An-Naml 27:5

An-Naml · from ayah 5

27:5

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ ۟اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ لَهُمۡ سُوۡٓءُ الۡعَذَابِ وَهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ

یہی لوگ ہیں جن کے لئے بڑا عذاب ہے اور وہ آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those are the ones for whom there will be the worst of punishment, and in the Hereafter they are the greatest losers.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah An-Naml

All translations of 27:5

یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے بُری سزا ہے اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہی لوگ ہیں جن کے لئے بڑا عذاب ہے اور وہ آخرت میں بھی وہ بہت نقصان اٹھانے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہی لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی وه سخت نقصان یافتہ ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہی ہیں جو آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو وہ بھٹک رہے ہیں یہ وہ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور یہی آخرت میں سب سے بڑھ کر نقصان میں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے بُرا عذاب ہے اور یہی لوگ آخرت میں (سب سے) زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہی لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور وہ آخرت میں، وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہی لوگ ہیں جن کے لئے برا عذاب ہے اور آخرت میں وہی سب سے زیادہ خسارہ میں رہیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ لوگ ہیں کہ ان کے لئے دنیا میں بھی برا عذاب ہے اور آخرت میں وہی ہیں جو بڑے خسارے میں ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہی ہیں وہ لوگ جن کے لیے قیامت سے پہلے بھی برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی یہی لوگ سب سے زیادہ خسارے والے ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے سخت عذاب ہے۔ اور آخرت میں تو وہ بڑا سخت نقصان اٹھانے والے ہیں ہی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے لیے بہت برا عذاب ہے اور یہی وہ لوگ ہیں کہ جو آخرت میں سب سے زیادہ خسارے والے ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہی لوگ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے اور وہ آخرت میں بھی بہت نقصان اٹھانے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

It is they for whom a grievous chastisement lies in store; it is they who shall be the greatest losers in the Hereafter.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those are the people who deserve the worst punishment and who are the worst losers in the Hereafter.

— Muhammad Taqi Usmani

Those are the people who deserve the worst punishment and who are the worst losers in the Hereafter.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They are those for whom there will be an evil torment. And in the Hereafter they will be the greatest losers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those are they for whom is the worst of punishment, and in the Hereafter they will be the greatest losers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those are the ones for whom there will be the worst of punishment, and in the Hereafter they are the greatest losers.

— Saheeh International

They will suffer the worst kind of torment and will be lost in the life to come.

— Muhammad Sarwar

These are they who shall have an evil punishment, and in the hereafter they shall be the greatest losers.

— Muhammad Habib Shakir

Those are they for whom shall be an evil torment. And in the Hereafter they shall be the greatest losers.

— Abdul Majid Daryabadi

Such are they for whom a grievous Penalty is (waiting); and in the Hereafter theirs will be the greatest loss.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 27:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–6

حروف مقطعہ جو سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان پر پوری بحث سورة بقرہ کے شروع میں ہم کرچکے ہیں۔ یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم جو کھلی ہوئی واضح روشن اور ظاہر کتاب ہے۔ یہ اسکی آیتیں ہیں جو مومنوں کے لئے ہدایت و بشارت ہیں۔ کیونکہ وہی اس پر ایمان لاتے ہیں اس کی اتباع کرتے ہیں اسے سچا جانتے ہیں اس میں حکم احکام ہیں ان پر عمل کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو نمازیں صحیح طور پر پڑھتے ہیں فرضوں میں کمی نہیں کرتے اسی طرح فرض زکوٰۃ بھی، دار آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں موت کے بعد کی زندگی اور جزا سزا کو بھی مانتے ہیں۔ جنت ودوزخ کو حق جانتے ہیں۔ چناچہ اور روایت میں بھی ہے کہ ایمانداروں کے لئے تو یہ قرآن…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النمل 6 اس بری سزا کی صورت اور وقت اور جگہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے، کیونکہ یہ اس دنیا میں بھی مختلف افراد گروہوں اور قوموں کو بیشمار مختلف طریقوں سے ملتی ہے، اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت عین موت کے دروازے پر بھی اس کا ایک حصہ ظالموں کو پہنچتا ہے، موت کے بعد عالم برزخ میں بھی اس سے آدمی دوچار ہوتا ہے، اور پھر روز حشر سے تو اس کا ایک سلسلہ شروع ہوجائے گا جو پھر کہیں جاکر ختم نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–6

