررہے ہیں۔ (آیت) ” لاعذبنہ “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–21
آیت نمبر 15 تا 21
ترجمہ : اور ہم نے داؤد اور اس کے بیٹے سلیمان کو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کا علم عطا کیا اور پرند وغیرہ کی بولی سکھائی اور ان دونوں حضرات نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا سب تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے ہم کو نبوت کے ذریعہ اور جن و انس و شیاطین کی تسخیر کے ذریعہ اپنے مومن بندوں میں سے بہت سوں پر فضیلت عطا فرمائی اور سلیمان (علیہ السلام) نبوت اور علم میں داؤد (علیہ السلام) کے وارث ہوئے اور سلیمان (علیہ السلام) نے کہا اے لوگو ! ہم کو پرندوں کی بولی یعنی ان کی آواز کی سمجھ سکھائی اور ہم کو ہر وہ شئ عطا فرمائی جو انبیاء اور ملوک کو عطا کی جاتی ہے (یعنی جس کی ان کی حاجت ہوتی…
Read the full tafseer →لا عذبنہ عذابا شدید اولاد اذبحنہ اولیاتینی بسلطن مبین . میں اس کو سخت عذاب (کی سزا)
دوں گا یا اس کو ذبح کر ڈالوں گا یا وہ (اپنی غیرحاضری کی) کوئی واضح وجہ پیش کرے گا۔
لَاُعَذِّبَنَّہٗ شَدِیْدًا یعنی میں اس کو سخت عذاب دوں گا تاکہ دوسرے ہدہدوں کو عبرت ہو۔ عذاب شدید دینے سے کیا مراد تھی ‘ اس کے تعین کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض نے کہا : مراد یہ تھی کہ میں اس کے سارے پر و بال اور دم نوچ کر لوتھڑا بنا کر دھوپ میں ڈالو دوں گا کہ کیڑے مکوڑے اور چیونٹیاں اس کو کھا لیں۔ مقاتل نے کہا : میں لوتھڑا بنا کر تارکول ملوا کر دھوپ میں پھنکوا دوں گا۔ بعض نے کہا : پنجرہ میں بند کردینا مراد تھا۔ کسی نے…
Read the full tafseer →(21) تو میں اس کے پر اکھاڑ دوں گا پرندوں کی یہی سزا تھی یا اس کو ذبح کر ڈالوں گا یا وہ اپنی غیر حاضری کا معقول عذر پیش کرے۔
Read the full tafseer →لَاُعَذِّبَنَّهٗ عَذَابًا شَدِيْدًا۔۔ : ہُد ہُد کا بلا اجازت غائب ہونا صریح نافرمانی تھا، اس لیے سلیمان ؑ نے واضح عذر پیش نہ کرنے کی صورت میں اس کے لیے دو سزائیں سنائیں، ایک ذبح کردینا اور دوسری ذبح سے کمتر کوئی سخت سزا۔ اس سے معلوم ہوا کہ سلطان کی بلاعذر نافرمانی پر تعزیر ہونی چاہیے، اگر کوئی مجاہد بلا اجازت غائب ہوتا ہے تو دیکھا جائے گا کہ آیا یہ اس کا معمول ہے یا اتفاق سے ایسا ہوا ہے، پھر معمول ہونے کی صورت میں اس کی غیر حاضری اگر لشکر پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کے طرز عمل سے امیر کے احکام کی قدر و قیمت باقی نہ رہنے کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا جرم بہت بڑا بن جاتا ہے۔ اسی طرح اس موقع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
(وتفقد الطیر فقال ما لی۔۔۔۔۔ )
اس میں اٹھارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ وتفقد الطیر جس سفر میں چیونٹی کا ذکر ہوا اس میں اور چیز کا ذکر کیا جس طرح پہلے گزرا ہے۔ تفقد کا مطلب ہے جو چیز تجھ سے غائب ہوا اس کو تلاش کرنا۔ طیرا سم جمع ہے واحد طیر ہے۔ یہاں طیر سے مراد جنس طیر اور جماعت ہے۔ وہ سفر میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس رہتے اور اپنے پروں سے آپ کو سایہ کرتے لوگوں نے پرندوں کی تلاش کی وجہ میں اختلاف کیا ہے۔ ایک جماعت نے کہا : یہ اس اعتبار سے تھا کہ امور مملکت کی بجا آو ری اس کا تقاضا کرتی تھی یہ آیت کا ظاہر معنی ہے۔ ایک جماعت نے کہا : آپ نے پرندوں کو تلاش کیا کیونکہ جب ہد ہد غائب ہوا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–31
