Explained with ayahs 1–6
حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورة بقرہ کے شروع میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اسکی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لئے ہدایت و بشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ بھی، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چناچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لئے تو یہ قرآن…
Read the full tafseer →سورة النمل 7
یعنی یہ کوئی ہوائی باتیں نہیں ہیں جو اس قرآن کی جارہی ہیں اور نہ یہ کسی انسان کے قیاس و رائے پر مبنی ہیں، بلکہ انہیں ایک حکیم وعلیم ذات القا کررہی ہے جو حکمت و دانائی اور علم و دانش میں کامل ہے، جسے اپنی خلق کے مصالح اور ان کے ماضی و حال اور مستقبل کا پورا علم ہے، اور جس کی حکمت بندوں کی اصلاح و ہدایت کے لیے بہترین تدابیر اختیار کرتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
معارف و مسائل
زَيَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ ، یعنی جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے اعمال بد ان کی نظروں میں مزین کردیئے ہیں۔ اس لئے وہ انہی کو بہتر سمجھ کر گمراہی میں مبتلا رہتے ہیں اور بعض مفسرین نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ اعمالھم سے مراد نیک اعمال ہیں اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے تو نیک اعمال کو مزین کر کے ان کے سامنے رکھ دیا تھا مگر ان ظالموں نے ان کی طرف التفات نہ کیا بلکہ کفر و شرک میں مبتلا رہے اس لئے گمراہی میں بھٹکنے لگے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ واضح ہے، اول تو اس لئے کہ مزین کرنے کے الفاظ عموماً اعمال بد کے لئے استعمال ہوئے ہیں جیسے زُيِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ ،…
Read the full tafseer →آنحضرت کو تسی
یہ آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ یہ لوگ اگر ایمان نہیں لاتے بلکہ تمہاری مخالفت کے در پے ہیں تو تم ان کی پروا نہ کرو بلکہ مطمئن رہو کہ یہ کلام تمہارے اوپر جس ذات کی طرف سے اتارا جا رہا ہے وہ حکیم بھی ہے اور علیم بھی۔ اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے اور وہ ہر چزپ سے باخبر ہے تو جو کچھ اس کے علم و حکمت کا تقاضا ہوگا وہی ہوگا اور اسی میں تمہارے لئے خیر ہے۔ جب وہ حکیم وعلیم تمہارے اوپر اس کلام کو نازل فرما رہا ہے تو وہ تمہیں تنہا نہیں چھوڑے گا بلکہ ہر قدم پر تمہاری رہنمائی فرمائے گا اور تمہیں منزل مقصود پر پہنچائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
4-1یہ گناہوں کا وبال اور بدلہ ہے کہ برائیاں ان کو اچھی لگتی ہیں اور آخرت پر عدم ایمان اس کا بنیادی سبب ہے اس کی نسبت اللہ کی طرف اس لئے کی گئی ہے کہ ہر کام اس کی مشیت سے ہی ہوتا ہے، تاہم اس میں بھی اللہ کا وہی اصول کار فرما ہے کہ نیکوں کے لئے نیکی کا راستہ اور بدوں کے لئے بدی کا راستہ آسان کردیا جاتا ہے۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی ایک راستے کا اختیار کرنا، یہ انسان کے اپنے ارادے پر منحصر ہے۔
4-2یعنی گمراہی کے جس راستے پر وہ چل رہے ہوتے ہیں، اس کی حقیقت سے وہ آشنا نہیں ہوتے اور صحیح راستے کی طرف رہنمائی نہیں پاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
2: یہاں یہ واقعہ محض ایک اشارے کے طور پر آیا ہے، مفصل واقعہ اگلی سورت یعنی سورة قصص میں آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →وانک ……لتلقی القرآن من لدن حکیم علیم (6)
