Explained with ayahs 7–14
آگ لینے گئے رسالت مل گئی
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کو موسیٰ ؑ کا واقعہ یاد دلارہا ہے کہ اللہ نے انہیں کس طرح بزرگ بنایا اور ان سے کلام کیا اور انہیں زبردست معجزے عطا فرمائے اور فرعون اور فرعونیوں کے پاس اپنا رسول بنا کر بھیجا لیکن کفارنے آپ کا انکار کیا اپنے کفر وتکبر سے نہ ہٹے آپ کی اتباع اور پیروی نہ کی۔ فرماتا ہے کہ جب موسیٰ ؑ اپنی اہل کو لے کر چلے اور راستہ بھول گئے رات آگئی اور وہ بھی سخت اندھیرے والی۔ تو آپ نے دیکھا کہ ایک جانب سے آگ کا شعلہ سا دکھائی دیتا ہے آپ نے اپنی اہل سے فرمایا کہ تم تو یہیں ٹھہرو۔ میں اس روشنی کے پاس جاتا ہوں کیا عجب کہ وہاں سے جو ہو اس سے راستہ معلوم…
Read the full tafseer →سورة النمل 8
یہ اس وقت کا قصہ ہے جب حضرت موسیٰ ؑ مدین میں آٹھ دس سال گزارنے کے عبد اپنے اہل و عیال کو ساتھ لیکر کوئی ٹھکانا تلاش کرنے جارہے تھے، مدین کا علاقہ خلیج عقبہ کے کنارے عرب اور جزیرہ نمائے سینا کے سواحل پر واقع تھا (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم الشعرء، حاشیہ 115) وہاں سے چل کر حضرت موسیٰ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی حصے میں اس مقام پر پہنچے جو اب کوہ سینا اور جبل موسیٰ کہلاتا ہے اور نزول قرآن کے زمانہ میں طور کے نام سے مشہور تھا، اسی کے دامن میں وہ واقعہ پیش آیا جس کا یہاں ذکر ہورہا ہے۔
یہاں جو قصہ بیان کیا جارہا ہے اس کی تفصیلات اس سے پہلے سورة طہ (رکوع 1) میں گزر چکی ہیں اور آگے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے) جبکہ (مدین سے آتے ہوئے کوہ طور کے قریب رات کو سردی کے وقت پہنچے اور مصر کی راہ بھی بھول گئے تھے تو) موسیٰ ؑ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے (طور کی طرف) آگ دیکھی ہے میں ابھی (جا کر) وہاں سے (یا تو راستہ کی) کوئی خبر لاتا ہیں یا تمہارے پاس (وہاں سے) آگ کا شعلہ کسی لکڑی وغیرہ میں لگا ہوا لاتا ہوں تاکہ تم سینک لو سو جب اس (آگ) کے پاس پہنچے تو ان کو (منجانب اللہ) آواز دی گئی کہ وہ جو اس آگ کے اندر ہیں (یعنی فرشتے) ان پر بھی برکت ہو اور جو اس (آگ) کے پاس ہے (یعنی موسی) اس پر بھی (برکت ہو، یہ دعا بطور تحیتہ وسلام کے ہے جیسے ملاقاتی آپس میں سلام کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون …… آیات 14-7
آگے حضرت موسیٰ کی سرگزشت کے اس حصہ کا اجمالی حوالہ ہے جب ان کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا ہے اور نو معجزات سے مسلحکر کے ان کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس انذار کے لئے جانے کی ہدیات فرمائی۔ یہاں اس سرگزشت کے حوالہ سے مقصود آنحضرت ﷺ خاص طور پر تین باتوں کی طرف متوجہ کرنا ہے۔
پہلی یہ کہ آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اسی طرح قرآن کی وحی سے سرفراز فرمایا جس طرح حضرت موسیٰ کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک انعام ہے جو آپ پر ہوا ہے۔ نہ آپ کو اس نئیت جربے سے پریشان ہونا چاہئے اور نہ دوسروں کو اس سے متوحش ہونے کی کوئی وجہ ہے۔
دوسری یہ کہ جو لوگ ایمان نہیں…
Read the full tafseer →7-1یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ ؑ مدین سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس آرہے تھے، رات کو اندھیرے میں راستے کا علم نہیں تھا اور سردی سے بچاؤ کے لئے آگ کی ضرورت تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
