An-Naml 27:8

An-Naml · from ayah 8

27:8

فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْ بُوْرِكَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا ؕ— وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۟فَلَمَّا جَآءَهَا نُوۡدِىَ اَنۡۢ بُوۡرِكَ مَنۡ فِى النَّارِ وَ مَنۡ حَوۡلَهَا ؕ وَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ‏

جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ وہ جو آگ میں (تجلّی دکھاتا) ہے بابرکت ہے۔ اور جو آگ کے اردگرد ہیں اور خدا جو تمام عالم کا پروردگار ہے پاک ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But when he came to it, he was called, "Blessed is whoever is at the fire and whoever is around it. And exalted is Allah, Lord of the worlds.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:8

وہاں جو پہنچا تو ندا آئی کہ "مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے ماحول میں ہے پاک ہے اللہ، سب جہانوں کا پروردگار

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ وہ جو آگ میں (تجلّی دکھاتا) ہے بابرکت ہے۔ اور جو آگ کے اردگرد ہیں اور خدا جو تمام عالم کا پروردگار ہے پاک ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وه جو اس آگ میں ہے اور برکت دیاگیا ہے وه جس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ جب وہ اس آگ کے پاس پہنچے تو انہیں آواز دی گئی کہ : برکت ہو ان پر جو اس آگ کے اندر ہیں، اور اس پر بھیجو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب آگ کے پاس آیا ندا کی گئی کہ برکت دیا گیا وہ جو اس آگ کی جلوہ گاہ میں ہے یعنی موسیٰ اور جو اس کے آس پاس میں یعنی فرشتے اور پاکی ہے اللہ کو جو رب ہے سارے جہان کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب وہ اس کے پاس آپہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے جو اس آگ میں (اپنے حجاب نور کی تجلی فرما رہا) ہے اور وہ (بھی) جو اس کے آس پاس (اُلوہی جلووں کے پرتَو میں) ہے، اور اللہ (ہر قسم کے جسم و مثال سے) پاک ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے آواز دی گئی کہ برکت دی گئی ہے اسے جو آگ میں ہے اور جو اس کے ارد گرد ہے اور اللہ پاک ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب وہ وہاں پہنچے تو ندا آئی کہ مبارک ہے۔ وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے ارد گرد ہے اور پاک ہے اللہ جو سب جہان والوں کا پروردگار ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو جب وہ اس کے پاس آیاتو اس کو آواز آئی کہ مبارک ہے جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہیں ! اور پاک ہے اللہ عالم کا خداوند !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر جب موسیٰ وہاں پہنچے تو انھیں ایک آواز آئی کہ برکت ہو ان پر بھی جو اس آگ کے اندر ہیں اور اس پر بھی جو اس کے آس پاس ہے اور یہ نور ذات خداوندی نہیں کہ اللہ جو پروردگار ہے سب جہانوں کا پاک ہے ہر حد بندی سے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جب وہ اس (آگ) کے پاس پہنچے تو انہیں آواز دی گئی کہ برکت ہو ان پر جو اس آگ کے اندر ہیں۔ اور اس پر بھی جو اس کے پاس ہے۔ اور پاک ہے اللہ پروردگار عالم !۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر جب وہ وہاں پہنچے تو انہیں پکارا گیا کہ بہت مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور وہ جو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو آواز آئی کہ وہ جو آگ میں ہے بابرکت ہے اور وہ جو آگ کے اردگرد ہے اور اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے پاک ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

But when Moses came to the fire, a call was sounded: "Blessed is He Who is in the fire and whatever is around it. Glory be to Allah, the Sustainer of all in the Universe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So when he came to it, he was called: :Blessed is the one who is in the fire and the one who is around it. And pure is Allah, the Lord of the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani

So when he came to it, he was called: :Blessed is the one who is in the fire and the one who is around it. And pure is Allah, the Lord of the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But when he came to it, he was called: "Blessed is whosoever is in the fire, and whosoever is round about it! And glorified be Allah, the Lord of all that exists."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But when he reached it, he was called, saying: Blessed is Whosoever is in the fire and Whosoever is round about it! And Glorified be Allah, the Lord of the Worlds!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But when he came to it, he was called, "Blessed is whoever is at the fire and whoever is around it. And exalted is Allah, Lord of the worlds.

— Saheeh International

When he approached the fire, he was told, "Blessed is the one in the fire and those around it. All glory belongs to God, the Lord of the Universe.

— Muhammad Sarwar

So when he came to it a voice was uttered saying: Blessed is Whoever is in the fire and whatever is about it; and glory be to Allah, the Lord of the worlds;

— Muhammad Habib Shakir

Then when he came unto it, he was cried unto Thus; Blest is whosoever is in the fire and whosoever is around it; and hallowed be Allah, the Lord of the Worlds.