“ تلفی کے لفظ میں یہ اشارہ ہے آپ کو علیم و حکیم ذات کی طرف سے براہ راست ہدایات دی جا رہی ہیں اور یہ ذلت ہر چیز کو حکیمانہ انداز میں بنانے والی ہے اور ہر معاملے کی تدبیر علم سے کرنے والی ہے اور اس ذات کے علم و حکمت کا ایک نمونہ یہ قرآن ہے۔ اپنے منہاج کے اعتبار سے ، اپنے احکام و فرائض کے لحاظ سے ، اپنی ہدایات اور طریقہ کار کے لحاظ سے ، اپنی آیات و احکام کے نزول کے اعتبار سے ، اپنے اجزاء کے تسلسل اور اپنے مضامین و موضوعات کے توازن اور ہم آہنگی کے اعتبار سے۔
اب قرآن کریم قصص کو لیتا ہے اور ان قصص سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی حکمت اور الل ہ کی نہایت ہی خفیہ…
Read the full tafseer →5 یعنی اب بدبختوں کو تیہ ضلالت میں بھٹکنے دو ۔ جب انہوں نے قرآن مبین کی قدر نہ پہچانی اور اس کی ہدایات و بشارات سے فائدہ نہ اٹھایا تو یہ ہی حشر ہونا تھا۔ آپ ﷺ تو خدا کا شکر کیجئے کہ اس علیم و حکیم کی سب سے زیادہ عظیم الشان کتاب آپ ﷺ کو مرحمت کی گئی ہے جس سے ہر وقت تازہ باتازہ فوائد پہنچ رہے ہیں جس میں مومنین کے لیے بشارتیں ہیں اور مکذبین کو عبرتناک واقعات سنائے گئے ہیں تاکہ سچوں کا دل مضبوط و قوی ہو اور جھوٹ کی حمایت کرنے والے اپنی بدانجامی پر مطلع ہوجائیں۔ چناچہ ان ہی اغراض کے لیے آگے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعونیوں کا قصہ سنایا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
آیت 4 اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ زَیَّنَّا لَہُمْ اَعْمَالَہُمْ ”
ایسے لوگوں کو اپنے غلط کام بھی اچھے لگتے ہیں اور اپنا کلچر ہی مثالی نظر آتا ہے۔
فَہُمْ یَعْمَہُوْنَ ”
ع م ی کے مادہ میں بصارت ظاہری کے اندھے پن کا مفہوم ہے ‘ جبکہ ع م ہ کے مادہ میں بصیرت باطنی کے اندھے پن کے معنی پائے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بصارت تو چاہے درست ہو مگر بصیرت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ انسان کی اس کیفیت کو سورة الحج میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ”تو اصل میں آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں ‘ بلکہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو…
Read the full tafseer →6 یعنی یہ قرآن ایسی ہستی کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ جو تمام لوگوں کے احوال سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس کی نظروں میں سب انسان بحیثیت انسان ایک جیسے ہیں۔ جو ہر ایک کے حقوق و فرائض اپنے اسی وسیع علم کی بنا پر مقرر کرتی ہے۔ پھر وہ حکیم بھی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ہر حکم میں کچھ نہ کچھ حکمتیں مضمر ہوتی ہیں اور اس کے احکام بندوں ہی کی مصلحت پر مبنی ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →5۔ (اور اس لیے وہ قرآن ہی ہر انسانی ضرورت کا ایک جامع نسخہ ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : طس اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب مبین کی یعنی حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی، زیادتی صفت کے ساتھ (القرآن) پر عطف ہے، وہ ہدایت ہے یعنی گمراہی سے ہدایت کرنے والی ہے اور مومنین یعنی اس کی تصدیق کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری ہے، وہ (مومن) جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کے طریقہ کے مطابق ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں (یعنی) دلیل کے ساتھ اس پر یقین رکھتے ہیں، اور (ھم) مبتداء اور اس کی خبر (یوقنون) کے درمیان (بالآخرۃ) کے فصل کی وجہ سے ھم کا اعادہ کیا گیا ہے جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے…
Read the full tafseer →وانک لتلقی القران من لدن حکیم علیم . اور آپ کو بالیقین ایک بڑے حکمت والے ‘ علم والے کی
طرف سے قرآن دیا جا رہا ہے۔