معارف و مسائل زَيَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ ، یعنی جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے اعمال بد ان کی نظروں میں مزین کردیئے ہیں۔ اس لئے وہ انہی کو بہتر سمجھ کر گمراہی میں مبتلا رہتے ہیں اور بعض مفسرین نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ اعمالھم سے مراد نیک اعمال ہیں اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے تو نیک اعمال کو مزین کر کے ان کے سامنے رکھ دیا تھا مگر ان ظالموں نے ان کی طرف التفات نہ کیا بلکہ کفر و شرک میں مبتلا رہے اس لئے گمراہی میں بھٹکنے لگے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ واضح ہے، اول تو اس لئے کہ مزین کرنے کے الفاظ عموماً اعمال بد کے لئے استعمال ہوئے ہیں جیسے زُيِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ ،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مکذبین رسول پر اس دنیا میں بھی عذاب آیا اس آیت میں عذاب آخرت کا چونکہ مستقلاً ذکر ہے اس وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ سوء العذاب کا تعلق عذاب دینا سے ہے۔ یہاں ذکر مکذبین رسول کا ہے اور مکذبین رسول پر اس دنیا میں بیغ جیسا کہ ہم اس کے محل میں ذکر کرچکے ہیں لازماً عذاب آتا ہے اس وجہ سے فرمایا کہ ان کے لئے دنیا میں ب ھی برا عذاب ہے اور آخرت میں بھی وھم فی الاخرۃ ھم الاخسرون میں اسی طرح حصر اور تاکید کا اسلوب ہے جس طرح اوپر وھم بالاخرۃ ھم یوقنوکن میں گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے ساری زندگی چونکہ دنیا ہی کو مطلوب و مقصود بنا کر گزاری، آخرت کا ان کو کبھی دھیان ہی نہیں آیا، یہاں تک کہ اسی دنیا کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 4–6

4-1یہ گناہوں کا وبال اور بدلہ ہے کہ برائیاں ان کو اچھی لگتی ہیں اور آخرت پر عدم ایمان اس کا بنیادی سبب ہے اس کی نسبت اللہ کی طرف اس لئے کی گئی ہے کہ ہر کام اس کی مشیت سے ہی ہوتا ہے، تاہم اس میں بھی اللہ کا وہی اصول کار فرما ہے کہ نیکوں کے لئے نیکی کا راستہ اور بدوں کے لئے بدی کا راستہ آسان کردیا جاتا ہے۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی ایک راستے کا اختیار کرنا، یہ انسان کے اپنے ارادے پر منحصر ہے۔ 4-2یعنی گمراہی کے جس راستے پر وہ چل رہے ہوتے ہیں، اس کی حقیقت سے وہ آشنا نہیں ہوتے اور صحیح راستے کی طرف رہنمائی نہیں پاتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–7

2: یہاں یہ واقعہ محض ایک اشارے کے طور پر آیا ہے، مفصل واقعہ اگلی سورت یعنی سورة قصص میں آنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اولئک الذین لھم شوآء العذاب ……الاخسرون (5) چاہے یہ برا عذاب ان کو دنیا میں ملے یا آخرت میں۔ لیکن مکمل خسارہ آخرت کا خسارہ ہے۔ وہ انسان کے اعمال کے عین مطابق ہوتا ہے۔ جتنا کوئی برائی کی طرف مائل ہوتا ہے اسی قدر وہاں اس کی سزا سخت ہوتی ہے۔ اب اس سورت کی اس تمہید کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اے نبی ، تم جس مصدر سے قرآن پا رہے ہو یہ تو حلیم و حکیم کا سرچشمہ ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 4–6

آیت 4 اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ زَیَّنَّا لَہُمْ اَعْمَالَہُمْ ” ایسے لوگوں کو اپنے غلط کام بھی اچھے لگتے ہیں اور اپنا کلچر ہی مثالی نظر آتا ہے۔ فَہُمْ یَعْمَہُوْنَ ” ع م ی کے مادہ میں بصارت ظاہری کے اندھے پن کا مفہوم ہے ‘ جبکہ ع م ہ کے مادہ میں بصیرت باطنی کے اندھے پن کے معنی پائے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بصارت تو چاہے درست ہو مگر بصیرت ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ انسان کی اس کیفیت کو سورة الحج میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ ”تو اصل میں آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں ‘ بلکہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