— Abdul Majid Daryabadi

But when he came to the (fire), a voice was heard: "Blessed are those in the fire and those around: and glory to Allah, the Lord of the worlds.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–14

آگ لینے گئے رسالت مل گئی اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو موسیٰ ؑ کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ ؑ اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آگئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔ تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 8–9

سورة النمل 10 سورة قصص میں ہے کہ ندا ایک درخت سے آرہی تھی فِي الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ ، اس سے جو صورت معاملہ سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ وادی کے کنارے سے ایک خطے میں آگ سی لگی ہوئی تھی مگر نہ کچھ جل رپا تجا نہ کوئی دھواں اٹھ رہا تھا اور اس آگ کے اندر ایک ہرا بھرا درخت کھڑا تھا جس پر سے یکایک یہ ندا آنی شروع ہوئی۔ یہ ایک عجیب معاملہ ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ پیش آتا رہا ہے، نبی ﷺ جب پہلی مرتبہ نبوت سے سرفراز کیے گئے تو غار حرا کی تنہائی میں یکایک ایک فرشتہ آیا اور اس نے اللہ کا پیغام پہنچانا شروع کردیا، حضرت موسیٰ کے ساتھ بھی یہی صورت پیش آئی کہ ایک شخص سفر کرتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–10

فَلَمَّا جَاۗءَهَا نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا ۭ وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، يٰمُوْسٰٓي اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔ حضرت موسیٰ ؑ کے آگ دیکھنے اور آگ کے اندر سے ایک ندا سننے کی تحقیق قرآن کریم میں حضرت موسیٰ ؑ کا یہ واقعہ بہت سی سورتوں میں مختلف عنوانات کے ساتھ آیا ہے۔ سورة نمل کی مذکورہ آیات میں اس سلسلے کے دو جملے غور طلب ہیں۔ اول (بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ) دوسرا (اِنَّهٗٓ اَنَا اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) اور سورة طہ میں جس کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے اس واقعہ سے متعلق یہ الفاظ آئے ہیں (اِذْ رَاٰ نَارًا الی قولہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

رب العالمین کی ندا حضرت موسیٰ کو حضرت موسیٰ تو آگ لینے گئے لیکن وہاں یہ آواز سنائی دی کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور وہ جو اس کے اردگرد ہیں۔ مجہول کا صیغہ ابہام اور تفحیم کو ظاہر کر رہا ہے یعنی موسیٰ کو ایک ہاتف کی آوا زتو سنائی دلیکن وہ یہ متعین نہ کرسکے کہ یہ کس کی آواز ہے اور کہاں سے آئی ہے ان بورک من فی النار ومن حولھا یہ اسی آواز کی تفصیل ہے کہ یہ آگ نہیں ہے بلکہ اس روشنی کے پردے میں اللہ تعالیٰ کی بابرکت ذات اپنے بابرکت کردبیوں کے جلو میں حلوہ گر ہوئی ہے۔ اپنی اور اپنے کروبیوں دولوں کی مبارکہ کا حوالہ اس موقع پر صرف بیان حقیقت کے لئے نہیں بلکہ حضرت موسیٰ کو مانوس کرنے کے لئے بھی ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

8-1دور سے جہاں آگ کے شعلے لپکتے نظر آئے، وہاں پہنچے یعنی کوہ طور پر، تو دیکھا کہ سرسبز درخت سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ یہ حقیقت میں آگ نہیں تھی، اللہ کا نور تھا، جس کی تجلی آگ کی طرح محسوس ہوتی تھی مَنْ فَی النَّار میں مَنْ سے مراد اللہ تبارک و تعالیٰ اور نار سے مراد اس کا نور ہے اور وَمَنْ حَوْلَھَا (اس کے ارد گرد) سے مراد موسیٰ اور فرشتے، حدیث میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے حجاب (پردے) کو نور (روشنی) اور ایک روایت میں نار (آگ) سے تعبیر کیا گیا ہے اور فرمایا ہے، کہ ' اگر اپنی ذات کو بےنقاب کر دے تو اس کا جلال تمام مخلوقات کو جلا کر رکھ دے ' (صحیح مسلم)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

3: یہ حقیقت میں آگ نہیں تھی، بلکہ ایک نور تھا، اور اس میں فرتے تھے، ان کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت کی دعا دی گئی، اور اس کے آس پاس موسیٰ ؑ تھے، ان کو بھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 8–9