2: یہاں یہ واقعہ محض ایک اشارے کے طور پر آیا ہے، مفصل واقعہ اگلی سورت یعنی سورة قصص میں آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →سورة طہ میں بھی اس قصے کی یہ کڑی لائی گی تھی ۔ جب آپ مدین سے مصر کی طرف لوٹ رہے تھے اور آپ کے ساتھ آپ کی بیوی ، حضرت شعیب (علیہ السلام) کی دختر بھی رفیق تھیں۔ ایک ادھیری سیاہ اور سردرات میں آپ سے راستہ گم ہوگیا تھا۔ حضرت کے الفاظ ” میں تو ابھی یا تو وہاں سے کوئی خبر لے آتا ہوں یا کوئی انکار اچن لاتا ہوں تاکہ تم گرم ہو سکو۔ “ اس وقت حضرت موسٰ کوہ طور کے ایک طرف تھے۔ اور اس زمانے میں یہ رواج تھا کہ بلند ٹیلوں پر ات کے وقت آ گ چلائی جاتی تھی۔ تاکہ اگر کوئی مسافر بھٹک جائے تو اس کی راہنمائی ہو۔ ایسی صورت میں جب کوئی مسافر آتا تو اسے مہمان نوازی بھی ملتی اور وہ سردی میں اپنے آپ کو گرم بھی کرتا اور…
Read the full tafseer →6 یہ " مدین " سے جاتے ہوئے وادی " طوٰی " کے قریب پہنچ کر کہا جبکہ سخت سردی کی اندھیری رات میں راستہ بھول گئے تھے مفصل واقعہ سورة " طہٰ " کے فوائد میں گزر چکا۔ ملاحظہ کرلیا جائے۔
7 یعنی راستہ کی خبر لاتا ہوں اگر آگ کے پاس کوئی موجود ہو ورنہ کم ازکم سینکنے تاپنے کے لیے ایک انگارا لے آؤں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
سَاٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْکُمْ بِشِہَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ ”
عبارت کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رات کا وقت تھا ‘ سردی کا موسم تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک ایسے علاقے سے گزر رہے تھے جس سے انہیں کچھ واقفیت نہ تھی۔
Read the full tafseer →7 یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے اس دور کا واقعہ ہے جب آپ حضرت شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہو کر واپس مصر اپنے وطن جارہے تھے۔ بیوی ساتھ تھی اور وہ حاملہ تھی ایک بچہ اور ایک خادم بھی ساتھ تھے۔ جب طور سینا کے قریب پہنچے تو راستہ بھول گئے۔ سردیوں کا موسم۔ رات کا گہرا اندھیرا اور کڑاکے سردی پڑ رہی تھی۔ اس حال میں راستہ بھی بھول گئے تو سخت پریشان ہوئے۔ دور کہیں آگ نظر آئی تو خیال کیا کہ وہاں ضرور کچھ لوگ ہوں گے۔ ان کے ہاں جاتا ہوں ان سے راستہ پوچھوں گا۔ اپنے بیوں بچوں سے کہنے لگے : تم یہیں ٹھہرو۔ میں وہاں جاکر راستہ پوچھ آتا ہوں اور اگر کسی نے راستہ نہ بھی بتلایا تو کم از کم کچھ آگ کے انگارے ہی…
Read the full tafseer →6۔ ذکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مدین سے واپسی کے وقت کوہ طور سے قریب ہو کر گزرنے کا ہے، آپ مصر کی راہ بھول گئے تھے۔ سردی کا موسم اور اندھیری رات تھی، حاشیے سورة طہ پ 16 میں گزر چکے۔ (آیت) ” لاھلہ “۔ اھل پر بھی حاشیہ وہیں گزر چکا ہے۔ اگلی سورة القصص میں بھی یہی قصہ خفیف لفظی تغیرات کے ساتھ آرہا ہے۔ فقہاء مفسرین نے اس لفظی اختلاف ومعنوی اتحاد سے استدلال یہ کیا ہے کہ حدیث نبوی کی روایت بالمعنی جائز ہے۔ واختلاف الالفاظ فی ھاتین السورتین والقصۃ واحدۃ دلیل علی جواز نقل الحدیث بالمعنی (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : طس اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب مبین کی یعنی حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی، زیادتی صفت کے ساتھ (القرآن) پر عطف ہے، وہ ہدایت ہے یعنی گمراہی سے ہدایت کرنے والی ہے اور مومنین یعنی اس کی تصدیق کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری ہے، وہ (مومن) جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کے طریقہ کے مطابق ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں (یعنی) دلیل کے ساتھ اس پر یقین رکھتے ہیں، اور (ھم) مبتداء اور اس کی خبر (یوقنون) کے درمیان (بالآخرۃ) کے فصل کی وجہ سے ھم کا اعادہ کیا گیا ہے جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے…
Read the full tafseer →اذ قال موسیٰ لا ھلہ انی انست نارًا . جب (موسیٰ مدین سے مصر کی طرف آ رہے تھے تو راستہ میں ایک
جگہ) موسیٰ نے اپنی بیوی سے کہا کہ مجھے ایک آگ دکھائی دی ہے۔