5 ایسے لوگوں کی زندگی شتر بےمہار کی طرح ہوتی ہے۔ ہر ایک کی غرض دوسرے کی غرض سے ٹکراتی ہے۔ تو دنیا میں بھی ایسے لوگ خسارہ میں ہی رہتے ہیں اور آخرعت میں ایسے لوگوں کا خسارہ میں رہنا ایک یقینی بات ہے۔ ان کو ایسے برے انجام سے سابقہ پیش آئے گا جس کا انھیں وہم و گمان بھی نہ تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

4۔ (اس دنیا میں بھی) موت کے وقت تو اس عذاب شدید کا نزول مشاہد اور قطعی ہے۔ باقی موت سے پہلے بھری پری زندگی ہی میں غور کر کے دیکھا جائے، تو آخرت فراموش قومیں کتنی ذہنی اذیتوں میں مبتلا بسر کرتی رہتی ہیں۔ برطانیہ، فرانس، امریکا، روس وغیرہ پر ان کی ساری ظاہری خوشحالیوں کے باوجود آج جو کچھ گزر رہی ہے، وہ کس کی نظر سے مخفی ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : طس اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں ہیں قرآن کی اور کتاب مبین کی یعنی حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی کتاب کی، زیادتی صفت کے ساتھ (القرآن) پر عطف ہے، وہ ہدایت ہے یعنی گمراہی سے ہدایت کرنے والی ہے اور مومنین یعنی اس کی تصدیق کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری ہے، وہ (مومن) جو نماز قائم کرتے ہیں یعنی نماز کو اس کے طریقہ کے مطابق ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں (یعنی) دلیل کے ساتھ اس پر یقین رکھتے ہیں، اور (ھم) مبتداء اور اس کی خبر (یوقنون) کے درمیان (بالآخرۃ) کے فصل کی وجہ سے ھم کا اعادہ کیا گیا ہے جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولئک الذین لھم سوء العذاب . یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے برا عذاب ہے یعنی دنیا میں قتل ‘ قید اور ذلت کا عذاب ہے۔ یہ بدر کے واقعہ کی پیشن گوئی ہے۔ وھم فی الاخرۃ ھم الاخسرون . اور یہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ پانے والے ہیں۔ اللہ نے ان کو عزت بخشی ‘ اپنا رسول ان کے اندر پیدا کیا اور رسول بھی ایسا جو ان کو گناہوں سے پاک صاف کرنا چاہتا ہے اور دنیا و آخرت میں کامیاب بنانے کا خواستگار ہے مگر انہوں نے رسول کا حکم نہیں مانا اور دنیا و آخرت کی کامرانی پر دنیا میں قتل اور ذلیل ہوجانے کو ترجیح دی اور آخرت میں دوامی دوزخ کو اختیار کیا پس ان سے زیادہ خاسر و نامراد کون ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(5) ایسے لوگوں کے لیے دوزخ میں سخت ترین عذاب ہوگا اور یہ لوگ قیامت کے دن جنت کے ہاتھ سے نکل جانے اور دوزخ میں داخلہ کی وجہ سے نقصان اٹھانے والوں میں ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَهُمْ سُوْۗءُ الْعَذَابِ۔۔ : یہ برا عذاب دنیا میں بھی ہے کہ اموال و اولاد کے باوجود انھیں قناعت اور سکون قلب میسر نہیں، فرمایا : (وَمَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيْشَةً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اَعْمٰى) [ طٰہٰ : 124 ] ”اور جس نے میری نصیحت سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے تنگ گزران ہے اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا کر کے اٹھائیں گے۔“ بلکہ وہ اموال و اولاد ان کے لیے عذاب کا باعث ہیں، جیسا کہ فرمایا : (فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–6