فلما جآء ھا نودی……الحکیم (9) یہ وہ پکار ہے جس کے ساتھ پوری کائنات ہمقدم ہے اور جس کے ساتھ تمام جہان اور تمام آسمان ہم آہنگ ہیں۔ تمام کائنات اس کے سامنے سہمی ہوئی ہے اور انسان روح اور ضمیر اسے سن کر کانپ اٹھتا ہے۔ یہ وہ آواز ہے جس کے ساتھ زمین و آسمان کا اتصال ہے اور انسان جو ایک چھوٹا سا ذرا ہے وہ عظیم اور بلند ذات کی آواز کو پاتا ہے اور ایک فانی اور ضعیف انسان ایک لافانی اور قوی ذات باری کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے اور یہ مقام اسے محض فصل رب تعالیٰ سے ملتا ہے۔ فلما جاء ھا نودی (82 : 8) ” جب وہ وہاں پہنچا تو ندا آئی۔ “ پکارا گیا ، یہاں قرآن پکارنے والے کا نام نہیں لیتا ، لیکن وہ معلوم ہے۔ یہ نام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ دنیا کی آگ نہیں، بلکہ غیبی اور نورانی آگ ہے جس کے اندر نور الٰہی ظاہر ہو رہا تھا، یا اس کی بجلی چمک رہی تھی۔ شاید وہ ہی ہو جس کو حدیث میں فرمایا " حِجَابُہُ النَّار " یا " حِجَابُہُ النُّوْرُ " پھر غیب سے آواز آئی۔ " اَنْ بُورِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا۔ " یعنی زمین کا یہ ٹکڑا مبارک، آگ میں جو تجلی ہے وہ بھی مبارک، اور اس کے اندر یا اس کے آس پاس جو ہستیاں ہیں مثلاً فرشتے یا خود موسیٰ (علیہ السلام) وہ سب مبارک ہیں۔ یہ غالباً موسیٰ (علیہ السلام) کو مانوس کرنے کے لیے بطور اعزازو اکرام کے فرمایا۔ 9 یعنی مکان، جہت، جسم، صورت اور رنگ وغیرہ سماعت حدوث سے اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 7–8

سَاٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْکُمْ بِشِہَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ ” عبارت کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رات کا وقت تھا ‘ سردی کا موسم تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک ایسے علاقے سے گزر رہے تھے جس سے انہیں کچھ واقفیت نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 وہاں پہنچ کر عجیب سا منظر دیکھا۔ آگ نے ایک درخت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے مگر درخت ویسے کا ویسا سرسبز ہے اور لہلہا رہا ہے۔ آس پاس کوئی آدمی بھی نہیں ہے۔ آگ سے دھواں بھی نہیں اٹھ رہا۔ اور پورا خطہ زمین روشنی سے جگمگا رہا ہے۔ اس حیرانی کے عالم میں کھڑے تھے کہ اس روشنی سے یا درخت میں سے ندا آئی، موسیٰ اپنے جوتے اتار لو۔ اس وقت تم طویٰ کی مقدس وادی میں پہنچ گئے ہو اور تم یہاں بھولے سے نہیں آگئے بلکہ ٹھیک ہمارے اندازے کے مطابق یہاں پہنچے ہو۔ اس آگ میں اور اس کے ارد گرد جو کوئی بھی ہے سب مبارک ہے۔ یہ آگ، یہ درخت، تم، خود اور آس پاس فرشتے سب مبارک اور برکت ہے۔ اور اللہ کی ذات، جو تمام جہانوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ یعنی ملائکہ۔ اے من فی مکان النار وھم الملائکۃ (مدارک) (آیت) ” ان “۔ ان یہاں مفسرہ ہے اور تقدیر کلام یوں بھی سمجھی گئی ہے۔ نودی بانہ بورک۔ انھی المفسرۃ لان النداء فیہ معنی القول والمعنی قیل لہ بورک (کشاف وکبیر) نودی بانہ بورک (مدارک) 8۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ۔ ومن حول مکانھا اے موسیٰ (مدارک) بہت سے مفسروں سے اس کے بالعکس بھی منقول ہے یعنی (آیت) ” من فی النار “۔ کو قرب نار کے معنی میں لے کر مراد اس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) لی ہے، اور (آیت) ” من حولھا “۔ سے فرشتہ۔ 9۔ (جہت، رنگ، مقدار، وزن وغیرہ تمام تعینات سے) یہ تنبیہ معا اس لیے کردی گئی ہے کہ کوئی اس تجلی کو جو بشکل نار محدود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : طس اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب مبین کی یعنی حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی، زیادتی صفت کے ساتھ (القرآن) پر عطف ہے، وہ ہدایت ہے یعنی گمراہی سے ہدایت کرنے والی ہے اور مومنین یعنی اس کی تصدیق کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری ہے، وہ (مومن) جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کے طریقہ کے مطابق ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں (یعنی) دلیل کے ساتھ اس پر یقین رکھتے ہیں، اور (ھم) مبتداء اور اس کی خبر (یوقنون) کے درمیان (بالآخرۃ) کے فصل کی وجہ سے ھم کا اعادہ کیا گیا ہے جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما جاء ھا نودی ان بورک من فی النار ومن حولھا . پھر جب موسیٰ ( علیہ السلام) آگ کے قریب پہنچے تو ندا دی گئی کہ جو اس آگ کے اندر ہے اس پر بھی برکت ہے اور جو آگ کے آس پاس ہے اس پر بھی برکت ہے۔ آگ پر پہنچنے سے مراد ہے آگ کے قریب پہنچنا جب کوئی شخص فرودگاہ کے قریب پہنچ جائے تو عرب کہتے ہیں بَلَغَ فَلانٌ المَنْزِلَ فلاں شخص منزل کے قریب پہنچ گیا۔ نُوْدِیَ ندا دی گئی۔ نداء کے اندر قول کا معنی ہے یعنی پکار کر کہا گیا بُوْرِکَ مَنْ فِیْ النَّار یعنی پاک ہے وہ جو آگ کے اندر جلوہ افروز ہے اس سے مراد ہے اللہ تعالیٰ ۔ حضرت ابن عباس ‘ سعید بن جبیر اور حسن نے بھی تفسیر کی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے موسیٰ (…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(8) چناچہ جب موسیٰ ؑ اس آگ کے پاس پہنچے تو ان کو اللہ کی طرف سے آواز دی گئی ہے کہ جو اس آگ میں یعنی فرشتے ہیں ان پر بھی برکت ہے اور جو اس آگ کے پاس ہے (یعنی موسیٰ علیہ السلام) اس پر بھی برکت ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ ذات بہت ہی بابرکت ہے کہ جس کے نور سے یہ نور ہے یا یہ کہ جو تلاش میں ہیں یعنی حضرت موسیٰ ؑ اور جو ان کے گرد فرشتے ہیں ان سب پر برکت ہو اور اللہ رب العزت کی ذات پاک ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَلَمَّا جَاۗءَهَا نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ۔۔ : موسیٰ ؑ جب اس آگ کے پاس آئے تو انھیں آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور جو اس کے ارد گرد ہے۔ یہاں سوال ہے کہ ”مَنْ فِي النَّارِ“ (وہ جو آگ میں ہے) سے مراد کون ہے ؟ اور ”مَنْ حَولَھَا“ (جو اس آگ کے اردگرد ہے) سے مراد کون ہے ؟ بعض مفسرین نے ”مَنْ فِی النَّارِ“ سے مراد موسیٰ ؑ لیے ہیں اور کہا ہے کہ موسیٰ ؑ آگ کے قریب تھے، اس لیے ان کو ”مَنْ حَولَھَا“ کہہ دیا گیا اور ”مَنْ فِي النَّارِ“ سے مراد فرشتے ہیں۔ بعض نے ان الفاظ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے موسیٰ ؑ اور فرشتوں کے لیے سلام کے قائم مقام قرار دیا ہے، جس طرح فرشتوں نے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–14