بلقیس کی حکومت کی خبر
1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ سلیمان (علیہ السلام) کا ہدہد پرندوں کے درمیان سے گم کیسے ہوگیا فرمایا کہ سلیمان ایک منزل پر اترے اور انہوں نے نہیں جانا کہ پانی کہاں ہے اور ہدہد سلیمان کو پانی کے باے میں بتاتا تھا انہوں نے اس سے پوچھنے کا ارادہ فرمایا تو اس کو گم پایا ابن عباس ؓ سے کہا گیا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ہد ہد کے لیے جال لگایا جاتا ہے اور اسمیں مٹی ڈال دی جاتی ہے تو وہ اس میں پھنس جاتا ہے بچہ ہد ہد کے لیے پھندہ لگاتا ہے اور وہ بچہ اس سے غائب ہوجاتا ہے اور اس کا شکار کرلیتا ہے تو انہوں نے…
Read the full tafseer →لَاُعَذِّبَنَّهٗ [ میں لازما سزا دوں گا اس کو ] عَذَابًا شَدِيْدًا [ ایک سخت سزا ] اَوْ [ یا ] لَاَاذْبَحَنَّهٗٓ [ میں لازما ذبح کردوں گا اس کو ] اَوْ [ یا ] لَيَاْتِيَنِّيْ [ وہ لازما آئے گا میرے پاس ] بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ [ کسی واضح دلیل کے ساتھ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–37
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا پرندوں کی حاضری لینا، ہدہد کا غائب ہونا اور ملک سبا سے ایک ملکہ کی خبر لانا اور اس کے نام حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا خط لیجانا اور ملکہ کا ہدیہ بھیجنا
حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت انسان جنات چرند پرند سب پر تھی وہ ان سب کے بادشاہ تھے، اور یہ چیزیں ان کے لشکر کا جزو تھیں ایک بار جانوروں کی حاضری لی تو جانور جمع ہوگئے لیکن ان میں ہدہد حاضر نہیں ہوا (ممکن ہے انہوں نے ہر جنس کے بڑے ہی کو بلایا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ تمام جانوروں کو جمع ہونے کا حکم دیا ہو سب جانور جمع ہوگئے ہدہد بھی سب آگئے لیکن ان کا سردار حاضر نہ ہوا ہو) جب مطلوبہ ہدہد کو انہوں نے حاضر نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–44
قصہء سوم ملکہء سبا بروایت ھد ھد
قال اللہ تعالیٰ وتفقد الطیر فقال مالی لا اری الھد ھد۔۔۔ الی۔۔۔ واسلمت مع سلیمن للہ رب العلمین۔
(ربط) اب ان آیات میں ملکہ سبا کا قصہ ذکر کرتے ہیں جو بظاہر اس سورت کا تیسرا قصہ ہے مگر درحقیقت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا دوسرا قصہ ہے سلیمان (علیہ السلام) کے پاس تین قسم کے لشکر تھے ایک آدمیوں کا اور ایک جنوں کا اور ایک پرندوں کا۔ جو روانگی کے وقت سلیمان (علیہ السلام) کے تخت پر سایہ کرتے تھے۔ ایک دن سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کے ایک لشکر کی جانچ پڑتا کی تو اس نے ہد ہد کو نہ پایا جو ہد ہدوں کا سردار تھا۔ فرمایا جب وہ آئے گا تو اس سے پوچھوں گا کہ کیوں غیر حاضر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
21:۔ اسی اثنا میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے پرندوں کی پڑتال کی تو ہدہد کو نہ پایا۔ فرمایا کیا بات ہے ہدہد مجھے ہی نظر نہیں آرہا ہے یا وہ ہے ہی غیر حاضر۔ “ لاعذبنہ الخ ” جب معلوم ہوا کہ وہ غیر حاضر ہے تو فرمایا میں اسے سخت سزا دوں گا یا اسے ذبح کر ڈالوں گا یا پھر وہ اپنی غیر حاضری کی کوئی معقول اور واضح دلیل پیش کرے گا اس سے واضح ہوگیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) غیب داں نہ تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–31