(طس، تلک ایت القرآن۔۔۔۔۔۔۔۔ ) طس تلک ایت القرآن و کتاب مبین سورة بقرہ اور دوسری سورتوں میں حروف مقطعات کے بارے میں گفتگوپہلے گزر چکی ہے۔ تلک یہ ھذہ کے معنی میں ہے یعنی یہ سورت قرآن کی آیات اور کتاب مبین کی آیات اور کتاب مبین کی آیات ہیں۔ لفظ قرآن معرفہ ذکر کیا اور کتاب مبین نکرہ کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا دونوں معرفہ کے حکم میں ہیں : جس طرح تو کہتا ہے : فلاں الرجل عاقل و فلاں الرجل العاقل۔ کتاب سے مراد قرآن ہے اس کی دو صفتیں جمع کی گئیں یعنی یہ قرآن ہے اور یہ کتاب ہے کیونکہ یہ کتابت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے اور قرأت کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ سورة بقرہ میں ان کا اشتقاق گزر چکا ہ۔ سورة حجر میں فرمایا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–6

1۔ ابن ابی حاتم نے ابنم عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” طس “ قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اللہ تعالیٰ کی اس آیت ” ان الذین لا یؤمنون بالاخرۃ “ سے یہی مراد ہے کہ وہ آخرت کا اقرار نہیں کرتے اور نہ ہی اس پر ایمان لاتے ہیں آیت ” فہم یعمہون “ یعنی وہ سرگرداں ہیں) اسی گمراہی میں آیت ” وانک لتلقی القراٰن “ یعنی آپ لے رہے ہیں قرآن کو ” حکیم علیم “ یعنی بڑے حکمت والے علم والے کی طرف سے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ [ یہ وہ لوگ ہیں ] لَهُمْ [ جن کے لئے ] سُوْۗءُ الْعَذَابِ [ عذاب کی برائی ہے ] وَهُمْ [ اور وہ ] فِي الْاٰخِرَةِ [ آخرت میں ] هُمُ [ وہ ہی ] الْاَخْسَرُوْنَ [ سب سے زیادہ خسارہ پانے والے ہیں ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 5 ۔ میں عذاب کی برائی کی صورت ، وقت اور جگہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ کیو ن کہ یہ اس دنیا میں بھی مختلف افراد، گروہوں اور قوموں کو بیشمار مختلف طریقوں سے دیا جاتا ہے ۔ اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت ، عین موت کے دروازے پر بھی اس کا ایک حصہ ظالموں کو پہنچتا ہے ۔ موت کے بعد عالم بر زخ میں بھی اس سے آدمی دو چار ہوتا ہے ۔ اور پھر روز حشر سے تو اس کا ایک سلسلہ شروع ہوجائے گا جو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 3–5

پھر آیات قرآنیہ کو اہل ایمان کے لیے ہدایت اور بشارت بتایا۔ اور اہل ایمان کی صفات بتائیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ نماز بدنی عبادت ہے اور زکوٰۃ مالی عبادت ہے اور یہ دونوں اسلام کے ارکان میں سے ہیں۔ ان کی ادائیگی پابندی سے کی جائے تو ایمان کے دوسرے تقاضوں پر بھی عمل ہوتا رہتا ہے۔ اور آخرت کا یقین ہر نیکی پر آمادہ کرنے اور ہر گناہ چھڑانے پر ابھارتا رہتا ہے اسی کو آیت کے ختم پر (وَ ھُمْ بالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ ) میں بیان فرمایا۔ مومنین کی صفات بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ آیات قرآنیہ اہل ایمان کے لیے بشارت اور ہدایت ہیں قرآن تو سبھی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

4:۔ یہ منکرین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ جو لوگ آخرت کے منکر ہیں وہ اس کے علاوہ شرک بھی کرتے ہیں اور اپنے مشرکانہ اعمال کو بہت عمدہ خیال کرتے ہیں۔ وہ غیر اللہ کو کارساز اور برکات دہندہ سمجھ کر پکارنے کو بہت بڑا عمل صالح تصور کرتے ہیں ان کو اس کی سخت ترین سزا دی جائیگی اور آخرت میں وہ سب سے زیادہ خسارے میں رہیں گے۔ کیونکہ وہ اجر وثواب سے محروم رہیں گے اور عذاب میں مبتلا ہوں گے اور یہی سب سے بڑا خسارہ ہے۔ ای اشد الناس خسرانا لفوات الثواب و استحقاق العقاب (ابو السعود ج 6 ص 572) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–6