( اذ قال موسیٰ لا۔۔۔۔۔۔ ) اذا قال موسیٰ لا ھلہ اذ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے اور و فعل اذکر ہے گویا اسے اس ارشاد : وانک لتقی القرآن من لدن حکیم علیم۔ فرمایا : مراد ہے اے محمد ! ﷺ اس کی حکمت اور اس کے علم کے آثار میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ لیجئے جب انہوں نے اپنی بیوی سے کہا : انی انست نارا یعنی میں نے دور سے اسے دیکھا ہے۔ حرث بن حلذہ نے کہا : آنست نباۃ وافزعھا القناص عصرا وقدونا الامساء اس نے خفی آواز محسوس کی، عمر کے وقت شکاریوں نے اسے خوفزدہ کیا جب کہ شام قریب آچکی تھی۔ ساتیکم منھا بخبر اوتیکم بشھاب قبس لعلکم تصطلون عاصم، حمزہ اور کسائی نے بشھاب قمس قرأت کی ہے (1) 1 ؎۔ المحرر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–9

بابرکت آگ اور ہدایت 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ” نودی ان بورک من فی النار ومن حولہا “ کے بارے میں روایت کیا کہ برکت دی گئی ہے آگ میں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو آوازدی اور وہ نور میں تھے۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ آگ نور تھی آیت ” ان بورک من فی النار ومن حولہا “ (یعنی برکت دی گئی) جو آگ کے اردگرد ہے۔ 4۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس سے روایت کیا کہ آیت ” ان بورک من فی النار ومن حولہا “ یعنی آگ کو برکت دی گئی۔ 5۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اسی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَمَّا [ پھر جب ] جَاۗءَهَا [ وہ آئے اس کے پاس ] نُوْدِيَ [ تو ندا دی گئی ] اَنْۢ [ کہ ] بُوْرِكَ [ برکت دی گئی ] مَنْ [ اس کو جو ] فِي النَّارِ [ اس آگ میں ہے ] وَمَنْ [ اور اس کو جو ] حَوْلَهَا ۭ [ اس کے اردگرد ہے ] وَسُبْحٰنَ اللّٰهِ [ اور پاکیزگی اللہ کی ہے ] رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ جو تمام جہانوں کا رب ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–8