ربط آیات
گزشتہ درس میں ایک چیونٹی کا حال بیان ہوا ۔ سلیمان (علیہ السلام) چیونٹی کی بات سن کر مسکرائے اور پھر ان انعامات کا شکریہ ادا کیا جو اللہ نے آپ پر اور آپ کے والدین پر کر رکھے تھے۔ آپ نے اللہ سے اس کے پسندیدہ نیک اعمال کرنے کی توفیق بھی طلب کی اور ایک خصوصی دعا یہ کی کہ پروردگار ! مجھے اپنے نیک بندوں میں شامل رکھ ۔ جانوروں اور پرندوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لیے پیدا کیا ہے۔ چناچہ لوگ بہمیۃ الانعام یعنی اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری سے ، دودھ ، بال اور کھالیں حاصل کرتے ہیں ۔ بعض جانوروں سے باربرداری کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ بعض وحشی جانوروں کو باقاعدہ سیدھا کر کے ان سے بھی خدمت…
Read the full tafseer →لَاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِيْدًا اَوْ لَاَاذْبَحَنَّہٗٓ اَوْ لَيَاْتِيَنِّيْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ 21
عذب
والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في
العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21]
واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر،
( ع ذ ب )
العذاب
سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔
لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–28
و تفقد الطیر کہ پرندوں کی حاضری لی تو ان میں ہدہد کو نہ پایا، فرمایا کہ اس کو سزا دوں گا ورنہ کوئی عذر معقول بیان کرے، تھوڑی دیر کے بعد ہدہد بھی آحاضر ہوا اور اس نے سبا 1 ؎ کی شہزادی بلقیس کا حال بیان کیا کہ اس کے پاس سب سازوسامان سلطنت حاصل ہیں اور ایک بڑا عمدہ تخت بھی ہے کہ جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ مگر با ایں ہمہ آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ لوگ آفتاب پرست تھے یا تو صابی ہوں گے یا کوئی اور مذہب مروج ہوگا جو شیطانی مذہب تھا اور اللہ کو سجدہ نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے، آسمان کی چھپی ہوئی ستارے آفتاب ماہتاب چھپ جاتے ہیں، پھر ان کو اللہ ہی ظاہر کرتا ہے، پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
وَتَفَقَّدَالطَّیْرَ فَقَالَ مَالِیَ لَآاَرَی الْھُدْھُدَ صلے ز اَمْ کَانَ مِنَ الْغَـآئِبِیْن۔ َاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْلَاَ اذْبَحَنَّـہٗٓ اَوْلَیَا تِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْن۔ (النمل : 20، 21)
(ایک اور روز) آپ ( علیہ السلام) نے پرندوں کا جائزہ لیا، تو فرمانے لگے کہ کیا بات ہے، میں ہدہد کو نہیں دیکھ رہا ہوں، یا وہ غیرحاضروں میں ہے۔ (اگر وہ غیرحاضر ہے) تو میں اسے سخت سزا دوں گا یا ذبح کر ڈالوں گا یا پھر وہ کوئی واضح عذر میرے سامنے پیش کرے۔ )
جانوروں سے پیغام رسانی کی خدمت
ہم پڑھ چکے ہیں کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لشکر میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جنات اور پرندے بھی تھے۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا اپنے لشکر کا جائزہ لینا اور ہد ہد کے بارے میں رپورٹ طلب کرنا۔