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النمل ہے عربی زبان میں نمل چیونٹی کو کہتے ہیں ۔ اس سورة کے دوسرے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے وادی نمل سے گزرنے اور وہاں پر دلائل توحید کے طور پر ایک واقعہ پیش آنے کا ذکر کیا ہے اسی نسبت سے اس سورة کو سورة النمل کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ، گزشتہ سورة الشعراء اور اس سورة کا زمانہ نزول قریب قریب ہی ہے ۔ دونوں سورتیں مکی دور کے وسط یا آخری حصہ میں نازل ہوئیں ۔ سورة ہذا کی ترانوے آیتیں ہیں اور یہ سات رکوع 9411 الفاظ اور 7674 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة اس سورة میں بھی دیگر مکی سورتوں کی طرح چار اہم اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ لَہُمْ سُوْۗءُ الْعَذَابِ وَہُمْ فِي الْاٰخِرَۃِ ہُمُ الْاَخْسَرُوْنَ۝ 5 ساء ويقال : سَاءَنِي كذا، وسُؤْتَنِي، وأَسَأْتَ إلى فلان، قال : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، وقال : لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] ، مَنْ يَعْمَلْ سُوءاً يُجْزَ بِهِ [ النساء/ 123] ، أي : قبیحا، وکذا قوله : زُيِّنَ لَهُمْ سُوءُ أَعْمالِهِمْ [ التوبة/ 37] ، عَلَيْهِمْ دائِرَةُ السَّوْءِ [ الفتح/ 6] ، أي : ما يسوء هم في العاقبة، وکذا قوله : وَساءَتْ مَصِيراً [ النساء/ 97] ، وساءَتْ مُسْتَقَرًّا [ الفرقان/ 66] ، وأما قوله تعالی: فَإِذا نَزَلَ بِساحَتِهِمْ فَساءَ صَباحُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب : و کتاب معطوف ہے قرآن مجرورمضاف الیہ پر ھدی و بشری دونوں محل حال میں ہیں آیات یا کتاب سے اور مبتدا محذوف کی خبر بھی ہوسکتے ہیں الذین یقیمون صفت ہے المؤمنین کی وھم بالآخرۃ الخ تتمہ صلہ کا ہے و حال یا عطف کی صورت میں جملہ فعلیہ سے اسمیہ کی طرف تغیر کرنا ان کے ثبات اور ایمان پر استمرار ثابت کرنے کے لیے ہے۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے اس میں بھی توحید اور اثبات نبوت کے مباحث اور چند انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرے ہیں اور ان پر جو کچھ انعامات ہوئے وہ بھی بیان ہوئے ہیں جو ان کی خدا پرستی کا نتیجہ تھا۔ فرماتا ہے طس ان دو حرفوں سے کسی خاص بات کی طرف اشارہ ہے جس کو وہی خوب جانتا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَھُمْ سُؤٓئُ الْعَذَابِ وَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ھُمُ الْاَخْسَرُوْنَ ۔ (النمل : 5) (یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے بری سزا ہے اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ہیں۔ ) سُؤٓئُ الْعَذَابِ سے مراد ؟ اس آیت میں چونکہ آخرت کے عذاب کا مستقلاً ذکر ہے اس وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ سُؤٓئُ الْعَذَاب کا تعلق دنیا سے ہے۔ جہاں تک آخرت کے عذاب کا تعلق ہے وہ تو سب جانتے ہیں کہ اس سے مراد جہنم کا عذاب ہے۔ لیکن جہاں تک سُؤٓئُ الْعَذَاب کا سوال ہے اس کی کوئی تفصیل بیان نہیں فرمائی گئی۔ کیونکہ جو لوگ آخرت سے لاتعلق ہو کر صرف دنیا کو بنانے سنوارنے میں لگے رہتے ہیں ان سب کا دنیا کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–5