اللہ نے وہ قول نقل کیا جو موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی بیوی سے کہا تھا اور ظاہر ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) نے عربی میں نہیں کہا ہوگا بلکہ اس مفہوم کو اپنی زبان میں ادا کیا ہو جس کو قرآن کے اندر عربی عبارت میں اللہ نے بیان کردیا۔ اس میں دلیل ہے اس امر کی کہ حدیث کے معنی کو دوسرے الفاظ میں نقل کرنا (اور یہ کہنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا فرمایا) جائز ہے اور نکاح بھی ایسے الفاظ سے جائز ہے جو تزویج و نکاح کے مفہوم کو ظاہر کر رہے ہوں۔
ساتیکم منھا بخبر…
Read the full tafseer →(7) اس وقت کا واقعہ بیان کیجیے جب کہ موسیٰ ؑ مدین سے واپسی پر راستہ بھول گئے تھے تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے راستہ کے بائیں جانب آگ دیکھی تم یہیں ٹھہرے رہو میں ابھی جا کر آگ کے پاس سے یا تو راستہ کی کوئی خبر لاتا ہوں یا تمہارے پاس آگ کا شعلہ کسی لکڑی وغیرہ میں لگا ہوا لاتا ہوں تاکہ تم سینک لو کیونکہ اس وقت سردی کی شدت تھی۔
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ مُوْسٰي لِاَهْلِهٖٓ اِنِّىْٓ اٰنَسْتُ نَارًا : ”تَصْطَلُوْنَ“ ”صَلِيَ یَصْلٰی“ (ع) سے باب افتعال ہے۔ اصل میں ”تَصْتَلِیُوْنَ“ تھا، تاء کو طاء سے بدل دیا اور یاء حذف ہوگئی۔ ”شِھَابٌ“ شعلہ یا انگارا۔ ”قَبَسٍ“ (کسی آگ سے) سلگایا ہوا۔ ان آیات کی تفسیر سورة اعراف میں اور سورة طٰہٰ کی ابتدا میں گزر چکی ہے، یہاں صرف اس مقام سے متعلق چند باتیں ذکر ہوں گی۔ ”اِذْ“ سے پہلے ”اُذْکُرْ“ محذوف ہے، یعنی اس وقت کو یاد کر جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا۔ اس کی طرح تجھے بھی کسی پیشگی علم یا توقع کے بغیر وحی عطا کی گئی ہے۔ (دیکھیے قصص : 86) اور اس کے بعد ذکر کردہ انبیاء اور ان کی اقوام کے قصوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
( اذ قال موسیٰ لا۔۔۔۔۔۔ )
اذا قال موسیٰ لا ھلہ اذ فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے اور و فعل اذکر ہے گویا اسے اس ارشاد : وانک لتقی القرآن من لدن حکیم علیم۔ فرمایا : مراد ہے اے محمد ! ﷺ اس کی حکمت اور اس کے علم کے آثار میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ لیجئے جب انہوں نے اپنی بیوی سے کہا : انی انست نارا یعنی میں نے دور سے اسے دیکھا ہے۔ حرث بن حلذہ نے کہا :
آنست نباۃ وافزعھا القناص عصرا وقدونا الامساء
اس نے خفی آواز محسوس کی، عمر کے وقت شکاریوں نے اسے خوفزدہ کیا جب کہ شام قریب آچکی تھی۔
ساتیکم منھا بخبر اوتیکم بشھاب قبس لعلکم تصطلون عاصم، حمزہ اور کسائی نے بشھاب قمس قرأت کی ہے (1)
1 ؎۔ المحرر…
Read the full tafseer →1۔ الطستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق نے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ” بشہاب قبس “ کے بارے میں بتائیں، تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہے ایک شعلہ آگ میں سے جس میں سے وہ آگ کو لیتے ہیں پھر پوچھا عرب کے لوگ اس کو پہچانتے ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے طرفہ کا قول نہیں سنا۔
ہم عرانی فبت ادفعہ دون سہادی کشعلہ القبس
ترجمہ : اس نے میری بےپردگی کا ارادہ کیا میں نے آگ کے شعلہ کی طرح اپنی بےخوابی سے اسے دور کرتے ہوئے رات گزاری
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ [ جب کہا ] مُوْسٰي [ موسیٰ (علیہ السلام) نے ] لِاَهْلِهٖٓ [ اپنے اہل خانہ سے ] اِنِّىْٓ [ کہ میں نے ] اٰنَسْتُ [ دیکھا ] نَارًا ۭ [ ایک آگ ] سَاٰتِيْكُمْ [ میں لاؤں گا تمہارے پاس ] مِّنْهَا [ اس سے ] بِخَــبَرٍ [ کوئی خبر ] اَوْ اٰتِيْكُمْ [ یا میں لاؤں گا تمہارے پاس ] بِشِهَابٍ قَبَسٍ [ کوئی سلگتا انگارہ ] لَّعَلَّكُمْ [ شاید تم لوگ ] تَصْطَلُوْنَ [ آگ تاپو ]