آیت 17 میں بیان ہوا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جنوں، انسانوں اور پرندوں کو الگ الگ منظم کر رکھا تھا۔ اسی اصول کے پیش نظر انھوں نے ایک علاقہ کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے سفر کے دوران ایک مقام پر پہنچ کر اپنے لشکر کا جائزہ لیا تو انھوں نے ہدہد پرندے کو لشکر میں غائب پایا۔ غضبناک ہو کر فرمایا کیا وجہ ہے ہد ہد نظر نہیں آیا۔ کیا وہ غیر حاضر ہے ؟ اگر اس نے غیر حاضری کی معقول وجہ نہ بتلائی تو میں اسے سخت سزا دوں گا یا پھر اسے ذبح کرڈالوں گا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے رویہّ سے…
Read the full tafseer →21: لَاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِیْدًا (میں اس کو عذاب دونگا) ۔ اس کے بال و پر نوچ ڈالے جائیں گے اور اس کو دھوپ میں ڈال دیا جائے گا۔ نمبر 2۔ اس کے اور اس کے مالوفات کے درمیان تفریق کردی جائے گی۔ اس کو اپنے ہمجولیوں کا خادم بنادیا جائے گا اور سربراہی اس سے چھین لی جائے گی۔ نمبر 3۔ اس کے مخالفین کے ساتھ جیل میں ڈال دیا جائے گا۔
بعض کا قول ہے۔ اضیق السجون معاشرۃ الاضداد۔ سب سے تنگ قیدی جو مخالفین کے نرغہ میں رہے۔
نمبر 4۔ پنجرے میں ڈال دیا جائے گا۔ نمبر 5۔ چیونٹیوں کے سامنے اس کو ڈال دیا جائے گا تاکہ وہ اس کو کھا لیں۔
مسئلہ : سلیمان (علیہ السلام) کو جائز تھا کہ وہ مصلحت کی بناء پر ہدہد کو سزا…
Read the full tafseer →تفسیر۔
21۔ لاعذبنہ عذابا شدیدا۔ یعنی میں اس کو سخت عذاب دوں گا تاکہ دوسروں ہدہدوں کو عبرت ہو۔
عذاباشدیدا سے کون سا عذاب مراد ہے۔
عذاب شدید سے کیا مراد تھی، اس کے تعین کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض نے کہا کہ مراد یہ تھی کہ می اس کے پر وبال اور دم نوچھ کرلوتھڑا بناکردھوپ میں ڈال دوں گا، کیڑے مکوڑے اور چیونٹیاں اس کوکھالیں۔ مقاتل نے کہا میں لوتھڑا بناکرتارکول ملوا کردھوپ میں پھینکوادوں گا بعض نے کہا کہ پنجرہ میں بند کردینا مراد تھا، کسی نے کہا مادہ سے ہمیشہ کے لیے جدا کرنا مقصد تھا یا یہ مطلب تھا کہ میں اس کے مخالف کے ساتھ اس کو قید کردوں گایایہ معنی تھا کہ میں اس کو ساتھیوں کا خدمت گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–26
15 تا 26 بعضے مفسروں نے یہ جو لکھا ہے کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے یہ قرآن شریف کے مخالف ہے اس لیے کے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا قصہ خصوصیت کے طور پر یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جانوروں کو بولی سمجھنے کی نعمت عنایت فرمائی تھی جو نعمت مخلوق الٰہی میں سے کسی کو عنایت نہیں ہوئی اور حضرت سلیمان کا قول اللہ تعالیٰ نے جو قرآن شریف میں نقل کیا ہے اس میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ کی اس نعمت کو اپنی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا ہے جب یہ کہا جاوے گا کہ اس زمانہ میں جانور انسان کی سی بولی بولتے تھے تو پھر حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی خصوصیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
آیت 15 سے 44