فہم القرآن ربط کلام : یقین اور ایمان سے محروم لوگوں کی دنیا میں سزا اور آخرت میں انتہا درجہ کا نقصان۔ جو لوگ ایمان وایقان کی دولت سے محروم ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کے حوالہ کردیتا ہے۔ وہ اپنے گناہوں میں سرگرداں رہتے ہیں۔ انسان جب گمراہی کے آخری درجہ میں پہنچجاتا ہے تو پھر وہ گناہ کو گناہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے تہذیب و تمدن، معاشرتی روایات، فیشن اور ترقی کا زینہ سمجھتا ہے۔ ایسے شخص کا دل پریشانیوں کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ دل کے سکون کے لیے کبھی نشہ کرتا ہے اور کبھی مزید عیاشی کا سامان ڈھونڈتا ہے۔ لیکن دل میں اطمینان اور سکون پیدا ہونے کی بجائے مزید پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔ ان لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5: اُولٰٓپکَ الَّذِیْنَ لَہُمْ سُوْئُ الْعَذَابِ : (یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے برا عذاب ہے) ۔ قتل و قید کا جو بدر کے دن پیش آگیا۔ اس لئے کہ ان کے اعمال برے تھے۔ وَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ہُمُ الْاَخْسَرُوْنَ (اور یہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ پانے والے ہیں) ۔ وہ خسارے میں تمام لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں۔ کیونکہ اگر وہ ایمان لے آتے تو تمام امتوں پر گواہ بنتے۔ پس ان کو یہ نقصان بھی ہوا اور نقصان نجات اور نقصان ثواب اللہ تو اس سے زائد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5۔ اولئک الذین لھم سوء العذاب، دنیا میں سخت عذاب خواہ وہ قتل کی صورت میں ہو یاقید کی صورت میں ہو۔ جیسا کہ بدر کے دن میں ہوا۔ وھم فی الاخرۃ ھم الاخسرون، اس لیے وہ اپنے نفسوں کو خسارے میں ڈالتے ہیں اور اپنے اہل والوں کو اوریہ سب دوزخ میں جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

5۔ جو لوگ عاقبت میں اپنی دنیا کی زیست سے نفع اٹھاویں گے اور جو لوگ عاقبت میں ٹوٹا پاویں گے ان کی نشانی کو سمجھایا ہے اس مثال سے یہ نشانی خوب اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے حاصل اس مثال کا یہ ہے کہ دنیا ایک تجارت کا بازار ہے اللہ کی مرضی اور نا مرضی کی چیزیں اس بازار میں موجود ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں ان اچھی بری چیزوں کی تفصیل بتلادی ہے جس شخص نے اس بازار میں کی اچھی چیزوں کو اختیار کیا اسی نے تجارت میں نفع پایا اور جس نے بری چیزوں کو اختیار کیا اس نے ٹوٹا پایا اور خراب ہوا معتبر سند سے ابن ماجہ میں ابوہریرہ ؓ سے روایت 2 ؎ ہے (2 ؎ مشکوٰۃ باب اثبات عذاب القبر فصل تیسری۔ ) جس میں آنحضرت ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–6

تفسیر سورة النمل آیت 1 سے 6 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قرآن کی عظمت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے اور ایک ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو اس کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے، چناچہ فرمایا : (تلک ایت القران وکتائب مبین) ” یہ قرآن اور کتاب واضح کی آیات ہیں۔ “ یعنی یہ سب سے بڑی نشانی، سب سے قوی ثبوت اور سب سے واضح دلائل ہیں۔ نیز جلیل ترین مطالب، کو بیان کرنے والی، سب سے افضل مقاصد، بہترین اعمال اور پاکیزہ ترین اخلاق پر سب سے واضح دلیل ہے۔ یہ آیات ہیں جو سچی خبروں، بہترین احکام، تمام گندے اعمال اور مذموم اخلاق کی نہی پر دلالت کرتی ہیں۔ یہ آیات اپنے واضح اور ظاہر ہونے کے اعتبار سے روشن بصیرت کے لئے ایسے ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 5–6

6 قرآن حکیم کی عظمت شان کے ایک اہم پہلو کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا یہ قرآن آپ پر بڑی ہی حکیم وعلیم ذات کی طرف سے اتارا جا رہا ہے "۔ جس کی نہ حکمت بےپایاں کا کوئی کنارہ و انتہاء اور نہ اس کے علم کی کوئی حد و نہایت۔ پھر اس کی طرف سے عطا فرمائے جانے والے اس قرآن حکیم کی عظمتوں کا کیا ٹھکانا۔ اس لئے آپ منکرین کی پرواہ کئے بغیر اپنا کام جاری رکھیں اور نظر ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک کی رحمتوں عنایتوں اور کرم فرمائیوں پر رکھیں۔ اور ان محروم القسمت لوگوں کی کرتوتوں کی پرواہ مت کریں۔ جس ذات نے آپ پر یہ قرآن اتارا ہے وہ آپ کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ اور جب اس کی نصرت و عنایت اور امداد و حمایت آپ کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