حَکِیْمٍ اور عَلِیْمٍ میں تنوین مفید تعظیم ہے یعنی یہ قرآن ایک ایسے عظیم الشان علیم و حکیم کی طرف سے ہے جس کے علم و حکمت کی تہہ کو کوئی نہیں پہنچ سکتا۔
علم حکمت کے اندر داخل ہے کیونکہ علم عام مفہوم پر دلالت کرتا ہے اور حکمت کا لفظ علم کے استحکام پر دلالت کرتا ہے لہٰذا دونوں اوصاف کو ظاہر کرنے کے لئے حکیم کے ساتھ علیم بھی فرما دیا ‘ پھر اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ کچھ علوم تو حکمت ہوتے ہیں جیسے علم العقائد علم شریعت وغیرہ اور بعض علوم حکمت نہیں ہوتے جیسے قصص اور آئندہ چیزوں کا…
Read the full tafseer →(6) اور اے محمد ﷺ آپ پر یہ قرآن حکیم بذریعہ جبریل امین ؑ یقین کے ساتھ ایک بڑی حکمت والے علم والے کی جانب سے نازل کیا جارہا ہے۔
Read the full tafseer →وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ۔۔ : ”مِنْ لَّدُنْ“ (کے پاس سے) کے لفظ سے قرآن مجید کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شدّتِ اتصال بیان کرنا مقصود ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ تجھے اپنے پاس سے عطا کر رہا ہے۔ یہ کسی مخلوق کا کلام نہیں کہ جس کا علم ناقص ہو، یا جو معاملات کی حکمت سے نا آشنا ہو، بلکہ یہ ایک کمال حکمت والے ہر چیز کا علم رکھنے والے نے اپنے پاس سے تجھے عطا کیا ہے، جس کا ہر کام اور ہر حکم حکمت سے بھرا ہوا ہے اور جسے ماضی، حال اور مستقبل کا پورا علم ہے، اس لیے نہ اس کی کوئی خبر غلط ہوتی ہے اور نہ اس کی تدبیر میں کوئی غلطی ہوتی ہے۔
حَكِيْمٍ عَلِیْمٍ : دونوں صفات کا گزشتہ آیات سے بھی تعلق ہے اور آئندہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(طس، تلک ایت القرآن۔۔۔۔۔۔۔۔ )
طس تلک ایت القرآن و کتاب مبین سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں حروف مقطعات کے بارے میں گفتگوپہلے گزر چکی ہے۔ تلک یہ ھذہ کے معنی میں ہے یعنی یہ سورت قرآن کی آیات اور کتاب مبین کی آیات اور کتاب مبین کی آیات ہیں۔ لفظ قرآن معرفہ ذکر کیا اور کتاب مبین نکرہ کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا دونوں معرفہ کے حکم میں ہیں : جس طرح تو کہتا ہے : فلاں الرجل عاقل و فلاں الرجل العاقل۔ کتاب سے مراد قرآن ہے اس کی دو صفتیں جمع کی گئیں یعنی یہ قرآن ہے اور یہ کتاب ہے کیونکہ یہ کتابت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے اور قرأت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ سورة بقرہ میں ان کا اشتقاق گزر چکا ہ۔ سورة حجر میں فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
1۔ ابن ابی حاتم نے ابنم عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔
2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اللہ تعالیٰ کی اس آیت ” ان الذین لا یؤمنون بالاخرۃ “ سے یہی مراد ہے کہ وہ آخرت کا اقرار نہیں کرتے اور نہ ہی اس پر ایمان لاتے ہیں آیت ” فہم یعمہون “ یعنی وہ سرگرداں ہیں) اسی گمراہی میں آیت ” وانک لتلقی القراٰن “ یعنی آپ لے رہے ہیں قرآن کو ” حکیم علیم “ یعنی بڑے حکمت والے علم والے کی طرف سے۔
Read the full tafseer →وَاِنَّكَ [ اور بیشک آپ ﷺ کو ] لَتُلَقَّى [ یقینا پہنچایا جاتا ہے ] الْقُرْاٰنَ [ قرآن ] مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ عَلِيْمٍ [ ایک علیم حکیم (ذات) کے پاس سے ]
Read the full tafseer →اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا (وَاِنَّکَ لَتُلَقَّی الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ عَلِیْمٍ ) (اور بالیقین آپ کو حکمت والے علم والے کی طرف سے قرآن دیا جا رہا ہے) پس جب اللہ تعالیٰ کی آپ پر مہربانی ہے اللہ کا فرشتہ آتارہتا ہے اور اللہ کی کتاب آپ تک پہنچاتا رہتا ہے آپ کو یہ محبوبیت عند اللہ ہی کافی ہے۔ دشمن جو کچھ کہیں کہنے دو ، ان کی باتوں سے غمگین نہ ہو۔