اللہ تبارک و تعالیٰ ان آیات کریمہ میں حضرت داؤد اور ان کے فرزند سلیمان (علیہ السلام) پر اپنے احسان کا ذکر کتا ہے کہ اس نے انہیں وسیع علم عطا کیا اور اس معنی کی دلیل یہ ہے کہ ” علم “ کو نکرہ کے صیغے میں بیان کیا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (وداؤد و سلیمن اذ یحکمن فی الحرچ اذ نطشت فیہ غنم القوم وکنا لحکمھم شھدین۔ ففھمنھا سلیمن وکلا اتینا حکما وعلما) (الانبیاء : 21/78۔ 79) ” اور یاد کیجئے داؤد اور سلیمان کو جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے جھگڑے میں فیصلہ کر رہے تھے اس کھیت میں کچھ لوگوں کی بکریاں رات کے وقت چر گئی تھیں ہم ان کے فیصلے کو خود دیکھ رہے تھے۔ پس صحیح فیصلہ ہم نے سلیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
22 ہدہد کا جواب اور اس میں موجود اہم درسہائے عبرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہدہد نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں وہ کچھ لایا ہوں جس کے علم کا احاطہ جناب بھی نہیں کرسکے۔ سو اس سے بھی اوپر والی بات کی تاکید ہو رہی ہے کہ معاملہ سب کا سب اللہ پاک ہی کے ہاتھ میں ہے۔ پیغمبر کو وہی کچھ معلوم ہوتا ہے جو اس کو اللہ پاک کی طرف سے بتایا جاتا ہے اور بس ۔ سبحان اللہ ۔ ایک پرندہ حضرت سلیمٰن (علیہ السلام) جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر سے کہہ رہا ہے کہ میں آپ کے پاس ایسی معلومات لایا ہوں جو آپ کے علم میں بھی نہیں۔ اور آگے حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) اس کو روکنے ٹوکنے کی یا اس کی کوئی تغلیط و تکذیب کرنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–44
سیدنا سلیمان (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور قدرت کی عجیب نشانیاں
تشریح : سیدنا داود (علیہ السلام) اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں سورة الحجر اور الانبیاء میں تفصیلاً گزر چکا ہے۔ مختصراً یہ ہے کہ سیدان سلیمان (علیہ السلام) سیدنا داود (علیہ السلام) کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ 965 ء قبل مسیح میں جانشین ہوئے اور چالیس سال حکومت کی۔ ان کی سلطنت میں فلسطین شرق اردن اور کچھ حصہ شام کا شامل تھا۔ ان کے اس پورے قصہ سے جہاں اور بہت سی باتیں پتہ چلتی ہیں وہاں رب العزت کی طاقت ‘ قدرت اور وحدانیت کا خاص طور پر اظہار ہوتا ہے۔ اور پھر جب ہم فرعون اور سیدنا سلیمان (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–31
آیات نمبر 15:31 اسرار و معارف :
ہم نے داود اور سلیمان (علیہما السلام) کو علوم نبوت سے سرفراز فرمایا یہاں علم سے مراد نبوت کے ساتھ دوسرے علوم بھی شامل ہیں کہ حکومت و سیاست کا علم یا فنون میں سے زرہ سازی کا علم جو داود (علیہ السلام) کو بطور خاص عطا ہوا تھا نیز ان کی خصوصیت حکومت و سلطنت بھی تھی اور وہ حضرات اس پر شکر بھی ادا کرتے تھے کہ انہیں بہت سے نیک بندوں میں خاص فضیلت عطا کی گئی مثلاً ہر نبی کو بھی حکومت و سلطنت تو عطا نہ ہوئی اور سلیمان (علیہ السلام) داود (علیہ السلام) کے وارث مقرر ہوئے جب انہوں نے فرمایا کہ لوگو ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہر وہ نعمت عطا ہوئی ہے جو اس عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