قرآن مجید کے اوصاف، ایمانداروں اور کفار کا تذکرہ تشریح : جیسا کہ پہلے بھی کئی مرتبہ قرآن پاک کی صفات بیان کی جا چکی ہیں۔ بہرحال اسلام کی یہ مقدس کتاب قرآن مجید تمام آسمانی کتابوں میں سب سے زیادہ ممتاز اور بہترین ہے۔ کیونکہ یہ تاقیامت پوری کائنات اور مخلوقات کے لیے مکمل آئین ہے۔ اس کے ذریعہ ہم ماضی حال اور مستقبل کو بڑی آسانی سے دیکھ سکتے ہیں اور پھر یہ سائنسی حقائق کا سرچشمہ بھی ہے۔ مسلم سائنس دانوں نے جس قدر ایجادات کی ہیں جو کہ بیشمار ہیں سب کی بنیاد قرآن پاک کی مختلف آیات ہی پر ہے۔ سائنس کی بنیاد سچ ہے اور قرآن پاک پورے کا پورا سچ ہے۔ اس کی ہر آیت اتنی جامع اور آسان ہے کہ بدو ہو یا عالم…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

سورة نمل رکوع نمبر 1: آیات 1 تا 14 ۔ اسرار و معارف : طس۔ یہ قرآن کی آیات ہیں جو ایک کھلی کتاب ہے یعنی جو حقائق کو واضح کرکے بیان کرتی ہے اور باعث ہدایت بھی ہے اور نوید کامرانی بھی ان لوگوں کے لیے جو اس پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے یقین کی دلیل یہ ہے کہ عملاً اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور عبادات کے ادا کرنے میں پوری کوشش کرتے ہیں زکوۃ ادا کرتے ہیں یعنی کردار میں بھی اور معیشت میں بھی اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور یہ سب کسی دنیاوی فادے یا لالچ میں نہیں کرتے بلکہ انہیں آخرت اور روز جزا پر یقین کامل ہے لہذا اس روز کی کامیابی کے خواہشمند ہیں۔ اور ایسے لوگ جو آخرت پر یقین نہیں کرتے ان کو سزا کے طور پر ان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

6 ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ بعض مفسرین (رح) نے اگلے جملہ میں آخرت کا ذکر آنے کی وجہ سے اس عذاب سے مراد صرف دنیا کا عذاب لیا ہے جیسے قتل و قید وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(27:5) سوء العذاب۔ مضاف مضاف الیہ۔ عذاب کی شدت۔ عذاب کی سختی ۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ( 26:156) ہم الاخسرون ۔ : ہم تاکید کے لئے مکرر لایا گیا ہے الاخسرون افعل التفضیل کا صیغہ ہے زیادہ گھاٹا پانے والے۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) دنیا کی نسبت آخرت میں ان کا خسارہ زیادہ ہوگا : منجملہ دیگر پہلوؤں کے خسران دنیا منقطع ہے اور خسران آخرت غیر منقطع۔ (2) دوسرے لوگوں کی نسبت یہ زیادہ گھاٹے میں رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–6

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : بشری (خوش خبری۔ اچھی اطلاع) ‘ یئو تون (وہ دیتے ہیں) ‘ زینا (ہم نے خوبصورت بنادیا) ‘ یعمھون (وہ اندھے بن رہے ہیں) ‘ الا خسرون (زیادہ نقصان اٹھانے والے) ‘ تلقی (دیا گیا ہے) ‘ لدن (قریب ۔ نزدیک) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 : ٭اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ایسے معجزات عطا فرمائے تھے جو راہ حق سے بھٹک جانے والوں کو کھلی آنکھوں سے نظر آتے تھے مگر سچائیوں کا انکار کرنے والوں نے ان کا بھی انکار کردیا اور اللہ کے غضب کا شکار ہوگئے۔ ان ہی انبیاء کرام میں سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) بھی تھے جن کو اللہ نے نہ صرف انسانوں اور جنات پر حکومت عطا فرمائی تھی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