نوٹ۔ 1: ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کے کلام کا آگ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ آگ (یا آگ نما جو بھی چیز تھی وہ) اللہ تعالیٰ کی عام مخلوقات کی طرح ایک مخلوق تھی۔ اسی لئے آیت۔ 8 ۔ کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں۔ ایک قول حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا رات کے وقت سفر میں کوہ طور پر آگ کے لیے جانا اور نبوت سے سرفراز ہونا
سورة طٰہٰ کے پہلے اور دوسرے رکوع کی تفسیر میں اور سورة شعراء کے دوسرے رکوع کی تفسیر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ تفصیل کے ساتھ ہم نے بیان کردیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں سے تھے مصر میں رہتے تھے فرعون کے بیٹے بنے ہوئے تھے ان کے ہاتھ سے فرعون کی قوم کا ایک شخص قتل ہوگیا ایک شخص نے رائے دی کہ دیکھو فرعونی لوگ تمہارے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں لہٰذا تم یہاں سے نکل جاؤ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر کو چھوڑ کر مدین چلے گئے وہاں کے شیخ کی لڑکی سے نکاح ہوگیا اور دس سال وہاں رہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
قصہء اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ اذ قال موسیٰ لاملہ انی انست نارا۔۔۔ الی۔۔۔ عاقبۃ المفسدین۔
(ربط) اس سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کو بیان فرمایا پھر اس کی تائید کے لئے پانچ قصے بیان فرمائے۔ (1) قصہء موسیٰ (علیہ السلام) با فرعون۔ (2) قصہء داؤد (علیہ السلام) مشتمل بر قصہء نمل چیونٹی جس کو باوجود ایک حقیر جانور ہونے کے اللہ اور اس کے رسول کی معرفت حاصل تھی اور خدا کے رسول کی عصمت اور نزاہت کا یقین کامل تھا کہ وہ دیدہ و دانستہ کسی کے لئے باعث ایذا نہیں بن سکتے۔
(3) قصہء بلقیس بزبان ہد ہد جو سلیمان (علیہ السلام) کے متعدد معجزات پر مشتمل ہے۔ (4) قصہء…
Read the full tafseer →6:۔ یہ پہلا قصہ ہے اور پہلی علت جو پہلے دعوے سے متعلق ہے اس قصے کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) عالم الغیب تھے۔ اس واقعہ میں ایمان والوں کے لیے ہدایت بھی ہے اور بشارت بھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدت اجارہ پوری کر کے جب اپنے اہل بیت یعنی بیوی کو ساتھ لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے تو راستے میں وادی طوی میں رات آگئی رات اندھیری تھی اس لیے راستہ بھول گئے اور سردی بھی شدت کی تھی۔ اسی اثنا میں ایک طرف آگ دکھائی دی تو بیوی سے فرمایا تم یہاں ٹھہرو میں آگ کے پاس جاتا ہوں وہاں کوئی آدمی ہوگا اس سے راستہ پوچھوں گا اگر کوئی موجود نہ ہوا تو کم از کم سینکنے تاپنے کے لیے انگارا ہی لے آؤں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ربط آیات
سورۃ ہذا کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا کہ یہ خدائے حکیم وعلیم کی طرف سے پیغمبر پر نازل کیا گیا ہے اور یہ اہل ایمان کے لیے ہدایت اور خوش خبری ہے ، پھر ایمان والوں کی بعض صفات بھی بیان کیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر پورا پورا یقین رکھتے ہیں ، پھر منکرین آخرت کی سزا کا ذکر بھی بنوا کہ اس دنیا میں ان کے اعمال کو مزین کر کے دکھایا جاتا ہے اور یہ لوگ آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والے ہوں گے ۔ اس کے بعد آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی کے ایک گوشے کو بےنقاب کیا ہے ۔ اس واقعہ میں پیغمبر آخرالزمان کے لیے…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ مُوْسٰي لِاَہْلِہٖٓ اِنِّىْٓ اٰنَسْتُ نَارًا 0ۭ سَاٰتِيْكُمْ مِّنْہَا بِخَــبَرٍ اَوْ اٰتِيْكُمْ بِشِہَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ 7
موسی
مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته .
أهل
أهل الرجل : من يجمعه وإياهم نسب أو دين، أو ما يجري مجراهما من صناعة وبیت وبلد، وأهل الرجل في الأصل : من يجمعه وإياهم مسکن واحد، ثم تجوّز به فقیل : أهل الرجل لمن يجمعه وإياهم نسب، وتعورف في أسرة النبيّ عليه الصلاة والسلام مطلقا إذا قيل :
أهل البیت لقوله عزّ وجلّ : إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ [ الأحزاب/ 33]
( ا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
ترکیب : اذ کا عامل اذکر محذوف اور میم سے بھی متعلق ہوسکتا ہے نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ یا تو ضمیر ہے جو موسیٰ کی طرف راجع ہے یا ان بورک علی الاول ان بمعنی ای تفسیر کے لیے من مرفوع ہے، بورک سے انہ ضمیر شان انا مبتدا اللہ خبر تھتز حال ہے راھا مفعول سے کانھا حال ہی ضمیر تہتز ہے، الامن ظلم استثناء منقطع موضع نصب میں اور ممکن ہو کہ محل رفع میں ہو فاعل سے بدل ہو کر بیضا، من غیر سوء فی تسع تینوں حال ہیں، الی محذوف سے متعلق تقدیرہ مرسلاً الی فرعون، مبصرۃ حال ہے، مبصرۃً بھی پڑھا ہے تب یہ مفعول لہ ہے ظلمًا و علوًا حال ہیں ضمیر جحدوا سے مفعول بھی ہوسکتے ہیں۔
تفسیر : اذقال موسیٰ الخ یہ حضرت موسیٰ (…
Read the full tafseer →اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِاَھْلِـہٖٓ اِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا ط سَاٰ تِیْکُمْ مِّنْھَا بِخَبَرٍ اَوْاٰتِیْکُمْ بِشِھَابٍ قَـبَسٍ لَّعَلَّـکُمْ تَصْطَلُوْنَ ۔ (النمل : 7)
(یاد کیجیے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا میں نے ایک آگ دیکھی ہے، میں ابھی وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آتا ہوں یا (اس آگ سے) کوئی شعلہ سلگا کر لاتا ہوں تاکہ تم تاپو۔ )
شِھَابٍ ، شعلۃ نارساطعۃ ” آگ کا چمکتا ہوا شعلہ “ (صحاح)
انبیائے کرام کے واقعات بیان کرنے کا سبب
والقبس اسم لما یقتبس من جمر وما شبہۃ (قرطبی)
” یعنی وہ آگ جو کسی انگارہ وغیرہ سے سلگائی جائے۔ “
یہ بات ایک سے زیادہ مرتبہ عرض کی جاچکی ہے کہ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
فہم القرآن
ربط کلام : پچھلی آیات میں قرآن مجید کے بارے میں شک کرنے اور سرور دو عالم ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کا انجام ذکر ہوا۔ اب جو انہیں دنیا اور آخرت میں ہوگا اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔
یہ بات سورة مزمل آیت 15 کے حوالہ سے بتلائی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان بہت سی مماثلتیں قائم کی ہیں۔ اس لیے موقع محل کے مطابق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مشکلات اور ان کی قوم کی مخالفت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جس کی یہاں اس طرح ابتداء کی ہے کہ اے نبی ! موسیٰ (علیہ السلام) کے سفر پر غور فرمائیں۔ جب وہ دس سالہ غریب الوطنی کی زندگی گزار کر اپنی اہلیہ کے ساتھ مصر کی طرف آرہے…
Read the full tafseer →واقعہ موسیٰ ( علیہ السلام) مدین سے مصر واپسی :
7: اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِاَہْلِہٖٓٓ (جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں کو کہا) ۔ اذ۔ اذکر کی وجہ سے منصوب ہے گویا اس طرح فرمایا لو ! اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی حکمت و علم کے آثار سے یہ موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ پیش کیا جا رہا ہے۔ اہلہ سے ان کی زوجہ محترمہ مراد ہیں اور ان کے ساتھ جو مدین سے مصر واپسی میں ان کے ساتھ تھے۔ اِنِّیْ ٰانَسْتُ نَارًا سَاٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَبَرٍ (بیشک میں نے آگ دیکھی ہے۔ میں تمہارے پاس وہاں سے کوئی خبر ضرور لاؤنگا) ۔ جو راستہ کے حالات سے متعلق ہو کیونکہ آپ راستہ بھول گئے تھے۔