7 ۔” سباء “ یمن میں ایک شہر کا نام تھا جو یمن کے موجودہ دارالسلطنت ” صنعا “ سے تین دن… تقریباً 55 میل… کی مسافت پر واقع تھا۔ اس شہر کے بنانے والے کا نام بھی سباء تھا اور اس شہر کے بنانے والے کا نام بھی سباء تھا اس لئے یہ شہر اسی نام سے مشہور ہوا۔ (شوکانی) شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں :” حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو اس ملک کا حال مفصل نہ پہنچا تھا اب پہنچا۔ (موضح) گویا اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا کہ کسی بڑے سے بڑے انسان کا علم بھی ہر چیز کو محیط نہیں ہوسکتا۔ چناچہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) ، کہ جن کے متعلق فرمایا کہ ہم نے انہیں علم عطا فرمایا، انہیں ایک جزتی واقعہ کی خبر ہد ہد نے مہیا کی۔ اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(27:20) تفقد الطیر : تفقد ماضی واحد مذکر غائب نفقد (تفعیل) مصدر۔ جس کے معنی گم شدہ چیز کی تلاش کرنے کے ہیں فقد مادہ۔ اس سے فقد یفقد (ضرب) فقد بمعنی گم کرنا یا کھودینا کے ہیں۔ جیسے قرآن مجید میں ہے ماذا تفقدون (12:71) تمہاری کیا چیز گم ہوئی ہے۔ الطیر۔ اسم جمع ہے اس کا واحد طائر ہے۔ تفقد الطیر اس نے پرندوں کی حاضری لی۔ اس نے پرندوں کا جائز ہ لیا۔
بسلطن : سلطن حجت ۔ سند۔ برہان۔ قوت۔ حکومت۔ سلطن مبین۔ واضح سند۔ معقول عذر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–37
لغات القرآن : آیت نمبر 20 تا 37 :
تفقد (اس نے جائزہ لیا۔ اس نے ڈھونڈا) ‘ مکت (وہ ٹھہرا۔ اس نے دیر کی) نباء (خبر) ‘ وجدت ( میں نے پایاض تملک ( وہ بادشاہت کرتی ہے) اوتیت (دیا گیا) الخبئ (پوشیدہ) القہ ( اس کو ڈال دے) افتونی ( مجھے بتائو۔ مجھے مشورہ دو ) ‘ قاطعۃ (کاٹنے والی) ‘ تشھدون ( تم موجود ہو) اولوقوۃ (قوت و طاقت والا) ‘ اولوباس ( لڑنے والے) ‘ تامرین (تو کیا حکم دیتی ہے) ‘ مرسلۃ ( بھیجنے والی) ‘ نظرۃ (دیکھنے والی) ‘ اتمدون (کیا تم مدد کرتے ہو) تفرحون ( وہ اتراتے ہیں۔ خوش ہوتے ہیں) ‘ صغرون (ذلیل و خوارہونے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 20 تا 37 :
حضرت سلیمان (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے ایک عظیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر اور ہدہد کا خبرلانا۔
(ف 1) فرمایا ایک بار حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا لشکر ملک شام کے میدان پر سے گزرا کہ جہان چیونٹیوں کے بل تھے اور وہ زمین پر چل رہی تھیں جو چیونٹیوں کا سردار تھا جب اس نے دیکھا کہ حضرت سلیمان کا لشکر آرہا ہے تو اس نے کہا، اے چیونٹیوں سب اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ تاکہ تم پاؤں کی روند میں آجاؤ، یہ بات حضرت سلیمان کو معلوم ہوئی کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سے علوم دیے تھے پھر حضرت سلیمان اس بات سے مسکرا کر ہنسنے لگے، ایک تو اس لیے کہ چیونٹی سلیمان (علیہ السلام) کو بیخبر ی کا الزام لگاتی ہے اس کو یہ معلوم نہیں کہ حضرت سلیمان کو کیا کیا علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–21
[6] یہاں داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کے ذکر سے جہالت اور علم کا فرق بتانا مقصود ہے۔ بادشاہی فرعون کو بھی ملی تھی اور داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کو بھی لیکن جہالت اور علم کے فرق نے ان کے درمیان عظیم الشان فرق پیدا کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