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا رات کے وقت سفر میں کوہ طور پر آگ کے لیے جانا اور نبوت سے سرفراز ہونا سورة طٰہٰ کے پہلے اور دوسرے رکوع کی تفسیر میں اور سورة شعراء کے دوسرے رکوع کی تفسیر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ تفصیل کے ساتھ ہم نے بیان کردیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے مصر میں رہتے تھے فرعون کے بیٹے بنے ہوئے تھے ان کے ہاتھ سے فرعون کی قوم کا ایک شخص قتل ہوگیا ایک شخص نے رائے دی کہ دیکھو فرعونی لوگ تمہارے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں لہٰذا تم یہاں سے نکل جاؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر کو چھوڑ کر مدین چلے گئے وہاں کے شیخ کی لڑکی سے نکاح ہوگیا اور دس سال وہاں رہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–14

قصہء اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ اذ قال موسیٰ لاملہ انی انست نارا۔۔۔ الی۔۔۔ عاقبۃ المفسدین۔ (ربط) اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو بیان فرمایا پھر اس کی تائید کے لئے پانچ قصے بیان فرمائے۔ (1) قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون۔ (2) قصہء داؤد (علیہ السلام) مشتمل بر قصہء نمل چیونٹی جس کو باوجود ایک حقیر جانور ہونے کے اللہ اور اس کے رسول کی معرفت حاصل تھی اور خدا کے رسول کی عصمت اور نزاہت کا یقین کامل تھا کہ وہ دیدہ و دانستہ کسی کے لئے باعث ایذا نہیں بن سکتے۔ (3) قصہء بلقیس بزبان ہد ہد جو سلیمان (علیہ السلام) کے متعدد معجزات پر مشتمل ہے۔ (4) قصہء…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

7:۔ موسیٰ (علیہ السلام) جب وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ جسے وہ آگ سمجھے تھے وہ دنیوی آگ نہیں بلکہ وہ نورانی آگ ہے اور نور الٰہی کی بجلی ہے۔ ” ان بورک “ ، ان مخففہ من المثقلہ ہے۔ اس کا اسم مقدر ہے اور اس سے پہلے باء مقدر ہے۔ مخففۃ من الثقیلۃ وتقدیرہ نودی بانہ بورک والضمیر ضمیر الشان (مدارک ج 3 ص 155) ۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) وہاں پہنچے تو آواز آئی اس آگ میں جس کی تجلی کا نور ظہور ہے وہ مبارک ہے اور اس کے ارد گرد جو زمین کا خطہ ہے یا اس کے چاروں طرف جو فرشتے ہیں وہ بھی مبارک ہیں۔ اصل برکات دہندہ وہی ہے جس کا یہاں نور تجلی ظاہر ہورہا ہے اور باقی چیزوں کو بھی اسی ہی نے برکت عطا فرمائی۔ من فی النار…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–14

ربط آیات سورۃ ہذا کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا کہ یہ خدائے حکیم وعلیم کی طرف سے پیغمبر پر نازل کیا گیا ہے اور یہ اہل ایمان کے لیے ہدایت اور خوش خبری ہے ، پھر ایمان والوں کی بعض صفات بھی بیان کیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں ، پھر منکرین آخرت کی سزا کا ذکر بھی بنوا کہ اس دنیا میں ان کے اعمال کو مزین کر کے دکھایا جاتا ہے اور یہ لوگ آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والے ہوں گے ۔ اس کے بعد آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے ایک گوشے کو بےنقاب کیا ہے ۔ اس واقعہ میں پیغمبر آخرالزمان کے لیے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّا جَاۗءَہَا نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا۝ 0ۭ وَسُبْحٰنَ اللہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ 8 جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–14

ترکیب : اذ کا عامل اذکر محذوف اور میم سے بھی متعلق ہوسکتا ہے نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ یا تو ضمیر ہے جو موسیٰ کی طرف راجع ہے یا ان بورک علی الاول ان بمعنی ای تفسیر کے لیے من مرفوع ہے، بورک سے انہ ضمیر شان انا مبتدا اللہ خبر تھتز حال ہے راھا مفعول سے کانھا حال ہی ضمیر تہتز ہے، الامن ظلم استثناء منقطع موضع نصب میں اور ممکن ہو کہ محل رفع میں ہو فاعل سے بدل ہو کر بیضا، من غیر سوء فی تسع تینوں حال ہیں، الی محذوف سے متعلق تقدیرہ مرسلاً الی فرعون، مبصرۃ حال ہے، مبصرۃً بھی پڑھا ہے تب یہ مفعول لہ ہے ظلمًا و علوًا حال ہیں ضمیر جحدوا سے مفعول بھی ہوسکتے ہیں۔ تفسیر : اذقال موسیٰ الخ یہ حضرت موسیٰ (…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَلَمَّا جَآئَ ھَا نُوْدِیَ اَنْ م بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَھَا ط وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (النمل : 8) (تو جب ( حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کے پاس آئے تو ندا آئی کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے اردگرد ہے، اور پاک ہے اللہ سب جہان والوں کا رب۔ ) وادیِ طور میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر عنایتِ ربانی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب وہاں پہنچے جہاں آپ ( علیہ السلام) کو آگ دکھائی دی تھی تو آپ ( علیہ السلام) نے دیکھا کہ وادی کے کنارے ایک خطے میں آگ سی لگی ہوئی ہے۔ مگر نہ کچھ جل رہا تھا اور نہ کوئی دھواں اٹھ رہا تھا۔ اور سورة القصص کی وضاحت کے مطابق اس آگ کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–9