Read the full tafseer →5:۔ یہ ترغیب الی القران ہے۔ یہ قرآن ایک عظیم الشان کتاب ہے جو حکیم وعلیم خدا نے اپنے پیغمبر پر نازل فرمائی اس لیے اس کو ضرور ماننا اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اس میں آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی بھی ہے۔ سورت کے آخر میں بھی دو بار تسلی کا ذکر ہے ” ولا تحزن علیہم الخ “ اور فتوکل علی اللہ الخ “ (رکوع 6) یعنی یہ رفیع المنزلت کتاب اللہ تعالیٰ نے آپ پر نازل فرمائی ہے، آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ اگر معاندین نہیں مانتے تو آپ غم نہ کریں اور اللہ پر بھروسہ کر کے اس کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف رہیں۔ آپ کی دعوت سراپا حق ہے اور آخر کار فتح و کامرانی آپ ہی کو نصیب ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة النمل ہے عربی زبان میں نمل چیونٹی کو کہتے ہیں ۔ اس سورة کے دوسرے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے وادی نمل سے گزرنے اور وہاں پر دلائل توحید کے طور پر ایک واقعہ پیش آنے کا ذکر کیا ہے اسی نسبت سے اس سورة کو سورة النمل کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ، گزشتہ سورة الشعراء اور اس سورة کا زمانہ نزول قریب قریب ہی ہے ۔ دونوں سورتیں مکی دور کے وسط یا آخری حصہ میں نازل ہوئیں ۔ سورة ہذا کی ترانوے آیتیں ہیں اور یہ سات رکوع 9411 الفاظ اور 7674 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
اس سورة میں بھی دیگر مکی سورتوں کی طرح چار اہم اور…
Read the full tafseer →وَاِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ عَلِيْمٍ 6
( لقی) تلقی
السّماحة منه والنّدى خلقا«2» ويقال : لَقِيتُه بکذا : إذا استقبلته به، قال تعالی: وَيُلَقَّوْنَ فِيها تَحِيَّةً وَسَلاماً [ الفرقان/ 75] ، وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوراً [ الإنسان/ 11] . وتَلَقَّاهُ كذا، أي : لقيه . قال : وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ [ الأنبیاء/ 103] ، وقال : وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ [ النمل/ 6]
وتلقی السماحۃ منہ والندیٰ خلقا سخاوت اور بخشش کرنا اس کی طبیعت ثانیہ بن چکی ہے ۔ لقیت بکذا ۔ میں فلاں چیز کے ساتھ اس کے سامنے پہنچا۔ قرآن میں ہے : وَيُلَقَّوْنَ فِيها تَحِيَّةً وَسَلاماً […
Read the full tafseer →1 ؎ یعنی اے نبی ! اگر یہ قرآن حکیم وعلیم کا دیا ہوا نہ ہوتا تو احکام اور اگلے انبیاء کے صحیح صحیح احوال تمہیں کیونکر معلوم ہوتے نہ آپ کے پاس کوئی تاریخ کی کتاب ہے نہ آپ نے فلسفہ اور حکمت پڑھی ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَاِنَّـکَ لَـتُلَـقَّی الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ عَلِیْمٍ ۔ (النمل : 6)
(اور بیشک یہ قرآن آپ کو ایک حکیم وعلیم کی طرف سے سکھایا جارہا ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور قرآن کے ہر قاری اور ہر سامع کو اعتماد کی دولت سے بہرہ ور کیا گیا ہے۔ آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ اگر یہ لوگ آپ ﷺ پر ایمان نہیں لاتے بلکہ آپ ﷺ کی مخالفت و معاندت پر تلے ہوئے ہیں تو آپ اس کی بالکل پرواہ نہ کریں۔ آپ نہایت اطمینان سے اپنا کام سرانجام دیتے رہیں۔ کیونکہ یہ قرآن جس ذات کی طرف سے آپ پر اتارا جارہا ہے وہ حکیم بھی ہے اور علیم بھی۔ اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے اور وہ ہر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جس قرآن کو مومنوں کے لیے ہدایت اور خوشخبری کے طور اتارا گیا ہے یہ من جانب اللہ ہے۔