ف 2: حضرت سلیمان کی تسخیر اور وسعت کے متعلق یہ دوسرا قصہ ہے ۔ بیان کیا جاچکا ہے کہ حضرت سلیمان کے لشکر میں جن وانس کے علاوہ طیور بھی تھے اور انہیں ہدہد کے متعلق یہ خدمات تھیں کہ وہ اثنا جنگ میں پانی تلاش کرے اور لشکر کو پانی کا پتہ دے ۔ چناچہ ہدہد کے متعلق یہ مشہور ہے کہ وہ زمین کے نیچے سوتوں کو معلوم کرلیتا ہے ۔ اور عربی میں ضرب المثل ہے کہ ھوابصر من ہد ہد کہ وہ ہد ہد سے بھی زیادہ تیز نگاہیں رکھتا ہے ایک دن ہدہد لشکر میں نظر نہ آیا ۔ اور گم ہوگیا ۔ اس پر حضرت سلیمان ناراض ہوئے اور یاوسپراوہر سے دریافت کیا ۔ اور غصے سے کہا کہا گر وہ معقول عذر پیش نہ کریگا تو میں اس کو ذبح کرڈالوں گا ۔ اسی…
Read the full tafseer →(21) یقینا میں اس کو سخت سزا دوں گا اس کو ذبح کرڈالوں گا یا وہ میرے روبرو اپنی غیرحاضری پر کوئی معقول دلیل پیش کردے یعنی ضرورت کے وقت اس کا غیرحاضر ہوجانا موجب سزا ہے تادیباً جو تعزیر مناسب سمجھوں گا وہ دوں گا خواہ وہ کوئی سخت سزا ہو یا ذبح ہو یا کوئی معقول دلیل لائے اپنی غیرحاضری پر
Read the full tafseer →ف 3۔ لاعذبنہ سے معلوم ہوا کہ حیوانات کو تعلیم کے لئے تادیب جائز ہے، اور دفع اذی کے لئے قتل بھی جائز ہے۔
Read the full tafseer →حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یا تو وہ کوئی معقول وجہ بتلائے یا ہم اس کو سخت مار دیں گے :
21۔ (اذبحنہ) ذبح سے ہے جس کے معنی ہیں کہ میں اس کو ذبح کر ڈالوں گا (اذبحن ذبح) سے مضارع یا نون تاکید کا صیغہ واحد متکلم ، ضمیر ‘ واحد مذکر غائب ، اردو زبان میں یہ لفظ محض پرندوں اور جانوروں یعنی حیوانوں کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن عربی زبان میں جب کسی انسان کو سزا کے طور پر یا بغیر کسی مقصد کے قتل کیا جائے اس کے قتل کی خواہ کوئی صورت اختیار کی جائے اس پر ذبح کا لفظ استعمال ہوتا ہے مثلا فرعون نے بطور سزا بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرانا شروع کیا تو قرآن کریم نے اس کے اس فعل کو ذبح سے تعبیر کرتے…
Read the full tafseer →لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَأَذْبَحَنَّهُ
I will punish him with a severe punishment - 27:21
It is part of the political sagacity to punish the absentee after making due scrutiny.
It is permissible to punish a lethargic animal moderately
Allah Ta’ ala had permitted Sayyidna Sulaiman (علیہ السلام) to punish the animals in the same way, as He had permitted people of all ages, a permission which is still valid, to slaughter them to make use of their flesh, bones, skin etc. Similarly, if the domestic animals, such as cow, horse, camel, donkey etc., do not perform their normal…
Read the full tafseer →28 Some people of the modern time say that the hud-bud (hoopoe) does not mean the bird commonly known by this name, but is the name of a man who was an officer in the army of Solomon. This claim is not based on any historical research in which they might have found a person named hud-hud included in the list of the officers of the government of the Prophet Solomon, but they base their claim on the argument that the custom of naming human beings after animals is prevalent in Arabic as in other languages and was also found in Hebrew. Moreover, the, work that has been ascribed to the hud-hud in…
Read the full tafseer →