فہم القرآن ربط کلام : پچھلی آیات میں قرآن مجید کے بارے میں شک کرنے اور سرور دو عالم ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کا انجام ذکر ہوا۔ اب جو انہیں دنیا اور آخرت میں ہوگا اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یہ بات سورة مزمل آیت 15 کے حوالہ سے بتلائی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان بہت سی مماثلتیں قائم کی ہیں۔ اس لیے موقع محل کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مشکلات اور ان کی قوم کی مخالفت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جس کی یہاں اس طرح ابتداء کی ہے کہ اے نبی ! موسیٰ (علیہ السلام) کے سفر پر غور فرمائیں۔ جب وہ دس سالہ غریب الوطنی کی زندگی گزار کر اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر کی طرف آرہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نری برکت : 8: فَلَمَّا جَآئَ ہَا (پس جب وہ آگ کے پاس پہنچے) ۔ ہا سے مراد وہ آگ ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھی تھی۔ نُوْدِیَ (موسیٰ کو آواز دی گئی) ۔ اَنْ بُوْرِکَ (کہ اس پر برکت ہے) ۔ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا 1۔ (جو آگ میں ہیں اور اسکے اردگرد ہیں) نحو : ان مخففہ من المثقلہ ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ نودی موسٰی بانہ بورک۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی گئی اس لئے کہ ان کو برکت دی گئی۔ اس میں ضمیر شان کی ہے۔ اور یہ ضمیر بلا عوض بھی لانی درست ہے۔ اگرچہ زمخشری اس کو نہیں مانتے دلیل یہ ہے کہ بورک دعا ہے۔ دعا کے احکام دیگر نحوی قوانین سے بہت مختلف ہیں۔ نمبر 2۔ اَن مفسرہ ہے کیونکہ نداء میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8۔ فلماجاء ھا نودی ان بورک من فی النار، ومن حولھا، پاک ہے وہ جو آگ کے اند رجلوہ افروز ہے۔ بورک من فی النار، کی تفسیر۔ بوک علی من فی النار، ، اور من فی النار، دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ جیسے عرب کا قول ہے ، بارک اللہ ، وبارک اللہ فیہ، بارک اللہ علیہ ، سب کا ایک ہی معنی ہے مطلب یہ ہوگا کہ جو آگ میں ہیں اور جو آگ کے اردگرد ہیں بعض نے کہا کہ بورک راجعہ، موسیٰ اور فرشتوں کی طرف معنی ہوگا برکت دی گئی اس کو جو آگ کی طلب میں ہے اس سے موسیٰ (علیہ السلام) مراد ہیں۔ ومن حولھا کا مصداق۔ ومن حولھا، ، سے مراد فرشتے جو اس آگ کے ارد گرد جمع تھے اس کا معنی یہ ہوگا کہ برکت دی گئی اس کو جو آگ کی طلب میں تھا اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–13

(6 تا 13) مشرکین مکہ قرآن کو انسان کا کلام کہتے تھے اس لیے فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے تو قرآن ایسے صاحب حکمت سے پایا ہے جو حکمت والا ہے اپنے حکموں میں اور خبردار ہے تمام امور میں اب آگے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ کس طور سے ان کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے انتخاب کرلیا اور ان سے باتیں کیں اور ان کو بڑی بڑی نشانیاں دیں اور بھیجا ان کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس تو ان لوگوں نے کفر اور تکبر کیا اور جو معجزات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو دکھائے ان کو کھلا ہوا جادو بتلایا صحیح بخاری ومسلم کے 1 ؎ (1 ؎ مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین فصل اول) حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–14

آیت 7 سے 14 یعنی موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتداء، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریقہ و فاضلہ کو یاد کیجئے۔۔۔ یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : (انی انست نارا) یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے : (ساتیکم منھا بخبر) میں وہاں سے تمہارے لئے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں (اواتکیم بشھاب قبس لعللکم تصطلون) ” یا سلگتا ہوا نگارا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