سرورِدو عالم ﷺ کے ساتھ مکہ والوں کو ایک یہ بھی اختلاف تھا کہ یہ نبی قرآن مجید کو خود بنا لیتا ہے اس الزام کی اس سے پہلے مختلف الفاظ اور پیرائے میں تردید کی گئی ہے۔ یہاں اس بات کو یوں بیان فرمایا ہے کہ قرآن مجید کے منجانب اللہ ہونے میں کسی شک کی ہرگز گنجائش نہیں کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بڑا حکیم اور ہر بات کو جاننے والا ہے۔ ان الفاظ میں کفار کی تردید کرنے کے ساتھ سرور دو عالم ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ اے پیغمبر ﷺ ! اس بات کا کبھی خیال نہ کرنا کہ…
Read the full tafseer →تمہیدی آیت :
6: وَاِنَّکَ لَتُلَقَّی الْقُرْ ٰانَ (اور بیشک آپ کو قرآن دیا جا رہا ہے) ۔ تاکہ آپ اس کو لیں اور حاصل کریں۔ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ عَلِیْمٍ (حکمت والی علم والی ذات کی طرف سے) کتنے بڑے علیم اور کتنے بڑے حکیم کی طرف سے۔ اور یہ معنی ان دونوں کے نکرہ لانے سے ہے۔ یہ آیت بعد والے واقعات کے لئے بطور تمہید لائی گئی ہے اور ان میں جو اللہ تعالیٰ کی لطیف حکمتیں اور علمی نکات ہیں ان کے لئے ابتدائیہ ہے۔
Read the full tafseer →6۔ وانک لتقلقی القرآن، آپ کو قرآن دیاجارہا ہے۔ من لدن حکیم علیم۔ اللہ کی طرف سے جو حکیم اور علیم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
(6 تا 13) مشرکین مکہ قرآن کو انسان کا کلام کہتے تھے اس لیے فرمایا اے رسول اللہ کے تم نے تو قرآن ایسے صاحب حکمت سے پایا ہے جو حکمت والا ہے اپنے حکموں میں اور خبردار ہے تمام امور میں اب آگے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا کہ کس طور سے ان کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے انتخاب کرلیا اور ان سے باتیں کیں اور ان کو بڑی بڑی نشانیاں دیں اور بھیجا ان کو فرعون اور اس کی قوم کے پاس تو ان لوگوں نے کفر اور تکبر کیا اور جو معجزات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو دکھائے ان کو کھلا ہوا جادو بتلایا صحیح بخاری ومسلم کے 1 ؎ (1 ؎ مشکوٰۃ باب فضائل سید المرسلین فصل اول) حوالہ سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
تفسیر سورة النمل
آیت 1 سے 6
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چناچہ فرمایا : (تلک ایت القران وکتائب مبین) ” یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں۔ “ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہیں۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لئے ایسے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
6 قرآن حکیم کی عظمت شان کے ایک اہم پہلو کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا یہ قرآن آپ پر بڑی ہی حکیم وعلیم ذات کی طرف سے اتارا جا رہا ہے "۔ جس کی نہ حکمت بےپایاں کا کوئی کنارہ و انتہاء اور نہ اس کے علم کی کوئی حد و نہایت۔ پھر اس کی طرف سے عطا فرمائے جانے والے اس قرآن حکیم کی عظمتوں کا کیا ٹھکانا۔ اس لئے آپ منکرین کی پرواہ کئے بغیر اپنا کام جاری رکھیں اور نظر ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک کی رحمتوں عنایتوں اور کرم فرمائیوں پر رکھیں۔ اور ان محروم القسمت لوگوں کی کرتوتوں کی پرواہ مت کریں۔ جس ذات نے آپ پر یہ قرآن اتارا ہے وہ آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ اور جب اس کی نصرت و عنایت اور امداد و حمایت آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
قرآن مجید کے اوصاف، ایمانداروں اور کفار کا تذکرہ
تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی مرتبہ قرآن پاک کی صفات بیان کی جا چکی ہیں۔ بہرحال اسلام کی یہ مقدس کتاب قرآن مجید تمام آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ ممتاز اور بہترین ہے۔ کیونکہ یہ تاقیامت پوری کائنات اور مخلوقات کے لیے مکمل آئین ہے۔ اس کے ذریعہ ہم ماضی حال اور مستقبل کو بڑی آسانی سے دیکھ سکتے ہیں اور پھر یہ سائنسی حقائق کا سرچشمہ بھی ہے۔ مسلم سائنس دانوں نے جس قدر ایجادات کی ہیں جو کہ بیشمار ہیں سب کی بنیاد قرآن پاک کی مختلف آیات ہی پر ہے۔ سائنس کی بنیاد سچ ہے اور قرآن پاک پورے کا پورا سچ ہے۔ اس کی ہر آیت اتنی جامع اور آسان ہے کہ بدو ہو یا عالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة نمل
رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 14 ۔ اسرار و معارف :
طس۔ یہ قرآن کی آیات ہیں جو ایک کھلی کتاب ہے یعنی جو حقائق کو واضح کرکے بیان کرتی ہے اور باعث ہدایت بھی ہے اور نوید کامرانی بھی ان لوگوں کے لیے جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے یقین کی دلیل یہ ہے کہ عملاً اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور عبادات کے ادا کرنے میں پوری کوشش کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی کردار میں بھی اور معیشت میں بھی اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور یہ سب کسی دنیاوی فادے یا لالچ میں نہیں کرتے بلکہ انہیں آخرت اور روز جزا پر یقین کامل ہے لہذا اس روز کی کامیابی کے خواہشمند ہیں۔ اور ایسے لوگ جو آخرت پر یقین نہیں کرتے ان کو سزا کے طور پر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
7 ۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مدین میں آٹھ یا دس سال گزارنے کے بعد اپنے بیوی بچوں سمیت مصر جانے کے لئے کوہ طور کے پاس سے گزر رہے تھے۔
Read the full tafseer →27:6) لتلقی۔ لام تاکید کا ہے۔ تلقی مضارع مجہول صیغہ اور مذکر حاضر۔ اصل میں تتلقی تھا ایک تاء حذف ہوگئی۔ تلقی (تفعل) مصدر۔ تجھے تلقین کیا جاتا ہے۔ تجھے سکھلایا جاتا ہے تجھے ملتا ہے۔
لدن ظرف زمان ہے جو نہایت وقت کی ابتداء پر دلالت کرتا ہے مثلاً اقمت عندہ من لدن طلوع الشمس الی غروبھا میں اس کے پاس مقیم رہا طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک۔ ظرف مکان بھی ہے بمعنی طرف پاس جیسے ربنا اتنا من لدنک رحمۃ (18:10) اے ہمارے رب ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کر۔ قرآن مجید میں اکثر انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے من لدن۔ طرف سے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 :
بشری (خوش خبری۔ اچھی اطلاع) ‘ یئو تون (وہ دیتے ہیں) ‘ زینا (ہم نے خوبصورت بنادیا) ‘ یعمھون (وہ اندھے بن رہے ہیں) ‘ الا خسرون (زیادہ نقصان اٹھانے والے) ‘ تلقی (دیا گیا ہے) ‘ لدن (قریب ۔ نزدیک) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 :
٭اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا فرمائے تھے جو راہ حق سے بھٹک جانے والوں کو کھلی آنکھوں سے نظر آتے تھے مگر سچائیوں کا انکار کرنے والوں نے ان کا بھی انکار کردیا اور اللہ کے غضب کا شکار ہوگئے۔ ان ہی انبیاء کرام میں سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی تھے جن کو اللہ نے نہ صرف انسانوں اور جنات پر حکومت عطا فرمائی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
حضرت موسیٰ کا واقعہ۔
(ف 1) مشرکین مکہ قرآن کو انسان کا کلام کہتے تھے اس لیے فرمایا اے محبوب تم نے تو قرآن ایسے صاحب حکمت سے پایاجوحکمت والا ہے اپنے حکموں میں اور علم والا ہے تمام امور میں، اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا، جب موسیٰ اپنی بی بی کو ساتھ لے کر مدین سے مصر کو آرہے تھے تواندھیری رات میں راستہ بھول گئے تھے اور جاڑے کے موسم کے سبب ان کو اور ان کی بی بی کو سردی بھی بہت لگ رہی تھی اس حالت میں طور پہاڑ کے پاس ان کو آگ کی سی روشنی نظر آئی اس روشنی کو دیکھ کر انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو میں آگ کی روشنی کی طرف جاتا ہوں آگ کے پاس کوئی شخص ملا تو اس سے راستہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[2] یہ عذاب دنیا میں بھی بیشمار مختلف طریقوں سے ملتا ہے اور مرتے وقت بھی اور مرنے کے بعد عالم برزخ میں بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