اَوْ ٰاتِیْکُمْ بِشِہَابٍ قَبَسٍ…
Read the full tafseer →7۔ اذ قال موسیٰ لاھلہ، یاد کریں اے محمد۔ اس وقت کو جب موسیٰ نے اپنے گھروالوں سے کہا جب وہ مدین سے مصر کی طرف جارہے تھے ، انی انست نارا، کہ میں نے آگ دیکھی ہے ، ساتیکم منھابخبر، کہ تم اس جگہ بیٹھے رہو میں تمہارے پاس راستے کی یا آگ کی خبر لے کر آتا ہوں اور وہ راستہ بھول گئے تھے۔
” او اتیکم بشھاب قبس، اہل کوفہ نے اس کو تنوین کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں شہاب قبس کے لیے موصوف وصفت ہوگا، دوسرے قراء نے بغیر تنوین کے اضافت کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور یہ اضافت ، الشی الی نفسہ، کی قبیل سے ہے۔ کیونکہ شباب قبس اور دونوں قریب المعنی ہیں قبس اس لکڑی کو کہتے ہیں جس کے ایک سرے میں آگ لگی ہو اور دوسرے سرے میں آگ نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
(6 تا 13) مشرکین مکہ قرآن کو انسان کا کلام کہتے تھے اس لیے فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے تو قرآن ایسے صاحب حکمت سے پایا ہے جو حکمت والا ہے اپنے حکموں میں اور خبردار ہے تمام امور میں اب آگے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ کس طور سے ان کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے انتخاب کرلیا اور ان سے باتیں کیں اور ان کو بڑی بڑی نشانیاں دیں اور بھیجا ان کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس تو ان لوگوں نے کفر اور تکبر کیا اور جو معجزات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو دکھائے ان کو کھلا ہوا جادو بتلایا صحیح بخاری ومسلم کے 1 ؎ (1 ؎ مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین فصل اول) حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
آیت 7 سے 14
یعنی موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کے احوال میں سے آپ پر وحی کی ابتداء، اللہ تعالیٰ کے آپ کو چن لینے اور آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کلام کرنے کی حالت شریقہ و فاضلہ کو یاد کیجئے۔۔۔ یہ واقعہ یوں ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین میں چند سال ٹھہرے اور پھر مدین سے اپنے گھر والوں کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تو سفر کے دوران وہ راستہ بھول گئے، رات سخت تاریک اور ٹھنڈی تھی۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : (انی انست نارا) یعنی میں نے (دور) آگ دیکھی ہے : (ساتیکم منھا بخبر) میں وہاں سے تمہارے لئے راستے کے بارے میں کوئی خبر لاتا ہوں (اواتکیم بشھاب قبس لعللکم تصطلون) ” یا سلگتا ہوا نگارا…
Read the full tafseer →7 سرگزشت موسیٰ کے ایک اہم حصے کی تذکیر و یاددہانی : سو یہاں سے حضرت موسیٰ کی سرگزشت کے اہم حصے کو سبق آموزی کیلئے ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ کی سرگزشت کے اس حصے کو یاد کرو کہ جب انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ مجھے ایک آگ سی نظر آرہی ہے۔ میں جاتا ہوں تاکہ میں وہاں سے تمہارے لیے کوئی خبر لے آؤں یا کوئی انگارہ اٹھا لاؤں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔ یعنی اگر وہاں کوئی آدمی مل گیا تو اس سے راستہ کے بارے میں معلومات حاصل کرسکوں گا۔ نہیں تو کم از کم آگ کا کوئی انگارا ہی لے آؤں گا تاکہ تم آگ سینک سکو۔ بہرکیف یہاں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کا بیان شروع ہو رہا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
قوم موسیٰ کا ذکرباعث عبرت