8 حضرت موسیٰ کیلئے صدائے خیر و برکت : یعنی حضرت موسیٰ جب وہاں پہنچے تو انکو آواز آئی کہ " برکت ہو اس پر جو آگ کے اندر ہے اور اس پر بھی جو آگ کے پاس ہے "۔ " جو آگ کے اندر ہے "، یعنی فرشتے۔ اور " جو آگ کے پاس ہے " یعنی موسیٰ ۔ اور بعض نے اس کے برعکس کہا ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی صورت ہو بہرحال یہ امر قطعی ہے کہ اللہ پاک کی ذات بےہمتا جس کے نور مطلق کی یہ ایک تجلی تھی وہ خود اس میں نہیں تھی کہ وہ بےمثال ذات ایسی تمام حدود وقیود سے پاک اور وراء الوراء ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی لئے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا گیا ۔ { وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ } ۔ یعنی اللہ اس سے پاک ہے کہ کوئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–14

قوم موسیٰ کا ذکرباعث عبرت تشریح : نبوت ملنے کا انداز بھی عجیب ہے سیدنا محمد ﷺ کو غار حرا میں نبوت ملی اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں ملی کہ آگ لینے گئے تو نبوت مل گئی اور ساتھ ہی دو معجزے بھی۔ ویسے آپ کو نو معجزے عطا کیے گئے تھے۔ آپ کے بارے میں اور آپ کی قوم اور فرعون کے بارے میں تفصیلاً سورة طہٰ رکوع 1 میں گزر چکا ہے۔ سورة الاعراف میں بھی یہ واقعہ کوہ طور پر ہوا جو سطح سمندر سے تقریباً 5 ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہاں رومی سلطنت کے پہلے عیسائی بادشاہ قسطنطین نے یاد گار کے طور پر 365 ء کے قریب وہاں ایک کلیسہ بنوا دیا۔ فرعون کے عبرت ناک انجام کی یہ کہانی ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

سورة نمل رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 14 ۔ اسرار و معارف : طس۔ یہ قرآن کی آیات ہیں جو ایک کھلی کتاب ہے یعنی جو حقائق کو واضح کرکے بیان کرتی ہے اور باعث ہدایت بھی ہے اور نوید کامرانی بھی ان لوگوں کے لیے جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے یقین کی دلیل یہ ہے کہ عملاً اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور عبادات کے ادا کرنے میں پوری کوشش کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی کردار میں بھی اور معیشت میں بھی اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور یہ سب کسی دنیاوی فادے یا لالچ میں نہیں کرتے بلکہ انہیں آخرت اور روز جزا پر یقین کامل ہے لہذا اس روز کی کامیابی کے خواہشمند ہیں۔ اور ایسے لوگ جو آخرت پر یقین نہیں کرتے ان کو سزا کے طور پر ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

8 ۔ جو آگ میں ہے یا اس کے قریب ہے یعنی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور جو اس کے گرد ہیں یعنی فرشتے۔ (قرطبی بحوالہ ابن جریر) کیونکہ وہ دنیا کی آگ نہ تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کا نور تھی جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے : ” حجابہ النور “ اور ” حجابہ النار “ کہ اس کا پردہ ” نور “ یا ” آگ “ ہے۔ مزید دیکھئے سورة طہ آیت 12 ۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:8) جاء ھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب النار کیلئے ہے جس کے متعلق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تھا انی انست نارا۔ نودی : نداء سے ماضی مجہول واحد مذکر غائب وہ پکارا گیا۔ اس کو پکارا گیا اس کا مفعول مالم یسم فاعلہ، ضمیر واحد مذکر غائب ہے جو موسیٰ کی طرف راجع ہے یعنی (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی گئی۔ ان مفسرہ ہے (کیونکہ نداء میں قول کے معنی پائے جاتے ہیں ان مفسرہ ہمیشہ اس دلالت لفظی ہو۔ جیسے فاوحینا الیہ ان اصنع الفلک (23:27) یا دلالت معنوی ہو جیسے وانطلق الملا منھم ان امشوا (38:6) اور ان میں سے کئی پنج چل کھڑے ہوئے کہ چلو۔ یعنی ان کے اٹھ کر چلنے کا مطلب گویا یہ کہنا ہے کہ تم بھی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–14

لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 14 : (اھل) گھروالے۔ اہل خانہ) ‘ انست ( میں نے دیکھا) شھاب (شعلہ) ‘ قبس (انگارہ) نودی (آوازدی گئی) ‘ تصطلون (تم سینکو۔ گرمائی حاصل کرو) ‘ بورک (برکت دی گئی) ‘ حول ( اردگرد۔ آس پاس) ‘ تھتز (لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ۔ اژدھا) ‘ مدبرا (پیٹھ پھیرنے والا) ‘ لم یعقب (مڑکرنہ دیکھا) ‘ مبصرۃ (آنکھیں کھولنے والی) ‘ استیقنت ( یقین کرلیا) ‘ علو (بڑائی۔ تکبر) عاقبۃ (انجام۔ نتیجہ) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 7 تا 14 : ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو اس سورت کے مضامین کے لحاظ سے دوبارہ ارشاد فرمایا گیا ہے جب وہ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس دس سال گذارنے کے بعد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–13