ف 1: ان آیات سے سورة نمل کا آغاز ہوتا ہے ۔ طٰسۤ حروف مقطعات میں سے ہے تفصیل آلمۤ کی بحث میں گزرچکی ۔
سورۃ کا آغاز قرآن کے تعارف سے ہوتا ہے ۔ ارشاد ہے کہ یہ قرآن اور کتاب مبین کی آئتیں ہیں قرآن کے معنے اس کتاب کے ہیں جس کی کثرت سے قرات اور تلاوت ہو ۔ یہ مصدر بمعنی مفعول ہے ۔
غور فرمائیے ۔ انجیل کی اشاعت آج دنیا میں سب کتابوں سے زیادہ ہے ۔ دنیا کے ہر گوشے میں مشینری موجود ہیں اور ہر وہ زبان اور ہر قوم میں اس کو سرعت سے پھیلا رہے ہیں ۔ مگر وہ کتاب جس کی دن رات تلاوت ہوتی ہے ۔ صرف قرآن ہے کتاب مبین سے غرض یہ ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے ۔
جس میں تمام ضروریات انسانی کو کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے اس…
Read the full tafseer →(6) اور اے پیغمبر آپ کو یقینا یہ قرآن کریم ایک بڑی حکمت والے بڑے علم والے کی جانب سے ملتا اور دیا جاتا اور تلقین کیا جاتا ہے یعنی یہ قرآن کریم اس کی جانب آپ کو دیاجاتا ہے جو کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ف 6۔ یعنی اسمیں دو صفتیں ہیں، قرآن ہونا اور کتاب مبین ہونا۔
Read the full tafseer →نبی اعظم وآخر ﷺ کے لئے تسلی :
6۔ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ محمد رسول اللہ ﷺ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے اور آپ ﷺ کی مخالفت میں سرگرم عمل ہیں تو آپ ﷺ کی پرواہ نہ کریں بلکہ نہایت اطمینان قلب کے ساتھ اپنے موقف پر کام کرتے جائیں جس اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی طرف سے یہ کلام آپ ﷺ پر اتارا گیا ہے وہ کوئی اندھا اور بہرہ نہیں وہ جانتا ہے ‘ دیکھ رہا ہے اور سن رہا ہے اور اس کے ہر کام میں حکمت ہے اس کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں ‘ وہ ہرچیز سے باخبر ہے اس لئے جو کچھ علم و حکمت کا تقاضا ہوگا اس سے اس کا صدور ہوگا اس کے اگر کچھ لوگوں کو باوجود اس کے کہ وہ آپ ﷺ کی مخالفت میں کمر بستہ ہیں اگر مہلت دے رکھی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
Commentary
زَيَّنَّا لَهُمْ أَعْمَالَهُمْ (We have made their deeds adorned in their sight - 27:4)It means that those who do not believe in the Hereafter We have made their bad actions look adorned in their sight. Therefore they feel good about them and remain enthralled in depravity. Some commentators have interpreted that "their deeds" is used in this verse for good deeds. Hence meaning of the verse is that Allah had placed the good deeds before them with all their attractions. But those unjust people did not pay any attention to them, rather they remained engrossed in infidelity; hence…
Read the full tafseer →7 That is, the things being mentioned in the Qur'an are not imaginary nor are they based on the presumptions and opinions of a man, but they are being revealed by the One Who is All-Wise and All-Knowing, Who is perfect in Wisdom and Knowledge, Who has full knowledge of the affairs of His creation and of its past and present and future, and Whose Wisdom devises the best schemes for the reform and guidance of His servants.
Read the full tafseer →