تشریح : نبوت ملنے کا انداز بھی عجیب ہے سیدنا محمد ﷺ کو غار حرا میں نبوت ملی اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو یوں ملی کہ آگ لینے گئے تو نبوت مل گئی اور ساتھ ہی دو معجزے بھی۔ ویسے آپ کو نو معجزے عطا کیے گئے تھے۔ آپ کے بارے میں اور آپ کی قوم اور فرعون کے بارے میں تفصیلاً سورة طہٰ رکوع 1 میں گزر چکا ہے۔ سورة الاعراف میں بھی یہ واقعہ کوہ طور پر ہوا جو سطح سمندر سے تقریباً 5 ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے۔ یہاں رومی سلطنت کے پہلے عیسائی بادشاہ قسطنطین نے یاد گار کے طور پر 365 ء کے قریب وہاں ایک کلیسہ بنوا دیا۔ فرعون کے عبرت ناک انجام کی یہ کہانی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة نمل
رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 14 ۔ اسرار و معارف :
طس۔ یہ قرآن کی آیات ہیں جو ایک کھلی کتاب ہے یعنی جو حقائق کو واضح کرکے بیان کرتی ہے اور باعث ہدایت بھی ہے اور نوید کامرانی بھی ان لوگوں کے لیے جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے یقین کی دلیل یہ ہے کہ عملاً اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور عبادات کے ادا کرنے میں پوری کوشش کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی کردار میں بھی اور معیشت میں بھی اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور یہ سب کسی دنیاوی فادے یا لالچ میں نہیں کرتے بلکہ انہیں آخرت اور روز جزا پر یقین کامل ہے لہذا اس روز کی کامیابی کے خواہشمند ہیں۔ اور ایسے لوگ جو آخرت پر یقین نہیں کرتے ان کو سزا کے طور پر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
7 ۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مدین میں آٹھ یا دس سال گزارنے کے بعد اپنے بیوی بچوں سمیت مصر جانے کے لئے کوہ طور کے پاس سے گزر رہے تھے۔
Read the full tafseer →(27:7) اذقال موسیٰ : ای اذکر لہم وقت قول موسی۔ ان کو یاد کراؤ وہ وقت جب (حضرت) موسیٰ نے کہا۔
انست۔ ماضی واحد متکلم ایناس (افعال) مصدر میں نے محسوس کیا۔ میں نے دیکھا۔ اس کا مادہ انس ہے۔ الانس (کسرہ ہمزہ کے ساتھ) جن کی ضد ہے۔ اور انس (بضمۃ الہمزہ) نفور کی ضد ہے۔ انس (باب افعال) کے معنی کسی چیز سے انس پانا یا دیکھنا کے ہیں مثلاً حتی تستانسوا (24:27) جب تک تم ان سے (اجازت لے کر) انس پیدا نہ کرلو۔ اور فان انستم منھم رشدا (4:6) اور اگر تم ان میں عقل کی پختگی دیکھو یا محسوس کرو۔ یہاں بھی اس آیۃ میں انہی معنوں میں آیا ہے۔ میں نے دیکھی ہے۔
ساتیکم : سین مستقبل قریب کے لئے ہے۔ اتی اتیان سے اسم فاعل کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
لغات القرآن : آیت نمبر 7 تا 14 :
(اھل) گھروالے۔ اہل خانہ) ‘ انست ( میں نے دیکھا) شھاب (شعلہ) ‘ قبس (انگارہ) نودی (آوازدی گئی) ‘ تصطلون (تم سینکو۔ گرمائی حاصل کرو) ‘ بورک (برکت دی گئی) ‘ حول ( اردگرد۔ آس پاس) ‘ تھتز (لہراتا ہے) ‘ جان (سانپ۔ اژدھا) ‘ مدبرا (پیٹھ پھیرنے والا) ‘ لم یعقب (مڑکرنہ دیکھا) ‘ مبصرۃ (آنکھیں کھولنے والی) ‘ استیقنت ( یقین کرلیا) ‘ علو (بڑائی۔ تکبر) عاقبۃ (انجام۔ نتیجہ) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 7 تا 14 :
ان آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو اس سورت کے مضامین کے لحاظ سے دوبارہ ارشاد فرمایا گیا ہے جب وہ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس دس سال گذارنے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
حضرت موسیٰ کا واقعہ۔
(ف 1) مشرکین مکہ قرآن کو انسان کا کلام کہتے تھے اس لیے فرمایا اے محبوب تم نے تو قرآن ایسے صاحب حکمت سے پایاجوحکمت والا ہے اپنے حکموں میں اور علم والا ہے تمام امور میں، اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا، جب موسیٰ اپنی بی بی کو ساتھ لے کر مدین سے مصر کو آرہے تھے تواندھیری رات میں راستہ بھول گئے تھے اور جاڑے کے موسم کے سبب ان کو اور ان کی بی بی کو سردی بھی بہت لگ رہی تھی اس حالت میں طور پہاڑ کے پاس ان کو آگ کی سی روشنی نظر آئی اس روشنی کو دیکھ کر انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو میں آگ کی روشنی کی طرف جاتا ہوں آگ کے پاس کوئی شخص ملا تو اس سے راستہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