(ف 1) حضرت موسیٰ کو غیب سے آواز آئی کہ اے موسیٰ اللہ کی ذات سب عیبوں سے پاک ہے اور میں ہی اللہ عزت والاحکمت والا ہوں ، اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قدرت اور حکمت الٰہی دکھانے کے لیے یہ ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ تم اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دو وہ لکڑی زمین پر ڈالتے ہی ایک سانپ بن گیا پہلے پہل لکڑی کو سانپ بنتے دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) ڈرے اور پیٹھے پھیر کر چلے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا فرمایا اے موسیٰ ڈرو مت اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنا رسول مقرر کیا ہے فرمایا میں ایسا ہوں کہ میرے حضور میں رسول ڈرا نہیں کرتے پھر فرمایا کہ بدی کے بعد اس کے عوض میں نیکی کی یعنی گناہ کرکے توبہ کی تو…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

حل لغات :۔ من فی النار سے مفسرین نے مختلف معانی مراد لئے ہیں ۔ یہ حضرت ابن عباس کی رائے ہے اللہ کا نور ہے ۔ یہ قتادہ کا مذہب سے ۔ حضرات موسیٰ ہیں اور یہ زیادہ صحیح ہے ۔ لان القریب من الشی قد یقال انہ (راذی) یعنی جو چیز قریب ہو اس کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ انہ فیہ ۔ تھتز : استہزا سے بمعنی بات کرنا ۔ جان : سانپ ۔ میں غیر سوء : یعنی بلا تکلیف کے ، سوء کی قید احترازی ہے اس میں اس واقعہ کی تواسط کی ہے ۔ جو بائبل مذکور ہے ۔ یعنی موسیٰ کا ہاتھ اس کی وجہ سے سفید ہوگیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(8) پس جب موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہونچا توآوازدی گئی کہ مبارک ہے وہ جو اس آگ کے اندر ہے اور وہ جو اس آگ کے آس پاس ہے اور اللہ رب العالمین تمام عیوب سے پاک ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آگ کے اندر اور اس پاس فرشتے مقرب تھے آگ نہ تھی ان کا نور تھا اور آواز دی غیب سے اللہ تعالیٰ نے 12 یا آگ کے اندر فرشتے ہوں اور آگ کے گرد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہوں یہ جملہ بطور برکت کی دعا کی ہے پاکی کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ حدود اور جہات سے پاک ہے اس نور کو خدا نہ سمجھ لیاجائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

ف 1۔ اس امر کے بتلانے کے لئے کہ یہ نور جو بشکل نار ہے خود ذات واجب نہیں یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العالمین جہاد و حدود و مقدار و الوان وغیرہ سے پاک ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب آپ وہاں پہنچے تو ایک عجیب آگ دیکھی اور ایک آواز آپ نے سنی : 8۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب وہاں پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ عجیب قسم کی آگ ہے جو درخت پر روشن نظر آتی ہے مگر درخت کو جلاتی نہیں اور نہ ہی گل ہوتی ہے اس طرح کچھ مزید آگے بڑھے لیکن جتنا جتنا آگے بڑھتے جاتے تھے آگ دور ہوتی جاتی تھی یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ڈر پیدا ہوا اور انہوں نے ارادہ کیا کہ واپس ہوجائیں تو اچانک آگ قریب آئی اور اس میں سے ایک آواز بھی آپ نے سنی جب آپ نے کان قریب کیا تو سنا کہ یہ آواز آرہی ہے ” اے موسیٰ ! میں ہوں اللہ پروردگار تمام جہانوں کا “ اور یہ کہ برکت دیا گیا ہے وہ شخص جو بیچ آگ کے ہے اور جو اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–10

فَلَمَّا جَاءَهَا نُودِيَ أَن بُورِ‌كَ مَن فِي النَّارِ‌ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿8﴾ يَا مُوسَىٰ إِنَّهُ أَنَا اللَّـهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿9﴾ So when he came to it, he was called: "Blessed is the one who is in the fire and the one who is around it And pure is Allah, the Lord of the worlds. 0 Musa, the fact is that I AM Allah, the Mighty, the Wise. (27:8 - 9) The real nature of seeing the fire and hearing the voice from it This incident of Sayyidna Musa (علیہ السلام) has appeared in the Qur'an at many places under different chapters. Two sentences in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–9

10 According to AI-Qasas: 30, the voice was calling out from a tree. What one understands from this is this: A sort of a fire was alight on the ground on the edge of the valley, but neither was anything burning nor any smoke arising. In the midst of the fire there stood a lush green tree from which a voice started calling out this all of a sudden. This is a strange thing which the Prophets of Allah have been experiencing. When the Holy Prophet Muhammad (may Allah's peace be upon him) was first blessed with Prophethood, an Angel appeared before him in the solitude of the Gave of Hira' and…

Read the full tafseer →