(ف 1) فرمایا کہ یہ آیتیں جو اس سورت میں ہیں قرآن اور کتاب روشن کی آیات ہیں کسی شاعر کا کلام نہیں کتاب مبین سے مراد یہی قرآن ہے مگر کتاب مبین کہنے سے یہ بات بتلانی مقصود ہے کہ قرآن مجید میں کوئی بات بعید ازعقل نہیں سب باتیں اس کی صاف اور ظاہر ہیں جن کو ہر ایک صاحب عقل سلیم تسلیم کرنے میں ذرا بھی تردد نہیں کرسکتا مگر وہی کہ جس کے دل کی آنکھیں روش نہیں اور جو کو رباطن ہے یہ کتاب ہدایت اور بشارت ہے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان لاکر اس پر عمل کرتے ہیں اس سے نفع یاب وہی ہوتے ہیں جن میں ہدایت کا مادہ ہے پھر آگے یہ بھی کھول دیا کہ زبان سے مومن کہنا کافی نہیں جب تک کہ اس میں یہ اوصاف نہ پائے جائیں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–6

[2] یہ عذاب دنیا میں بھی بیشمار مختلف طریقوں سے ملتا ہے اور مرتے وقت بھی اور مرنے کے بعد عالم برزخ میں بھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–6

ف 1: ان آیات سے سورة نمل کا آغاز ہوتا ہے ۔ طٰسۤ حروف مقطعات میں سے ہے تفصیل آلمۤ کی بحث میں گزرچکی ۔ سورۃ کا آغاز قرآن کے تعارف سے ہوتا ہے ۔ ارشاد ہے کہ یہ قرآن اور کتاب مبین کی آئتیں ہیں قرآن کے معنے اس کتاب کے ہیں جس کی کثرت سے قرات اور تلاوت ہو ۔ یہ مصدر بمعنی مفعول ہے ۔ غور فرمائیے ۔ انجیل کی اشاعت آج دنیا میں سب کتابوں سے زیادہ ہے ۔ دنیا کے ہر گوشے میں مشینری موجود ہیں اور ہر وہ زبان اور ہر قوم میں اس کو سرعت سے پھیلا رہے ہیں ۔ مگر وہ کتاب جس کی دن رات تلاوت ہوتی ہے ۔ صرف قرآن ہے کتاب مبین سے غرض یہ ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے ۔ جس میں تمام ضروریات انسانی کو کھول کھول کر بیان کیا گیا ہے اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے دنیا میں بھی بد ترین سزا ہے اور یہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں دنیا کا بدترین عذاب مغلوب ہونے کے وقت قید اور قتل وغیرہ یا موت کے وقت فرشتوں کی تعذیب اور آخرت کا نقصان ظاہر ہے برے کام کو برا سمجھ کر کرنے والے جب نقصان میں ہوں گے تو جو برے کاموں کو اچھا سمجھ کر کریں ان کے نقصان کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آخرت پر ایمان رکھنے والے دنیا میں بھی عذاب دیئے جائیں گے اور آخرت میں بھی : 5۔ غور طلب بات یہ ہے کہ جن لوگوں کا ایمان آخرت پر نہیں ہے کیا وہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں ؟ اس کا جواب یقینا یہی ہے کہ ان کا رسول اللہ ﷺ پر مطلق ایمان نہیں ہے خواہ وہ اس کا دعوی بھی رکھتے ہوں ، کیوں ؟ اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی تعلیمات پر ایمان لایا جائے اور جو کچھ آپ نے فرمایا ہے اس پر کامل یقین رکھا جائے ، جب رسول اللہ ﷺ کی تعلیم یہی ہے کہ ہمارے ہر نیک وبد عمل کا بدلہ ہم کو روز قیامت ملے گا لیکن اس کے باوجود ایک شخص اس پر کامل یقین نہیں رکھتا اس لئے کہ اس کا کوئی عمل ایسا نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–6

Commentary زَيَّنَّا لَهُمْ أَعْمَالَهُمْ (We have made their deeds adorned in their sight - 27:4)It means that those who do not believe in the Hereafter We have made their bad actions look adorned in their sight. Therefore they feel good about them and remain enthralled in depravity. Some commentators have interpreted that "their deeds" is used in this verse for good deeds. Hence meaning of the verse is that Allah had placed the good deeds before them with all their attractions. But those unjust people did not pay any attention to them, rather they remained engrossed in infidelity; hence…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 Nothing definite has been said about the form, time and place of this "evil chastisement." For it is imposed in this world also on different persons and groups and' nations in countless different ways; a part of it is also experienced by the wicked when they are about to leave the world; man experiences it also in the intermediary state between death and Resurrection; and then after Resurrection it will become endless and everlasting.

Read the full tafseer →