[3] اس قصے کی تفصیلات سورة طہٰ آیت 9 صفحہ 718 میں گزر چکی ہیں۔
Read the full tafseer →حل لغات :۔ ھدی ۔ سے غرض ہدایت ۔ درجات و مراتب سے
اٰنست میں نے دیکھی ، محسوس کی
تصطلون ۔ اصطیلا سے ہے ۔ آگ تاپنا
Read the full tafseer →(7) اے پیغمبر موسیٰ (علیہ السلام) کا وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے میں وہاں سے کوئی راستے کی خبر لاتا ہوں یا آگ سے کوئی چیز جلا کر ایک شعلہ لے آتا ہوں تاکہ تم اس سے تاپو اور گرمی حاصل کرو یعنی قرآن کریم کے ذکر کی مناسبت سے موسیٰ (علیہ السلام) کا وہ واقعہ بتایا جب وہ مدین سے مصر واپس ہوئے تو طور کی وادی میں مصر کا راستہ بھول گئے اور سردی کڑا کے کی پڑ رہی تھی حیران تھے کہ کس طرف جائیں یکایک طور پر ایک روشنی نظرآئی سمجھے کہ آگ ہے اس لئے گھر والوں سے فرمایا چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) بھی پیغمبر ہوئے کتاب ملی اور فرعونیوں میں تبلیغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ف 6۔ یعنی اسمیں دو صفتیں ہیں، قرآن ہونا اور کتاب مبین ہونا۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کی مدین سے واپسی اور آپ کو نبوت سے سرفراز کرنے کا بیان :
7۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت آپ پیچھے سورة میں پڑھ چکے اور اس سے قبل بھی کئی ایک مقامات پر اس کا ذکر کیا گیا ہے ، آپ کا پہلی بار مصر سے نکلنا جو نبوت سے پہلے کا واقع ہے اور مدین کی طرف جانا اور پھر وہاں شعیب (علیہ السلام) کے پاس بکریاں چرانے کی خدمت سرانجام دینا اور اسی کے صلہ میں شعیب (علیہ السلام) کا اپنی بیٹی کا نکاح کردینا ان سارے واقعات کو آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں اس جگہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے خسر کے یہاں مدت آجارہ پوری کرنیکے بعد مصر کی طرف واپس لوٹے اور اس وقت آپ کے اہل و عیال بھی ساتھ تھے ، آپ نے ذرا…
Read the full tafseer →Commentary
Adoption of natural means for one's need is not against trust in Allah
إِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِأَهْلِهِ إِنِّي آنَسْتُ نَارًا سَآتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ آتِيكُم بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ ﴿7﴾
(Remember) when Musa said to his family, "I have noticed a fire. I shall bring to you some news or bring to you an inflamed ember, so that you may warm yourselves" (27:7).
Here Sayyidna Musa (علیہ السلام) faced two necessities. One, to find out the way which he had forgotten, and second, to warm up with the fire, because it was a cold night. For achieving this purpose he…
Read the full tafseer →8 This happened at the foot of Mount Tur when the Prophet Moses (peace be upon him) was travelling along with his family in search of a suitable place for settlement, after passing eight to ten years in Madyan (Midian). From Madyan, whose territory lay on both sides of the Gulf of `Aqabah, on the sea-shores of Arabia and the Sinai Peninsula, he reached the place called Mt. Sinai and Jabal Musa in the southern part of the Peninsula, which at the time of the revelation of the Qur'an was well known as Tur. (See also The Meaning of Qur'an, Vol. VIII Ash-Shu'araa', E.N. 115). The details of this…
Read the full tafseer →